Showing posts with label Intercession. Show all posts
Showing posts with label Intercession. Show all posts

Sunday, 5 May 2013

Intercession on the Day of Resurrection

Posted by Unknown on 06:44 with No comments

 قیامت کے روز شفاعت

’’معبد بن ہلال عنزی سے روایت ہے کہ ہم اہلِ بصرہ اکٹھے ہو کر حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملنے گئے اور ہم ان کے پاس اپنے ساتھ ثابت بُنانی کو لے گئے تاکہ وہ ان سے ہمارے لیے حدیثِ شفاعت کا سوال کریں؟ وہ اپنے گھر میں تھے۔ ہم نے انہیں نماز چاشت پڑھتے ہوئے پایا اور داخل ہونے کی اجازت مانگی تو انہوں نے اجازت دے دی آپ اپنے بچھونے پر بیٹھے تھے۔ ہم نے ثابت سے کہا : حدیث شفاعت سے قبل آپ ان سے کوئی اور سوال نہ کریں تو انہوں نے عرض کیا : ابو حمزہ! یہ آپ کے بھائی بصرہ سے آئے ہیں اور آپ سے حدیثِ شفاعت کے بارے پوچھنا چاہتے ہیں؟

’’انہوں نے کہا : ہمیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن لوگ دریا کی موجوں کی مانند بے قرار ہوں گے تو وہ حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے : آپ اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے، وہ فرمائیں گے : یہ میرا مقام نہیں، تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ اللہ کے خلیل ہیں۔ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو جائیں گے جس پر وہ فرمائیں گے : یہ میرا منصب نہیں تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ کلیم اللہ ہیں۔ پس وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں جائیں گے تو وہ فرمائیں گے : میں اس لائق نہیں تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ روح اللہ اور اس کا کلمہ ہیں۔ پس وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ فرمائیں گے : میں اس شفاعت کے قابل نہیں تم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ۔

’’پس لوگ میرے پاس آئیں گے تو میں کہوں گا : ہاں! اس شفاعت کے لیے تو میں ہی مخصوص ہوں۔ پھر میں اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت مل جائے گی اور مجھے ایسے حمدیہ کلمات الہام کئے جائیں گے جن کے ساتھ میں اللہ کی حمد و ثنا کروں گا وہ اب مجھے مستحضر نہیں ہیں۔ پس میں ان محامد سے اﷲ کی تعریف و توصیف کروں گا اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوجاؤں گا۔ سو مجھے کہا جائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیں، اپنی بات کہیں، آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا : میرے رب! میری امت، میری امت، پس فرمایا جائے گا : جاؤ اور جہنم سے ہر ایسے امتی کو نکال لو جس کے دل میں جَو کے برابر بھی ایمان ہو پس میں جاکر یہی کروں گا۔ پھر واپس آکر ان محامد کے ساتھ اس کی حمد و ثنا کروں گا اور اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا۔ پس کہا جائے گا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیے اور کہیے!آپ کو سنا جائے گا، مانگیے آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا : اے میرے رب! میری امت، میری امت! پس فرمایا جائے گا : جاؤ اور جہنم سے اسے بھی نکال لو جس کے دل میں ذرے کے برابر یا رائی کے برابر بھی ایمان ہو۔ پس میں جا کر ایسے ہی کروں گا۔ پھر واپس آ کر انہی محامد کے ساتھ اس کی حمد و ثناء بیان کروں گا اور پھر اس کے حضور سجدے میں گرجاؤں گا۔ پس فرمایا جائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیے اور کہیے، آپ کو سنا جائے گا، مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا : اے میرے پیارے رب! میری امت، میری امت، پس وہ فرمائے گا : جاؤ اور اسے بھی جہنم سے نکال لو جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی بہت ہی کم بہت ہی کم بہت ہی کم ایمان ہو۔ پس میں خود جاؤں گا اور جا کر ایسا ہی کروں گا۔

’’جب ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلے تو میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا : ہمیں حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس چلنا چاہئے جو کہ ابو خلیفہ کے مکان میں روپوش ہیں اور انہیں وہ حدیث بیان کرنی چاہئے جو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کی ہے۔ چنانچہ ہم ان کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا پھر انہوں نے ہمیں اجازت دی تو ہم نے ان سے کہا : ابو سعید! ہم آپ کے پاس آپ کے بھائی انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہاں سے ہوکر آئے ہیں اور انہوں نے ہم سے جو شفاعت کے متعلق حدیث بیان کی ہے اس جیسی حدیث ہم نے نہیں سنی۔ انہوں نے کہا : بیان کرو، ہم نے ان سے حدیث بیان کی جب اس مقام تک پہنچے تو انہوں نے کہا : (مزید) بیان کرو، ہم نے ان سے کہا : اس سے زیادہ انہوں نے بیان نہیں کی۔ انہوں نے کہا : حضرت انس رضی اللہ عنہ آج سے بیس سال قبل جب صحت مند تھے تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی تھی، مجھے معلوم نہیں کہ وہ باقی بھول گئے ہیں یا اس لئے بیان کرنا ناپسند کیا ہے کہ کہیں لوگ بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔ ہم نے کہا : ابوسعید! پھر آپ ہم سے وہ حدیث بیان کیجئے اس پر آپ ہنسے اور فرمایا : انسان جلد باز پیدا کیا گیا ہے۔ میں نے اس کا ذکر ہی اس لئے کیا ہے کہ تم سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح تم سے بیان کی۔

’’(مگر اس میں اتنا اضافہ کیا کہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں چوتھی دفعہ واپس لوٹوں گا اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کروں گا پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہوجاؤں گا۔ پس فرمایا جائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں آپ کو سنا جائے گا، مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا : اے میرے پیارے رب ! مجھے اُن کی (شفاعت کرنے کی) اجازت بھی دیجئے جنہوں نے لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُُ کہا ہے، پس وہ فرمائے گا : مجھے اپنی عزت و جلال اور عظمت و کبریائی کی قسم! میں انہیں ضرورجہنم سے نکالوں گا جنہوں نے لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُُ کہا ہے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التوحيد، باب : کلام الرب عزوجل يوم القيامة مع الأنبياء وغيرهم، 6 / 2727، الرقم : 7072، ومسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : أدنٰی أهل الجنة منزلة فيها، 1 / 182 - 184، الرقم : 193

Thursday, 21 March 2013

 اذان سننے کے بعد دعا پڑھنے پر قیامت کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت حلال

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اذان سن کر یہ کہے:
[ اللہم رب ھذا الدعوۃ التامۃ والصلاۃ القائمۃ آت محمد الوسیلۃ والفضیلۃ وبعثہ مقاما محمود الذی وعدتہ]
"اے اللہ ! اے اس دعوت کامل اور قائم کی جانے والی نماز کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں اس مقام محمود پر فائز کر جس کا تونے ان سے وعدہ کررکھا ہے"
تو قیامت کے دن میری شفاعت اس کے لیے حلال ہوجائے گی-
(بخاری:614)

Tuesday, 26 February 2013

Who would deny intercession...

Posted by Unknown on 08:04 with No comments
جو شخص شفاعت کا انکار کرے 
شفاعت بہ اجماعِ امت ثابت ہے۔ بہ کثرت آیات اور بے شمار احادیث اس میں وارد ہیں، اس کا انکار وہی کرے گا جو گمراہ ہے اور قرآن کریم میں جس شفاعت کی نفی کی گئی ہے۔ وہ بتوں اور کافروں کا شفاعت ہے ۔ مسئلہ شفاعت تو کافروں اور یہودونصاریٰ میں بھی تسلیم کیا جاتا تھا لیکن یہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ شفیع کو وہ ذاتی اقتدار و اختیار حاصل ہے۔ کہ جسے چاہے اسے اللہ کے عذاب سے چھڑا سکتا ہے۔ بلکہ کفار بت پرست تو یہ سمجھتے تھے کہ بت بارگاہ الٰہی میں شفیع ہیں۔ قرآن عظیم نے کافروں، یہودیوں اور عیسائیوں کے اس عقیدے کو باطل ٹھہرایا اور بتا یا کہ یہ کفار و مشرکین جن لوگوں کو اللہ عزوجل کے سوا پوجتے ہیں ان میں کوئی شفاعت کا مالک نہیں، کیونکہ شفاعت مقر بین کی ہو سکتی ہے۔ نہ کہ مغضوبین کی کہ یہ تو خود عذاب الٰہی میں گرفتار ہوں گے۔ تو جو آیتیں بتوں اور کافروں کے حق میں نازل ہوئیں انبیاء ، واولیاء کوان کا مصداق ٹھہرانا اور اللہ تعالیٰ نے جو حکم کافروں اور بتوں پر صادر فرمایا ہے۔ وہ اس کے محبوبوں اور مقربیوں پر لگانا اور یہ کہہ دینا کہ کوئی کسی کا وکیل و سفارشی نہیں قرآن وحدیث کی صریح مخالفت بلکہ خدا و رسول پر بہتان اٹھانا اور نئی شریعت گھڑنا ہے۔ قرآن کریم میں جا بجا بتوں اور کافروں کی شفاعت کے انکار کے ساتھ مومنین و محبین کی شفاعت کا اثبات کیا گیا ہے اور مقبولانِ بارگاہ کا استشناء فرمایا گیا ہے۔

Big Intercession...شفاعت کبریٰ

Posted by Unknown on 08:00 with No comments
شفاعت کبریٰ 
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ شفاعت جو تمام مخلوق مومن ، کافر ، فرمانبردار نافرمان ، موافق ، مخالف اور دوست ، دشمن سب کے لیے ہوگی وہ انتظار حساب جو سخت جانگز ا ہوگا۔ جس کے لیے لوگ تمنائیں کریں گے کہ کاش جہنم میں پھینک دئیے جاتے اور اس انتظار سے نجات پاتے، اس بلا سے چھٹکارا کفار کو بھی حضور کی بدولت ملے گا جس پر اولین و آخرین ، موافقین و مخالفین، مومنین و کافرین سب حضور کی حمد کریں گے، اس کا نام مقام محمود ہے ۔ مرتبہ شفاعت کبریٰ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص سے ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کتنی طرح کی ہوگی؟ 
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کئی قسم پر ہے مثلاً (۱)شفاعت کبریٰ(۲)بہتوں کو بلا حساب جنت میں داخل فرمائیں گے جن میں چار ارب نوے کروڑ کی تعداد معلوم ہے اس سے بہت زائد اور ہیں جو اللہ و رسول کے علم میں ہیں۔ (۳)بہتیرے وہ ہوں گے جو مستحق جہنم ہو چکے۔ ان کو جہنم میں جانے سے بچائیں گے۔ (۴)بعضوں کی شفاعت فرما کر جہنم سے نکالیں گے۔ (۵)بعضوں کے درجات بلند فرمائیں گے۔ (۶)بعضوں سے تخفیف عذاب فرمائیں گے۔ (۷)جن کے حسنات (نیکیاں) وسیات (برائیاں) برابر ہوں گی انھیں بہشت میں داخل فرمائیں گے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا آغاز
عیسیٰ علیہ السلام کے فرمانے پر لوگ پھرتے پھراتے ، ٹھوکریں کھاتے ، دہائی دیتے۔ بارگاہِ بیکس پناہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے فضائل بیان کرکے جب شفاعت کے لیے عرض کریں گے تو حضور جواب میں ارشاد فرمائیں گے: انا لھا انا لھا انا صا حبکم میں اس کام کے لیے ہوں میں اس کام کے لیے ہوں میں ہی وہ ہوں جسے تم تمام جگہ ڈھونڈ آئے ، یہ فرما کر بارگاہِ عزت میں حاضر ہوں گے اور سجدہ کریں گے ارشاد ہوگا:
’’اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی، اور مانگو، جو کچھ مانگو گے ملے گا، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت مقبول ہے‘‘۔
اللہ اللہ ! یہ ہے کرم الٰہی کی ناز برداری اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان محبوبی کہ حبیب کا سر سجدئہ نیاز میں ہے اور ابھی حرفِ شفاعت زبان اقدس پر نہیں آیا کہ رحمت حق نے سبقت کی اور اپنے حبیب کی دلداری ورضا جوئی فرمائی کہ اے محمد ! سر اٹھائیے جو کہنا ہو، کہ
یے سنا جائے گا، مانگئے جو آپ مانگیں گے دیا جائے گا۔ غرض پھر شفاعت کا سلسلہ شروع ہوگا۔ یہاں تک کہ جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی کم ایمان ہوگا اس کے لیے بھی شفاعت فرما کر اسے جہنم سے نکالیں گے۔ اور اب تمام انبیاء اپنی اپنی امت کی شفاعت فرمائیں گے۔

The first intercession of ALLAH Presence

Posted by Unknown on 07:39 with No comments
بارگاہ الٰہی میں سب سے پہلی شفاعت 
ہمارے حضور پر نور شافع یوم النشور خود ارشاد فرماتے ہیں کہ : انا اول شافع و اول مشفع میں ہی سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور میری شفاعت سب سے پہلے قبول ہوگی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب تک باب شفاعت نہ کھولیں گے کسی کو مجالِ شفاعت نہ ہوگی بلکہ حقیقتہً جتنے شفاعت کرنے والے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں شفاعت لائیں گے اور اللہ عزوجل کے حضور مخلوقات میں صرف حضور شفیع ہیں۔

Those who would seek the intercession

Posted by Unknown on 07:30 with No comments
وہ لوگ جو طالبِ شفاعت ہوں گے 
احادیث کریمہ سے ثابت ہے کہ ہر مومن طلب گارِ شفاعت ہوگا اور تمام مومنین اولین و آخرین کے دل میں یہ بات الہام کی جائے گی کہ وہ طالب شفاعت ہوں اور شارحین حدیث نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ طالب شفاعت وہی لوگ ہوں گے جو دنیا میں اپنی حاجات میں انبیاء علیہم السلام سے توسل کیا کرتے تھے۔ انھیں کے دل میں یہ بات قدرتاً پیدا ہوگی کہ جب انبیاء کرام دنیا میں حاجت برآری کا وسیلہ تھے تو یہاں بھی حاجت روائی انھیں کے زریعہ سے ہوگی۔ چنانچہ تمام اہل محشر کے مشورہ سے یہ بات قرار پائے گی کہ ہم سب کو حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے چنانچہ افتاںو خیزاں کس کس مشکل سے ان کے پاس حاضر ہوں گے اور ان کے فضائل بیان کر کے عرض کریں گے کہ آپ ہماری شفاعت کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان مصائب محشر سے نجات دے۔ آپ انھیں حضرت نوح علیہ السلام کی خدمت میں بھیجیں گے۔ نوح علیہ السلام فرمائیں گے۔ تم ابراہیم خلیل اللہ کے پاس جاؤ، وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجیں گے، موسیٰ علیہ السلام ، عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجیں گے وہ فرمائیں گے، تم ان کے حضور حاضر ہو جن کے ہاتھ پر فتح رکھی گئی ہے جو آج بے خوف ہیں اور تمام اولادِ آدم کے سردار ہیں، وہ خاتم النبےین ہیں وہ آج ہماری شفاعت فرمائیں گے، تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ‘‘۔

Whose intercession will be accepted.

Posted by Unknown on 07:19 with No comments
جن کی شفاعت قبول ہوگی 
قرآن کریم نے اثبات شفاعت کو دو اصول میں منحصر رکھا ہے۔ اول قبل از شفاعت اذان الٰہی یعنی کسی کی شفاعت میں کلام کرنے سے پہلے اجازت خداوند حاصل ہونا، دوم شفیع کا نہات صادق و راست باز اور پوری معقول اور ٹھیک بات کہنے والا ہونا اور احادیث کریمہ اور کتب عقائد کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء و اولیاء ، وعلماء وشہدا ، وفقرا کی شفاعت مولائے کریم اپنے کرم سے قبول فرمائے گا، بلکہ حفظ حجاج اور ہر وہ شخص جس کو کوئی منصبِ دینی عنایت ہو اپنے اپنے متعلقین کی شفاعت کریں گے بلکہ نابالغ بچے جو مر گئے ہیں اپنے ماں باپ کی شفاعت کریں گے یہاں تک کہ علماء کے پاس آکر کچھ لوگ عرض کریں گے۔ ہم نے آپ کے وضو کے لیے فلاں وقت میں پانی بھر دیا تھا۔ کوئی کہے گا کہ میں نے آپ کو استنجے کے لیے ڈھیلا دیا تھا اور علماء ان کی شفاعت کریں گے۔
بلکہ حدیث شریف میں ہے کہ مومن جب آتش دوزخ سے خلاصی پائیں تو اپنے بھائیوں کی رہائی کے لیے جو آتش دوزخ میں ہوں گے، اللہ تعالیٰ کے حضور شفاعت و سوال میں مبالغہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے اذان پاکر مسلمانوں کی کثیر تعداد کو پہچان پہچان کر دوزخ سے نکالیں گے۔

The Sunni faith About intercession

Posted by Unknown on 04:46 with No comments
شفاعت کے بارے میں اہل سنت کا عقیدہ 
خاصانِ خدا کی شفاعت حق ہے، اس پر اجماع ہے اور بکثرت آیات قرآن اس کی شاہد ہیں، احادیث کریمہ اس باب میں درجہ شہرت بلکہ تواترِ معنو ی تک پہنچی ہیں۔ کتب دینیہ اس سے مالا مال ہیں۔ اس عقیدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ واحد قہار جل جلالہٗ خالق و مالک و شہنشاہ حقیقی ہے۔ اس کو کسی سے کسی قسم کا نہ لالچ ہے نہ ڈر، وہ تمام عالم سے غنی ہے اور سب اس کے محتاج ہیں، اسی نے اپنی قدرت کاملہ و حکمت بالغہ سے اپنے بندوں میں سے اپنے محبوبوں کو چن لیا اور اپنے محبوبوں کا سرادار مدنی تاجدار احمدِ مختار صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا۔ وہ باکمال بے نیازی اپنے کرم سے اپنے محبو ب کرام کی ناز بر داری فرماتا ہے۔ اس نے اپنے محبوبوں کی عظمت و جلالت اور شانِ محبوبیت ظاہر فرمانے، ان کی شوکت و وجاہت دکھانے کے لیے ان کو اپنے بندوں کا شفیع بنایا، اسی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے اولیائے کرام کو یہ مرتبہ بخشا کہ اگر وہ اللہ تبارک وتعالیٰ پر کسی بات کی قسم کھالیں تو رب کریم جل جلالہ ان کی قسم کو سچا کر دے۔ (حدیث شریف)
اسی نے ہمارے مالک و آقا سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خلیفہ اعظم و حبیب اکرم بنایا اور ارشاد فرمایا کہ: ’’اے محبوب! تم کو تمھارا رب ضرور اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جائے گے‘‘ اور اس ارشاد الٰہی پر اس نازنین حق، محبوب اجمل صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ناز اٹھانے والے رب بے نیاز کی بارگاہ کریم میں عرض کی کہ ’’جب تو میں راضی نہ ہوں گا اگر میرا ایک امتی بھی دوزخ میں رہ گیا‘‘۔
اللہ اکبر! کیا شانِ محبوبیت ہے۔ قرآن پاک نے کس اہتمام و شکوہ کے ساتھ حضور کی شفاعت کا اثبات فرماتا ہے۔ کریم بندہ نواز نے اپنے حبیب سے کیسے کیسے وعدے فرمائے ہیں۔ اپنی شانِ کرم سے انھیں راضی رکھنے کا ذمہ لیا ہے۔ اور حبیب علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شانِ ناز سے فرمایا کہ جب یہ کرم ہے تو ہم اپنا ایک امتی بھی دوزخ میں نہ چھوڑیں گے۔ فصلی اللہ تعالیٰ وسلم وبارک علیہ وآلہٖ ابد اً۔

Intercession...شفاعت

Posted by Unknown on 04:37 with No comments
شفاعت 
شفاعت کے معنی ہیں کسی شخص کو اپنے بڑے کے حضور میں اپنے چھوٹے کے لیے سفارش کرنا۔ شفاعت دھمکی اور دباؤ سے کسی بات کے منوانے کو نہیں کہتے اور نہ شفاعت ڈر کر یا دب کر مانی جاتی ہے۔ اتنی بات تو عام لوگ بھی جانتے ہیں کہ دب کر بات ماننا قبول سفارش نہیں بلکہ نامردی و بزدلی اور مجبوری و ناچاری ہے اور دباؤ سے کام نکالنے کو دھمکی اور دھونس کہتے ہیں نہ کہ شفاعت و سفارش ۔

Wednesday, 13 February 2013


Will someone else also intercede besides the Holy Prophet?
 By the means of Hazrat Muhammad Mustafat (may Allah's choicest blessings & peace be upon him) all Prophets will intercede for their followers and then the scope of intercession will enlarge to the extent that Allah's saints, spiritual guides, sages, scholars and other pious Muslims will intercede for the  sinful believers and thus countless Muslims will be admitted into heavens.

 حضور کے علاوہ کوئی اور شفاعت کرے گا یا نہیں؟
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل تمام انبیاء اپنی اپنی امت کی شفاعت فرمائیں گے اور پھر شفاعت کا سلسلہ بڑھے گا۔ اولیاء کرام ،علماء اسلام، پیران عظام اور دوسرے دیندار مسلمان شفاعت کریں گے اور بے شمار مسلمان ان کی شفاعت سے نجات پا کر جنت میں جائیں گے۔