Showing posts with label PTA. Show all posts
Showing posts with label PTA. Show all posts

Saturday, 8 June 2013

Large Tax-payer Unit (LTU) Islamabad of Federal Board of Revenue yesterday recovered Rs. Rs 2.038 from Pakistan Telecommunication Authority by freezing its accounts.

 
According to sources, bank accounts were held and then freed after the recovery of unpaid taxes from year 2006.

Pakistan Telecommunication Authority and LTU Islamabad are long running this dispute over taxes.

There was a time when PTA hadn’t paid any taxes for ten years valuing over Rs. 10 billion. PTA claims that it is a government body itself and must pay all the revenues to government exchequer itself, however, LTU Islamabad is of the view that taxes must be collected from the revenues that PTA generates – in accordance with law – and this way the money will ultimately go to government exchequer.

LTU Islamabad had attached PTA accounts last year as well for similar reasons, and had recovered Rs. 3.6 billion.

FBR had collected PKR 3.43 billion in 2010 by carrying a similar action against the telecom authority.

It merits mentioning here that PTA collects various license fee and other dues from Telecom operators, which according to FBR are termed as revenues and must be taxed.
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لارج ٹیکس-پیئر یونٹ (LTU) نے گزشہ روز غیر
ادا شدہ ٹیکسز کی مد میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی سے 2.038 ارب روپے کی بازیافت کے لیے اس کے کھاتے منجمد کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق2006ء سے اب تک ادا نہ کیے گئے ٹیکسز کی بازیافت کے بعد ان بینک اکاؤنٹس کو بحال کر دیا گیا ہے۔
ٹیکسز کے معاملے پر پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی اور ایل ٹی یو اسلام آباد کے درمیان طویل عرصے سے یہ تنازع موجود تھا۔
ایک ایسا وقت بھی آیا تھا کہ پی ٹی اے نے دس سال تک ٹیکس ادا نہیں کیا تھا جس کی مالیت 10 ارب روپے سے بھی زیادہ تھی۔ پی ٹی اے دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خود سرکاری ادارہ ہے اور اپنی تمام آمدنی خود سرکاری خزانے میں جمع کراتا ہے، جبکہ، ایل ٹی یو اسلام آباد کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے کی حاصل کردہ آمدنی میں سے قانون کے مطابق ٹیکس لازماً لیا جانا چاہیے اور اس طرح یوں یہ رقم بالآخر حکومتی خزانے ہی میں جائے گی۔
ایل ٹی یو اسلام آباد نے گزشتہ سال بھی انہی وجوہات کی بنیاد پر کھاتوں پر چھاپہ مارا تھا اور 3.6 ارب روپے بحال کیے تھے۔
ایف بی آر نے 2010ء میں ٹیلی کام اتھارٹی کے خلاف ایسا ہی قدم اٹھاتے ہوئے 3.43 ارب روپے حاصل کیے تھے۔
واضح رہے کہ پی ٹی اے ٹیلی کام آپریٹرز سے لائسنس فی اور دیگر واجبات وصول کرتا ہے، جو ایف بی آر کے مطابق آمدنی ہیں او ران پر ٹیکس لیا جانا چاہیے۔

Friday, 17 May 2013

Caretaker Federal Minister for Information Technology &Telecom (IT&T), Dr. Sania Nishtar visited Pakistan Telecommunication Authority (PTA) Headquarters yesterday.
Additional Secretary, Member Law , Member IT of MoIT Director Generals (DGs) of Different Divisions of PTA and senior officers of the Authority were present on this occasion.
During the visit, senior officers briefed the Minister about the functions of PTA, regulatory initiatives taken by it and overall performance of the telecom sector. The Minister was informed that PTA has always facilitated thriving telecom industry of Pakistan which is providing state of the art telecom, broadband and ICT services. The Minister was also briefed about the challenges faced by the telecom sector and continued efforts of the regulator to address them.
Dr. Sania Nishtar assured full support of IT & T Ministry to PTA for its regulatory initiatives in ensuring continued growth of the telecom sector of Pakistan. She appreciated the role of PTA in the uplift of telecom sector of Pakistan.

Thursday, 16 May 2013

نگران وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام ڈاکٹر ثانیہ نشترنے گزشتہ روز پاکستانی ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔
وزارت کے ایڈیشنل سیکرٹری، ممرن قانون، ممبر آئی ٹی اور پی ٹی اے کی مختلف ڈویژنز کے ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ملاقات میں سینئر افسران نے وزیر آئی ٹی کو پی ٹی اے کی کارکردگی ، اس کی جانب سے اٹھائےگئے ریگولیٹری اقدامات اور ٹیلی کام سیکٹر کی مجموعی صورت حال سے آگاہ کیا۔ منسٹر کو بتایا گیا کہ پی ٹی اے نے ہمیشہ پاکستان کی فروغ پذیر ٹیلی کام انڈسٹری کو سہولیات فراہم کی ہیں جو جدید ٹیلی کام، براڈ بینڈ اور آئی سی ٹی سروسز پیش کر رہی ہے۔ نگراں وزیر کو ٹیلی کام سیکٹر کو درپیش مسائل اور ان کو حل کرنے کے لیے پی ٹی اے کی مسلسل کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔
ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر کی بڑھتی ہوئی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کام کی جانب سے پی ٹی اے کو مکمل سہارے کا اطمینان دلایا۔ انہوں نے پاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر کی ترقی کے حوالے سے پی ٹی اے کے کردار کو سراہا۔

Sunday, 21 April 2013

How To Report Unwanted Calls/SMS To PTA?

Posted by Unknown on 00:36 with No comments
Every day we receive many calls, SMS, from our friends and family. Sometimes it happens that we have received SMS / call We really do not want to receive. Even from the telecommunications service provider. Some people try to hire some SMS marketing companies, they continue to send you a text message, and even some mobile phone text messages about the product, you can not even imagine reading these words, with your family.

These types of unwanted SMS / call is illegal. You can report these types of SMS / call PTA and PTA will take action against them.

Steps:

Send SMS to 9000, these details;

  • Text content you receive.
  • The number of the sender cells
  • Your name, identity card number
  • Any other details you want to add the sender.

Charges:

  • 10 Paisa Including Tax will be charged for sending Text on 9000.

Once you are done, PTA is going to take action for sure, whether is the Telco Company, or any person who is sending you unwanted SMS.


 Public notice issued by PTA:

Saturday, 20 April 2013

ہم سب روزانہ اپنے دوستوں، خاندان کے ارکان کی طرف سے کئی فون کالز، ایس ایم ایس موصول کرتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ ایس ایم ایس / کالیں وصول کرتے ہیں وہ ہم واقعی میں موصول نہیں کرنا چاہتے۔ حتٰی کہ ٹیلکو جو آپ کے سروس پرووائیڈر ہیں ان کی بھی نہیں۔ کچھ لوگ ایس ایم ایس مارکیٹنگ کی کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ آپ کو ایس ایم ایس بھیجتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ ایس ایم ایس ایسی مصنوعات کے بارے میں ہوتے ہیں جو آپ یہاں تک کہ اپنے خاندان کے ساتھ اس کے متن کو پڑھنے کے لئے سوچ بھی نہیں سکتے۔

اس قسم کے غیر مطلوبہ ایس ایم ایس / کالیں قانون کے خلاف ہیں۔ آپ پی ٹی اے پر اس قسم کی ایس ایم ایس / کالز کی رپورٹ کر سکتے ہیں اور پی ٹی اے ضرور ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔

طریقہ کار:

ان تفصیلات کے ساتھ 9000 پر ایک ایس ایم ایس بھیجیں؛
  • متن کا مواد جو آپ کو موصول ہوا،
  • بھیجنے والے کا موبائل فون نمبر،
  • آپ کا نام، اور شناختی کارڈ نمبر،
  • آپ بھیجنے والے کے حوالے سے جو بھی تفصیلات شامل کرنا چاہتے ہیں۔
چارجز:
  • 10 پیسہ بشمول ٹیکس 9000 پر متن بھیجنے کے لئے چارج کیا جائے گا۔
جب ایک بار آپ نے کر لیا، پی ٹی اے کا ادارہ ضرور کاروائی کرے گا،چاہے وہ ٹیلکو کمپنی ہو یا کوئی انسان جو آپ کو غیر مطلوبہ ایس ایم ایس بھیج رہا ہے۔

نیچے پی ٹی اے کی طرف سے جاری کیا گیا عوامی نوٹس ہے: 

Thursday, 4 April 2013

Government of Pakistan’s binding of not issuing any new LDI license based on the sale-purchase agreement with Etisalat – under the sale of 26 percent shares of PTCL – got expired on March 22nd, 2013, after which Pakistan Telecommunication Authority is free to auction new LDI licenses now.
Sources familiar with matter told ProPakistani that telecom regulator is likely to auction new LDI licenses, at least to CMPak which is long struggling to get LDI license but was barred due to government’s SPA with Etisalat.
CMPak had once said that it could invest USD 500 million if granted an LDI license.
Pakistan Telecommunication Authority, which is fighting hard to get its governing board (including Chairman and two Members) is likely to auction LDI licenses as soon as it will get its board back.
Auction of new LDI licenses are specifically crucial now when operators are charging high for international incoming calls. There are currently 14 LDI operators that are making five times more revenues after implementation of ICH when compared with their previous earnings.
It merits mentioning here at the time of sale of 26 percent shares of PTCL, Etisalat had confined government of Pakistan to not to sell any new telecom license for seven years. The term of this contract expired last month and now PTA is free to auction new telecom licenses.
Insiders tell that one reason of not auctioning 3G license till now was this SPA with Etisalat.
It won’t be out of place to mention that Etisalat is still to pay USD 800 million even after seven years of its takeover of PTCL. Etisalat says that it will clear pending payment after settlement of land properties with government of Pakistan.
Etisalat was even offered to deduct the cost of properties (worth USD 73 million) and to clear the remaining amount, which it has been denying.
Pakistan had once said that it could take back the control of PTCL if pending payment isn’t cleared, however, that turned out to be a just a statement.
پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص کی فروخت کے تحت اتصالات سے ہونے والے معاہدے کے مطابق حکومت پاکستان نئے ایل ڈی آئی لائسنس فروخت نہ کرنے کی پابند تھی، لیکن یہ معاہدہ 22 مارچ 2013ء کومکمل ہوا، جس کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نئے ایل ڈی آئی لائسنس کی نیلامی کے لیے آزاد ہے۔
باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ پی ٹی اے نئے ایل ڈی آئی لائسنس کی نیلامی کرنے والا ہے، کم از کم سی ایم پاک کو ضرور جو طویل عرصے سے ایل ڈی آئی لائسنس حاصل کرنے کے لیےجدوجہد کر رہا ہے لیکن حکومت کے اتصالات کے ساتھ سیل پرچیز ایگریمنٹ کے باعث پابند تھا۔
سی ایم پاک نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ اگر اسے ایل ڈی آئی لائسنس جاری کر دیا جائے تو وہ 500 ملین امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی، جو اپنے گورننگ بورڈ (بشمول چیئرمین اور دو ممبرز) کی بحالی کے لیے اس وقت سخت مراحل سے گزر رہا ہے ممکنہ طور پر بورڈ کے بحال ہوتے ہی ایل ڈی آئی لائسنسوں کی نیلامی کے گا۔
نئے ایل ڈی آئی لائسنسوں کی نیلامی اس لیے خصوصاً اہم ہے کہ آپریٹرز بیرون ملک سے آنے والی کالز پر زیادہ چارجز وصول کر رہے ہیں۔ اس وقت 14 ایل ڈی آئی آپریٹرز ہیں جو آئی سی ایچ کے نفاذ کے بعد پہلے کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ آمدنی سمیٹ رہے ہیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص کی فروخت کے مطابق اتصالات نے حکومت پاکستان کو پابند کیا تھا کہ وہ اگلے سات سالوں تک نئے ٹیلی کام لائسنس فروخت نہیں کرے گا۔ یہ معاہدہ گزشتہ ماہ اپنے اختتام کو پہنچے اور اب پی ٹی اے ٹیلی کام لائسنسوں کی نیلامی کے لیے مکمل طور پر آزاد ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک 3جی لائسنس کی نیلامی نہ ہونے کا ایک سبب اتصالات کے ساتھ مذکورہ معاہدہ بھی تھا۔
واضح رہے کہ اتصالات کو پی ٹی سی ایل سنبھالنے کے سات سال بعد بھی 800 ملین امریکی ڈالرز ادا کرنے ہیں۔ اتصالات کہتا ہے کہ وہ حکومت پاکستان کے ساتھ املاک کے معاملے پر تصفیہ ہونے کے بعد ادائیگی کر دے گا۔
اتصالات کو املاک کی قیمت (73 ملین امریکی ڈالرز) منہا کرنے اور بقیہ ادائیگی کرنے کی بھی پیشکش کی گئی، لیکن اس نے انکار کیا۔
پاکستان نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ اگر بقیہ ادائیگی نہیں کی گئی تو وہ پی ٹی سی ایل کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلے گا، لیکن یہ صرف بیان بازی ہی ثابت ہوا۔

Monday, 1 April 2013

Islamabad High Court has directed the Cabinet appointed by the Commission on the basis of the Pakistan Telecommunication Authority members, 1 May 29 advertising, 2013 advertising, publishing the recruitment of members of the authority.

Justice Shaukat Aziz Siddiqui IHC indicates the hearing of the petition submitted by the ISP Association Nayatel convener of Pakistan (ISPAK) CEO to Wahaj we Siraj government made ​​subsequent advertising, and according to the requirements in its first an ad only mentions the appointed members.

Filed by the petitioner, the cabinet ministers for the first time released on January 29, 2013 the appointment of two members of the PTA advertising. But just one day after, on 14 February 2013, on the last date, age and experience of the change to a new ad eligible to apply for the issue, to adapt my favorite, the blue eyes of the government.

Receipt of the application and analysis of the strong credentials of the applicant to such an extent, Cabinet Division, in altering the qualifications, experience and age criteria, screening out good candidates, petitioner has been noted that this process is being manipulated.

High profits and resentment of the past few months has been in turmoil since PTA multi-billion dollar auction of 3G spectrum auction pause NAB on the illegal appointment of consultants and former Chairman Farooq Awan dismissed the Lahore High Court (LHC conflicting interests) January 15, 2013, and in violation of the Telecommunications Act, 1996.

Currently, PTA is completely normal, and its member financial, Nasrul Karim Ghaznavi completed his second four-year term on February 24, Member Technical, March 16, Khawar Sidi kay, Khokhar completed his tenure.

The reader is referred to here is the original ad, Member Technology announced the appointment on January 29, 2013:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیبنٹ ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے ممبرز کا تقرر 29 جنوری 2013ء کو چھپنے والے اشتہار کی بنیاد پر کرے، یعنی وہ پہلا اشتہار جو اتھارٹی میں ممبرز کی بھرتی کے لیے شایع ہوا تھا۔
نیا ٹیل کے سی ای او اور آئی ایس پی ایسوسی ایشن آف پاکستان (ISPAK) کے کنوینر وہاج السراج کی جانب سے داخل کی گئی پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے حکومت کو بعد میں چھپنے والے اشتہارات کو منسوخ کرتے ہوئے پہلے اشتہار کی بنیاد پر ممبرز کا تقرر کرے۔
درخواست گزار نے کہا تھا کہ کیبنٹ ڈویژن نے 29 جنوری 2013ء کو پی ٹی اے کے دو ممبرز کی تقرری کے لیے اشتہار شایع کیا تھا۔ لیکن اس کے لیے درخواست دینے کی آخری تاریخ، یعنی 14 فروری 2013ء، کے خاتمے کے صرف ایک روز بعد نیا اشتہار جاری کر دیا گیا جس میں درکار تعلیمی قابلیت، عمر اور تجربے کو تبدیل کیا گیا تاکہ حکومت اپنے من پسند فرد کو اس عہدے پر بھرتی کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس عمل کو اس حد تک بگاڑا گیا کہ کیبنٹ ڈویژن نے درخواستوں کو قبول کرنے اور مضبوط امیدواروں کی صلاحیتوں و خوبیوں کا جائزہ لینے کے بعد درکار تعلیمی صلاحیت، تجربہ اور عمر کو تبدیل کر ان امیدواروں گو دوڑ سے باہر کر دیا۔
پی ٹی اے گزشتہ چند ماہ سے سخت بحرانی صورتحال سے دوچار ہے، جب سے قومی احتساب بیورو (نیب) نے مشیران (کنسلٹنٹ) کی غیر قانونی تقرری پر کئی ارب ڈالرز کی نفع بخش اور سب سے زیادہ اسکینڈل کی زد میں آنے والی 3جی اسپیکٹرم کی نیلامی کو روک دیا اور پھر 15 جنوری 2013ء کو مفادات سےتصادم اور ٹیلی کام ایکٹ 1996ء کی خلاف ورزی پر لاہور ہائی کورٹ نے اس وقت کے چیئرمین فاروق اعوان کو عہدے سے ہٹا دیا۔
پی ٹی اے اس وقت مکمل طور پر غیر فعال ہے کیونکہ اس کے ممبر فنانس نصر الکریم غزنوی 24 فروری کو دوسری مرتبہ اپنی 4 سالہ مدت پوری
کر چکے ہیں جبکہ ممبر ٹیکنیکل ڈاکٹر خاور صدیق کھوکھر نے اپنے عہدے کی میعاد 16 مارچ کو مکمل کی۔
قارئین کے لیے حوالے کے طور پر ہم یہاں 29 جنوری 2013ء کو ممبر ٹیکنیکل کی تقرری کے لیے شایع ہونے والا اصلی اشتہار پیش کر رہے ہیں:
 

Friday, 22 March 2013

Pakistan Telecommunication Authority has plans to get mobile phone and wireless services suspended in the vicinity of Minar-e-Pakistan during Pakistan Tehrik-e-Insaaf’s rally today, reported The News.
 
According to details, mobile phone services and Vfone wireless service will be blocked in the area, amid security threats.

The phone blockade may cause serious problems, including the management and coordination of the organizers and participants of Jalsa.

Public transport interchange, it is expected that more than 10 million people in the Minar-E-Pakistan, the coordination between the participants will continue to be a key issue.


News and screen update from the cellular telephone would be impossible, as well. The PTI supporters share the live happening, will have to wait until the evening to upload their photos on Facebook and Twitter.

It is still unclear whether there will be hot spots is available or not, but because PTCL EVO and nitro services will be offline, and the party is the establishment of the hot spot may also be faced with obstacles.

نیوز میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا ارادہ ہے کہ آج موبائل فون اور وائرلیس کی خدمات پاکستان تحریک انصاف کی ریلی  کے دوران مینار پاکستان کے علاقے میں معطل کر دی جائیں گی۔

تفصیلات کے مطابق، موبائل فون کی خدمات اور Vfone وائرلیس سروسز علاقے میں سلامتی کے خطرات کے باعث بلاک کر دی جائیں گی۔

موبائل فون کی ناکہ بندی کی وجہ یہ ہے کہ جلسہ کے منتظمین اور شرکاء کے درمیان سنگین انتظامی اور سمنوی مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب تحریک انصاف میں 100،000 سے زائد افراد آج مینار پاکستان میں جمع ہونے کی توقع ہے، شرکاء کے درمیان تعاون ایک اہم مسئلہ رہے گا۔
سیلولر فونز سے خبریں اور تصویر کے اپ ڈیٹس ممکن ہے دستیاب نہ ہوں۔ تحریک انصاف کے حامی، جو زیادہ تر واقعات کی براہ راست فیڈ کا اشتراک کرنے کے نام سے جانے جاتے ہیں،کو ان کی تصاویر فیس بک اور ٹویٹر پر اپ لوڈ ہونے کے لیے شام تک انتظار کرنا پڑے گا۔
یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ وہاں پر ہاٹ سپاٹ دستیاب ہو گا یا نہیں،اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی سی ایل EVO اور Nitro خدمات آف لائن رہیں گی۔ پارٹی کو ہاٹ سپاٹ قائم کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Wednesday, 20 March 2013

The following letter, the Pakistan Telecommunication Authority, various telecom operators have been instructed to stop Inaami scheme (Award Scheme) with immediate effect.

The PTA letter, sent to all the telecom operators, the Islamabad High Court Act mentioned in these directions. PTA requires all carriers tomorrow, March 21, 2013, to submit a compliance report.

It is worth mentioning, PTA directed telecom operators - in April 2012 - before to stop inaami plan, but all carriers approached the Islamabad High Court a writ petition against the instructions.

However, the petition, the court dismissed the last week and telecom operators were asked to immediately stop this bonus plan.

The following is the letter sent by the PTA operators today:

 Following is the letter that was sent by PTA to telecom operators on April 9th, 2012.
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے، مندرجہ ذیل لیٹر کے ذریعے، تمام ٹیلی کام آپریٹرز کو فوری طور پر انعامی اسکیموں سے روک دیا ہے۔
تمام آپریٹرز کو بھیجا گیا پی ٹی اے کا لیٹر کہتا ہے کہ یہ احکامات اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہیں۔ پی ٹی اے نے تمام آپریٹرز سے کل یعنی 21 مارچ 2013ء کو اپنی کمپلائنس رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پی ٹی اے نے اپریل 2012ء میں تمام ٹیلی کام آپریٹرز کو انعامی اسکیمیں روکنے کا حکم جاری کیا تھا لیکن تمام آپریٹرز اس حکم کے خلاف ایک رٹ پٹیشن کے ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے۔ لیکن عدالت نے پٹیشن کو خارج کر دیا اور ٹیل کام کمپنیوں کو فوری طور پر ایسی انعامی اسکیمیں روکنے کا حکم دیا۔
ذیل میں وہ لیٹر ہے جو آج پی ٹی اے کی جانب سے آپریٹرز کو بھیجا گیا ہے:
یہ وہ لیٹر ہے جو 9 اپریل 2012ء کو ٹیلی کام آپریٹرز کو پی ٹی اے کی جانب سے بھیجا گیا تھا:

Tuesday, 19 March 2013

The Election Commission of Pakistan once again communicated to the Cabinet Affairs, it does not employ Member Finance and Member of technology applied to the various recruitment ban until further notice.

It is worth mentioning that the Cabinet Division is to recruit a member of the Finance and Member Pakistan Telecom Regulatory Authority of technology process, in fact, that it has appointed Farooq Awan member financial delegation (temporary appointment official members until employment) However, he later informed of pressure from the large Hadron Collider.

Cabinet Affairs Department earlier ECP to relax the prohibition on new recruitment. However, ECP sustain its judgment, and said that it should be in any case, no new appointment.

ECP, the newly appointed Special is not feasible, because the reporter's report shows that efforts are being made to this appointment, affect the multi-billion dollar 3G auction.

It is worth mentioning here, not any member or chairman to attend the PTA and all the top slot is empty. It has been reported that the Government is trying to fill these positions favorite, however, due to the legal struggle of civil rights protection, all of these efforts, now stop.

Now, the newly appointed ECP prohibited, it is unclear when members will be appointed Chairman of PTA.

Nevertheless, the Cabinet Secretary obviously do not listen to ECP. It is still the arrangements for the appointment of the members of the Selection Committee meeting is being held. If any member of the appointment, despite the directive from the ECP, the move may be in court to be challenged.

The agony of the telecommunications industry in the management conflicts of PTA, almost every task related to the regulator, to suspend the running.

Following this letter, which is sent to the PTA ECP:

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ایک مرتبہ پھر کیبنٹ ڈویژن سے رابطہ کر کے اسے ہدایت کی ہے کہ وہ بھرتیوں پر عائد پابندی کے باعث تا حکم ثانی ممبر فنانس اور ممبر ٹیکنیکل کی تقرری نہ کرے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ کیبنٹ ڈویژن پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے لیے ممبر فنانس اور ممبر ٹیکنیکل کی تقرری کے عمل سے گزر رہا ہے اور اس نے فاروق اعوان کو قائم مقام کی حیثیت سے ممبر فنانس مقرر کیا بھی (عارضی تقرری یہاں تک کہ ممبر کا مستقل تقرر عمل میں آئے)، البتہ بعد ازاں انہیں لاہورہائی کورٹ کے حکم کے باعث عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
قبل ازیں کیبنٹ ڈویژن نے الیکشن کمیشن سے نئی بھرتیوں پر عائد پابندی میں نرمی برتنے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا اور کہا کہ کسی بھی صورت میں نئی تقرریاں نہیں ہونی چاہئيں۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ نئی تقرریاں نہیں کی جا سکتیں کیونکہ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ان تقرریوں کا مقصد کئی ارب ڈالرز کی 3جی نیلامی پر اثرانداز ہونا ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس وقت پی ٹی اے میں کوئی ممبر یا چیئرمین موجود نہیں اور تمام اہم عہدے خالی ہیں۔ خبر یہ ہے کہ حکومت ان عہدوں پر اپنے منظور نظر افراد کو رکھنا چاہتی ہے لیکن سماجی کارکنوں کی جانب سے قانونی جنگ کے باعث ایسی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔
اب ای سی پی کی جانب سے نئی تقرریوں پر پابندیوں کے باعث یہ غیر واضح ہے کہ ممبرز اور چیئرمین پی ٹی اے کا تقرر کب ہوگا۔
اس کے باوجود، کیبنٹ ڈویژن بظاہر الیکشن کمیشن کے احکامات پر کان نہیں دھر رہا۔ وہ اب بھی ممبرز کی تقرری کے انتظامات میں جتا ہوا ہے، جس کے لیے سلیکشن کمیٹی کے کے اجلاس بھی ہو رہے ہیں۔ اگر ای سی پی کے احکامات کے باوجود کسی ممبر کا تقرر کیا گیا، تو ممکن ہے کہ اس کو عدالت میں چیلنج کر دیا جائے گا۔
ٹیلی کام انڈسٹری پی ٹی اے کے اس انتظامی تنازع کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ تقریباً تمام ہی کام جن میں پی ٹی اے کی شمولیت ہوتی ہے، رکا ہوا ہے۔
یہ وہ لیٹر ہے جو حال ہی میں ای سی پی کی جانب سے پی ٹی اے کو بھیجا گیا ہے:

Monday, 18 March 2013

Cabinet Affairs Department has withdrawn the notification of the appointment of Farooq Awan Member financial Pakistan Telecommunication Authority (PTA), and to ensure a transparent manner in accordance with the rules and PTA method of appointment in the Lahore High Court (LHC), reported thisa message.

Cabinet Secretary Nargis Sethi Ms. submitted a written guarantee in the case of contempt of court, the writ petition, Farooq Awan from published last month by the same judge earlier ordered the demolition President PTA of Khawaja Saad Salim the Nayatel 15,2013 years.

This is worth mentioning is that the Cabinet Division, Mr. Farooq Awan has been appointed as a temporary member financial Pakistan Telecommunication Authority.

May be recalled that the invitation of the Government of Pakistan after the financing of the applicant's members, the members of the technology. Location and Chairman of the regulator may soon be filled

In any case, it seems Mr. Farooq Awan experienced at least a period of time from the scene.

نیوز نے بتایا کہ کابینہ ڈویژن نے ممبر فنانس پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے طور پر فاروق اعوان کی تقرری کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے اور لاہور ہائی کورٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ تقرری شفاف انداز میں قوانین اور پی ٹی اے ایکٹ کے مطابق کیا جائے گا۔

سیکرٹری کابینہ ڈویژن محترمہ نرگس سیٹھی کی طرف سے تحریری یقین دہانی کو توہین عدالت کے کیس میں پیش کیا گیا تھا جو کہ Nayatel خواجہ سعد سلیم کی طرف سے دائر کیا گیا تھا۔ جنکی عملداری کی درخواست پر اسی جج نے پہلے فاروق اعوان کو 15 جنوری، 2013 کو چیئرمین پی ٹی اے کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔

یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ کابینہ ڈویژن نے عبوری بنیاد پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ممبر فنانس کے طور پر جناب فاروق اعوان کو مقرر کیا تھا۔

یہ شاید یاد دلایا گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے ممبر فنانس اور ممبر ٹیکنیکل کے عہدے کے لئے درخواست دہندگان کو مدعو کیا ہے۔ دونوں عہدوں اور ریگولیٹر کے چیئرمین شپ جلد ہی بھر جانے کا امکان ہے۔ کسی بھی صورتحال میں،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جناب فاروق اعوان منظر سے کم از کم کچھ وقت کے لئے غائب ہو گئے ہیں۔