Showing posts with label Islamic Stories(Haqayat). Show all posts
Showing posts with label Islamic Stories(Haqayat). Show all posts

Thursday, 1 August 2013


ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭولتا

ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
"ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﮮ ﺟﮕﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﺯﻕ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﺩﯾﺪﯼ ﮨﮯ -"

ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﺷﺮﯾﻒ ﭘﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ


ﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﭽﮯ ﺭﺏ ﮐﺎ ﻧﻮﮮ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﭘﺮ ﮐﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﻋﺪﮮ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺷﮏ ﮐﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﯽ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﮐﮩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﭻ ﺟﺎﻧﺎ۔


ﺍﺑﻦ ﻗﯿﻢ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ۔ ۔

"ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﭘﺮﺩﮮ ﮨﭩﺎ ﮐﺮ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﺩﮐﮭﺎ ﺩﮮ ﮐﮩ ﻮﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﺳﺪﮬﺎﺭﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﯿﺴﯽ ﮐﯿﺴﯽ ﺗﺪﺑﯿﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﻣﺼﻠﺤﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﯿﺴﯽ ﮐﯿﺴﯽ ﺣﻔﺎﻇﺘﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﻔﯿﻖ ﮨﮯ ﺗﺐ ﮐﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺳﺮﺷﺎﺭ ﮨﻮﮔﺎ۔

ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﮔﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻏﻤﻮﮞ ﻧﮯ تمھیں ﺗﮭﮑﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻢ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ، ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﮨﺎﮞ ﮨﻮ "-

ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺭﮐﮭﺌﯿﮯ ﺳﺮ ﮐﻮ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺠﺌﯿﮯ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﯿﮯ ﺳﺐ ﻏﻤﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺼﯿﺒﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻼﺗﺎ۔

Sign Of Patient...صبر کی علامت

Posted by Unknown on 01:11 with No comments

صبر کی علامت

اس نے کہیں پڑھا تھا مایوسی اور پریشانی میں آسمان کی وسعت کو دیکھو تو دل اس کے حوصلےکو دیکھ کر پریشان ہونا چھوڑ دیتا ہے۔
وہ بھی تو صبر کی علامت ہے۔
ازل سے یونہی کھڑا ہے۔۔۔
خاموش۔۔۔۔
چپ چاپ۔۔۔۔
کتنا صابر' کتنا پر سکون''
وہ پکار پکار کر کہتا ہے:
اے انسان! تم کیوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر دل چھوڑ بیٹھتے ہو؛ میری وسعت کو دیکھو میرا حوصلہ دیکھو۔۔۔
تمہارے لیے صدیوں سے یونہی کھڑا ہوں' مگر ہمت نہیں ہارتا۔۔۔
کیا کیا دیکھتا ہوں۔۔۔۔
سہتا ہوں۔۔۔۔
مگر دل نہیں چھوڑتا۔۔۔
خالق نے مجھے تمہاری خدمت کے لیے تخلیق کیا ہے۔۔۔
اور تمہارے لیے تو ساری کائنات ہے۔۔۔
ایک ایک ذرہ تمہارےعمل میں ہے۔۔۔۔
اور تم اتنی جلدی کیوں ٹوٹ جاتے ہو۔
لمحے میں جل کر ریت کے حقیر ذروں کی مانند بے وقعت اڑتے پھرتے ہو۔۔۔
تم سمجھتے کیوں نہیں۔۔۔
تم اتنے بے وقعت۔۔۔
حقیر۔۔۔
اور کم ذات تو نہیں'
پھر یہ سب کیوں۔۔؟

میں نے اپنے اللہ سے کہہ دیا ہے

 گلی میں کھیلنے والے بچوں کو وہ بڑی محویت سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک بچے نے دوسرے بچے کو مارا تو مار کھانے والا روتا ہوا اپنے گھر کی طرف بھاگا لیکن تھوڑی ہی دیر میں پھر آ موجود ہوا۔ اب اس کے چہرے پر حد درجہ اطمینان تھا۔ جس بچے سے اس کی لڑائی ہوئی تھی، اس کو اس نے کہا

" میں نے اپنی ماما سے کہہ دیا ہے "

اور یہ کہہ کر وہ دوبارہ کھیل میں شامل ہو گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس بچے کو حد درجہ اطمینان ...کس چیز نے دیا ہے ۔اس کی ‘ماما’ نہ تو موقع پرآئی ہے ، نہ اس نے دوسرے بچے کو کچھ کہا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی پیغام بھیجا ہے مگر اس کا بیٹا پھر بھی مطمئن ہے ۔غور و فکر سے اس پر واضح ہوا کہ اس کا اطمینان در اصل اس یقین کا نتیجہ تھا جو اس کو اپنی ماں پر تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس کی ماں میں اتنی طاقت ہے کہ وہ اس کی بے عزتی کا بدلہ لے سکے اور یہ کہ وہ لازماً ایسا کرے گی۔مگر یہ کہ، وہ کب ایسا کرے گی، کس طریقے سے کرے گی ، کتنا کرے گی، یہ سب کچھ اس نے اپنی ماں پر چھوڑ دیا تھا۔اور یہ بھی اس کا یقین تھا کہ وہ یقینا بہتر ہی کرے گی۔

تفویض اور اپنے معاملات کو ایک مشفق اور طاقتور ہستی کے سپرد کرنے کا یہ عمل اسے بہت بھایا اور ساتھ ہی وہ بہت شرمندہ بھی ہوا جب اسے یہ احساس ہوا کہ اس کا تو اپنے مالک سے اتنا بھی تعلق نہیں جتنا کہ اس بچے کا اپنی ماں سے ہے۔

اس نے یاد کیا کہ اس کی زندگی میں کتنے مواقع ایسے ہیں کہ جب اس نے سجدے میں سر رکھ کر یہ کہا ہو کہ مالک میرے بس میں جو تھا وہ تو میں نے کر لیا اب معاملہ تیرے سپرد ہے اور یہ کہہ کر وہ اس بچے کی طرح مطمئن ہو گیا ہو۔ اور جب تہی دامنی کی احساس نے اسے بالکل ہی سرنگوں کر دیا تو اس نے حساب لگایا کہ اصل میں گڑ بڑ دو جگہ پر ہے۔ اول تو اسے مالک کی طاقت، قدرت اور عظمت کا کامل استحضار ہی نہیں اور اگر ہے تو پھر اس کی حکمت پہ شاید کامل ایمان نہیں۔ وگرنہ یہ ممکن نہ تھا کہ تفویض کے بعد اسے اطمینان حاصل نہ ہو جاتا۔ اور پھر اس نے افوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد کہہ کر یہ عہد کیا کہ آئندہ وہ تفویض کا یہ عمل بچوں سے سیکھے گا اور ہر اہم موقع پر یہ کہہ کر اپنے ایمان کی تربیت کرے گا کہ میں نے اپنے اللہ سے کہہ دیا ہے۔

Friday, 26 July 2013


عیب کی پردہ پوشی

کہتے ہیں کہ پہلے وقتوں میں ایک اعرابی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی کچھ لوگ اس کے پاس پوچھنے اور سببب معلوم کرنے آئے کہ اُس نے طلاق کیوں دی؟

وہ کہنے لگا : کہ وہ ابھی عدت میں ہے ابھی تک وہ میری بیوی ہے مجھے اُس سے رجوع کا حق حاصل ہے میں اگر اس کے عیب تمہارے سامنے بیان کردوں تو رجوع کیسے کروں گا ؟؟؟

لوگوں نے انتظار کیا اور عدت ختم ہوگئی اور اس شخص نے رجوع نہیں کیا لوگ دوبارہ اُس کے پاس آئے تو اس نے کہا : اگر میں نے اب اس کے بارے میں کچھ بتایا تو یہ اُس کی شخصیت مسخ کرنے کے مترادف ہو گا اور کوئی بھی اس سے شادی نہیں کرے گا !!!

لوگوں نے انتظار کیا حتٰی کہ اس عورت کی دوسری جگہ شادی ہوگئی۔
لوگ پھر اُس کے پاس آئے اور طلاق کا سبب پوچھنے لگے۔ ۔ ۔
اس اعرابی نے کہا: اب چونکہ وہ کسی اور کی عزت ہے اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ میں پرائی اور اجنبی عورت کے بارے میں اپنی زبان بند رکھوں"۔

کیا آج کے دور میں ہیں ایسے لوگ ؟؟؟

Tuesday, 16 July 2013

Time And Wealth...وقت اور دولت

Posted by Unknown on 08:55 with No comments

وقت اور دولت

ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ہوگا، لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ہو جائے، ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے، جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے، اس نے دونوں کو چائے پلائی، بادشاہ نے تاجر سے پوچھا:
" تمھاری عمر کتنی ہے؟"
تاجر نے کہا "20 سال۔ "

" تمھارے پاس دولت کتنی ہے؟ "
تا جرنے کہا۔۔۔ "70 ہزار دینار"
بادشاہ نے پوچھا: "تمھارے بچے کتنے ہیں؟ "
تاجر نے جواب دیا: "ایک"
واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی، بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وہی تین سوالات دُھرائے۔ تاجر نے وہی جوابات دیے۔
بادشاہ نے وزیر سے کہا:
"اس پر پندرہ دینار جرمانہ عائد کر دو اور سرکاری خزانے میں جمع کرادو، کیونکہ اس نے تین جھوٹ بولے ہیں، سرکاری کاغذات میں اس کی عمر 35 سال ہے، اس کے پاس 70 ہزار دینار سے زیادہ رقم ہے، اور اس کے پانچ لڑکے ہیں۔"
تاجر نے کہا: زندگی کے 20 سال ہی نیکی اور ایمان داری سے گزرے ہیں، اسی کو میں اپنی عمر سمجھتا ہوں اور زندگی میں 70 ہزار دینار میں نے ایک مسجد کی تعمیر میں خرچ کیے ہیں، اس کو اپنی دولت سمجھتا ہوں اور چار بچے نالائق اور بد اخلاق ہیں، ایک بچہ اچھا ہے، اسی کو میں اپنا بچہ سمجھتا ہوں۔ "
یہ سُن کر بادشاہ نے جرمانے کا حکم واپس لے لیا اور تاجر سے کہا:
"ہم تمھارے جواب سے خوش ہوئے ہیں، وقت وہی شمار کرنے کے لائق ہے، جو نیک کاموں میں گزر جائے، دولت وہی قابلِ اعتبار ہے جو راہِ خدا میں خرچ ہو اور اولاد وہی ہے جس کی عادتیں نیک ہوں۔"۔۔۔

Monday, 15 July 2013

Three Strange Questions And Answers

Posted by Unknown on 00:52 with No comments
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تین عجیب و غریب سوالات و جوابات

ابن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمررضی الله عنہ نے حضرت علی رضی الله عنہ سے کہا کہ اکثر اوقات آپ رحمتہ اللعالمیں صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں مگر ہم نہیں ہوتے - اور کبھی ہم ہوتے ہیں آپ نہیں ہوتے - میں آپ سے تین سوال کرتا ہوں اگر آپ کو جوابات معلوم ہوں تو بتائیے -

حضرت علی رضی الله عنہ نے فرمایا " پوچھیں "

حضرت عمررضی الله عنہ کے سوالات

١. کسی کو کسی سے محبّت ہوتی ہے جب کہ وہ اس کا کوئی سلوک نہیں دیکھتا ، کسی کو کسی سے دشمنی ہوتی ہے جب کہ اس کی کوئی برائی نہیں دیکھی ؟

٢. آدمی بات کرتا کرتا کوئی بات بھول جاتا ہے پھر اچانک اسے بات یاد آجاتی ہے اوس کی وجہ ؟

٣. انسان خواب دیکھتا ہے پھر کوئی خواب تو سچا ہوتا ہے کوئی جھوٹھا اس کی وجہ ؟

حضرت علی رضی الله عنہ کے جوابات

١. ہاں میں نے رحمتہ اللعالمیں صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ ارواح جمع شدہ لشکر ہیں - اور فضا میں ملتی جلتی ہیں پھر جن ارواح میں تعارف ہو جاتا ہے ان میں محبت ہو جاتی ہے - جن میں وہاں اجنبیت رہتی ہے ان میں دنیا میں بھی اجنبیت رہتی ہے -

٢. ہاں میں نے رحمتہ اللعالمیں صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ ہر دل کے لئے چاند کے بادل کی طرح بادل ہوتا ہے - پھر جس طرح چاند پر بادل چھا کر اس کی روشنی ختم کر دیتا ہے ، اور جب ہٹ جاتا ہے پھر چاند روشن ہو جاتا ہے - انسان کے ذھن پر گفتگو کے دوران بادل چھا جاتا ہے اور وہ بات بھول جاتا ہے اور جب بادل ہٹ جاتا ہے تو بات یاد آجاتی ہے -

٣. ہاں میں نے رحمتہ اللعالمیں صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ جب انسان گہری نیند سو جاتا ہے تو اس کی روح عرش تک چڑھتی ہے پھر جو عرش کے ورے بیدار نہیں ہوتا ( اور کچھ خواب میں دیکھتا ہے ) تو اس کا وہ خواب سچا ہوتا ہے ورنہ جھوٹا -

حضرت عمررضی الله عنہ نے فرمایا الحمد الله ! میں نے موت سے پہلے تینوں کا جواب پا لیا -

حضرت عمررضی الله عنہ نے فرمایا حیرانی کی بات یہ ہے کہ کبھی انسان خواب میں ایسی بات دیکھتا ہے جس کا اس کے دل میں ڈر بھی نہیں گزرا تھا اور اس کا وہ خواب سچا ہو جاتا ہے - اور کوئی خواب کچھ بھی نہیں ہوتا -

اس پر حضرت علی رضی الله عنہ نے فرمایا کہ الله تعالیٰ کا فرمان ہے کہ " الله یتوفی النفس " الخ - الله موت کے وقت بھی روحیں قبض کر لیتا ہے اور جو فوت نہیں ہوئے ان کی ارواح نیند کے وقت بھی قبض کر لیتا ہے پھر وہ ارواح روک لیتا ہے جن پر موت کا فیصلہ صادر ہو چکا ہوتا ہے -
اور دوسری ارواح ایکی مقررہ مدت کے لئے چھوڑ دیتا ہے جن روحوں کو نیند میں چڑھایا جاتا ہے اور جو کچھ وہ آسمان میں دیکھ آتی ہیں وہ باتیں درست ہوتی ہیں -
پھر جب وہ اپنے جسموں کی طرف واپس آجاتیں ہیں تو فضا میں انھیں شیطان مل جاتے ہیں اور ان کو جھوٹی باتیں بتا دیتے ہیں ایسے خواب جھوٹے ہوتے ہیں -

از امام ابن القیم رحمتہ الله علیہ کتاب الروح ترجمہ مولانا عبد المجید

Sunday, 14 July 2013

Dastarkhawan... دسترخوان

Posted by Unknown on 01:02 with No comments
دسترخوان

حضرت مولانا سید اصغر حسین رحمتہ اللہ علیہ جو ”حضرت میاں صاحب“ کے نام سے مشہور تھے، بڑے عجیب و غریب بزرگ تھے۔ ان کی باتیں سن کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے زمانے کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
ایک مرتبہ میں ان کی خدمت میں گیا۔ انہوں نے فرمایا: ” کھانے کا وقت ہے، آؤ کھانا کھالو۔“
میں ان کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گیا
جب کھانے سے فارغ ہوئے تو میں نے دسترخوان کو لپیٹنا شروع کیا تاکہ میں جاکر دسترخوان جھاڑوں تو حضرت میاں صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا:
” کیا کر رہے ہو؟“ ۔ میں نے کہا: ”حضرت دسترخوان جھاڑنے جارہا ہوں۔“
حضرت میاں صاحب نے پوچھا: ”دسترخوان جھاڑنا آتا ہے؟ “
میں نے کہا: ”حضرت ! دسترخوان جھاڑنا کون سا فن یا علم ہے جس کے لئے باقاعدہ تعلیم کی ضرورت ہو، باہر جا کر جھاڑ دوں گا۔“
حضرت میاں صاحب نے فرمایا: ”اسی لئے تو میں نے تم سے پوچھا تھا کہ دسترخوان جھاڑنا آتا ہے یا نہیں؟ معلوم ہوا کہ تمھیں دسترخوان جھاڑنا نہیں آتا!۔“
میں نے کہا: ” پھر آپ سکھا دیں۔ “ فرمایا: ” ہاں! دسترخوان جھاڑنا بھی ایک فن ہے۔“
پھر آپ نے اس دسترخوان کو دوبارہ کھولا، اور اس پر جو بوٹیاں یا بوٹیوں کے ذرات تھے، ان کو ایک طرف کیا، اور ہڈیوں کو جن پر کچھ گوشت وغیرہ لگا ہوا تھا، اُن کو ایک طرف کیا اور روٹی کے جو چھوٹے چھوٹے ذرّات تھے، اُنکو ایک طرف جمع کیا۔ پھر مجھ سے فرمایا:
” دیکھو! یہ چار چیزیں ہیں۔ اور میرے یہاں ان چاروں کی علیحدہ علیحدہ جگہ مقرر ہے۔ یہ جو بوٹیاں ہیں، ان کی فلاں جگہ ہے۔ بلی کو معلوم ہے کھانے کے بعد اس جگہ بوٹیاں رکھی جاتی ہیں، وہ آکر ان کو کھالیتی ہے۔ اور ان ہڈیوں کےلئے فلاں جگہ مقرر ہے۔ محلے کے کتوں کو وہ جگہ معلوم ہے، وہ آکر ان کو کھالیتے ہیں۔ اور جو روٹیوں کے ٹکڑے ہیں، اُن کو میں اس دیوار پر رکھتا ہوں، یہاں پرندے، چیل کوّے آتے ہیں۔ اور وہ اِن کو اٹھا کر کھا لیتے ہیں۔ اور یہ جو روٹی کے چھوٹے چھوٹے ذرات ہیں تو میرے گھر میں چیونٹیوں کا بَل ہے، اِن کو اُس بل میں رکھ دیتا ہوں، وہ چیونٹیاں اس کو کھا لیتی ہیں۔“
پھر فرمایا: ” یہ سب اللہ جل شانہ کا رزق ہے، اس کا کوئی حصہ ضائع نہیں جانا چاہئے۔“
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے تھے کہ اس دن ہمیں معلوم ہوا کہ دسترخوان جھاڑنا بھی ایک فن ہے اور اُس کو بھی سیکھنے کی ضرورت ہے۔

Righteous Man

Posted by Unknown on 00:49 with No comments
پرہیزگار شخص

دنیا اچھے برے لو گوں سے بھری پڑی ہے۔ دنیا میں دونوں قسم کے لوگ ہر جگہ مو جود ہیں ۔ اللہ اپنے کرم سے کسی ایسے شخص کو ایمان کی روشنی بخش دے جو شیطانیت کی راہ پر چل نکلا ہو تو یہ نہ صرف اس شخص کی خوش قسمتی ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے جودو سخا اور بے نیا زی کا پتا بھی اس با ت سے چلتا ہے اور خدا کی ذات پر یقین ِ کا مل اور زیا دہ ہو جا تاہے ۔ زیر سطورقصہ بھی ایک ایسے شخص کا ہے جس نے اپنے شیطانی کاموں سے سب کو زچ کر رکھا تھا ۔ مگر جب خدا کی رحمت اس پر برسی تو لوگوں کو یہ معجزہ ہی لگا ۔ آج سے تقریباً پچیس برس پہلے وہ شخص اٹھارہ برس کا جوان تھا ۔ جوا کھیلنا، خصوصاً شراب پینا ، چوری چکاری اور لوگوں سے ہیرا پھیری کرکے پیسے بٹورنا اس کا شیوہ تھا۔ انتہائی شریف گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود اس کو یہ بری عادتیں دوستوں سے ایسی لگیں کہ وہ مڈل سے آگے نہ پڑھ سکا ۔ با پ نے بہت کو شش کی کہ چل کر دکان پر بیٹھے مگر مرضی سے جانے کے بعد وہاں بھی چوری کرکے بھاگ جاتا ۔ چند دنوں بعد پیسے ختم ہو جاتے تو پھر گھر واپس آجاتا ۔ ماں کی وجہ سے اس کا باپ مجبور تھا کہ وہ رونے لگتی تھی۔ اس بات سے اسے اور شہہ مل جاتی۔ تنگ آکر اس کے والد نے اپنی بھانجی سے اس کی شا دی کر دی ۔ بہن بیچاری بیوہ غریب تھی، بھائی کی ناانصافی پر احتجاج نہ کر سکی اور یوں اس جوارئیے پرویز عرف پیجی کو اپنی بیٹی دے دی ۔ پانچ بیٹیوں کی ماں تھیں، کیا کرتی ۔ پیجی صاحب کو تو مفت کی ملازمہ ہاتھ لگ گئی۔ پہلے تو جب گھر آتا تو ٹھنڈا کھا نا کھانا پڑتا تھا مگر اب اسکے کھانے اور کپڑوں کا خیال کرنے والی خادمہ گھر میں موجود تھی ۔ وقت گزر تا گیا اور پھر ایک دن وہ بیٹی کا باپ بن گیا وہ اس دن تقریبا ً پندرہ دن بعد گھر آیا تھا ۔ صحن میں بیٹھ کر سو چتا رہا کہ ابھی کھانا کیوں نہیں لیکر آئی ۔ والدہ نے کہا کہ تمہارے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے اب توکچھ شرم کرلے۔با پ بیچارہ بہن اور بھانجی کے سامنے شرمندہ ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ شاید شادی کے بعد تو سلجھ جائے گا ۔ ماں سے یہ الفاظ سن کر آپے سے با ہر ہو کر بولا میں ایسا نہیں چاہتا تھا ۔ اگر آپ نہیں پال سکتے تو یتیم خانے دے آئیں ۔ اندر بیوی سن رہی تھی ۔ تھوڑی دیر بعد غصے سے اندر گیا تو دیکھا کہ اس کی بیوی بچی کو ساتھ لگائے رورہی ہے ۔ پو چھا کیو ں رو رہی ہو کیا میں مرگیا ہوں، بیوہ ہوگئی ہو ۔ بیوی نے پہلی بار شکائتی نظروں سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا اور بولی نہیں میں تو اس لیے رورہی ہوں کہ میں نے خدا سے کتنی دعائیں کی تھیں کہ اللہ مجھے بیٹی نہ دینا ۔ اگر تمہا رے جیسا مر د پلے پڑا تو کیا ہو گا ۔ اتنا کہہ کر وہ پھر رونے لگی ۔ پیجی نے حیرت سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا کہ یہ بات اس نے کہی ہے جس نے دو سال چپ چاپ گزار دئیے، کبھی شکایت نہ کی تھی ۔ اپنے تئیں تو پیجی نے اس سے نکاح کرکے احسانِ عظیم کیا تھا کہ اس دور میں کون کسی یتیم غریب لڑکی سے بیاہ کرتا ہے ۔ جس کے سر پر باپ اور بھائی کا سایہ بھی نہ ہو ۔ وہ خاموش ہو کر کھانا کھائے بغیر چھت پر چلا گیا اور صبح فجر تک ٹہلتا رہا ۔ صبح مؤذن کی آواز پر گھر سے نکل آیا ۔ مسجد میں گیا تو مولوی صاحب سمجھے شاید چوری کرنے آیا ہے کیونکہ پہلے بھی دو دفعہ مسجد سے چوری کرتا پکڑا گیا تھا۔ انہو ں نے کہا کہ پیجی تو گھر جا کر سوتا کیوں نہیں یہاں تیرا کیا کام ۔ اگر چوری نہیں کرنی تو پھر کیا نماز پڑھنے آیا ہے ؟پیجی کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور بولا ہاں مولوی صاحب آج ہی جاگا ہوں مگر نماز تو کیا پڑھوں گا مجھے تو وضو کرنا بھی نہیں آتا ۔ مو لوی صاحب نیک انسان تھے۔ اسے وضو کروایا اور پھر اس نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھی، گھر واپس آیا تو دیکھا بیوی سورہی تھی بچی کو اٹھا کر سینے کے ساتھ لگا لیا ۔ بیوی کی آنکھ کھلی تو وہ یہ سمجھی شاید یتیم خانے دینے کے لیے لے جارہا ہے ۔ وہ رونے لگی اور کہا کہ میں نے کبھی تم سے کچھ نہیں مانگا، اپنی بچی کے لیے بھی کچھ نہیں مانگوں گی، یہ ظلم مت کر و ۔ پیجی کا دل بہت برا ہوا ۔ بیوی کو پیار سے سمجھایا کہ وہ اپنی بچی کو پیار کر نے کا حق بھی نہیں رکھتا؟
اسی دن سے با پ کے ساتھ دکان پر جا نے لگا ۔ پہلے پہل تو اس کے والد صاحب اس پر اعتبار نہیں کرتے تھے مگر پھر اس نے دکھا دیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال ہو تو انسان کا دل بدلنے پر دیر نہیں لگتی ۔ آج اس پیجی کو لوگ حاجی پرویز صاحب کے نام سے پکارتے ہیں ۔ اس نے دکان ایسی چلائی کہ کسی کو یقین نہیں ہوتا کہ یہ وہی پیجی ہے جو دو سو روپے چوری کرکے دکان کھلی چھوڑ کر بھاگ گیا تھا ۔ والدین کو، بیوی کو حج کروایا۔ آج ان کے چا ر بچے ہیں مگر اپنی بیٹی ( جس کا نام پیجی نے ” نو ر ایمان “ رکھا تھا اورنام رکھتے وقت اس نے کسی کی نہ سنی تھی ) اس کو بہت پیا ری ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ میری بیٹی نے میرے دل میں ایمان کی جوت جلائی ہے ۔ اس کا معصوم چہرہ دیکھ کر اور اپنی بیوی کی اس وقت کہی ہوئی بات نے مجھے اندر سے ہلا دیا تھا ۔ پرویز صاحب کو دیکھ لیں تو نورانی چہرہ اور ماتھے پہ محراب، گھنی ڈاڑھی ان کے پانچ وقت نمازی اور پرہیزگاری کا پتہ دیتی ہے ۔ مارکیٹ میں ان کی اتنی عزت ہے کہ لوگ ان کی شرافت کی مثالیں دیتے ہیں۔ صرف ان کے ماضی کو جاننے والے لوگ ہی اس بات سے واقف ہیں کہ وہ کیا تھا؟ میں سمجھتی ہوں کہ ان کی کوئی نہ کوئی نیکی ان کے کام آئی ہے جو خدا نے اتنی ذلتوں اور پستیوں سے نکال کر انہیں اس مقام تک پہنچایا ہے ۔ وہ شخص جس سے کسی کی مال وآبرو محفوظ نہ تھی آج محلے کی بہو بیٹیوں کو اپنی نورایمان جیسا سمجھتا ہے اور اس کی نگاہیں عورتوں کو دیکھ کر جھک جاتی ہیں ۔ دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو شیطانیت کی راہ پر اتنی دور تک چلنے کے بعد فلاح کی طرف آتے ہوں۔ یہ خدا کا بہت بڑا انعا م ہے کہ ایک چھوٹی سی بات سے بندے کا دل پھر جائے ۔
قارئین کرام آپ کوکبھی ایسے لوگ ملیں تو کبھی انہیں دل سے برا نہ جانئیے۔کیا معلوم آنے والا وقت کس کی جھولی میں کیا ڈالنے والا ہے؟ یہ خدائے بر تر کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔ میری استدعا ہے کہ اگر کسی ایسے شخص سے سامنا ہو تو اس کی اپنے طور اصلاح کی کو شش کیجئے ،یہ صدقہ جاریہ ہے ۔ تو فیق تو اسے خدا کی طرف سے ملتی ہے ۔ مگر کسی کی کہی ہوئی اچھی بات بھی انسان کا دل بدلنے کے لیے معاون ہو سکتی ہے ۔ آپ کی وجہ سے کسی ایک شخص نے بھی ہدایت کی روشنی پائی اور سیدھے راستے پر چل نکلا تو یقین جانئیے گا کہ زندگی کا مقصد پورا ہوگیا اور زندگی رائیگاں ہو نے سے بچ جائے گی ۔ نفسانفسی کے اس دور میں بہت کم ایسے لو گ ہیں جو دوسروں کے لیے سوچیں اور ان کی بہتری کے لیے کوئی قدم اٹھائیں۔ آئیے بارش کے پہلے قطرے کی طر ح ہمت کر کے پہل تو کریں کہ قطرہ قطرہ مل کر دریا ہو تا ہے ۔
اب آدمی آدمی نظر نہیں آتا چراغِ فکر جلا ﺅ کہ تیرگی ہے بہت

Islam Of Twenty Pence

Posted by Unknown on 00:32 with No comments
بیس پنس کا اسلام


سالوں پہلے کی بات ہے جب ایک امام مسجد صاحب روزگار کیلئے برطانیہ کے شہر لندن پُہنچے تو روازانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُنکا معمول بن گیا۔لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔
ایک مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ
دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔امام صاحب سوچ میں پڑ گئے، پھر اپنے آپ سے کہا کہ یہ بیس پنس وہ اترتے ہوئے ڈرائیور کو واپس کر دیں گے کیونکہ یہ اُن کا حق نہیں ۔ پھر ایک سوچ یہ بھی آئی کہ بھول جاؤ ان تھوڑے سے پیسوں کو۔ اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے!!!ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُن کی کمائی میں کیا فرق پڑ جائے گا؟ میں چپ ہی رہتا ہوں۔
بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو بیس پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛ یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے ہیں۔
ڈرائیور نے بیس پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟ میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آ کر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ یہ بیس پنس میں نے جان بوجھ کر آپ کو آزمانے کے لیے زیادہ دیئے تھے تاکہ آپ کا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ اور دیانت داری پرکھ سکوں۔
امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترے، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنے کیلئے ایک کھمبے کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی،
یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔۔۔

Saturday, 13 July 2013

Hoisting Grave

Posted by Unknown on 04:54 with No comments

قبر کشائی


اس دفعہ اکثر حالات 2 ڈاکٹر صاحبان سے لئے گئے ہیںجو سرکاری ملازمین ہیں اور عدالتوں کے حکم کے تحت قبرکشائیا ں کرتے ہیں تا کہ موت کی وجہ کا پتہ چل سکے۔ مرنے کے بعد بحکم عدالت نعش کو قبر سے نکال کر قبرستان میں اس کا تفصیلی معائنہ کیا جاتاہے اور نعش کے کچھ اجزا ءلیبارٹری میں معائنہ کے لیے بھیجے جا تے ہیں۔ اس سارے عمل کو پوسٹ مارٹم کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں میت کے رشتہ دار، پولیس پارٹی، ڈاکٹروں کی پارٹی اور مجسٹریٹ ہو تاہے۔ میت کے لو احقین قبر کی پہچا ن کرتے ہیں ۔میت کو قبر سے باہر لے آتے ہیں تاکہ معا ئنہ کیا جا سکے۔ ڈاکٹر صاحبان میں پروفیسر نیاز احمد بلوچ صاحب، جو نشتر میڈیکل کالج کے شعبہ ( Forensic Medicine ) کے سر براہ ہیں جو سینکڑوں قبر کشا ئیوں میں شریک رہے۔ دوسرے ڈاکٹر مہر نور احمد نے لودھراں کے علاقہ میں بہت قبر کشائیاں کیں۔ اب میں چشم دید واقعات لکھوں گا جو ان ڈاکٹر صاحبان نے بتائے۔

ایک سودخور کی قبر کشائی


ڈاکٹر بلو چ صاحب کی زبانی حالات لکھ رہا ہو ں۔ بوسن روڑ ملتان کے ایک قبرستان میں بورڈ کے ذریعے قبر کشائی کا حکم ملا۔ یہ ایک ایسے شخص کی نعش تھی جو اپنی زندگی کے بیس سال سعودی عرب رہا۔ الحاج تھا، حافظ قرآن تھا۔ سعودی عرب سے واپس پاکستان آکر سودی کاروبار شروع کردیا۔ اچانک مر گیا۔ اس کی پہلی بیوی کے بچوں نے مجسٹر یٹ کو درخواست دی کہ ہمارے ابو کو زہر دے کر مارا گیا ہے۔ دفن ہو نے کے ایک سال بعد قبر کشائی کا حکم ملا۔ میں بورڈ کا ممبر تھا۔ سول جج کی موجو دگی میں قبر کھولی گئی، نہ کوئی بو، نہ کو ئی کیڑا تھا۔ جب کفن نعش سے ہٹایا گیا تو صرف ہڈیو ں او ر سیاہ راکھ کے کچھ با قی نہ تھا، البتہ مختلف رنگ کے بچھو ہڈیوں کو چمٹے ہوئے تھے۔ ان بچھوﺅں کو ہڈیوں سے ہٹانا ناممکن تھا کیونکہ ان کے ڈنگ ہڈیو ں کے اندر تھے۔ ان کو زیا د ہ چھیڑنے سے خطرہ تھا اس لیے اسی حالت میں چھوڑ دیا گیا۔ یہ حالا ت دیکھ کر احساس ہوا کہ جو شخص سو د کا کا رو با ر کرے گا مرنے کے بعد اس پر ایسی آگ مسلط کر دی جائے گی جو اس کو جلا کر راکھ کر دے گی۔ اس کی نعش پرکفن ویسے ہی تھا۔ معلوم ہو اکہ اس آگ کا اثر صرف مرنے والے کے جسم پررہا۔


فرمانبر دار بیوی


ڈاکٹر صاحب نے بتا یا کہ ان کے ایک جاننے والے ساتھی کی بیوی فوت ہو گئی۔ جس کے سارے بدن پر بیماری کی وجہ سے ورم تھا۔ اس بی بی نے ایک مو ٹی سونے کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی جو مرنے کے بعد اتاری نہ جا سکی ۔میت کے خاوند نے اجازت دے دی کہ انگو ٹھی کے ساتھ اس کو دفن کر دیا جائے دفن کرنے والوں میں ایک شخص لالچی تھا۔ اس نے دفنانے کے بعد اس انگوٹھی کو اتارنے کی ٹھا ن لی۔ دفنانے کے کچھ دیر بعد اس لالچی شخص نے انگو ٹھی لینے کے لیے قبر کو کھو ل ڈالا تو دیکھا کہ میت تو ایک مسہری پر ریشم کے بستر پر آرا م کر رہی ہے او اس کے ار د گر د پردے لگے ہوئے ہیں۔ یہ کیفیت دیکھ کر اس لا لچی شخص پر ہیبت طاری ہو گئی۔ قبر کو بند کر کے یہ حالات اس نے کئی آدمیو ں کو بتائے۔ اس میت کے گھر والے سے لوگوں نے اس کی بیوی کی عجیب بات پو چھی جس کی وجہ سے وہ قبر میں آرام سے ہے۔ میت کے خاوند نے بتایا یہ کہ وہ تمام عورتوں کی طرح تھی، مگر 25 سال کی رفاقت میں مجھے یاد نہیں کہ کبھی مجھ سے جھگڑا کیا ہو یا میری نا فرمانی کی ہو۔ خاوند کی اطا عت کا یہ صلہ ملا کہ وہ جنت میں داخل ہو گئی۔

قبر کی پکار

ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ایک سینئر آفیسر کے گارڈ کی قبر کشائی کی گئی۔ دفن ہو ئے میت کو دس دن گزر گئے تھے۔ قبر کو جب کھولا گیا تو بدبو اتنی تیز نکلی کہ تما م حاضرین چکرا گئے۔ کا فی لوگوں کو قے شروع ہو گئی۔ قبر کے اندر کیڑے ہی کیڑے تھے۔ میت نظر ہی نہیں آرہی تھی کیو نکہ کیڑوں کے انبار تھے۔ رشتہ داروں نے میت کو باہر نکالا تو ہر آدمی توبہ توبہ کر رہا تھا۔ قبر یہ یاد دہانی کرا رہی تھی کہ میرے اندر آنے سے پہلے اچھے اعمال کر کے آﺅ تو میں استقبال کروں گی ورنہ ایسے ہی حال ہو گا۔ خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عقل مند اور سمجھ دار وہ ہے جو مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کرے۔


ایک نمازی کی قبر کا حال

ڈاکٹر صاحب نے ایک اور قبر کشائی کا حال بتایا جس میں قبر میں بدبو اور کیڑے تھے۔ میت کو نکالتے وقت رسیوں اور لکڑیوں کا استعمال کیا گیا۔ اس عمل میں ساتھ والی قبر کی دیوار کی کچھ اینٹیں گر گئیں۔ تو وہا ں سے تیز فرحت بخش خوشبو آنی شروع ہو گئی جس کی وجہ سے پہلی قبر کی بدبو ہم سب بھول گئے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد اس میت کو زمین کے حوالے کر کے، خوشبو دینے والی قبر کی جستجو میں لگ گئے۔ خوشبو والی قبر 60 سال پرانی تھی، جیسے کہ قبر کے کتبے سے ظاہر تھا۔ لو گوں نے بتایا کہ اس قبر والے کا یہ عمل تھا کہ وہ صالح آدمی تھا اور نماز کا پابند تھا۔ کوئی آدمی بھی اس خوشبو والی قبر کی شکا یت نہیں کررہا تھا ۔

شہید عورت کی قبر کشائی

بندبوسن کی رہنے والی شادی شدہ عورت کو دفن کرنے کے 3 ماہ بعد قبر کشائی کی۔ قبر کشائی کے وقت قبر والی عورت کی ماں ہا تھ جوڑ کر فریاد کر رہی تھی کہ دشمنوں نے اس کی لڑکی کو مار ڈالا ہے۔ قبر والی کو اس کا خاوند اچھا نہیں سمجھتا تھا کیونکہ اس کے دوسری عورت کے ساتھ تعلقات تھے۔ چنانچہ کسی طریقہ سے مرحومہ کو مار کر رات کے وقت دفن کرا دیا اور رشتہ داروں میں مشہور کر دیا کہ اس کو سر درد اور بخار ہوا جس میں وہ مر گئی۔ اندھیری رات اور گھر دور ہونے کی وجہ سے دوسرے رشتہ داروں کو اطلا ع نہ کر سکے۔ جب قبر کو کھو لا گیا تو خوشبو سے بھری ہوئی تھی۔ نعش بالکل تا زہ تھی، جسم کے تمام حصے ٹھیک تھے۔ مہندی لگی ہوئی تھی حتیٰ کہ سر کے با لوں کی ما نگ ویسے ہی تھی۔ اس قبرستان میں کھجور کے درخت تھے۔ کھجور کے د رخت کی دو جڑیں مرحومہ کے منہ کے اوپر آکر وقفہ وقفہ کے بعد ایک قطرہ سفید پانی کا منہ میں ڈال رہی تھیں۔ یہ منظر سب نے دیکھا اور یقین کر لیا کہ یہ بی بی تو شہید ہے، اس کے رزق کا بھی بندوبست ہو رہا ہے۔ بڑا مسئلہ یہ تھا کہ میت کو کیسے باہر نکال کر پوسٹ ما رٹم کیا جائے ؟ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ مر حومہ کی قبر کو پاﺅں کی طرف سے بڑا کر کے اس کو نکال کر چیر پھا ڑ کر نے کے بعد واپس اسی جگہ پر رکھ دیا جائے۔ سب عمل مکمل کرنے کے بعد جب مرحومہ کا منہ جڑوں کے نیچے آیا تو سفید قطرے اس کے منہ میں گرنے شروع ہو گئے۔ سب حاضرین نے کلمہ شہا دت، درود شریف پڑھ کر مر حومہ کو ہدیہ کیا اور قبر کو بند کر دیا۔

Gulam Ki Baat

Posted by Unknown on 04:32 with No comments
غلام کی بات

وسطی ایشیاء میں ایک بزرگ تھے ملک میں قحط پڑا ہوا تھا خلقت بھوک سے مر رہی تھی ایک روز یہ بزرگ اس خیال سے کچھ خریدنے بازار جا رہے تھے کہ نہ معلوم بعد میں یہ بھی نہ ملے  بازار میں انھوں نے ایک غلام کو دیکھا جو ہنستا کھیلتا لوگوں سے مزاق کر رہا تھا بزرگ ان حالات میں غلام کی حرکات دیکھ کر جلال میں آ گئے غلام کو سخت سست کہا کہ لوگ مر رہے ہیں اور تجھے مسخریاں سوجھ رہی ہیں غلام نے بزرگ سے کہا آپ اللہ والے لگتے ہیں کیا آپ کو نہیں پتہ میں کون ہوں بزرگ بولے تو کون ہے غلام نے جواب دیا میں فلاں رئیس کا غلام ہوں جس کے لنگر سے درجنوں لوگ روزانہ کھانا کھاتے ہیں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جو غیروں کا اس قحط سالی میں پیٹ بھر رہا ہے وہ اپنے غلام کو بھوکا مرنے دے گا جائیں آپ اپنا کام کریں آپ کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتی بزرگ نے غلام کی بات سنی اور سجدے میں گر گئے بولے یا اللہ مجھ سے تو یہ ان پڑھ غلام بازی لے گیا اسے اپنے آقا پر اتنا بھروسہ ہے کہ کوئی غم اسے غم نہیں لگتا  اور میں جو تیری غلامی کا دم بھرتا ہوں یہ مانتے ہوئے کہ تو مالک الملک اور ذولجلال ولااکرام ہے اور تمام کائنات کا خالق اور رازق ہے میں کتنا کم ظرف ہوں کے حالات کا اثر لے کر نا امید ہو گیا ہوں  بے شک میں گناہ گار ہوں اور تجھ سے تیری رحمت مانگتا ہوں اور اپنے گناہوں کے معافی مانگتا ہوں
 

Positive Work

Posted by Unknown on 04:27 with No comments

۱۹۳۰ کے عشرے میں (یہ کمیونزم کے زمانے کا ذکر ہے) ایک طالبعلم نے جب مصر کی ایگریکلچر یونیورسٹی میں داخلہ لیا، وقت ہونے پر اُس نے نماز پڑھنے کی جگہ  تلاش کرنا چاہی تو اُسے بتایا گیا کہ یونیورسٹی میں نماز پڑھنے کی جگہ تو نہیں ہے۔ ہاں مگر تہہ خانے میں بنے ہوئے ایک کمرے میں اگر کوئی چاہے تو وہاں جا کر نماز پڑھ سکتا ہے۔
 
طالبعلم یہ بات سوچتے ہوئے کہ دوسرے طالبعلم اور اساتذہ نماز پڑھتے بھی ہیں یا نہیں، تہہ خانے کی طرف اُس کمرے کی تلاش میں چل پڑا۔
 
وہاں پہنچ کر اُس نے دیکھا کہ نماز کیلئے کمرے کے وسط میں ایک پھٹی پرانی چٹائی تو بچھی ہوئی ہے مگر کمرہ صفائی سے محروم اور کاٹھ کباڑ اور گرد و غبار سے اٹا ہوا ہے۔ جبکہ یونیورسٹی کا ایک ادنیٰ ملازم وہاں پہلے سے نماز پڑھنے کیلئے موجود ہے۔ طالبعلم نے اُس ملازم سے پوچھا کیا تم یہاں نماز پڑھو گے؟
 
ملازم نے جواب دیا، ہاں، اوپر موجود لوگوں میں سے کوئی بھی ادھر نماز پڑھنے کیلئے نہیں آتا اور نماز کیلئے اس کے علاوہ کوئی جگہ بھی نہیں ہے۔
 
طالبعلم نے ملازم کی بات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا؛ مگر میں یہاں ہرگز نماز نہیں پڑھوں گا اور اوپر کی طرف سب لوگوں کو واضح دکھائی دینے والی مناسب سی جگہ کی تلاش میں چل پڑا۔ اور پھر اُس نے ایک جگہ کا انتخاب کر کے نہایت ہی عجیب حرکت کر ڈالی۔
 
اُس نے بلند آواز سے اذان کہی! پہلے تو سب لوگ اس عجیب حرکت پر حیرت زدہ ہوئے پھر انہوں نے ہنسنا اور قہقہے لگانا شروع کر دیئے۔ اُنگلیاں اُٹھا کر اس طالبعلم کو پاگل اور اُجڈ شمار کرنے لگے۔ مگر یہ طالبعلم تھا کہ کسی چیز کی پرواہ کیئے بغیر اذان پوری کہہ کر تھوڑی دیر کیلئے اُدھر ہی بیٹھ گیا۔ اُس کے بعد دوبارہ اُٹھ کر اقامت کہی اور اکیلے ہی نماز پڑھنا شروع کردی۔ اُسکی نماز میں محویت سے تو ایسا دکھائی تھا کہ گویا وہ اس دنیا میں تنہا ہی ہے اور اُسکے آس پاس کوئی بھی موجود نہیں۔
 
دوسرے دن پھر اُسی وقت پر آ کر اُس نے وہاں پھر بلند آواز سے اذان دی، خود ہی اقامت کہی اور خود ہی نماز پڑھ کر اپنی راہ لی۔ اور اس کے بعد تو یہ معمول ہی چل نکلا۔ ایک دن، دو دن، تین دن۔۔۔وہی صورتحال۔۔۔ پھر قہقہے لگانے والے لوگوں کیلئے اُس طالبعلم کا یہ دیوانہ پن کوئی نئی چیز نہ رہی اور آہستہ آہستہ قہقہوں کی آواز بھی کم سے کم ہوتی گئی۔ اسکے بعد پہلی تبدیلی کی ابتداء ہوئی۔ نیچے تہہ خانے میں نماز پڑھنے والے ملازم نے ہمت کر کے باہر اس جگہ پر اس طالبعلم کی اقتداء میں نماز پڑھ ڈالی۔ ایک ہفتے کے بعد یہاں نماز پڑھنے والے چار لوگ ہو چکے تھے۔ اگلے ہفتے ایک اُستاذ بھی آ کر اِن لوگوں میں شامل ہوگیا۔
 
یہ بات پھیلتے پھیلتے یونیورسٹی کے چاروں کونوں میں پہنچ گئی۔ پھر ایک دن چانسلر نے اس طالبعلم کو اپنے دفتر میں بلا لیا اور کہا: تمہاری یہ حرکت یونیورسٹی کے معیار سے میل نہیں کھاتی اور نہ ہی یہ کوئی مہذب منظر دکھائی دیتا ہے کہ تم یونیورسٹی ہال کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر اذانیں دو یا جماعت کراؤ۔ ہاں میں یہ کر سکتا ہوں کہ یہاں اس یونیورسٹی میں ایک کمرے کی چھوٹی سی صاف سُتھری مسجد بنوا دیتا ہوں، جس کا دل چاہے نماز کے وقت وہاں جا کر نماز پڑھ لیا کرے۔
 
اور اس طرح مصر کی ایگریکلچر یونیورسٹی میں پہلی مسجد کی بنیاد پڑی۔ اور یہ سلسلہ یہاں پر رُکا نہیں، باقی کی یونیورسٹیوں کے طلباء کی بھی غیرت ایمانی جاگ اُٹھی اور ایگریکلچر یونیورسٹی کی مسجد کو بُنیاد بنا کر سب نے اپنے اپنے ہاں مسجدوں کی تعمیر کا مطالبہ کر ڈالا اور پھر ہر یونیورسٹی میں ایک مسجد بن گئی۔
 
اِس طالبعلم نے ایک مثبت مقصد کے حصول کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا اور پھر اِس مثبت مقصد کے نتائج بھی بہت عظیم الشان نکلے۔ اور آج دن تک، خواہ یہ طالبعلم زندہ ہے یا فوت ہو چکا ہے، مصر کی یونیورسٹیوں میں بنی ہوئی سب مسجدوں میں اللہ کی بندگی ادا کیئے جانے کے عوض اجر و ثواب پا رہا ہےاور رہتی دُنیا تک اسی طرح اجر پاتا رہے گا۔ اس طالب علم نے اپنی زندگی میں کار خیر کر کے نیک اعمالوں میں اضافہ کیا۔
 
میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ
 
ہم نے اپنی زندگیوں میں ایسا کونسا اضافہ کیا ہے؟ تاکہ ہمارا اثر و رسوخ ہمارے گردو نواح کے ماحول پر نظر آئے، ہمیں چاہیئے کہ اپنے اطراف میں نظر آنے والی غلطیوں کی اصلاح کرتے رہا کریں۔ حق و صدق کہنے اور کرنے میں کیسی مروت اور کیسا شرمانا؟ بس مقاصد میں کامیابی کیلئے اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد و نصرت کی دعا مانگتے رہیں۔
 
اور اسکا فائدہ کیا ہوگا؟
 
اپنے لیئے اور دوسرے کیلئے سچائی اور حق کا علم بُلند کر کے اللہ کے ہاں مأجور ہوں کیونکہ جس نے کسی نیکی کی ابتداء کی اُس کیلئے اجر، اور جس نے رہتی دُنیا تک اُس نیکی پر عمل کیا اُس کیلئے اور نیکی شروع کرنے والے کو بھی ویسا ہی اجر ملتا رہے گا۔
 
لوگوں میں نیکی کرنے کی لگن کی کمی نہیں ہے بس اُن کے اندر احساس جگانے کی ضرورت ہے۔ قائد بنیئے اور لوگوں کے احساسات کو مُثبت رُخ دیجیئے۔
 
اگر کبھی اچھے مقصد کے حصول کے دوران لوگوں کے طنز و تضحیک سے واسطہ پڑے تو یہ سوچ کر دل کو مضبوط رکھیئے کہ انبیاء علیھم السلام کو تو تضحیک سے بھی ہٹ کر ایذاء کا بھی نشانہ بننا پڑتا تھا۔

Khalifa Mansoor

Posted by Unknown on 04:16 with No comments
خلیفہ منصور

عباسی خلیفہ منصور ایک رات طواف کررہا تھا کہ اچانک اس کے کانوں سے ایک آواز ٹکرائی
اے اللہ! میں تیری بارگاہ اقدس میں ظلم وزیادتی کے تجاوز ‘ حق اور اہل حق کے درمیان حرص و طمع کے داخل ہوجانے کی شکایت کرتا ہوں۔
یہ سن کر ”خلیفہ منصور“ وہاں سے نکلا اور مسجد کے ایک کونے میں جاکر بیٹھ گیا اور خادم کو حکم دیا کہ اس شخص کو میرے پاس بلا لاؤ‘ اس شخص کے پاس خلیفہ کا پیغام پہنچا تو اس نے پہلے دورکعت نماز پڑھی‘ حجر اسود کا استلام کیا اور سلام کہہ کرخلیفہ کی خدمت میں حاضر ہوگیا‘تو خلیفہ نے اس سے مخاطب ہوکر کہا:
”یہ ہم نے تمہیں کیا کہتے سنا؟ کہ: زمین میں زیادتی‘ ظلم وفساد کا بازار گرم ہے‘ حق اور اہل حق کے درمیان حرص ولالچ داخل ہوگئی ہے‘ خدا کی قسم! مجھے تمہاری باتوں کی وجہ سے بہت تکلیف پہنچی ہے‘ گویا آپ کی باتوں نے مجھے ایک طرح کا بیمار کردیا ہے۔ اس شخص نے کہا:
”اے امیر المؤمنین ! اگر آپ مجھے میری جان کی امان دیں تو میں حقیقتِ حال واضح کردوں ورنہ․․․“۔ خلیفہ نے کہا: ہم نے تم کو امان دی‘ اس پر وہ شخص بولا۔ ”اے میر المؤمنین! خود آپ ہی کی ذات حرص اور دنیوی لالچ کی وبا کا شکار ہوگئی ہے‘ حرص ولالچ کے اس مکروہ وناپاک جذبے نے آپ کو ظلم وزیادتی اور فتنے وفساد کے سد باب سے روک رکھا ہے“ خلیفہ کہنے لگا: تیرا ستیا ناس ہو! میرے اندرحرص و لالچ کیوں کر داخل ہوسکتی ہے؟ میں تو سیاہ وسفید کا مالک ہوں سونا‘ چاندی میری مٹھی میں ہے اور میٹھا کھٹا سب میرے پاس ہے‘ اس شخص نے کہا : ”جس طرح دنیاوی اغراض ومفادات کے شکنجے میں آپ جکڑے ہوئے ہیں‘ اس طرح کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے کندھوں پر سب مسلمانوں کی جان ومال کی حفاظت کا بار رکھا ہے‘ مگر آپ اس میں غفلت برت رہے ہیں اور مال ودولت جمع کرنے میں مگن ہیں۔آپ نے چونے اور پکی اینٹوں کی دیواریں کھڑی کرکے اور مضبوط آہنی دروازے لگاکراور ان پر مسلح پہرے دار کھڑے کرکے ملازموں پر اپنی دربار تک رسائی کی تمام راہیں مسدود کردیں ہیں‘ لوگوں سے مختلف ٹیکسوں کی شکل میں مال ودولت سمیٹنے کے لئے اپنے عمال کو کیل کانٹے سے لیس کرکے روانہ کررکھا ہے‘ آپ کی رعایا میں صرف مخصوص طبقے کو ہی دربارِشاہی میں شرفِ حضوری حاصل ہے‘ کمزوروں ‘ غریبوں ‘ ستم زدہ اور مظلوم لوگوں کے لئے آپ کے دروازے بند ہیں‘ جب اس طبقہٴ اشرافیہ نے‘ جسے آپ کا تقرب اور دربار میں بلاروک ٹوک رسائی حاصل ہے‘ آپ کو مال ودولت تقسیم کرنے کی بجائے دونوں ہاتھوں سے لوٹتے دیکھتا ہے تو اس نے اس کو وجہ جواز بناکر خود اس بندر بانٹ پر کمرکس لی ہے اور اس بات کا اہتمام کرلیاہے کہ اس کی مرضی کے بغیر لوگوں کے احوال کی صحیح خبر آپ تک نہ پہنچنے پائے‘ اگر اقتدار میں موجود کوئی نیک بندہ اس طبقے کی غلط روش کی مخالفت کرے تو اس پر الزام تراشیاں کرکے ذلیل ورسوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی اور جب وہ نیک بندہ راہ سے ہٹ جاتاہے تو لوگ اس ظلم وتشدد پسند طبقے کی ہیبت اور اثر ورسوخ سے مزید مرعوب ہوجاتے ہیں اور اس سے نباہ رکھنے کے لئے مال ودولت اور ہدایا کا سہارا لیتے ہیں‘ اس طرح اس طبقہ کے لوگ عام رعایا پر ظلم کرنے میں پہلے سے زیادہ مستعد ہوجاتے ہیں‘ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو اثر ورسوخ اور جاہ ومرتبہ کے مالک ہیں‘ اسی کا نتیجہ ہے کہ شہر ظلم وزیادتی کی آماجگاہ بن چکے ہیں‘ طبقہٴ اشرافیہ کے افراد عملاً آپ کی سلطنت میں شریک ہوگئے ہیں‘ جب کہ آپ ساری صورتحال سے بے پرواہ ہیں‘ جب کوئی مظلوم ظلم کی شکایت لے کر آپ کے دربار میں آنا چاہتاہے تو اس کی راہ روکی جاتی ہے اور اگر آپ کے باہر آنے پرکوئی اپنا مسئلہ پیش کرنا چاہے تو آپ کا اتنا کہہ دینا کافی ہوتا ہے کہ ” یہ فریاد سننے کاوقت نہیں“ اسی طرح اگر آپ ظالموں کے احتساب کے لئے کسی کو محتسب مقرر کریں اور مقربین ومعزز ین کو خبر ہوجائے تو وہ اسے مجبور کرتے ہیں کہ ان کی شکایت آپ تک نہ پہنچائے‘ وہ بے چارہ ان کے خوف سے اپنی زبان بند کرلیتاہے اور یوں مظلوم ‘ شکوہٴ ظلم لئے‘ اس کے یہاں چکر پر چکر لگاتاہے‘ مگر کچھ شنوائی نہیں ہوتی‘ آخر کار جب ہرطرف سے تنگ آکر وہ آپ کے نکلنے پر بے اختیار تڑپ تڑپ کر فریاد کرتا ہے تو اسے اذیت ناک سزا دے کر دوسروں کے لئے نمونہ عبرت بنا دیا جاتاہے‘ یہ سب کچھ آپ کی نگاہوں کے سامنے ہوتا ہے مگر آپ کی پیشانی پر بل تک نہیں آتا‘ کیا یہی اصلاح ہے؟اے مسلمانوں کے امیر! میرا چین آنا جانا رہتا تھا‘ ایک مرتبہ جب میں وہاں گیا تو معلوم ہوا کہ بادشاہ کی قوتِ سماعت جواب دے گئی ہے اور وہ کانوں سے بہرہ ہوچکا ہے‘ اس دن بادشاہ نے بھری مجلس میں دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردیا‘ اہلِ مجلس اسے صبر کی تلقین کرنے لگے‘ تواس نے سر اٹھایا اور کہا:
”میرا رونا اس لئے نہیں کہ مجھ پر مصیبت آن پڑی ہے‘ بلکہ میں تو اس مظلوم کے لئے رورہا ہوں جو ظلم کی فریاد لے کر داد رسی کے لئے میرا دروازہ کھٹکھٹائے گا اور میں اس کی بات نہ سن سکوں گا“ پھر کچھ دیر سکوت کے بعدکہنے لگا: اگر سماعت ختم ہو گئی ہے تو کیا ہوا‘بصارت کی نعمت تو ہے۔ جاؤ! اور رعایا میں اعلان کر دو کہ آج کے بعد ملک میں مظلوم فریاد رس کے علاوہ کوئی بھی سرخ کپڑے (لباس) نہیں پہنے گا‘ تاکہ مظلوم کا یہ امتیازی لباس دیکھ کر میں اس کی مدد کرسکوں‘ پھر وہ ہاتھی پر سوار ہوکر نکل کھڑا ہوتا اور مظلوم کی مدد کرتا“ ۔
امیر المؤمنین! اس بادشاہ نے مشرک ہونے کے باوجود اپنی قوم کے ساتھ کس قدر ہمدردی کی اور ایک آپ ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے اور اہل بیت کے ایک فرد ہونے کے باوجود اپنی خواہش نفس کو مسلمان رعایا کی خیر خواہی پر قربان نہیں کرسکتے: اگر آپ ‘ اولاد کے لئے مال وجائیداد جمع کررہے ہیں تو سنیئے! دنیا میں جو بچہ بھی آتا ہے اس کا کوئی مال نہیں ہوتا‘ مگر اللہ تعالیٰ کا سایہ عاطفت مسلسل اس پر دراز ہوتا چلا جاتاہے‘ یہاں تک کہ لوگ اس کی عظمت کے گن گاتے ہیں‘ آپ کسی کو کچھ نہیں دے سکتے‘ اللہ تعالیٰ جسے چاہیں عطا فرماتے ہیں اور اگر مال ودولت جمع کرنے سے آپ کا مقصد سلطنت کی مضبوطی اور استحکام ہے تو بنوامیہ کی مثال اور تاریخ آپ کے سامنے ہے‘ ان کا جمع شدہ لاؤ لشکر اور مال ودولت ان کے کسی کام نہ آیا‘ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ جیسا معاملہ کرنا چاہے گا اسے کوئی نہیں روک سکتا اور نہ ہی مال ودولت کے انبار لگا کر آپ اپنے موجودہ رتبے میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
اے امیر المؤمنین! کیا آپ اپنی نافرمانی کرنے والے کو قتل سے بڑھ کر کوئی سزا دے سکتے ہیں؟ خلیفہ نے کہا: نہیں۔ اس شخص نے کہا: تو پھر آپ کا اس بادشاہ کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے آپ کو دنیا کی بادشاہت عطا فرمائی‘ وہ تو اپنے نافرمان کو قتل ہی نہیں‘ بلکہ دائمی دردناک عذاب کی سزا دیتا ہے‘ وہ اس سے بخوبی واقف ہے کہ کس چیز کی محبت میں آپ کا دل جکڑا ہوا ہے؟ اور ا س کے حصول کے لئے آپ کے ہاتھ بڑھتے اور قدم اٹھتے ہیں‘ دنیا کی جس بادشاہت پر آپ فریفتہ ہیں‘ کیا وہ اس وقت آپ کے کام آسکے گی‘ جب قادر ِ مطلق آپ سے چھین لے گا اور آپ کو حساب کے لئے لاکھڑا کرے گا؟۔
اس شخص کی باتیں سن کر آخرت کے خوف سے خلیفہ منصور کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی‘ بے اختیار اس کی زبان سے نکلا: ”کاش میں پیدا ہی نہ ہوا ہوتا“ پھر اس شخص سے کہنے لگا: اچھا اب تم ہی کوئی تدبیر بتاؤ‘ میں کیا کروں؟ وہ شخص کہنے لگا: اے امیر المؤمنین! دنیا میں کچھ ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی طرف لوگ اپنے دینی معاملات میں رجوع کرتے ہیں اور ان کی رہنمائی سے مستفید ہوتے ہیں‘ آپ بھی ایسے ہی لوگوں کو اپنا مقرب بنائیں وہ آپ کی درست رہنمائی کریں گے‘ اپنے معاملات میں ان سے مشورہ کیجئے! وہ آپ کو لغزش سے بچائیں گے۔ خلیفہ نے کہا: میں نے اس کی کوشش کی تھی لیکن وہ مجھ سے دور بھاگتے ہیں۔ اس شخص نے کہا: انہیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں آپ انہیں اپنی راہ پر چلنے کے لئے مجبور نہ کریں‘ آپ اپنے دروازے کھول دیں‘رکاوٹیں ہٹادیں‘ مظلوم کے ساتھ انصاف اور ظلم کا خاتمہ کریں‘ غنیمت اور صدقات کا مال وصول کرکے ضرورت مند اور مستحقین میں عدل وانصاف کے ساتھ تقسیم کریں تو میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ ہستیاں آپ کی خدمت میں خود حاضر ہوں گی اور امت کی فلاح وبہبود میں آپ کا ہاتھ بٹائیں گی۔
گفتگو جاری تھی کہ اسی اثنا میں مؤذن نے آکر سلام عرض کیا اور اذان دی‘ خلیفہ منصور نماز پڑھ کر اپنی مجلس میں لوٹ آیا اور اس شخص کو بلانے کے لئے آدمی بھیجا‘ مگر تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا.
 

Friday, 12 July 2013

Morals

Posted by Unknown on 04:42 with No comments
اخلاق

ایک دفعہ ایک آدمی ظہر کی نماز پڑھنے کے لئے مسجد جا رہا تھا ۔رکعات چھوٹنے کے خوف سے جلدی جلدی چل رہا تھا۔ راستے میں اس کا گزر کھجور کے درخت کے پاس سے ہوا،دیکھا کہ ایک آدمی ڈیوٹی کے لباس میں ملبوس کھجور توڑنے میں مشغول ہے۔ اسے دیکھ کر بہت متعجب ہوا اور سوچا کہ یہ کیسا آدمی ہے جو نماز کا اہتمام نہیں کرتا،اور کام میں اس قدر غرق ہے کہ گویا اس نے اذان سنی ہی نہیں۔ غصہ کی حالت میں زور سے چیخا اور کہا:اترو نماز کے لئے، آدمی نے اطمینان سے کہا، ٹھیک ہے،اترتا ہوں۔پھر اس آدمی نے دوبارہ کہا:نمازپڑھنے کے لئے جلدی کرو،اے گدھے!اے گدھے!! یہ سن کر آدمی زور سے چیخا اور کہا: میں گدھا ہوں!!پھر کھجور کا ایک تنا توڑ کر جلدی جلدی اترنے لگا تاکہ اس کا سر پھوڑ دے۔ یہ دیکھ کر اس آدمی نے تولیہ سے اپنا ڈھانپ لیا تاکہ وہ پہچان نہ سکے اور دوڑ کر مسجد میں داخل ہو گیا۔ شدید غصے کی حالت میں وہ آدمی کھجور کے درخت سے اترا ،گھر گیا،نماز پڑھی،کھانا کھایا،تھوڑا آرام کیا اور پھر کام کی تکمیل کے لئے کھجور کے درخت کے پاس آیا۔ پھر تھوڑی دیر میں عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ پھر وہی آدمی جو ظہر کے وقت نماز کے لئے کھجور کے درخت کے پاس سے گزرا تھا، عصر کی نماز کے لئے بھی اسی راستہ سے گزرا،پھر دیکھا کہ آدمی درخت کے اوپر اپنے کام میں مشغول ہے،لیکن اس دفعہ آدمی نے گفتگو کا انداز بدل دیا اور کہا : السلام علیکم، کیا حال ہے۔اس نے جواب دیا،الحمدللہ،خیریت ہے۔آدمی نے کہا:سناؤ!! اس سال پھل کیسا ہے؟اس نے کہا ،الحمدللہ ،اچھا ہے۔آدمی نے کہا:اللہ تجھے توفیق دے اور تجھے رزق دے اور روزی میں برکت اور وسعت دے اور اہل وعیال کے لئے کئے گئے عمل اور کوشش کو رائیگاں نہ کرے۔ وہ آدمی یہ دعائیہ کلمات سن کر بہت خوش ہوا اور اس دعا پہ آمین کہا۔پھر اس آدمی نے کہا:لگتا ہے کہ کام میں کافی مشغولیت کی وجہ سے آپ نے عصر کی اذان نہیں سنی!! اذان ہو چکی ہے،اور اقامت ہونے والی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ درخت سے اتر جاتے، تھوڑی دیر آرام کرتے اور نماز باجماعت پالیتے اور نماز کے بعد اپنے کام کو پورا کرلیتے۔اللہ آپ کی حفاظت کرے گا اور آپ کو صحت وتندرستی عطا کرے گا۔یہ دعائیہ کلمات سن کر اس نے کہا: ان شاءاللہ ان شاءاللہ، اور درخت سے اترنے لگا، پھر اس آدمی کے پاس آیا اور گرم جوشی کے ساتھ اس سے مصافحہ کیا اور کہا: اچھے اور عمدے اخلاق وعادات پہ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، لیکن ظہر کے وقت جو آدمی میرے پاس سے گزرا تھا اور جس بداخلاقی سے پیش آیا تھا،اگر میں اسے پالیتا تو اسے بتلادیتاکہ گدھا کون ہے؟
 
یہ سن کر اس آدمی نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ کبھی کسی کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش نہیں آئے گا ،
 
سچ تو یہ ہے کہ برے اخلاق اور کڑوی زبان کے ساتھ کی گئی نصیحت بھی اثر نہیں کرتی اسی
لیے علم کے ساتھ ساتھ حکمت بصیرت کا ہونا بھی بہت ضروری ہے-

A Unique Incident Of Sight

Posted by Unknown on 04:12 with No comments
ڈاکٹر عبدالغنی فاروق
  (کھوئی ہوئی بینائی دوبارہ پانے کا ایک بے مثال واقعہ)

میری گزارش ہے کہ ایک بار اسے وقت نکال کر ضرور پڑھیں یقین جانیں آپ کی آنکھیں نم ہو جائیں گی

یہ حیرت انگیز اور ایمان افروز واقعہ مجھے سردار غلام جیلا نی صاحب نے سنایا ۔ سردار صاحب وحدت روڑ لا ہور پر بجلی کے سامان کے تاجر ہیں اور میرے گھر کے قریب ہی رہتے ہیں ۔ ان کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے ۔ بڑے پروقار ، سنجیدہ ، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باعمل مسلمان ہیں۔ انھو ں نے بتایا کہ وہ موضع گورا، تحصیل پلندری ، ضلع سدھونتی کے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ گورا گاﺅں راولپنڈی سے 96 کلو میٹر جانب مشرق واقع ہے۔ پولیس کالج ، سہالہ سے آزاد پتن جانے والی سڑک ادھر کو جاتی ہے ۔ سردار صاحب نے واقعہ کچھ یو ں سنایا : ”میرے گاﺅں میں ریٹائرڈ کےپٹن محمد صدیق خان بڑے ہی نیک انسان ہیں ۔ وہ انسانی ہمدردی کے پیکر مجسم، فوج سے ریٹائرڈ منٹ کے بعد گا ﺅ ں ہی میں زمیندارہ کر تے اور رفاہی کامو ں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ رشتے میں میرے پھو پھا ہیں ۔ ان کی والدہ محترمہ مسماة مہر جان  زوجہ حسین خان مر حوم 85 سال کی بزرگ خاتون ہیں ۔ وہ اگرچہ ان پڑھ ہیں لیکن قرآن پڑھنا اور پڑھانا ان کا عمر بھر محبوب ترین مشغلہ رہا ہے ۔ قرآن سے ان کے شغف کا یہ عالم ہے کہ 1985ءمیں انھو ں نے تقریباً ستر سال کی عمر میں اصرار کر کے اپنی پوتیوں سے اردو پڑھنا سیکھی ۔ پو تیا ں کالج میں پڑھتی تھیں اور مذاق کرتی تھیں ” دادی اماں اب آپ اردو پڑھ کر کیا کریں گی؟“ وہ جواب دیتیں کہ قرآن کو ترجمے کے ساتھ سمجھنا چاہتی ہوں ۔ چنا نچہ انھوں نے واقعی اردو پڑھنا سیکھ لیا اور دوسال میں پورا قرآن پاک ترجمے کے ساتھ ختم کر لیا ۔ خدا کا کرنا 1987ءمیں مہر جان کی بائیں آنکھ میں درد شروع ہو گیا جو بڑھتا چلا گیا ۔ 1988 ءمیں موصوفہ اپنے دوسرے بیٹے محمد نذیر ( سرکا ری ملازم، کالے پل، کرا چی ) کے پا س چلی گئیں۔ وہا ں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ آنکھ میں کالا مو تیا اتر آیا ہے اس لیے آپریشن نہیں ہو سکتا ۔ جلد ہی دوسری آنکھ بھی اسی کیفیت سے دوچار ہو گئی تو 1991 ءمیں الشفاءاسپتال راولپنڈی میں دائیں آنکھ کا آپریشن ہوا لیکن بینائی میں چنداں فرق نہ پڑا اور ایک سال بعد دونوں آنکھوں کا نور کافور ہو گیا ۔ مہرجان کی دنیا اندھیر ہو گئی لیکن انھیں سب سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ وہ قرآن کی تلاوت اور زیارت سے محروم ہوگئی ہیں ۔ اس تصور نے انہیں ہلکان کردیا وہ ماہی بے آب کی طر ح تڑپتی رہتیں کیونکہ کلام پاک کی نعمت ان سے چھن گئی تھی ۔ انھوں نے رو رو کر اپنے بیٹے کےپٹن محمد صدیق سے التجا کی کہ وہ انھیں کسی لائق ڈاکٹر کے پاس لے جا ئے اور علا ج کرائے تا کہ بینائی کی بحالی کی کوئی صورت نکل سکے ۔ ایک روز کےپٹن صدیق انھیں راولپنڈی کے الشفاءآئی سنٹر میں لے آئے اور وہاں اسپیشلسٹ ڈاکٹروں سے ان کی آنکھوں کا معائنہ کروایا ۔ سب کا بالاتفاق فیصلہ تھا کہ آنکھوں کی بینائی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور اب اس کی بحالی کا ہر گز امکان نہیں ۔ سب ڈاکٹروں نے مہر جان بی بی کو صبر کی تلقین کی اور اللہ سے دعا کرنے کا مشورہ دیا ۔ لیکن مہر جان کا اصرار تھا کہ ہر قیمت پر ان کا علا ج کر ایا جا ئے ، وہ بضد رہتیں کہ انہیں کسی دوسرے ڈاکڑ کے پاس لے جایا جائے ۔ چنا نچہ ماں کی آہوزاری اور اصرار سے متاثر ہو کر کےپٹن محمد صدیق انہیں فوجی فاﺅنڈیشن اسپتال مورگاہ ( پنڈی ) لے گئے ۔ یہا ں بھی سب ڈاکٹروں نے مکمل معائنے کے بعد یہی ما یو س کن رپورٹ دی کہ دماغ میں بینا ئی کا سر چشمہ خشک ہو گیا ہے اور اب اس کی بحالی کسی صورت بھی ممکن نہیں ۔ 1998 ءمیں مو ضع گورامیں آئی کیمپ لگا۔ ملک کے مختلف اسپتالو ں سے معروف ماہرین امراض چشم یہاں جمع ہوئے ۔ ان میں ڈاکٹر محمد منظور ملک (ملتان آئی کلینک ) ڈاکڑ محمد ایاز ( واپڈا اسپتال راولپنڈی ) ڈاکٹر محمد اجمل اور ڈاکٹر حمید (شیخ زید اسپتال ، لاہور) شامل تھے ۔ اما ں مہر جان کو کیمپ میں لایا گیا ۔ وہ سب ڈاکٹروں سے فرداً فرداً ملیں اور اضطراب اور اصرار کے ساتھ درخواست کی کہ ان کی آنکھو ں کا علا ج کیا جائے ۔ وہ تکرار کے ساتھ کہتی تھیں ”اللہ مجھے بینائی کی نعمت دوبارہ ضرور فرمائے گا۔ میری زندگی کی سب سے بڑی تمنا یہی ہے کہ میں قرآن پڑھتی رہوں اور جب دنیا سے کوچ کروں تو میرے لب قرآن کی تلا وت کر رہے ہوں ۔ “ لیکن کسی بھی ڈاکٹر نے ان کو امید کی بشارت نہ دی۔ سب نے تاسف اور دکھ کے ساتھ انھیں بتایا کہ ان کی بینائی کے سوتے خشک ہو چکے ہیں ۔ جن کی بحالی کے دور دور تک امکانات نہیں ۔ ڈاکٹر منظور ملک نے بتایا کہ جب وہ اماں مہر جان کی آنکھو ں کا معائنہ کررہے تھے تو وہ درود پا ک کا ورد کر رہی تھی اور یقین و اعتما د سے کہہ رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں روشن کر دے گا 
1999ءکا رمضان آیا تو مہر جان کی بے قراری غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ۔ ان کا زندگی بھر کامعمو ل تھا کہ وہ خصوصاً رمضان المبارک میں تلا وت کا غیر معمولی اہتمام کرتیں اور کئی بار قرآن پاک ختم کر لیتیں تھیں ، لیکن بینائی کے خاتمے نے انھیں زندگی کے سب سے بڑے لطف اور راحت سے دور کر دیا تھا۔ تب انھو ں نے اپنی محرومی کا مداوا عجیب و غریب طریقے سے کیا ۔ عشق نے محبوب سے ملا قات کا نیا ڈھنگ ایجا د کر لیا ، اماں مہر جا ن نے ایسا قرآن منگوایا جس کے ہر صفحے پر ابھری ہوئی تیرہ سطر یں تھیں ۔ وہ یہ قرآن پا ک گود میں رکھتیں ، اسے کھولتیں ، بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر ایک سطر پر انگلی پھیر دیتیں ، اور تیر ہ بار بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر صفحہ مکمل کر لیتیں....یو ں اس طریقے کے ذریعے 1999 ئ کے رمضان میں انھو ں نے دوبار قرآن پاک ختم کر لیا ۔ اس رمضان میں اماں مہر جان کو کئی بار خواب آیا کہ ان کی بینائی لوٹ آئی ہے ، لیکن جب وہ نیند سے بیدار ہوتیں تو ماحول بدستور تاریک پاتیں ۔ تب رو رو کر آہ و زاری کر تیں، اللہ سے دعائیں کرتیں کہ الہٰی میری بینائی بحال کر دیجئے تاکہ میں قرآن کے الفاظ دیکھ اور پڑھ سکو ں ۔ اس طر ح رمضان بھی گزر گیا ، عیدا لفطر آگئی ، گھر میںقریب و جوار کے سارے رشتے دار اکٹھے ہو ئے لیکن اما ں مہر جان کے لیے کسی کو دیکھنا ممکن نہ تھا ، تاہم وہ آوازوں سے سب کو پہچانتی اور سب کا حال احوال پو چھتی تھیں ۔ 1999 ءکی عیدا لاضحٰی کے موقع پر سردار غلام جیلا نی اپنے گا ﺅ ں گئے تو اما ں مہر جان نے انہیں بتایا ”پچھلے رمضان کے بعد شوال گزر ا، ذیقعد آیا ۔ ایک رات میں سوئی ہوئی تھی کہ خواب میں آواز آئی ، تمہاری بینائی بحال کر دی گئی ہے ۔ میں خوشی سے نہال ہو گئی ۔ بیدار ہو ئی تو اندازہ ہوا کہ فجر کا وقت ہو رہا ہے ۔ وضو کیا، نماز پڑھنے لگی تو آنکھوں کے سامنے روشنی محسوس ہوئی مجھے جائے نماز نظر آرہی تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر میں کمرے سے باہر صحن میں آئی تو ارد گرد کے مکا نا ت دکھائی دینے لگے ۔ ” میں بے پایا ں خوشی سے سر شار ہوگئی لیکن میں نے ضبط کیا اور خاموش رہی ۔ طلو ع آفتا ب کے آثار واضح ہوئے تو مجھے ہر چیز نمایا ں طور پر نظر آنے لگی۔ گر دو نواح کے پہاڑ ، درخت ، آنے جانے والے لو گ سب دکھائی دینے لگے ....میں نے سو چا ” یہ کوئی خوا ب تو نہیں؟ “ لیکن خیال آیا کہ یہ خواب نہیں“ حقیقت ہے ۔ میرے مالک نے میری التجائیں سن لی ہیں اور قرآن پاک کی برکت سے مجھے کھوئی ہوئی بینائی کی بے مثال نعمت دوبارہ مل گئی ہے ۔ تب میں دوبارہ اپنے کمرے میں آئی ۔ قرآن پاک مجھے دور سے نظر آگیا ۔ میں نے دوڑ کر اسے اٹھا لیا ، سینے سے لگایا ، خوب چوما اور پھر کھول کر دیکھا تو اس کے مبارک حروف میرے سامنے جگمگا رہے تھے .... اب میں خو شی سے رونے لگی اور قرآن کو والہانہ انداز سے چومنے لگی .... ” میرے رونے کی آواز سن کر میری چھوٹی بہو کر یم جان بھا گ کر آئی اور پو چھا ’ کیا بات ہے ‘ خیر تو ہے ؟ ‘ میں نے مسرت انگیز سسکیا ں لیتے ہوئے اسے بتایا کہ دیکھو میری آنکھیں ٹھیک ہو گئی ہیں ‘ میری بینائی لو ٹ آئی ہے اور اب میں باقاعدہ دیکھ کر قرآن پڑھ رہی ہوں ۔ کریم جان بھی خوشی اور تعجب سے نہال ہوگئی۔ اس نے زور زور سے آوازیں دے کر گھر کے سب افرا د کو بلا یا اور انہیں اس معجزے کی اطلاع دی ۔ سب حیران اور مبہو ت تھے اور اللہ کی حمد و ثنا کرنے لگے ۔ جلدہی یہ اطلا ع سارے گاﺅں میں پھیل گئی اور سب لوگ آکر مجھے مبارک باد دینے لگے ۔ سب قرآن پاک کے اس معجزے پر حیران بھی تھے اور مر عوب بھی .... بینائی کی بحالی پر میں نے خو ب کسر نکالی اور چند دنوں میں قرآن پاک ختم کر لیا ۔ “ 
مہر جان کی مجمو عی صحت بالکل ٹھیک ہے البتہ عمر کی نسبت سے ضعف بڑھ گیا ہے ۔ اب وہ پہلے کی طر ح بچو ں کو قرآن نہیں پڑھاتیں لیکن دن کا بیشتر حصہ اس عظیم اور زندہ کتا ب کی تلاوت میں گزارتی ہیں ۔

The King and Magician

Posted by Unknown on 03:54 with No comments

بادشاہ اور جادوگر

مروی ہے کہ پہلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا ، جب اس کا جادوگر بوڑھا ہوا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس ایک لڑکا بھیج ، جسے میں جادو سکھادوں ، بادشاہ نے ایک لڑکا مقرّر کردیا ، وہ جادو سیکھنے لگا ، راہ میں ایک راہب رہتا تھا ، اس کے پاس بیٹھنے لگا اور اس کا کلام اس کے دلنشین ہوتا گیا ، اب آتے جاتے اس نے راہب کی صحبت میں بیٹھنا مقرّر کرلیا ، ایک روز راستہ میں ایک مہیّب جانور مِلا ، لڑکے نے ایک پتھر ہاتھ میں لے کر یہ دعا کی کہ یارب اگر راہب تجھے پیارا ہو تو میرے پتھر سے اس جانور کو ہلاک کردے ، وہ جانور اس کے پتھر سے مر گیا ، اس کے بعد لڑکا مستجاب الدعوۃ ہوا اور اس کی دعا سے کوڑھی اور اندھے اچھے ہونے لگے ، بادشاہ کا ایک مصاحب نابینا ہوگیا تھا ، وہ آیا لڑکے نے دعا کی وہ اچھا ہوگیا اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آیا اور بادشاہ کے دربار میں پہنچا ، اس نے کہا تجھے کس نے اچھا کیا ،کہا میرے رب نے ، بادشاہ نے کہا میرے سوا اور بھی کوئی رب ہے ، یہ کہہ کر اس نے اس پر سختیاں شروع کیں ، یہاں تک کہ اس نے لڑکے کا پتا بتایا ، لڑکے پر سختیاں کیں اور اس نے راہب کا پتہ بتایا ، راہب پر سختیاں کیں اور اس سے کہا اپنا دین ترک کر ، اس نے انکار کیا تو اس کے سر پر آرا رکھ کر چِروادیا ، پھر مصاحب کو بھی چروادیا ، پھر لڑکے کو حکم دیاکہ پہاڑ کی چوٹی سے گرادیا جائے ، سپاہی اس کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے ، اس نے دعا کی ، پہاڑ میں زلزلہ آیا سب گر کر ہلاک ہوگئے ، لڑکا صحیح و سلامت چلا آیا ، بادشاہ نے کہا سپاہی کیا ہوئے ، کہا سب کو خدا نے ہلاک کردیا ، پھر بادشاہ نے لڑکے کو سمندر میں غرق کرنے کے لئے بھیجا ، لڑکے نے دعا کی ، کشتی ڈوب گئی ، تمام شاہی آدمی ڈوب گئے ، لڑکا صحیح و سلامت بادشاہ کے پاس آگیا ، بادشاہ نے کہا وہ آدمی کیا ہوئے ، کہا سب کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا اور تو مجھے قتل کر ہی نہیں سکتا جب تک وہ کام نہ کرے جو میں بتاؤں ، کہا وہ کیا ؟ لڑکے نے کہا ایک میدان میں سب لوگوں کو جمع کر اور مجھے کھجور کے ڈھنڈ پر سولی دے ، پھر میرے ترکش سے ایک تیر نکال کر بسم اللہ رب الغلام کہہ کر مار ، ایسا کرے گاتو مجھے قتل کرسکے گا ، بادشاہ نے ایسا ہی کیا ، تیر لڑکے کی کنپٹی پر لگا ، اس نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور واصلِ بحق ہوگیا ، یہ دیکھ کر تمام لوگ ایمان لے آئے اس سے بادشاہ کو اور زیادہ صدمہ ہوا اور اس نے ایک خندق کھدوائی اور اس میں آ گ جلوائی اور حکم دیا جو دین سے نہ پھرے ، اسے اس آ گ میں ڈال دو ، لوگ ڈالے گئے ، یہاں تک کہ ایک عورت آئی ، اس کی گود میں بچّہ تھا ، وہ ذرا جھجکی ، بچّہ نے کہا اے ماں صبر کر ، نہ جھجک تو سچّے دین پر ہے ، وہ بچّہ اور ماں بھی آ گ میں ڈال دیئے گئے ۔ یہ حدیث صحیح ہے مسلم نے اس کی تخریج کی ، اس سے اولیاء کی کرامتیں ثابت ہوتی ہیں ۔ آیت میں اس واقعہ کا ذکر ہے ۔

Fajar's Prayer

Posted by Unknown on 03:46 with No comments
فجر کی نماز
وہ ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوا لیکن وہ خود خدا کو بھی نہیں مانتا تھا ۔بچپن سے پڑھائی میں لائق ، عام امریکی نوجوانوں کے برعکس سنجیدہ علمی انسان ۔ محض 27 برس کی عمر میں پی ایچ ڈی کرکے یونیورسٹی میں پڑھانے لگا۔ اس کا نام جیفری لینگ تھا

پھر کیا ہوا کہ چالیس برس کی عمر کے بعد ایک بار بار آنے والے خواب سے متعلق عجیب وغریب واقعات کے بعد ، اور بہت جستجو، تحقیق اور برسوں مطالعے کے بعد اسلام لے آئے ۔

اسلام لا چکے تو نمازوں کی فکر ہوئی ۔سب نمازیں وقت پہ ہوتیں مگر فجر کا معاملہ ٹیڑھا تھا ۔46 برس سے سات بجے اٹھنے کی عادت تھی ۔پانچ بجے کیسے جاگتے ؟
اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ  "میں نے الارم والی گھڑیاں لیں ۔ ایک گھڑی سب سے پہلے وقت پر الارم لگا کر سرہانے کے میز پر رکھی ہوتی ۔
دوسری پانچ منٹ بعد کے الارم پر سیٹ کر کے چند قدم دور ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھی ہوتی تیسری واش روم کے دروازے کی دہلیز پر ۔
پہلا الارم سوئے سوئے ہاتھ مارنے سے بند ہو جاتا ، دوسرے کو بستر سے نکل کر بند کر کے واپس آکر لیٹ جاتے ، تیسرے الارم پہ واش روم کے دروازے تک چل کر جانے سے نیند اڑ جاتی ۔ اور اکثر وقت پہ وضو بھی ہو جاتا اور نماز بھی ۔

میں نے یہ کتاب بار بار پڑھی ، ہر بار مجھے خود پر اپنی نادانی پر رونا آیا ۔
اسلام کی جس نعمت کو ڈاکٹر جیفری لینگ نے اتنے سالوں کی جدو جہد کے بعد حاصل کیا ، وہ ہماری جھولی میں اللہ تعالی نے پہلی سانس سے پہلے ہی ڈال دی تھی کہ ہمارے والدین الحمد للہ مسلمان ہیں ۔
فجر کی نماز کی جس نعمت کو پانے کے لیے ڈاکٹر جیفری کو اتنی محنت کرنا پڑی ہمارے لیے وہ نعمت روز بانہیں پھیلائے دہلیز پہ آتی ہے ۔
ڈاکٹر جیفری کو جگانے والا کوئی نہ تھا
ہمارے والدین، باری باری محبت سے ہمیں جگانے آتے ہیں ڈاکٹر جیفری کے علاقے میں کوئی مسجد نہ تھی کہ اذان کی آواز سے آنکھ کھلتی
ہمارے گھر کے پاس بہت ساری مسجدیں ہیں جن کے موذن باری باری پکارتے ہیں

الصلوہ خیر من النوم،الصلوہ خیر من النوم
نماز نیند سے بہتر ہے،نماز نیند سے بہتر ہے


مگر
عجیب بات ہے کہ
ہمارے لیے فجر کی نماز بہت مشکل ہے