Showing posts with label Azaan Issues. Show all posts
Showing posts with label Azaan Issues. Show all posts

Thursday, 21 March 2013

 اذان سننے کے بعد دعا پڑھنے پر قیامت کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت حلال

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اذان سن کر یہ کہے:
[ اللہم رب ھذا الدعوۃ التامۃ والصلاۃ القائمۃ آت محمد الوسیلۃ والفضیلۃ وبعثہ مقاما محمود الذی وعدتہ]
"اے اللہ ! اے اس دعوت کامل اور قائم کی جانے والی نماز کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں اس مقام محمود پر فائز کر جس کا تونے ان سے وعدہ کررکھا ہے"
تو قیامت کے دن میری شفاعت اس کے لیے حلال ہوجائے گی-
(بخاری:614)

Friday, 22 February 2013

وہ صورتیں جن میں اذان کا جواب نہ دے

آٹھ صورتوں میں اذان کا جواب نہ دے
١. نماز کی حالت میں اگرچہ وہ نمازِجنازہ ہو
٢. خطبہ سننے کی حالت میں خواہ وہ خطبہ جمعہ کا ہو یا کسی اور چیز کا
٣. جماع کی حالت میں
٤. پیشاب یا پاخانہ کرنے کی حالت میں البتہ اگر ان چیزوں سے فراغت کے
بعد زیادہ دیر نہ گزری ہو تو جواب دینا چاہئے ورنہ نہیں
٥،٦. حیض و نفاس کی حالت میں
٧. علمِ دین پڑھنے یا پڑھانے کی حالت میں
٨. کھانا کھانے کی حالت میں

How to answer Azaan And Iqamaah

Posted by Unknown on 19:50 with No comments
اذان اور اقامت کے جواب کا طریقہ
اذان کا جواب مستحب ہے، اس کا جواب اس طرح دے کہ جو لفظ موذن سے سنے وہی کہے مگر
 حَیَّ عَلَی الصَّلٰوةِ اور حَیَّ عَلَی الفَلَاح کے جواب میں لَا حَولَ وَلَا قُوةَ اِلَّا بِاللّٰہِ کہے
 اور لاحول الخ بھی کہے تاکہ دونوں حدیثوں پر عمل ہو جائے، فجر کی اذان میں الصَّلٰوةُ خَیرُ مِّنَ النَّومِ کے جواب میں صَدَقتَ وَ بَرَرتَ کہے، اقامت کا جواب بھی بالاجماع مستحب ہے اور وہ بھی اذان کی طرح ہے اور قد قامت الصلوة کے جواب میں اَقَامَھَااللّٰہ وَاَدَمَھَا کہے ابو دائود کی روایت میں اس کے بعد یہ الفاظ زیادہ ہیں مَا دامَتِ السَّمٰواتُ الاَرضُ وَ اجعَلنِی مِن صَالِحِی اَھلِھَاط اذان کے ختم پر مستحب ہےکہ مئوذن اور اذان کا جواب دینے والا دونوں درود شریف پڑھ کر یہ دعا پڑھیں
اَللّٰھَّم رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعوةِ التَّامَّتِ وَالصَّلٰوةِ القَآئِمَتِ اٰتِ سَیَّدَ نَا مُحَمَّدَ نِ الوَسِیلَتَوَالفَضِیلَتَ وَابعَثہُ مُقَامًا مَّحمُودَ نِ الَّذِی وَعَدتَّہُ اِنَّکَ لَا تُخلِفُ المِیعَادَ ط
اذان کے بعد کی دعا کے وقت ہاتھ اٹھانا کسی حدیث سے ثابت نہیں اس لئے نہ اٹھانا افضل ہے، البتہ اٹھانا بھی بلا کراہت جائز ہے کیونکہ مطلقاً دعا میں ہاتھ اٹھانا قولی و فعلی بہت سی مشہور حدیثوں سے ثابت ہے

To answer the Azaan...

Posted by Unknown on 19:38 with No comments
اذان کا جواب دینے کا بیان

١. جو شخص اذان سنے خواہ وہ عورت ہو یا مرد، پاک ہو یا جنبی اور وہ اذان نماز کی ہو یا کوئی اور اذان مثلاً نومولود بچے کے کان میں اذان دی ہو تو اس سننے والے پر اذان کا جواب دینا مستحب ہے اور بعض نے واجب بھی کہا ہے مگر معتمد اور ظاہر مذہب یہ ہے کہ نماز کی اذان کا زبان سے جواب دینا مستحب ہی ہے اور عملی جواب واجب ہے پس جو شخص مسجد سے باہر ہے اس کو عملی جواب یعنی مسجد میں آنا واجب ہے اور زبانی جواب مستحب ہے، پس اگر کسی شخص نے زبان سے اذان کا جواب دیا اور عملی جواب نہ دیا یعنی جماعت میں شامل ہونے کے لئے کوئی عذر نہ ہونے کے باوجود مسجد میں نہ آیا تو وہ شخص جواب دینے والا نہیں کہلائے گا، اور جو شخص مسجد میں موجود ہےاس کو عملی جواب دینا جو واجب تھا حاصل ہے صرف زبان سے جواب دینا مستحب ہے
٢. جو شخص اذان کی آواز نہ سنے مثلاً دور ہو یا بہرہ ہو تو اس پر زبان سے جواب دینا نہیں ہے اگرچہ اس کو علم ہو کہ اذان ہو رہی ہے
٣. اگر اذان غلط کہی گئی تو اس کا جواب نہ دے بلکہ ایسی اذان کو سنے بھی نہیں
٤. اگر ایک ہی مسجد کی کئی اذانیں سنے جیسا کہ بڑی مسجد میں جوق کی اذان کا رواج ہے یا کئی مسجدوں کی اذانیں ایک دوسرے کے بعد ساتھ ساتھ سنے تو اس پر پہلی ہی اذان کا جواب ہے خواہ وہ اپنی مسجد کی ہو یا کسی دوسری مسجد کی اور بہتر یہ ہے کہ سب کا جواب دے
٥. چلنے کی حالت میں اذان سنے تو افضل یہ ہے کہ اذان کے جواب کے لئے کھڑا ہو جائے
٦. اذان و اقامت سننے کی حالت میں کوئی بات نہ کرے اور سوائے ان کا جواب دینے کے کوئی کام نہ کرے یہاں تک کہ نہ سلام کرے اور نہ سلام کا جواب دے ( یعنی مناسب نہیں ہے اور خلاف اولٰی ہے)
٧. اذان و اقامت کے وقت قرآن مجید بھی نہ پڑھے اگر پہلے سے پڑھتا ہو تو چھوڑ کر اذان یا اقامت کے سننے اور جواب دینے میں مشغول ہونا افضل ہے اور اگر پڑھتا رہے تب بھی جائز ہے اگر اقامت کا جواب نہ دے اور اس وقت دعا میں مشغول ہو تو مضائقہ نہیں
٨. اگر کوئی اذان کا جواب دینا بھول جائے یا قصداً نہ دے اور اذان ختم ہونے کے بعد خیال آئے یا اب جواب دینے کا ارادہ کرے تو اگر زیادہ دیر نہ گزری ہو جواب دیدے ورنہ نہیں
٩. اگر اذان ہونے کے بعد دوبارہ کوئی اذان دے تو احترام پہلی اذان کے لئے ہے
١٠. جمعہ کی پہلی اذان سن کر خرید و فروخت وغیرہ تمام کاموں کو چھوڑ کر جمعہ کی نماز کے لئے اُس مسجد میں جانا جس میں نماز جمعہ ہوتی ہو واجب ہے خواہ وہ پہلی اذان کسی مسجد کی ہو البتہ جن پر جمعہ واجب نہیں وہ مستثنیٰ ہیں اور ان کو خریدوفروخت وغیرہ کوئی کام کرنا جائز ہے جمعہ کی دوسری اذان جو خطیب کے سامنے ہوتی ہے زبان سے اس کا جواب دینا مکروہ ہے البتہ دل میں اس کا جواب دے لے زبان یا حلق کو حرکت نہ دے
نماز کے علاوہ اذان و اقامت کہنے کے مستحب مواقع

فرضِ عین نمازوں کے علاوہ کسی اور نماز کے لئے اذان و اقامت سنت نہیں، لیکن کچھ مواقع ایسے ہیں جن میں اذان و اقامت یا صرف اذان مستحب ہے وہ یہ ہیں
١. جب بچہ پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا
٢. جو شخص رنج و غم میں مبتلا ہو، کوئی دوسرا آدمی اس کے کان میں اذان دے انشاء اللّٰہ العزیز اس کا غم زائل ہو جائے گا
٣. مرگی کے مریض کے کان میں
٤. جو شخص غم و غصہ کی حالت میں ہو اس کے کان میں
٥. بدمزاج یعنی جس کی عادتیں خراب ہو گئی ہوں خواہ وہ انسان ہو یا جانور چوپایہ وغیرہ ہو اُس کے کان میں
٦. کفار کے ساتھ لڑائی کی شدت کے وقت
٧. آتشزدگی کے وقت اور جلے ہوئے کے کان میں
٨. جن (جنات) کی سرکشی کے وقت جہاں کسی جن کا ظہور ہو اور وہ کسی کو تکلیف دیتا ہو
٩. مسافر کے پیچھے
١٠. جب مسافر جنگل میں راستہ بھول جائے اور کوئی بتانے والا نہ ہو، ان سب صورتوں میں اذان دینا مستحب ہے، میت کو دفن کرتے وقت یا دفن کے بعد قبر کے پاس اذان دینا کسی حدیث سے ثابت نہیں اورنہ سلف سے منقول ہے اس لئے بدعت ہے

The Azaan And Iqaamah Commands, part-2

Posted by Unknown on 19:18 with No comments
اذان و اقامت کے احکام

٩. قضا نمازیں جب مسجد کے علاوہ جنگل وغیرہ میں پڑھے تو اُن کے لئے اذان و اقامت کہے خواہ اکیلا پڑھے یا جماعت سے اور اگر مسجد میں یا ایسی جگہ جہاں لوگوں پر اظہار ہوتا ہو قضا نماز جماعت سے پڑھے تو اذان و اقامت نہ کہے اور اگر منفرد ہو تو اس قدر آواز سے کہ لے کہ وہ خود ہی سن سکے اسی طرح اگر جماعت والے بھی اتنی آواز سے کہہ لیں کہ دوسرے لوگوں کواظہار نہ ہو تو مکروہ نہیں، جنگل وغیرہ میں جہاں دوسرے لوگ نہ ہوں بلند آواز کے ساتھ اذان کہنا مکروہ نہیں بلکہ سنت ہے
١٠. اگر بہت سی نمازیں فوت ہو گئیں اور ان کو ایک ہی مجلس میں قضا کرے تو پہلی نماز کے لئے اذان و اقامت کہے اور باقی میں اختیار ہے چاہے دونوں کہے چاہے صرف اقامت کہے ہر نماز کے لئے دونوں کا کہنا بہتر و اولٰی ہے تاکہ قضا ادا کے طریقہ کے موافق ہو جائے
١١. صبح کے سوا اور نمازوں کی اذان وقت سے پہلے بالااتفاق جائز نہیں اور صبح کی اذان بھی وقت سے پہلے کہنا امام ابو حنیفہ و امام محمد کے نزدیک جائز نہیں اس کا اعادہ کیا جائے، اسی پر فتویٰ ہے اقامت بالاجماع وقت سے پہلے جائز نہیں اس لئے اعادہ کیا جائے
١٢. مستحب ہے کہ اقامت اور نماز کا شروع ہونا متصل ہو اور زیادہ فصل نہ ہو اور کوئی ایسا عمل نہ ہو جو اقامت اور نماز کے درمیان قاطع اور فصل شمار ہو جیسے کھانا پینا کلام کرنا وغیرہ ایسی صورت میں اقامت کا اعادہ مستحب ہے
١٣. عرفات میں جب ظہروعصر کو جمع کریں تو ایک اذان اور دو تکبیر اقامت کے ساتھ پڑھیں اور مزدلفہ میں مغرب و عشا کو ایک اذان اور ایک اقامت سے ادا کریں
١٤. کئی مئوذنوں کا ایک ساتھ اذان کہنا جائز ہے اس کو اذانِ جوق کہتے ہیں بڑی بڑی مساجد میں اس کا رواج ہے حرمین پاک میں بھی اس کا رواج ہے

The Azaan And Iqaamah Commands,PART-1

Posted by Unknown on 19:16 with No comments
اذان و اقامت کے احکام

١. پانچوں وقت کی فرض عین نمازوں اور جمعہ کی نماز جماعت سے ادا کرنے کے لئے اذان دینا مردوں پر سنت ہے، اور یہ سنت مئوکدہ علی الکفایہ ہے یعنی ہر شہر و بستی میں ایک شخص کی اذان کفایت کرتی ہے، اگر کسی ایک شخص نے بھی نہ کہی تو وہاں کے سب لوگ گناہگار ہوں گےاذان شعائرِ اسلام میں سے ہے اور اس کا ترک دین میں استخفاف ہے اگر اہلِ شہر اذان کے ترک پر اتفاق کر لیں تو امام محمد کے نزدیک ان کا قتال حلال ہے اور امام ابو یوسف کے نزدیک وہ لوگ مارنے اور قید کرنے کے لائق ہیں اقامت بھی پانچوں فرضِ عین نمازوں اور جمعہ کے لئے سنت ہونے میں اذان کی مانند ہے بلکہ اذان کی بہ نسبت زیادہ مئوکد ہے، باقی کسی نماز کے لئے خواہ وہ نماز فرض کفایہ ہو یا سنت نفل وغیرہ ہو اذان و اقامت مسنون و مشروع نہیں ہے
٢. عورتوں پر خواہ وہ تنہا نماز پڑھیں یا جماعت کے ساتھ پڑھیں اذان و اقامت مسنون نہیں ہے اگر کہیں گی تو گناہ ہو گا مگر نماز جائز ہو جائے گی، عورتوں کی جماعت خواہ امام بھی عورت ہی ہو مکروہ ہے
٣. لڑکوں اور غلاموں کی جماعت میں اذان و اقامت مشروع نہیں ہے
٤. مسجد کے اندر اذان و اقامت کے بغیر فرض نماز جماعت سے پڑھنا سخت مکروہ ہے
٥. مقیم کے لئے جبکہ وہ گھر میں تنہا یا جماعت سے نماز پڑھے اذان و اقامت مستحب ہے سنت مئوکدہ نہیں بشرطیکہ محلہ یا گائوں کی مسجد میں اذان واقامت ہو چکی ہو ورنہ اذان و اقامت دونوں کا چھوڑنا مکروہ ہے صرف اذان چھوڑ دینا مکروہ نہیں ہے، صرف اقامت چھوڑ دینا مکروہ ہے
٦. مسافر آبادی سے باہر خواہ اکیلا نماز پڑھتا ہو اس کو اذان و اقامت دونوں کا چھوڑ دینا مکروہ ہے، اگر اذان کہی اور اقامت چھوڑ دی تو جائز ہے لیکن مکروہ ہے اور اگر اذان چھوڑ دی اور اقامت کہی تو بلا کراہت جائز ہے، بہتر یہ ہے کہ دونوں کہے، اسی طرح اگر مسافر کے تمام ساتھی موجود ہوں تو اذان کا ترک بلاکراہت جائز ہے اور اقامت کا ترک مکروہ ہے اور دونوں کا کہنا مستحب ہے سنتِ مئوکدہ نہیں، جس گائوں میں ایسی مسجد ہو جس میں اذان واقامت ہوتی ہو، اس گائوں میں گھر کے اندر نماز پڑھنے والے کا حکم وہی ہے جو شہر کے اندر گھر میں نماز پڑھنے والے کا ہوتا ہے اور اگر اس گائوں میں ایسی مسجد نہیں ہے تو وہ مسافر کے حکم میں ہے
٧. اگر شہر یا گائوں کے باہر باغ یا کھیت وغیرہ ہے اور وہ جگہ قریب ہے تو گائوں یا شہر کی اذان کافی ہے پھر بھی اذان دے لینا اولٰی ہے اور اگر وہ جگہ دور ہے تو شہر کی اذان اس کے لئے کافی نہیں اور قریب کی حد یہ ہے کہ شہر کی اذان وہاں سنائی دیتی ہو
٨. اگر جنگل میں جماعت سے پڑھیں اور اذان چھوڑ دیں تو مکروہ نہیں اور اقامت چھوڑ دیں تو مکروہ ہے
موذن سے متعلق سنن و مستحبات و مکروہات

١٢. اگر اذان و اقامت کے دوران موذن مر گیا یا گونگا ہو گیا یا بھولنے کی وجہ سے رک گیا اور کوئی بتانے والا نہیں یا اس کا وضو ٹوٹ گیا اور وضو کرنے چلا گیا یا بیہوش ہو گیا تو ان پانچ صورتوں میں نئے سرے سے اذان یا اقامت کہنا مستحب ہے خواہ وہی کہے یا کوئی دوسرا آدمی کہے لیکن وضو ٹوٹنے کی صورت میں اولٰی یہ ہے کہ اذان و اقامت کو پورا کر لے اور پھر وضو کو جائے اور نئے سرے سے اس وقت کہے جبکہ اتنی دیر کا وقفہ ہو جائے جو فاصل شمار ہوتا ہو، تھوڑا وقفہ جیسے کھانسنا یا کھنکارنا وغیرہ کی صورت میں نئے سرے سے نہ کہے
١٣. موذن تکبیر و اقامت کے لئے آدمیوں کا انتظار کرے اور جو ضعیف ہمیشہ جلد آنے والا ہو اس کے لئے رکا رہے اور محلّہ کے رئیس اور بڑے آدمی کا اس کی خصوصیت کی وجہ سے انتظار نہ کرے، لیکن اگر وہ شریر ہو اور اس سے اندیشہ ہو اور وقت میں گنجائش ہو تو اس کا انتظار کرلے، اگر وقت تنگ ہو تو اس کا بھی انتظار نہ کرے
١٤. اذان و اقامت کی ولایت مسجد بنانے والے کو ہے، وہ نہ ہو تو اس کی اولاد کو پھر اس کے کنبہ کو ہے، اگر اہل محلہ نے ایسے شخص کو موذن یا امام بنایا جو بانی کے موذن یا امام سے بہتر ہے تو وہی شخص بہتر ہے
١٥. ایک شخص کو ایک وقت میں دو مسجدوں میں اذان کہنا مکروہ ہے جس مسجد میں فرض پڑھے وہیں اذان کہے
١٦. اگر مسجد کے کئی موذن ہوں جب وہ آگے پیچھے آئیں تو جو پہلے آئے اسی کا حق ہے
فائدہ: جن موقعوں پر اذان کا لوٹانا واجب ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اذان کو سنت کے مطابق ادا کرنے کے لئے اس کا لوٹانا ضروری ہے
موذن سے متعلق سنن و مستحبات و مکروہات
١. موذن عاقل ہو، مجنون و مست و ناسمجھ بچے کو اذان و اقامت مکروہ ہے اذان کا اعادہ کریں اقامت کا اعادہ نہ کریں، اگر سمجھ دار لڑکا ( خواہ قریب البلوغ نہ ہو) اذان دے تو بلا کراہت صحیح ہے لیکن بالغ کی اذان افضل ہے اگر کوئی نشے کی حالت میں اذان دے تو خواہ وہ نشہ مباح ہو تب بھی مکروہ ہے اور اس کا لوٹانا مستحب ہے
٢. اذان دینے والا مرد ہو، عورت اور خنثی کی اذان مکروہ تحریمی ہے اس کا اعادہ کرنا چاہئے ورنہ ترک اذان کا گناہ ہو گا
٣. موذن صالح اور متقی ہو، فاسق کی اذان مکروہ ہے خواہ وہ عالم ہی ہو مگر اس کا اعادہ نہ کریں، اگر اس فاسق عالم کے سوا کوئی دوسرا متقی عالم نہ ہو تو امامت اور اذان کے حق میں فاسق عالم جاہل پرہیزگار سے بہتر ہے
٤. اذان و اقامت کا سنت طریقہ اور ضروری مسائل جانتا ہو، اور قبلہ و نماز کے وقتوں کو پہچانتا ہو، تب وہ اذان دینے کے ثواب کا مستحق ہے
٥. حدثِ اصغر و اکبر دونوں سے پاک ہونا، جنبی کی اذان مکروہ تحریمی ہے اس لئے اعادہ کریں لیکن اقامت کا اعادہ نہ کریں کیونکہ اقامت کا تکرار شرع میں نہیں آیا اور یہ اذان کا اعادہ بعض کے نزدیک واجب ہے اور بعض کے نزدیک مستحب ہے اور یہی صحیح ہے، بے وضو کی اذان مکروہ نہیں مگر اس کی عادت ڈال لینا برا ہے اور بے وضو کی اقامت مکروہ ہے لیکن اس کا اعادہ نہ کریں
٦. موذن بارعب ہو، لوگوں کے حال پر خبردار رہتا ہو، مہربانی کرتا ہو اور جماعت میں نہ آنے والوں کو تنبیھ کرتا ہو جبکہ اس کو لوگوں سے تکلیف کا خوف نہ ہو
٧. ہمیشہ اذان کہی ہو
٨. ثواب کے لئے اذان واقامت کہتا ہو، اس پر اجرت نہ لیتا ہو، لوگ بلا طلب اس کو ساتھ سلوک کر دیں تو جائز ہے
٩. بہتر یہ ہو کہ وہی نماز کا امام ہو اور افضل یہ ہے کہ موذن ہی اقامت بھی کہے، اگر موذن چلا گیا اور کوئی دوسرا آدمی اقامت کہہ دے تو بلا کراہت جائز ہے، اگر وہ موجود ہو تو دوسرے آدمی کو اس کی اجازت کے بغیر اقامت کہنا مکروہ ہے جبکہ اس موذن کو ملال ہوتا ہو اور اگر ملال نہ ہو بلکہ وہ اس پر راضی ہو یا اجازت دیدے تو بلا کراہت جائز ہے
١٠. بلند آواز ہو
١١. غلام اور گائوں میں رہنے والا، جنگل میں رہنے والا، ولدالزنا، نابینا اور وہ شخص جو بعض نمازوں کی اذان دے اور بعض کی نہ دے ان سب کی اذان جائز ہے مگر مکروہِ تنزیہی ہے پس اگر کوئی اور آدمی اذان دے تو اولٰی ہے اگر اندھے کو ساتھ کوئی ایسا آدمی ہو جو نماز کے اوقات صحیح طور پر اس کو بتا دیا کرے تو اس کی اذان آنکھوں والے کی برابر ہے غلام کو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر اذان دینا جائز نہیں لیکن صرف اپنے لئے ہو تو اجازت کی ضرورت نہیں
اذان و اقامت کے سُنن و مستحبات و مکروہات
١٢. اذان اور اقامت کی درمیان دعا مانگنا مستحب ہے
١٣. اذان کا مستحب وقت وہی ہے جس میں مناسب وقفے کے بعد جماعت مستحب وقت میں ادا ہو جائے اور مناسب ہے کہ اذان مستحب وقت کے شروع میں کہے اور اقامت درمیانی وقت میں کہے
١٤. کھڑے ہو کر اذان کہنا سنت ہے اور بیٹھ کر اذان کہنا مکروہ ہے اس کا اعادہ کرنا چاہئے- منفرد اپنے واسطے بیٹھ کر اذان کہے تو مضائقہ نہیں اور اعادہ کی ضرورت نہیں
١٥. اذان اور اقامت کے لئے نیت شرط نہیں لیکن ثواب بغیر نیت کے نہیں ملتا اور نیت یہ ہے کہ دل میں ارادہ کرے " میں یہ اذان محض اللّٰہ تعالٰی کی خوشنودی اور ثواب کے لئے کہتا ہوں اور کچھ مقصود نہیں"
١٦. اذان و اقامت کی حالت میں کوئی دوسرا کلام نہ کرنا خواہ سلام یا سلام کا جواب دینا، یا چھینک کا جواب وغیرہ ہی کیوں نہ ہو، نہ اس وقت جواب دے نہ فراغت کے بعد، اگر کلام کیا اور زیادہ کیا تو اذان کا اعادہ کرے اور تھوڑا کلام کیا تو اعادہ نہ کرے، اقامت کا اعادہ کسی حال میں نہ کرے
١٧. موذن کو حالت اذان میں چلنا مکروہ ہے اگر کوئی چلتا جائے اور اس حالت میں اذان کہتا جائے تو اعادہ کرے
اذان و اقامت کے سُنن و مستحبات و مکروہات
١٠. تثویب متاخرین کے نزدیک مغرب کے سوا ہر نماز میں بہتر ہے اور تثویب اس کو کہتے ہیں کہ موذن اذان اور اقامت کے درمیان پھر اعلان کرے، ہر شہر کی تثویب وہاں کے رواج کے مطابق ہوتی ہے جس سے لوگ سمجھ جائیں کہ جماعت تیار ہے مثلاً الصَّلوۃ الصَّلوۃ کہنا، یا قَامَت قَامَت کہنا، یا الصَّلوkُ رَحِمَکمُ اللّٰہ کہنا، یا اس مفہوم کے الفاظ اپنی زبان میں کہنا مثلاً اردو میں کہے" جماعت تیار ہے"وغیرہ، بہتر یہ ہے کو اذان و اقامت کا کوئی کلمہ تثویب میں استعمال نہ کیا جائے اُن کے علاوہ کوئی اور کلمات ہوں
١١. اذان اور اقامت کے درمیان ایسی دو چار رکعات کی مقدار فصل کرنا مستحب ہے جن کی ہر رکعت میں دس آیتیں پڑھ سکے یعنی اتنی دیر ٹھر کر تکبیر و اقامت کہی جائے کہ جو لوگ کھانے پینے میں مشغول ہوں یا پیشاب پاخانہ کر رہے ہوں تو فارغ ہو کر نماز میں شریک ہو سکیں اور مستحب وقت کا خیال رکھتے ہوئے ہمیشہ آنے والی نمازیوں کا انتظار کرے، اذان و اقامت کو ملانا یعنی ان میں فصل نہ کرنا بالاتفاق مکروہ ہے- مغرب کی اذان اور اقامت میں بھی فصل ضروری ہے اور اس کی مقدار امام ابوحنیفہ کے نزدیک جتنی دیر میں تین چھوٹی یا ایک بڑی آیت پڑھ سکے اتنی دیر چپکے کھڑے رہنا مستحب ہے، پھر اقامت کہے اور صاحبین کے نزدیک دونوں خطبوں میں بیٹھنے کی مقدار بیٹھ جائے اور یہ اختلاف صرف اتنی بات میں ہے کہ کھڑا رہنا افضل ہے یا بیٹھنا پس امام ابوحنیفہ کے نزدیک کھڑا رہنا افضل ہے اور بیٹھنا جائز اور صاحبیں کے نزدیک بیٹھنا افضل ہے اور کھڑا رہنا جائز ہے
اذان و اقامت کے سُنن و مستحبات و مکروہات
٤. اذان اور اقامت کے کلمات میں سنت طریقہ کے مطابق ترتیب کرے خلاف ترتیب ہو جائے یا کوئی کلمہ بھول جائے تو اس جگہ کی ترتیب صحیح کرکے یا بھولے ہوئے کلمہ کو کہہ کر اس سے آگے کا اعادہ کرے، اگر اس کی ترتیب کو صحیح نہ کرے تو اذان ہو جائے گی
٥. اذان و اقامت میں قبلہ کی طرف منھ کرے جبکہ سوار نہ ہو، اس کا ترک مکروہِ تنزیہی ہے اور اعادہ مستحب ہے، سوار کے لئے سفر میں اپنے لئے اذان و اقامت سواری پر درست ہے لیکن اقامت کے لئے اترنا چاہئے اگر نہ اترا تو بھی جائز ہے کہ سواری پر استقبال قبلہ ضروری نہیں اور جماعت کے لئے سوار ہو کر اذان نہ کہے، حضر میں سواری پر اذان مکروہ ہے لیکن اعادہ نہ کیا جائے امام ابو یوسف کے نزدیک کوئی حرج نہیں
٦. اذان میں جب حَیَّ عَلَی الصَّلٰوk کہے تو اپنی منھ کو دائیں طرف پھیر لے اور جب حَیَّ عَلَی الفَلَاح کہے تو بائیں طرف پھیر لے سینہ اور قدم قبلہ سے نہ پھرے- اکیلا نمازی اپنے لئے اذان کہے تب بھی یہی حکم ہے، نماز کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے اذان کہے مثلاً بچہ پیدا ہونے پر اس بچہ کے کان میں اذان دے تو اس میں بھی ان دونوں موقوں پر منھ کو پھیرے، اقامت میں منھ نہ پھیرے، بعض کے نزدیک اقامت میں بھی پھیرنا چاہئے
٧. تلحسین یعنی ایسی راگنی جس سے کلمات میں تغیر آ جائے مکروہ ہے لیکن ایسی خوش آوازی سے اذان دینا یا قرآن پڑھنا جس میں تغیر کلمات نہ ہو بہتر اور احسن ہے اور ہر خوش آوازی سے تغیر کلمات ہونا لازمی نہیں ہے
٨. صبح کی اذان میں حَیَّ عَلَی الفَلَاح کے بعد دو دفعہ الصلوk خیر من النوم کہنا مستحب ہے
٩. اذان دیتے وقت اپنی دونوں شہادت کی انگلیاں ( یعنی انگوٹھوں کے پاس والی انگلیاں) اپنے دونوں کانوں کے سوراخ میں رکھ لے یہ مستحب ہے اگر دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لے تب بھی بہتر ہے، اقامت میں ایسا نہ کرے بلکہ دونوں ہاتھ عام حالت کی طرح لٹکے رہیں
١٠. تثویب متاخرین کے نزدیک مغرب کے سوا ہر نماز میں بہتر ہے اور تثویب اس کو کہتے ہیں کہ موذن اذان اور اقامت کے درمیان پھر اعلان کرے، ہر شہر کی تثویب وہاں کے رواج کے مطابق ہوتی ہے جس سے لوگ سمجھ جائیں کہ جماعت تیار ہے مثلاً الصَّلوkُ الصَّلوkُ کہنا، یا قَامَت قَامَت کہنا، یا الصَّلوkُ رَحِمَکمُ اللّٰہ کہنا، یا اس مفہوم کے الفاظ اپنی زبان میں کہنا مثلاً اردو میں کہے" جماعت تیار ہے"وغیرہ، بہتر یہ ہے کو اذان و اقامت کا کوئی کلمہ تثویب میں استعمال نہ کیا جائے اُن کے علاوہ کوئی اور کلمات ہوں
اذان و اقامت کے سُنن و مستحبات و مکروہات
١. اذان و اقامت دونوں کو جہر سے کہے مگر اقامت اذان سے پست کہے، اگر صرف اپنی نماز کے لئے اذان کہے تو آواز کے پست یا بلند کرنے میں اختیار ہے لیکن زیادہ ثواب بلند آواز میں ہے، مسجد سے باہر اونچی جگہ پر اذان دے مسجد کے اندر مکروہِ تنزیہی ہے لیکن ضرورتاً ایک کونہ پر جائز ہے-جمعہ کی دوسری اذان مسجد کے اندر منبر کے سامنے کہنا مکروہ نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کا یہی معمول ہے- موذن کو طاقت سے زیادہ آواز بلند کرنا مکروہ ہے اقامت زمین پر یعنی عام سطح پر اور مسجد میں کہی جائے بلند جگہ پر بھی جائز ہے، اس کے لئے آواز کو زیادہ بلند نہ کرے بلکہ اتنی بلند ہو کہ مسجد کے نمازیوں کو جماعت کھڑی ہونے کا علم ہو جائے، اذان کا دائیں یا بائیں جانب ہونا ضروری نہیں کسی جانب سے بھی کہے لیکن دائیں یا بائیں جس طرف آبادی زیادہ ہو اُسی طرف اذان دینا مناسب ہے، اقامت بھی دائیں یا بائیں جس طرف کہے بلا کراہت درست ہے، جب انفرادی ( اکیلا نمازی) اپنے لئے اذان دے یا جماعت کے لوگ موجود ہوں تو اذان کا بلند جگہ پر ہونا سنت نہیں
٢. اگر اذان دینے کا مینار وسیع ہو اور ایک جگہ کھڑے ہو کر اذان کہنے میں لوگوں کے پوری طرح علم نہ ہو سکے تو بہتر یہ ہے کہ حیعلتین کے وقت داہنی اور بائیں طرف اس طرح چلے کہ منھ اور سینہ قبلہ سے نہ پھرے اور داہنی طرف کے طاق سے سر نکال کر حَیَّ عَلَی الصَّلٰوk دو مرتبہ کہے اور بائیں طرف کے طاق سے سر نکال کر حَیَّ عَلَی الفَلَاح دو مرتبہ کہے، اس صورت کے علاوہ اذان میں چلنا مکروہ ہے
٣. اذان کے کلمات ٹھر ٹھر کر کہے اور اقامت جلدی یعنی رکے بغیر کہے یہ مستحب طریقہ ہے، اگر اذان کو بغیر رکے کہے یا اقامت کو اذان کی طرح ٹھہر ٹھہر کر کہے تو جائز لیکن مکروہ ہے- ایسی اذان کا اعادہ مستحب ہے اور ایسی اقامت کا اعادہ مستحب نہیں، رک رک کر کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر دو کلموں کے درمیان میں کچھ ٹھہرے اور اس کی مقدار یہ ہے کہ اذان کا جواب دینے والا جواب دے سکے، بغیر رکے کا مطلب ملانا اور جلدی کرنا ہے، اَللّٰہُ اَکبَر دو دفعہ کہنے کے بعد رکے ہر دفعہ کے اَللّٰہُ اَکبَر کہنے پر نہ رکے یعنی اَللّٰہُ اَکبَر اَللّٰہُ اَکبَر ایک ساتھ کہے پھر کچھ دیر ٹھہرے پھر اَللّٰہُ اَکبَر اَللّٰہُ اَکبَر ایک ساتھ کہے اور ٹھہرے کیونکہ سکتہ کے لحاظ سے اَللّٰہُ اَکبَر دو دفعہ مل کر ایک کلمہ ہے پھر ہر کلمہ کے اوپر توقف کرتا رہے اذان اور اقامت میں ہر کلمہ پر وقف کا سکون کرتا رہے یعنی دوسرے کلمہ سے حرکت کے ساتھ وصل نہ کرے لیکن اذان میں اصطلاحی وقف کرے یعنی سانس کو توڑ دے اور اقامت میں سکون کی نیت کرے کیونکہ اس میں رک رک کر کہنا نہیں ہے، اذان میں ہر دوسری دفعہ کے اَللّٰہُ اَکبَر یعنی دوسرے چوتھے اور چھٹے اَللّٰہُ اَکبَر کی رے کو جزم کرے اور حرکت نہ دے اور اس کو رفع ( پیش) پڑھنا غلطی ہے اور ہر پہلے اَللّٰہُ اَکبَر کی یعنی پہلے تیسرے اور پانچویں کی رے اور اقامت کے اندر ہر اَللّٰہُ اَکبَر کی" ر" کو بھی سکون یعنی جزم کرے اور اگر وصل کرے تو وقف کی نیت کے ساتھ " ر" کی زبر سے وصل کرنا سنت ہے، ضمہ ( پیش) سے وصل کرنا خلافِ سنت ہے، اَللّٰہُ اَکبَر کے لفظ اَللّٰہُ کے الف ( ہمزہ) کو مد کرنا کفر ہے- جبکہ معنی جانتے ہوئے قصداً کہے اور بلا قصد کہنا کفر تو نہیں لیکن بڑی غلطی ہے- اور اَکبَر کے ب کو مدّ کرنا بہت بڑی غلطی ہے

the terms of Azaan And iqaamah, Part-3

Posted by Unknown on 18:47 with No comments
اذان و اقامت کے شرائطِ صحت و کمال
١. اذان اور اقامت کا عربی زبان میں خاص انہی الفاظ سے ہونا جو نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے منقول ہیں، کسی اور زبان میں یا منقولہ الفاظ کے سوا اور الفاظ سے اذان یا اقامت صحیح نہ ہو گی، دوبارہ مسنون الفاظ سے کہی جائے
٢. فرض ادا نماز کی اذان کے لئے اس نماز کا وقت ہونا، وقت سے پہلے اذان دی تو درست نہیں ہے وقت آنے پر دوبارہ کہی جائے
٣. موذن کا مسلمان ہونا، کافر کی اذان صحیح نہ ہو گی اس لئے دوبارہ کہی جائے
٤. موذن کا مرد ہونا عورت کی اذان درست نہیں دوبارہ کہی جائے
٥. موذن کا صاحبِ عقل ہونا، اگر ناسمجھ بچہ یا مجنون یا مست اذان دے تو دوبارہ کہی جائے

Sunnah method of saying Azaan, part-2

Posted by Unknown on 18:44 with No comments
اذان و اقامت کہنے کا مسنون طریقہ
اذان دینے والا آدمی دونوں حدثوں سے پاک ہو کر مسجد سے علیحدہ کسی اونچی جگہ قبلہ رخ کھڑا ہو جائے اور اپنے دونوں کانوں کے سوراخوں کو شہادت کی دونوں انگلیوں سے بند کر کے اپنی طاقت کے مطابق بلند آواز سے اذان دے، لیکن اس قدر نہیں کہ جس سے اس کو تکلیف ہو پہلی آواز میں دو دفعہ
اَللّٰہُ اَکبَر
کہے پھر دوسری آواز میں دو دفعہ
اَللّٰہُ اَکبَر
کہے یعنی دو آوازوں میں چار مرتبہ اَللّٰہُ اَکبَر کہے پھر
اَشھَدُ اَن لّٰا اِ لٰہ اِلَّا اللّٰہُ
دو مرتبہ دو آوازوں میں، پھر
اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً ا رَّسُولُ اللّٰہ
دو مرتبہ دو آوازوں میں کہے، پھر
حَیَّ عَلَی الصَّلٰوةِ ط
دو مرتبہ دو آوازوں میں کہے اور ہر مرتبہ داہنی طرف منھ پھیرے، پھر
حَیَّ عَلَی الفَلَاح ط دو مرتبہ دو آوازوں میں کہے اور ہر مرتبہ بائیں طرف منھ پھیرے، دائیں یا بائیں جانب منھ پھیرنے میں سینہ اور قدم قبلہ سے نہ پھرنے پائیں،
اَللّٰہُ اَکبَر
دو مرتبہ ایک آواز میں کہے،
لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
ایک مرتبہ کہے، فجر کی اذان میں حَیَّ عَلَی الفَلَاحِ کے بعد
الصلوةُ خَیرُ مَّنَ اَّلنومِ
دو مرتبہ کہے اور اس میں منھ نہ پھیرے
اقامت کا سنت طریقہ بھی وہی ہے جو اذان کا ہے لیکن چند باتوں میں فرق ہے
١. اذان مسجد کے باہر بلند جگہ پر کہی جاتی ہے اور اقامت مسجد کے اندر عام سطح زمین پر، اگرچہ اونچی جگہ پر بھی جائز ہے
٢. اذان بلند آواز سے کہی جاتی ہے اور اقامت پست آواز سے
٣. اذان ٹھر ٹھر کر کہی جاتی ہے اور اقامت جلدی جلدی
٤. اقامت میں حَیَّ عَلَی الفَلَاح کے بعد قد قامت الصلوة دو مرتبہ زائد ہے اور فجر کی اذان میں جوالصلوة خیر من النوم کہا جاتا ہے وہ اقامت میں نہیں کہا جاتا
٥. اقامت کہتے وقت کانوں کے سراخ بند نہیں کئے جاتے
٦. اقامت میں حَیَّ عَلَی الصَّلٰوk اور حَیَّ عَلَی الفَلَاح کہتے وقت دائیں بائیں جانب منھ نہیں پھیرا جاتا اگرچہ بعض کے نزدیک یہ بھی اذان کی طرح مستحب ہے

Azaan part-1

Posted by Unknown on 18:29 with No comments
اذان اور اقامت کا بیان
چونکہ وقت، نماز کے لئے ظاہری سبب ہے اور اذان وقت کے شروع ہونے کا اعلان ہے، اس لئے اوقاتِ نماز کے بعد اذان اور اقامت کا بیان کیا جاتا ہے

اذان
لغت میں اذان کے معنی خبر دینا ہے اور شریعت میں خاص نمازوں کے لئے خاص الفاظ سے خاص طریقہ پر نماز کی خبر دینے کو اذان کہتے ہیں

اذان کے کلمات
اَللّٰہُ اَکبَر اَللّٰہُ اَکبَر ط
اَللّٰہُ اَکبَر اَللّٰہُ اَکبَر ط
اَشھَدُ اَن لّٰا اِ لٰہ اِلَّا اللّٰہُ ط
اَشھَدُ اَن لّٰا اِ لٰہ اِلَّا اللّٰہُ ط
اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً ا رَّسُولُ اللّٰہ ط
اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً ارَّسُولُ اللّٰہ ط
حَیَّ عَلَی الصَّلٰوةِ ط
حَیَّ عَلَی الصَّلٰوةِ ط
حَیَّ عَلَی الفَلَاحِ ط
حَیَّ عَلَی الفَلَاحِ ط
اَللّٰہُ اَکبَر اَللّٰہُ اَکبَر ط
لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ط
صبح کی اذان میں دو کلمے زیادہ ہیں یعنی
حَیَّ عَلَی الفَلَاح کے بعد
اَلصَّلٰوہُ خَیرُُ مَّنَ الَّنَومِ
دو مرتبہ زیادہ کہے اس طرح اس میں ١٧ کلمہ ہو جائیں گے

تکبیر و اقامت
جب نماز کے لئے کھڑے ہونے لگتے ہیں تو نماز شروع ہونے سے پہلے ایک شخص تکبیر اقامت کہتا ہے، جو شخص اذان کہتا ہے اسے موذن کہتے ہیں اور جو شخص تکبیر اقامت کہتا ہے اسے مکبر کہتے ہیں

تکبیر و اقامت کے کلمات
تکبیر اقامت کے سترہ کلمے ہیں یعنی فجر کی اذان کے علاوہ باقی اذانوں میں جو پندرہ کلمے ہیں وہی تکبیر اقامت میں بھی کہے جاتے ہیں لیکن حَیَّ عَلَی الفَلَاحِ کے بعد دو کلمے زیادہ کرتے ہیں یعنی
قَد قَاَمَتِ الصَّلٰوةُ ط
دومرتبہ کہتے ہیں