Showing posts with label Sins. Show all posts
Showing posts with label Sins. Show all posts

Tuesday, 18 June 2013

Sin Can Not Harm You

Posted by Unknown on 04:11 with No comments
گناہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا
 
ایک آدمی ابراہیم بن ادہم رحمه الله کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا ابواسحاق! میں اپنے نفس پر بے حد زیادتی کرتاہوں،مجھے کچھ نصیحت کیجئے جو میرے لیے تازیانہء اصلاح ہو ۔
ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا: اگر تم پانچ خصلتوں کو قبول کرلو اور اس پرقادر ہوجاؤ تو گناہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔
آدمی نے کہا: بتائیے وہ پانچ خصلتیں کیا ہیں ؟
ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا: جب تم اللہ کی نافرمانی کرنا چاہو تو اس کے رزق میں سے مت کھاؤ۔
آدمی نے کہا: تو پھر میں کہاں سے کھاؤں جبکہ زمین کی ساری اشیاءاسی کی پیدا کردہ ہیں ۔
ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا: اے شخص! کیا تجھے زیب دیتا ہے کہ تو اسی کے رزق سے کھائے اور اسی کی نافرمانی کرے؟
آدمی نے کہا : بالکل نہیں ….دوسری خصلت بتائیے
ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا: جب تم اللہ کی نافرمانی کرنا چاہو تو اس کی زمین میں مت رہو۔
آدمی نے کہا: یہ تو بڑامشکل معاملہ ہے ، پھررہوں گا کہاں ….؟
ابراہیم بن ادہم رحمه الله  نے فرمایا: اے شخص! کیا تجھے زیب دیتا ہے کہ تو اسی کا رزق کھائے ،اسی کی زمین پر رہے اور اسی کی نافرمانی کرے؟
آدمی نے کہا : بالکل نہیں ….تیسری خصلت بتائیے
ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا: ”جب تم اللہ کی نافرمانی کا ارادہ کرو جبکہ تم اسی کا رزق کھارہے ہو ،اسی کی زمین پر رہ رہے ہو تو ایسی جگہ چلے جاؤ جہاں وہ تجھے نہ دیکھ رہاہو “۔
ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا:اے شخص ! کیا تجھے زیب دیتا ہے کہ تم اسی کا رزق کھاؤ ،اسی کی زمین پر رہوپھر اسی کی نافرمانی کرو‘ جو تجھے دیکھ رہا ہے اور تیرے ظاہر وباطن سے آگاہ ہے؟
آدمی نے کہا : بالکل نہیں ، چوتھی خصلت بتائیے
ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا:جب موت کا فرشتہ تیری روح قبض کرنے آئے تو اس سے کہو کہ ذرا مہلت دو کہ خالص توبہ کرلوں اورنیک عمل کا توشہ تیار کرلوں ۔
آدمی نے کہا : (فرشتہ ) میری گزارش قبول نہیں کرے گا….
ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا:جب تم توبہ کرنے کے لیے موت کو مؤخر کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اور جان رہے ہو کہ موت کا فرشتہ آگیا تو ایک سیکنڈ کے لیے بھی تاخیر نہیں ہوسکتی ‘ تو نجات کی امید کیوں کر رکھتے ہو ….؟
آدمی نے کہا: پانچویں خصلت بتائیں
ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا:جب جہنم کے داروغے تجھے جہنم کی طرف لے جانے کے لیے آئیں تو ان کے ہمراہ مت جانا
آدمی نے کہا: وہ تومیری ایک نہ سنیں گے
ابراہیم بن ادہم رحمه الله نے فرمایا: توپھر نجات کی امید کیوں کر رکھتے ہو۔
آدمی نے کہا : ابراہیم ! میرے لیے کافی ہے ، میرے لیے کافی ہے ، میں آج ہی توبہ کرتا ہوں اوراللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی مغفرت کا سوال کرتاہوں۔ چنانچہ اس نے سچی توبہ کی اور اپنی پوری زندگی عبادت وریاضت میں گزارا ۔

Saturday, 30 March 2013


01. Associating anything with Allah

02. Murder

03. Practising magic

04. Not Praying

05. Not paying Zakat

06. Not fasting on a Day of Ramadan without excuse

07. Not performing Hajj, while being able to do so

08. Disrespect to parents

09. Abandoning relatives

10. Fornication and Adultery

11. Homosexuality(sodomy)

12. Interest(Riba)

13. Wrongfully consuming the property of an orphan

14. Lying about Allah and His Messenger

15. Running away from the battlefield

16. A leader's deceiving his people and being unjust to them

17. Pride and arrogance

18. Bearing false witness

19. Drinking Khamr (wine)

20. Gambling

21. Slandering chaste women

22. Stealing from the spoils of war

23. Stealing

24. Highway Robbery

25. Taking false oath

26. Oppression

27. Illegal gain

28. Consuming wealth acquired unlawfully

29. Committing suicide

30. Frequent lying

31. Judging unjustly

32. Giving and Accepting bribes

33. Woman's imitating man and man's imitating woman

34. Being cuckold (A word used to describe a married man who's wife is sleeping with other men)

35. Marrying a divorced woman in order to make her lawful for the husband

36. Not protecting oneself from urine (not cleaning properly)

37. Showing-off

38. Learning knowledge of the religion for the sake of this world and concealing that knowledge

39. Bertrayal of trust

40. Recounting favours

41. Denying Allah's Decree

42. Listening (to) people's private conversations

43. Carrying tales

44. Cursing

45. Breaking contracts

46. Believing in fortune-tellers and astrologers

47. A woman's bad conduct towards her husband

48. Making statues and pictures

49. Lamenting, wailing, tearing the clothing, and doing other things of this sort when an affliction befalls

50. Treating others unjustly

51. Overbearing conduct toward the wife, the servant, the weak, and animals

52. Offending one's neighbour

53. Offending and abusing Muslims

54. Offending people and having an arrogant attitude toward them

55. Trailing one's garment in pride

56. Men's wearing silk and gold

57. A slave's running away from his master

58. Slaughtering an animal which has been dedicated to anyone other than Allah

59. To knowingly ascribe one's paternity to a father other than one's own

60. Arguing and disputing violently

61. Witholding excess water

62. Giving short weight or measure

63. Feeling secure from Allah's Plan

64. Offending Allah's righteous friends

65. Not praying in congregation but praying alone without an excuse (only for males)

66. Persistently missing Friday Prayers without any excuse

67. Usurping the rights of the heir through bequests

68. Deceiving and plotting evil

69. Spying for the enemy of the Muslims

70. Cursing or insulting any of the Companiions of Allah's Messenger


01. اللہ کے ساتھ شرک

02. قتل

03. جادو کرنا

04. نماز نہ پڑھنا

05. زکوة ادا نہ کرنا

06.رمضان میں بغیر کسی شرعی عذر کے روزہ نہ رکھنا

07.استطاعت رکھتے ہوئے فریضہ حج ادا نہ کرنا

08. والدین کی توہین

09. قطع رحمی کرنا

10. زنا کرنا

11. ہم جنس پرستی

12. سود (ربا)

13. ایک یتیم کی جائیداد ناحق طریقے سے ہڑپ کرنا

14. اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں جھوٹ بولنا

15. میدان جنگ سے دور رہنا

16. رہنما کا اپنے لوگوں کو دھوکہ دینا اور ان پر ظلم کرنا

17. فخر اور تکبر

18. جھوٹی گواہی دینا

19. خمر پینا (شراب)

20. جوا

21. پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا

22. جنگ کے مال سے چوری

23. چوری
 

24. ہائی وے چوری

25. جھوٹے حلف اٹھانے

26. جبر

27. غیر قانونی طور پر مال حاصل کرنا

28. ناحق طریقے سے حاصل کیا گیا مال ہڑپ کرنا

29. خودکشی

30. بار بار جھوٹ بولنا
 
31. انصاف کے بغیر فیصلہ کرنا

32. رشوت لینا اور دینا

33. عورت کا مرد سے مشابہت اختیار کرنا اور مرد کا عورت کی مشابہت اختیار کرنا

34. قرم ساق ہونا (یہ لفظ ایک شادی شدہ مرد کے لیے بولا جاتا ہے جس کی بیوی کسی غیر مرد کے ساتھ سوئی ہو)

35. عورت کے سابقہ شوہر سے حلالہ کے لیے مطلقہ عورت سے شادی کرنا

36. استنجاء کرتے ہوئے پیشاب سے نہ بچنا (صفائی مناسب طریقے سے نہ کرنا) 

37. دکھاوا کرنا

38. اس دنیا کی خاطر دین کا علم سیکھنا اور اس علم کو پوشیدہ رکھنا

39. کسی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا

40. احسان جتلانا

41. اللہ کے حکم سے انکار
کرنا

42. لوگوں کی نجی بات چیت چُھپ کر سننا

43. یہاں کی بات وہاں کرنا،لگائی بجھائی کرنا

44. کوسنا

45. معاہدے توڑنا

46. نجومیوں اور آسٹرولوجر پر یقین کرنا

47. ایک عورت کا اپنے شوہر سے برے اخلاق سے پیش آنا

48. تصاوير اور مجسمے بنانا

49. مصیبت ملنے پر غم سے چلانا، نوحہ کرنا، کپڑے پھاڑنا، اور اس طرح کی دوسری حرکتیں کرنا

50. دوسروں کے ساتھ ناانصافی سے پیش آنا

51. بیوی، ملازم، کمزور، اور جانوروں کے ساتھ مغرورانہ برتاؤ

52. ایک پڑوسی کو اذیت دینا

53. مسلمانوں کوسنا اور اذیت دینا

54. لوگوں کو اذيت دینا اور ان سے ایک مغرورانہ رویہ رکھنا

55. فخر میں لباس کا زمین پر گھسیٹنا

56. مردوں کا ریشم اور سونا پہننا

57. غلام کا اپنے مالک سے دور بھاگ جانا

58. غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرنا

59. کسی شخص کا جان بوجھ کر اپنے آپ کو کسی اور کی اولاد منسوب کرنا جبکہ وہ اپنے والد کو جانتا بھی ہو۔

60. کسی تنازعے پر بحث اور تشدد کرنا

61. زائد پانی کو روک لینا(کھیتوں وغیرہ میں جان بوجھ کر)

62. ناپ تول میں کمی

63. اللہ کی منصوبہ بندی سے خود کو محفوظ سمجھنا

64. اللہ کے نیک دوستوں سے ناراضگی برتنا،ہتک آمیز الفاظ استعمال کرنا

65. بغیر کسی عذر کے جماعت کے بغیر اکیلے نماز پڑھنا (صرف مردوں کے لئے) 

66. مستقل کسی بھی عذر کے بغیر نماز جمعہ قضاء کرنا

67. مال ترکہ میں سے وارث کے حقوق غصب کرنا

68. دھوکہ دینا اور برائی کے لیے سازشیں کرنا

69. مسلمانوں کے دشمن کے لئے جاسوسی کرنا

70. رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو لعن طعن کرنا۔

Saturday, 16 February 2013

گناہ کبیرہ کی معافی کا طریقہ۔ ۔ ۔
گناہ کی دو صورتیں ہیں۔۔۔
  ایک بندے کا وہ گناہ جو خالص اس کے اور اس کے پروردگار کے معاملہ میں ہو کہ کوئی فرض نماز چھوڑ دی ، کسی دن کا روزہ ترک کر دیا۔ اس قسم کے گناہوں میں اتنا ہی کافی ہے کہ آدمی سچے دل سے توبہ کرے یعنی جو کر چکا اس پر نادم ہو، بارگاہ الٰہی میں گڑ گڑا کر اس کی معافی چاہیے اور آئندہ کے لیے اس گناہ سے باز رہنے کا عزم بالجزم قطعی پختہ ارادہ کرلے، مولیٰ تعالیٰ کریم ہے چاہے تو اسے معاف کر دے اور درگزر فرمائے۔ 
 دوسرے قسم کے وہ گناہ ہیں جو بندوں کے باہمی معاملات میں ہوں کہ آدمی کسی کے دین آبرو جان، مال ، جسم یا صرف قلب کو آزار و تکلیف پہنچائے جیسے کسی کو گالی دی، مارا، براکہا، غیبت کی یا کسی کا مال چرایا، چھینا، لوٹا، رشوت، سود ، جوئے میں لیا۔ ایسی صورت میں جب تک بندہ معاف نہ کرے معاف نہیں ہوتا۔ یہ معاملہ حقوق العباد (بندوں کے حقوق) کا ہے اور اگر چہ اللہ تعالیٰ ہمارا ہمارے جان و مال و حقوق سب کا مالک ہے جسے چاہے ہمارے حقوق چھوڑ دے مگر اس کی عدالت کا قانون یہی ہے کہ اس نے ہمارے حقوق کا اختیار ہمارے ہاتھ میں رکھا ہے۔ بغیر ہمارے بخشے معاف ہو جانے کی شکل نہ رکھی لہٰذا اس قسم کے گناہوں میں جن کا تعلق بندوں سے ہے، توبہ مقبول ہونے کے لیے اس کا معاف کرانا ضروری ہے کہ جب تک صاحب حق معاف نہ کرے گا، معافی نہ ملے گی اور پہلی صورت میں فرائض وواجبات کی قضا بھی لازم ہے جبکہ ان کی قضا ہو۔
گناہ کبیرہ کرنے والا مسلمان
گناہ کبیرہ کا مرتکب مسلمان ہے اور جنت میں جائے گا، خواہ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے اس کی مغفرت فرما دے یا حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے بعد اسے بخش دے یا اپنے کئے کی کچھ سزا پا کر بخشا جائے بہر حال وہ جنت میں جائے گا اور اس کے بعد کبھی جنت سے نہ نکلے گا۔

Gunahe Kabira...گناہ کبیرہ

Posted by Unknown on 22:45 with No comments
گناہ کبیرہ 
گناہ کبیرہ وہ گناہ ہے جس پر وعید آئی یعنی وعدہ عذاب دیا گیا۔ کبیرہ سے آدمی خالص توبہ استغفار کئے بغیر پاک نہیں ہوتا۔

قرآن و حدیث میں مذکور کبیرہ گناہ
قرآن و حدیث میں جن کبیرہ گناہوں کا ذکر آیا ہے ان میں سے کچھ یہ ہیں:۔ ۔ ۔
  ناحق خون کرنا، چوری کرنا، تیتم کا مال ناحق کھانا، ماں باپ کو ایذادینا، سود کھانا، شراب پینا،جھوٹی گواہی دینا، نماز نہ پڑھنا، روزئہ ماہ رمضان نہ رکھنا، زکوٰۃ نہ دینا، جھوٹی قسم کھانا،ناپ تول میں کمی بیشی کرنا،مسلمانوں سے ناحق لڑائی کرنا ، رشوت لینا یا دینا ،حکام کے روبر و چغلی کھانا، کسی مسلمان کی غیبت کرنا، قرآن شریف پڑھ کر بھول جانا، علمائے دین کی بے عزتی کرنا، خدا کی مغفرت سے نا امید ہونا، خدا کے عذاب سے بے خوف ہونا، فضول خرچی کرنا، کھیل تماشہ میں اپنا پیسہ اور وقت برباد کرنا، داڑھی منڈوانا، خود کشی کرنا۔

Sin And Its Types...

Posted by Unknown on 22:40 with No comments
گناہ اوراس کی اقسام
خدا اور رسول کی نافرمانی یعنی احکام شریعت پر عمل نہ کرنا گناہ اور معصیت ہے۔ گناہ کرنے والا گناہگار یا عاصی کہلاتا ہے۔ گناہ آدمی کو خداسے دور کرتا اور اسے ثواب سے محروم اور عذاب کا مستحق بناتا ہے، گناہ کی دو قسمیں ہیں، صغیرہ اور کبیرہ۔

 گناہ صغیرہ
گناہ صغیرہ وہ گناہ ہے جس پر شریعت میں کوئی وعید نہیں آئی یعنی اس کی کوئی خاص سزا بیان نہیں کی گئی ہے۔ آدمی کوئی نیکی، عبادت، صدقہ ، اطاعت والدین وغیرہ کرتا ہے تو اس کی برکت سے یہ گناہ زائل ہو جاتا ہے۔ جیسے حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو بندہ وضوئے کامل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیتا ہے۔ غرض یہ گناہ بلا تو بہ بھی معاف ہو جاتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ اس پر اصرار نہ ہو کہ گناہ صغیرہ اصرار سے گناہ کبیرہ بن جاتا ہے اور بلا تو بہ کئے اس کی معافی نہیں ہوتی۔