ایک جن کا انوکھا واقعہ
ایک دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک آدمی گزرا۔
کسی نے پوچھا اے امیر المومنین! کیا آپ اس گزرنے والے کو جانتے ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ ہیں جنہیں ان کے پاس آنے والے جن نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر دی تھی۔
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پیغام دے کر انہیں بلایا اور فرمایا کہ کیا آپ سواد بن قارب ہیں؟ انہوں نے ہاں میں جواب دیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم زمانہ جاہلیت میں کہانت کا کام کرتے تھے؟ اس پر حضرت سواد رضی اللہ عنہ کو غصہ آگیا اور کہا امیر المومنین! جب سے میں مسلمان ہوا ہوں کبھی کسی نے میرے منہ پر ایسی بات نہیں کی۔
حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا سبحان اللہ! ہم تو جاہلیت میں شرک پر تھے اور یہ شرک تمہاری کہانت سے زیادہ برا تھا۔ تمہارے تابع جن نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی جو خبر دی تھی وہ مجھے بتاؤ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فرمائش پر حضرت سواد رضی اللہ عنہ نے اپنا تفصیلی واقعہ سناتے ہوئے عرض کیا: اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ ! ایک رات میں لیٹا ہوا تھا اور بیداری اور نیند کی درمیانی حالت میں تھا‘ میرا جن میرے پاس آیا اورمجھے پائوں مار کر کہا”اے سواد بن قارب! اٹھ اور میری بات غور سے سن! اگر تیرے اندر عقل ہے تو تو سمجھ لے کہ (قریش کی شاخ) لُوی بن غالب میں ایک رسول مبعوث ہوا ہے جو اللہ کی اور اس کی عبادت کی دعوت دیتا ہے۔
مجھے اس بات پر تعجب ہوا کہ جنات حق کو تلاش کررہے ہیں اور سفید اونٹوں پر کجاوے باندھ کر ہر طرف کا سفر کررہے ہیں‘ یہ سب ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا تم سفر کرکے اس ہستی کے پاس جائو جو بنی ہاشم میں چیدہ اورعمدہ ہیں اور ہدایت میں پہل کرنے والا دیر کرنے والے کی طرح نہیں ہوگا بلکہ اس سے افضل ہوگا۔
میں نے اس جن سے کہا مجھے سونے دو ‘مجھے شام سے بہت نیند آرہی ہے۔ اگلی رات وہ میرے پاس آیا اور اس نے مجھے پائوں مار کر پھر گزشتہ رات والی ساری بات بتائی۔ اسی طرح مسلسل تین راتیں وہ جن مجھے آکر بتاتا رہا۔
چنانچہ میں اٹھا اور میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو جانچ لیا ہے یعنی جن کی بات صحیح معلوم ہوتی ہے اور میں اونٹنی پر سوار ہوکر چل دیا پھر میں مدینہ آیا تو وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم میں تشریف فرما تھے میں نے قریب جاکر عرض کیا میری درخواست بھی سن لیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کہو“ میں نے یہ اشعار پڑھے۔ ترجمہ: ”ابتدائی رات کا کچھ حصہ گزر جانے کے بعد اور میرے کچھ سو لینے کے بعد مجھے سرگوشی کرنے والا جن میرے پاس تین رات آتا رہا اور جہاں تک میں نے اسے آزمایا وہ جھوٹا نہیں تھا وہ ہر رات مجھ سے یہی کہتا کہ تمہارے پاس ایک رسول صلی اللہ علیہ وسلم آیا ہے جو قبیلہ لوی بن غالب سے ہے۔ اس پر میں نے سفر کی مکمل تیاری کرلی اور تیز رفتار والی اونٹنی مجھے لے کر ہموار اور وسیع میدانوں میں چلتی رہی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی چیز عبادت کے لائق نہیں ہے اور آپ ہر بات کے بارے میں قابل اعتماد ہیں اور اے قابل احترام اور پاکیزہ لوگوں کے بیٹے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تک پہنچنے کیلئے تمام رسولوں میں سب سے زیادہ قریبی وسیلہ ہیں۔ اے روئے زمین پر چلنے والے سب سے اچھے انسان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان تمام اعمال کا حکم فرمائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ کی طرف آرہے ہیں۔ ہم ان اعمال کو ضرور کریں گے چاہے ان اعمال کی محنت میں ہمارے بال سفید ہوجائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کے لیے میرے سفارشی بن جائیں جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور سفارشی سواد بن قارب کے کام نہیں آسکتا۔“
میرے یہ اشعار سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین بہت زیادہ خوش ہوئے اور ان سب کے چہروں سے خوشی عیاں ہونے لگی۔
یہ قصہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت سواد رضی اللہ عنہ سے لپٹ گئے اور فرمایا”میری دلی خواہش تھی کہ میں تم سے یہ ساراقصہ سنوں۔ کیا اب بھی وہ جن تمہارے پاس آتا ہے؟ حضرت سواد رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب سے میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا ہے وہ نہیں آیا اور اس جن کی جگہ اللہ کی کتاب نعم البدل ہے۔
(یہ واقعہ امام بیہقی نے نقل کیا ہے )
کسی نے پوچھا اے امیر المومنین! کیا آپ اس گزرنے والے کو جانتے ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ ہیں جنہیں ان کے پاس آنے والے جن نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر دی تھی۔
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پیغام دے کر انہیں بلایا اور فرمایا کہ کیا آپ سواد بن قارب ہیں؟ انہوں نے ہاں میں جواب دیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم زمانہ جاہلیت میں کہانت کا کام کرتے تھے؟ اس پر حضرت سواد رضی اللہ عنہ کو غصہ آگیا اور کہا امیر المومنین! جب سے میں مسلمان ہوا ہوں کبھی کسی نے میرے منہ پر ایسی بات نہیں کی۔
حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا سبحان اللہ! ہم تو جاہلیت میں شرک پر تھے اور یہ شرک تمہاری کہانت سے زیادہ برا تھا۔ تمہارے تابع جن نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی جو خبر دی تھی وہ مجھے بتاؤ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فرمائش پر حضرت سواد رضی اللہ عنہ نے اپنا تفصیلی واقعہ سناتے ہوئے عرض کیا: اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ ! ایک رات میں لیٹا ہوا تھا اور بیداری اور نیند کی درمیانی حالت میں تھا‘ میرا جن میرے پاس آیا اورمجھے پائوں مار کر کہا”اے سواد بن قارب! اٹھ اور میری بات غور سے سن! اگر تیرے اندر عقل ہے تو تو سمجھ لے کہ (قریش کی شاخ) لُوی بن غالب میں ایک رسول مبعوث ہوا ہے جو اللہ کی اور اس کی عبادت کی دعوت دیتا ہے۔
مجھے اس بات پر تعجب ہوا کہ جنات حق کو تلاش کررہے ہیں اور سفید اونٹوں پر کجاوے باندھ کر ہر طرف کا سفر کررہے ہیں‘ یہ سب ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا تم سفر کرکے اس ہستی کے پاس جائو جو بنی ہاشم میں چیدہ اورعمدہ ہیں اور ہدایت میں پہل کرنے والا دیر کرنے والے کی طرح نہیں ہوگا بلکہ اس سے افضل ہوگا۔
میں نے اس جن سے کہا مجھے سونے دو ‘مجھے شام سے بہت نیند آرہی ہے۔ اگلی رات وہ میرے پاس آیا اور اس نے مجھے پائوں مار کر پھر گزشتہ رات والی ساری بات بتائی۔ اسی طرح مسلسل تین راتیں وہ جن مجھے آکر بتاتا رہا۔
چنانچہ میں اٹھا اور میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو جانچ لیا ہے یعنی جن کی بات صحیح معلوم ہوتی ہے اور میں اونٹنی پر سوار ہوکر چل دیا پھر میں مدینہ آیا تو وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم میں تشریف فرما تھے میں نے قریب جاکر عرض کیا میری درخواست بھی سن لیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کہو“ میں نے یہ اشعار پڑھے۔ ترجمہ: ”ابتدائی رات کا کچھ حصہ گزر جانے کے بعد اور میرے کچھ سو لینے کے بعد مجھے سرگوشی کرنے والا جن میرے پاس تین رات آتا رہا اور جہاں تک میں نے اسے آزمایا وہ جھوٹا نہیں تھا وہ ہر رات مجھ سے یہی کہتا کہ تمہارے پاس ایک رسول صلی اللہ علیہ وسلم آیا ہے جو قبیلہ لوی بن غالب سے ہے۔ اس پر میں نے سفر کی مکمل تیاری کرلی اور تیز رفتار والی اونٹنی مجھے لے کر ہموار اور وسیع میدانوں میں چلتی رہی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی چیز عبادت کے لائق نہیں ہے اور آپ ہر بات کے بارے میں قابل اعتماد ہیں اور اے قابل احترام اور پاکیزہ لوگوں کے بیٹے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تک پہنچنے کیلئے تمام رسولوں میں سب سے زیادہ قریبی وسیلہ ہیں۔ اے روئے زمین پر چلنے والے سب سے اچھے انسان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان تمام اعمال کا حکم فرمائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ کی طرف آرہے ہیں۔ ہم ان اعمال کو ضرور کریں گے چاہے ان اعمال کی محنت میں ہمارے بال سفید ہوجائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کے لیے میرے سفارشی بن جائیں جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور سفارشی سواد بن قارب کے کام نہیں آسکتا۔“
میرے یہ اشعار سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین بہت زیادہ خوش ہوئے اور ان سب کے چہروں سے خوشی عیاں ہونے لگی۔
یہ قصہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت سواد رضی اللہ عنہ سے لپٹ گئے اور فرمایا”میری دلی خواہش تھی کہ میں تم سے یہ ساراقصہ سنوں۔ کیا اب بھی وہ جن تمہارے پاس آتا ہے؟ حضرت سواد رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب سے میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا ہے وہ نہیں آیا اور اس جن کی جگہ اللہ کی کتاب نعم البدل ہے۔
(یہ واقعہ امام بیہقی نے نقل کیا ہے )
very impressive............
ReplyDelete