Showing posts with label Important Issues. Show all posts
Showing posts with label Important Issues. Show all posts

Saturday, 27 April 2013

The Benefits of Drinking Water Sitting

Posted by Unknown on 05:48 with No comments
بیٹھ کر پانی پینے کے فوائد:
1۔ گردے خراب نہیں ہوتے
2۔ گھٹنے ہمیشہ متحرک اور چست رہتے ہیں۔
3۔ ریڑھ کی ہڈی مضبوط ہوتی ہے۔
4۔ دل کے والو کبھی بند نہیں ہوتے۔
5۔ دماغ کمزور نہیں ہوتا۔ 
سبحان اللہ
Bait kar PANI Peene k Faide-
1.Gurde (kidney) Kharab nahi hote
2.Ghutne Hamesha active rehte hai
3.Reed ki Haddi Mazbut rehti hai
4.Dil k valve kabhi band nahi hote
5.Brain Kamzor nahi hota
SUBHANALLAH

Tuesday, 23 April 2013

One Incident Mentioned in The Hadith

Posted by Unknown on 22:08 with No comments
احادیث میں ایک واقعے کا ذکر
 
 احادیث میں ایک واقعے کا ذکر اس طرح ملتا ہے کہ ایک شخص نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازمیں رکوع سے سے اٹھتے ہوئے 'ربنالک الحمد(پروردگار ، حمد تیرے ہی لیے ہے)'کے بعد 'حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ( بہت زیادہ حمد، پاکیزہ اور بڑ یبابرکت) 'کے الفاظ کا اضافہ کر دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے الفاظ پر یہ تبصرہ کیا کہ میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کودیکھا ہے کہ ان الفاظ کو لکھنے کےلیے وہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
 
یہ واقعہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ زندہ عبادت خدا کے ہاں کیسے مقبول ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں عبادات ایک رسمی چیز بن کر رہ گئی ہیں ، لیکن درحقیقت یہخدا کے ساتھ ایک زندہ تعلق پیدا کر لینے کا نام ہے ۔
یہ تعلق تقاضا کرتاہے کہ انسان مقررہ اعمال و اذکارادا کرنے اور ممنوعات سے رکنے کے علاوہذہنی سطح پر بھی خدا کے ساتھ ایک شعوری رابطہ پیدا کرے ۔ جیسے ہی یہ رابطہپیدا ہوتا ہے ، یہ زندہ کیفیات، احساسات، اذکار اور اعمال میں ڈھل جاتا ہے۔یہ کبھی آنسوؤں کی شکل میں بہہ نکلتا ہے ، کبھی خدا کی عظمت اور کبریائیکے نئے پہلو دریافت کر لیتا ہے اور کبھی اس کی ثناو تمجید اور تسبیح وتعریف کے نئے اسالیب میں ڈھل جاتا ہے ۔
مگربدقسمتی سے جہاں نماز رٹے رٹائے الفاظ کا وہ مجموعہ ہو جن کے معنی نماز پڑھنے والے کو خود معلوم نہ ہوں ، وہاں پر نمازی اپنی طرف سے حمد و تسبیح کاکوئی اضافی جملہ کیسے کہہ سکے گا؟جہاں نماز بے دلی کے ساتھ کی جانے والیاٹھ بیٹھ کا نام ہو وہاں خدا کے حضور آنسوؤں کا نذرانہ کون پیش کرے گا؟جہاں لوگ نماز کے اندر خدا کو یاد نہیں کرتے وہاں نماز سے باہر خدا کو یادرکھنے کی زحمت کون گوارا کرے گا؟ ایسے میں اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارینماز کو لینے کے لیے فرشتے آپس میں مسابقت کریں تو ہمیں اپنی نمازوں میںایمانی زندگی پیدا کرنی ہو گی۔

Tuesday, 16 April 2013

Sunnahs Of The Hair

Posted by Unknown on 21:36 with No comments
بالوں کی سنتیں

1) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کے بالوں کی لمبائی کانوں کے درمیان تک اور دوسری روایت کے مطابق کانوں تک اور ایک اور روایت کے مطابق کانوں کے لو تک تھی .
ان کے علاوہ کندھوں تک یا کندھوں کے قریب ہو نے تک کی بھی روایت ہے (شمائل ترمذی)
2) یا تو سارے سر کے بال رکھے یا سارا سر منڈا وادے .ایک حصہ کے بال رکھنا اور ایک حصہ کے منڈوانا یا ترشوانا فعلِ حرام ہے . اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس سے بچائے .
3) داڑھی کو بڑھانے اور مونچھوں کو کم کرنے کے متعلق حدیث میں حکم وارد ہے . داڑھی ( یکمشت سے کم ) کتروانے اور منڈوانے کو حرام فر مایا گیا ہے .اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس سے محفوظ رکھے.
4) مونچھوں کو کترنے میں مبالغہ کرنا سنت ہے .
5) بالوں کو دھونا اور تیل لگانا اور کنگھا کرنا مسنون ہے .لیکن ایک آدھ دن بیچ میں چھوڑ دینا چاہئے.
6) جب تیل ڈالنے کا ارادہ ہو تو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں تیل لے کر پہلے ابروؤں پر اور پھر سر میں تیل ڈالیں.
7) کنگھا کریں تو پہلے دائیں جانب سے شروع کریں.
8) کنگھا کرتے ہوئے یا حسبِ ضرورت جب بھی آئینہ دیکھیں تو دعا پڑھیں . اللھم انت حسنت خَلقی فحسن خُلقی .
ترجہ: اے اللہ ! آپ نے میری صورت اچھی بنائی میرے اخلاق بھی اچھے کر دیجئے .

Sunnahs Of Drinking

Posted by Unknown on 21:31 with No comments

پینے کی سنتیں

1) داہنے ہاتھ سے پینے کا برتن پکڑنا.
2) پینے سے پہلے اگر کھڑے ہوں تو بیٹھ جانا. کھڑے ہو کر پینا منع ہے.
3) بسم اللہ کہہ کر پینا اور پی کر الحمد للہ کہنا.
4) تین سانس میں پینا ااور سانس لیتے وقت برتن کو منہ سے الگ کرنا.
5 )برتن کے ٹوٹے کنارے کی طرف سے نہ پینا.
6) مِشک سے منہ لگا کر نہ پینایا کوئی بھی ایسابرتن ہو جس سے دفعتا پانی زیادہ آجانے کا احتمال ہو یا یہ اندیشہ ہو کہ اس میں کوئی سانپ یا بچھو آجائے.
7) پانی پی کر اگر دوسروں کو دینا ہے تو پہلے داہنے والے کو دیں پھر اسی ترتیب سے دور ختم ہو اسی طرح چائے یا شربت پیش کریں.
8) دودھ پینے کے بعد یہ دعا پڑھیں . اللھم بارک لنا فیہ وزدنا منہ.
9)آپ زمزم کھڑے ہو کر پینا.
10) وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پینا .اس میں بیماریوں کیلئے شفا ہے .علامہ شامی نے لکھا ہے کہ میں نے بار بار اپنی بیماریوں میں اس کا تجربہ کیا ہے اور شفا پا ئی ہے.

Friday, 22 March 2013

Order Of 'Pardah' For Women

Posted by Unknown on 07:24 with No comments

 خواتین کے لیے پردے کا حکم

عورت باہر نکلتے ہوئے کن باتوں کا خاص خیال رکھے گی ایک ہلا دینے والی تحریر مجھے تو یہ پڑھ کر ایسا لگا ہے کہ کوئی عورت ایسی پتھر ڈل نہیں ہو سکتی جو یہ باتیں پڑھنے کے بعد بھی پردہ کی پابندی نہ کرے

سب سے بڑی چیز جو ایک مرد کو عورت کی طرف یا عورت کو مرد کی طرف مائل کرنے والی ہے وہ نظر ہے۔

قرآن پاک میں دونوں فریق کو حکم دیا ہے کہ اپنی نظریں پست رکھیں ۔ سورہ نور، رکوع نمبر چار میں اول مردوں کو حکم فرمایا: ” آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے ۔ بے شک الله تعالیٰ اس سے خوب باخبر ہے، جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں۔“

اس کے بعد عورتوں کو خطاب فرمایا:” اور مسلمان عورتوں سے فرما دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر یہ کہ مجبوری سے خود کھل جائے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں اور اپنے حسن و جمال کو (کسی پر) ظاہر نہ ہونے دیں ( سوائے ان کے جو شرعاَ محروم ہیں) اور مسلمانوں ( تم سے جو ان احکام میں کوتاہی ہو تو ) تم سب الله تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔“ ( سورہ نور،آیت نمبر31)

الله عزوجل سورہ احزاب آیت 33
تفسیر
” اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں عورتیں بے پردہ پھرتیں اور اپنے بدن اور لباس کی زیبائش کا اعلانیہ مظاہرہ کرتی تھیں۔ اس بد اخلاقی اور بےحیائی کی روش کو مقدس اسلام کب برداشت کر سکتا ہے؟ اسلام نے عورتوں کو حکم دیا کہ گھروں میں ٹھہریں اور زمانہ جاہلیت کی طرح باہر نکل کر اپنے حسن وجمال کی نمائش نہ کرتی پھریں۔“

حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے اور بلاشبہ جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلتی ہے تو اسے شیطان دیکھنے لگتا ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ عورت اس وقت سب سے زیادہ الله تعالیٰ سے قریب ہوتی ہے جب کہ وہ اپنے گھر کے اندر ہوتی ہے ۔ ( الترغیب والترہیب للمنذری 626 از طبرانی)

تشریح: اس حدیث میں اول تو عورت کا مقام بتایا ہے یعنی یہ کہ وہ چھپا کر رکھنے کی چیز ہے۔ عورت کو بحیثیت عورت گھر کے اندر رہنا لازم ہے، جوعورت پردہ سے باہر پھرنے لگے وہ حدود نسوانیت سے باہر ہو گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ عورت جب گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھنا شروع کر دیتا ہے ۔
مطلب یہ ہے کہ جب عورت باہر نکلے گی تو شیطان کی یہ کوشش ہو گی کہ لوگ اس کے خدوخال اور حسن وجمال اور لباس و پوشاک پر نظر ڈال ڈال کر لطف اندوز ہوں ۔ اس کے بعد فرمایا کہ عورت اس وقت سب سے زیادہ الله تعالیٰ کے قریب ہوتی ہے جب کہ وہ گھر کے اندر ہوتی ہے جن عورتوں کو الله تعالیٰ کی نزدیکی کی طلب اور رغبت ہے وہ گھر کے اندر ہی رہنے کو پسند کرتی ہیں اور حتی الامکان گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرتی ہیں۔
اسلام نے عورتوں کو ہدایت دی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو عورتیں اپنے گھر کے اندر ہی رہیں کسی مجبوری سے باہر نکلنے کی جو اجازت دی گئی ہے اس میں متعدد پابندیاں لگائی گئی ہیں مثلاً یہ کہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں اور یہ بھی حکم فرمایا کہ عورت راستے کے درمیان نہ چلے بلکہ راستے کے کنارے پر چلے ،
مردوں کے ہجوم ( رش یا بھیڑ) میں داخل نہ ہو ۔ اگر اسے باہر جانا ہی پڑے تو پورے بدن پر برقعہ یا لمبی موٹی یا گہرے رنگ والی چادر لپیٹ کر چلے

( راستہ نظر آنے کے لیے ایک آنکھ کا کھلا رہنا کافی ہے ) یا برقعہ میں جو جالی آنکھوں کے سامنے استعمال کی جاتی ہے وہ لگا لیں یا برقعہ یا چادر اس طرح اوڑھ لیں کہ ماتھے تک بال وغیرہ ڈھک جائے اور نیچے سے چہرہ ناک تک چھپ جائے۔ صرف دونوں آنکھیں

( راستہ نظر آنے کے لیے ) کھلی رہیں ۔ آج کل جوان لڑکیاں برائے نام چادر اوڑھ لیتی ہیں اور چادر بھی باریک چکن کی ہوتی ہے اور تنگ بھی ، اس سے ہرگز شرعی پردہ نہیں ہوتا اور ان کا اس چادر کے ساتھ باہر نکلنا بے پردہ نکلنے کی طرح ہے، جو سراسر ناجائز اور حرام ہے .

قرآن کریم میں جس چادر کا ذکر ہے، اس سے ہرگز ایسی چادر مراد نہیں۔ عورتیں جب گھر سے کسی مجبوری کی وجہ سے نکلیں تو بجنے والا کوئی زیور نہ پہنا ہو ۔ کسی غیر محرم سے اگر ضروری بات کرنی پڑے تو بہت مختصر کریں، ہاں ناں کا جواب دے کر ختم کر ڈالیں ۔

گفتگو کے انداز میں نزاکت اور لہجہ میں جاذبیت کے طریقے پر بات نہ کریں ۔ جس طرح چال ڈھال اور رفتار کے انداز دل کھنچتے ہیں اسی طرح گفتار ( باتوں) کے نزاکت والے انداز کی طرف بھی کشش ہوتی ہے ۔
عورت کی آواز میں طبعی اور فطری طور پر نرمی اور لہجہ میں دل کشی ہوتی ہے ۔ پاک نفس عورتوں کی یہ شان ہے کہ غیر مردوں سے بات کرنے میں بتکلف ایسا لب و لہجہ اختیار کریں جس میں خشونیت اور روکھا پن ہو، جیسے کہ ” بے تکلف ایسا لہجہ بنائے کہ سننے والا یوں محسوس کرے کہ کوئی چڑیل بول رہی ہے۔

تاکہ کسی بدباطن کا قلبی میلان نہ ہونے پائے اور عورت بغیر محرم کے سفر نہ کرے، محرم بھی وہ ہو جس پر بھروسہ ہو۔ فاسق محرم جس پر اطمینان نہ ہو اس کے ساتھ سفر کرنا درست نہیں ہے ۔ اسی طرح شوہر یا محرم کے علاوہ کسی نامحرم مرد کے ساتھ تنہائی میں رہنے یا رات گزارنے کی بالکل اجازت نہیں ہے اور محرم بھی وہ جس پر اطمینان ہو ۔ یہ سب احکام درحقیقت عفت وعصمت محفوظ رکھنے کے لیے دیے گئے ہیں۔

Monday, 4 March 2013


      کن حالات میں سلام کا جواب دینا واجب نہیں؟

حسب ذیل امور و حالات میں مشغول شخص کو سلام کرنا مکروہ ہے اور کوئی شخص ایسی حالت میں اس کو سلام کرے تو ایسے شخص پر اس کا جواب دینا واجب نہیں ۔
(1 ) حالتِ نماز میں
(2) حالتِ ذکر میں
(3) حالتِ خطبہ میں
(4 ) حالتِ درس میں
(5)حالتِ تلاوت میں
(6) حالتِ اذان میں
(7 ) حالتِ اقامت میں
(8)حا لتِ دعا میں
(9 ) حالتِ تسبیح میں
(10) مسائلِ شرعیہ کے مذاکرہ اور تحقیق کے دوران
(11)فیصلے کے دوران (قاضی کو )
(12) کسی کے کھا نے پینے کے دوران
(13) اجنبی عورت کو
(14)برہنہ شخص کو
(15)تلبیہ ( لَبَّیکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیکَ) پڑھنے کی حالت میں-
(16) حالتِ امامت میں
(17) قضا حاجت کے دوران
(18)حمام میں
(19) حا لتِ وعظ میں
(20)مسجد میں نما ز کے انتظار میں بیٹھنے والو ں کو
(از ردالمختار علی الدرالمختار )( شامی ) (ج 1، ص،414،415)

Saturday, 26 January 2013

To Put Water On A Grave In Muharram...

Posted by Unknown on 22:09 with No comments

  - تعزیہ بنانا‎ ‎اوراس پر‎ ‎نذرونیاز چڑھانا،اس سےمنت مانگنا حرام وشرک ہے
(فتاوی محمودیہ، جلد 2، صفحہ 46 اور47، طبع: فاروقیہ، کراچی)
سوال:محرم کی 10ویں تاریخ کوقبروں پرپانی ڈالنا کیساہے؟ جواب: قبروں پرمحرم میں پانی ڈالنا رواج اوربدعت ہے، قرآن وحدیث اورفقہ میں اسکا کوئی تذکرہ نہیں ہے
(فتاوی فریدیہ، جلد 1، کتاب السنت والبدعت، صفحہ 292)

Karbala Incident...

Posted by Unknown on 22:04 with No comments
واقعہ کربلا میں حضرت حسین اوراہل بیت رضی اللہ عنہم نےہمیں کیادرس دیا؟ 
1.
 اللہ کےلئے کسی بھی قربانی سےدریغ نہیں کرناچاہیےاورظالم کا ساتھ نہیں دینا چاہیے
 2.
 اگرحاکم وقت شریعت پہ عمل نہ کرے تواسکےخلاف اٹھ کھڑےہونا چاہیےخواہ باطل کتناہی طاقتور کیوں نہ ہو
3.
کوئی بھی مشکل آنے پہ ہمیں صبرکرناچاہیے
4. 
نمازکسی بھی حالت میں نہیں چھوڑنی چاہیے

Important Thing...

Posted by Unknown on 21:50 with No comments
آجکل عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ دودھ پینے والےبچے کا پیشاب پاک ہے، حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے، اصل مسئلہ اس طرح ہےکہ " دودھ پینےوالے بچے کا پیشاب پاک نہیں ہےچاہے وہ لڑکاہو یا لڑکی" اسلئےاگر بچہ کپڑوں پہ پیشاب کردے توان کپڑوں میں نماز نہیں ہوگی
(فتاوی عالمگیری، جلد 1، کتاب الطہارت، صفحہ 46، باب 7، فصل 2، طبع: رشیدیہ کوئٹہ)

Monday, 21 January 2013

Some Questions...

Posted by Unknown on 18:43 with No comments
کچھ سوالات کےجوابات:
(1)
پورا مہینہ باجماعت تراویح، قرآن پاک پہ اعراب، یہ سب اعمال اس لیےبدعت نہیں ہیں کیونکہ یہ 3 مبارک زمانوں میں ہی شروع ہوگئے تھےجبکہ بدعت اسکوکہتے ہیں جو 3 مبارک زمانوں سےثابت نہ ہو
(2)
تبلیغ میں 40 دن، ختم بخاری بدعت نہیں کیونکہ انکو دین کاحصہ نہیں سمجھاجاتا، جو انکو نہیں مناتا اسکو گستاخ نہیں کہا جاتا اور نہ قرآن و حدیث سے انکو ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے
اذان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر انگوٹھے چھومنے والی روایت مسند الفردوس سے نقل کرنے کے بعد علامہ محمد طاہر حنفی اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے
(تذکرۃ الموضوعات، صفحہ # 34، باب الاذان، طبع: مصر)
یاد رکھیں کہ تذکرۃ الموضوعات میں علامہ طاہر نے ان احادیث کے بارے میں بتایا ہے کہ جو موضوع ہیں یعنی اپنی طرف سے بنائی ہوئی ہیں

There Is No Actual Law Of Milad...

Posted by Unknown on 07:26 with No comments
                              جشن عید میلاد منانا کیسا ہے؟؟
 جواب: جشن میلاد کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے، البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےذکر مبارک اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کو سننےکیلئے اورسنانے کیلئے کوئی مجلس، کسی خاص دن یا تاریخ کی قید کےبغیر منعقد کی جائے تودرست ہے
(فتاوی عثمانی، جلد 1، کتاب السنت، صفحہ 105 اور 106، مکتبہ: معارف القرآن کراچی)

Celebration Of Eid Milad-un-Nabi...

Posted by Unknown on 07:21 with No comments
ماہ ربیع الاول کی 12 تاریخ کو خصوصیت کے ساتھ محفل میلاد منعقد کرنا یا عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا اسکا کوئی ثبوت حضرات صحابہ کرام، تابعین،تبع تابعین اور ائمہ دین کےمبارک دور میں نہیں ملتا لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو کسی معین (خاص) تاریخ یا معین مہینہ کےساتھ مخصوص کر لینا دین میں اضافہ اور بدعت ہے
 (اشرف الفتاوی، صفحہ 60، کتاب السنت)

Avoid From Bid'ah...

Posted by Unknown on 07:18 with No comments
قل، تیجہ، ہفتم جیسی بدعات سے اجتناب ضروری ہے. مسئلہ: احناف کے علامہ شامی رحمہ اللہ لکھتے ہیں پہلے اور تیسرے دن اور ہفتے کے بعد کھانا پکانا اور قرآن خوانی کے لئے دعوت کرنا اور اس ختم کے لئے نیک لوگوں اور قاری حضرات کو جمع کرنا مکروہ ہے
(رد المحتار، کتاب الصلاۃ، جلد 3، صفحہ 176، باب صلاۃ الجنازہ، مطلب فی کراھیہ الضیافہ من اھل المیت)

Monday, 14 January 2013

Wiping Over Rubber Socks...

Posted by Unknown on 23:35 with No comments
مسئلہ: چمڑے یا ربڑ کے موزے اگر اتنے موٹےہوں کہ محض اپنی موٹائی اور سختی کی وجہ سے یا الاسٹک باندھے بغیر خود کھڑے رہیں تو ان پر مسح درست ہے، نائیلون کی مروجہ جرابیں پتلی ہوتی ہیں اس لئے ان پر مسح درست نہیں 
(فتاوی عثمانی، جلد1، صفحہ 348، مکتبہ: معارف القرآن کراچی) 
یاد رکھیں کہ جرابوں پر مسح کرنے کی جتنی بھی احادیث پیش کی جاتی ہیں سب کی سب ضعیف ہیں

To Give Adhaan On The Grave...

Posted by Unknown on 23:01 with No comments
احناف کے متفقہ اور عظیم مفتی علامہ شامی رحمہ اللہ (جن کی وفات 1252 ہجری میں ہوئی) لکھتے ہیں کہ قبر میں میت کو دفن کرتے وقت قبر پر اذان دینا سنت نہیں ہے اور علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنے فتاوی میں اس اذان کو بدعت کہا ہے
 (رد المحتار علی در مختار، جلد 1، صفحہ 660، مطلب فی دفن المیت، باب: صلاۃ الجنازہ، ایچ ایم سعید پبلیشر)
 اللہ ہمیں بدعت سے بچائے. آمین

Adhaan

Posted by Unknown on 21:38 with No comments
سوال: اذان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کانام سن کرانگوٹھے چومنا کسی صحیح حدیث سےثابت ہےیا نہیں؟ 
جواب: احناف کے متفقہ اورعظیم مفتی علامہ شامی رحمہ اللہ (جنکی وفات 1252ہجری میں ہوئی) نےاس موضوع پر تفصیلی بحث کےبعد لکھاہے کہ اس بارے میں کوئی صحیح، مرفوع حدیث ثابت نہیں ہے (رد المحتار، کتاب الصلاۃ، جلد#1، صفحہ #198، باب الاذان، طبع: ایچ ایم سعید)

Funerals...

Posted by Unknown on 19:54 with No comments
مسئلہ: جنازہ کے پیچھے چلنے کے وقت خاموش رہنا چاہیے۔ بلند آواز سے ذکر کرنا یا تلاوت کرنا مکروہ ہے۔ 
(فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 178، کتاب الصلاۃ، باب 21، فصل4 )
 یاد رکھیں کہ فتاوی عالمگیری کو سب اہلسنت مانتے ہیں، جو اپنے آپ کو اہلسنت کہتے ہیں، ان کو چاہیے کہ بدعت اور ضد کو چھوڑ کر قرآن و سنت پہ عمل کریں۔

Sunday, 6 January 2013

Shirk and Bid'ah Issues

Posted by Unknown on 19:27 with No comments
 مسائل شرک و بدعت
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نےجو کام نہیں کیا،وہ کام اگرہم نہیں کرینگے تواللہ ہم سےقیامت کےدن نہیں پوچھےگا کہ تم نےکیوں نہیں کیااور اگرہم اسکو ثواب سمجھ کر کرینگےاور اللہ نےحشر کےمیدان میں پوچھ لیاکہ کیوں کیا،تو جواب دینابھاری پڑ جائےگا۔ 
کتاب: مسائل رفعت قاسمی
جلد:6
صفحہ:158
عنوان:مسائل شرک و بدعت