Showing posts with label Articles. Show all posts
Showing posts with label Articles. Show all posts

Thursday, 1 August 2013


ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭولتا

ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
"ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﮮ ﺟﮕﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﺯﻕ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﺩﯾﺪﯼ ﮨﮯ -"

ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﺷﺮﯾﻒ ﭘﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ


ﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﭽﮯ ﺭﺏ ﮐﺎ ﻧﻮﮮ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﭘﺮ ﮐﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﻋﺪﮮ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺷﮏ ﮐﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﯽ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﮐﮩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﭻ ﺟﺎﻧﺎ۔


ﺍﺑﻦ ﻗﯿﻢ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ۔ ۔

"ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﭘﺮﺩﮮ ﮨﭩﺎ ﮐﺮ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﺩﮐﮭﺎ ﺩﮮ ﮐﮩ ﻮﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﺳﺪﮬﺎﺭﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﯿﺴﯽ ﮐﯿﺴﯽ ﺗﺪﺑﯿﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﻣﺼﻠﺤﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﯿﺴﯽ ﮐﯿﺴﯽ ﺣﻔﺎﻇﺘﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﻔﯿﻖ ﮨﮯ ﺗﺐ ﮐﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺳﺮﺷﺎﺭ ﮨﻮﮔﺎ۔

ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﮔﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻏﻤﻮﮞ ﻧﮯ تمھیں ﺗﮭﮑﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻢ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ، ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﮨﺎﮞ ﮨﻮ "-

ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺭﮐﮭﺌﯿﮯ ﺳﺮ ﮐﻮ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺠﺌﯿﮯ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﯿﮯ ﺳﺐ ﻏﻤﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺼﯿﺒﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻼﺗﺎ۔

Sign Of Patient...صبر کی علامت

Posted by Unknown on 01:11 with No comments

صبر کی علامت

اس نے کہیں پڑھا تھا مایوسی اور پریشانی میں آسمان کی وسعت کو دیکھو تو دل اس کے حوصلےکو دیکھ کر پریشان ہونا چھوڑ دیتا ہے۔
وہ بھی تو صبر کی علامت ہے۔
ازل سے یونہی کھڑا ہے۔۔۔
خاموش۔۔۔۔
چپ چاپ۔۔۔۔
کتنا صابر' کتنا پر سکون''
وہ پکار پکار کر کہتا ہے:
اے انسان! تم کیوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر دل چھوڑ بیٹھتے ہو؛ میری وسعت کو دیکھو میرا حوصلہ دیکھو۔۔۔
تمہارے لیے صدیوں سے یونہی کھڑا ہوں' مگر ہمت نہیں ہارتا۔۔۔
کیا کیا دیکھتا ہوں۔۔۔۔
سہتا ہوں۔۔۔۔
مگر دل نہیں چھوڑتا۔۔۔
خالق نے مجھے تمہاری خدمت کے لیے تخلیق کیا ہے۔۔۔
اور تمہارے لیے تو ساری کائنات ہے۔۔۔
ایک ایک ذرہ تمہارےعمل میں ہے۔۔۔۔
اور تم اتنی جلدی کیوں ٹوٹ جاتے ہو۔
لمحے میں جل کر ریت کے حقیر ذروں کی مانند بے وقعت اڑتے پھرتے ہو۔۔۔
تم سمجھتے کیوں نہیں۔۔۔
تم اتنے بے وقعت۔۔۔
حقیر۔۔۔
اور کم ذات تو نہیں'
پھر یہ سب کیوں۔۔؟

Sunday, 21 July 2013

Its Fate

Posted by Unknown on 04:34 with No comments
نصیب کی بات ہے


انسان چالیس کے لگ بھگ پہنچ کرmidlife کے (crisis) اور اس سے جنم لینی والی تبدیلیوں کا شکار ہو جاتا ہے – اس عمر کو پختگی کی عمر کہہ لیجئے – لیکن یہی عمر ہے جب عام آدمی بڑی بڑی غلطیاں کرتا ہے . . . اور عمل میں نا پختگی کا ثبوت دیتا ہے . . .
تبدیلی کو خاموشی سے قبول نہ کرنے کی وجہ سے کئی بار انسان کا (image) سوسائٹی میں بلکل برباد ہو جاتا ہے . . .
پے در پے شادیاں ، معاشقے. . . ، معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے درب
در کی ٹھوکریں. . . ، ماں باپ سے ہیجانی تصادم. . . ، اولاد سے بے توازن رابطہ. . . غرضیکہ اس عہد کی تبدیلی میں زلزلے کی سی کیفیت ہوتی ہے . . .
آخری تبدیلی عموماً بڑھاپے کے ساتھ آتی ہے . . . جب نہ اشیاء سے لگاؤ رہتا ہے. . . نہ انسانی رشتے ہی با معنی رہتے ہیں. . . اب اطمینان قلب صرف ذکر الٰہی سے حاصل ہوتا ہے . . . لیکن یہ بھی نصیب کی بات ہے  . . . . . .

از "بانو قدسیہ"

Favor of Islam On Women

Posted by Unknown on 04:30 with No comments
دینِ اسلام کے خواتین پر احسانات۔۔۔۔۔“

آغاز کرتی ہوں پاک پروردگار کی ذات سے۔۔۔ جس نے ہمارے لیے دین اسلام کو پسندیدہ قرار دیا۔۔۔۔وہ دین اسلام جس کا بنی نوع انسان پر بالعموم اور خواتین پر بالخصوص بڑے احسانات ہیں۔۔۔۔یہ وہ دین ہے جوخاص طور پر بہن۔۔۔،بیوی۔۔۔،بیٹی۔۔۔ اور ماں ۔۔۔کے لیے خصوصی پیکجز کے ساتھ آیا۔۔۔اس دین سے پہلے بیوی کو جو باندی تھی وفا بنا دیا۔۔۔،بہن کو جو بوجھ تھی عزت بنا دیا۔۔۔،بیٹی جو زحمت سمجھی جاتی تھی رحمت بنا دیا۔۔۔،ماں محض نام نہاد غیرت تھی۔۔۔ قدموں تلے جنت رکھ دی۔۔۔۔ اللہ تعالی کی مخلوقات میں غالبا عورت دین اسلام کی سب سے زیادہ احسان مند ہے۔

بانو قدسیہ

Saturday, 20 July 2013

اللہ کی آواز سننے کی پریکٹس
 
ہمارے بابا سائیں نور والے فرماتے ہیں کہ اللہ کی آواز سننے کی پریکٹس کرنی چاہئے، جو شخض اللہ کی آواز کے ساتھ اپنا دل ملا لیتا ہے، اسے کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں رہتی۔ کسی نے بابا جی سے پوچھا کہ ”اللہ کی آواز کے ساتھ اپنا دل ملانا بھلا کیسے ممکن ہے؟“ تو جواب ملا کہ ”انار کلی بازار جاؤ، جس وقت وہاں خوب رش ہو اس وقت جیب سے ایک روپے کا بڑا سکہ (جسے اس زمانے میں ٹھیپہ کہا جاتا تھا) نکالو اور اسے ہوا میں اچھال کر زمین پر گراؤ۔ جونہی سکہ زمین پر گرے گا، تم دیکھنا کہ اس کی چھن کی آواز سے پاس سے گزرنے والے تمام لوگ متوجہ ہوں گے اور پلٹ کر زمین کی طرف دیکھیں گے، کیوں؟ اس لئے کہ ان سب کے دل اس سکے کی چھن کی آواز کے ساتھ ”ٹیون اپ“ ہوئے ہیں۔ لہٰذا اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ یا تو تم بھی اپنا دل اس سکے کی آواز کے ساتھ ”ٹیون اپ“ کر لو یا پھر اپنے خدا کی آواز کے ساتھ ملا لو“
بابا جی کا بیان ختم ہوا تو نوجوانوں کے گروہ نے ان کو گھیر لیا اور سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ کسی نے پوچھا ” سر! ہمیں سمجھائیں کہ ہم کیسے اپنا دل خدا کے ساتھ ”ٹیون اپ“ کریں کیونکہ ہمیں یہ کام نہیں آتا؟“ اشفاق صاحب نے اس بات کا بھی بے حد خوبصورت جواب دیا، فرمانے لگے”یار ایک بات تو بتاؤ، تم سب جوان لوگ ہو، جب تمہیں کوئی لڑکی پسند آ جائے تو تم کیا کرتے ہو؟ کیا اس وقت تم کسی سے پوچھتے ہو کہ تمہیں کیا کرنا چاہئے؟ نہیں، اس وقت تمہیں سارے آئیڈیاز خود ہی سوجھتے ہیں، ان سب باتوں کے لئے تمہیں کسی گائڈینس کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ اس میں تمہاری اپنی مرضی شامل ہوتی ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ جب خدا کی بات آتی ہے تو تمہیں وہاں رہنمائی بھی چاہئے اور تمہیں یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ خدا کے ساتھ اپنے آپ کو” ٹیون اپ “کیسے کرنا ہے؟
اشفاق احمد

Wednesday, 17 July 2013

Dedication To Success

Posted by Unknown on 03:55 with No comments
کامیابی کی لگن

اپنی شخصیت کو بہتر بنانے کے لئے اس میں جینے کی امنگ اور کامیابی کی لگن پیدا کرنا ضروری ہے۔ جس شخص میں اس کا فقدان ہو وہ کوئی بڑا کارنامہ تو کیا، چھوٹا سا کام بھی انجام نہیں دے سکتا۔ خود میں کامیابی کی امنگ پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس بات پر غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دنیا میں کیوں بھیجا ہے۔ میرے سامنے کیا چیلنج درپیش ہے جس سے عہدہ برا ہونا میرے لئے ضروری ہے۔ اس کے بعد اپنے سامنے چھوٹے چھوٹے چیلنج رکھئے اور اپنی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر خوش ہونا سیکھئے۔
بعض لوگوں کی ناکامیاں ان میں کامیابی کی لگن کو ختم کردیتی ہیں۔ ناکامی ہوتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کامیابی و ناکامی دونوں ہی اس زندگی کے اہم پہلو ہیں۔ اگر آج میں کسی مقصد کے حصول میں ناکام رہا ہوں تو ضروری نہیں کہ کل بھی ایسا ہی ہو۔ ناکامی کا ایک روشن پہلو یہ ہوتا ہے کہ انسان کو اس میں اپنی خامیوں کے تجزیے کا موقع مل جاتا ہے۔ کامیابی کے بارے میں اپنی توقعات کو بھی بہت زیادہ غیر حقیقی نہ بنائیے ورنہ کامیابی بھی ناکامی ہی محسوس ہوگی۔ کامیابی کی لگن اچھی چیز ہے لیکن اگر اس میں انتہا پسندی آجائے تو انسان بہت زیادہ جذباتی ہو جاتا ہے اور ناکام ہونے پر وہ بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے۔

Friday, 12 July 2013

Malak-ul-Maut.... Hazrat Izraeel A.S

Posted by Unknown on 04:27 with No comments
اللہ تعالیٰ نے ملک الموت سے پوچھا ۔ تجھکو کس بندے کی روح قبض کرتے وقت کبھی رحم بھی آیا یا نہیں ؟ملک الموت نے عرض کیا۔ اللہ رب الغزت ! مجھکو دو ذی روحوں کی جان نکالنے میں کمال رقت ہوئی تھی ، اگر تیرا حکم نہ ہوتا تو میں ہرگز ہرگز ان کی جان نہ نکالتا۔ ارشاد ہوا: بتاؤ‘ وہ دو لوگ کون تھے؟
عرض کیا :ایک تو وہ بچہ تھا جو نیا پیدا تھا اور اپنی ماں کے ساتھ جہاز کے ٹوٹے ہوئے تختے پر بے سروسامانی کی حالت میں بحر بیکراں میں تیراتا جا رہا تھا۔ اس وقت اس بچے کا واحد سہارا تمام کائنات میں اس کی ماں تھی تو مجھے حکم ہوا کہ اسکی ماں کی روح قبض کرلے۔ اس وقت مجھے اس بچے پر بے حد بے حد رحم آیا تھا کیونکہ اس بچے کا اس کا ماں کے سوا کوئی دوسرا خبر گیر نہ تھا اور بھوکا پیاسا بچہ اپنی ماں کے دودھ کے لئے ترس رہاتھا۔
اور باری تعالیٰ ! دوسرا یک بادشاہ تھا جس نے ایک شہر کمال آرزو سے ایسا بنوایا تھاکہ ویسا شہر دنیا میں کہیں نہیںتھا، جب وہ شہر تیار ہو گیا اور بادشاہ اپنے شہر کو دیکھنے پہنچا تو جس وقت ایک قدم اس کا شہر کے دروازے میں تھا تو مجھے حکم ہوا اور اس کی جان قبض کر لے اس وقت بھی مجھے بہت رونا آیا تھا کہ وہ بادشاہ کیاکچھ حسرتیں اپنے دل میں لے گیا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:عزرائیل ! تمہیں ایک ہی شخص پر دوبار رحم آیا ہے! کیونکہ یہ بادشاہ وہی بچہ شداد  تھا جس کو ہم نے بغیر ماں باپ کے بنا کسی سہارے کے سمندر کی تیز وتند لہروں اور طوفانوں میں بھی محفوظ رکھا اور اس کو حشمت وثروت کی بلندیوں پر پہنچایا اور جب یہ اس مرتبے کو پہنچا تو ہماری تابعداری سے منہ موڑا اور تکبر کرنے لگا اور آخرکار اپنی سزا کو پہنچا۔

What Was In The Purse?

Posted by Unknown on 04:24 with No comments
پرس میں کیا تھا ؟؟
ایک گرلز کالج میں سرکاری تفتیش آئی اور کالج کے سارے کلاسیز میں گھوم گھوم کر لڑکیوں کے بیگ کی تلاشی کرنے لگی ،ایک ایک لڑکی کے بیگ کی تفتیش کی گئی ،کسی بھی پرس میں کتابیں ،کاپیاں اورلازمی اوراق کے علاوہ کوئی ممنوع شے پائی نہیں گئی ، البتہ ایک آخری کلاس باقی رہ گیا تھا ، اوریہی جائے حادثہ تھا ،حادثہ کیاتھا ،اورکیاپیش آیا؟!تفتیشی کمیٹی ہال میں داخل ہوئی اور ساری لڑکیوں سے گذارش کی کہ تفتیش کے لیے اپنا اپنا پرس کھول کر سامنے رکھیں ،ہال کے ایک کنارے ایک طالبہ بیٹھی تھی ،اس کی پریشانی بڑھ گئی تھی ،وہ تفتیشی کمیٹی پردزدیدہ نگاہ ڈال رہی تھی اور شرم سے پانی پانی ہورہی تھی ۔اس نے اپنے پرس پرہاتھ رکھا ہوا تھا !!تفتیش شروع ہوچکی ہے ،اس کی باری آنے ہی والی ہے ،لڑکی کی پریشانی بڑھتی جارہی ہے …. چندمنٹوں میں لڑکی کے پرس کے پاس تفتیشی کمیٹی پہنچ چکی ہے ،لڑکی نے پرس کو زورسے پکڑ لیاگویا وہ خاموش زبان سے کہنا چاہتی ہوکہ آپ لوگ اسے ہرگزنہیں کھول سکتے ، اسے کہاجارہا ہے ،پرس کھولو! تفتیش کی طرف دیکھ رہی ہے اور زبان بند ہے ،پرس کو سینے سے چپکا لی ہوئی ہے ، تفتیش نے پھرکہا : پرس ہمارے حوالے کرو،لڑکی زور سے چلاکر بولتی ہے : نہیں میں نہیں دے سکتی ۔ پوری تفتیشی کمیٹی اس لڑکی کے پاس جمع ہوگئی ،سخت بحث ومباحثہ شروع ہوگیا ۔ ہال کی ساری طالبات پریشان ہیں ،آخر رازکیا ہے ؟حقیقت کیا ہے ؟ بالآخر لڑکی سے اس کا پرس چھین لیا گیا،ساری لڑکیاں خاموش ….لکچر بند …. ہر طرف سناٹا چھا چکا ہے۔پتہ نہیں کیا ہوگا …. پرس میں کیاچیز ہے ؟تفتیشی کمیٹی طالبہ کا پرس لیے کالج کے آفس میں گئی ،طالبہ آفس میںآئی ،ادھراس کی آنکھوں سے آنسوو ں کی بارش ہورہی تھی ،سب کی طرف غصہ سے دیکھ رہی تھی کہ بھرے مجمع کے سامنے اسے رسوا کیا گیا تھا ، اسے بٹھایا گیا، کالج کی ڈائرکٹر نے اپنے سامنے پرس کھلوایا، طالبہ نے پرس کھولا ،یااللہ ! کیاتھا پرس میں ….؟ آپ کیا گمان کرسکتے ہیں ….؟پرس میں کوئی ممنوع شے نہ تھی ،نہ فحش تصویریں تھیں ، واللہ ایسی کوئی چیز نہ تھی …. اس میں روٹی کے چند ٹکڑ ے تھے ، اور استعمال شدہ سنڈویچ کے باقی حصے تھے ، بس یہی تھے اورکچھ نہیں ۔ جب اس سلسلے میں اس سے بات کی گئی تو اس نے کہا : ساری طالبات جب ناشتہ کرلیتی ہیں تو ٹوٹے پھوٹے روٹی کے ٹکڑے جمع کرلیتی ہوں جس میں سے کچھ کھاتی ہوں اور کچھ اپنے اہل خانہ کے لیے لے کر جاتی ہوں۔ جی ہاں! اپنی ماں اور بہنوں کے لیے ….تاکہ انہیں دوپہر اور رات کا کھانا میسر ہو سکے ۔ ہم تنگ دست ہیں ،ہماری کوئی کفالت کرنے والا نہیں، ہماری کوئی خبر بھی نہیں لیتا ۔ اور پرس کھولنے سے انکار کرنے کی وجہ صرف یہی تھی کہ مبادا میری کلاس کی سہیلیاں میری حالت کو جان جائیں اور مجھے شرمندگی اٹھانی پڑے ۔ میری طرف سے بے ادبی ہوئی ہے تواس کے لیے میں آپ سب سے معافی کی خواستگار ہوں۔یہ دلدوز منظر کیاتھا کہ سب کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں ،اللہ پاک ہر شخص کو ایسی مجبوری سے بچائے ،اور ایسے بُرے دن کسی کو نہ دیکھنے پڑیں ۔بھائیو اور بہنو! یہ منظر ان مختلف المناک مناظر میں سے ایک ہے، جو ممکن ہے ہمارے پڑوس میں ہو اور ہم اسے نہ جانتے ہوں،یا بسا اوقات ایسے لوگوں سے نظریں اوجھل کئے ہوئے ہوں ۔
 
کائنات کا کوئی ایسا غم نہیں جو انسان برداشت نہ کر سکے

اللہ کا بڑا کرم ہے کہ اس نے ہمیں بھولنے کی صفت دی ہے ورنہ ایک غم ہمیشہ کیلئے غم بن جاتا۔
ایک انسان کا غم ضروری نہیں کہ دوسرے کا بھی غم ہو
۔بلکہ اس کہ برعکس ایک کا غم دوسرے کی خوشی بن سکتا ہے۔
غم خو شی بن کر زندگی میں داخل ہوتا ہے او ر خوشی غم بن کر زندگی سے نکل جاتی ہے
اور پھرمحروم زندگی آشنائے لذت و کیف کرا دی جاتی ہے۔
انسان اس زندگی میں نہ کچھ کھوتا ہے نہ پاتا ہے
۔وہ تو صرف آتا اور جاتا ہے۔کیا حاصل اور کیا محرومی۔کسی کا چہرہ کسی کی زندگی میں خوشی پیدا کر جاتا ہے اور کسی کو غم دے جاتا ہے ۔یہ سب قدرت کے کھیل ہیں۔
بہتر انسان وہی ہے جو دوسروں کے غم میں شامل ہو کر اسے کم کرے
اور دوسروں کی خوشی میں شریک ہو کر ان میں اضافہ کرے۔
کسی انسان کے غم کا اندازہ اس کے ظر ف سے لگایا جا تا ہے
۔کم ظرف آدمی دوسروں کو خو ش دیکھ کر ہی غم زدہ ہو جاتا ہے
۔وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ لوگ خو ش رہیں۔وہ ان کی خوشیوں کو برباد کرنے پر تل جاتا ہے
۔اس کی خو شی یہ ہے کہ لوگ خوشی سے محروم ہو جائیں۔
وہ اپنے لئے جنت کو وقف سمجھتا ہے
اور دو سروں کو دوزخ سے ڈراتا ہے۔ایک بخیل انسان نہ خوش رہ سکتا ہے نہ خوش کر سکتا ہے۔

Thursday, 11 July 2013

Busy Parental and Children

Posted by Unknown on 01:47 with No comments
والدین کی مصروفیت اور بچے

ایک پرائمری اسکول ٹیچر نے کلاس کے بچوں کو کلاس ورک دیا کہ وہ ایک مضمون لکھیں کہ وہ (بچے) کیا چاہتے ہیں کہ ان کا خدا ان کے لیے کرے۔

سب بچوں نے مضمون لکھا وہ تمام بچوں کے مضامین اپنے گھر پر چیک کرنے لگی اس دوران ایک مضمون نے اس کو آبدیدہ کردیا اور بے اختیاری میں اس کے آنسو نکل آئے

اس کا شوہر اس کے قریب ہی بیٹھا تھا اس کے آنسو دیکھ کر پوچھنے لگا کہ کیا ہوا؟
ٹیچر بولی یہ مضمون پڑھیے یہ ایک بچے نے مضمون لکھا ہے

شوہر نے مضمون لیکر پڑھنا شروع کیا اس میں لکھا تھا “اے خدا آج میں آپ سے بہت خاص مانگتا ہوں اور وہ یہ کہ مجھے ٹیلی ویژن بنادے میں ٹی وی کی جگہ لینا چاہتا ہوں، ایسے ہی جینا چاہتا ہوں کہ جیسے میرے گھر میں موجود ٹی وی جی رہا ہے میں ٹی وی کی جگہ لیکر بہت خاص بن جاؤں گا میرے ماں باپ، میرے بہن بھائی سب میرے ہی گرد بیٹھے رہیں گے۔ جب میں ٹی وی کی طرح بول رہا ہونگا تو سب میری باتیں بڑی توجہ سے سن رہے ہونگے۔ میں تمام گھر والوں کی توجہ کا مرکز بنا رہوں گا اور بغیر رکے سب مجھے ہی دیکھتے سنتے رہیں گے کوئی مجھ سے سوال جواب نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی مجھے ڈانٹ ڈپٹ، مار پیٹ کرے گا۔ میں ایسی ہی خاص احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جاؤں گا جیسے ٹی وی کو استعمال کرتے ہوئے احتیاط کی جاتی ہے جیسے جب ٹی وی خراب ہوجائے اس کا جتنا خیال کیا جاتا ہے اتنا ہی میرا خیال رکھا جائے گا میری زرا سی خرابی سب کو پریشان کردے گی۔

میں اپنے ابو کی توجہ کا بھی ایسے ہی مرکز بن جاؤں گا جیسے میرے ابو ٹی وی کو دیتے ہیں کہ آفس سے آتے ہی ٹی وی کی طرف متوجہ رہتے ہیں چاہے ابو کتنے ہی تھکے ہوئے ہوں اسی طرح میں چاہتا ہوں کہ میری امی بھی میری طرف ایسے ہی متوجہ رہیں جیسے وہ ٹی وی کی طرف متوجہ رہتی ہیں چاہے وہ کتنی ہی پریشان اور غصے میں ہوں۔ چنانچہ بجائے مجھے نظر انداز کرنے کے وہ میری طرف متوجہ رہیں گی۔

اور میرے بھائی بہن بھی جو مجھ سے لڑتے اور جھگڑتے رہتے ہیں میرے ٹی وی بن جانے کے بعد میرے اردگرد پھریں گے میرے لیے امی ابو کی منتیں کریں گے اس طرح سب کے سب میری طرف متوجہ رہیں گے اور آخر میں سب سے بڑھ کر یہ کہ سب میری وجہ سے پریشان رہتے ہیں اور غصہ کرتے ہیں تو میرے ٹی وی بن جانے کے بعد میں ان سب کو ایسے ہی خوش و خرم رکھ سکوں گا جس طرح ٹی وی رکھتا ہے۔

اے خدا میں نے تجھ سے زیادہ نہیں مانگا بس یہ مانگا ہے کہ مجھے ٹی وی بنادے مجھے اس کی جگہ دے دے۔

ٹیچر کے شوہر نے افسوسناک انداز سے بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا “ اے خدایا کتنا مایوس بچہ ہے۔ بے چارے کے ساتھ کتنا برا ہوتا ہے اس کے گھر میں اس کے والدین اور بہن بھائیوں کی طرف سے۔    

ٹیچر نے نظریں اٹھا کر اپنے شوہر کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ مضمون “ہمارے اپنے بچے“ کا لکھا ہوا ہے
یہ کہانی تو یہاں ختم ہو گئی لیکن یہ صرف کہانی نہی تھی یہ ہم سب کا معاملہ ہے. ہم اپنے والدین، بہن بھائیوں اور بچوں سے بہت دور ہوتے جا رہے ہیں. اب تو ٹی وی کے بعد موبائل اور کمپیوٹر پر ہمارا زیادہ وقت گزرتا ہے. کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم ایک منٹ کے لیے رک جائیں اور اپنی روٹین کو دیکھیں کہ ہم کس کس کو مناسب وقت نہی دے پا رہے اور اپنی روٹین کو درست کریں. مشینوں سے نکل کر انسانوں میں وقت گزاریں.

Ajmal's Story

Posted by Unknown on 01:14 with No comments
اجمل کی کہانی
’’نہیں بھائی آج آٹا نہیں ملے گا پہلے کا ادھار چہتا کرو ‘‘ یہ دوکاندار کے الفاظ تھے جو اجمل کے زہن میں گھوم رہے تھے جبکہ اس کا چار سال کا بیٹا بلک بلک کے رو رہا تھا ، اجمل کی بیوی تو نوکری چھوٹنے کے دوسرے دن ہی اسے چھوڑ کے چا چکی تھی ، اس کی بڑی بیٹی ثانیہ کو فوت ہوئے آج ایک سال ہو چکا تھا ۔۔ یہی وجہ تھی حد سے زیادہ ہی اداس تھا اور گہری سوچوں میں گُم تھا، آنسوں اس کی داڑھی میں گر کر موتیوں کا سماں باندھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اجمل آج سے 6 مہینے پہلے فیصلہ آباد کی ایک فیکٹری میں کام کر رہا تھا اس کی دو بیٹیاں تھی اور ایک بیٹا تھا جو چار سال کا تھا ، بڑی بیٹی آٹھویں میں تھی جبکہ چھوٹی بیٹی چھٹی میں پڑھتی تھی ، اجمل کی بیوی ایک مقامی دیہات سے ہی تھی ۔۔ ایک سال پہلے اس کی بڑی بیٹی کو اچانک بخار ہوا ، ڈاکٹروں نے بتایا ڈینگی ہے اسے لاھور لے جاؤ ، اجمل وہاں لے گیا ڈاکٹروں نے کہا بھئی 50 ہزار لگے گا ، اجمل نے اپنی بیوی کے کچھ زیورات تھے وہ بیچ ڈالے اور بیٹی کے علاج کے لیے پیسہ دے دیا ، ابھی ہسپتال میں ہی تھی کی ڈاکٹروں نے 50 ہزار اور مانگ لیے اجمل نے اپنی فیکٹری سے رابطہ کیا لیکن سیٹھ نے دینے سے انکار کر دیا ، باقی رشتہ داروں سے قرض لیا،سامان بیچا اور بمشکل 12 ہزار اکٹھے کیے ، لیکن ڈاکٹروں نے اس کی بیٹی کی لاش تھما کر بولے کہ وائیٹ سیل ختم ہو گئے ہیںٍ ، اجمل نے 12 ہزار کی تجہیز و تکفین کر دی ، اس کے بعد وقت گزرتا گیا ، اجمل کی بیوی بھی ایک فیکٹری میں کام کرتی تھی لیکن مہنگائی کی وجہ سے خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا پھر ایک دن گیس شٹ ڈاؤن اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے سیٹھ نے 500 مزدور فوری فارغ کر دیئے اجمل بھی انہی میں تھا ، اجمل بیروزگار ہو کہ گھر پہ آ گیا ، دو مہنیے اس کہ بیوی بیمار رہی ، اجمل اس کا علاج نہیں کروا سکا بس دیسی ٹوٹکے اور اسپرین دیتا رہا، اس کا سسر ایک دن دیکھنے آیا بیٹی کی حالت برداشت نہ کر سکا جب دیکھا کہ بیٹی کے گھر بھوک کے لالے پڑے ہیں تو اجمل کو خوب لعن طعن کی اور بیٹی کو ساتھ لے گیا ، اجمل کیا کرتا وہ روزانہ صبح مزدوری تلاش کرنے کے لیے نکل جاتا دن بھر ذلیل ہوتا اور دھکے کھاتا ،کبھی کام مل جاتا کبھی خود بھی بھوکا سو جاتا اور بچے بھی رو دھو کے چپ ہو جاتے ، اجمل نے گھر کا سارا سامان بھی بیچ ڈالا تھا ، آج اس کے گھر میں کوئی چیز نہیں تھی جو کہ وہ بیچ کے کچھ آٹا خرید کے اپنے بچوں کے لیے لاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے گھر میں ہر شام ہی شام غریباں تھی ۔۔۔۔۔۔۔

کافی دیر یوں ہی گزر گئی ، پھر اچانک اجمل اپنی گہری سوچوں سے واپس آیا اس کی 8 سال کی بیٹی رباب سو چکی تھی جبکہ اس کا 4 سالہ بیٹا بھی روتے ہوئے نیند کی وادی میں جا چکا تھا ۔۔۔۔ اجمل نے اپنے بچوں کو پیار سے دیکھا اور گھر سے باہر نکلتے ہی اندھیرے میں غائب ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوچئیے نجانے کتنے اجمل آج ایسی صورتحال سے دوچار ہیں کہ ان کے بچوں کو بھوکا سونا پڑتا ہے ، نجانے کتنے بیروزگار اب تک خودکشیاں کر چکے اور دوسری طرف ہمارے امراء جن کی اولاد منہ میں سونے کا چمچے لے کے پیدا ہوتی ہے اور جن کے کتوں کے لیے بھی باہر سے ڈاگ فوڈ امپورٹ کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔

Wednesday, 10 July 2013

Hazrat Laal Shahbaz Qalander

Posted by Unknown on 06:24 with No comments
حضرت لعل شہباز قلندر

ﺁﺫﺭ ﺑﺎﺋﯿﺠﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﺮﻧﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺳﻨﺎﭨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﮑﯽ ﮐﺎ ﺭﺍﺝ ﺗﮭﺎ - ﻟﻮﮒ ﺗﮭﮑﮯ ﮨﺎﺭﮮ ﺟﺴﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺴﺘﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻣﺤﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﮯ - ﺳﯿﺪ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﮐﺒﯿﺮ ﻭﺭﺩ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﻏﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﺩﺭﺍﺯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ - ﺍﮐﺜﺮ ﯾﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻓﻘﻂ ﮐﻤﺮ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﮐﻮ ﻋﺰﺕ ﺑﺨﺸﺘﮯ ﺗﮭﮯ - ﺗﮩﺠﺪ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮔﺘﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ - ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺗﮭﭙﮏ ﺗﮭﭙﮏ ﮐﺮ ﺳﻼ ﺩﯾﺎ - ﺷﺎﯾﺪ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﮨﻮﺍ - ﺍﺑﮭﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﻟﮕﯽ ﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﮯ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺩﺭﺍﺯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ - ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﻮ ﺟﻨﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺟﻨﺖ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ - ﺩﺭﺧﺘﻮﻥ ﮐﯽ ﭘﮭﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﺪﯼ ﺷﺎﺧﯿﮟ ﺍﻧﮕﮍﺍﺋﯿﺎﮞ ﻟﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ - ﻃﺎﺋﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﮨﺠﻮﻡ ﺗﮭﺎ - ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﯿﮟ - ﻭﻗﺖ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﮎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ - ﺍﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﻈﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﻓﯿﻀﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﺭﮨﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﮭﻨﮉ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ - ﺍﺱ ﻣﺮﻏﺰﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ - ﺳﺮﺥ ﺭﻧﮓ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﭽﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ - ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ " ! ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻟﯿﮯ " ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ - ﺑﺮﺧﻮﺭﺩﺍﺭ " ! ﺟﻨﺖ ﮐﯽ ﺳﯿﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ " - ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯽ ﻭﮦ ﺑﭽﮧ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﻢ ﮨﻮﮔﯿﺎ - ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﮩﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﯿﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﺟﮍ ﮔﯿﺎ - ﺳﯿﺪ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﮐﺒﯿﺮ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯽ -
ﺳﯿﺪ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﮐﺒﯿﺮ ﻭﻟﯽ ﮐﺎﻣﻞ ﺗﮭﮯ - ﺍﻭﺭ ﻭﻟﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﭽﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ -
ﺍﮔﻠﯽ ﺷﺐ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﻔﺲ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﻧﯿﻨﺪ ﭘﺮ ﺍﮐﺴﺎﯾﺎ - ﺁﻧﮑﮫ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﮯ ﻭﮨﯽ ﻣﻨﻈﺮ ﭘﮭﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﮭﺎ - ﺳﺮﺥ ﺭﻧﮓ ﻭﺍﻻ ﻭﮦ ﺑﭽﮧ ﭘﮭﺮ ﻧﻈﺮ ﺁﯾﺎ " ﺑﺎﺑﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻟﯿﮯ " " ﺟﻨﺖ ﮐﯽ ﺳﯿﺮ ﺍﻓﻀﻞ ﮨﮯ " ﺳﯿﺪ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ
ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻓﻀﻞ ﮨﮯ ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ - ﺍﻭﺭ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ - ﺣﻀﺮﺕ ﮐﺒﯿﺮ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯽ- - ﺁﭖ ﮐﺎ ﺍﺿﻄﺮﺍﺏ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﺎ - ﺍﺏ ﺍﺱ
ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ - ﻓﺠﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁﭖ ﻣﺴﺠﺪ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ - ﻭﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﺪ ﻃﻮﻟﯽٰ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺳﻨﺎﯾﺎ -" ﺳﯿﺪ ﮐﺒﯿﺮ ﺷﺎﮦ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺁﭖ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ - ﻗﺪﺭﺕ ﯾﮩﯽ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ -ﺟﺲ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮨﯽ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻋﺪﻡ ﺳﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮯ ﺗﺎﺏ ﮨﮯ " - ﺍﻥ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮔﻮﺋﯽ ﺣﺮﻑ ﺑﺎ ﺣﺮﻑ ﺩﺭﺳﺖ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ
ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﭽﮧ ﻋﺪﻡ ﺳﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﻭﮦ ﺳﺮﺥ ﺭﻧﮓ ﮐﺎ ﻭﮨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﭽﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﺴﮯ ﺁﭖ ﻋﺎﻟﻢ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ - سید کبیر نے اس بچے کا نام عثمان رکھا اور اس بچے نے بڑے ہوکر ولایت کی دنیا میں بہت نام پایا
آج دنیا اس بچے کو لعل شہباز قلندر کے نام سے جانتی ہے انکا اصل نام حضرت عثمان مروندی رحمتہ اللہ علیہ ہے

Makafat-e-Amal

Posted by Unknown on 04:27 with No comments
مکافات عمل
ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﮈﺭ ﺳﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ: ﺍﺑﺎﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮬﻮﮞ،ﻣﯿﮟﺍﺏ ﺍٓﭘﮑﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮭﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﺘﺎ، ﻣﯿﮟ ﺍٓﭘﮑﻮﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﻭﺭ ﺍﻟﮓ ﺟﮕﮧﭼﮭﻮﮌ ﺍٓﺗﺎ ﮬﻮﮞ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﺩﮮ ﺍٓﯾﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﮕﺎ، ﺍﻭﺭ ﯾﮧ
... ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺒﻞ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﮟ ﺭﺍﺕ ﮐﻮﺍﻭﮌﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔ﺟﺐ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺍٓﺩﻣﯽ ﮐﺎ ﭘﻮﺗﺎﮔﮭﺮ ﺍٓﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔۔۔ ۔۔۔
ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎََ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻓﻼﮞ ﺟﮕﮧ ﭼﮭﻮﮌﮐﺮ ﺍٓﯾﺎﮬﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﻭﮦ ﻭﮨﯿﮟ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ۔۔، ﭘﻮﺗﺎ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮮ ﻣﯿﺎﮞﺳﮯ ﺍٓﺩﮬﺎ ﮐﻤﺒﻞ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺍٓﯾﺎﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﺎﮐﯿﺎ، ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﮬﯽ ﮐﻤﺒﻞ ﺗﮭﺎ،ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ" :ﯾﮧﺍٓﺩﮬﺎ ﮐﻤﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﮐﮭﺎﮨﮯ، ﺟﺐ ﺍٓﭖ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮬﻮﺟﺎﺋﯿﻨﮕﮯ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺅﮞ ﮔﺎ"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.............

ﺍﺱ ﻗﺼﮧ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﺎ
ﺭﻭﭖ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﺷﺎﺋﺪ ﺑﮩﺖ
ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ
ﺭﻭﯾﮧ ﮐﯽ ﺑﺪﺻﻮﺭﺗﯽ ﮐﺎ
ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺳﮑﮯ

 

Entitled حقدار

Posted by Unknown on 04:08 with No comments
حقدار
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮐﺴﯽ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﭼﺎﺭ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺗﮏ ﺑﺎﺭﺵ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ۔ﺷﺪﯾﺪ ﺧﺸﮏ ﺳﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﻮ ﻗﺤﻂ ﺯﺩﮦ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﮯ ﺑﯿﺸﺘﺮ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﻋﻼﻗﮧ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ﺟﻮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﭽﺎﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺍُﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﻭﮦ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﭼﮍﯾﺎ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﯽ۔ﯾﮧ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﮐﺌﯽ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺑﮭﻮﮐﯽ ﭘﯿﺎﺳﯽ ﺗﮭﯽ ۔ﺍﺱ ﺁﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺷﺎﺋﺪ ﮐﺴﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﺳﮯ ﺍُﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ،ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮐﺌﯽ ﻣﯿﻞ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﻃﮯ ﮐﺮﻟﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍُﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﭘﯿﮍ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺎﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺑﻨﺘﺎ ۔ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺭﺯﻕ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﮐﯽ۔ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﯾﮏ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﻏﺮّﺍﮨﭧ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮨﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﭨﺎ ﺗﺎﺯﮦ ﮨﺮﻥ ﺷﯿﺮ ﮐﮯ ﭘﻨﺠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﺷﯿﺮ ﺧﻮﺏ ﭘﯿﭧ ﺑﮭﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ... ﻃﺮﻑ ﮨﻮﮐﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ۔ﺍﺏ ﺑﭽﮯ ﮐﮭﭽﮯ ﮨﺮﻥ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﮯ ﺩﯾﮕﺮ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ۔ﺷﯿﺮ ﻧﮯ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﻨﮧ ﮐﮭﻮﻻ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﮯ ﺭﯾﺸﮯ ﺍُﺳﮯ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺩﺭﺧﺖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﭼﮍﯾﺎ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﮌﺍﻥ ﺑﮭﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺷﯿﺮ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ۔ﺍﺏ ﻭﮦ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﯾﺸﮯ ﻧﮑﺎﻟﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺷﯿﺮ ﮐﻮ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﭘﮩﻨﭽﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﭼﮍﯾﺎ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﺳﯿﺮ ﮨﻮﮔﺌﯽ “ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺷﯿﺮ ﮨﺮﻥ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮨﺮﻥ ﮐﻮ ﺷﯿﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﯽ ﺍﺱ ﻧﻨﮭﯽ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﮨﺮﻥ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺗﮭﺎ ۔ْ“  ﯾﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﺩﯾﮟ ﮐﮧ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮨﮯ ﺻﺤﺖ، ﻋﻘﻞ، ﺣﺴﻦ، ﻃﺎﻗﺖ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺟﺐ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﮐﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ،ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﻨﺪ ﮨﯿﮟ۔ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺗﺮﯾﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﻼﺋﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﻭﻧﺎﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭘﮑﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ ،ﻃﺎﻗﺖ ﻭﺭ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺯﻕ ﮐﮯ ﺣﺼﻮﻝ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ، ﺫﮨﺎﻧﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﻣﺖ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﻭ۔ ﺩﯾﮑﮭﻮ۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺍُﺱ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ،ﺟﻮ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﯿﮟ،ﺑﮯ ﺑﺲ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺭﺯﻕ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺑﮧ ﻇﺎﮨﺮ ﯾﮧ ﺭﺯﻕ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺗﻮﺳﻂ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ “ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺠﺪﺩ ﺍﻟﻒ ﺛﺎﻧﯽ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﮨﮯ " ﺟﻮ ﺣﻖ ﺩﺍﺭ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻧﺎﺣﻖ ﮐﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﺍُﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﮮ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﻮ ﻧﺎﺣﻖ ﮐﺎ ﻣﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﻣﻠﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ



٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

The Angels

Posted by Unknown on 03:41 with No comments
ھنسنے کی آواز خوشی بھری مبارک ھو بیٹا ھے یہ آواز تھی جو میرے کانوں میں سب سے آئ پھر کئ آوازیں کسی نے میرا ماتھا چوما میرے کانوں میں آذان کی آواز آرھی تھی مبارک ھو بیٹا مسلمان بن گیا یہ میرے دادا کی آواز تھی یہ میرا عمر ھے اب دادی کی گود میں تھا اللہ لمبی عمر دے اور حضرت عمر جیسا بنے دادی کی آواز میں محبت اور کئ خواھشیں اور سپنے بول رھے تھے ایک ھاتھ سے دوسرے ھاتھ تک ایک گود سے دوسری گود تک صبح سے شام ۔ اور شام سے رات تک محبت اور محبت بھری باتیں میں ھنستا تو سارا گھر ھنسنے لگتا
میں روتا تو سارا گھر پریشان ھو جاتا میں بیمار ھوتا تو سب رات کو سونا بھول جاتے میں کھانا کم کھاتا تو سب کی بھوک مر جاتی ۔ دو چھوٹے چھوٹے کمرے ایک برامدہ ٹوٹا سا کچن یہ ھماری سلطنت تھی اور میں اس کا شہزادہ تھا گھر اپنے خاندان کا ولی عہد
اماں ابا سے زیادہ دادا دادی لاڈ کرتے میں ان کا وارث تھا ان کے ادھورےخوابوں کا وارث ان کی آرزوؤں کا وارث میری دو بہنیں مجھ سے بڑی تھی دو مجھ سے چھوٹی ان کے آنے سے میری اھمیت کم نہیں ھوئ کچھ اور بڑھ گئ
اسکول جانے کی عمر آئ تو بہنوں کو قریبی اسکول میں داخلہ دلایا گیا اس کی فیس کم تھی اور مجھے ایک بہتر اسکول میں داخل کروایا اس کے لیے ابا کو زیادہ مزدوری کرنے پڑ رھی تھی گھر کے خرچے اور کم کر دئیے گئے تھے میری اچھی پڑھائ سب کے اچھے مستقبل کی ضمانت تھی - کھانے میں اچھی چیز میرے لیے سونے کے لیے صاف بستر میرے لیے ۔ دن رات کی محبتیں دعائیں
دادی کے بیمار ھونے پہ میں نے کہا تھا جب میں ڈاکٹر بنوں گا تو سب سے پہلے دادی کا علاج کروں گا دادی نے خوشی سے میرا ماتھا چوم لیا اس بات کا ذکر کئ دنوں تک اپنے ملنے والوں سے کرتی رھی جیسے میں نے بہت بڑا کام  کر دیا ھو ۔ دادا اور ابا ھر بات مجھے بتاتے جیسے اپنا سارا علم سارا گیان مجھے دینا چاھتے ھیں کبھی دادی قصے سناتی اچھا انسان بننے کی نصیحتیں انسان اور شیطان کا فرق جنت اور جہنم میں فرق میں چپ کر کے سنتا رھتا میں ایک اچھا انسان بننا چاھتا تھا
ایک دن کاغذ جلاتے ھوئے میرا ھاتھ زرا سا جل گیا آبلہ بن گیا اماں اور دادی نے کئ ٹوٹکے آزمائے دعائیں پڑھ پڑھ کر پھونکتی رھیں چار دن میں آبلہ ٹھیک ھوگا مگر کسئ ھفتوں تک اماں اور دادی نشان دیکھ کر افسوس کرتی رھیں وہ نشان جیسے انھیں دکھ دے رھا تھا
اسکول جاتے ھوئے وین میں بچے تھے  شرارتے کرتے ھوئے سب ھنس رھے تھے ایک دوسرے کو چھیڑ رھے تھے اپنے شرارتوں میں مگن تھے  ایک دم آگ بھڑکی پوری وین میں پل بھر میں پھیل گئ سب بچے چیخ رھے تھے -میں نے ماں کو آواز دی تکلیف میں ماں کا نام اپنے آپ زبان پہ آجاتا ھے  میرا یونیفارم جل کر میرے جسم سے چپک رھا تھا میں نے اپنے ھاتھوں سے آگ بھجانے کی کوشش کی میرے ھاتھوں کی کھال جلنے لگی آگ میرے بالوں کو جلا رھی تھی   وین کا فرش جل رھا تھا  پاؤں اٹھاتے مگر آگ ساری وین میں پھیل چکی تھی سب کو اپنی لپیٹ میں لے رھی تھی
دادی میں نے اپنی دادی کو  آواز دی مجھے آکر بچا لو یہ آگ مجھے کیوں جلا رھی ھے آگ تو شیطان کے لیے بنی ھے نا اللہ قیامت کے دن شیطان کو جلائے گا تمہیں نے کہا تھا نا  شیطان کو  برے کاموں کی سزا ملے گی ۔ میں تو شیطان نہیں میں نے تو کوئ برا کام نہیں کیا پھر یہ آگ -- یہ آگ مجھے کیوں جلا رھی ھے کیا مین گنہگار ھوں میری کھال جل رھی ھے  گوشت کے جلنے کی بو ھر طرف پھیل رھی ھے دھواں ھر طرف پھیل رھا ھے سانس مشکل سے آرھا ھے  اماں تم نے کہا تھا میں فرشتہ ھوں میرے جیسے اور کتنے فرشتے میرے ساتھ جل کر مر رھے تھے ھندو ؤں کو مرنے کے بعد جلایا جاتا ھے میں تو مسلمان ھوں پھر میں کیوں زندہ جل رھا ھوں  شیطان کو جہنم میں جلایا جائے گا میں تو فرشتہ ھوں اور یہ جہنم نہیں یہ دنیا ھے ہاں یہ دنیا ھے اور دنیا میں فرشتے جل جاتے ھیں اور فرشتے جل رھے تھے
 میڈیا سب لوگ ھمارے جل جانے کے بعد آئے جھلسے ھوئے نا قابل ِ شناخت وجود پھر بھی میری ماں نے نجانے کیسے میری شناخت کر لی میری اس ماں نے جس نے مجھے جنم دیا میری زندگی کے ایک ایک دن کے ساتھ وہ ایک ایک زندگی جئی تھی ھزار خواب دیکھے تھے میں اس کا خزانہ تھا اس کی زندگی بھر کی پونجی آج وہ گنگال ھو گئ تھی میری دادی میری بہنیں میرے باپ اور دادا بین کر رھے تھے ان کی سلطنت تباہ ھو چکی تھی نمازِ جنازہ پڑھائ جا رھی تھی منوں مٹی تلے میرے ساتھ بہت سے سپنے دب جائیں گے جب فرشتے جلتے ھیں تو بہت سے خواب بھی جل جاتے ھیں

Falsfa-e-Dard فلسفہء درد

Posted by Unknown on 02:30 with No comments
فلسفہء درد

تمھارا درد گویا اس صدف کے ٹوٹنے کی تکلیف ہے جس کے اندر تمھارا فہم بند ہے.

وہ ایک حیات اعلی ولادت کا دروازہ ہے.

جس طرح ضرورى ہے کہ ایک پھل کا سخت چھلکا ٹوٹے تاکہ اس کا مغز باہر آسکے.

جس طرح ضروری ہے کہ شگوفے کا سینہ چاک ہو تاکہ پھول کی پتیاں باہر آسکیں.

اسی طرح ضروری ہے کہ تم بھی اپنے صدف کے ٹوٹنے کا دکھ برداشت کرو.
 
اور اگر تمھارا دل اس قابل ہو کہ زندگی کے روزانہ پیش آنے والے معجزوں کو دیکھ سکے.

تو تمھارے لئے تمھارا دکھ تمھاری مسرتوں سے کچھ کم دل نواز نہ ہوگا.

اور دل کی فضا کے ان موسموں کو تم اس طرح قبول کر لو گے
جس طرح تم اپنے کھیتوں کے لئے موسموں کا تغیر پسند کرتے ہو.

پس جب غم کا سخت اور تکلیف دہ موسم تم پر گزرے گا تو تم سنجیدگی اور استقامت کے ساتھ اپنی اس حالت کا مطالعہ کرو گے.
 
اور تمھارا بہت سا دکھ تمھارا اپنا انتخاب ہے.

اور درحقیقت ایک کڑوی دوا ہے جو تمھارے نفس خفی کے امراض کا علاج کرنے کے لئے تمھارا طبیب تمہیں پلاتا ہے.

پس طبیب پر بھروسہ کرو اور اس کی دوا خاموشی اور سکون قلب کے ساتھ پی جاؤ.

خلیل جبران

A Big Man بڑا آدمی

Posted by Unknown on 01:07 with No comments
بڑا آدمی
میں جب بچہ تھا تو یہ گمان کرتا کہ بڑا آدمی وہ ہے جس کا قد لمبا ہو۔ چنانچہ میں پنجوں کے بل کھڑا ہونے کی کوشش کرتا تو کبھی کسی اونچی جگہ پر کھڑا ہوتا تاکہ خود کو بڑا ثابت کرسکوں۔ جب کچھ شعور میں ارتقاء ہوا تو علم ہوا کہ بڑا آدمی وہ نہیں جس کا قد لمبا ہو بلکہ وہ ہے جس کی عمر زیادہ ہو۔ چنانچہ میں جلد از جلد عمر میں اضافے کی تمنا کرنے لگا تاکہ بڑا بن سکوں۔ جب زندگی نوجوانی کی عمر میں داخل ہوئی تو پتا چ

لا کہ بڑے آدمی کا تعلق عمر سے نہیں دولت سے ہوتا ہے ۔ جس کے پاس اچھا بنک بیلنس، لیٹسٹ ماڈل کی کاریں ، عالیشان مکان اور آگے پیچھے پھرتے نوکر چاکر ہوں تو اصل بڑا آدمی تو وہی ہوتا ہے۔ جب میں نے یہ سب کچھ حاصل کر لیا تو محسوس ہوا کہ میں ابھی تک بڑا آدمی نہیں بن پایا۔ اندر ایک خلش سی محسوس ہونے لگی۔یہ خلش اتنی بڑھی کہ راتوں کو اچانک آنکھ کھل جاتی اور یہ سوال ہتھوڑے کی طرح دماغ پر اثر انداز ہوتا۔ چنانچہ میں دوبارہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے نکل کھڑا ہوا کہ " بڑا آدمی " کون ہے؟
میں صوفیوں کے پاس گیا تو انہوں نے بتایا کہ بڑا آدمی وہ ہے جو خود کو نفس کی خواہشات سے
پاک کرلے، جوگیوں نے کہا کہ دنیا چھوڑ دو ، یہ دنیا تمہارے پیچھے چلنے لگے گی اور یوں تم بڑے آدمی بن جاؤگے۔دنیا داروں نے مادی سازو سامان میں اضافے کا مشورہ دیا۔ فلسفیوں نے علم میں اضافے کے ذریعے لوگوں پر دھاک بٹھانے کے لئے کہا۔ لیکن ان میں سے کسی جواب سے تشفی نہ ہوئی کیونکہ ہر جواب انسانوں کا بنایا ہوا تھا۔
پھر خیال ہوا کہ یہ بات کیوں نہ اسی سے پوچھ لی جائے جو سب سے بڑا ہے۔ چنانچہ خدا سے لو لگائی اور اس کی کتاب اٹھالی۔ قرآن کو دیکھا تو علم ہوا کہ خدا کے نزدیک "بڑا آدمی" وہ ہے جو خدا کا تقوٰی اختیار کرلے، خود کو اپنے خالق کے سامنے ڈال دے، اپنی ہر خواہش کو اس کے حکم کے تابع کرلے، اپنا جینا ، مرنا خدا سے وابستہ کرے، اپنی جسم کی ہر جنبش پر رب کا حکم جاری کردے، اپنے کلام کے ہر لفظ کو اسکے خوف کے تابع کرلے، اپنے دل کی ہر دھڑکن اسکے یاد کے معمور کرلے۔سب سے بڑھ کر بڑا آدمی وہ ہے دنیا میں خدا کے مقابل چھوٹا بننے پر آمادہ ہوجائے ۔ اگر یہ سب ہوجائے تو خدا اس شخص کو اتنا بڑا کردیتا ہے کہ وہ پہاڑوں کی بلندیوں سے بلند ہوجاتا ہے۔

انسان کی اوسط عمر 60 سے 80 سال ہے ۔ بہت کم لوگ اس سے اوپر جاتے ہیں
اور ہم لوگ اپنی زندگی کے 25 سال ہنسی مزاق کھیل کود اور لہو لعب میں لگا جاتے ہیں
پھر باقی کے 25 سال شادی ، بچے رزق کی تلاش ، نوکری جیسی سنجیدہ زندگی میں پھنسے رہتے ہیں
اور جب اپنی زندگی کے 50 سال مکمل کر چکے ہوتے ہیں تو
باقی زندگی کے آخری 25 سال بڑھاپے میں مشکلات کا سامنا ،بیماریاں ، بچوں کے غم اور ایسی ہی ہزار مصیبتوں کے ساتھ گزارتے ہیں
یھاں تک کے جب موت کے دروازے پر پہنچتے ہیں تو ہمیں یاد آتا ہے
کہ زندگی میں ایسا کچھ خاص کیا ہی نہیں
جس کو ہم اپنی منزل سمجھتے ہویے یہ زندگی گزارتے رہتے ہیں
اور پھر افسوس سے ہاتھ ملتے ہیں لیکن وہ افسوس کسی کام نہیں آتا
تو کیوں نا ابھی سے جنت کی چابی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ، تاکہ منزل پر پہنچ کر پچھتاوا نہ ہو
الله پاک ہم سب کو دین کو سمجھنے عمل کرنے اور پھیلانے والا بنا دے
ہمیں اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل کر لے اور تقویٰ والا بنا دے آمین
دعاؤں میں یاد رکھیں

Monday, 8 July 2013

Aql Aur Naseeb

Posted by Unknown on 02:56 with No comments
٭٭٭ ﻋﻘﻞ اور ﻧﺼﯿﺐ ٭٭٭

کہتے ہیں ﮐﺴﯽ جگہ دو ﺷﺨﺺ رہتے ﺗﮭﮯ ، اﯾﮏ ﮐﺎ ﻧﺎم “ ﻋﻘﻞ ” ﺗﮭﺎ اور دوﺳﺮے ﮐﺎ ﻧﺎم “ ﻧﺼﯿﺐ ”

ایک دفعہ وﮦ دوﻧﻮں ﮐﺎر ﻣﯿﮟ ﺳﻮار ہو ﮐﺮ اﯾﮏ ﻟﻤﺒﮯ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻠﮯ ، آدﮬﮯ راﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺴﺎن راﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﮐﺎر ﮐﺎ ﭘﯿﭩﺮول ﺧﺘﻢ ہو ﮔﯿﺎ ، دوﻧﻮں ﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ کہ ﮐﺴﯽ ﻃﺮح رات گہری ہونے سے پہلے پہلے وہاں ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ،
ﻣﮕﺮ اﺗﻨﺎ ﭘﯿﺪل ﭼﻠﻨﮯ ﺳﮯ بہتر یہ جانا کہ ادھر ہی وقت گزار لیں ﺟﺐ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺪدﮔﺎر نہیں آ ﺟﺎﺗﺎ۔
ﻋﻘﻞ ﻧﮯ فیصلہ ﮐﯿﺎ کہ وﮦ ﺳﮍک ﮐﮯ ﮐﻨﺎرے ﻟﮕﮯ ہوئے درﺧﺖ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺳﻮﺋﮯ ﮔﺎ
ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮯ فیصلہ ﮐﯿﺎ کہ وﮦ ﺳﮍک ﮐﮯ درﻣﯿﺎن ﻣﯿﮟ ہی ﺳﻮﺋﮯ ﮔﺎ۔

ﻋﻘﻞ ﻧﮯ ﻧﺼﯿﺐ ﺳﮯ کہا ﺑﮭﯽ کہ ﺗﻮ ﭘﺎﮔﻞ ہو ﮔﯿﺎ ہے ﮐﯿﺎ ؟
ﺳﮍک ﮐﮯ درﻣﯿﺎن ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﺎ اﭘﻨﮯ آپ ﮐﻮ ﻣﻮت ﮐﮯ منہ ﻣﯿﮟ ڈاﻟﻨﺎ ہے
ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮯ کہا ؛ نہیں ۔ ﺳﮍک ﮐﮯ درﻣﯿﺎن ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﺎ ﻣﻔﯿﺪ ہے ، ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﭘﮍ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺟﮕﺎ ﮐﺮ یہاں ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﮔﺎ اور ہماری ﻣﺪد ﮐﺮے ﮔﺎ اور اس ﻃﺮح ﻋﻘﻞ درﺧﺖ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ اور ﻧﺼﯿﺐ ﺳﮍک ﮐﮯ درﻣﯿﺎن ﻣﯿﮟ ہی ﭘﮍ ﮐﺮ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ

ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ اﯾﮏ ﺑﮍے ﺗﯿﺰ رﻓﺘﺎر ﭨﺮک ﮐﺎ ادﮬﺮ ﺳﮯ ﮔﺰر ہﻮا۔ ﺟﺐ ﭨﺮک ڈراﺋﯿﻮر ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﭘﮍی کہ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮍک ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮں ﺑﯿﭻ ﭘﮍا ﺳﻮ رہﺎ ہﮯ
ﺗﻮ اس ﻧﮯ روﮐﻨﮯ ﮐﯽ بہت ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ، ﭨﺮک ﻧﺼﯿﺐ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﺗﮯ ﺑﭽﺎﺗﮯ ﻣﮍ ﮐﺮ درﺧﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﭨﮑﺮاﯾﺎ، درﺧﺖ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﻮﯾﺎ ہوا ﺑﯿﭽﺎرﮦ ﻋﻘﻞ ﮐﭽﻞ ﮐﺮ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ اور ﻧﺼﯿﺐ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﺤﻔﻮظ رہﺎ۔

سبق :

ﺷﺎﯾﺪ ﺣﻘﯿﻘﯽ زﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ اﯾﺴﺎ ہی ہوتا ہے ﻧﺼﯿﺐ ﻟﻮﮔﻮں ﮐﻮ کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے حالانکہ ان ﮐﮯ ﮐﺎم ﻋﻘﻞ ﺳﮯ نہیں ہو رہے ہوتے ، یہی انکی تقدیر ہوتی ہے !

ﺑﻌﺾ اوﻗﺎت ﺳﻔﺮ ﺳﮯ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﮐﺴﯽ اﭼﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻦ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﯽ ہے ۔
ﺷﺎدی ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻦ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﯽ ہے
اوﻻد نہیں ہو رہی ، اس ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﻣﺼﻠﺤﺖ ہﻮا ﮐﺮﺗﯽ ہے ۔
ﻧﻮﮐﺮی ﺳﮯ ﻧﮑﺎل دﯾﺎ ﺟﺎﻧﺎ اﯾﮏ ﺑﺎﺑﺮﮐﺖ ﮐﺎروﺑﺎر ﮐﯽ اﺑﺘﺪا ﺑﻦ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ ہے ۔"
مایوس مت ہوا کرو !
حوصلہ مت ہارا کرو !

ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمھارے لئے ناگوار ہو اور وہی تمہارے لئے بہتر ہو !
اور ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بری ہو !
الله پاک بہتر جانتا ہے ، تم نہیں جانتے !

Sada-e-Bazgasht صداۓ باز گشت

Posted by Unknown on 01:56 with No comments
صداۓ باز گشت
میں نے زندگی میں ایک بڑی عجیب و غریب بات دیکھی ہے کہ اگر آپ کسی کو دیتے ہیں تو وہ لوٹ کر آپ کے پاس آتا ہے۔یہ صداۓ باز گشت ہے جو کہ لوٹ کر واپس آتی ہے۔
حضرت مجدد الف ثانی بہت سخت اور اصولی بزرگ تھے،لیکن ایک بات میں انکی کبھی نہیں بھولتا۔انہوں نے فرما یا جو شخص تجھ سے مانگتا ہے اس کو دے۔کیا یہ تیری انا کے لیے کم ہے کہ کسی نے اپنا دستِ سوال تیرے آگے دراز کیا۔بڑے آدمی کی کیا بات ہے اس سلسلے میں ایک حدیث بھی ہے اور وہی سرچشمہ ہے۔پھر فرماتے ہیں عجیب و غریب انہوں نے یہ بات کی ہے کہ جو حق دار ہے اس کو بھی دے اور جو نا حق کا مانگنے والا ہے اس کو بھی دے تا کہ تجھے جو نا حق کا مل رہا ہے کہیں وہ ملنا بند نہ ہو جاےُ۔دیکھیں نہ ہم کو کیا نا حق کا مل رہا ہے۔اُسکی ساری مہربانیاں ہیں،کرم ہے اور ہمیں اس کا شعور نہیں ہے کہ ہمیں کہاں کہاں نا حق کا مل رہا ہے۔کبھی آرام سے بیٹھ کر اپنی زندگی کو ،اپنے کام کو بیلنسنگ شیٹ بنانے کی کوشش کریں،تو آپ کو پتہ چلے گا 80-90 فیصد تو ایسے ہی آ رہا ہے۔یہ میرا استحقاق نہیں بنتا،لوگ ایسے ہی روتے ہیں کہ میرا حق،اور میں اپنے حق کی خاطر لڑوں گا،مروں گا،یہ کر دوں گا،وہ کر دوں گا۔ایسا کبھی نہیں ہوتا بعض اوقات ایسی جگہ سے آ جاتا ہے جہاں آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا بلکہ بیشتر ایسا ہوتا ہے اور آتا چلا جاتا ہے،لیکن آدمی گبھراتا ہے کہ اگر میں کچھ دے دوں گا اور دتّے میں سے دے دوں گا تو کمی ہو جاےُ گی لیکن حقیقت میں ہوتی نہیں لیکن اکثر ہمارے جیسے پڑھے لکھے سیّانے لوگ یہ بات کرتے ہیں۔
اشفاق احمد کے ''زاویہ'' سے

Girl's Respect لڑکی کی عزت

Posted by Unknown on 01:34 with No comments


524959_272046326263897_1119983502_n.jpg
لڑکی کی عزت
آج کسی لڑکی کا "بوائے فرینڈ" بننے کے خواہش مند کل بیٹی کے باپ ہو سکتے
آج اپنی ماں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والی کسی کی گرل فرینڈ مستقبل میں خود بھی دھوکا سہہ سکتی

فرق کچھ زیاده نہیں آج آپ کسی کی عزت ہو غیرت ہو کل آپکی نسل آپکی عزت غیرت ہو گی. مکافات عمل یہی تو ہے شاید جیسا بو گے ویسا کاٹو گے. آج کسی کی عزت ٹائم پاس لگتی کل اپنی بیٹی کسی کا ٹائم پاس ہو گی. اگر یہ بات تکلیف ده لگے تو آج آپ دوسروں کی عزت کو عزت سمجھیں خود کو ایک خاندان کی عزت ، غیرت کل آپکی نسل آپکی عزت کی حفاظت کرے گی خود کو غیرت سمجھے گی