Showing posts with label Istighfar. Show all posts
Showing posts with label Istighfar. Show all posts

Monday, 29 April 2013

استغفار کی فضیلت

ایک اور حکایت

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے کسی نے قحط سالی کی شکایت کی۔

فرمایا: استغفار کرو 

دوسرے نے تنگدستی کی شکایت کی

فرمایا: استغفار کرو

تیسرے آدمی نے اولاد نہ ہونے کی شکایت کی

فرمایا: استغفار کرو

چوتھے نے شکایت کی کہ پیداوارِ زمین میں کمی ہے

فرمایا: استغفار کرو

پوچھا گیا کہ آپ نے ہر شکایت کا ایک ہی علاج کیسے تجویز فرمایا؟

تو انہوں یہ آیت تلاوت فرمائی

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا

يُرْسِلِ السَّمَاء عَلَيْكُم مِّدْرَارًا


وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا

 (سورۃ نوح: 10-11-12) 

ترجمہ:۔ ”استغفار کرو اپنے رب سے بے شک وہ ہے، بخشنے والا، وہ کثرت سے تم پر بارش بھیجے گا اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہارے لئے باغات بنادے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری فرمادے گا“۔

واضح ہے کہ استغفار پر اللہ تعالیٰ نے جن جن انعامات کا اس آیت میں اعلان فرمایا ہے تو ان چاروں کو انہی کی حاجات درپیش تھیں، لہٰذا حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے سب کو استغفار ہی کی تلقین فرمائی۔

استغفار کی فضیلت

:امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا ایک سبق آموز واقعہ

ایک بار امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سفرمیں تھے، ایک قصبے میں رات ہو گئی تو نماز کے بعد مسجد میں ہی ٹھہرنے کا ارادہ کر لیا۔ اُن کی عاجزی و انکساری نے یہ گوارا نہ کیا کہ لوگوں کو اپنا تعارف کروا کر خوب آؤ بھگت کروائی جائے۔ مسجد کے خادم نے امام کو نہ پہچانا اور اُن کو مسجد سے باہر نکلنے کا کہا، امام نے سوچا کہ مسجد کے دروازے پر سو جاتا ہوں، لیکن خادم نے وہاں سے بھی کھینچ کر نکالنا چاہا۔ 

یہ تمام منظر ایک نانبائی نے دیکھ لیا جو مسجد کے قریب ہی تھا، اُس نانبائی نے امام کو اپنے گھر رات ٹھہرنے کی پیشکش کر دی جبکہ وہ امام کو جانتا بھی نہیں تھا۔ امام جب اُس کے گھر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ نانبائی کام کے دوران بھی کثرت سے استغفار (استغفر اللہ) کر رہا ہے۔

امام نے استفسار کیا: کیا تمہیں اس قدر استغفار کرنے کا پھل ملا ہے؟

نانبائی نے جواب دیا: میں نے جو بھی مانگا اللہ مالکُ المُلک نے عطا کیا۔

 ہاں ایک دعا ہے جو ابھی تک قبول نہیں ہوئی۔

امام نے پوچھا: وہ کونسی دعا ہے؟

نانبائی بولا: میرے دل میں کچھ دنوں سے یہ خواہش مچل رہی ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ملنے کا شرف حاصل کروں۔ 

امام فرمانے لگے: میں ہی احمد بن حنبل ہوں۔ اللہ نے نا صرف تمہاری دُعا سُنی بلکہ مجھے تمہارے دروازے تک کھینچ لایا۔

الجمعہ میگزین، والیم 19، جلد 7۔

آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللّهِ وَمَلآئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ وَقَالُواْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ.285
رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ.286

ترجمہ
وہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر ایمان لائے (یعنی اس کی تصدیق کی) جو کچھ ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا اور اہلِ ایمان نے بھی، سب ہی (دل سے) ﷲ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، (نیز کہتے ہیں:) ہم اس کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان بھی (ایمان لانے میں) فرق نہیں کرتے، اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے ہیں: ہم نے (تیرا حکم) سنا اور اطاعت (قبول) کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش کے طلب گار ہیں اور (ہم سب کو) تیری ہی طرف لوٹنا ہے.285
ﷲ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا، اس نے جو نیکی کمائی اس کے لئے اس کا اجر ہے اور اس نے جو گناہ کمایا اس پر اس کا عذاب ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر بیٹھیں تو ہماری گرفت نہ فرما، اے ہمارے پروردگار! اور ہم پر اتنا (بھی) بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے ہمارے پروردگار! اور ہم پر اتنا بوجھ (بھی) نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں، اور ہمارے (گناہوں) سے درگزر فرما، اور ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا کارساز ہے پس ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما.286
فضیلت
سورہٴ بقرہ کی آخری دو آیات کی حدیث میں بڑی فضیلت آئی ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جوشخص سورۃ بقرہ کی آخری دو آیتیں رات کو پڑھ لیتا ہے تو یہ اس کو کافی ہو جاتی ہیں (صحیح بخاری)دوسری حدیث میں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج کی رات جو تین چیزیں ملیں ان میں سے ایک سورۃ بقرہ کی یہ دو آخری آیات بھی ہیں
(صحیح مسلم)
کئی روایات میں یہ وارد ہے کہ اس سورۃ کی آخری آیات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک خزانے سے عطا کی گئیں جو عرش الٰہی کے نیچے ہے۔ اور یہ آیات آپ کے سوا کسی اور نبی کو نہیں دی گئیں۔
(مختصرازتفسیر احسن البیان)

Sunday, 28 April 2013


رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَة حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
ترجمہ :اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں نیکی دے ، اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور عذاب جہنم سے نجات دے۔ 
(البقرة2/201)
انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر اوقات کونسی دعا مانگا کرتے تھے؟
انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر یہی دعا مانگتے۔
صحیح بخاری ومسلم﴿

Tuesday, 23 April 2013

کبیرہ گناہوں کی بخشش کیلئے

” سُبحَانَ ذِی المُلکِ وَالمَلَکُوتِo سُبحَانَ ذِی العِزَّةِ وَالجَبَرُوتِo سُبحَانَ الحَیِّ الَّذِی لَا یَمُو تُ ط سُبُّوح قُدُّوس رَبُّ المَلٰٓئِکَةِ وَالرُّوحِ o 

(کنزالعمال جلد اول )

فضیلت:
جو شخص اسے روزانہ ایک بار
یا مہینے میں ایک بار
یا سال میں ایک با ر
یا ساری عمر میں ایک بار پڑھے
تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ بخش دیتا ہے۔
خواہ سمندر کی جھا گ یا وسیع میدان کی ریت کے برابر ہو ں۔
خوا ہ وہ شخص جہا د سے بھا گ آنے کا مجرم ہو ۔

Sunday, 24 March 2013

أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبِ إِلَيْهِ

تمام گناہوں کی بخشش

حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص سوتے وقت یہ استغفار تین بار پڑھ لے تو اللھ تعالٰی اس کے تمام گناہ بخش دیتا ہے، خواہ سمندر کی جھا گ
یا وسیع میدان کی ریت کے برابر ہوں
یا ستاروں کی تعداد کے برابر
یا ریت کے بڑے ٹیلے کے برابر
یا دنیا کے دنوں کے برابر ہوں۔
انشاءاللھ

Monday, 4 February 2013

Syed-Ul-Istighfar Ki Fazeelat

Posted by Unknown on 19:49 with No comments

                                       سیّد الا ستغفار
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔
جو شخص یقین کی حالت میں شام کے وقت یہ دعا پڑھے اور اسی رات فوت ہو جاۓ تو وہ شخص جنت میں جاۓ گا۔
اور اگر صبح کے وقت پڑھے اور شام تک فوت ہو جاۓ تو وہ بھی جنت میں جاۓ گا۔
گناہوں کی بخشش اور مغفرت کے لیے یہ استغفار بہت موٓثر ہے۔جو شخص  اس استغفار کو روزانہ ایک بار پڑھنے کا معمول بنا لے، اگر ہو سکے تو ہر نماز کے بعد ایک مرتبہ پڑھ لے تو اللہ تعالٰل اس کے تمام گناہ معاف کر دے گا، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔
اگر کوئ اس استغفار کو کثرت سے پڑھتا رہے تو اس سے ہر بُرائ ختم ہو جاۓ گی اور اس کا دل نیکیوں کی طرف مائل ہو جاۓ گا۔ اللہ کی عبادت میں اس کا دل خوب لگے گا اور سکونِ قلب میسر آۓ گا۔ اللہ کے حضور سچّی توبہ کرنے کے بعد اس استغفار کو کثرت سے پڑھنا قبولِ توبہ کی دلیل ہے۔