Showing posts with label Last Messenger. Show all posts
Showing posts with label Last Messenger. Show all posts

Thursday, 29 August 2013

Lucky Ummah...خوش نصیب اُمت

Posted by Unknown on 01:06 with No comments
خوش نصیب اُمت

ایک بار حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ پاک سے عرض کیا:۔

"تو نے مجھے ہم کلام ہونے کا شرف بخشا ہے۔ کیا کسی اور کو خوش نصیب کو بھی یہ سعادت حاصل ہو گی؟"

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔

"اے موسی! میں سب سے آخر میں ایک اُمت بھیجوں گا، جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہو گی۔

وہ لوگ جب روزہ رکھیں گے تو ان کے ہونٹ اور زبان، پیاس سے خشک ہوں گے۔
کمزور جسم اور ترسی ہوئی آنکھیں ہوں گی۔
پیٹ خالی ہو گا۔ وہ بھوک، پیاس برداشت کریں گے۔
جب افطاری کے وقت وہ دعا مانگیں گے تو وہ تمہاری نسبت زیادہ میرے قریب ہوں گے"۔

سبحان اللہ
پانچ 5 وصیتیں

میری پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

"اے علی! میری پانچ 5 وصیتیں میری اُمت تک پہنچا دینا۔

اذان ہو تو نماز میں جلدی کرنا۔

گھر میں جنازہ ہو تو دفنانے میں جلدی کرنا۔

اگر کوئی ناراض ہو تو اُس سے معافی مانگنے میں جلدی کرنا کیونکہ زندگی کا کچھ پتا نہیں۔

کوئی مہمان گھر آ جائے تو اُس  کی خدمت جلدی کرنا، کیونکہ کیا پتا کہ وہ کب سے گھر سے نکلا ہوا ہو۔

5۔
جوان بیٹی گھر میں ہو تو اُس کی شادی جلدی کرنا۔

اچھی بات سُن کر آگے پہنچانا بھی صدقہء جاریہ ہے۔

Tuesday, 27 August 2013

ہجرت کا ساتواں سال

مسلمان خیبر چلے

جب رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ خیبر کے یہودی قبیلۂ غطفان کو ساتھ لے کر مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں تو ان کی اس چڑھائی کو روکنے کے لئے سولہ سو صحابہ کرام کا لشکر ساتھ لے کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خیبر روانہ ہوئے۔ مدینہ پر حضرت سباع بن عرفطہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو افسر مقرر فرمایا اور تین جھنڈے تیار کرائے۔ ایک جھنڈا حضرت حباب بن منذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیا اور ایک جھنڈے کا علمبردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنایا اور خاص علم نبوی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دست مبارک میں عنایت فرمایا اور ازواجِ مطہرات میں سے حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عہام کو ساتھ لیا۔

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رات کے وقت حدود خیبر میں اپنی فوج ظفر موج کے ساتھ پہنچ گئے اور نماز فجر کے بعد شہر میں داخل ہوئے تو خیبر کے یہودی اپنے اپنے ہنسیا اور ٹوکری لے کر کھیتوں اور باغوں میں کام کاج کے لئے قلعہ سے نکلے۔ جب انہوں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا تو شور مچانے لگے اور چلا چلا کر کہنے لگے کہ ”خدا کی قسم! لشکر کے ساتھ محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ہیں۔ ”اس وقت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیبر برباد ہوگیا۔ بلاشبہ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر پڑتے ہیں تو کفار کی صبح بری ہوجاتی ہے۔
(بخاری ج۲ص۶۰۳ )

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خیبر کی طرف متوجہ ہوئے تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بہت ہی بلند آوازوں سے نعرۂ تکبیر لگانے لگے۔ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے اوپر نرمی برتو۔ تم لوگ کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو بلکہ اس (اللہ) کو پکار رہے ہو جو سننے والا اور قریب ہے۔ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ کا وظیفہ پڑھ رہا تھا۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سنا تو مجھ کو پکارا اور فرمایا کہ کیا میں تم کو ایک ایسا کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ”کیوں نہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ پر میرے ماں باپ قربان!” تو فرمایا کہ وہ کلمہ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ہے۔
(بخاری ج۲ ص۶۰۵ )
ہجرت کا ساتواں سال

جنگ خیبر کا سبب

یہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ جنگ ِ خندق میں جن جن کفار عرب نے مدینہ پر حملہ کیا تھا ان میں خیبر کے یہودی بھی تھے۔ بلکہ در حقیقت وہی اس حملہ کے بانی اور سب سے بڑے محرک تھے۔ چنانچہ ”بنو نضیر” کے یہودی جب مدینہ سے جلا وطن کئے گئے تو یہودیوں کے جو رؤسا خیبر چلے گئے تھے ان میں سے حیی بن اخطب اور ابو رافع سلام بن ابی الحقیق نے تو مکہ جا کر کفار قریش کو مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے ابھارا اور تمام قبائل کا دورہ کر کے کفار عرب کو جوش دلا کر برانگیختہ کیا اور حملہ آوروں کی مالی امداد کے لئے پانی کی طرح روپیہ بہایا۔ اور خیبر کے تمام یہودیوں کو ساتھ لے کر یہودیوں کے یہ دونوں سردار حملہ کرنے والوں میں شامل رہے۔ حیی بن اخطب تو جنگ قریظہ میں قتل ہوگیا اور ابو رافع سلام بن ابی الحقیق کو ۶ ھ میں حضرت عبداللہ بن عتیک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے محل میں داخل ہو کر قتل کر دیا۔ لیکن ان سب واقعات کے بعد بھی خیبر کے یہودی بیٹھ نہیں رہے بلکہ اور زیادہ انتقام کی آگ ان کے سینوں میں بھڑکنے لگی۔ چنانچہ یہ لوگ مدینہ پر پھر ایک دوسرا حملہ کرنے کی تیاریاں کرنے لگے اور اس مقصد کے لئے قبیلہ غطفان کو بھی آمادہ کرلیا۔ قبیلہ غطفان عرب کا ایک بہت ہی طاقتور اور جنگجو قبیلہ تھا اور اس کی آبادی خیبر سے بالکل ہی متصل تھی اور خیبر کے یہودی خود بھی عرب کے سب سے بڑے سرمایہ دار ہونے کے ساتھ بہت ہی جنگ باز اور تلوار کے دھنی تھے۔ ان دونوں کے گٹھ جوڑ سے ایک بڑی طاقتور فوج تیار ہوگئی اور ان لوگوں نے مدینہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کو تہس نہس کر دینے کا پلان بنا لیا۔
ہجرت کا ساتواں سال

غزوۂ خیبر کب ہوا؟

تمام مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جنگ خیبر محرم کے مہینے میں ہوئی۔ لیکن اس میں اختلاف ہے کہ ۶ ھ تھا یا ۷ ھ۔ غالباً اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ سن ہجری کی ابتدا محرم سے کرتے ہیں۔ اس لئے ان کے نزدیک محرم میں ۷ ھ شروع ہو گیا اور بعض لوگ سن ہجری کی ابتدا ربیع الاول سے کرتے ہیں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہجرت ربیع الاول میں ہوئی۔ لہٰذا ان لوگوں کے نزدیک یہ محرم و صفر ۶ ھ کے تھے۔
واللہ اعلم۔

Battle of Khyber...جنگ خیبر

Posted by Unknown on 21:58 with No comments
ہجرت کا ساتواں سال

جنگ خیبر
“خیبر” مدینہ سے آٹھ منزل کی دوری پر ایک شہر ہے۔ ایک انگریز سیاح نے لکھا ہے کہ خیبر مدینہ سے تین سو بیس کلو میٹر دور ہے۔ یہ بڑا زرخیز علاقہ تھا اور یہاں عمدہ کھجوریں بکثرت پیدا ہوتی تھیں۔ عرب میں یہودیوں کا سب سے بڑا مرکز یہی خیبر تھا۔ یہاں کے یہودی عرب میں سب سے زیادہ مالدار اور جنگجو تھے اور ان کو اپنی مالی اور جنگی طاقتوں پر بڑا ناز اور گھمنڈ بھی تھا۔ یہ لوگ اسلام اور بانی ٔ اسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن تھے۔ یہاں یہودیوں نے بہت سے مضبوط قلعے بنا رکھے تھے جن میں سے بعض کے آثار اب تک موجود ہیں۔ ان میں سے آٹھ قلعے بہت مشہور ہیں۔ جن کے نام یہ ہیں :

(۱)کتیبہ
(۲) ناعم
(۳) شق
(۴) قموص
(۵)نطارہ
(۶) صعب
(۷) سطیخ
(۸) سلالم۔

در حقیقت یہ آٹھوں قلعے آٹھ محلوں کے مثل تھے اور انہی آٹھوں قلعوں کا مجموعہ”خیبر” کہلاتا تھا۔
(مدارج النبوۃ ج۲ص۲۳۴ )
ہجرت کا ساتواں سال

غزوۂ ذات القرد

مدینہ کے قریب “ذاتُ القرد” ایک چرا گاہ کا نام ہے جہاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اونٹنیاں چرتی تھیں۔ عبدالرحمن بن عیینہ فزاری نے جو قبیلہ غطفان سے تعلق رکھتا تھا اپنے چند آدمیوں کے ساتھ ناگہاں اس چراگاہ پر چھاپہ مارا اور یہ لوگ بیس اونٹنیوں کو پکڑ کر لے بھاگے۔ مشہور تیر انداز صحابی حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سب سے پہلے اس کی خبر معلوم ہوئی۔ انہوں نے اس خطرہ کا اعلان کرنے کے لئے بلند آواز سے یہ نعرہ مارا کہ ”یا صباحاہ” پھر اکیلے ہی ان ڈاکوؤں کے تعاقب میں دوڑ پڑے اور ان ڈاکوؤں کو تیر مار مار کر تمام اونٹنیوں کو بھی چھین لیا اور ڈاکو بھاگتے ہوئے جو تیس چادریں پھینکتے گئے تھے ان چادروں پر بھی قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لشکر لے کر پہنچے۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں نے ان چھاپہ ماروں کو ابھی تک پانی نہیں پینے دیا ہے۔ یہ سب پیاسے ہیں۔ ان لوگوں کے تعاقب میں لشکر بھیج دیجئے تو یہ سب گرفتار ہوجائیں گے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی اونٹنیوں کے مالک ہوچکے ہو۔ اب ان لوگوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرو۔ پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے اونٹ پر اپنے پیچھے بٹھا لیا اور مدینہ واپس تشریف لائے۔

حضرت امام بخاری کا بیان ہے کہ یہ غزوہ جنگ خیبر کے لئے روانہ ہونے سے تین دن قبل ہوا۔
(بخاری غزوه ذات القرد ج۲ ص۶۰۳ و مسلم ج۲ ص۱۱۳)

Thursday, 22 August 2013

ہجرت کا چھٹا سال

چھ۶ ھ کی بعض لڑائیاں

۶ھ میں صلح حدیبیہ سے قبل چند چھوٹے چھوٹے لشکروں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مختلف اطراف میں روانہ فرمایا تا کہ وہ کفار کے حملوں کی مدافعت کرتے رہیں۔ ان لڑائیوں کا مفصل تذکرہ زرقانی علی المواہب اور مدارج النبوۃ وغیرہ کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ مگر ان لڑائیوں کی ترتیب اور ان کی تاریخوں میں مؤرخین کا بڑا اختلاف ہے۔ اس لئے ٹھیک طور پر ان کی تاریخوں کی تعیین بہت مشکل ہے۔ ان واقعات کا چیدہ چیدہ بیان حدیثوں میں موجود ہے مگر حدیثوں میں بھی ان کی تاریخیں مذکور نہیں ہیں۔ البتہ بعض قرائن و شواہد سے اتنا پتا چلتا ہے کہ یہ سب صلح حدیبیہ سے قبل کے واقعات ہیں۔ ان لڑائیوں میں سے چند کے نام یہ ہیں:

(۱)
سریۂ قرطاء
(۲)
غزوۂ بنی لحیان
(۳)
سریۃ الغمر
(۴)
سریۂ زید بجانب جموم
(۵)
سریۂ زید بجانب عیص
(۶)
سریۂ زید بجانب وادی القریٰ
(۷)
سریۂ علی بجانب بنی سعد
(۸)
سریۂ زید بجانب ام قرفہ
(۹)
سریۂ ابن رواحہ
(۱۰)
سریۂ ابن مسلمہ
(۱۱)
سریۂ زید بجانب طرف
(۱۲)
سریۂ عکل وعرینہ
(۱۳)
بعث ضمری۔
ان لڑائیوں کے ناموں میں بھی اختلاف ہے۔ ہم نے یہاں ان لڑائیوں کے مذکورہ بالا نام زرقانی علی المواہب کی فہرست سے نقل کئے ہیں۔
(فهرست زرقاني علي المواهب ج۲ ص۳۵۰)
ہجرت کا چھٹا سال

ابو رافع قتل کردیا گیا

۶ھ کے واقعات میں سے ابو رافع یہودی کا قتل بھی ہے۔ ابو رافع یہودی کا نام عبداللہ بن ابی الحقیق یا سلام بن الحقیق تھا۔ یہ بہت ہی دولت مند تاجر تھا لیکن اسلام کا زبردست دشمن اور بارگاہ نبوت کی شان میں نہایت ہی بدترین گستاخ اور بے ادب تھا۔ یہ وہی شخص ہے جو حیی بن اخطب یہودی کے ساتھ مکہ گیا اور کفار قریش اور دوسرے قبائل کو جوش دلا کر غزوۂ خندق میں مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے دس ہزار کی فوج لے کر آیا تھا اور ابو سفیان کو اُبھار کر اسی نے اس فوج کا سپہ سالار بنایا تھا۔ حیی بن اخطب تو جنگ خندق کے بعد غزوہ بنی قریظہ میں مارا گیا تھا مگر یہ بچ نکلا تھا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایذارسانی اور اسلام کی بیخ کنی میں تن، من، دھن سے لگا ہوا تھا۔ انصار کے دونوں قبیلوں اوس اور خزرج میں ہمیشہ مقابلہ رہتا تھا اور یہ دونوں اکثر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ چونکہ قبیلہ اوس کے لوگوں حضرت محمد بن مسلمہ وغیرہ نے ۳ ھ میں بڑے خطرہ میں پڑ کر ایک دشمن رسول ”کعب بن اشرف یہودی” کو قتل کیا تھا۔ اس لئے قبیلۂ خزرج کے لوگوں نے مشورہ کیا کہ اب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا سب سے بڑا دشمن ”ابو رافع” رہ گیا ہے۔ لہٰذا ہم لوگوں کو چاہئے کہ اس کو قتل کر ڈالیں تا کہ ہم لوگ بھی قبیلہ اوس کی طرح ایک دشمن رسول کو قتل کرنے کا اجر و ثواب حاصل کرلیں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عتیک و عبداللہ بن انیس و ابو قتادہ و حارث بن ربعی و مسعود بن سنان و خزاعی بن اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کے لئے مستعد اور تیار ہوئے۔ ان لوگوں کی درخواست پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس جماعت کا امیر مقرر فرما دیا اور ان لوگوں کو منع کردیا کہ بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کیا جائے۔
(زرقاني علي المواهب ج۲ ص۱۶۳)

حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابو رافع کے محل کے پاس پہنچے اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ تم لوگ یہاں بیٹھ کر میری آمد کا انتظار کرتے رہو اور خود بہت ہی خفیہ تدبیروں سے رات میں اس کے محل کے اندر داخل ہوگئے اور اس کے بستر پر پہنچ کر اندھیرے میں اس کو قتل کردیا۔ جب محل سے نکلنے لگے تو سیڑھی سے گر پڑے جس سے ان کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ مگر انہوں نے فوراً ہی اپنی پگڑی سے اپنے ٹوٹے ہوئے پاؤں کو باندھ دیااور کسی طرح محل سے باہر آگئے۔ پھر اپنے ساتھیوں کی مدد سے مدینہ پہنچے۔ جب دربار رسالت میں حاضر ہو کر ابو رافع کے قتل کا سارا ماجرا بیان کیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”پاؤں پھیلاؤ” انہوں نے پاؤں پھیلایا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان کے پاؤں پر پھرا دیا۔ فوراً ہی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑ گئی اور ان کا پاؤں بالکل صحیح و سالم ہوگیا۔
(بخاری ج۱ ص۲۲۴ باب قتل النائم المشرک )

Siriyah Najad...سریۂ نجد

Posted by Unknown on 00:00 with No comments
ہجرت کا چھٹا سال

سریۂ نجد

۶ھ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ماتحتی میں ایک لشکر نجد کی جانب روانہ فرمایا۔ ان لوگوں نے بنی حنیفہ کے سردار ثمامہ بن اُثال کو گرفتار کر لیا اور مدینہ لائے۔ جب لوگوں نے ان کو بارگاہ رسالت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کو مسجد نبوی کے ایک ستون میں باندھ دیا جائے۔ چنانچہ یہ ستون میں باندھ دیئے گئے۔ پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور دریافت فرمایا کہ اے ثمامہ! تمہارا کیا حال ہے؟ اور تم اپنے بارے میں کیا گمان رکھتے ہو؟ ثمامہ نے جواب دیا کہ اے محمد! (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) میرا حال اور خیال تو اچھا ہی ہے۔ اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک خونی آدمی کو قتل کریں گے اور اگر مجھے اپنے انعام سے نواز کر چھوڑ دیں گے تو ایک شکر گزار کو چھوڑیں گے اور اگر آپ مجھ سے کچھ مال کے طلبگار ہوں تو بتا دیجئے۔ آپ کو مال دیا جائے گا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یہ گفتگو کر کے چلے آئے۔ پھر دوسرے روز بھی یہی سوال و جواب ہوا۔ پھر تیسرے روز بھی یہی ہوا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ثمامہ کو چھوڑ دو۔ چنانچہ لوگوں نے ان کو چھوڑ دیا۔ ثمامہ مسجد سے نکل کر ایک کھجور کے باغ میں چلے گئے جو مسجد نبوی کے قریب ہی میں تھا۔ وہاں انہوں نے غسل کیا۔ پھر مسجد نبوی میں واپس آئے اور کلمۂ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوگئے اور کہنے لگے کہ خدا کی قسم! مجھے جس قدر آپ کے چہرہ سے نفرت تھی اتنی روئے زمین پر کسی کے چہرہ سے نہ تھی۔ مگر آج آپ کے چہرہ سے مجھے اس قدر محبت ہو گئی ہے کہ اتنی محبت کسی کے چہرہ سے نہیں ہے۔ کوئی دین میری نظر میں اتنا ناپسند نہ تھا جتنا آپ کا دین لیکن آج کوئی دین میری نظر میں اتنا محبوب نہیں ہے جتنا آپ کا دین۔ کوئی شہر میری نگاہ میں اتنا برا نہ تھا جتنا آپ کا شہر اور اب میرا یہ حال ہوگیا ہے کہ آپ کے شہر سے زیادہ مجھے کوئی شہر محبوب نہیں ہے۔ یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں عمرہ ادا کرنے کے ارادہ سے مکہ جا رہا تھا کہ آپ کے لشکر نے مجھے گرفتار کر لیا۔ اب آپ میرے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو دنیا و آخرت کی بھلائیوں کا مژدہ سنایا اور پھر حکم دیا کہ تم مکہ جا کر عمرہ ادا کرلو!

جب یہ مکہ پہنچے اور طواف کرنے لگے تو قریش کے کسی کافر نے ان کو دیکھ کر کہا کہ اے ثمامہ! تم صابی (بے دین) ہو گئے ہو۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت جرأت کے ساتھ جواب دیا کہ میں بے دین نہیں ہوا ہوں بلکہ میں مسلمان ہو گیا ہوں اور اے اہل مکہ! سن لو! اب جب تک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اجازت نہ دیں گے تم لوگوں کو ہمارے وطن سے گیہوں کا ایک دانہ بھی نہیں مل سکے گا۔ مکہ والوں کے لئے ان کے وطن ”یمامہ” ہی سے غلہ آیا کرتا تھا۔
(بخاری ج۲ ص۶۲۷ باب وفد بني حنيفه و حديث ثمامه و مسلم ج۲ ص۹۳ باب ربط الاسير و مدارج ج۲ ص۱۸۹ )

Wednesday, 21 August 2013

ہجرت کا چھٹا سال

حارث غسانی کا گھمنڈ

حضرت شجاع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب حارث غسانی والی غسان کے سامنے نامۂ اقدس کو پیش کیا تو وہ مغرور خط کو پڑھ کر برہم ہوگیا اور اپنی فوج کو تیاری کا حکم دے دیا۔ چنانچہ مدینہ کے مسلمان ہر وقت اس کے حملہ کے منتظر رہنے لگے۔ اور بالآخر ”غزوہ موتہ” اور ”غزوہ تبوک” کے واقعات در پیش ہوئے جن کا مفصل تذکرہ ہم آگے تحریر کریں گے۔

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان بادشاہوں کے علاوہ اور بھی بہت سے سلاطین و امراء کو دعوت اسلام کے خطوط تحریر فرمائے جن میں سے کچھ نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کچھ خوش نصیبوں نے اسلام قبول کر کے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں نیاز مندیوں سے بھرے ہوئے خطوط بھی بھیجے۔ مثلاً یمن کے شاہان حمیر میں سے جن جن بادشاہوں نے مسلمان ہو کر بارگاہ نبوت میں عرضیاں بھیجیں جو غزوۂ تبوک سے واپسی پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچیں ان بادشاہوں کے نام یہ ہیں:

(۱)
حارث بن عبد کلال

(۲)
نعیم بن عبد کلال

(۳)
نعمان حاکم ذورعین و معافر و ہمدان

(۴)
زرعہ

یہ سب یمن کے بادشاہ ہیں۔

ان کے علاوہ “فروہ بن عمرو” جو کہ سلطنت روم کی جانب سے گورنر تھا۔ اپنے اسلام لانے کی خبر قاصد کے ذریعہ بارگاہ رسالت میں بھیجی۔ اس طرح ” باذان ” جو بادشاہ ایران کسریٰ کی طرف سے صوبہ یمن کا صوبہ دار تھا اپنے دو بیٹوں کے ساتھ مسلمان ہو گیا اور ایک عرضی تحریر کر کے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے اسلام کی خبر دی۔ ان سب کا مفصل تذکرہ ”سیرت ابن ہشام و زرقانی و مدارج النبوۃ” وغیرہ میں موجود ہے۔ ہم اپنی اس مختصر کتاب میں ان کا مفصل بیان تحریر کرنے سے معذرت خواہ ہیں۔ ان کے علاوہ ”فروہ بن عمرو” جو کہ سلطنت روم کی جانب سے گورنر تھا۔ اپنے اسلام لانے کی خبر قاصد کے ذریعہ بارگاہ رسالت میں بھیجی۔ اس طرح ”باذان” جو بادشاہ ایران کسریٰ کی طرف سے صوبہ یمن کا صوبہ دار تھا اپنے دو بیٹوں کے ساتھ مسلمان ہو گیا اور ایک عرضی تحریر کر کے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے اسلام کی خبر دی۔ ان سب کا مفصل تذکرہ ”سیرت ابن ہشام و زرقانی و مدارج النبوۃ” وغیرہ میں موجود ہے۔ ہم اپنی اس مختصر کتاب میں ان کا مفصل بیان تحریر کرنے سے معذرت خواہ ہیں۔
ہجرت کا چھٹا سال

بادشاہ یمامہ کا جواب

حضرت سلیط رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب “ہوذہ” بادشاہ یمامہ کے پاس خط لے کر پہنچے تو اس نے بھی قاصد کا احترام کیا۔ لیکن اسلام قبول نہیں کیا اور جواب میں یہ لکھا کہ آپ جو باتیں کہتے ہیں وہ نہایت اچھی ہیں۔ اگر آپ اپنی حکومت میں سے کچھ مجھے بھی حصہ دیں تو میں آپ کی پیروی کروں گا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کا خط پڑھ کر فرمایا کہ اسلام ملک گیری کی ہوس کے لئے نہیں آیا ہے اگر زمین کا ایک ٹکڑا بھی ہو تو میں نہ دوں گا۔
(مدارج النبوة ج۲ ص۲۲۹ )
ہجرت کا چھٹا سال

شاہ مصر کا برتاؤ

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ”مقوقس” مصر و اسکندریہ کے بادشاہ کے پاس قاصد بنا کر بھیجا۔ یہ نہایت ہی اخلاق کے ساتھ قاصد سے ملا اور فرمانِ نبوی کو بہت ہی تعظیم و تکریم کے ساتھ پڑھا۔ مگر مسلمان نہیں ہوا۔ ہاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں چند چیزوں کا تحفہ بھیجا۔ دو لونڈیاں ایک حضرت ”ماریہ قبطیہ” رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حرم میں داخل ہوئیں اور انہیں کے شکم مبارک سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے۔ دوسری حضرت ”سیرین” رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں جن کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا فرما دیا۔ ان کے بطن سے حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے ان دونوں لونڈیوں کے علاوہ ایک سفید گدھا جس کا نام ”یعفور” تھا اور ایک سفید خچر جو دُلدل کہلاتا تھا، ایک ہزار مثقال سونا، ایک غلام، کچھ شہد، کچھ کپڑے بھی تھے۔
ہجرت کا چھٹا سال

نجاشی کا کردار

نجاشی بادشاہ حبشہ کے پاس جب فرمان رسالت پہنچا تو اس نے کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس معاملہ میں مؤرخین کا اختلاف ہے کہ اس نجاشی نے اسلام قبول کیا یا نہیں ؟ مگر مواہب لدنیہ میں لکھا ہوا ہے کہ یہ نجاشی جس کے پاس اعلان نبوت کے پانچویں سال مسلمان مکہ سے ہجرت کر کے گئے تھے اور ۶ ھ میں جس کے پاس حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خط بھیجا اور ۹ ھ میں جس کا انتقال ہوا اور مدینہ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی اس کا نام “اصمحہ” تھا اور یہ بلاشبہ مسلمان ہو گیا تھا۔ لیکن اس کے بعد جو نجاشی تخت پر بیٹھا اس کے پاس بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسلام کا دعوت نامہ بھیجا تھا۔ مگر اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اس نجاشی کا نام کیا تھا ؟ اور اس نے اسلام قبول کیا یا نہیں؟ مشہور ہے کہ یہ دونوں مقدس خطوط اب تک سلاطین حبشہ کے پاس موجود ہیں اور وہ لوگ اس کا بے حد ادب و احترام کرتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(مدارج النبوة ج۲ ص۲۲۰ )
ہجرت کا چھٹا سال

خسرو پرویز کی بددماغی

تقریباً اسی مضمون کے خطوط دوسرے بادشاہوں کے پاس بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے روانہ فرمائے۔ شہنشاہ ایران خسرو پرویز کے دربار میں جب نامہ مبارک پہنچا تو صرف اتنی سی بات پر اس کے غرور اور گھمنڈ کا پارہ اتنا چڑھ گیا کہ اس نے کہا کہ اس خط میں محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے میرے نام سے پہلے اپنا نام کیوں لکھا؟ یہ کہہ کر اس نے فرمان رسالت کو پھاڑ ڈالا اور پرزے پرزے کر کے خط کو زمین پر پھینک دیا۔ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ خبر ملی تو آپ نے فرمایا کہ

مَزَّقَ كِتَابِيْ مَزَّقَ اللّٰهُ مُلْكَهٗ


اس نے میرے خط کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا خدا اس کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔

چنانچہ اس کے بعد ہی خسرو پرویز کو اس کے بیٹے “شیرویہ” نے رات میں سوتے ہوئے اس کا شکم پھاڑ کر اس کو قتل کر دیا۔ اور اس کی بادشاہی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ یہاں تک کہ حضرت امیر المومنین عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں یہ حکومت صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔
(مدارج النبوة ج۲ ص۲۲۵ وغيره و بخاری ج۱ ص۴۱۱ )
ہجرت کا چھٹا سال

نامہ مبارک اور قیصر

حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا مقدس خط لے کر ”بصریٰ” تشریف لے گئے اور وہاں قیصر روم کے گورنر شام حارث غسانی کو دیا۔ اس نے اس نامہ مبارک کو ”بیت المقدس” بھیج دیا۔ کیونکہ قیصر روم ”ہرقل” ان دنوں بیت المقدس کے دورہ پر آیا ہوا تھا۔ قیصر کو جب یہ مبارک خط ملا تو اس نے حکم دیا کہ قریش کا کوئی آدمی ملے تو اس کو ہمارے دربار میں حاضر کرو۔ قیصر کے حکام نے تلاش کیا تو اتفاق سے ابوسفیان اور عرب کے کچھ دوسرے تاجر مل گئے۔ یہ سب لوگ قیصر کے دربار میں لائے گئے۔ قیصر نے بڑے طمطراق کے ساتھ دربار منعقد کیا اور تاج شاہی پہن کر تخت پر بیٹھا۔ اور تخت کے گرد اراکین سلطنت، بطارقہ اور احبار و رہبان وغیرہ صف باندھ کر کھڑے ہوگئے۔ اسی حالت میں عرب کے تاجروں کا گروہ دربار میں حاضر کیا گیا اور شاہی محل کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے۔ پھر قیصر نے ترجمان کو بلایا اور اس کے ذریعہ گفتگو شروع کی۔ سب سے پہلے قیصر نے یہ سوال کیا کہ عرب میں جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تم میں سے ان کا سب سے قریبی رشتہ دار کون ہے ؟ ابو سفیان نے کہا کہ ”میں” قیصر نے ان کو سب سے آگے کیا اور دوسرے عربوں کو ان کے پیچھے کھڑا کیا اور کہا کہ دیکھو! اگر ابو سفیان کوئی غلط بات کہے تو تم لوگ اس کا جھوٹ ظاہر کر دینا۔ پھر قیصر اور ابو سفیان میں جو مکالمہ ہوا وہ یہ ہے:

قیصر     مدعی نبوت کا خاندان کیسا ہے؟

ابو سفیان    ان کا خاندان شریف ہے۔   

قیصر کیا اس خاندان میں ان سے پہلے بھی کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا؟
       
ابو سفیان      نہیں۔

قیصر کیا ان کے باپ داداؤں میں کوئی بادشاہ تھا؟    

ابو سفیان     نہیں۔

قیصر        جن لوگوں نے ان کا دین قبول کیا ہے وہ کمزور لوگ ہیں یا صاحب اثر؟
   
ابو سفیان      کمزور لوگ ہیں۔

قیصر ان کے متبعین بڑھ رہے ہیں یا گھٹتے جارہے ہیں؟

ابو سفیان     بڑھتے جا رہے ہیں۔

قیصر      کیا کوئی ان کے دین میں داخل ہو کر پھر اس کو ناپسند کر کے پلٹ بھی جاتا ہے؟
       
ابو سفیان   نہیں۔

قیصر    کیا نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے تم لوگ انہیں جھوٹا سمجھتے تھے؟

ابو سفیان   نہیں۔

قیصر     کیا وہ کبھی عہد شکنی اور وعدہ خلافی بھی کرتے ہیں؟

ابو سفیان     ابھی تک تو نہیں کی ہے لیکن اب ہمارے اور ان کے درمیان (حدیبیہ) میں جو ایک نیا معاہدہ ہوا ہے معلوم نہیں اس میں وہ کیا کریں گے؟

قیصر    کیا کبھی تم لوگوں نے ان سے جنگ بھی کی؟

ابو سفیان      ہاں۔

قیصر    نتیجہ جنگ کیا رہا؟

ابو سفیان    کبھی ہم جیتے، کبھی وہ۔

قیصر       وہ تمہیں کن باتوں کا حکم دیتے ہیں؟

ابو سفیان     وہ کہتے ہیں کہ صرف ایک خدا کی عبادت کرو کسی اور کو خدا کا شریک نہ ٹھہراؤ، بتوں کو چھوڑو، نماز پڑھو، سچ بولو، پاک دامنی اختیار کرو، رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔        

اس سوال و جواب کے بعد قیصر نے کہا کہ تم نے ان کو خاندانی شریف بتایا اور تمام پیغمبروں کا یہی حال ہے کہ ہمیشہ پیغمبر اچھے خاندانوں ہی میں پیدا ہوتے ہیں۔ تم نے کہا کہ ان کے خاندان میں کبھی کسی اور نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ اگر ایسا ہوتا تو میں کہہ دیتا کہ یہ شخص اوروں کی نقل اتار رہا ہے۔ تم نے اقرار کیا ہے کہ ان کے خاندان میں کبھی کوئی بادشاہ نہیں ہوا ہے۔ اگر یہ بات ہوتی تو میں سمجھ لیتا کہ یہ شخص اپنے آباء و اجداد کی بادشاہی کا طلبگار ہے۔ تم مانتے ہو کہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے وہ کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولے تو جو شخص انسانوں سے جھوٹ نہیں بولتا بھلا وہ خدا پر کیوں کر جھوٹ باندھ سکتا ہے؟ تم کہتے ہو کہ کمزور لوگوں نے ان کے دین کو قبول کیا ہے۔ تو سن لو ہمیشہ ابتداء میں پیغمبروں کے متبعین مفلس اور کمزور ہی لوگ ہوتے رہے ہیں۔ تم نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کی پیروی کرنے والے بڑھتے ہی جارہے ہیں تو ایمان کا معاملہ ہمیشہ ایسا ہی رہا ہے کہ اس کے ماننے والوں کی تعداد ہمیشہ بڑھتی ہی جاتی ہے۔ تم کو یہ تسلیم ہے کہ کوئی ان کے دین سے پھر کر مرتد نہیں ہو رہا ہے۔ تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ایمان کی شان ایسی ہی ہوا کرتی ہے کہ جب اس کی لذت کسی کے دل میں گھر کر لیتی ہے تو پھر وہ کبھی نکل نہیں سکتی۔ تمہیں اس کا اعتراف ہے کہ انہوں نے کبھی کوئی غداری اور بدعہدی نہیں کی ہے۔ تو رسولوں کا یہی حال ہوتا ہے کہ وہ کبھی کوئی دغا فریب کا کام کرتے ہی نہیں۔ تم نے ہمیں بتایا کہ وہ خدائے واحد کی عبادت، شرک سے پرہیز، بت پرستی سے ممانعت، پاک دامنی، صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ تو سن لو کہ تم نے جو کچھ کہا ہے اگر یہ صحیح ہے تو وہ عنقریب اس جگہ کے مالک ہو جائیں گے جہاں اس وقت میرے قدم ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ایک رسول کا ظہور ہونے والا ہے مگر میرا یہ گمان نہیں تھا کہ وہ رسول تم عربوں میں سے ہوگا۔ اگر میں یہ جان لیتا کہ میں ان کی بارگاہ میں پہنچ سکوں گا تو میں تکلیف اٹھا کر وہاں تک پہنچتا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو میں ان کا پاؤں دھوتا۔ قیصر نے اپنی اس تقریر کے بعد حکم دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خط پڑھ کر سنایا جائے۔ نامہ مبارک کی عبارت یہ تھی:

بسم الله الرحمٰن الرحيم من محمد عبد الله و رسوله الي هرقل عظيم الروم سلام علٰي من اتبع الهدی اما بعد فاني ادعوك بدعاية الاسلام اسلم تسلم يوتك الله اجرك مرتين فان توليت فان عليک اثم الاريسين یااهل الكتاب تعالوا الٰي کلمة سواء بيننا و بينکم ان لا نعبد الا الله و لا نشرك به شيئا و لا يتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون الله فان تولوا فقولوا اشهدوا بانا مسلمون

شروع کرتا ہوں میں خدا کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ اللہ کے بندے اور رسول محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کی طرف سے یہ خط ” ہرقل ” کے نام ہے جو روم کا بادشاہ ہے۔ اس شخص پر سلامتی ہو جو ہدایت کا پیرو ہے۔ اس کے بعد میں تجھ کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں تو مسلمان ہو جا تو سلامت رہے گا۔ خدا تجھ کو دو گنا ثواب دے گا۔ اور اگر تو نے روگردانی کی تو تیری تمام رعایا کا گناہ تجھ پر ہوگا۔ اے اہل کتاب !ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور ہم میں سے بعض لوگ دوسرے بعض لوگوں کو خدا نہ بنائیں اور اگر تم نہیں مانتے تو گواہ ہوجاؤ کہ ہم مسلمان ہیں!

قیصر نے ابو سفیان سے جو گفتگو کی اس سے اس کے درباری پہلے ہی انتہائی برہم اور بیزار ہو چکے تھے۔ اب یہ خط سنا۔ پھر جب قیصر نے ان لوگوں سے یہ کہا کہ اے جماعت روم! اگر تم اپنی فلاح اور اپنی بادشاہی کی بقا چاہتے ہو تو اس نبی کی بیعت کرلو۔ تو درباریوں میں اس قدر ناراضگی اور بیزاری پھیل گئی کہ وہ لوگ جنگلی گدھوں کی طرح بدک بدک کر دربار سے دروازوں کی طرف بھاگنے لگے۔ مگر چونکہ تمام دروازے بند تھے اس لئے وہ لوگ باہر نہ نکل سکے۔ جب قیصر نے اپنے درباریوں کی نفرت کا یہ منظر دیکھا تو وہ ان لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہو گیا اور اس نے کہا کہ ان درباریوں کو بلاؤ۔ جب سب آ گئے تو قیصر نے کہا کہ ابھی ابھی میں نے تمہارے سامنے جو کچھ کہا۔ اس سے میرا مقصد تمہارے دین کی پختگی کا امتحان لینا تھا تو میں نے دیکھ لیا کہ تم لوگ اپنے دین میں بہت پکے ہو۔ یہ سن کر تمام درباری قیصر کے سامنے سجدہ میں گر پڑے اور ابو سفیان وغیرہ دربار سے نکال دیئے گئے اور دربار برخواست ہو گیا۔ چلتے وقت ابو سفیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اب یقینا ابو کبشہ کے بیٹے (محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کا معاملہ بہت بڑھ گیا۔ دیکھ لو! رومیوں کا بادشاہ ان سے ڈر رہا ہے۔
(بخاری باب کیف کان بدء الوحی ج۱ ص۴ تا ۵ و مسلم ج۲ ص ۹۷ تا ۹۹، مدارج ج۲ ص۲۲۱ وغيره)

قیصر چونکہ توراۃ و انجیل کا ماہر اور علم نجوم سے واقف تھا اس لئے وہ نبی آخرالزماں کے ظہور سے باخبر تھا اور ابو سفیان کی زبان سے حالات سن کر اس کے دل میں ہدایت کا چراغ روشن ہو گیا تھا۔ مگر سلطنت کی حرص و ہوس کی آندھیوں نے اس چراغ ہدایت کو بجھا دیا اور وہ اسلام کی دولت سے محروم رہ گیا۔

Tuesday, 20 August 2013

ہجرت کا چھٹا سال

سلاطین کے نام دعوت اسلام

۶ھ میں صلح حدیبیہ کے بعد جب جنگ و جدال کے خطرات ٹل گئے اور ہر طرف امن و سکون کی فضا پیدا ہو گئی تو چونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کا دائرہ صرف خطۂ عرب ہی تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام عالم کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے اس لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ اسلام کا پیغام تمام دنیا میں پہنچا دیا جائے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے
روم کے بادشاہ ”قیصر”
فارس کے بادشاہ ”کسریٰ”
حبشہ کے بادشاہ ”نجاشی”
مصر کے بادشاہ ”عزیز”
اور دوسرے سلاطین عرب و عجم کے نام دعوت اسلام کے خطوط روانہ فرمائے۔

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کون کون حضرات ان خطوط کو لے کر کن کن بادشاہوں کے دربار میں گئے؟ ان کی فہرست کافی طویل ہے مگر ایک ہی دن چھ خطوط لکھوا کر اور اپنی مہر لگا کر جن چھ قاصدوں کو جہاں جہاں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے روانہ فرمایا وہ یہ ہیں۔

(۱)
حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر قل قیصر روم کے دربار میں

(۲)
حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خسرو پرویز شاہ ایران

(۳)
حضرت حاطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقوقس عزیز مصر

(۴)
حضرت عمروبن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نجاشی بادشاہ حبشہ

(۵)
حضرت سلیط بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوذہ بادشاہ یمامہ

(٦)
حضرت شجاع بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حارث غسانی والی غسان
ہجرت کا چھٹا سال

حضرت ابو بصیر کا کارنامہ

صلح حدیبیہ سے فارغ ہو کر جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لائے تو سب سے پہلے جو بزرگ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے وہ حضرت ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ کفار مکہ نے فوراً ہی دو آدمیوں کو مدینہ بھیجا کہ ہمارا آدمی واپس کر دیجئے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ”تم مکے چلے جاؤ، تم جانتے ہو کہ ہم نے کفارقریش سے معاہدہ کرلیا ہے اور ہمارے دین میں عہد شکنی اور غداری جائز نہیں ہے” حضرت ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیا آپ مجھ کو کافروں کے حوالہ فرمائیں گے تاکہ وہ مجھ کو کفر پر مجبور کریں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم جاؤ! خداوند کریم تمہاری رہائی کا کوئی سبب بنا دے گا۔ آخر مجبور ہو کر حضرت ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں کافروں کی حراست میں مکہ واپس ہو گئے۔ لیکن جب مقام ”ذوالحلیفہ” میں پہنچے تو سب کھانے کے لئے بیٹھے اور باتیں کرنے لگے۔ حضرت ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک کافر سے کہا کہ اجی! تمہاری تلوار بہت اچھی معلوم ہوتی ہے۔ اس نے خوش ہو کر نیام سے تلوار نکال کر دکھائی اور کہا کہ بہت ہی عمدہ تلوار ہے اور میں نے با رہا لڑائیوں میں اس کا تجربہ کیا ہے۔ حضرت ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ذرا میرے ہاتھ میں تو دو۔ میں بھی دیکھوں کہ کیسی تلوار ہے؟ اس نے ان کے ہاتھ میں تلوار دے دی۔ انہوں نے تلوار ہاتھ میں لے کر اس زور سے تلوار ماری کہ کافر کی گردن کٹ گئی اور اس کا سر دور جا گرا۔ اس کے ساتھی نے جو یہ منظر دیکھا تو وہ سر پر پیر رکھ کر بھاگا اور سر پٹ دوڑتا ہوا مدینہ پہنچا اور مسجد نبوی میں گھس گیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو دیکھتے ہی فرمایا کہ یہ شخص خوفزدہ معلوم ہوتا ہے۔ اس نے ہانپتے کانپتے ہوئے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ میرے ساتھی کو ابو بصیر نے قتل کر دیا اور میں بھی ضرور مارا جاؤں گا۔ اتنے میں حضرت ابوبصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ننگی تلوار ہاتھ میں لئے ہوئے آن پہنچے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذمہ داری پوری کردی کیونکہ صلح نامہ کی شرط کے بموجب آپ نے تو مجھ کو واپس کردیا۔ اب یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ اس نے مجھ کو ان کافروں سے نجات دے دی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس واقعہ سے بڑا رنج پہنچا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خفا ہو کر فرمایا کہ

وَيْلُ اُمِّهٖ مِسْعَرُ حَرْبٍ لَوْ کَانَ لَهٗ اَحَدٌ

اس کی ماں مرے! یہ تو لڑائی بھڑکا دے گا کاش اس کے ساتھ کوئی آدمی ہوتا جو اس کو روکتا۔

حضرت ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس جملہ سے سمجھ گئے کہ میں پھر کافروں کی طرف لوٹا دیا جاؤں گا، اس لئے وہ وہاں سے چپکے سے کھسک گئے اور ساحل سمندر کے قریب مقام ”عیص” میں جا کر ٹھہرے۔ ادھر مکہ سے حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی زنجیر کاٹ کر بھاگے اور وہ بھی وہیں پہنچ گئے۔ پھر مکہ کے دوسرے مظلوم مسلمانوں نے بھی موقع پاکر کفار کی قید سے نکل نکل کر یہاں پناہ لینی شروع کردی۔ یہاں تک کہ اس جنگل میں ستر آدمیوں کی جماعت جمع ہوگئی۔ کفار قریش کے تجارتی قافلوں کا یہی راستہ تھا۔ جو قافلہ بھی آمدورفت میں یہاں سے گزرتا، یہ لوگ اس کو لوٹ لیتے۔ یہاں تک کہ کفار قریش کے ناک میں دم کردیا۔ بالآخر کفار قریش نے خدا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خط لکھا کہ ہم صلح نامہ میں اپنی شرط سے باز آئے۔ آپ لوگوں کو ساحل سمندر سے مدینہ بلا لیجئے اور اب ہماری طرف سے اجازت ہے کہ جو مسلمان بھی مکہ سے بھاگ کر مدینہ جائے آپ اس کو مدینہ میں ٹھہرا لیجئے۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔
(بخاری باب الشروط في الجهاد ج۱ ص۳۸۰ )

یہ بھی روایت ہے کہ قریش نے خود ابو سفیان کو مدینہ بھیجا کہ ہم صلح نامہ حدیبیہ میں اپنی شرط سے دست بردار ہو گئے۔ لہٰذا آپ حضرت ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ میں بلا لیں تاکہ ہمارے تجارتی قافلے ان لوگوں کے قتل و غارت سے محفوظ ہو جائیں۔ چنانچہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس خط بھیجا کہ تم اپنے ساتھیوں سمیت مقامِ ”عیص” سے مدینہ چلے آؤ۔ مگر افسوس! کہ فرمانِ رسالت ان کے پاس ایسے وقت پہنچا جب وہ نزع کی حالت میں تھے۔ مقدس خط کو انہوں نے اپنے ہاتھ میں لے کر سر اور آنکھوں پر رکھا اور ان کی روح پرواز کر گئی۔ حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل جل کر ان کی تجہیز و تکفین کا انتظام کیا اور دفن کے بعد ان کی قبر شریف کے پاس یادگار کے لئے ایک مسجد بنا دی۔ پھر فرمان رسول کے بموجب یہ سب لوگ وہاں سے آکر مدینہ میں آباد ہوگئے۔
(مدارج النبوة ج ۲ ص۲۱۸ )
ہجرت کا چھٹا سال

مظلومین مکہ

ہجرت کے بعد جو لوگ مکہ میں مسلمان ہوئے انہوں نے کفار کے ہاتھوں بڑی بڑی مصیبتیں برداشت کیں۔ ان کو زنجیروں میں باندھ باندھ کر کفار کوڑے مارتے تھے لیکن جب بھی ان میں سے کوئی شخص موقع پاتا تو چھپ کر مدینہ آجاتا تھا۔ صلح حدیبیہ نے اس کا دروازہ بند کر دیا کیونکہ اس صلح نامہ میں یہ شرط تحریر تھی کہ مکہ سے جو شخص بھی ہجرت کر کے مدینہ جائے گا وہ پھر مکہ واپس بھیج دیا جائے گا۔
ہجرت کا چھٹا سال

حضرت ابو جندل کا معاملہ

یہ عجیب اتفاق ہے کہ معاہدہ لکھا جا چکا تھا لیکن ابھی اس پر فریقین کے دستخط نہیں ہوئے تھے کہ اچانک اسی سہیل بن عمرو کے صاحبزادے حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیڑیاں گھسیٹتے ہوئے گرتے پڑتے حدیبیہ میں مسلمانوں کے درمیان آن پہنچے۔ سہیل بن عمرو اپنے بیٹے کو دیکھ کر کہنے لگا کہ اے محمد! (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) اس معاہدہ کی دستاویز پر دستخط کرنے کے لئے میری پہلی شرط یہ ہے کہ آپ ابو جندل کو میری طرف واپس لوٹایئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی تو اس معاہدہ پر فریقین کے دستخط ہی نہیں ہوئے ہیں۔ ہمارے اور تمہارے دستخط ہو جانے کے بعد یہ معاہدہ نافذ ہوگا۔ یہ سن کر سہیل بن عمرو کہنے لگا کہ پھر جایئے۔ میں آپ سے کوئی صلح نہیں کروں گا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اے سہیل! تم اپنی طرف سے اجازت دے دو کہ میں ابو جندل کو اپنے پاس رکھ لوں۔ اس نے کہا کہ میں ہرگز کبھی اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب دیکھا کہ میں پھر مکہ لوٹا دیا جاؤں گا تو انہوں نے مسلمانوں سے فریاد کی اور کہا کہ اے جماعت مسلمین! دیکھو میں مشرکین کی طرف لوٹایا جارہا ہوں حالانکہ میں مسلمان ہوں اور تم مسلمانوں کے پاس آگیا ہوں کفار کی مار سے ان کے بدن پر چوٹوں کے جو نشانات تھے انہوں نے ان نشانات کو دکھا دکھا کر مسلمانوں کو جوش دلایا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقریر سن کر ایمانی جذبہ سوار ہو گیا اور وہ دندناتے ہوئے بارگاہ رسالت میں پہنچے اور عرض کیا کہ کیا آپ سچ مچ اللہ کے رسول نہیں ہیں؟ ارشاد فرمایا کہ کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا کہ کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں؟ ارشاد فرمایا کہ کیوں نہیں؟ پھر انہوں نے کہا کہ تو پھر ہمارے دین میں ہم کو یہ ذلت کیوں دی جارہی ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر! میں اللہ کا رسول ہوں۔ میں اس کی نافرمانی نہیں کرتا ہوں۔ وہ میرا مددگار ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیا آپ ہم سے یہ وعدہ نہ فرماتے تھے کہ ہم عنقریب بیت اللہ میں آکر طواف کریں گے؟ ارشاد فرمایا کہ کیا میں نے تم کو یہ خبر دی تھی کہ ہم اسی سال بیت اللہ میں داخل ہوں گے؟ انہوں نے کہا کہ ”نہیں” آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں پھر کہتا ہوں کہ تم یقینا کعبہ میں پہنچو گے اور اس کا طواف کرو گے۔

دربار رسالت سے اٹھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور وہی گفتگو کی جو بارگاہ رسالت میں عرض کر چکے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے عمر! وہ خدا کے رسول ہیں۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے کرتے ہیں وہ کبھی خدا کی نافرمانی نہیں کرتے اور خدا ان کا مددگار ہے اور خدا کی قسم! یقینا وہ حق پر ہیں لہٰذا تم ان کی رکاب تھامے رہو۔
(ابن هشام ج ۳ص۳۱۷ )

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تمام عمر اِن باتوں کا صدمہ اور سخت رنج و افسوس رہا جو انہوں نے جذبہ بے اختیاری میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کہہ دی تھیں۔ زندگی بھر وہ اس سے توبہ و استغفار کرتے رہے اور اس کے کفارہ کے لئے انہوں نے نمازیں پڑھیں، روزے رکھے، خیرات کی، غلام آزاد کئے۔ بخاری شریف میں اگرچہ ان اعمال کا مفصل تذکرہ نہیں ہے، اجمالاً ہی ذکر ہے لیکن دوسری کتابوں میں نہایت تفصیل کے ساتھ یہ تمام باتیں بیان کی گئی ہیں۔

بہر حال یہ بڑے سخت امتحان اور آزمائش کا وقت تھا۔ ایک طرف حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ گڑ گڑا کر مسلمانوں سے فریاد کر رہے ہیں اور ہر مسلمان اس قدر جوش میں بھرا ہوا ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ادب مانع نہ ہوتا تو مسلمانوں کی تلواریں نیام سے باہر نکل پڑتیں۔ دوسری طرف معاہدہ پر دستخط ہوچکے ہیں اور اپنے عہد کو پورا کرنے کی ذمہ داری سر پر آن پڑی ہے۔ حضورِ انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے موقع کی نزاکت کا خیال فرماتے ہوئے حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تم صبر کرو۔ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اور دوسرے مظلوموں کے لئے ضرور ہی کوئی راستہ نکالے گا۔ ہم صلح کا معاہدہ کرچکے اب ہم ان لوگوں سے بدعہدی نہیں کر سکتے۔ غرض حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی طرح پابہ زنجیر پھر مکہ واپس جانا پڑا۔

جب صلح نامہ مکمل ہو گیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ اٹھو اور قربانی کرو اور سرمنڈا کر احرام کھول دو۔ مسلمانوں کی ناگواری اور ان کے غیظ و غضب کا یہ عالم تھا کہ فرمان نبوی سن کر ایک شخص بھی نہیں اٹھا۔ مگر ادب کے خیال سے کوئی ایک لفظ بول بھی نہ سکا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس کا تذکرہ فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ میری رائے یہ ہے کہ آپ کسی سے کچھ بھی نہ کہیں اور خود آپ اپنی قربانی کرلیں اور بال ترشوا لیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو قربانی کرکے احرام اتارتے دیکھ لیا تو پھر وہ لوگ مایوس ہوگئے کہ اب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنا فیصلہ نہیں بدل سکتے تو سب لوگ قربانی کرنے لگے اور ایک دوسرے کے بال تراشنے لگے مگر اس قدر رنج و غم میں بھرے ہوئے تھے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کو قتل کر ڈالے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ منورہ کیلئے روانہ ہوگئے۔
(بخاری ج۲ ص۶۱۰ باب عمرة القضاء مسلم جلد ۲ ص۱۰۴ صلح حديبيه بخاری ج۱ ص۳۸۰ باب شروط في الجهاد الخ )

اس صلح کو تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ایک مغلوبانہ صلح اور ذلت آمیز معاہدہ سمجھا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس سے جو رنج و صدمہ گزرا وہ آپ پڑھ چکے۔ مگر اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا

اے حبیب! ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی۔

خداوند قدوس نے اس صلح کو ”فتح مبین” بتایا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کیا یہ ”فتح” ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”ہاں! یہ فتح ہے۔“

گو اس وقت اس صلح نامہ کے بارے میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے خیالات اچھے نہیں تھے۔ مگر اس کے بعد کے واقعات نے بتا دیا کہ در حقیقت یہی صلح تمام فتوحات کی کنجی ثابت ہوئی اور سب نے مان لیا کہ واقعی صلح حدیبیہ ایک ایسی فتح مبین تھی جو مکہ میں اشاعت اسلام بلکہ فتح مکہ کا ذریعہ بن گئی۔ اب تک مسلمان اور کفار ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہتے تھے ایک دوسرے سے ملنے جلنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا مگر اس صلح کی وجہ سے ایک دوسرے کے یہاں آمدورفت آزادی کے ساتھ گفت و شنید اور تبادلۂ خیالات کا راستہ کھل گیا۔ کفار مدینہ آتے اور مہینوں ٹھہر کر مسلمانوں کے کردار و اعمال کا گہرا مطالعہ کرتے۔ اسلامی مسائل اور اسلام کی خوبیوں کا تذکرہ سنتے جو مسلمان مکہ جاتے وہ اپنے چال چلن، عفت شعاری اور عبادت گزاری سے کفار کے دلوں پر اسلام کی خوبیوں کا ایسا نقش بٹھا دیتے کہ خود بخود کفار اسلام کی طرف مائل ہوتے جاتے تھے۔ چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ صلح حدیبیہ سے فتح مکہ تک اس قدر کثیر تعداد میں لوگ مسلمان ہوئے کہ اتنے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ چنانچہ حضرت خالد بن الولید (فاتح شام) اور حضرت عمرو بن العاص (فاتح مصر) بھی اسی زمانے میں خود بخود مکہ سے مدینہ جاکر مسلمان ہوئے۔
(رضی اللہ تعالیٰ عنہم)
(سيرت ابن هشام ج۳ ص۲۷۷ و ص۲۷۸ )