لندن…
این جی ٹی…درد کو زائل کرنے کے لئے استعمال ہونے والے پین کلرز وقتی طور
پر سکون بخش ثابت ہوتے ہیں لیکن ان کے کئی مضر اثرات بھی سامنے آسکتے
ہیں۔جی ہاں برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق کے مطا بق پین کلرز کا
زیادہ استعمال سر درد میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق سر
درد یا مائیگرین کے لئے پین کلرز کا ستعمال فائدے کی بجائے نقصان دہ
ہوسکتے ہے اور مستقبل میں اس کی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ماہرین کا کہنا
ہے کہ لوگ اپنی مرضی سے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ہی ادویات کا استعمال شروع
کر دیتے ہیں جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
Showing posts with label Health. Show all posts
Showing posts with label Health. Show all posts
Monday, 2 September 2013
پین کلرز کا استعمال سر درد میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، طبی تحقیق
Posted by Unknown on 05:15 with No comments
Monday, 26 August 2013
ہیجانی کیفیت میں پاکستان نے کئی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا
Posted by Unknown on 04:57 with No comments
کراچی…ایک
حالیہ رپورٹ کے مطابق ہیجانی کیفیت یعنی Anxiety میں پاکستان نے کئی ممالک
کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، دنیا بھرسیچنے گئے 27ممالک میں Anxiety لیول اور اس
کو ابھارنے والے محرکات کا جائزہ لیاگیا جس میں دہشت گردی کا خطرہ،ممکنہ
اور موجودہ فوجی دشمنی، اور جرائم کے علاوہ صحت، اخراجات ، معیارزندگی اور
ملازمت کے تحفظ کو شامل کیاگیا ، رپورٹ کے مطابق دنیابھر میں تقریبا71 فیصد
افراد بے چینی میں مبتلا ہیں ، جبکہ پاکستان سب سے زیادہ ہیجانی کیفیت
رکھنے والا ملک ہے جہاں ہر دس میں سے 9 افراد ذہنی تناو کا شکار ہیں اور اس
دباو کی بڑی وجہ معیار زندگی کا حصول ہے ، ادھر مغربی یورپی ممالک میں
ہیجانی کیفیت لوگوں ، زندگی کے معمولات اور موسم کے حساب سے مختلف ہوتی ہے۔
اب بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے خود کشی کی پیشگوئی ممکن،نئی تحقیق
Posted by Unknown on 04:56 with No comments
نیویارک…
این جی ٹی…خون کے ٹیسٹ کے ذریعے مختلف بیماریوں کی تشخیص تو ایک عام سی
بات ہے لیکن اب اس کے ذریعے خود کشی کے رجحان کی پیشگوئی بھی ممکن ہے۔جی
ہاں امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اب بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے یہ بھی
جانا جا سکے گا کہ کن افراد میں خودکشی کا رجحان موجود ہے۔تحقیق کے مطابق
خود کشی کا ارادہ رکھنے والے افراد کے خون میں ایک مخصوص مادے کی شرح معمول
سے زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ خودکشی کی جانب مائل ہوتے ہیں۔ماہرین کا
کہنا ہے کہ اکثر لوگوں کے رویے سے اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی زندگی سے
مایوس ہیں اور تب پتہ چلتا ہے جب وہ اپنی جان لے چکے ہوتے ہیں لیکن اس نئی
پیش رفت سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
Tuesday, 20 August 2013
اونچی ایڑھی والی سینڈلیں گھٹنے اور کمر کی تکالیف کا سبب بنتی ہیں
Posted by Unknown on 05:22 with No comments
نیویارک…
این جی ٹی…اونچی ایڑھی والی سینڈلیں دیکھنے اور پہننے میں بلا شبہ بہت
بھلی معلوم ہوتی ہیں تاہم ان کے کئی نقصانات بھی ہیں۔ طبی ماہرین کا کہناہے
کہ انسانی پیر کو جسم کا تمام تر وزن سہارنے کی وجہ سے قدرتی طور پر خاص
انداز میں تخلیق کیا گیا ہے تاہم اونچی ایڑھی والی سینڈلیں پہننے سے جسم کا
تمام وزن صرف ایڑھیوں پر آجاتا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ High Heels کی
وجہ سے خواتین میں گھٹنے اور کمر کی تکالیف جنم لیتی ہیں۔ صرف یہی نہیں
بلکہ اس کی وجہ سے پنڈلیوں اور ایڑھی پر سوجن بھی نمودار ہوجاتی ہے جس کی
وجہ سے پیر کی رگوں میں خون کا دورانیہ متاثر ہوتا ہے۔
Sunday, 18 August 2013
تر بوز کا شربت جسما نی تھکن اتا رنے کے لیے بہترین ہے
Posted by Unknown on 02:20 with No comments
نیویارک…این جی ٹی…طبی ما ہرین کے مطا بق جسما نی مشقت کے بعد تر بو ز کا جسم تھکن اتار نے اور جسم کو مضبو ط بنا نے کے لیے بہترین مشروب ہے ۔وہ افراد جو سخت ورشوں کی کھیل کو دکی سر گر میوں میں مصروف رہتے ہیں و ہ تر بو ز کا شر بت پی کر اپنے عضلا ت کو مضبوط بنا سکتے ہیں ۔ صرف یہیں نہیں ما ہرین کے مطا بق تر بوز کے شر بت دل کے امراض سے محفوظ رکھنے میں بھی معا ون ثا بت ہو تا ہے۔
Monday, 5 August 2013
لمبے قد کی عورتوں کو کینسر کے زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں: تحقیق
Posted by Unknown on 04:59 with No comments
ایک
تحقیق سے پتا چلا ہے کہ لمبے قد کی عورتوں کو کینسر جیسی مہلک بیماری ہونے
کے زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ یہ تحقیق امریکن ایسوسی ایشن آف کینسر
ریسرچ میں کی گئی۔ تحقیق کے دوران پچاس سے 80 سال کی ایک لاکھ 45
ہزارعورتوں کے خون کے نمونے لیے گئے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کے دراز قد
خواتین کو کینسر ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ
لمبے قد کی وجہ سے انسانی جسم میں ہارمون کے اخراج پر زیادہ اثر ہوتا ہے جس
کی وجہ سے کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
موٹاپے سے بچنا ہے تو ناریل کے تیل میں کھانا پکائیے
Posted by Unknown on 04:58 with No comments
طبّی
ماہرین کے مطابق ناریل کے تیل میں پکائے جانے والے کھانے موٹاپے کا باعث
نہیں بنتے۔ آسٹریلیا میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ
ناریل کے تیل کی چکنائی دیگر چکنائیوں کے مقابلے میں جلدی ہضم ہو جاتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ناریل کا تیل نہ صرف موٹاپے سے بچاتا ہے
بلکہ وزن گھٹانے کے ساتھ سا تھ ذیابیطس سے بھی بچاتا ہے۔
نیند کی کمی خواتین کے چہرے پر جھریاں پڑنے کا سبب قرار ،نئی طبی تحقیق
Posted by Unknown on 04:56 with No comments
این جی ٹی…نیند پوری نہ ہونے کے کئی نقصانات ہیں لیکن ایک نئی تحقیق کے
مطابق نیند کی کمی خواتین کے چہرے پر جھریاں بڑھانے کا سبب بھی بن سکتی
ہے۔جی ہاں امریکہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق کے مطابق کم سونے والی
خواتین میں بڑھاپے کے آثار بہت تیزی سے نمایاں ہونے لگتے ہیں جو ان کی جلد
کو قبل از وقت بڑھاپے کا شکار کردیتی ہے۔تحقیق کے مطابق صحیح نیند لینے
والی خواتین کی جلد میں خرابی کافی تیزی سے ٹھیک ہوتی ہے اور ایسی خواتین
خود کو پرکشش بھی سمجھتی ہیں۔واضح رہے کہ نیند کی کمی موٹاپے، ذیابیطس،
کینسر اور دیگر امراض کا سبب سمجھی جاتی ہے مگر یہ پہلی بار ہے کہ انسانی
جلد پر بھی اس کے مضر اثرات سامنے آئے ہیں۔
دوسروں کی مدد کرنا اپنی جسمانی صحت کیلئے بھی مفید ہے،نئی تحقیق
Posted by Unknown on 04:50 with No comments
این
جی ٹی…کہتے ہیں کہ نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور اب تو اس بات کو
سائنسدانوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ جی ہاں امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق
کے مطابق دوسروں کی مدد کرنا دوسروں کیلئے تو فائدہ مند ثابت ہوتا ہی ہے
بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مدد کرنے والے کی اپنی جسمانی صحت کیلئے بھی انتہائی
مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب ہم کسی کی مدد
کیلئے آگے بڑھتے ہیں تو ہمارے جینز میں انتہائی خوشگوار اثرات مرتب ہوتے
ہیں اور جو لوگ دوسروں کی مدد کرنے میں مصروف رہتے ہیں ان کے اندر جراثیم
سے لڑنے والے اینٹی باڈیز جینز کا نظام بھی انتہائی مضبوط ہو جاتا ہے۔
تحقیق میں کہا گیا کہ فقط اپنی ذات تک محدود رہنے والے لوگوں کے مقابلے میں
کسی مقصد کے تحت زندگی گزارنے والوں کی قوتِ مدافعت بھی مضبوط ہوتی ہے۔
کمپیوٹر استعمال کے دوران آنکھوں میں تکلیف کا آسان ترین حل
Posted by Unknown on 04:49 with No comments
…دفاتر
میں یا گھروں میں کمپیوٹر کے سامنے زیادہ وقت صرف کرنے والے افراد میں
اکثر آنکھوں میں درد کی شکایت پائی جاتی ہے لیکن اس کا حل انتہائی آسان
ہے۔جی ہاں امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کمپیوٹر کے استعمال کے
دوران ہر 20 منٹ میں 20 سیکنڈ تک آنکھیں اسکرین سے ہٹا کر 20 فٹ کے فاصلے
پر موجود چیز پر مرکوز کرنے سے اس تکلیف سے بچا جاسکتا ہے۔کمپیوٹر اسکرین
کی جانب مسلسل دیکھتے رہنے سے آنکھیں تھک جاتی ہیں اور سر اور گردن میں درد
ہوجاتا ہے جبکہ دیگر مختلف مسائل کے باعث طبی ماہر سے رابطہ کرنا پڑسکتا
ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر 20 منٹ کے بعد کمپیوٹر صارف کو 20 سیکنڈ کا
وقفہ لے کر اپنے سے کچھ دور موجود چیزوں کو دیکھنا چاہئے۔
درد کا علاج دواؤں کے بجائے ذہن سے بھی ممکن ہے:نئی طبی تحقیق
Posted by Unknown on 04:44 with No comments
این
جی ٹی…درد کا علاج دواؤں سے زیادہ ذہن میں چھپا ہوا ہوتا ہے بس ذرا سی
دماغی مشقت کے بعد اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔جی ہاں امریکہ میں ہونے والی
ایک تحقیق کے مطابق درد کی شدت کو کم یا زیادہ محسوس کرنا ہمارے ذہن کے
کنٹرول میں ہوتا ہے اور مشق کی جائے تو درد کا احساس کم یا ختم بھی کیا
جاسکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درد پر توجہ دی جائے اور اس کی شدت کو
محسوس کیا جائے تو آپ کا درد خودبخود کم یا ختم ہوجائے گا۔ اسٹینفورڈ
یونیورسٹی میں ہونے والی اسٹڈی کے دوران رضاکاروں میں اس کا کامیاب تجربہ
بھی کیا گیا اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔
Monday, 22 July 2013
Seven Medical Tips For Saving Diseases
Posted by Unknown on 04:51 with No comments
بیماریوں سے بچانے والے 7طبّی ٹوٹکے
ہمیں محسوس نہیں ہوتا، لیکن عام زندگی میں بعض کام ہمارے جسم اور صحت پر براہ راست اثرانداز ہوتے ہیں۔ ذیل میں ایسی ہی سات سرگرمیاں پیش ہیں جنہیں انجام دینے یا نہ دینے سے ہم کئی خوفناک بیماریوں مثلاً ذیابیطس، امراض قلب، موٹاپے وغیرہ سے بچ سکتے ہیں۔
1۔ جب ہم ناشتہ نہ کریں…تو کیا ہوتا ہے؟
انسان جب طویل آرام کے بعد صبح بیدار ہو، تو اُسے کھانا کھائے دس بارہ گھنٹے بیت چکے ہوتے ہیں۔ گویا تب بدن کو ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص بات یہ کہ اس وقت خون میں گلوکوز کی مقدار بھی کم ہوچکی ہوتی ہے۔
چناں چہ انسان ناشتہ کیے بغیر کام پہ لگ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی پوری توانائی سے محروم ہو گا۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارے دماغ کو موثر طور پر کام کرنے کے لیے شکر خون (بلڈشوگر) کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ناشتہ نہ کرنے والے مرد و زن دوران کار سر درد، اعصابی تنائو، متلی، شکم درد محسوس کرتے ہیں۔ بعض اوقات ذہنی قوت بھی کم ہو جاتی ہے۔ ماہرین تحقیق سے دریافت کر چکے کہ اسکول جانے والے جو بچے ناشتہ کریں ان کی یادداشت تیز ہوتی ہے۔
نیز وہ ناشتہ نہ کرنے والے بچوں سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔
ممتاز امریکی معالج، ڈاکٹر سوما ڈریلی کہتی ہے ’’ناشتہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ سارا دن انسان کی بھوک کنٹرول میں رکھتا ہے‘‘۔ ایک اور بات یہ ہے کہ جو مرد و زن ناشتہ نہ کریں، وہ پھر دوپہر یا رات کو زائد کھانا کھا کر حراروں کی کمی پوری کرتے ہیں۔ نیز اس دوران عموماً وہ سیچوریٹڈ چکنائی والی اشیا کھاتے ہیں… وہ چکنائی جو ہمارے قلب کی شریانوں میں جم جاتی ہے۔
ناشتہ نہ کرنے والے اس عادتِ بد میں بھی مبتلا رہتے ہیں کہ کھانوں کے درمیان الم غلم (Junk) غذائیں کھاتے پھریں۔ امریکا میں بذریعہ تحقیق معالجوں نے یہ دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ جو فربہ خواتین زیادہ کاربوہائیڈریٹ اور پروٹین سے بھرپور بھاری ناشتہ کریں، ڈائٹنگ کے دوران ان کا وزن کم ہو جاتا ہے۔ جبکہ ناشتہ نہ کرنے والی موٹی خواتین اس کامیابی سے محروم رہتی ہیں۔ لہٰذا مناسب ناشتہ کر کے وزن کم کیجیے، یوں آپ کے خون میں شکر کی سطح بھی معمول پر رہے گی۔
نکتے کی بات
75 فیصد سے زیادہ جو مرد و زن ناشتہ کریں، وہ اپنا وزن کم کر لیتے ہیں۔ سونے پہ سہاگا اگر صبح آپ ناشتے سے لطف اندوز ہوں، تو آپ انسولین مزاحمت (Resistance) سے بھی بچ سکیں گے۔ اسی خلل کے باعث انسان ذیابیطس قسم دو کا نشانہ بنتا ہے۔
2۔ جب ہم چاکلیٹ کھائیں۔۔۔ تو کیا ہوتا ہے؟
بازار میں دستیاب تمام میٹھی اشیا میں چینی موجود ہوتی ہے۔ اسی لیے جب ہم ٹافی، گولی، آئس کریم، کیک وغیرہ کھائیں، جن میں کہ چینی بہت ہوتی ہے، تو ہمارے خون میں شکر کی سطح (کبھی کبھی خطرناک حد تک) بڑھ جاتی ہے۔ تاہم چاکلیٹ کے ذریعے یہ اثر جنم نہیں لیتا۔
وجہ یہ ہے کہ چاکلیٹ میں چکنائی (Fat) بھی خاصی ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ چاکلیٹ کے ہضم ہونے کا عمل سست کر ڈالتی ہے۔ چناں چہ چاکلیٹ کھانے سے ہمارے خون میں شکر بڑھتی تو ہے، لیکن اتنی زیادہ مقدار میں نہیں جو سادہ کاربوہائیڈریٹ مثلاً ٹافی، گولی، سفید ڈبل روٹی، پاستا یا آلو کھانے سے جنم لیتی ہے۔
چاکلیٹ دیگر منفی عوامل بھی رکھتا ہے۔ مثلاً دودھ والے (مِلک چاکلیٹ) میں قلبی شریانیں بند کرنے والی اچھی خاصی سیچوریٹڈ چکنائی موجود ہوتی ہے۔ اور یہی مِلک چاکلیٹ بازار میں دستیاب ہے۔
یہ بھی درست کہ چاکلیٹ سٹیرک (Searic) تیزاب نامی چکنائی بھی رکھتا ہے جو ہمارے کولیسٹرول میں اضافہ نہیں کرتا۔ لیکن بہت زیادہ چکنائی کھانے کا مطلب ہے بہت زیادہ حرارے کھانا۔ لہٰذا اگر آپ نے باقاعدگی سے مِلک چاکلیٹ کھایا تو فربہ رہنے کے لیے تیار رہیے۔ البتہ گہری رنگت والا (Dark) چاکلیٹ اس لحاظ سے بہتر ہے کہ وہ بلند فشار خون (بلڈ پریشر) اور کرنے والے ضد تکسیدی مادے رکھتا ہے۔
نکتے کی بات
چاکلیٹ یقینا بچوں بڑوں کی من پسند غذائی شے ہے، لیکن اسے کھانا عادت نہ بنائیے۔ بس ہفتے میں ایک دو بار کھائیے۔ دوسری صورت میں وزن بڑھنا آپ کا مقدر بن جائے گا۔
3۔ جب ہم سیب کھا لیں۔۔۔ تو کیا ہوتا ہے؟
رس بھرے سیب کی ہر قاش اہم غذائیت (Nutrient) اور دیگر غذائی مرکبات رکھتی ہے۔ یہ رسیلاپھل ہمارے نظام استحالہ (Metabolism) کو تقویت پہنچاتا، بھوک دباتا اور قلب کی نشوونما کرتا ہے۔
سیب کے غذائی اجزا میں ریشہ (فائبر) سب سے اہم ہے، خصوصاً حل پذیر ریشہ۔ یاد رہے، ہر قسم کا خلوی مادہ ہماری صحت کے لیے مفید ہے، لیکن حل پذیر ریشہ ایک منفرد خاصیت رکھتا ہے، یہ کہ وہ خون میں شکر کی سطح کنٹرول کرتا ہے۔
جیسے ہی حل پذیر ریشہ ہماری آنتوں میں پہنچے، وہ ہر قسم کے تیزاب و جراثیم متحرک کر دیتا ہے۔ اسی سرگرمی کے باعث نظام انہضام سست پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیب میں موجود شکر ہمارے بدن میں آہستہ آہستہ جذب ہوتی ہے۔ لہٰذا آپ بے شک دو سیب کھا جائیں، ہمارے خون میں شکر کی سطح معمول پر رہتی ہے۔
سیب ایک ضد تکسیدی (Antioxidant) مادہ، کوئرسٹین (Quercetin) بھی رکھتا ہے۔ یہ بڑا صحت بخش مادہ ہے (جو سبز چائے اور پیاز میں بھی ملتا ہے۔) یہ ہمیں دمے، امراض قلب اور شاید بعض اقسام کے سرطان سے محفوظ رکھتا ہے۔
نکتے کی بات
تحقیق و تجربات کے ماہرین کو علم ہوا ہے کہ سیب کھانے والے ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سے بچے رہتے ہیں۔ نیز یہ پھل انسان کو فربہ ہونے سے بھی بچاتا ہے۔
۴۔اگر میں بیٹھے ہوئے دن گزار دوں۔۔ تو کیا ہوتا ہے؟
کئی لوگ دن کا بیشتر حصہ بیٹھے ہوئے گزارتے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ اس میں کوئی برائی نہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسی حالت میں جب گلوکوز بھی ہمارے خون میں آرام کرنے لگے، تو ہمارا جسم کئی خرابیوں کا نشانہ بن جاتا ہے۔
جب ہم چلیں پھریں یا کوئی کام کریں، تو ہمارے عضلات گلوکوز جذب کر کے توانائی پیدا کرتے ہیں۔ لیکن جس دن ہم زیادہ بیٹھے رہیں اور حرکت نہ کریں، تو گلوکوز زیر استعمال نہیں آتی۔ اور جب انسان بیٹھے رہنے کو معمول بنا لے تو دو اہم جسمانی مسئلے جنم لیتے ہیں۔
اول یہ کہ ہمارا جسم بعض غیر استعمال شدہ گلوکوز کو چربی (یا چکنائی) میں بدل دیتا ہے۔ دوم گلوکوز خون میں طویل عرصہ آرام دہ حالت میں رہے، تو ہمارے بدن میں خاص قسم کے مرکب مادے ’’اے جی ایز‘‘ (AGEs) کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔ یہ مادہ ہمارے اعصاب اور خون کے خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے خون میں شکر کی سطح مسلسل بلند رہے، تو گردوں کی بیماری جنم لیتی ہے۔ نسیں خراب ہوتی اور اندھا پن چمٹ جاتا ہے۔ ذیابیطس تو اس کی خاص مصنوعہ گنی جاتی ہے۔
چناں چہ طویل عرصہ بیٹھ کر نہ گزاریے، حرکت میں رہیے اور کام کیجیے۔ ورنہ آپ درج بالا جسمانی خرابیوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے، ورزش چربی گھلانے والی سکّہ بند سرگرمی ہے۔ اور تحقیق بتاتی ہے کہ جسمانی سرگرمی سے اے جی ایز کی سطح بھی معمول پر آتی ہے۔ لہٰذامعمولات زندگی میں ورزش کو ضرور داخل رکھیے۔
نکتے کی بات
دن کا بیشتر عرصہ بیٹھے رہنے سے خون میں شکر بھی بے حرکت ہو جاتی ہے۔ لہٰذا یہ حالت پھر کئی جسمانی خرابیاں پیدا کرتی ہے۔
5۔ جب میں غصے میں سارا دن بسر کروں۔۔۔ تو کیا ہوتا ہے؟
انسان گاہے بہ گاہے غصے میں آئے تو اس میں کوئی ہرج نہیں… یہ ایک قدرتی جذبہ ہے جو کبھی نہ کبھی ہر کسی کو آ دبوچتا ہے۔ لیکن مسلسل غصے میں رہنا دوسری بات ہے… یوں انسانی صحت متاثر ہوتی ہے۔
غصہ دو دھاری تلوار ہے۔ کیونکہ جذباتی طور پر یہ انسان کا موڈ تباہ کرتا اور دوسروں کو اس سے دور کرتا ہے۔ جبکہ جسمانی لحاظ سے غصہ ور انسان موٹاپے اور ذیابیطس کا نشانہ بن سکتا ہے۔
غصہ دراصل ایک قسم کا ’’جذباتی دبائو‘‘ (Emotional Stress) ہے۔ اس کے جنم لینے سے ہمارے بدن میں ایڈرنیلین اور دبائو سے وابستہ دیگر ہارمون پیدا ہوتے ہیں۔ ان دبائو والے ہارمونوں کا ایک اثر یہ ہے کہ وہ ہمارے خون میں شکر کی سطح بڑھاتے ہیں۔ نیز جذباتی دبائو ہم میں بری عادات مثلاً الم غلم چیزیں کھانا بھی جنم دیتا ہے۔
انسان دن بھر جلتا کڑھتا اور پیچ و تاب کھاتا رہے، تو یہ کیفیت اس کے دل پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ امریکی ٹیل یونیورسٹی کی تازہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ جو لوگ غصہ پالنے کے شوقین ہیں، ان میں ایک کیمیائی مادہ، اینڈوتھیلین (Endothelin) بکثرت ملتا ہے۔
اینڈوتھیلین کی زیادتی ہی سے دل کی شریانوں میں چربی، کولیسٹرول اور دیگر غذائی مواد جمع ہو کر تھکے بناتا ہے۔ چناں چہ اس کیمیائی مادے کے باعث حملہ قلب ہونے کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے۔
جدید تحقیق نے ایک اور خطرناک انکشاف بھی کیا ہے۔ یہ کہ کوئی انسان مسلسل شدید غصے میں رہے، تو اس میں دھڑکن قلب کی بے قاعدگی (Arrhythmia) کا خلل جنم لیتا ہے۔ یہ خلل بے قابو ہو جائے تو پھر آپ کا دل دھک دھک کرنا چھوڑ سکتا ہے… ہمیشہ کے لیے!
نکتے کی بات
یاد رکھیے، دن بھر غصے میں رہنا زہر ہے۔ لہٰذا اگر آپ اپنا خون ابلتا پائیں، تو جلد اُسے سرد کرنے کی راہ ڈھونڈیے۔ مثلاً اپنا غم و غصہ ڈائری میں لکھ ڈالیے۔ کسی دوست یا ہم راز کو قصّہِ درد سنائیے۔یا پھر باہر جائیے اور بلند آواز میں چیخیے۔۔۔ غرض ایسا ہر قدم اٹھائیے جو آپ کا غصہ دور کر سکے۔
6۔ میں سارا دن خوش رہوں۔۔۔ تو کیا ہوتا ہے؟
جب انسان خوش ہو، اطمینان و سکون محسوس کرے تو اس میں قوت ارتکاز بڑھ جاتی ہے۔ وہ پھر اپنے آپ پہ زیادہ توجہ دیتا ہے۔ چونکہ انسان اپنی دنیا میں امن و امان سے ہوتا ہے، لہٰذا اس کے بدن میں ذہنی دبائو سے وابستہ ہارمون جنم نہیں لیتے۔ یوں ان کی عدم موجودگی میں خون کی شکر قابو میں رہتی ہے، بلند فشار خون پیدا نہیں ہوتا اور دل کی دھڑکن معمول پر رہتی ہے۔
جدید تحقیق بتاتی ہے کہ خوش باش رہنے والے مرد و زن چھوت کی بیماریوں اور دیگر امراض سے محفوظ رہتے ہیں۔ امریکی کارنیج میلن یونیورسٹی میں محققوں نے دس مرد اور خواتین کو دانستہ مختلف جراثیم اور وائرس کا شکار بنایا۔ بعد ازاں اُن مرد و زن کے جسمانی معائینے سے انکشاف ہوا کہ جو خوش باش اور اچھے موڈ میں تھے، ان کے جسم میں بیماریوں کا مقابلہ کرنے والے خاص پروٹین ’’سائٹوکائنز‘‘ زیادہ مقدار میں پیدا ہوئے۔ یہ پروٹین ہمارا نظام مامون پیدا کرتا ہے۔
دیگر تجربات سے بھی واضح ہوا کہ جذبات ہمارے رویے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مثلاً ان سے معلوم ہوا کہ جو لوگ مثبت طرز فکر رکھیں اور امید پرست رہیں، وہ صحت بخش کھانے کھاتے اور ورزش کرتے ہیں۔ ان کے خون میں شکر کی سطح بھی کم ہوتی ہے۔ غرض وہ ناامیدی اور منفی طرز فکر کا شکار لوگوں کی نسبت بہتر زندگی گزارتے ہیں۔
7۔ اگر میں رات کو پانچ گھنٹے نیند لوں۔۔۔ تو کیا ہوتا ہے۔
انسان جب بھی معمول سے کم نیند لے تو اس کا جسمانی نظام تلپٹ ہو جاتا ہے۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ نیند کی کمی سے ہمارے بدن میں بھوک کنٹرول کرنے والا ہارمون، لیپٹن کم جنم لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو مرد و زن کم سوئیں، وہ عموماً زیادہ کھانا کھانے لگتے اور فربہ ہو جاتے ہیں۔
نیند کی عدم موجودگی سے بدن میں دبائو Stress پیدا کرنے والے ہارمونوں کی افزائش بھی بڑھتی ہے۔ اسی باعث ہمارا بدن خون میں زاہد گلوکوز پھینکنے لگتا ہے (تاکہ دبائو کم ہو سکے)۔ لہٰذا بہت کم نیند سے جسم میں انسولین کا نظام بھی گڑبڑا جاتا ہے۔
دل تھام کے رکھیے، ابھی تو آغاز ہے۔ محققوں نے انکشاف کیا ہے کہ انسان کم سونا معمول بنا لے، تو ہمارا مدافعتی (Immune) نظام ایسے مخصوص کیمیائی مادے بنانا چھوڑ دیتا ہے جو جراثیم مارتے ہیں۔ یہی وجہ ہے، پچھلے سال ایک تحقیق سے دریافت ہوا، جو خواتین و حضرات سات گھنٹے سے کم نیند لیں، وہ دوسروں کی نسبت عام بیماریوں مثلاً بخار، کھانسی، نزلہ وغیرہ میں زیادہ گرفتار ہوتے ہیں۔
نیند کی کمی کے دیگر نقصانات بھی ہیں۔ مثلاً جب الارم انسان کو جگائے، تو بے دلی سے دن کا آغاز کرتا ہے۔ پھر جوں جوں وقت گزرے، انسان پہ سستی اور غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔ وہ پھر کوئی کام دھیان سے نہیں کرتا۔ دوسری طرف جو مرد و زن پوری نیند لیں، رات کو بھرپور آرام کریں وہ نئی معلومات تیزی سے اخذ کرتے اور بہترین طور پر کام انجام دیتے ہیں۔
نکتے کی بات
یہ درست ہے کہ کچھ لوگ تھوڑی سی نیند لے کر بھی چوق چوبند ہو جاتے ہیں، مگر بیشتر لوگوں کو سات آٹھ گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔
1۔ جب ہم ناشتہ نہ کریں…تو کیا ہوتا ہے؟
انسان جب طویل آرام کے بعد صبح بیدار ہو، تو اُسے کھانا کھائے دس بارہ گھنٹے بیت چکے ہوتے ہیں۔ گویا تب بدن کو ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص بات یہ کہ اس وقت خون میں گلوکوز کی مقدار بھی کم ہوچکی ہوتی ہے۔
چناں چہ انسان ناشتہ کیے بغیر کام پہ لگ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی پوری توانائی سے محروم ہو گا۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارے دماغ کو موثر طور پر کام کرنے کے لیے شکر خون (بلڈشوگر) کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ناشتہ نہ کرنے والے مرد و زن دوران کار سر درد، اعصابی تنائو، متلی، شکم درد محسوس کرتے ہیں۔ بعض اوقات ذہنی قوت بھی کم ہو جاتی ہے۔ ماہرین تحقیق سے دریافت کر چکے کہ اسکول جانے والے جو بچے ناشتہ کریں ان کی یادداشت تیز ہوتی ہے۔
نیز وہ ناشتہ نہ کرنے والے بچوں سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔
ممتاز امریکی معالج، ڈاکٹر سوما ڈریلی کہتی ہے ’’ناشتہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ سارا دن انسان کی بھوک کنٹرول میں رکھتا ہے‘‘۔ ایک اور بات یہ ہے کہ جو مرد و زن ناشتہ نہ کریں، وہ پھر دوپہر یا رات کو زائد کھانا کھا کر حراروں کی کمی پوری کرتے ہیں۔ نیز اس دوران عموماً وہ سیچوریٹڈ چکنائی والی اشیا کھاتے ہیں… وہ چکنائی جو ہمارے قلب کی شریانوں میں جم جاتی ہے۔
ناشتہ نہ کرنے والے اس عادتِ بد میں بھی مبتلا رہتے ہیں کہ کھانوں کے درمیان الم غلم (Junk) غذائیں کھاتے پھریں۔ امریکا میں بذریعہ تحقیق معالجوں نے یہ دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ جو فربہ خواتین زیادہ کاربوہائیڈریٹ اور پروٹین سے بھرپور بھاری ناشتہ کریں، ڈائٹنگ کے دوران ان کا وزن کم ہو جاتا ہے۔ جبکہ ناشتہ نہ کرنے والی موٹی خواتین اس کامیابی سے محروم رہتی ہیں۔ لہٰذا مناسب ناشتہ کر کے وزن کم کیجیے، یوں آپ کے خون میں شکر کی سطح بھی معمول پر رہے گی۔
نکتے کی بات
75 فیصد سے زیادہ جو مرد و زن ناشتہ کریں، وہ اپنا وزن کم کر لیتے ہیں۔ سونے پہ سہاگا اگر صبح آپ ناشتے سے لطف اندوز ہوں، تو آپ انسولین مزاحمت (Resistance) سے بھی بچ سکیں گے۔ اسی خلل کے باعث انسان ذیابیطس قسم دو کا نشانہ بنتا ہے۔
2۔ جب ہم چاکلیٹ کھائیں۔۔۔ تو کیا ہوتا ہے؟
بازار میں دستیاب تمام میٹھی اشیا میں چینی موجود ہوتی ہے۔ اسی لیے جب ہم ٹافی، گولی، آئس کریم، کیک وغیرہ کھائیں، جن میں کہ چینی بہت ہوتی ہے، تو ہمارے خون میں شکر کی سطح (کبھی کبھی خطرناک حد تک) بڑھ جاتی ہے۔ تاہم چاکلیٹ کے ذریعے یہ اثر جنم نہیں لیتا۔
وجہ یہ ہے کہ چاکلیٹ میں چکنائی (Fat) بھی خاصی ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ چاکلیٹ کے ہضم ہونے کا عمل سست کر ڈالتی ہے۔ چناں چہ چاکلیٹ کھانے سے ہمارے خون میں شکر بڑھتی تو ہے، لیکن اتنی زیادہ مقدار میں نہیں جو سادہ کاربوہائیڈریٹ مثلاً ٹافی، گولی، سفید ڈبل روٹی، پاستا یا آلو کھانے سے جنم لیتی ہے۔
چاکلیٹ دیگر منفی عوامل بھی رکھتا ہے۔ مثلاً دودھ والے (مِلک چاکلیٹ) میں قلبی شریانیں بند کرنے والی اچھی خاصی سیچوریٹڈ چکنائی موجود ہوتی ہے۔ اور یہی مِلک چاکلیٹ بازار میں دستیاب ہے۔
یہ بھی درست کہ چاکلیٹ سٹیرک (Searic) تیزاب نامی چکنائی بھی رکھتا ہے جو ہمارے کولیسٹرول میں اضافہ نہیں کرتا۔ لیکن بہت زیادہ چکنائی کھانے کا مطلب ہے بہت زیادہ حرارے کھانا۔ لہٰذا اگر آپ نے باقاعدگی سے مِلک چاکلیٹ کھایا تو فربہ رہنے کے لیے تیار رہیے۔ البتہ گہری رنگت والا (Dark) چاکلیٹ اس لحاظ سے بہتر ہے کہ وہ بلند فشار خون (بلڈ پریشر) اور کرنے والے ضد تکسیدی مادے رکھتا ہے۔
نکتے کی بات
چاکلیٹ یقینا بچوں بڑوں کی من پسند غذائی شے ہے، لیکن اسے کھانا عادت نہ بنائیے۔ بس ہفتے میں ایک دو بار کھائیے۔ دوسری صورت میں وزن بڑھنا آپ کا مقدر بن جائے گا۔
3۔ جب ہم سیب کھا لیں۔۔۔ تو کیا ہوتا ہے؟
رس بھرے سیب کی ہر قاش اہم غذائیت (Nutrient) اور دیگر غذائی مرکبات رکھتی ہے۔ یہ رسیلاپھل ہمارے نظام استحالہ (Metabolism) کو تقویت پہنچاتا، بھوک دباتا اور قلب کی نشوونما کرتا ہے۔
سیب کے غذائی اجزا میں ریشہ (فائبر) سب سے اہم ہے، خصوصاً حل پذیر ریشہ۔ یاد رہے، ہر قسم کا خلوی مادہ ہماری صحت کے لیے مفید ہے، لیکن حل پذیر ریشہ ایک منفرد خاصیت رکھتا ہے، یہ کہ وہ خون میں شکر کی سطح کنٹرول کرتا ہے۔
جیسے ہی حل پذیر ریشہ ہماری آنتوں میں پہنچے، وہ ہر قسم کے تیزاب و جراثیم متحرک کر دیتا ہے۔ اسی سرگرمی کے باعث نظام انہضام سست پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیب میں موجود شکر ہمارے بدن میں آہستہ آہستہ جذب ہوتی ہے۔ لہٰذا آپ بے شک دو سیب کھا جائیں، ہمارے خون میں شکر کی سطح معمول پر رہتی ہے۔
سیب ایک ضد تکسیدی (Antioxidant) مادہ، کوئرسٹین (Quercetin) بھی رکھتا ہے۔ یہ بڑا صحت بخش مادہ ہے (جو سبز چائے اور پیاز میں بھی ملتا ہے۔) یہ ہمیں دمے، امراض قلب اور شاید بعض اقسام کے سرطان سے محفوظ رکھتا ہے۔
نکتے کی بات
تحقیق و تجربات کے ماہرین کو علم ہوا ہے کہ سیب کھانے والے ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سے بچے رہتے ہیں۔ نیز یہ پھل انسان کو فربہ ہونے سے بھی بچاتا ہے۔
۴۔اگر میں بیٹھے ہوئے دن گزار دوں۔۔ تو کیا ہوتا ہے؟
کئی لوگ دن کا بیشتر حصہ بیٹھے ہوئے گزارتے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ اس میں کوئی برائی نہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسی حالت میں جب گلوکوز بھی ہمارے خون میں آرام کرنے لگے، تو ہمارا جسم کئی خرابیوں کا نشانہ بن جاتا ہے۔
جب ہم چلیں پھریں یا کوئی کام کریں، تو ہمارے عضلات گلوکوز جذب کر کے توانائی پیدا کرتے ہیں۔ لیکن جس دن ہم زیادہ بیٹھے رہیں اور حرکت نہ کریں، تو گلوکوز زیر استعمال نہیں آتی۔ اور جب انسان بیٹھے رہنے کو معمول بنا لے تو دو اہم جسمانی مسئلے جنم لیتے ہیں۔
اول یہ کہ ہمارا جسم بعض غیر استعمال شدہ گلوکوز کو چربی (یا چکنائی) میں بدل دیتا ہے۔ دوم گلوکوز خون میں طویل عرصہ آرام دہ حالت میں رہے، تو ہمارے بدن میں خاص قسم کے مرکب مادے ’’اے جی ایز‘‘ (AGEs) کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔ یہ مادہ ہمارے اعصاب اور خون کے خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے خون میں شکر کی سطح مسلسل بلند رہے، تو گردوں کی بیماری جنم لیتی ہے۔ نسیں خراب ہوتی اور اندھا پن چمٹ جاتا ہے۔ ذیابیطس تو اس کی خاص مصنوعہ گنی جاتی ہے۔
چناں چہ طویل عرصہ بیٹھ کر نہ گزاریے، حرکت میں رہیے اور کام کیجیے۔ ورنہ آپ درج بالا جسمانی خرابیوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے، ورزش چربی گھلانے والی سکّہ بند سرگرمی ہے۔ اور تحقیق بتاتی ہے کہ جسمانی سرگرمی سے اے جی ایز کی سطح بھی معمول پر آتی ہے۔ لہٰذامعمولات زندگی میں ورزش کو ضرور داخل رکھیے۔
نکتے کی بات
دن کا بیشتر عرصہ بیٹھے رہنے سے خون میں شکر بھی بے حرکت ہو جاتی ہے۔ لہٰذا یہ حالت پھر کئی جسمانی خرابیاں پیدا کرتی ہے۔
5۔ جب میں غصے میں سارا دن بسر کروں۔۔۔ تو کیا ہوتا ہے؟
انسان گاہے بہ گاہے غصے میں آئے تو اس میں کوئی ہرج نہیں… یہ ایک قدرتی جذبہ ہے جو کبھی نہ کبھی ہر کسی کو آ دبوچتا ہے۔ لیکن مسلسل غصے میں رہنا دوسری بات ہے… یوں انسانی صحت متاثر ہوتی ہے۔
غصہ دو دھاری تلوار ہے۔ کیونکہ جذباتی طور پر یہ انسان کا موڈ تباہ کرتا اور دوسروں کو اس سے دور کرتا ہے۔ جبکہ جسمانی لحاظ سے غصہ ور انسان موٹاپے اور ذیابیطس کا نشانہ بن سکتا ہے۔
غصہ دراصل ایک قسم کا ’’جذباتی دبائو‘‘ (Emotional Stress) ہے۔ اس کے جنم لینے سے ہمارے بدن میں ایڈرنیلین اور دبائو سے وابستہ دیگر ہارمون پیدا ہوتے ہیں۔ ان دبائو والے ہارمونوں کا ایک اثر یہ ہے کہ وہ ہمارے خون میں شکر کی سطح بڑھاتے ہیں۔ نیز جذباتی دبائو ہم میں بری عادات مثلاً الم غلم چیزیں کھانا بھی جنم دیتا ہے۔
انسان دن بھر جلتا کڑھتا اور پیچ و تاب کھاتا رہے، تو یہ کیفیت اس کے دل پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ امریکی ٹیل یونیورسٹی کی تازہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ جو لوگ غصہ پالنے کے شوقین ہیں، ان میں ایک کیمیائی مادہ، اینڈوتھیلین (Endothelin) بکثرت ملتا ہے۔
اینڈوتھیلین کی زیادتی ہی سے دل کی شریانوں میں چربی، کولیسٹرول اور دیگر غذائی مواد جمع ہو کر تھکے بناتا ہے۔ چناں چہ اس کیمیائی مادے کے باعث حملہ قلب ہونے کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے۔
جدید تحقیق نے ایک اور خطرناک انکشاف بھی کیا ہے۔ یہ کہ کوئی انسان مسلسل شدید غصے میں رہے، تو اس میں دھڑکن قلب کی بے قاعدگی (Arrhythmia) کا خلل جنم لیتا ہے۔ یہ خلل بے قابو ہو جائے تو پھر آپ کا دل دھک دھک کرنا چھوڑ سکتا ہے… ہمیشہ کے لیے!
نکتے کی بات
یاد رکھیے، دن بھر غصے میں رہنا زہر ہے۔ لہٰذا اگر آپ اپنا خون ابلتا پائیں، تو جلد اُسے سرد کرنے کی راہ ڈھونڈیے۔ مثلاً اپنا غم و غصہ ڈائری میں لکھ ڈالیے۔ کسی دوست یا ہم راز کو قصّہِ درد سنائیے۔یا پھر باہر جائیے اور بلند آواز میں چیخیے۔۔۔ غرض ایسا ہر قدم اٹھائیے جو آپ کا غصہ دور کر سکے۔
6۔ میں سارا دن خوش رہوں۔۔۔ تو کیا ہوتا ہے؟
جب انسان خوش ہو، اطمینان و سکون محسوس کرے تو اس میں قوت ارتکاز بڑھ جاتی ہے۔ وہ پھر اپنے آپ پہ زیادہ توجہ دیتا ہے۔ چونکہ انسان اپنی دنیا میں امن و امان سے ہوتا ہے، لہٰذا اس کے بدن میں ذہنی دبائو سے وابستہ ہارمون جنم نہیں لیتے۔ یوں ان کی عدم موجودگی میں خون کی شکر قابو میں رہتی ہے، بلند فشار خون پیدا نہیں ہوتا اور دل کی دھڑکن معمول پر رہتی ہے۔
جدید تحقیق بتاتی ہے کہ خوش باش رہنے والے مرد و زن چھوت کی بیماریوں اور دیگر امراض سے محفوظ رہتے ہیں۔ امریکی کارنیج میلن یونیورسٹی میں محققوں نے دس مرد اور خواتین کو دانستہ مختلف جراثیم اور وائرس کا شکار بنایا۔ بعد ازاں اُن مرد و زن کے جسمانی معائینے سے انکشاف ہوا کہ جو خوش باش اور اچھے موڈ میں تھے، ان کے جسم میں بیماریوں کا مقابلہ کرنے والے خاص پروٹین ’’سائٹوکائنز‘‘ زیادہ مقدار میں پیدا ہوئے۔ یہ پروٹین ہمارا نظام مامون پیدا کرتا ہے۔
دیگر تجربات سے بھی واضح ہوا کہ جذبات ہمارے رویے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مثلاً ان سے معلوم ہوا کہ جو لوگ مثبت طرز فکر رکھیں اور امید پرست رہیں، وہ صحت بخش کھانے کھاتے اور ورزش کرتے ہیں۔ ان کے خون میں شکر کی سطح بھی کم ہوتی ہے۔ غرض وہ ناامیدی اور منفی طرز فکر کا شکار لوگوں کی نسبت بہتر زندگی گزارتے ہیں۔
7۔ اگر میں رات کو پانچ گھنٹے نیند لوں۔۔۔ تو کیا ہوتا ہے۔
انسان جب بھی معمول سے کم نیند لے تو اس کا جسمانی نظام تلپٹ ہو جاتا ہے۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ نیند کی کمی سے ہمارے بدن میں بھوک کنٹرول کرنے والا ہارمون، لیپٹن کم جنم لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو مرد و زن کم سوئیں، وہ عموماً زیادہ کھانا کھانے لگتے اور فربہ ہو جاتے ہیں۔
نیند کی عدم موجودگی سے بدن میں دبائو Stress پیدا کرنے والے ہارمونوں کی افزائش بھی بڑھتی ہے۔ اسی باعث ہمارا بدن خون میں زاہد گلوکوز پھینکنے لگتا ہے (تاکہ دبائو کم ہو سکے)۔ لہٰذا بہت کم نیند سے جسم میں انسولین کا نظام بھی گڑبڑا جاتا ہے۔
دل تھام کے رکھیے، ابھی تو آغاز ہے۔ محققوں نے انکشاف کیا ہے کہ انسان کم سونا معمول بنا لے، تو ہمارا مدافعتی (Immune) نظام ایسے مخصوص کیمیائی مادے بنانا چھوڑ دیتا ہے جو جراثیم مارتے ہیں۔ یہی وجہ ہے، پچھلے سال ایک تحقیق سے دریافت ہوا، جو خواتین و حضرات سات گھنٹے سے کم نیند لیں، وہ دوسروں کی نسبت عام بیماریوں مثلاً بخار، کھانسی، نزلہ وغیرہ میں زیادہ گرفتار ہوتے ہیں۔
نیند کی کمی کے دیگر نقصانات بھی ہیں۔ مثلاً جب الارم انسان کو جگائے، تو بے دلی سے دن کا آغاز کرتا ہے۔ پھر جوں جوں وقت گزرے، انسان پہ سستی اور غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔ وہ پھر کوئی کام دھیان سے نہیں کرتا۔ دوسری طرف جو مرد و زن پوری نیند لیں، رات کو بھرپور آرام کریں وہ نئی معلومات تیزی سے اخذ کرتے اور بہترین طور پر کام انجام دیتے ہیں۔
نکتے کی بات
یہ درست ہے کہ کچھ لوگ تھوڑی سی نیند لے کر بھی چوق چوبند ہو جاتے ہیں، مگر بیشتر لوگوں کو سات آٹھ گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔
Lose Weight Not Health
Posted by Unknown on 04:43 with No comments
صحت نہیں وزن کم کریں
زندگی بہت سادہ ہے اور یہی خوب صورتی اس کی خوب صورتی ہے۔ اسے سادگی سے ہی گزارنا چاہیے تب ہی یہ صحت مند رہتی ہے۔ صحت مند زندگی گزارنے کے لیے کچھ سادہ سے اصول یاد رکھیں جو وزن کم کریں گے صحت نہیں۔
1 ۔فرائی کی ہوئی چیزیں کھانے سے پہلے کاغذ یا ٹشوپیپر پر رکھیں تاکہ فالتو چکنائی اُس میں جذب جائے۔
2۔انڈہ چکنائی میں نہ بنائیں، نان اسٹک پین میں بنائیں۔
3۔پراٹھا کھانے کو دل چاہے تو اندر گھی نہ لگائیں۔
4۔پی نٹ بٹر سے پرہیز کریں۔ اس کے اندر نہ صرف بہت سی کیلوریز ہیں بلکہ چکنائی بھی کافی مقدار میں ہوتی ہے۔
5۔ ٹوسٹ پر شوگر فری مارملیڈ لگا کے کھانے کو معمول بنائیے۔
6۔پنیر کے ٹکڑے بہت باریک بنائیں تا کہ شوق بھی پورا ہو جائے اور ضرورت بھی۔
7۔دودھ سے ملائی ضرور اتارا کریں (خود کھانے کے لیے نہیں)
8۔فروٹ چاٹ پر چینی کا شربت ہرگز نہ ڈالیں بلکہ کینو یا مالٹے کا جوس استعمال کریں۔
9۔کسی دعوت میں جائیں تو پکے ہوئے ’’میٹھے‘‘(سویٹ ڈش)کے بجائے تازہ پھل استعمال کریں۔
10۔گوشت سے ساری چربی اتار کر تیار کریں یا کروائیں۔
11۔کھانے میں مچھلی اور مرغی کا استعمال زیادہ کریں۔
12۔کم کیلوریز والی مایونیز استعمال کریں بلکہ اگر مایونیز کا استعمال ترک کر دیں تو زیادہ بہتر ہو گا۔
13۔ بسکٹ اور کیک پیسٹری یعنی بیکری کی ساری اشیا سے ہاتھ کھینچ لیں۔
14۔سادہ سوپ پیا کریں۔ کریمی سوپ نہ پیئیں۔
15۔مربے وغیرہ نہ کھائیں(کھانا ضروری ہوتو دھوکر)۔ یہ مٹھاس کے شیرے سے بھرے ہوتے ہیں۔ آپ کو بڑی مشکل میں ڈال دیں گے۔
16۔ کبھی کبھار ڈائیٹ کوک لے سکتے ہیں لیکن اسے روٹین نہ بنائیں۔
17۔اگرکبھی کبھار کیک کھانے کو دل چاہے تو آئسنگ اور کریم اتار کرکھائیں۔
18۔ایسے لوگوں سے دوستی رکھیں جنھیں اسمارٹ رہنا پسند ہو۔ ہر مہینے آپس میں ٹارگٹ کر کے کچھ وزن گرائیں۔
19۔زیادہ ڈھیلے کپڑے نہ استعمال کریں۔
20۔ہمیشہ چھوٹی پلیٹ کا استعمال کریں۔
21۔روسٹ کی بجائے بیک (Bake)کیے ہوئے کھانے کھائیں۔
22۔اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ آپ کا وزن زیادہ کھانے سے بڑھا ہے۔
23۔ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کھانا نہ کھائیں کیونکہ اس طرح کھانا زیادہ کھایا جاتا ہے۔
24۔روزانہ باقاعدگی سے کم از کم 45منٹ تیز واک کریں۔
25۔گھر میں سیڑھیاں ہوں تو زیادہ استعمال کریں۔
26۔ٹہلنا، تیرنا، سائیکل چلانا سبھی وزن کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اچھی صحت میں معاونت کرتے ہیں۔
27۔سب سے بڑی بات نمازباقاعدگی سے پڑھیں۔ مکمل رکوع وسجود کریں۔ وزن آپ کا ہمیشہ اعتدال میں رہے گا۔
28۔ایسی قدرتی غذائیں استعمال کریں جو آرگینک ہوں، جن میں کاربوہائیڈریٹس زیادہ ہوں۔یہ گندم اور مکئی کے دلیے، بارلے (جو) دودھ اور پھلوں سے ملتے ہیں۔
گوشت:
کلیجی، مرغی کا سوپ، مچھلی اور دوسرے سرخ گوشت، ان میں وٹامن اے، بی12، ڈی اور ای کے علاوہ تھیامن، فولیٹ، فولاد اور جست موجود ہے۔ کلیجی ایسی پروٹین ہے جو مہنگی نہیں اور بآسانی دستیاب بھی ہے۔ مچھلی میں ضروری فیٹی ایسڈ ز کے علاوہ کیلشیم کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔
سبزیاں:
پالک، گوبھی اور ہر وہ سبزی جس کے ساتھ سبز پتے ہوں اس قدر مہنگی نہیں ہیں کہ قوت خرید سے باہر ہوں۔ ان میں بیٹا کیروٹین، وٹامن ای، بی6 اور فولیٹ موجود ہیں۔
اس کے علاوہ کیلشیم اور میگنیشم بے حد مفید اجزا شامل ہیں۔ جڑوں والی سبزیاں آلو، شلجم، گاجر، مولی میں بیک وقت وٹامن سی، کاربوہائیڈریٹس اور فائبر شامل ہیں۔
ڈیری مصنوعات:
ڈیری مصنوعات میں دودھ، دہی، پنیر مکمل پروٹین بھی ہیں اور کیلشیم کے علاوہ وٹامن اے، بی 12، فولیٹ، ربوفلاوین اورنیاسین شامل ہیں۔ اگر کسی کو بلڈپریشر زیادہ ہو تو ان غذائوں کو ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرنا چاہیے۔ورنہ زیادہ نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ میں اس لیے باربار یاد دلاتی ہوں کہ ہر کھانے والی ہرچیز پر خواہش مند اور بھوکے پیٹ کے لیے نہیں ہوتی۔ اپنے ڈاکٹر اور ماہر غذائیات سے پوچھ لینا چاہیے۔
سٹرس فروٹس میں اسٹرابیری، مالٹے، سنگترے وٹامن سی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ناشپاتی اور سیب میں ریشہ (فائبر) موجود ہے جو خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتا ہے۔ کیلے میں پوٹاشیم اور کاربوہائیڈریٹس دونوں اجزا موجود ہیں۔ روزانہ کوئی ایک پھل ساڑھے تین اونس یا 100ملی گرام تک کھانا ضروری ہے۔
پھل بطور خاص سٹرس فروٹس سٹرس فروٹس میں اسٹرابیری، مالٹے، سنگترے وٹامن سی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ناشپاتی اور سیب میں ریشہ (فائبر) موجود ہے جو خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتا ہے۔ کیلے میں پوٹاشیم اور کاربوہائیڈریٹس دونوں اجزا موجود ہیں۔ روزانہ کوئی پھل ساڑھے تین اونس یا 100ملی گرام تک کھانا ضروری ہے۔
انڈے مکمل پروٹین کا ایک اور جزو جس میں وٹامن اے اور ڈی شامل ہے۔ کولیسٹرول بڑھنے کا اندیشہ لاحق ہو تو ایک ہفتے میں 3یا 4سے زیادہ انڈے نہیں کھانے چاہئیں۔
دالیں، پھلیاں، مٹر دالیں سستی لیکن قیمتی پروٹین کی حامل ہوتی ہیں۔ لیکن چونکہ اب مہنگائی نے دالوں کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔
لہٰذا تھوڑی مقدار میں سہی، مگر غذا کا جزو بنا لینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اناج سے بنے پاسٹا، چاول، مٹر اور پھلیاں نظام ہاضمہ بہتر بناتے ہیں۔ مٹر اور پھلیاں نظام ہاضمہ بہتر بناتے ہیں۔
مٹر، پھلیاں، سلاد، چاولوں اور سالن میں بھون کر یا Bakeکر کے شامل کی جا سکتی ہیں یہ غذائیت سے پُرخوراک ہو سکتی ہے۔ میں نے ان سب غذائوں میں غذائیت کا ذکر کیا ہے لیکن میں نے کوئی گروپ ایسا نہیں بتایا جس میں کریم کیک، پیسٹری، بوتلیں، بسکٹ، Chips، سلانٹیز، چاکلیٹ، پیزا شوارما وغیرہ میں کتنی غذائیت ہو گی؟ غذا کو جب شکل بدل کر پکایا جاتا ہے تو اس میں غذائیت کا عنصر بہت کم اور Bad Caloriesبڑھ جاتی ہیں۔ جو ہمارے جسم کی ساخت کو تباہ کر دیتی ہیں ہم بے ڈول ہو جاتے ہیں۔ جو اندر سے قوت مدافعت ختم کر دیتی ہیں اور ہم بیمار پڑ جاتے ہیں۔ یہی بیماری ہمیں نہ دین کا رہنے دیتی ہے اور نہ دنیاکا…
ذائقہ کی تلاش:
یہ وہ نئی ہوس ہے جو انسان کافی زمانہ کباڑا کر رہی ہے اور ختم ہونے میں نہیں آرہی۔ ہم سادہ غذا میں ذائقہ اور انجوائے منٹ محسوس نہیں کرتے ہیں۔ جب کہ Complicatedغذائوں میںہمیں لطف اور ذائقہ ملتا ہے۔ ہمارے پیارے نبیﷺ کا دسترخوان سادہ اور مختصر ہوتا تھا۔
ہم ان کی امت ہیںاور ہماری میزوں پر عجیب غریب چیزیں آچکی ہیں۔ بچے نوڈلز کھا رہے ہیں۔ کیا چاول پاکستان میں ختم ہو گئے ہیں جو بچوں کو نوڈلز کھلانا اہم ہو گیا ہے۔ پیاری مائوں کو چاہیے کہ بچوں کو پیار سے دودھ چاول دیں ہلکی برائون شکر ڈال کر، ان کے ساتھ دشمنی نہ کریں نوڈلز کھلا کھلا کر۔ برگر کھلانا ہے کیا روٹی یا پراٹھا میں کباب بنانا نہیں آتا؟
ضرور برگر کی Pattyاستعمال کرنی ہے؟ اس کے بجائے گھر کی گندم استعمال کریں۔ اسی طرح باہر سے چاکلیٹ لا کر بچوں کو کھلایا جارہا ہے۔ کیا آپ اچھا سا تازہ سلاد بنا کر بچوں کو نہیں کھلا سکتیں۔
بچوںکو مایونیز لگا کر بریڈ روٹی کھلا رہی ہیں کیا آپ بچوں کو دیسی گھی کی ،چوری نہیں بنا کر دے سکتیں؟ اس لیے Sorry to say!… مجھے کہنے دیجیے کاہل مائوں کے ماڈرن بچے ، کُند ذہن اور موٹے ہی نہیں، ضدی بھی ہیں۔ کیونکہ ان میں غذائیت کی کمی اور طرح طرح کا انوکھا فوڈ کھا کر شکر پیدا ہوتی جارہی ہے۔
میں تو علاج کرتی جائوں گی لیکن ہمیں خود کو بدلنا ہو گا۔ ہمیں خود محبت کر کے بچوں کو سادہ غذا اور گھر کے کھانے کی طرف لانا ہو گا اور یہ ہمیں اس وقت نہیں کرنا جب ڈاکٹر نوشین کے کلینک آ کر پلان لکھوانا ہے بلکہ آج ہی کرنا ہے۔جب میںآج ہی کہہ رہی ہوں تو پلیز پیاری مائوں! انوکھے ذائقوں اور انوکھی بیماریوں سے اپنے اہل خانہ کو بچائیں یہ میری طرف سے ہر خاتون خانہ کے لیے مفید مشورہ ہے۔ مگر کیا کریں ہماری قوم بغیر فیس کے مشوروں کو بھی قیمتی نہیں سمجھتی۔
سوال: میرا نام اجمل علی ہے میں کوٹ عبدالمالک ڈسٹرکٹ شیخوپورہ میں رہتا ہوں۔ عمر 37سال ہے، شادی شدہ ہوں، کام میرا آفس کا ہے۔ قد 5.5فٹ ہے، وزن 74کلوگرام ہے، 36انچ ہے میرا پیٹ بہت بڑھ گیا ہے۔ پلیز میرا وزن کم کرنے کے لیے کوئی ڈائیٹ پلان دیں۔
جواب: اجمل بھائی آپ نے کھانے پینے کی روٹین نہیں بتائی ہے۔ ایسے میں ڈائیٹ پلان کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ آپ Chair exerciseکیا کریں جس میں کرسی کے آگے بیٹھ کر اپنی کمر سے پیٹ کو Holdکرنا ہے۔ کم ازکم پانچ کی گنتی پھر پیٹ کو Relaxچھوڑ دیں۔ یہ ورزش کم ازکم دن میں 300بار دہرائیں۔
پھر footورشپ کی ورزش کریں۔ پیروں کو کندھوں کے Distanceکے Equalکھول لیں اور پھر جھک کر ان کو چھوئیں۔پہلے پہل 100بار Straight angleمیں چھوئیں پھر آہستہ آہستہ رائٹ اور لیفٹ کی بھی روٹین بنائیں۔
اس کے علاوہ کھڑے ہو کر Stationary Walking کرنا بھی آپ کے لیے بہترین ورزش ثابت ہو سکتی ہے۔ آپ کو آفس میں جب وقت ملے آپ سٹیشنری واک کریں۔ یہ بہت بہترین ہے وزن کم کرنے کے لیے۔ہر بڑے کھانے کے بعد گرین ٹی یا Lemon grassلیں۔ رات کا کھانا کم از کم تین ماہ تک ایک گلاس دودھ اور ایک فروٹ پرمحدود کر لیں اور ساتھ تین بادام لے لیں۔ سونے سے پہلے اسپغول کا چھلکا لیں،نماز میں رکوع اور سجدے پر توجہ دیں۔
سوال: میرا نام پروفیسر زرقا خالد ہے اور راولپنڈی سے ہوں۔ میں نے گزشتہ سال آپ سے ڈائیٹ پلان منگوایا تھا لیکن شروع اب کیا ہے۔ وزن 77کلو تھا اور 45دنوں میں 64کلو گرام ہو گیا ہے۔ میں بہت خوش ہوں اور آپ کے لیے دعا گو ہوں۔
جواب: مجھے بہت خوشی ہے آپ کی اپنی ہمت اور اللہ جی کی نوازش سے آپ کا وزن کم ہوا۔ لیکن پلیز ایک پلان بہت عرصہ نہیں کرتے اسے ہر ماہ ضرور تبدیل کرواتے ہیں۔ پانی ہر کھانے سے پہلے ضرور لیں، ایک Multivitaminٹیبلٹ ضرور لیں، اگر آپ کے پلان میں کاربوہائیڈریٹس نہیں ہیں تو دوپہر کے کھانے میں ایک روٹی فور گرین آٹے کی ضرور بڑھا لیں۔ پلان ایک ماہ کے لیے بے شک وہی رہنے دیں، خوش رہیں اور دعائوں میں یاد رکھیں۔
سوال: آپ کا کالم مجھے بہت پسند ہے آپ لوگوں کی اتنی مدد کرتی ہیں۔ میرا نام ماہین ہے میرا تعلق لاہور ہی سے ہے۔ میرا وزن 45 سے 49کلوگرام تک رہتا ہے اور عمر 18سال ہے۔ میں روزانہ ایک روٹی سے زیادہ نہیں کھاتی ہوں۔
لیکن باہر کی چیزیں Fast foodاور Junk foodشوق سے کھاتی ہوں۔ وزن کم ہونے کی وجہ سے بہت کمزوری ہے۔ پندرہ منٹ سے زیادہ ورزش نہیں کر سکتی اور پھر مجھے کسی ورزش کا علم بھی نہیں ہے۔
زیادہ مسئلہ یہ ہے کہ میرا پیٹ اور Hipsدونوں بہت بڑھے ہوئے ہیں جو بہت بڑا لگتا ہے۔ میرے نئے کپڑے پہننے کو دل نہیں کرتا، ہر وقت اپنے آپ پر رونا آتا ہے۔ قد بھی بہت کم ہے، اوپر سے اور موٹی ہو گئی ہوں۔ بہت بری لگتی ہوں، ورزش شروع کرتی ہوں تو Monthly Periodsکی وجہ سے ایک ہفتے کے لیے چھوٹ جاتی ہے پھر روٹین میں لانا مشکل ہو جاتا ہے۔ بال بھی بہت گرتے ہیں۔ باجی! میرا مر جانے کو جی چاہتا ہے۔ میں مر جائوں گی۔
آپی! میرے لیے کوئی ڈائیٹ پلان بتا دیں اور ورزش اور ان کی Timingبھی بتا دیں۔ پلیز مجھے جلدی بتا دیں آج کل چھٹیاں ہیں اور میں کنٹرول کر لوں گی۔
جواب:جگہ نہیں ہے اس لئے انشا ء اللہ اگلے ماہ۔
خوشخبری:۔
مسز احمد، شیخوپورہ کو اللہ تعالیٰ نے تین سال بعد اولاد کی نعمت سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اولاد کی خوشیاں دیکھنا نصیب کرے۔ آپFolid Acid، اور کیلشیم برابر اور باقاعدگی سے لیں۔
محمد علی۔ سرگودھا
78سے72کلو پر آئے مبارک ہو۔ نئے پلان کے لئے رابطہ کریں۔
جویریہ کراچی سے 98سے 92آئی ہیں۔آپ کو بھی مزید پلان اور مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔
مسز ریحان سیالکوٹ سے اللہ نے آپکو پانچ سال بعد اولاد کی نعمت سے نوازا اس خوشی کے موقع پر مجھے اور میری اولاد کے لیے دُعا کیجیے گا کہ ہم سب کو اللہ جی کی خوشنودی حاصل ہو۔
1 ۔فرائی کی ہوئی چیزیں کھانے سے پہلے کاغذ یا ٹشوپیپر پر رکھیں تاکہ فالتو چکنائی اُس میں جذب جائے۔
2۔انڈہ چکنائی میں نہ بنائیں، نان اسٹک پین میں بنائیں۔
3۔پراٹھا کھانے کو دل چاہے تو اندر گھی نہ لگائیں۔
4۔پی نٹ بٹر سے پرہیز کریں۔ اس کے اندر نہ صرف بہت سی کیلوریز ہیں بلکہ چکنائی بھی کافی مقدار میں ہوتی ہے۔
5۔ ٹوسٹ پر شوگر فری مارملیڈ لگا کے کھانے کو معمول بنائیے۔
6۔پنیر کے ٹکڑے بہت باریک بنائیں تا کہ شوق بھی پورا ہو جائے اور ضرورت بھی۔
7۔دودھ سے ملائی ضرور اتارا کریں (خود کھانے کے لیے نہیں)
8۔فروٹ چاٹ پر چینی کا شربت ہرگز نہ ڈالیں بلکہ کینو یا مالٹے کا جوس استعمال کریں۔
9۔کسی دعوت میں جائیں تو پکے ہوئے ’’میٹھے‘‘(سویٹ ڈش)کے بجائے تازہ پھل استعمال کریں۔
10۔گوشت سے ساری چربی اتار کر تیار کریں یا کروائیں۔
11۔کھانے میں مچھلی اور مرغی کا استعمال زیادہ کریں۔
12۔کم کیلوریز والی مایونیز استعمال کریں بلکہ اگر مایونیز کا استعمال ترک کر دیں تو زیادہ بہتر ہو گا۔
13۔ بسکٹ اور کیک پیسٹری یعنی بیکری کی ساری اشیا سے ہاتھ کھینچ لیں۔
14۔سادہ سوپ پیا کریں۔ کریمی سوپ نہ پیئیں۔
15۔مربے وغیرہ نہ کھائیں(کھانا ضروری ہوتو دھوکر)۔ یہ مٹھاس کے شیرے سے بھرے ہوتے ہیں۔ آپ کو بڑی مشکل میں ڈال دیں گے۔
16۔ کبھی کبھار ڈائیٹ کوک لے سکتے ہیں لیکن اسے روٹین نہ بنائیں۔
17۔اگرکبھی کبھار کیک کھانے کو دل چاہے تو آئسنگ اور کریم اتار کرکھائیں۔
18۔ایسے لوگوں سے دوستی رکھیں جنھیں اسمارٹ رہنا پسند ہو۔ ہر مہینے آپس میں ٹارگٹ کر کے کچھ وزن گرائیں۔
19۔زیادہ ڈھیلے کپڑے نہ استعمال کریں۔
20۔ہمیشہ چھوٹی پلیٹ کا استعمال کریں۔
21۔روسٹ کی بجائے بیک (Bake)کیے ہوئے کھانے کھائیں۔
22۔اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ آپ کا وزن زیادہ کھانے سے بڑھا ہے۔
23۔ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کھانا نہ کھائیں کیونکہ اس طرح کھانا زیادہ کھایا جاتا ہے۔
24۔روزانہ باقاعدگی سے کم از کم 45منٹ تیز واک کریں۔
25۔گھر میں سیڑھیاں ہوں تو زیادہ استعمال کریں۔
26۔ٹہلنا، تیرنا، سائیکل چلانا سبھی وزن کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اچھی صحت میں معاونت کرتے ہیں۔
27۔سب سے بڑی بات نمازباقاعدگی سے پڑھیں۔ مکمل رکوع وسجود کریں۔ وزن آپ کا ہمیشہ اعتدال میں رہے گا۔
28۔ایسی قدرتی غذائیں استعمال کریں جو آرگینک ہوں، جن میں کاربوہائیڈریٹس زیادہ ہوں۔یہ گندم اور مکئی کے دلیے، بارلے (جو) دودھ اور پھلوں سے ملتے ہیں۔
گوشت:
کلیجی، مرغی کا سوپ، مچھلی اور دوسرے سرخ گوشت، ان میں وٹامن اے، بی12، ڈی اور ای کے علاوہ تھیامن، فولیٹ، فولاد اور جست موجود ہے۔ کلیجی ایسی پروٹین ہے جو مہنگی نہیں اور بآسانی دستیاب بھی ہے۔ مچھلی میں ضروری فیٹی ایسڈ ز کے علاوہ کیلشیم کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔
سبزیاں:
پالک، گوبھی اور ہر وہ سبزی جس کے ساتھ سبز پتے ہوں اس قدر مہنگی نہیں ہیں کہ قوت خرید سے باہر ہوں۔ ان میں بیٹا کیروٹین، وٹامن ای، بی6 اور فولیٹ موجود ہیں۔
اس کے علاوہ کیلشیم اور میگنیشم بے حد مفید اجزا شامل ہیں۔ جڑوں والی سبزیاں آلو، شلجم، گاجر، مولی میں بیک وقت وٹامن سی، کاربوہائیڈریٹس اور فائبر شامل ہیں۔
ڈیری مصنوعات:
ڈیری مصنوعات میں دودھ، دہی، پنیر مکمل پروٹین بھی ہیں اور کیلشیم کے علاوہ وٹامن اے، بی 12، فولیٹ، ربوفلاوین اورنیاسین شامل ہیں۔ اگر کسی کو بلڈپریشر زیادہ ہو تو ان غذائوں کو ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرنا چاہیے۔ورنہ زیادہ نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ میں اس لیے باربار یاد دلاتی ہوں کہ ہر کھانے والی ہرچیز پر خواہش مند اور بھوکے پیٹ کے لیے نہیں ہوتی۔ اپنے ڈاکٹر اور ماہر غذائیات سے پوچھ لینا چاہیے۔
سٹرس فروٹس میں اسٹرابیری، مالٹے، سنگترے وٹامن سی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ناشپاتی اور سیب میں ریشہ (فائبر) موجود ہے جو خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتا ہے۔ کیلے میں پوٹاشیم اور کاربوہائیڈریٹس دونوں اجزا موجود ہیں۔ روزانہ کوئی ایک پھل ساڑھے تین اونس یا 100ملی گرام تک کھانا ضروری ہے۔
پھل بطور خاص سٹرس فروٹس سٹرس فروٹس میں اسٹرابیری، مالٹے، سنگترے وٹامن سی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ناشپاتی اور سیب میں ریشہ (فائبر) موجود ہے جو خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتا ہے۔ کیلے میں پوٹاشیم اور کاربوہائیڈریٹس دونوں اجزا موجود ہیں۔ روزانہ کوئی پھل ساڑھے تین اونس یا 100ملی گرام تک کھانا ضروری ہے۔
انڈے مکمل پروٹین کا ایک اور جزو جس میں وٹامن اے اور ڈی شامل ہے۔ کولیسٹرول بڑھنے کا اندیشہ لاحق ہو تو ایک ہفتے میں 3یا 4سے زیادہ انڈے نہیں کھانے چاہئیں۔
دالیں، پھلیاں، مٹر دالیں سستی لیکن قیمتی پروٹین کی حامل ہوتی ہیں۔ لیکن چونکہ اب مہنگائی نے دالوں کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔
لہٰذا تھوڑی مقدار میں سہی، مگر غذا کا جزو بنا لینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اناج سے بنے پاسٹا، چاول، مٹر اور پھلیاں نظام ہاضمہ بہتر بناتے ہیں۔ مٹر اور پھلیاں نظام ہاضمہ بہتر بناتے ہیں۔
مٹر، پھلیاں، سلاد، چاولوں اور سالن میں بھون کر یا Bakeکر کے شامل کی جا سکتی ہیں یہ غذائیت سے پُرخوراک ہو سکتی ہے۔ میں نے ان سب غذائوں میں غذائیت کا ذکر کیا ہے لیکن میں نے کوئی گروپ ایسا نہیں بتایا جس میں کریم کیک، پیسٹری، بوتلیں، بسکٹ، Chips، سلانٹیز، چاکلیٹ، پیزا شوارما وغیرہ میں کتنی غذائیت ہو گی؟ غذا کو جب شکل بدل کر پکایا جاتا ہے تو اس میں غذائیت کا عنصر بہت کم اور Bad Caloriesبڑھ جاتی ہیں۔ جو ہمارے جسم کی ساخت کو تباہ کر دیتی ہیں ہم بے ڈول ہو جاتے ہیں۔ جو اندر سے قوت مدافعت ختم کر دیتی ہیں اور ہم بیمار پڑ جاتے ہیں۔ یہی بیماری ہمیں نہ دین کا رہنے دیتی ہے اور نہ دنیاکا…
ذائقہ کی تلاش:
یہ وہ نئی ہوس ہے جو انسان کافی زمانہ کباڑا کر رہی ہے اور ختم ہونے میں نہیں آرہی۔ ہم سادہ غذا میں ذائقہ اور انجوائے منٹ محسوس نہیں کرتے ہیں۔ جب کہ Complicatedغذائوں میںہمیں لطف اور ذائقہ ملتا ہے۔ ہمارے پیارے نبیﷺ کا دسترخوان سادہ اور مختصر ہوتا تھا۔
ہم ان کی امت ہیںاور ہماری میزوں پر عجیب غریب چیزیں آچکی ہیں۔ بچے نوڈلز کھا رہے ہیں۔ کیا چاول پاکستان میں ختم ہو گئے ہیں جو بچوں کو نوڈلز کھلانا اہم ہو گیا ہے۔ پیاری مائوں کو چاہیے کہ بچوں کو پیار سے دودھ چاول دیں ہلکی برائون شکر ڈال کر، ان کے ساتھ دشمنی نہ کریں نوڈلز کھلا کھلا کر۔ برگر کھلانا ہے کیا روٹی یا پراٹھا میں کباب بنانا نہیں آتا؟
ضرور برگر کی Pattyاستعمال کرنی ہے؟ اس کے بجائے گھر کی گندم استعمال کریں۔ اسی طرح باہر سے چاکلیٹ لا کر بچوں کو کھلایا جارہا ہے۔ کیا آپ اچھا سا تازہ سلاد بنا کر بچوں کو نہیں کھلا سکتیں۔
بچوںکو مایونیز لگا کر بریڈ روٹی کھلا رہی ہیں کیا آپ بچوں کو دیسی گھی کی ،چوری نہیں بنا کر دے سکتیں؟ اس لیے Sorry to say!… مجھے کہنے دیجیے کاہل مائوں کے ماڈرن بچے ، کُند ذہن اور موٹے ہی نہیں، ضدی بھی ہیں۔ کیونکہ ان میں غذائیت کی کمی اور طرح طرح کا انوکھا فوڈ کھا کر شکر پیدا ہوتی جارہی ہے۔
میں تو علاج کرتی جائوں گی لیکن ہمیں خود کو بدلنا ہو گا۔ ہمیں خود محبت کر کے بچوں کو سادہ غذا اور گھر کے کھانے کی طرف لانا ہو گا اور یہ ہمیں اس وقت نہیں کرنا جب ڈاکٹر نوشین کے کلینک آ کر پلان لکھوانا ہے بلکہ آج ہی کرنا ہے۔جب میںآج ہی کہہ رہی ہوں تو پلیز پیاری مائوں! انوکھے ذائقوں اور انوکھی بیماریوں سے اپنے اہل خانہ کو بچائیں یہ میری طرف سے ہر خاتون خانہ کے لیے مفید مشورہ ہے۔ مگر کیا کریں ہماری قوم بغیر فیس کے مشوروں کو بھی قیمتی نہیں سمجھتی۔
سوال: میرا نام اجمل علی ہے میں کوٹ عبدالمالک ڈسٹرکٹ شیخوپورہ میں رہتا ہوں۔ عمر 37سال ہے، شادی شدہ ہوں، کام میرا آفس کا ہے۔ قد 5.5فٹ ہے، وزن 74کلوگرام ہے، 36انچ ہے میرا پیٹ بہت بڑھ گیا ہے۔ پلیز میرا وزن کم کرنے کے لیے کوئی ڈائیٹ پلان دیں۔
جواب: اجمل بھائی آپ نے کھانے پینے کی روٹین نہیں بتائی ہے۔ ایسے میں ڈائیٹ پلان کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ آپ Chair exerciseکیا کریں جس میں کرسی کے آگے بیٹھ کر اپنی کمر سے پیٹ کو Holdکرنا ہے۔ کم ازکم پانچ کی گنتی پھر پیٹ کو Relaxچھوڑ دیں۔ یہ ورزش کم ازکم دن میں 300بار دہرائیں۔
پھر footورشپ کی ورزش کریں۔ پیروں کو کندھوں کے Distanceکے Equalکھول لیں اور پھر جھک کر ان کو چھوئیں۔پہلے پہل 100بار Straight angleمیں چھوئیں پھر آہستہ آہستہ رائٹ اور لیفٹ کی بھی روٹین بنائیں۔
اس کے علاوہ کھڑے ہو کر Stationary Walking کرنا بھی آپ کے لیے بہترین ورزش ثابت ہو سکتی ہے۔ آپ کو آفس میں جب وقت ملے آپ سٹیشنری واک کریں۔ یہ بہت بہترین ہے وزن کم کرنے کے لیے۔ہر بڑے کھانے کے بعد گرین ٹی یا Lemon grassلیں۔ رات کا کھانا کم از کم تین ماہ تک ایک گلاس دودھ اور ایک فروٹ پرمحدود کر لیں اور ساتھ تین بادام لے لیں۔ سونے سے پہلے اسپغول کا چھلکا لیں،نماز میں رکوع اور سجدے پر توجہ دیں۔
سوال: میرا نام پروفیسر زرقا خالد ہے اور راولپنڈی سے ہوں۔ میں نے گزشتہ سال آپ سے ڈائیٹ پلان منگوایا تھا لیکن شروع اب کیا ہے۔ وزن 77کلو تھا اور 45دنوں میں 64کلو گرام ہو گیا ہے۔ میں بہت خوش ہوں اور آپ کے لیے دعا گو ہوں۔
جواب: مجھے بہت خوشی ہے آپ کی اپنی ہمت اور اللہ جی کی نوازش سے آپ کا وزن کم ہوا۔ لیکن پلیز ایک پلان بہت عرصہ نہیں کرتے اسے ہر ماہ ضرور تبدیل کرواتے ہیں۔ پانی ہر کھانے سے پہلے ضرور لیں، ایک Multivitaminٹیبلٹ ضرور لیں، اگر آپ کے پلان میں کاربوہائیڈریٹس نہیں ہیں تو دوپہر کے کھانے میں ایک روٹی فور گرین آٹے کی ضرور بڑھا لیں۔ پلان ایک ماہ کے لیے بے شک وہی رہنے دیں، خوش رہیں اور دعائوں میں یاد رکھیں۔
سوال: آپ کا کالم مجھے بہت پسند ہے آپ لوگوں کی اتنی مدد کرتی ہیں۔ میرا نام ماہین ہے میرا تعلق لاہور ہی سے ہے۔ میرا وزن 45 سے 49کلوگرام تک رہتا ہے اور عمر 18سال ہے۔ میں روزانہ ایک روٹی سے زیادہ نہیں کھاتی ہوں۔
لیکن باہر کی چیزیں Fast foodاور Junk foodشوق سے کھاتی ہوں۔ وزن کم ہونے کی وجہ سے بہت کمزوری ہے۔ پندرہ منٹ سے زیادہ ورزش نہیں کر سکتی اور پھر مجھے کسی ورزش کا علم بھی نہیں ہے۔
زیادہ مسئلہ یہ ہے کہ میرا پیٹ اور Hipsدونوں بہت بڑھے ہوئے ہیں جو بہت بڑا لگتا ہے۔ میرے نئے کپڑے پہننے کو دل نہیں کرتا، ہر وقت اپنے آپ پر رونا آتا ہے۔ قد بھی بہت کم ہے، اوپر سے اور موٹی ہو گئی ہوں۔ بہت بری لگتی ہوں، ورزش شروع کرتی ہوں تو Monthly Periodsکی وجہ سے ایک ہفتے کے لیے چھوٹ جاتی ہے پھر روٹین میں لانا مشکل ہو جاتا ہے۔ بال بھی بہت گرتے ہیں۔ باجی! میرا مر جانے کو جی چاہتا ہے۔ میں مر جائوں گی۔
آپی! میرے لیے کوئی ڈائیٹ پلان بتا دیں اور ورزش اور ان کی Timingبھی بتا دیں۔ پلیز مجھے جلدی بتا دیں آج کل چھٹیاں ہیں اور میں کنٹرول کر لوں گی۔
جواب:جگہ نہیں ہے اس لئے انشا ء اللہ اگلے ماہ۔
خوشخبری:۔
مسز احمد، شیخوپورہ کو اللہ تعالیٰ نے تین سال بعد اولاد کی نعمت سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اولاد کی خوشیاں دیکھنا نصیب کرے۔ آپFolid Acid، اور کیلشیم برابر اور باقاعدگی سے لیں۔
محمد علی۔ سرگودھا
78سے72کلو پر آئے مبارک ہو۔ نئے پلان کے لئے رابطہ کریں۔
جویریہ کراچی سے 98سے 92آئی ہیں۔آپ کو بھی مزید پلان اور مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔
مسز ریحان سیالکوٹ سے اللہ نے آپکو پانچ سال بعد اولاد کی نعمت سے نوازا اس خوشی کے موقع پر مجھے اور میری اولاد کے لیے دُعا کیجیے گا کہ ہم سب کو اللہ جی کی خوشنودی حاصل ہو۔
You Do Not Know The Secrets Of The Brain
Posted by Unknown on 04:25 with No comments
دماغ کے راز جو آپ نہیں جانتے
گزشتہ برس سائنسدان انسانی جسم کے کئی عجائبات جان چکے لیکن وہ دماغ کے اسرار سے واقف نہیں ہو سکے۔ تاہم سائنسی تحقیق کے باعث رفتہ رفتہ نئے نئے راز افشا ہو رہے ہیں۔ انہی میں سے حیرت انگیز انکشاف پیش خدمت ہیں۔
(۱) ۱۰۰ارب عصبی خلیے
(۱) ۱۰۰ارب عصبی خلیے
انسان جب کوئی بات یاد کرنے کی کوشش کرے تو کچھ دیر لگتی ہے۔ ایسی حالت میں بعض لوگ اپنی یادداشت کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔ حالانکہ اس میں بیچارے دماغ کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ دراصل ہمارا دماغ ۱۰۰ ارب عصبی خلیوں کا مجموعہ ہے۔ جب ہم کوئی بات یاد کرنے کی سعی کریں تو ہمارے احکامات دماغ میں فی سیکنڈ ۵۰ تا ۱۲۰ میٹر کی شرح سے دوڑتے ہیں۔ چنانچہ احکامات بجالانے میں کچھ دیر لگ جاتی ہے۔ ایک اور دلچسپ بات: انسانی دماغ کا وزن صرف ۳ پائونڈ ہے لیکن وہ اپنی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے جسمانی توانائی کا ۲۰ فیصد استعمال کرتا ہے۔
(۲) گوگل دماغ کو کمزور بنا رہا ہے
۲۰۱۱ء میں کولمبیا یونیورسٹی امریکا کے محققوں نے بعدازتحقیق دریافت کیا ہے کہ انسان جب انٹرنیٹ استعمال کرے تو سوچ بچار پر کم اور یادداشت پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ لیکن یہ امر دماغ کو کمزور کرتا ہے اور وہ کئی باتیں بھولنے لگتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ غوروفکر پر زیادہ دھیان دیں۔
(۳) ردّی (Junk) غذائیں اور منشیات
چند ماہ قبل ولندیزی ماہرین نے ایک انوکھا تجربہ کیا۔ انھوں نے پانچ لوگوں کے سامنے برگر، چرغہ، چپس وغیرہ کے نام بولے۔ تب ان کے دماغ میں وہی حصے متحرک ہوگئے جو منشیات استعمال کرنے والوں کے دماغوں میں بھی تحرک پیدا کرتے ہیں۔ ماہرین کی رو سے یہ تحرک ہم میں جوش و جذبہ اور لذت پیدا کرنے والے ہارمون، ڈوپامائن سے جنم لیتا ہے۔
(۴) موسیقی اور بیتی یادیں
انسان کی یادداشت میں بچپن کے سنے گانے محفوظ رہتے ہیں۔ ۲۰۱۰ء میں ایک تجربے سے انکشات ہوا کہ آدمی جب بچپن میں سُنا کوئی گانا سُنے، تو اُسے بہت سی خوشگوار یادیں یاد آجاتی ہیں۔ اس کا موڈ بھی بہتر ہوجاتا ہے۔
(۵) پیشین گوئی کرنے کی صلاحیت
جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دماغ کا سب سے اگلا حصہ، فرنٹ پولر کارٹیکس (Frontpolar Cortex) ماضی کے تجربات سے نتائج اخذ کرکے مستقبل کی پیشین گوئی کر سکتا ہے۔ وہ ذہنی طور پر فوق البشر طاقت (سپرپاور) نہیں رکھتا تاہم تجربوں کے بل پر مختصر مدتی پیشین گوئیاں کرنے کے قابل ہے۔
(۶) دماغی کمپیوٹر کھیل مفید نہیں
ایک تجربے میں ماہرین نے ۲۰بچوں کو ۳ ماہ تک کمپیوٹر میں کھیلے جانے والے دماغی کھیل (Computer Games) کھلائے۔ اس دوران بچے بعض سرگرمیاں بہتر انجام دینے لگے۔ مگر ماہرین نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ دماغی کھیل کام یا یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیتوں پر مثبت اثرات نہیں ڈالتے۔ اس کے بجائے موسیقی سننا یادداشت تیز کرتا ہے۔ امریکی یونیورسٹی، سٹانفورڈ نے بعداز تحقیق جانا ہے کہ موسیقی سننے والا اپنے کام منظم طریقے سے کرتا، توجہ دیتا، پیشین گوئیاں کرتا اور اپنی یادداشت اپ ڈیٹ کرتا رہتا ہے۔
(۷) مرد اور خواتین کا دماغ
وزن کے لحاظ سے مردوں کا دماغ خواتین کی نسبت ۱۰فیصد زیادہ بھاری ہوتا ہے۔ لیکن مرد کھیسیں نہ نکالیں، بڑے دماغ کے باعث وہ زیادہ ذہین نہیں ہوتے، بس اس قابل ہوجاتے ہیں کہ جسمانی کام بہتر طور پر کرسکیں۔
(۸) دماغ کا شباب
انسان جب ۲۰ سے ۲۷سال کے درمیان عمر رکھے، تو اس کی دماغی صلاحیتیں عروج پر ہوتی ہیں۔ گویا تب دماغ اپنے شباب پر ہوتا ہے۔ ۲۷ سال کے بعد یادداشت کمزور ہونے لگتی ہے۔ اگرچہ دماغی صلاحیتیں خاصی حد تک برقرار رہتی ہیں۔ ۴۵ سال کے بعد انھیں زوال آنے لگتا ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ دماغ اور ذہنی صلاحیتوں کو توانا رکھنے کے لیے مخصوص غذائیں مثلاً نیلی بیریاں (Blueberries)، اخروٹ وغیرہ کھائیے۔ یہ یادداشت کھونے کے مرض نِسیان اور الزائمر سے انسان کو محفوظ رکھتیں اور ایسیٹل کلوینین (Acetylecholine) کی شرح بڑھاتی ہیں۔ یہ ہارمونی مادہ یادداشت بہتر بناتا ہے۔
(۹) موبائل فون دور رکھیے
جدید تحقیق سے ثابت ہوچکا کہ روزانہ موبائل کا حد سے زیادہ استعمال دماغ کے لیے مضر ہے۔ بلکہ وہ دماغی کینسر بھی پیدا کر سکتا ہے۔ مزیدبرآں انسان میں نیند اور گھبراہٹ کے مسائل پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا موبائل زیادہ استعمال نہ کیجیے یا پھر ہیڈسیٹ یا ائیرپیس سے مدد لیں۔
(۱۰) سدا جاگتے دماغی حصے
انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ رات کو اچھی نیند لے کیونکہ یوں یادیں مستحکم ہو جاتی ہیں۔ اگرچہ سوتے ہوئے بعض دماغی حصے بدستور بیدار رہتے ہیں۔ دراصل وہ یادوں کو پروسیس کرتے اور غیراہم یادوں کو مٹا ڈالتے ہیں۔
(۱۱) خوش رہیے، عمر بڑھائیے
تحقیق سے ثابت ہوچکا کہ امیدپرست افراد مایوس لوگوں سے زیادہ جیتے ہیں۔ لیکن باعث مسرت بات یہ ہے کہ جینز زندگی کا نقطہ نظر بنانے میں صرف ۳۰، ۴۰ فیصد کردار ہی ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ کوئی مایوس اُمیدبھرا نقطہ نظر اپنانا چاہے تو وہ بتدریج اپنے خیالات بدل کر مثبت زندگی گزار سکتا ہے۔
(۱۲) مراقبہ اور ذہنی صحت
ماہرین کا کہنا ہے کہ جو انسان آٹھ ہفتوں تک روزانہ ۳۰ منٹ مراقبہ کرے، اس سے ان دماغی علاقوں کو تقویت پہنچتی ہے جو یادداشت، احساسِ خودی، ہمدردی اور ذہنی دبائو (سٹریس) سے متعلق ہیں۔ مراقبے کا بہترین طریقہ کار یہ ہے کہ کوئی سکون بخش لفظ دل ہی دل میں دہراتے رہیے تاکہ انتشار پھیلانے والے خیالات دماغ پر حملہ آور نہ ہوں۔ یا پھر نظام تنفس پر توجہ مرتکز کیجیے تاکہ خیالات بھی مرکوز رہیں۔
(۱۳) مصروفیت کا مطلب تندرست ہونا نہیں
کئی مردوزن دفتر یا گھر میں مصروف رہ کر سمجھتے ہیں کہ اپنی سرگرمیوں کی بدولت وہ تندرست (فٹ) رہیں گے۔ لیکن دفتری یا گھریلو مصروفیت ورزش کا نعم البدل نہیں ہو سکتی جو دماغ کے لیے بہت مفید ہے۔ ورزش کے ذریعے دماغ خود کو تازہ دم کرتا اور کئی بیماریوں مثلاً الزائمر سے بچاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ کم از کم ۳۰ منٹ کی ورزش کیجیے۔ اس کا طریق کار یہ ہے کہ اپنی گاڑی ذرا دور کھڑی کریں تاکہ چلنے کا موقع ملے، سیڑھیاں چڑھیے اور اپنے دیگر کام کیجئے جن میں بدن حرکت کرے۔
(۱۴) دماغ کے لیے مفید غذائی عناصر
ان عناصر میں اومیگا۔ تھری تیزاب، کولائن، پیچیدہ (Complex) نشاستے اور مانع تکسیدی (Antioxidants) مادے شامل ہیں۔ اومیگا۔تھری تیزاب دماغ کی دانشورانہ صلاحیتیں بڑھاتے ہیں۔ کولائن (Choline) وٹامن بی کی ایک قسم ہے۔ یہ حیاتین انڈوں اور دیگر غذائوں میں ملتا ہے۔ یہ جسمانی تھکن کم کرکے دماغی چستی میں اضافہ کرتا ہے۔ نیز یادداشت بڑھاتا اور ذہنی دبائو دُور کرتا ہے۔ پیچیدہ نشاستے اور مانع تکسید مادے بھی دماغی کارکردگی بہتر کرتے ہیں۔
(۱۵) ہنسی واقعی بہترین دوا ہے
تجربات سے ثابت ہوچکا کہ جب انسان ہنسی یا قہقہہ سنے، تو دماغ کے دو حصوں، ایمی گڈالا (Amygdala) اور ِہپو کیمپس (Hippocampus) پر خوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔ یہ دونوں حصے انسان میں ڈیپریشن پیدا کرتے ہیں۔ مزیدبرآں ایک اور علاقہ، نیوکلس اکومبنز (Accumbens) بھی متحرک ہوتا ہے۔ یہ انسان میں مسرت بخش جذبات جنم دیتا ہے۔ ہنسنے سے انسان میں سٹریس پیدا کرنے والے ہارمونوں کی افزائش رکتی اور خون کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے۔ یوں حملہ قلب (ہارٹ اٹیک) اور فالج کے حملے سے انسان کو نجات ملتی ہے۔ چند ماہ قبل واشنگٹن یونیورسٹی میں ایک تجربے سے انکشاف ہوا کہ آدمی جب بچوں کی ہنسی اور کلکاریاں سنے، تو اس میں ہارمون آکسی ٹوسین کی مقدار بڑھتی ہے۔ یہ ہارمون ہمارے اندر خوشی کا احساس بڑھاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انٹرنیٹ میں ہنسنے والے بچوں کی ویڈیو بہت مقبول ہیں۔
(۱۶) بلندفشارِخون پر نگاہ رکھیے
بلندفشارِخون یا ہائپرٹینشن دور جدید کا ایسا خطرناک مرض ہے جسے کئی لوگ سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ حالانکہ یہ مرض دماغ اور دل پر بے پناہ دبائو ڈالتا اور انھیں کمزور کر دیتا ہے۔ اس لیے بلندفشارخون (بلڈپریشر) کا علاج کجیے اور خصوصاً اُسے قابو سے باہر نہ ہونے دیں۔
(۱۷) ذیابیطس سے بھی بچیے
نیویارک یونیورسٹی کے ماہرین گذشتہ ۹ برس سے یہ تحقیق کر رہے تھے کہ ذیابیطس کے جو مریض اپنے خون کی شکر قابو میں نہیں رکھتے، ان پر کیسے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جون ۲۰۱۲ء میں تحقیق کے جو نتائج شائع ہوئے۔ اُن سے ایک بڑا انکشاف یہ ہواکہ ذیابیطس رفتہ رفتہ دماغ کو کمزور کر دیتا ہے۔ لہٰذا اگر آپ ذیابیطس کے مریض ہیں تو اس مرض پر قابو پائیں اور خون میں شکر کی سطح اعتدال پر رکھیں۔
Thursday, 18 July 2013
Ras Bhari
Posted by Unknown on 02:26 with No comments
رس بھری
رس بھری۔۔۔۔ ایک ذائقے دار
پھل ہونے کے ساتھ ہی ساتھ۔۔۔ اپنے اندر پے پناہ افادیت بھی رکھتا ہے۔۔۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ۔۔۔ رس بھری۔۔۔ کا استعمال جسم میں کینسر
کے خلیات بننے سے روکتا ہے۔۔۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ۔۔۔ رس بھری میں
موجود فینولک کمپاؤنڈ۔۔۔۔ جسم میں کینسر کے خلیات نہیں بننے دیتا۔۔۔ اس کے
علاوہ رس بھری کے بیجوں میں۔۔۔ سورج کی شعاؤں سے بچاؤ کی قدرتی صلاحیت
موجود ہوتی ہے ۔۔۔۔اوراس پھل میں اینٹی اوکسیڈنٹ۔۔۔ اور وٹامن سی۔۔۔ کی بڑی
مقدار موجود ہونے کے ساتھ ساتھ۔۔۔ فائبر۔۔۔ بھی موجود ہوتا ہے۔۔۔ جو جسم
سے فاضل چربی گھلانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔۔۔
The Benefits Of Grapes
Posted by Unknown on 02:17 with No comments
انگور کے فوائد
انگور
ایک بہت پرانا پھل ہے۔۔۔ بعض مورخین کے خیال میں یہ پہلے خودروجنگلی
(داکھ) کی صورت میں پایا جاتا تھا۔۔۔۔ انگور زیادہ تر لوگوں کا پسندیدہ پھل
ہے۔۔۔ اور موسم گرما کے اختتام میں عام ہوتا ہے۔۔۔ یہ پھل بڑے فوائد کا
حامل ہے۔۔۔ تاثیر کے لحاظ سے انگور گرم تر ہے ۔۔۔ دل، معدے ، اور دماغ، کو
طاقت بخشتا ہے۔
* انگور سینے کے تمام امراض میں فائدہ مند ہے۔
* انگور کے رس میں ہم وزن شہد ملا کر پینے سے کھانسی بالکل ختم ہوجاتی ہے۔
* انگور
کا رس پینے کے بعد پانی نہیں پینا چاہیے ۔۔ روزانہ پاؤ بھر یا زیادہ مقدار
میں انگور استعمال کرنا دائمی قبض کے لئے ازحد مفید ہے۔
* روزانہ بلا ناغہ ایک پاؤ انگور صبح و شام استعمال کرنا گردے اورمثانے کی تمام بیماریوں کے لئے مفید ہے۔
The Benefits Of Cucumber
Posted by Unknown on 02:06 with No comments
ککڑی کے ٹکڑوں پر تھوڑی سی شکر اور لیموں نچوڑ کر کھائیں
۔۔۔۔ اس سے مثانے کی گرمی اور پیشاب کی جملہ بیماریوں میں فائدہ ہوتا ہے
۔۔۔
اگر آپ کے چہرے کی جلد موٹی اور بہت زیادہ چکنی ہے تو۔۔۔ ککڑی یا کھیرے کے ٹکڑے چہرے پررگڑیں پھر پانی سے دھولیں۔۔۔ تھوڑے ہی دنوں میں جلد کی چپچپاہٹ دور ہوجائےگی۔۔۔۔ککڑی چھلکے سمیت ہی کھانی چاہیے اس پر نمک نہ لگائیں۔۔۔
اگر آپ کے چہرے کی جلد موٹی اور بہت زیادہ چکنی ہے تو۔۔۔ ککڑی یا کھیرے کے ٹکڑے چہرے پررگڑیں پھر پانی سے دھولیں۔۔۔ تھوڑے ہی دنوں میں جلد کی چپچپاہٹ دور ہوجائےگی۔۔۔۔ککڑی چھلکے سمیت ہی کھانی چاہیے اس پر نمک نہ لگائیں۔۔۔
ککڑی
میں پوٹاشیم زیادہ ہوتا ہے ۔۔۔۔ یہ بلڈ پریشر کو نارمل رکھتا ہے ۔۔۔۔اس کا
جوس ہائی اور لو بلڈ پریشر میں فائدہ دیتا ہے ۔۔۔۔ککڑی میں سلیکون اور
سلفر کی بھی زیادہ مقدار ہوتی ہے ۔۔۔۔ جو بالوں کو بڑھاتی ہے ۔۔۔۔ ککڑی کے
جوس کو بالوں میں لگا کر تھوڑی دیر بعد دھو لیں تو بال گرنا بند ہوجائینگے ۔
Wednesday, 17 July 2013
Benefits Of Fig
Posted by Unknown on 09:06 with No comments
"انجیر۔۔۔۔۔۔"
انجیر
کو جنت کا پھل بھی کہا جاتا ہے۔۔۔ یہ کمزور اور دبلے پتلے لوگوں کے لئے
نعمت بیش بہا ہے۔۔۔ انجیر جسم کو فربہ اور سڈول بناتا ہے۔۔۔ چہرے کو سرخ و
سفید رنگت عطا کرتا ہے۔۔۔ انجیر کا شمار عام اور مشہور پھلوں میں ہوتا ہے۔۔۔
انجیر کے اندر پروٹین۔۔۔ معدنی اجزائ۔۔۔ شکر ۔۔۔کیلشیم۔۔۔ فاسفورس۔۔۔ پائے جاتے ہیں۔
دونوں
انجیر یعنی خشک۔۔۔ اور تر ۔۔۔ میں وٹامن " A " اور " C" کافی مقدار میں
ہوتے ہیں۔۔۔ وٹامن" B" اور "D" قلیل مقدار میں ہوتے ہیں۔۔۔ ان اجزاء کے پیش
نظر انجیر ایک مفید غذائی دوا کی حیثیت رکھتا ہے۔۔۔ اس لئے عام کمزوری۔۔۔
اور۔۔۔ بخار میں اس کا استعمال اچھے نتائج کا حامل ہوگا۔۔۔۔۔
کمر میں درد ہو تو انجیر کے تین چار دانے روزانہ کھانے سے درد سے نجات مل جاتی ہے۔
From Warning Cell Early Know Abut Heart Attack
Posted by Unknown on 04:15 with No comments
وارننگ سیل سے دل کے دورہ کا قبل از وقت معلوم ہو سکتا ہے
امريکی ماہرين کی ايک
تحقيق کے مطابق دل کے دورے کے بارے ميں پہلے بھی معلوم ہوسکتا ہے۔ اس تحقيق
ميں بتايا گيا ہے کہ دل کے مرض ميں مبتلا افراد کے خون ميں کچھ ايسے سيل
موجود ہوتے ہيں جو دل کے دورے کا سبب بنتے ہيں۔
يہ سيل شريانوں کے ٹوٹنے کے نتيجے ميں پيدا ہوتے ہيں جس کی وجہ سے دل کے دورے کے امکانات پيدا ہوجاتے ہيں۔ ماہرين کے مطابق ان سيل کو وارننگ سيل کا نام ديا گيا ہے۔ يہ سيل بڑی تعداد ميں مريض کے خون کے ٹيسٹ ميں سامنے آجاتے ہيں۔ ماہرين کا کہنا ہے کہ دل کی شريانوں ميں اس سيل کی بڑی تعداد ميں موجودگی دورے کا سبب بنتی ہے۔
يہ سيل شريانوں کے ٹوٹنے کے نتيجے ميں پيدا ہوتے ہيں جس کی وجہ سے دل کے دورے کے امکانات پيدا ہوجاتے ہيں۔ ماہرين کے مطابق ان سيل کو وارننگ سيل کا نام ديا گيا ہے۔ يہ سيل بڑی تعداد ميں مريض کے خون کے ٹيسٹ ميں سامنے آجاتے ہيں۔ ماہرين کا کہنا ہے کہ دل کی شريانوں ميں اس سيل کی بڑی تعداد ميں موجودگی دورے کا سبب بنتی ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)



















