Showing posts with label Resurrection. Show all posts
Showing posts with label Resurrection. Show all posts

Saturday, 13 July 2013

نفس کا اکرام

Posted by Unknown on 21:58 with No comments

نفس کا اکرام

 حضرت عبدالرحمن بن جبیر رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسسلم کو ایک مرتبہ تیز بھوک لگی (اور کھانے کو کچھ نہ تھا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسسلم نے ایک پتھر لیا اور اسے پیٹ پر رکھ لیا اور فرمایا کتنے لوگ اٍیسے ہیں جواس دنیا میں لذیذ کھانوں اور نازو نعمت میں لگے ہیں اور وہ قیامت کے دن ننگے اور بھوکے ہوں گے اور بہت سے ایسے لوگ ہیں جو نفس کا اکرام کرنے والے ہوں گے لیکن حقیقت میں اسے ذلیل کرنے والے ہوں گے بہت سے وہ لوگ جو نفس کی تذلیل کرنے والے ہوں گے(دنیا میں) حقیقت میں اس کی (آخرت میں) عزت کرنے والے ہوں گے۔
 (ترغیب جلد۳ ص ۱۴۰)


حضرت ابوحجیفہ رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ میں نے گوشت روٹی کا ثرید کھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسسلم کی خدمت میں حاضر ہوا‘ مجھے ڈکار ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسسلم نے فرمایا اس ڈکار سے بچو جو آج دنیا میں جس قدر پیٹ بھرکر کھانے والا ہوگا کل قیامت میں اسی قدر بھوکا ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسسلم کے اس فرمان مبارک کے بعد حضرت ابوحجیفہ رضی اللہ عنہٗ نے کبھی پیٹ بھر نہیں کھایا یہاں تک کہ اس دنیا سے چل بسے۔ صبح کھاتے تو شام نہ کھاتے‘ شام کھاتے تو صبح نہ کھاتے۔ ابن ابی الدنیا کی ایک روایت میں ہے کہ ابوحجیفہ رضی اللہ عنہٗ نے کہا میں نے تیس سال تک پیٹ بھر نہیں کھایا۔

(ترغیب جلد۳ ص ۱۳۷)

Tuesday, 2 July 2013


معاف کرنے کی فضیلت

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم آقائے دوجہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ اچانک ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے ہیں حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے والے دانت نمودار ہوئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت عمررضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان!۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس بات نے ہنسایا ہے۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا!۔

میری امت کے دو آدمی رب العزت کی بارگاہ میں گھٹنوں کے بل پیش ہوتے ہوئے دکھائے گئے ہیں: ان میں سے ایک نے کہا اے رب! میرے اس ظالم بھائی سے میرے ظلم کا حساب لے کر دیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا تو اپنے ظالم بھائی سے کیا چاہتا ہے حالانکہ اس کے پاس نیکیوں میں سے کچھ نہیں بچا(یعنی اس کے پاس تو صرف گناہ ہی ہیں)؟

تو اس نے عرض کیا یارب! میرے گناہ ہی اس پر لاد دیں۔

یہ ذکر کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، پھر فرمایا یہ دن بہت بڑا ہوگا لوگ اس کے محتاج ہوں گے کہ ان کے گناہوں کے بوجھ اٹھا دئیے جائیں چنانچہ اللہ تعالیٰ اس مطالبہ کرنے والے کو فرمائیں گے اپنی نظر اٹھا اور دیکھ ۔

وہ نظر اٹھا کر دیکھے گا اور کہے گااے رب! میں سونے کے شہر اور سونے کے محلات دیکھ رہا ہوں۔ لو لو کے تاج سجائے ہوئے ہیں۔ یہ کس نبی کیلئے ہیں یا کس صدیق کیلئے ہیں یا یہ کس شہید کیلئے ہیں؟
اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جو اس کی قیمت دے گا وہ اس کیلئے ہیں۔

وہ عرض کریگا یارب ان کا کون مالک بن سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو اس کا مالک بنے گا وہ عرض کریگا کس عمل کی وجہ سے؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اپنے اس بھائی کو معاف کردینے سے۔

وہ عرض کریگا یارب! میں نے اس کو معاف کیا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ چلو اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑو اور اس کو بھی جنت میں لے جاؤ۔

یہ حدیث بیان فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسی لیے اللہ سے تقویٰ اختیار کرو اور آپس میں صلح کے ساتھ رہو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے درمیان صلح چاہتے ہیں۔

(حاکم وقال صحیح الاسناد)

Sunday, 5 May 2013

Intercession on the Day of Resurrection

Posted by Unknown on 06:44 with No comments

 قیامت کے روز شفاعت

’’معبد بن ہلال عنزی سے روایت ہے کہ ہم اہلِ بصرہ اکٹھے ہو کر حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملنے گئے اور ہم ان کے پاس اپنے ساتھ ثابت بُنانی کو لے گئے تاکہ وہ ان سے ہمارے لیے حدیثِ شفاعت کا سوال کریں؟ وہ اپنے گھر میں تھے۔ ہم نے انہیں نماز چاشت پڑھتے ہوئے پایا اور داخل ہونے کی اجازت مانگی تو انہوں نے اجازت دے دی آپ اپنے بچھونے پر بیٹھے تھے۔ ہم نے ثابت سے کہا : حدیث شفاعت سے قبل آپ ان سے کوئی اور سوال نہ کریں تو انہوں نے عرض کیا : ابو حمزہ! یہ آپ کے بھائی بصرہ سے آئے ہیں اور آپ سے حدیثِ شفاعت کے بارے پوچھنا چاہتے ہیں؟

’’انہوں نے کہا : ہمیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن لوگ دریا کی موجوں کی مانند بے قرار ہوں گے تو وہ حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے : آپ اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے، وہ فرمائیں گے : یہ میرا مقام نہیں، تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ اللہ کے خلیل ہیں۔ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو جائیں گے جس پر وہ فرمائیں گے : یہ میرا منصب نہیں تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ کلیم اللہ ہیں۔ پس وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں جائیں گے تو وہ فرمائیں گے : میں اس لائق نہیں تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ روح اللہ اور اس کا کلمہ ہیں۔ پس وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ فرمائیں گے : میں اس شفاعت کے قابل نہیں تم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ۔

’’پس لوگ میرے پاس آئیں گے تو میں کہوں گا : ہاں! اس شفاعت کے لیے تو میں ہی مخصوص ہوں۔ پھر میں اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت مل جائے گی اور مجھے ایسے حمدیہ کلمات الہام کئے جائیں گے جن کے ساتھ میں اللہ کی حمد و ثنا کروں گا وہ اب مجھے مستحضر نہیں ہیں۔ پس میں ان محامد سے اﷲ کی تعریف و توصیف کروں گا اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوجاؤں گا۔ سو مجھے کہا جائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیں، اپنی بات کہیں، آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا : میرے رب! میری امت، میری امت، پس فرمایا جائے گا : جاؤ اور جہنم سے ہر ایسے امتی کو نکال لو جس کے دل میں جَو کے برابر بھی ایمان ہو پس میں جاکر یہی کروں گا۔ پھر واپس آکر ان محامد کے ساتھ اس کی حمد و ثنا کروں گا اور اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا۔ پس کہا جائے گا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیے اور کہیے!آپ کو سنا جائے گا، مانگیے آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا : اے میرے رب! میری امت، میری امت! پس فرمایا جائے گا : جاؤ اور جہنم سے اسے بھی نکال لو جس کے دل میں ذرے کے برابر یا رائی کے برابر بھی ایمان ہو۔ پس میں جا کر ایسے ہی کروں گا۔ پھر واپس آ کر انہی محامد کے ساتھ اس کی حمد و ثناء بیان کروں گا اور پھر اس کے حضور سجدے میں گرجاؤں گا۔ پس فرمایا جائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیے اور کہیے، آپ کو سنا جائے گا، مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا : اے میرے پیارے رب! میری امت، میری امت، پس وہ فرمائے گا : جاؤ اور اسے بھی جہنم سے نکال لو جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی بہت ہی کم بہت ہی کم بہت ہی کم ایمان ہو۔ پس میں خود جاؤں گا اور جا کر ایسا ہی کروں گا۔

’’جب ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلے تو میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا : ہمیں حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس چلنا چاہئے جو کہ ابو خلیفہ کے مکان میں روپوش ہیں اور انہیں وہ حدیث بیان کرنی چاہئے جو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کی ہے۔ چنانچہ ہم ان کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا پھر انہوں نے ہمیں اجازت دی تو ہم نے ان سے کہا : ابو سعید! ہم آپ کے پاس آپ کے بھائی انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہاں سے ہوکر آئے ہیں اور انہوں نے ہم سے جو شفاعت کے متعلق حدیث بیان کی ہے اس جیسی حدیث ہم نے نہیں سنی۔ انہوں نے کہا : بیان کرو، ہم نے ان سے حدیث بیان کی جب اس مقام تک پہنچے تو انہوں نے کہا : (مزید) بیان کرو، ہم نے ان سے کہا : اس سے زیادہ انہوں نے بیان نہیں کی۔ انہوں نے کہا : حضرت انس رضی اللہ عنہ آج سے بیس سال قبل جب صحت مند تھے تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی تھی، مجھے معلوم نہیں کہ وہ باقی بھول گئے ہیں یا اس لئے بیان کرنا ناپسند کیا ہے کہ کہیں لوگ بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔ ہم نے کہا : ابوسعید! پھر آپ ہم سے وہ حدیث بیان کیجئے اس پر آپ ہنسے اور فرمایا : انسان جلد باز پیدا کیا گیا ہے۔ میں نے اس کا ذکر ہی اس لئے کیا ہے کہ تم سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح تم سے بیان کی۔

’’(مگر اس میں اتنا اضافہ کیا کہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں چوتھی دفعہ واپس لوٹوں گا اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کروں گا پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہوجاؤں گا۔ پس فرمایا جائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں آپ کو سنا جائے گا، مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا : اے میرے پیارے رب ! مجھے اُن کی (شفاعت کرنے کی) اجازت بھی دیجئے جنہوں نے لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُُ کہا ہے، پس وہ فرمائے گا : مجھے اپنی عزت و جلال اور عظمت و کبریائی کی قسم! میں انہیں ضرورجہنم سے نکالوں گا جنہوں نے لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُُ کہا ہے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التوحيد، باب : کلام الرب عزوجل يوم القيامة مع الأنبياء وغيرهم، 6 / 2727، الرقم : 7072، ومسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : أدنٰی أهل الجنة منزلة فيها، 1 / 182 - 184، الرقم : 193

Sunday, 14 April 2013

Conditions of Resurrection

Posted by Unknown on 23:19 with No comments
جب صور پھونکنے سے تمام دنیا فنا ہوجائے گی چالیس برس اسی سنسانی کی حالت میں گزر جائیں گے پھر حق تعالی کے حکم سے دوسری بار صور پھونکا جائے گا اور پھر زمین آسمان اسی طرح قائم ہو جائے گے اور مردے قبروں سے زندہ ہو کر نکل پڑیں گے اور میدان قیامت میں اکٹھے کردئے جائیں گے اور آفتاب بہت نزدیک ہوجائے گا جس کی گرمی سے دماغ لوگوں کے پکنے لگیں گے اور جیسے جیسے لوگوں کے گناہ ہوں گے اتنا ہی زیادہ پیسنہ نکلے گا اور لوگ اس میدان میں بھوکے پیاسے کھڑے کھڑے پریشان ہوجائیں گے جو نیک لوگ ہوں گے ان کے لیے اس زمین کی مٹی مثل میدے کے بنا دی جائے گی اس کو کھا کر بھوک کا علاج کریں گے اور پیاس بجھانے کو حوض کوثر پر جائیں گے پھر جب میدان قیامت میں کھڑے کھڑے دق ہوجائیں گے اس وقت سب مل کر اول حضرت آدم علیہ السلام کے پاس پھر اور نبیوں کے پاس اس بات کی سفارش کرانے کے لیے جائیں گے کہ ہمارا حساب کتاب اور کچھ فیصلہ جلدی ہو جائے سب پیغمبر کچھ کچھ عذر کریں گے اور سفارش سے معذرت کریں گے سب کے بعد ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر وہی درخواست کریں گے آپ حق تعالی کے حکم سے قبول فرما کر مقام محمود میں (کہ ایک مقام کا نام ہے) تشریف لے جا کر شفاعت فرمائیں گے حق تعالی کا ارشاد ہوگا کہ ہم نے سفارش قبول کی اب ہم زمین پر اپنی تجلی فرما کر حساب کتاب کیے دیتے ہیں اول آسمان سے فرشتے بہت کثرت سے اترنا شروع ہوں گے اور تمام آدمیوں کو ہر طرف سے گھیر لیں گے پھر حق تعالی کا عرش اترے گا اس پر حق تعالی کی تجلی ہوگی اور حساب کتاب شروع ہوجائے گا اور اعمال نامے اڑائے جائیں گے ایمان والوں کے داہنے ہاتھ میں اور بے ایمانوں کے بائیں ہاتھ میں وہ خود بخود آجائیں گے اور اعمال تولنے کی ترازو کھڑی کی جائے گی جس سے سب کی نیکیاں اور بدیاں معلوم ہوجائیں گی اور پل صراط پر چلنے کا حکم ہوگا جس کی نیکیاں تول میں زیادہ ہوں گی وہ پل سے پار ہو کر بہشت میں جاپہنچے گا اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے اگر خدائے تعالی نے معاف نہ کر دئیے ہوں گے تو وہ دوزخ میں گر جائے گا اور جس کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں گے ایک مقام ہے اعراف جنت و دوزخ کے بیچ میں وہ وہاں رہ جائے گا اس کے بعد ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے حضرات انبیاٌ علیہ السلام اور عالم اور ولی اور شہید اور حافظ اور نیک بندے گنہگار لوگوں کو بخشوانے کے لیے شفاعت کریں گے ان کی شفاعت قبول ہوگی اور جس کے دل میں ذرا سا بھی ایمان ہوگا وہ دوزخ سے نکال کر بہشت میں داخل کردیا جائے گا اسی طرح جو لوگ اعراف میں ہوں گے وہ بھی آخر کو جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے اور دوزخ میں خالی وہی لوگ رہ جائیں گے جو بالکل کافر اور مشرک ہیں اور ایسے لوگوں کو کبھی دوزخ سے نکلنا نصیب نہ ہوگا جب سب جنتی اور دوزخی اپنے اپنے ٹھکانہ ہوجائیں گے اس وقت اللہ تعالی دوزخ اور جنت کے بیچ میں موت کو ایک مینڈھے کی صورت پر ظاہر کرکے سب جنتیوں اور دوزخیوں کو دکھلا کر اس کو ذبح کرادیں گے اور فرمائیں گے اب نہ جنتیوں کو موت آئے گی نہ دوزخیوں کو آئے گی سب کو اپنے اپنے ٹھکانہ پر ہمیشہ کے لیے رہنا ہوگا اس وقت نہ جنتیوں کی خوشی کی کوئی حد ہوگی اور نہ دوخیوں کے صدمے اور رنج کی کوئی انتہا ہوگی
حضرت جبرائیل علیہ السلام کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال

ایک مرتبہ حضرت جبرئیل امین علیہ السلام نے دربار نبوت میں حاضر ہو کرچند سوالات کئے جس میں ایک سوال یہ بھی تھا
اے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قیامت کے بارے میں بتایئے(وہ کب آئیگی)
آٓپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا،
انہوں نے فرمایا اس کی علامتیں بتادیجئے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جب ننگے سروالے، ننگے پیروالے اور بکریاں چَرانے والے بھی بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرنے لگیں اور ان عمارتوں پر ڈینگیں مارنے لگیں تو سمجھو کہ قیامت قریب آگئی ہے۔
(بیہقی فی شعب الایمان)

Wednesday, 3 April 2013

صور پھونکا جانا اور قیامت کا قائم ہونا
 
ان تمام علامات کے واقع ہوجانے کے بعد عیش و آرام کا زمانہ آئے گا، محرم کی دس تاریخ اور جمعہ کا دن ہوگا، لوگ اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوں گے کہ اچانک قیامت قائم ہوجائے گی، دو آدمیوں نے کپڑا پھیلا رکھا ہوگا، اس کو سمیٹ نہ سکیں گے اور نہ ہی خرید و فروخت کرسکیں گے کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص اپنی اُونٹنی کا دُودھ لے کر جائے گا اور اسے پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص اپنے پانی والے حوض کی مرمت کر رہا ہوگا اور اس سے پانی نہیں پی سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص نے نوالہ منہ کی طرف اُٹھایا ہوگا اسے منہ میں ڈال نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ قیامت حضرت اسرافیل کے صور پھونکنے سے برپا ہوگی جس کی آواز پہلے ہلکی اور پھر اس قدر ہیبت ناک ہوگی کہ اس سے سب جاندار مرجائیں گے، زمین و آسمان پھٹ جائیں گے، ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر فنا ہوجائے گی، چالیس سال بعد دوبارہ حضرت اسرافیل صور پھونکیں گے جس سے سب زندہ ہوکر میدانِ محشر میں جمع ہونا شروع ہوجائیں گے۔
قیامت صورِاسرافیل کی اُس خوفناک چیخ کا نام ہے جس سے پوری کائنات زلزلہ میں آجائے گی، اس ہمہ گیر زلزلہ کے ابتدائی جھٹکوں ہی سے دہشت زدہ ہوکر دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہو جائیں گے، اس چیخ اور زلزلہ کی شدت دم بدم بڑھتی جائے گی جس سے تمام انسان اور جانور مرنے شروع ہوجائیں گےیہاں تک کہ زمین و آسمان میں کوئی جاندار زندہ نہ بچے گا، زمین پھٹ پڑے گی، پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح اُڑتے پھریں گے، ستارے اور سیارے ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور پوری کائنات موت کی آغوش میں چلی جائے گی

Tuesday, 2 April 2013

قیامت کی آٹھویں نشانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حبشیوں کی حکومت اور بیت اللہ کا شہید ہونا

 جب سارے مسلمان مرجائیں گے اور رُوئے زمین پر صرف کافر رہ جائیں گے اس وقت ساری دُنیا میں حبشیوں کا غلبہ ہوجائے گا اور انہی کی حکومت ہوگی، قرآنِ کریم دلوں اور کاغذوں سے اُٹھالیا جائے گا، حج بند ہوجائے گا، دلوں سے خوفِ خدا اور شرم و حیا بالکل اُٹھ جائے گی، لوگ برسر عام بے حیائی کریں گے، بیت اللہ شریف کو شہید کردیا جائے گا، حبشہ کا رہنے والا چھوٹی پنڈلیوں والا ایک شخص بیت اللہ شریف کو گرائے گا۔
قیامت کی نویں نشانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگ کا لوگوں کو ملک شام کی طرف ہانکنا
قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے آخری علامت آگ کا نکلنا ہے، قیامت کا صور پھونکے جانے سے پہلے زمین پر بت پرستی اور کفر پھیل جائے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے شام میں جمع ہونے کے اسباب پیدا ہوں گے، شام میں حالات اچھے ہوں گے، لوگ وہاں کا رخ کریں گے، پھر یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ارضِ محشر یعنی شام کی طرف ہانکے گی، جب سب لوگ ملک شام میں پہنچ جائیں گے تو یہ آگ غائب ہوجائے گی، اس کے بعد عیش و آرام کا زمانہ آئے گا، لوگ مزے سے زندگی بسر کر رہے ہوں گے، کچھ عرصہ اسی حالت میں گزرے گا کہ اچانک قیامت قائم ہوجائے گی۔

Monday, 1 April 2013

قیامت کی ساتویں نشانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھنڈی ہوا کا چلنا اور تمام مسلمانوں کا وفات پاجانا
جانور والے واقعے کے کچھ ہی روز بعد جنوب کی طرف سے ایک ٹھنڈی اور نہایت فرحت بخش ہوا چلے گی، جس سے تمام مسلمانوں کی بغل میں کچھ نکل آئے گا، جس سے وہ سب مرجائیں گے، حتیٰ کہ اگر کوئی مسلمان کسی غار میں چھپا ہوا ہوگا اس کو بھی یہ ہوا پہنچے گی اور وہ وہیں مرجائے گا، اب رُوئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں ہوگا، سب کافر ہوں گے اور شرار الناس یعنی بُرے لوگ رہ جائیں گے

Sunday, 31 March 2013


قیامت کی چھٹی بڑی نشانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفا پہاڑی سے جانور کا نکلنا


 قیامت کی بڑی علامتوں میں سے ایک بڑی علامت دابة الارض کا زمین سے نکلنا ہے، اس کا ذکر قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں موجود ہے۔ مغرب سے سورج طلوع ہونے کے واقعے کے کچھ ہی روز بعد مکہ مکرمہ میں واقع پہاڑ صفا پھٹے گا اور اس سے ایک عجیب و غریب جانور نکلے گا جو لوگوں سے باتیں کرے گا، اور بڑی تیزی کے ساتھ ساری زمین میں پھر جائے گا، اس کے پاس حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہوگا، ایمان والوں کی پیشانی پر حضرت موسیٰ کے عصا سے ایک نورانی لکیر کھینچ دے گا، جس سے ان کا سارا چہرہ روشن ہوجائے گا، اور کافروں کی ناک یا گردن پر حضرت سلیمان کی انگوٹھی سے سیاہ مہر لگادے گا، جس سے اس کا سارا چہرہ میلا ہوجائے گا، لوگوں کے مجمع میں ایمان والوں کو کہے گا: یہ ایمان دار ہے، اور کافر کے بارے میں کہے گا کہ: یہ کافر ہے، اس کے بعد وہ غائب ہوجائے گا.

Saturday, 30 March 2013

قیامت کی پانچوں بڑی علامت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا

قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے ایک بڑی علامت سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے، قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں اس کا ذکر موجود ہے۔ دُھویں کے ظاہر ہونے اور زمین دھنس جانے کے واقعے کے بعد ذوالحجہ کے مہینے میں دسویں ذوالحجہ کے بعد اچانک ایک رات بہت لمبی ہوگی کہ مسافروں کے دل گھبرا کر بے قرار ہوجائیں گے، بچے سو سو کر اُکتا جائیں گے، جانور باہر کھیتوں میں جانے کے لئے چلانے لگیں گے، تمام لوگ ڈر اور گھبراہٹ سے بے قرار ہوجائیں گے، جب تین راتوں کے برابر وہ رات ہوچکے گی تو سورج ہلکی سی روشنی کے ساتھ مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اور سورج کی حالت ایسی ہوگی جیسے اس کو گہن لگا ہوتا ہے، اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا اور کسی کا ایمان یا گناہوں سے توبہ قبول نہ ہوگی، سورج آہستہ آہستہ اُونچا ہوتا جائے گا، جب اتنا اُونچا ہوجائے گا جتنا دوپہر سے کچھ پہلے ہوتا ہے تو واپس مغرب کی طرف غروب ہونا شروع ہوجائے گا اور معمول کے مطابق غروب ہوجائے گا، پھر حسب معمول طلوع و غروب ہوتا رہے گا۔ مغرب سے سورج طلوع ہونے واقعے کے ایک سو بیس سال بعد قیامت کے لئے صور پھونکا جائے گا

Friday, 29 March 2013

Ahadees About Resurrection Signs

Posted by Unknown on 22:42 with No comments
رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:
سب نشانیوں میں پہلے قیامت کے آفتاب کا پچھم کی طرف سے نکلنا ہے اور چاشت کے وقت زمین کے جانور کا نکلنا لوگوں پر ہے. جو نشانی ان دونوں میں سے پہلے ہو تو دوسری بھی اس کے بعد جلد ظاہر ہو گی.
صحیح مسلم 7383
جلد 6

قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ تم لڑو گے ایسے لوگوں سے جن کے منہ ڈھالوں جیسے ہوں گے. جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے.
صحیح مسلم 7310
جن کی آنکھیں چھوٹی ناکیں موٹی اور چپٹی ہوں گی.
صحیح مسلم 7312
جلد 6

تم لڑو گے یہود سے اور مارو گے ان کو یہاں تک پتھر بولے گا اے مسلمان! یہ یہودی ہے آ اور اس کو مار ڈال.
صحیح مسلم 7335
جلد 6
قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ روم کے نصاری کا لشکر (ملک شام میں) مدینہ
سے نکلے ہوئے لشکر سے لڑے گا. مسلمانوں کا ایک تہائی لشکر بھاگ نکلے گا الله ان کی توبہ کبھی قبول نہ کرے گا, تہائی لشکر مارا جائے گا جو افضل ترین شہید ہوں گے اور تہائی لشکر کی فتح ہو گی وہ عمر بھر کسی فتنے اور بلا میں نہ پڑیں گے.
پھر قسطنطنیہ کو (دوبارہ) فتح کیا جائے گا.
دجال کے نکلنے کی افواہ سن کر جب یہ قسطنطنیہ سے واپس شام پہنچیں گے تو دجال واقعی نکل آئے گا.
اسی وقت حضرت عیسی علیه السلام کا نزول ہو گا, جب دجال انہیں دیکھے گا تو (ڈر سے) گھل جائے گا.
پھر حضرت عیسی علیه السلام دجال کو قتل کریں گے اور ان کی برچھی پر دجال کا خون لوگوں کو دکھلایا جائے گا.
صحیح مسلم 7278

ایسا وقت آنے والا ہے کہ دوسری امتیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو بلائیں گی جیسا کہ کھانے والے اپنے پیالے پر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں.حالانکہ تم ان دنوں بہت زیادہ ہوگے لیکن جھاگ ہوگے جس طرح کہ سیلاب کا جھاگ ہوتا ہے.الله تعالی تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وھن ڈال دے گا.اور وھن دنیا کی محبت اور موت سے کراہت(نفرت) ہے.
سنن ابوداؤد4297
جلد 4
رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:
میرے اور عیسی علیه السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے وہ اترنے والے ہیں جب تم انہیں دیکھو گے تو پہچان جائو گے کہ درمیانی قامت والے ہیں اور رنگ ان کا سرخ و سفید ہو گا ہلکے زرد رنگ کے لباس میں ہوں گے ایسے محسوس ہو گا جیسے ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہو, حالانکہ نمی لگا نہیں ہو گا. وہ لوگوں سے اسلام کے لیے قتال کریں گے صلیب توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ موقوف کر دیں گے. الله تعالى ان کے زمانے میں اسلام کے علاوہ دیگر سب دینوں کو ختم کر دے گا. وہ مسیح دجال کو ہلاک کریں گے, حضرت عیسی عليه السلام زمين میں چالیس سال رہیں گے پھر ان کی وفات ہو گی اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے.
سنن ابوداؤد 4324
جلد4
قیامت کی چوتھی بڑی نشانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یاجوج ماجوج
امام مہدی کے انتقال کے بعد تمام انتظامات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں ہوں گے اور نہایت سکون و آرام سے زندگی بسر ہو رہی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائیں گے کہ میں ایک ایسی قوم نکالنے والا ہوں جس کے ساتھ کسی کو مقابلے کی طاقت نہیں ہے، آپ میرے بندوں کو کوہِ طور پر لے جائیں، اس قوم سے یاجوج ماجوج کی قوم مراد ہے۔ یاجوج ماجوج کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے، یہ قوم یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہے، شمال کی طرف بحر منجمد سے آگے یہ قوم آباد ہے، ان کی طرف جانے والا راستہ پہاڑوں کے درمیان ہے، جس کو حضرت ذوالقرنین نے تانبا پگھلاکر لوہے کے تختے جوڑ کر بند کردیا تھا، بڑی طاقت ور قوم ہے دو پہاڑوں کے درمیان نہایت مستحکم آہنی دیوار کے پیچھے بند ہے، قیامت کے قریب وہ دیوار ٹوٹ کر گر پڑے گی اور یہ قوم باہر نکل آئے گی اور ہر طرف پھیل جائے گی اور فساد برپا کرے گی۔ یاجوج ماجوج آہنی دیوار ٹوٹنے کے بعد ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نظر آئیں گے، جب ان کی پہلی جماعت بحیرہٴ طبریہ پر سے گزرے گی تو اس کا سارا پانی پی جائے گی، جب دوسری جماعت گزریے گی تو وہ کہے گی: ”یہاں کبھی پانی تھا“ یاجوج ماجوج کی وجہ سے حضرت عیسیٰ اور مسلمان بڑی تکلیف میں ہوں گے، کھانے کی قلّت کا یہ عالم ہوگا کہ بیل کا سر سو دینار سے بھی قیمتی اور بہتر سمجھا جائے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام یاجوج ماجوج کے لئے بددُعا کریں گے، اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک بیماری پیدا کردیں گے جس سے سارے مرجائیں گے، اور زمین بدبودار تعفن سے بھر جائے گی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دُعا سے اللہ تعالیٰ بڑی بڑی گردنوں والے پرندے بھیجیں گے جو ان کو اُٹھاکر جہاں اللہ تعالیٰ چاہیں گے پھینک دیں گے، پھر موسلا دھار بارش ہوگی جو ہر جگہ ہوگی کوئی مکان یا کوئی علاقہ ایسا نہیں ہوگا جہاں پر یہ بارش نہ پہنچے، وہ بارش پوری زمین دھوکر صاف و شفاف کردے گی اور بدبو ختم ہوجائے گی۔

Monday, 25 March 2013

Signs Of Resurrection... Kharooj e Dajjal

Posted by Unknown on 07:50 with No comments

دوسری بڑی علامت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خروجِ دجال
قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے دوسری علامت خروجِ دجال ہے، احادیث مبارکہ میں دجال کا ذکر بڑی وضاحت سے آیا ہے، ہر نبی دجال کے فتنے سے اپنی اُمت کو ڈراتا رہا ہے، حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نشانیاں بھی بیان فرمائی ہیں، دجال کا ثبوت احادیث متواترہ اور اِجماعِ اُمت سے ہے۔ دجال یہودی ہوگا، خدائی کا دعویٰ کرے گا، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا، دائیں آنکھ سے کانا ہوگا، دائیں آنکھ کی جگہ انگور کی طرح کا اُبھرا ہوا دانہ ہوگا، زمین پر اس کا قیام چالیس دن ہوگا، للہ تعالیٰ اس کے ہاتھ سے مختلف خرقِ عادت اُمور اور شعبدے ظاہر فرمائیں گے، وہ لوگوں کو قتل کرکے زندہ کرے گا، وہ آسمان کو حکم کرے گا آسمان بارش برسائے گا، زمین کو حکم کرے گا زمین غلہ اُگائے گی، ایک ویرانے سے گزرے گا اور اسے کہے گا: اپنے خزانے نکال! وہ اپنے خزانے باہر نکالے گی، پھر وہ خزانے شہد کی مکھیوں کی طرح اس کے پیچھے پیچھے چلیں گے، آخر میں ایک شخص کو قتل کرے گا، پھر زندہ کرے گا، اس کو دوبارہ قتل کرنا چاہے گا تو نہیں کرسکے گا، دجال پوری زمین کا چکر لگائے گا، کوئی شہر ایسا نہیں ہوگا جہاں دجال نہیں جائے گا، سوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے، کہ ان دو شہروں میں فرشتوں کے پہرے کی وجہ سے وہ داخل نہیں ہوسکے گا، دجال کا فتنہ تاریخ انسانیت کا سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔ حضرت امام مہدی جب قسطنطنیہ کو فتح فرماکر شام تشریف لائیں گے، دمشق میں مقیم ہوں گے کہ شام اور عراق کے درمیان میں سے دجال نکلے گا، پہلے نبوت کا دعویٰ کرے گا، یہاں سے اصفہان پہنچے گا، اصفہان کے ستر ہزار یہودی اس کے ساتھ ہوجائیں گے، پھر خدائی کا دعویٰ شروع کردے گا اور اپنے لشکر کے ساتھ زمین میں فساد مچاتا پھرے گا، بہت سے ملکوں سے ہوتا ہوا یمن تک پہنچے گا، بہت سے گمراہ لوگ اس کے ساتھ ہوجائیں گے، یہاں سے مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوگا، مکہ مکرمہ کے قریب آکر ٹھہرے گا، مکہ مکرمہ کے گرد فرشتوں کا حفاظتی پہرہ ہوگا، جس وجہ سے وہ مکہ مکرمہ میں داخل نہ ہوسکے گا، پھر مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہوگا یہاں بھی فرشتوں کا حفاظتی پہرہ ہوگا، دجال مدینہ منورہ میں بھی داخل نہ ہوسکے گا، اس وقت مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا جس سے کمزور ایمان والے گھبراکر مدینہ منورہ سے باہر نکل جائیں گے اور دجال کے فتنے میں پھنس جائیں گے۔ مدینہ منورہ میں ایک اللہ والے دجال سے مناظرہ کریں گے، دجال انہیں قتل کردے گا، پھر زندہ کرے گا، وہ کہیں گے اب تو تیرے دجال ہونے کا پکا یقین ہوگیا ہے، دجال انہیں دوبارہ قتل کرنا چاہے گا مگر نہیں کرسکے گا۔ یہاں سے دجال شام کے لئے روانہ ہوگا، دمشق کے قریب پہنچ جائے گا، یہاں حضرت امام مہدی پہلے سے موجود ہوں گے کہ اچانک آسمان سے حضرت عیسیٰ اُتریں گے، حضرت امام مہدی تمام انتظامات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے کرنا چاہیں گے وہ فرمائیں گے منتظم آپ ہی ہیں، میرا کام دجال کو قتل کرنا ہے، اگلی صبح حضرت عیسیٰ مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ دجال کے لشکر کی طرف پیش قدمی فرمائیں گے، گھوڑے پر سوار ہوں گے، نیزہ ان کے ہاتھ میں ہوگا، دجال کے لشکر پر حملہ کردیں گے، بہت گھمسان کی لرائی ہوگی، حضرت عیسیٰ کے سانس میں یہ تاثیر ہوگی کہ جہاں تک ان کی نگاہ جائے گی وہیں تک سانس پہنچے گا اور جس کافر کو آپ کے سانس کی ہوا لگے گی وہ اسی وقت مرجائے گا، دجال حضرت عیسیٰ کو دیکھ کر بھاگنا شروع کردے گا، آپ اس کا پیچھا کریں گے ”بابِ لُدّ“ پر پہنچ کر دجال کو قتل کردیں گے

Sunday, 24 March 2013

Signs Of Resurrection

Posted by Unknown on 07:38 with No comments
.قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سب سے پہلی علامت حضرت امام مہدی کا ظہور ہے، احادیث مبارکہ میں حضرت امام مہدی کا ذکر بڑی تفصیل سے آیا ہے کہ حضرت مہدی حضرت سیّدہ فاطمة الزہراء کی اولاد سے ہوں گے، نام محمد، والد گرامی کا نام عبداللہ ہوگا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مشابہت ہوگی پہلے ان کی حکومت عرب میں ہوگی پھر ساری دنیا میں پھیل جائے گی، سات سال حکومت کریں گے۔ امام مہدی مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے، آخری زمانے میں جب مسلمان ہر طرف سے مغلوب ہوجائیں گے، مسلسل جنگیں ہوں گی، شام میں بھی عیسائیوں کی حکومت قائم ہوجائے گی، ہر جگہ کفار کے مظالم بڑھ جائیں گے، عرب میں بھی مسلمانوں کی باقاعدہ پُرشوکت حکومت نہیں رہے گی، خبیر کے قریب تک عیسائی پہنچ جائیں گے، اور اس جگہ تک ان کی حکومت قائم ہوجائے گی، بچے کھچے مسلمان مدینہ منورہ پہنچ جائیں گے، اس وقت حضرت امام مہدی مدینہ منورہ میں ہوں گے، لوگوں کے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوگا کہ اب امام مہدی کو تلاش کرنا چاہئے، ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے ان کو امام بنالینا چاہئے، اس زمانے کے نیک لوگ، اولیاء اللہ اور اَبدال سب ہی امام مہدی کی تلاش میں ہوں گے، بعض جھوٹے مہدی بھی پیدا ہوجائیں گے، امام اس ڈر سے کہ لوگ انہیں حاکم اور امام نہ بنالیں، مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ آجائیں گے، اور بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے ہوں گے، حجر اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان ہوں گے کہ پہچان لئے جائیں گے اور لوگ ان کو گھیر کر ان سے حاکم اور امام ہونے کی بیعت کرلیں گے، اسی بیعت کے دوران ایک آواز آسمان سے آئے گی جس کو تمام لوگ جو وہاں موجود ہوں گے سنیں گے، وہ آواز یہ ہوگی: ”یہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ اور حاکم بنائے ہوئے امام مہدی ہیں“ جب آپ کی بیعت کی شہرت ہوگی تو مدینہ منورہ کی فوجیں مکہ معظمہ مکرمہ میں جمع ہوجائیں گی، شام، عراق اور یمن کے اہل اللہ اور اَبدال سب آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور بیعت کریں گے۔ ایک فوج حضرت امام مہدی سے لڑنے کے لئے آئے گی، جب وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک جنگل میں پہنچے گی اور ایک پہاڑ کے نیچے ٹھہرے گی تو سوائے دو آدمیوں کے سب کے سب زمین میں دھنس جائیں گے، امام مہدی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہٴ مبارک کی زیارت کریں گے، پھر شام روانہ ہوں گے، دمشق پہنچ کر عیسائیوں سے ایک خونریز جنگ ہوگی جس میں بہت سے مسلمان شہید ہوجائیں گے، بالآخر مسلمانوں کو فتح ہوگی، امام مہدی ملک کا انتظام سنبھال کر قسطنطنیہ فتح کرنے کے لئے عازمِ سفر ہوں گے۔ قسطنطنیہ فتح کرکے امام مہدی شام کے لئے روانہ ہوں گے، شام پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد دجال نکل پڑے گا، دجال شام اور عراق کے درمیان میں سے نکلے گا اور گھومتا گھماتا دمشق کے قریب پہنچ جائے گا، فجر کی نماز کے وقت لوگ نماز کی تیاری میں مصروف ہوں گے کہ اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے اُترتے ہوئے نظر آئیں گے، دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر بھاگے گا، بالآخر بابِ لُدّ پر پہنچ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کا کام تمام کردیں گے، اس وقت رُوئے زمین پر کوئی کافر نہیں رہے گا، سب مسلمان ہوں گے، حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کی عمر پینتالیس، اڑتالیس یا انچاس برس ہوگی کہ آپ کا انتقال ہوجائے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے، بیت المقدس میں انتقال ہوگا اور وہیں دفن ہوں گے

Friday, 1 March 2013

Read It In English
حضرت عزرائیل کی روح کون قبض کرے گا؟
جب زمین و آسمان سب فنا ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ حضرت عزرائیل علیہ السلام کو حکم دے گا کہ جبریل کی روح قبض کر، حضرت عزرائیل ان کی روح قبض کریں گے۔ وہ ایک بڑے پہاڑ کی مانند اللہ کی پاکی بیان کرتے ہوئے سجد ے میں گر پڑیں گے۔ اسی طرح حضرت میکائیل اور اسرافیل اور عرش اٹھانے والے فرشتوں کی روح باری باری سے قبض کر لی جائے گی وہ سب بھی مر جائیں گے پھر عزرائیل علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’مت‘‘ (مرجا) وہ بھی ایک بڑے پہاڑ کی مانند تسبیح کرتے ہوئے سجدے میں گر پڑیں گے اور مر جائیں گے۔

Monday, 18 February 2013

What Happens After That?

Posted by Unknown on 03:34 with No comments
اس کے بعد پھر کیا ہوگا؟ 
عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے ایک زمانہ کے بعد جب قیامِ قیامت کو صرف چالیس سال رہ جائیں گے، ایک خوشبودار ٹھنڈی ہوا چلے گی جو لوگوں کی بغلوں کے نیچے سے نکلے گی۔ جس کا اثر یہ ہوگا کہ مسلمان کی روح قبض ہو جائے گی یہاں تک کہ کوئی اہل ایمان اہل خیر نہ ہوگا اور کافر ہی کافر رہ جائیں گے ، کفارِ حبشہ کا غلبہ ہوگا اور ان کی سلطنت ہوگی، وہ خانہ کعبہ کو ڈھادیں گے، خدا ترسی اور حیاء و شرم اٹھ جائے گی، حکام کا ظلم اور رعایا کی ایک دوسرے پر دست درازی رفتہ رفتہ بڑھ جائے گی، عام بت پرستی اور قحط او ر وباء کا ظہور ہوگا۔ اس وقت ملک شام میں کچھ ارزانی دامن ہوگا، دیگر ممالک کے لوگ اہل و عیال سمیت شام کو روانہ ہوں گے۔ اسی اثناء میں ایک بڑی آگ جنوب سے نمودار ہوگی۔ وہ ان کا تعاقب کرے گی۔ یہاں تک کہ وہ شام میں پہنچ جائیں گے۔ پھر وہ آگ غائب ہو جائے گی۔ یہ چالیس سال کا زمانہ ایسا گزرے گا کہ اس میں کسی کے اولاد نہ ہوگی، یعنی چالیس سے کم عمر کا کوئی نہ ہوگا اور دنیا میں کافر ہی کافر ہوں گے۔ اللہ کہنے والا کوئی نہ ہوگا کہ دفعتہ جمعہ کے روز جویوم عاشورہ بھی ہوگا اور لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے کہ صبح کے وقت اللہ تعالیٰ اسرافیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم دے گا اور کافروں پر قیامت قائم ہوگی۔
دابتہ الارض کا ظہور
دابتہ الارض عجیب شکل کا ایک جانور ہوگا جو کہ کوہِ صفا سے برآمد ہو کر تمام شہروں میں بہت جلد پھرے گا اور ایسی تیز ی سے دورہ کرے گا کہ کوئی بھاگنے والا اس سے نہ بچ سکے گا۔ فصاحت کے ساتھ کلام کرے گا۔ اور بزیبانِ فصیح کہے گا ۔ ھٰذ ا مومن وھٰذ ا کافر یہ مومن ہے اور یہ کافر ہے۔ اس کے ایک ہاتھ میں موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور دوسرے میں سلیمان علیہ السلام کی انگشتری ہو گی۔ عصا سے ہر مسلمان کی پیشانی پر ایک نورانی خط کھینچے گا جس سے سیاہ چہرہ نورانی ہو جائے گا اور انگشتری سے ہر کافر کی پیشانی پر سیاہ مہر لگائے گا جس سے اس کا چہرہ بے رونق ہو جائے گا۔ اس وقت تمام مسلمان و کافر علانیہ ظاہر ہوں گے۔ یہ علامت کبھی نہ بدلے گی۔ جو کافر ہے ہر گز ایمان نہ لائے گا اور جو مسلمان ہے ہمیشہ ایمان پر قائم رہے گا۔
آفتاب کے مغرب سے طلوع ہونے کے دوسرے روز لوگ اسی چرچا میں ہوں گے کہ کوہِ صفا زلزلہ سے پھٹ جائے گا اور یہ جانور نکلے گا۔ پہلے یمن میں پھر نجد میں ظاہر ہو کر غائب ہو جائے گا اور تیسری بارمکہ معظمہ میں ظاہر ہوگا۔

The Sun Rises From The West...

Posted by Unknown on 03:22 with No comments
مغرب سے آفتاب کا طلوع ہونا
روزانہ آفتاب بارگاہِ الٰہی میں سجدہ کرکے اذن طلوع چاہتا ہے تب طلوع ہوتا ہے ۔ قربِ قیامت جب آفتاب حسبِ معمول طلوع کی اجازت چاہے گا اجازت نہ ملے گی اور حکم ہوگا کہ واپس جا! وہ واپس ہو جائے گا اور اس کے بعد ماہِ ذی الحجہ میں یومِ نحرکے بعد رات اس قدر لمبی ہو جائے گی کہ بچے چلا اٹھیں گے۔ مسافر تنگدل اور مویشی چراگاہ کے لیے بیقرار ہوں گے، یہاں تک کہ لوگ بے چینی کی وجہ سے ناؒلہ و زاری کریں گے اور توبہ توبہ پکاریں گے۔
 آخرتین چار رات کی مقدار دراز ہونے کے بعد اضطراب کی حالت میں آفتاب مغرب سے چاند گرہن کی مانند تھوڑی روشنی کے ساتھ نکلے گا اور نصف آسمان تک آکر لوٹ آئے گا۔ اور جانب مغرب غروب کرے گا۔
  اس کے بعد بدستورِ سابق مشرق سے طلوع کیا کرے گا۔ اس نشانی کے ظاہر ہوتے ہی توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ کافر اپنے کفر سے یا گناہگار اپنے گناہوں سے توبہ کرنا چاہے گا تو بہ قبول نہ ہوگی اور اس وقت کسی کا اسلام لانا معتبر نہ ہوگا۔

Appearance Of Smoke And Its Effect...

Posted by Unknown on 03:13 with No comments
دھویں کا ظہور اور اس کا اثر 
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد قبیلئہ قحطان میں سے ایک شخص جہجاہ نامی یمن کے رہنے والے آپ کے خلیفہ ہوں گے، ان کے بعد چند بادشاہ اور ہوں گے جن کے عہد میں رسوم کفر و جہل شائع ہوں گی۔ اسی اثناء میں ایک مکان مغرب میں اور ایک مشرق میں جہاں منکرین تقدیر رہتے ہوں گے زمین میں دھنس جائے گا، اس کے بعد آسمان سے دھواں نمودار ہوگا جس سے آسمان سے زمین تک اندھیرا ہو جائے گا اور چالیس روز تک رہے گا، اس سے مسلمان زکام میں مبتلا ہو جائیں گے، کافروں اور منافقوں پر بیہوشی طاری ہو جائے گی، بعض ایک دن بعض دو دن اور بعض تین دن کے بعد ہوش میں آئیں گے، پھر مغرب سے آفتاب طلوع ہوگا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا میں قیام 
حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال زمین میں امامتِ دین و حکومت عدل آئین فرمائیں گے۔ اس میں سات سال دجال کی ہلاکت کے بعد ہیں۔ انھیں میں آپ نکاح کریں گے۔ آپ کی اولاد بھی ہوگی۔ مزار اقدس سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر ہو کر سلام عرض کریں گے۔ قبرِ انور سے جواب آئے گا۔ روحا کے راستہ سے حج یا عمرہ کو جائیں گے اور ان سب وقائع کے بعد جن کا ذکر گزرا، آپ وفات پائیں گے۔ مسلمان ان کی تجہیز کریں گے، نہلائیں گے، خوشبو لگائیں گے ۔ کفن دیں گے ، نماز پڑھیں گے اور حضور سید الاانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پہلو میں روضہ ء انور میں آپ دفن کئے جائیں گے۔