Showing posts with label Vegetables Benefits. Show all posts
Showing posts with label Vegetables Benefits. Show all posts

Thursday, 18 July 2013

The Benefits Of Cucumber

Posted by Unknown on 02:06 with No comments
"ککڑی کے فوائد۔۔۔۔"
ککڑی کے ٹکڑوں پر تھوڑی سی شکر اور لیموں نچوڑ کر کھائیں ۔۔۔۔ اس سے مثانے کی گرمی اور پیشاب کی جملہ بیماریوں میں فائدہ ہوتا ہے ۔۔۔
اگر آپ کے چہرے کی جلد موٹی اور بہت زیادہ چکنی ہے تو۔۔۔ ککڑی یا کھیرے کے ٹکڑے چہرے پررگڑیں پھر پانی سے دھولیں۔۔۔ تھوڑے ہی دنوں میں جلد کی چپچپاہٹ دور ہوجائےگی۔۔۔۔ککڑی چھلکے سمیت ہی کھانی چاہیے اس پر نمک نہ لگائیں۔۔۔

ککڑی میں پوٹاشیم زیادہ ہوتا ہے ۔۔۔۔ یہ بلڈ پریشر کو نارمل رکھتا ہے ۔۔۔۔اس کا جوس ہائی اور لو بلڈ پریشر میں فائدہ دیتا ہے ۔۔۔۔ککڑی میں سلیکون اور سلفر کی بھی زیادہ مقدار ہوتی ہے ۔۔۔۔ جو بالوں کو بڑھاتی ہے ۔۔۔۔ ککڑی کے جوس کو بالوں میں لگا کر تھوڑی دیر بعد دھو لیں تو بال گرنا بند ہوجائینگے ۔

Sunday, 30 June 2013

Benefits of Garlic

Posted by Unknown on 01:06 with No comments
لہسن کے فائدے

یہ شریانوں کے نقص کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
خون کے بہاو کو کنٹرول کرنے میں اہم ہوتا ہے۔

بہت کم کیسٹرآئل پایا جاتا ہے۔

یہ نزلہ زکام کو روکنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

یہ بیکٹیریا کی روک تھم میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ٹی بی . کی ٹریٹمنٹ میں مدد دیتا ہے۔

زخموں کے بڑھنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

یہ جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے۔

یہ آپ کے میٹابولزم سسٹم کو سہی کرتا ہے۔

یہ ہر طرح کے کینسر سے بننے والے سیلز کو روکتا ہے۔

یہ چھاتی کے کینسر کو روکتے ہے۔

گل بلیڈر کینسر کو روکتا ہے۔

پروسٹیٹ کینسر کو روکتا ہے۔

ہضم کرنے کے نظام کو بہتر کرتا ہے۔

انفیکشنس کو روکتا ہے۔

یہ جسم میں پیدا ہونے والے گھٹلیوں کو ختم کرتا ہے۔

ایپیتیٹ کو بڑھاتا ہے۔

پیراسائٹس کو کم کرتا ہے۔

کیٹاریکٹس مدد کرتا ہے۔

آرتھریٹس کو ٹریٹ کرنے میں مدد کرتے ہے۔

گلے کے انفکشن کو دور کرتا ہے۔

دانتوں کے درد کا خاتمہ ہوتا ہے۔

دانوں کو کم کرتا ہے۔

وارٹس کو مارتا ہے۔

ٹیٹر کی ٹریٹمنٹ میں مدد کرتا ہے۔

جلد کی بیماریوں کو دور کرتا ہے۔

اَدْرَک کے ساتھ ملایا جائے تو یہ دمہ کی روک تھم میں مدد کرتا ہے۔

کھانسی کو روکتا ہے۔

انسومنیا کو روکتا ہے۔

بڑھاپے کے اثرات کو کم کرتا ہے۔

کنڈیڈا البیکنس کو بڑھنے سے روکتا ہے۔

جسمانی قوت میں افزاء کرتا ہے۔

Thursday, 20 June 2013


اسلام آباد… لوما لنڈا یونیورسٹی کیلیفورنیا میں کی گئی حالیہ تحقیق کے مطابق سبزی خور افراد گوشت کھانے والوں کی نسبت لمبی عمر پاتے ہیں ۔ دوران تحقیق73ہزار308 افرد کا ڈیٹا مرتب کیا گیا جس کے مطابق سبزی خور افراد گوشت کھانے والوں کی نسبت12فیصد طویل عمر پاتے ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ سبزی کھانے والوں کو دل کی بیماریوں ، شوگر اور گردوں کے فیل ہونے کے امراض کے خدشات بھی نمایاں حد تک کم ہوتے ہیں جبکہ ایسے افراد میں موٹاپے کی شرح بھی کم ہوتی ہے۔

Wednesday, 5 June 2013

سبزیوں کا زیادہ استعمال فشار خون سمیت متعدد امراض سے بچاتا ہے۔ مگر ایک نئی تحقیق میں یہ دعوٰی کیا گیا ہے کہ اس سے موت کا خطرہ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

Tuesday, 16 April 2013

Garlic's Benefits For Health

Posted by Unknown on 06:46 with No comments
باورچی خانے کے اجزاء میں سے بہت سی چیزیں نظر انداز کی جاتی ہیں۔ اور بہت سے لوگ روز مرہ استعمال کے اجزاء کی مخفی فوائد سے لا علم ہوتے ہیں۔ لیکن یہ اجزاء سالوں سے استعمال کیے جاتے رہے ہیں کیونکہ لوگ ان کو روز مرہ کی ڈشز میں استعمال کرتے رہے ہیں۔ اگر آپ تاریخ پر نظر دوڑائیں آپکو معلوم ہو گا کہ پرانے لوگ ان اجزاء کو صحت کے فوائد کے لیے کھانوں میں استعمال کرتے تھے۔ ان کو روز مرہ کے کھانوں میں استعمال کرنا نہ صرف کھانوں کو لذت بخشتا ہے بلکہ آپکی جلد محفوظ رہتی ہے اور جسمانی اور ذہنی بیماریوں سے بچنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ کوئی بات نہیں اگر آپ ان اجزاء کو اپنے کھانوں میں شامل کر کے روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں آپ یقیناً ان اجزاء کو شامل کر کے لذت اور صحت کے فوائد سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
لہسن کچن میں استعمال ہونے والا ایک بہت اہم جزو ہے۔ ایشیا میں مسالیدار اور نمکین ڈشز میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ایک اہم جزو ہے۔ اور لوگ لہسن سے بنی ہوئی ڈشز کو بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ لہسن کی ناخوشگوار بو کی وجہ سے اسے ہاتھوں ہاتھ نہیں لیا جاتا لیکن اس کے اندر چھپے فوائد آپ کی صحت کے لیے بہترین ہیں۔ لہسن کے صحت کے فوائد میں جگر، دل اور مدافعتی نظام کا تحفظ اہم ہیں۔
لہسن پیاز کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور یہ وسط ایشیا میں 6،000 سال قبل سے استعمال میں رہا ہے۔ یہ طویل عرصے سے بحیرہ روم کے علاقے میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مصری لوگ ایک پیڈسٹل پر لہسن کو ڈال دیتے ہیں بلکہ یہ کرنسی کی صورت میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس جڑی بوٹی نے کہانیوں میں بھی اپنا حصہ بنایا،ویمپائر کے وارڈ اور برائی کے خلاف حفاظت کے لئے ایک آلہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔
لہسن کا بنیادی جزو سلفر ہے اور اس تیکھی بوکی وجہ بھی یہی ہے۔ اس میں allicin اور diallyl کی طرح کے مرکبات بھی شامل ہیں۔ یہ مرکبات بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور دل کے دورے کے خطرات کو کم کرتے ہیں اور قلبی نظام کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ،لہسن میں سلفر کا عنصر کشیدگی کے خلاف لڑنے میں مدد دیتا ہے۔
اس کے برعکس معاملے میں خون کی وریدوں میں سوزش پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ عنصر خون کی صفائی ستھرائی کے لیے بھی مؤثر ہے۔ Allicin لہسن میں سب سے زیادہ طاقتور اور مؤثر اتحادی ہے۔ یہ عنصر لہسن سے اس وقت باہر آتا ہے جب آپ لہسن کو پیستے ہیں۔ یہ اینٹی فنگل خصوصیات کا حامل ہے۔ اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل کی طرح دیگر خصوصیات مختلف طریقوں سے صحت کو فروغ دینے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ سردی اور کیڑوں کے حملوں سے بچاتا ہے۔ دوسری طرف، diallyl میں بھی اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات شامل ہیں۔ مزید برآں یہ خون کے نظام کو بہتر اور خلیوں سے زہر کو دور کرتے ہوئے کولیسٹرول کی سطح کم کرنے اور مدافعتی نظام بڑھانے میں فائدہ مند مانا جاتا ہے۔ ایسی تمام خصوصیات کے ساتھ لہسن جگر کے تحفظ کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے اور اسی طرح یہ کینسر کے خلاف ڈھال کے طور پر کام کرتا ہے۔ جو لوگ سلفر کی کمی کا شکار ہیں وہ اپنے روز مرہ کے کھانوں میں لہسن استعمال کر کے اس کمی کو پورا کر سکتے ہیں۔ اپنے کھانوں میں لہسن ضرور استعمال کیجیئے چاہے یہ کچا ہو،پکا ہو،تلا ہوا ہو،پسا ہوا ہو۔ اس قدرتی جڑی بوٹی کا لطف اٹھائیں اور صحت کے بے شمار فوائد سے لطف اندوز ہوں۔

Monday, 25 March 2013

Pumpkin's Benefits

Posted by Unknown on 03:17 with No comments

سنت کی سنت علاج کا علاج ۔ کدو ایک سبزی ہے جو ذائقہ میں لذیذ اور تاثیر میں‌ زود ہضم ، صحت بخش اور دماغی صلاحیتوں کو بڑھانے والا ہے۔ کدو مفرح قلب، جگر اور اعصاب کے لیے مفید سبزی ہے۔ کدو ہمارے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ پسند تھا۔ پسندیدگی کا یہ عالم تھا کہ گوشت اور کدو کے سالن سے کدو کے قتلے اٹھا اٹھا کر پہلے کھاتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک درزی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ صاحب خانہ نے جو کی روٹی اور شوربہ پیش کیا۔ شوربہ میں کدو گوشت تھا۔ پس میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کدو کے ٹکڑے اٹھا اٹھا کر نکالتے تھے۔ اس دن سے میں بھی کدو کو پسند کرنے لگا۔

ہمارے ہاں بالعموم پروٹین کی حامل غذاﺅں یعنی گوشت اور دودھ وغیرہ کو اعلیٰ جبکہ سبزیوں اور دالوں کو ادنیٰ تصور کیا جاتا ہے۔ تمام غذائیں ایک انمول تحفہ ہیں اور ان کے ہر گروپ میں مختلف اجزاء پائے جاتے ہیں جن کا متوازن استعمال جسمانی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ سبزیوں میں سے ایک ”کدو“ بھی ہے جو لذت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر بے پناہ طبی خواص بھی رکھتا ہے۔ کدو جسم کے درجہ حرارت کو معمول پر رکھتا ہے اور بخار میں بھی مفید ہے۔ اس کے علاوہ بادی پن اور بلغم کی شکایت سے دوچار مریض اگر کدو کے ساتھ سیاہ زیرہ اور بڑی الائچی ملا کر استعمال کریں تو انہیں ان شکایات سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گرمیوں کے موسم میں کدو کھانے سے پیاس کی شدت میں کمی ہوتی ہے۔ معدہ کی تیزابیت دور ہوتی ہے اور دل و دماغ کو تقویت ملتی ہے ۔ ہلکی آنچ پر پکایا ہوا کدو کا سالن ایک قدرتی ٹانک ہے اس میں نہ صرف فولاد بلکہ کیلشیم، پوٹاشیم، وٹامن اے اور بی بھی پائے جاتے ہیں۔ اس میں بہت سے معدنی اور روغنی نمکیات بھی مناسب مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ محنت اور مشقت کرنے والے افراد کے لیے کدو اور چنے کی دال کا پکوان بہترین اور قوت بخش غدا کی حیثیت رکھتا ہے۔ گوشت اور گرم مصالحے کی آمیزش سے نہ صرف اس کی تاثیر میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے بلکہ ذائقہ بھی بہتر ہو جاتا ہے۔ طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کا گوشت کے ساتھ استعمال زیادہ مفید بتایا گیا ہے۔ دالوں میں جس طرح مونگ کی دال بے ضرر تصور کی جاتی ہے اس طرح کدو کو سبزیوں میں بے ضرر خیال کیا جاتا ہے ذیل میں دیئے گئے چند ٹوٹکوں سے اس کی افادیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

سرسام
سرسام سر میں ورم کی ایک بیماری ہے جس کے لیے کدو بہت مفید ہے۔ کدو کا رس لے کر اس میں ہموزن روغن کنجد (تلوں کا تیل) شامل کر کے تانبے یا پیتل کی دیگچی میں ڈال کر اس حد تک پکائیں کہ تمام رس جل جائے اور محض تیل باقی رہ جائے۔ اسے کپڑے سے چھان لیں اور تیل کو بوتل میں محفوظ کر لیں۔ بوقت ضرورت تھوڑے تھوڑے وقفے سے مریض کے سر پر مالش کر کے گرم کی ہوئی روئی باندھیں۔ اس سے نہ صرف سرسام میں افاقہ ہو گا بلکہ بے خوابی اور عام سردرد وغیرہ کے لیے بھی مفید ہے۔

کان کا درد
کان میں پانی چلا جائے یا پھر کان میں درد ہو تو اس کے لیے بھی کدو کا پانی پینے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی پنساری سے روغن گل لے کر اس میں اس کے ہم وزن کدو کا پانی ملا لیں۔ کان کے درد کی صورت میں اس محلول کے دو سے تین قطرے کان میں ڈالیں، انشاءاللہ درد سے راحت ملے گی۔

بچھو کا ڈنگ
گھر میں کسی کو بچھو ڈنگ مار دے اور فوری طور پر ڈاکٹر تک پہنچنے میں دشواری ہو تو آپ کدو کے گودے سے مریض کو فوری طبی امداد دے سکتے ہیں۔ ڈنگ والی جگہ پر کدو کے گودے کا اچھی طرح لیپ لگا دیں اور ساتھ ہی اسے اس کا پانی بھی پلائیں، زہر کا اثر زائل ہو جائے گا۔

سر کی خشکی
روز مرہ زندگی میں خواتین و حضرات کو سر کی خشکی کا سامنا رہتا ہے۔ جس کے علاج کی خاطر وہ طرح طرح کے شیمپو استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ کو بھی یہی مسئلہ در پیش ہے تو بازار سے روغن کدو لیں اور اس سے سر کی اچھی طرح مالش کریں۔ اس کے علاوہ آپ دودھ میں روغن کدو کا ایک چمچ ڈال کر استعمال کیا کریں اس سے نہ صرف خشکی کا خاتمہ ہوگا بلکہ یہ دل کی دھڑکن کو بھی معمول پر رکھنے کے لیے مفید ٹوٹکہ ہے۔

دانت کا درد
دانت اگر درد کرنا شروع کر دے تو پھر کہیں چین نہیں ملتا اور مریض اس سے نجات کے لیے طرح طرح کے ٹوٹکے آزماتا نظر آتا ہے۔ اگر آپ بھی اسی صورت حال سے دوچار ہیں تو کدو کا گودا پانچ تولے اور لہسن ایک تولہ لے کر دونوں کو ایک سیر پانی ڈال کر خوب اچھی طرح سے پکائیں جب گودا آدھا جل جائے تو اسی نیم گرم پانی سے کلیاں کریں۔ انشاءاللہ درد میں افاقہ ہوگا۔

حلق کا ورم
آواز کا بیٹھ جانا معمول کی شکایت ہے جو کسی بھی شخص کو ہو سکتی ہے۔ اس سے چھٹکارے کے لیے کدو کے نیم گرم پانی سے غرارے کریں۔ اس کے علاوہ یہ ٹوٹکہ خناق جیسی تکلیف میںبھی راحت کا باعث بنتا ہے۔

ہونٹ پھٹنا
مغز تخم، کدو شیریں۔ گوند کتیرا، ہموزن لے کر خوب باریک کر کے رات کو سوتے وقت ہونٹوں پر لگا کر سو جائیں۔ صبح گرم پانی سے صاف کر لیں۔ ایک ہی مرتبہ کے استعمال سے فائدہ ہوگا۔

بدن کی پھنسیاں
کدو کا پانی پھنسیوں پر لگانے سے پھنسیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کے گودے کا لیپ بھی فائدہ مند ہے۔ کدو کا چھلکا زخموں کے لیے مفید حیثیت رکھتا ہے۔ سب سے پہلے اس کے چھلکوں کو سائے میں خشک کریں اس کے بعد ان کی مطلوبہ مقدار لے کر انہیں جلا دیں اور باریک کر کے محفوظ کر لیں۔ یہ راکھ زخم پر چھڑکنے سے زخم جلد مندمل ہو گا۔

بواسیر
کدو کے چھلکے میں قدرت نے بواسیر جیسی تکلیف کے لیے بھی شفا رکھی ہے۔ اس کے لیے کدو کے حسب ِضرورت چھلکے لے کر انہیں سائے میں خشک کر کے باریک پیس لیں۔ دن میں صبح و شام چھ ماشہ سے ایک تولہ تک ان چھلکوں کو تازہ پانی کے ساتھ کھالیں۔ اسے اپنا معمول بنا لیں۔ یہ ٹوٹکہ نہ صرف بواسیر کے مریضوں کے لیے مفید ہے بلکہ خونی پیچش کے لیے بھی لاجواب ہے۔

زیادہ چھینکیں آنا
اگر چھینکیں مار مار کر آپ کا برا حال ہو جاتا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اس کے لیے بھی آپ روغن کدو کے دو چار قطرے ناک میں ٹپکا دیں۔ چھینکیں آنا بند ہو جائیں گی۔ قبض کشا: ایسے مریض جن کو دائمی قبض کی شکایت ہو، وہ بھی کدو سے مستفید ہو سکتے ہیں کدو کے استعمال سے مرض کے رفع ہونے میں مدد ملتی ہے۔

مکھیوں سے بچاﺅ
کسی چیز کو مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اس پر کدو کی بیل کے پتے رکھ دیں۔ مکھیاں ہرگز اس پر نہ بیٹھیں گی ۔اگر شیرخوار بچوں پر دن کے وقت کدو کے پتے رکھ دیئے جائیں تو بھی مکھیوں سے محفوظ رہیں گے۔

یرقان
ایک عدو کدو لے کر اسے ہلکی آگ میں جلا کر بھرتا بنا لیں اور اس کا پانی نچوڑ کر اس میں تھوڑی سی مصری ملا کر پی لیں۔ یرقان کے لیے بہت مفید ہے۔

سردرد
جب بھی سردرد ہو تازہ کدو کا گودا حسب ِضرورت لیں اور اسے کھرل میں باریک کچل کر پیشانی پر لگا لیں ،تھوڑی دیر میں آرام آجائے گا۔

بہترین سرمہ
کدو کا چھلکا حسب ِضرورت لے کر سائے میں خشک کریں۔ ان چھلکوں کو جلا کر کھرل میں باریک پیس کر شیشی میں محفوظ کر لیں۔ صبح شام تین تین سلائیاں دونوں آنکھوں میں لگائیں۔ تھوڑے ہی عرصہ میں آنکھ کی تمام شکایتیں دور ہو جائیں گی۔

Monday, 18 March 2013

Treatment With Bitter Gourd

Posted by Unknown on 08:36 with No comments
کریلا
 ایک جانی پہچانی سبزی ہے جو پورے برصغیر میں لگائی اوربڑے شوق سے کھائی جاتی ہے۔

شفاءبخش اور طبی استعمال
کریلا اعلیٰ قسم کی طبی خوبیوں سے مالا مال ہے۔ یہ دافع زہر، دافع بخار، اشتہا ءانگیز، مقوی معدہ، دافع صفر اور مسہل ہے۔
عام جسمانی امراض میں بھی کریلے بطور غذائے دوائی مستعمل ہیں۔ ان کا پابندی سے کھانا وجع المفاصل کے مریضوں کیلئے بہت فائدہ مند ہے۔ اسی طرح نقرس اور گنٹھیا کے مریض بھی اس سے بہت استفادہ حاصل کرتے ہیں۔ ان امراض میں کریلوں کا سالن بہت مفید ہے۔ علاوہ ازیں فالج اور لقوہ اور دیگر اعصابی امراض میں بھی کریلے کے فوائد بہت نمایاں ہوتے ہیں۔کریلوں کے استعمال سے اعصاب میں تحریک ہوتی ہے اور کریلے اعصاب کی قوت کی بحالی کیلئے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ذیابیطس
کریلا ذیابیطس کے لئے دیسی علاج ہے۔ حالیہ طبی تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس میں انسولین سے مشابہہ ایک مادہ پایا جاتا ہے۔ اسے نباتاتی انسولین کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مادہ خون اور پیشاب میں شوگر کی مقدار کم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طبیب کریلے کا استعمال غذا کے طور پر شوگر کے مریضوں کو باقاعدگی سے کرنے کے لئے مشورہ دیتے ہیں۔ زیادہ بہتر نتائج حاصل کرنے کے لئے ذیابطیس (شوگر) کے مریضوں کو چار پانچ کریلوں کا پانی روزانہ صبح نہار منہ پینا چاہئے۔ کریلوں کے بیج کا سفوف بناکر غذا میں شامل کرنا بھی بہتر ہے۔ شوگر کے مریض کریلوں کو ابال کر ان کا پانی یعنی جوشاندہ بنا کرپئیں یا ان کا سفوف استعمال کریں تو شفاءیاب ہوں گے۔
شوگر کے زیادہ تر مریض عموماً ناقص غذائیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کریلا چونکہ تمام ضروری معدنی اجزاءاور وٹامنز بالخصوص وٹامن اے، بی سی اور آئرن کی غذائی صلاحیت رکھتا ہے چنانچہ اس کا باقاعدہ استعمال بہت سی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھتا ہے جن میں ہائی بلڈپریشر، آنکھوں کے امراض، اعصاب کی سوزش اور کاربوہائیڈریٹس کا ہضم نہ ہونا شامل ہے۔ کریلوں کا استعمال انفیکشن سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

بواسیر
کریلوں کے تازہ پتوں کا جوس بواسیر میں بہت مفید رہتا ہے۔ چائے کے تین چمچے پتوں کا جوس، ایک گلاس لسی میں ڈال کر روزانہ صبح ایک ماہ تک پینا بواسیر کے عارضہ کو دور کرتا ہے۔ کریلوں کی جڑوں کا پیسٹ بواسیر کے مسوں پر لگانا بھی بہت مفید ہے۔

خون کے امراض
خون کے متعدد امراض جن میں فساد خون سے پھوڑے پھنسیاں نکلنا، خشک خارش،تر خارش، چنبل، بھگندر، جلندھر شامل ہیں کا علاج کرنے کے لئے کریلا بہت کارآمد ہے۔ تازہ کریلوں کا جوس (پانی) ایک کپ، ایک چائے کا چمچ لیموں کا رس ملاکر صبح نہار منہ چسکی چسکی پینا مفید رہتا ہے۔ پرانے امراض میں یہ علاج چار سے چھ ماہ تک جاری رکھنا پڑتا ہے۔ جن علاقوں میں جذام پھیل جائے وہاں کریلوں کا استعمال اس سے تحفظ دیتا ہے۔

سانس کی بیماریاں
کریلے کے پودے کی جڑوں کو قدیم زمانے سے سانس کی بیماریوں کے علاج میں استعمال کیا جارہا ہے۔ جڑوں کا ملیدہ ایک چائے کا چمچ اسی مقدار میں شہد یا تلسی کے پتوں کا جوس ملاکر ایک ماہ تک روزانہ رات کو پینے سے دمہ، برونکائٹس، زکام، گلے کی سوزش اور ناک کے استر کی سوزش کا عمدہ علاج میسر آتا ہے۔

شراب نوشی کے بد اثرات
کریلے کے پتوں کا جوس شراب کے بد اثرات کا اچھا علاج ہے۔ شراب کے زہریلے مادوں کے لئے یہ موثر تریاق کا کام دیتا ہے۔ شراب نوشی سے جگر کو پہنچنے والے نقصان کی بھی اصلاح کرتا ہے۔

میتھرے یا میتھی دانے
 میتھرے یا میتھی دانے ہمارے کچن میں روزمرہ استعمال ہونے والا قدرت کا ایک بہترین تحفہ ہے جو دوائی کے طور پر ہزاروں سال سے استعمال ہورہا ہے۔ کئی وٹامنز اور منرلز پر مشتمل اس کم قیمت لیکن بے بہا فوائد رکھنے والی چیز کا اصل وطن افریقہ ہے، لیکن اب یہ ساری دنیا میں کاشت کی جاتی ہے۔ قدیم یونان میں گھوڑے جب بیمار ہوتے اور کسی خوراک کو منہ نہ لگاتے تو یہ اس کے پتے کھانے کے بعد تندرست ہونے لگتے تھے۔ اطباءکہتے ہیں کہ اگر اس کی افادیت کا لوگوں کو پتہ چل جائے تو شاید ہی کوئی گھر ہو جس میں میتھی دانہ موجود نہ ہو۔
نزلہ و زکام کے لیے
نزلہ زکام، سینے کی تکلیف اور بلغم بننے کی بیماری میں اس کا استعمال ازحد مفید ہے۔ صبح وشام دو چائے کے چمچ ایک کپ پانی میں جوش دے کر شہد سے میٹھا کرکے پی لیں۔ مسلسل استعمال سے دائمی نزلہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو استعمال کرانے سے سارا بلغم نکل جاتا ہے۔

بالوں کی خوبصورتی کے لیے
لمبے، گھنے بال ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے (ایلوویرا) کو درمیان سے اس طرح کاٹیں کہ دونوں سرے جڑے رہیں۔ اس گھیکوار میں میتھرے بھر کر دھاگے سے باندھ کر ہفتہ، دس دن فریج میں رکھ دیں، اس کے بعد میتھرے گھیکوار سے نکال کر کڑوے تیل میں جلالیں۔ یہ تیل انشاءاللہ مفید رہے گا۔ اس کے علاوہ آزمودہ اور آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ جو بھی تیل آپ بالوں کے لیے استعمال کرتی ہیں، اس میں میتھرے ڈال کر دھوپ میں رکھ دیں اور پندرہ دن بعد وہ تیل استعمال کرنا شروع کریں، بالوں کو سیٹ کرنا ہو تو اس مقصد کے لیے میتھرے کا ابلا ہوا پانی لگا کر رول کرنے سے بالوں میں گھنگھریالا پن آجاتا ہے اور بال سیاہ چمکدار‘ گھنے اور لمبے ہوجاتے ہیں۔

کھانے میں اس کا استعمال
اس کو اچار میں استعمال کریں یا پیس کر آٹے میں شامل کرکے روٹی بنالیں یا سبزیوں اور دالوں میں ملائیں۔ غرض ہر ڈش میں اس کی خوشبو بہت اچھی لگتی ہے۔ کڑھائی گوشت یا ٹماٹر گوشت میں میتھرے اور ثابت دھنیا ایک ایک چمچ بھون کر پیس کر ڈالیں (جب کہ ہنڈیا تیار ہوچکی ہو) اور ایک نئے لذیذ ذائقہ کا لطف اٹھائیں۔ مصالحہ والی بریانی میں بھی چند دانے پیس کر ڈال کر دیکھیں اور اچار گوشت تو اس کے بغیر بنتا ہی نہیں۔

سوجن اور بادی کے لیے
جن لوگوں کو بادی کا مرض ہو یعنی کھانے کے بعد انکے ہاتھ، پاﺅں سن ہونے لگتے ہوں یا مسوڑھے پھول جاتے ہوں۔ ان کو عمومی طور پر اس کا استعمال رکھنا چاہئے یعنی چاول، دہی، خمیری روٹی، آلو وغیرہ نقصان دیتے ہیں تو کچے یا پکے میتھرے ضرور استعمال کریں۔ عورتوں میں سن یاس کے بعد پائے جانے والا ڈپریشن اور پسینے کی زیادتی کے لیے بھی مفید ہے۔ اس کے لیے یا تو اس کا پانی ابال کر پی لیں یا چاول بناتے وقت اس کی پوٹلی ابلتے ہوئے چاولوں میں ڈال دیں۔ ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریض اگر 25 گرام میتھی دانہ اپنی روزانہ کی خوراک میں شامل کرلیں تو اس سے شوگر لیول اور کولیسٹرول اعتدال پر آجاتا ہے۔

Sunday, 17 March 2013

Benefits of Peas

Posted by Unknown on 23:58 with No comments

اس کے استعمال سے جلد کی خارش‘ پھوڑے‘ پھنسی اور خون کی خرابی دور ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس کا استعمال خون کو صاف کرتا ہے اس لیے چہرہ اور جسم کی رنگت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔
جسم میں قوت اور حرارت پیدا کرتا ہے‘مٹر کسی بھی طریقہ سے پکا کر کھایا جائے جسم کو غذائیت بہم پہنچاتا ہے
مٹر کو عربی میں کرسنہ‘ انگریزی میں فیلڈ پیز کہتے ہیں
یہ ایک عام اور ہر جگہ میسر ہونے والی سبزی ہے۔ گوناگوں صفات کی حامل ہے اس میں غذائی اجزا کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس کو امیر اور غریب‘ بڑے اور چھوٹے‘ ادنیٰ و اعلیٰ‘ سیٹھ اور مزدور سبھی لوگ بڑے شوق سے مختلف طریقوں سے پکاتے اور کھاتے ہیں۔
زمانہ قبل ازتاریخ سے اس کی ترکاری کو پکا کر کھانے کا رواج ہے اور قدیم لوگ اسے مختلف طریقوں سے کھاتے تھے۔ اس کی پھلیاں ہوتی ہیں جن میں سے چنے کے برابر گول سبز دانے نکلتے ہیں۔ یہی دانے پکا کر سالن کے طور پر بھون کر بھی کھائے جاتے ہیں۔
اس کو چاولوں میں ڈال کر مٹر پلاو بھی پکایا جاتا ہے جو کہ غذائیت کے لحاظ سے کسی طرح کم نہیں۔ مٹر گوشت آلو مٹر‘ مٹر قیمہ اور دیگر قسم کے مختلف سالن پکا کر کام و دہن کی تواضع کی جاتی ہے۔
مٹر طبی لحاظ سے دوسرے درجے میں گرم اور خشک ہوتے ہیں جدید تحقیقات کے مطابق اس میں پروٹین 23 فیصد‘ کاربوہائیڈریٹس 50 فیصد‘ وٹامن بی بھی کافی مقدار میں ہوتی ہے۔ لیکن اس میں سلفر یعنی گندھک اور فاسفورس دیگر اجزا کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔
مٹر کسی بھی طریقہ سے پکا کر کھایا جائے جسم کو غذائیت بہم پہنچاتا ہے۔ سرد مزاج والے اشخاص کے پٹھوں اور اعصاب کو طاقت دیتا ہے۔ بدن کو فربہ کرتا ہے۔ خون کی کمی کو دور کرکے چہرے کی رنگت کو نکھارتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پیٹ میں نفخ یا اپھارہ پیدا کرتا ہے۔ انتڑیوں میں ریاح کی پیدائش کو بڑھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن کا معدہ کمزور ہو ان کیلئے اس کا استعمال مناسب نہیں چونکہ اس کے استعمال سے معدے میں نفخ اور انتڑیوں میں ریاح یا سوری زیادہ پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے ایسے افراد جن کا معدہ کمزور ہویا تبخیر معدہ کی شکایت ہو انہیں اس کے کثرت استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔ البتہ اگر پکاتے وقت ادرک شامل کرلیا جائے تو اس کی اصلاح ہوسکتی ہے۔
چونکہ مٹر میں سلفر یعنی گندھک بھی قدرتی طور پر موجود ہوتی ہے اس لیے اس کے استعمال سے جلد کی خارش‘ پھوڑے‘ پھنسی اور خون کی خرابی دور ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس کا استعمال خون کو صاف کرتا ہے اس لیے چہرہ اور جسم کی رنگت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔
جسم میں قوت اور حرارت پیدا کرتا ہے اگر اس کے ساتھ پکاتے وقت ٹماٹر بھی شامل کیے جائیں تو جہاں اس کے ذائقہ میں زیادہ لذت پیدا ہوگی وہاں اس کی غذائیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ چونکہ اس کے دانے نفخ اور اپھارہ کا باعث ہوتے ہیں لہٰذا اگر اس کا شوربہ یا سوپ کیا جائے تو نہ صرف یہ کہ اس طرح نفخ اور اپھارہ کا موجب نہیں ہوگا بلکہ جلد ہضم ہونے والا اور جسم کو پوری غذائیت مہیا کرنے کا موجب ہوگا۔
البتہ قیمہ مٹر اور آلو مٹر پکا کر کھانے کے شوقین اشخاص اس سے آگاہ رہیں کہ شوربے کی نسبت قیمہ مٹر‘ آلو مٹر نسبتاً ثقیل اور دیر ہضم ہونے والی غذا ہے۔
مٹر چونکہ ورم کو تحلیل کرتا ہے اس لیے اس کے لیپ سے ورم زخم اور سوجن دور ہوجاتی ہے۔ بچے کو دودھ پلانے کے دوران جن ماوں بہنوں کو چھاتی یا پستان پر ورم یا سوجن کی شکایت ہوجائے تو دانہ مٹر باریک رگڑ کر روزانہ لیپ کرنے سے دو تین روز کے اندر چھاتی یعنی پستان کا ورم اور سوجن تحلیل ہوکر مکمل آرام آجاتا ہے اور بڑی بڑی قیمتی ادویات سے یہ علاج کہیں سستا اور مفید اور بے ضرر ہے۔
قیروطی آروکرسنہ طب اسلامی کا ایک مشہور مرکب ہے جس کے استعمال سے درپہلو اور پسلی کا درد یا نمونیہ کا درد دور ہوجاتا ہے اور زمانہ قدیم سے اطباء اپنے مریضوں کو استعمال کراتے ہیں اور اس کے لیپ سے فوراً سکون اور آرام محسوس ہوتا ہے۔
جن کے اجزاءیہ ہیں۔ آرو کرسنہ (مٹروں کا آٹا) آرو‘ میتھی‘ کلونجی‘ ملٹھی‘ عقر قرحا ہر ایک چھ چھ ماشہ‘ موم اور روغن سوسن بقدر ضرورت تمام کو باریک پیس کر اور روغن سوسن میں موم کو پگھلا کر حل کریں اور باقی دوائیں ملا کر سنبھال لیں اور بوقت ضرورت ورم اور سوجن کی جگہ پر لگائیں اور اوپر سے سینک کریں۔

سدا بہار سبزی شلجم اور اس کے فائدے


سبزیوں سے فائدہ اٹھانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انھیں موسم کی مناسبت سے غذا کا حصہ بنایا جائے۔ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی مختلف خصوصیات کی حامل سبزیوں کی فصلیں بھی تیار ہو جاتی ہیں۔ شلغم سدا بہار سبزی تو ہے  لیکن ماہرین کے مطابق اس موسم میں شلغم  کاسلاد  گرم مسالے یا سیاہ مرچ کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔  

شلغم چھوٹا ہو یا بڑا غذائیت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں اس سبزی میں  وٹامن سی کا خزانہ پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پروٹین ، فاسفورس ، فولاد اور وٹامن ایچ اور اے بھی اس سبزی میں پائے جاتے ہیں جو جسم اوربینائی کی کمزوری دور کرتے ہیں۔

شلغم غذا اور دوا دونوں صورتوں میں استعما ل کیا جاتا ہے۔ یہ جگر کو طاقت ور بناتا ہے اور صاف خون پیدا کرتا ہے اور چہرے کی رنگت کو نکھارتا ہے۔ ماہرین غذا کے مطابق سلغم کھانے والوں کو کمر کا درد گردن کا درد نہیں ہوتا۔

ایران میں شلغم کے نمکین  سوپ کو بخار کے توڑ کےلیے پیا جاتا ہے۔  جب کہ اس سبزی کی سلاد اورسبزی گرم مسالحے اور سیاہ مرچ کے ساتھ زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے جس سے خشک کھانسی ختم ہو تی ہے۔

معدے کے درد میں بھی شلغم کی سبزی کا استعمال مفید ہےکیونکہ یہ جلدی ہضم ہو جاتا ہے۔ شلغم ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کیلئے بھی مفید سبزی ہے۔ پسا ہوا کالا زیرہ اور نوشادر شلغم کی سلاد پر ڈال کر کھانے سے وزن بھی کم ہوتا ہے۔

Benefits of Momordica

Posted by Unknown on 03:27 with No comments
کریلا
ایک مشہور سبزی ہے جس کا شمار کڑوی ترین سبزیوں میں ہوتا ہے مگر اس کے بے شمار طبی فوائد ہیں۔ اس کی پیداوار جنوبی ایشیاء، جنوب مشرقی ایشیاء، چین اور افریقہ کے علاقوں میں ہوتی ہے۔

طبی فوائد

کریلے کی جنوبی ایشیائی قسم کریلے میں بے شمار حیاتین شامل ہیں جیسے حیاتین الف، با، جیم، کاف

(A, B, C ,K)
اس کے علاوہ اس میں کیلشیم اور فولاد بھی موجود ہے۔ میگنیشیم، فاسفورس، پوٹاشیم اور زنک کی قابل ذکر مقدار بھی ہوتی ہے۔
اس کے بے شمار طبی فوائد ہیں مثلاً اسے خون صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ذیابیطس میں بھی بہت مفید ہے۔

اس میں لیٹین نامی ایک مادہ شامل ہے جو انسولین کی طرح کام کر کے خون میں گلوکوز کو کم کرتا ہے۔ بلکہ اس سے خون میں انسولین کو قبول کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ ہندوستان اور چینی طب میں اسے سینکڑوں سال سے استعمال کیا جاتا ہے۔

گاجر ، چقندر اور سیب کے جوس کے فوائد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 

جدید دور نے جہاں ہمیں بہت سی آسائیشیں مہیا کی ہیں، وہیں ہم سے قدرتی مشروبات بھی چھین لیے ہیں۔ پیپسی، سیون اپ، سپرائٹ جیسے فضول اور مضر صحت مشروبات کے چکر میں ایسے پڑے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ایسی نعمتوں کا خیال ہی نہیں‌ آتا جو کہ نا صرف صحت کے لیے فائدہ مند ہیں، بلکہ ان کے صحت پر مضر اثرات بھی نہیں‌ہیں۔

اللہ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت گاجر ، چقندر اور سیب کا جوس ہے۔گاجر دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف رنگوں میں پائی جاتی ہے اور کہا یہ جاتا ہے کہ جسکا رنگ جتنا زیادہ ڈارک ہو گا، وہی گاجر زیادہ مفید ہو گی۔
 (واللہ اعلم )

فوائد
گاجر کے جوس میں بہت زیادہ مقدار میں وٹامن اے پایا جاتا ہے، جو کہ آنکھوں، جگر ، جلد ، ہڈیوں اور دانتوں کے لیے بہت ہی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامن سی، بی ، ای ،‌ڈی ، پروٹینز، پوٹاشیم، کیلشیم ، آئرن، کاپر اور بہت سے دوسرے ضروری اجزاء پائے جاتے ہیں جن میں ہر ایک کے اپنے اپنے فوائد ہیں۔
گاجر کا جوس بناتے وقت اگر اس میں تھوڑا سا چقندر اور سیب شامل کر لیا جائے تو اسکے فوائد مزید بڑھ جاتے ہیں۔ جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
1۔ 
جسم میں اگر کینسر ہو جائے تو اس جوس کا استعمال کینسر سے متاثرہ خلیوں کی پرورش کو روکتا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کینسر کے مریض اگر اس جوس کو مسلسل استعمال کریں تو یہ بیماری مکمل طور پر ختم بھی ہو سکتی ہے۔
2۔ 
جگر ، گردوں اور لبلبہ کی حفاظت کرتا ہے اور السر کی بیماری میں بھی بہت مفید ہے۔
3۔ 
پھیپھڑوں کو قوت بخشتا ہے اور بلڈ پریشر کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔
4۔ 
قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔
5۔ 
آنکھوں اور بینائی کے لیے تو بہت ہی مفید ہے۔ یہ آنکھوں کو روشنی اور قوت بخشتا ہے اور بینائی تیز کرتا ہے۔
6۔ 
پٹھوں کے کھچاؤ کو دور کرتا ہے۔
7۔ 
قبض نہیں ہونے دیتا۔
8۔ 
بدہضمی کی وجہ سے سینے میں پیدا ہونے والی جلن کو دور کرتا ہے۔
9۔ 
جلد کے لیے بہت مفید ہے۔ جلد کی رنگت کو نکھارتا ہے۔
10۔ 
جگر کی صفائی میں بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے اور جسم سے فضول چکنائ کو نکلنے میں مدد دیتا ہے۔
جوس بنانے کا طریقہ
گاجر کا جوس بنانے کے لیے گاجر کو اچھی طرح ٹھنڈے پانی سے دھوئیں اور اگر ممکن ہو تو کسی نرم برش سے دھونے کے ساتھ ساتھ اسے صاف بھی کر لیں۔ اکثر ہم گاجر کو چھیل لیتے ہیں تاکہ مٹی اتر جائے، کوشش کریں کہ اسے چھیلے بغیر ہی استعمال کریں کیونکہ زیادہ تر وٹامن اوپر والی تہہ میں ہوتے ہیں۔ یہی کام چقندر اور سیب کے ساتھ کریں اور ان تینوں چیزوں کا جوس نکال کر استعمال کریں۔ یہ خیال رکھیں کہ جوس کو فورا استعمال کر لیں ورنہ اس کا ذائقہ تبدیل ہو جاتا ہے اور جوس بھی بے اثر ہو جاتا ہے۔

استعمال
بہتر تو یہی ہے کہ اسے صبح نہار منہ استعمال کریں۔ اگر ممکن ہو تو دن میں دو دفعہ ضرور استعمال کریں۔

Tuesday, 25 December 2012

Carrots

Posted by Unknown on 19:09 with No comments
                            " گاجر "

گاجر، خام پھلوں کے رس کے طور پر یا پکی شکل میں، آپ کی صحت کے لئے بہت اچھی ہوتی ہیں۔ گاجر مندرجہ ذیل بیماریوں کو روکنے میں بہت مدد دیتی ہے۔۔۔

*.دانتوں کی صحت کے لیے
*. بڑھتی ہوئ عمر کو روکتی ہے
*. جلد کی پرورش کے لیے
*.دل کے دورے کے خطرے کو کم کرنے کےلیے

*.دل کی بیماریوں کی روک تھام کے لیے

*.بینائ کو بہتر بنانے کے لیے

*.کینسر کی روک تھام کے لیے
اور
*. ذیابیطس کو بھی روکتا ہے

*.گاجر میںبیماریوں کی روک تھام کی بہت زیادہ خصوصیات ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے یہ قبض کشا کے طور پر اور جگر کے علاج کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے۔
*.
گاجر کا تیل خشک جلد کے لیے بہت اچھا ہے۔ 
یہ جلدکو معتدل، ہموار اور نرم رکھتا ہے۔
  
*.گاجر کا جوس پیٹ اور معدے کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔