Showing posts with label Iqtabasaat (اقتباسات). Show all posts
Showing posts with label Iqtabasaat (اقتباسات). Show all posts

Wednesday, 24 July 2013

Nafs-e-Insani

Posted by Unknown on 04:44 with No comments
نفسِ انسانی

تحلیلِ نفسی کی رو سے نفسِ انسانی کے دو پہلو ہیں۔ 1۔ حظِ فکری 2۔ حقیقتِ فکری۔ مذہب اور تصوف حظِ فکری کی پیداوار ہیں۔ جبکہ سائنس حقیقت فکری کی دست پروردہ ہے۔ حقیقت پسند آدمی خواب و خیال کی دنیا کے بجائے حقائق کی دنیا میں گذر بسر کرتا ہے۔ اور اپنی زندگی میں حقائق کا مردانہ وار مقابلہ کرتا ہے۔ خواہ وہ کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں۔ اس کے برعکس جو شخص ان کا سامنا نہیں کر سکتا۔وہ حقائق سے فرار کر کے تخیلات سے رجوع لاتا ہے اور تخیل ہی میں اپنی محرومیوں اور ناکامیوں کا مداوا تلاش کرلیتا ہے۔ مذہب بھی اسی اجتماعی تخیل آرائ کا کرشمہ ہے۔بنی نوع انسان نے اپنے ابتدائ دور میں بچوں کی طرح نامساعد قدرتی ماحول سے گریز کر کے تخیل آرائ کے دامن میں پناہ لی تھی۔ اور پرکھوں کی روحوں، دیوتاؤں کا سہارا تلاش کیا تھا۔ رفتہ رفتہ وہ زمانے کے تقاضوں اور فکری ارتقاء کے ساتھ بلوغتِ نظر و احساس سے بہرہ یاب ہو گیا اور تخیلات میں حظ و مسرت تلاش کرنے کے بجائے اپنے عقدے حقیقت پسندانہ انداز میں سلجھانے لگا۔
(کائنات اور انسان از علی عباس جلالپوری)

Monday, 22 July 2013

Geography of Lahore

Posted by Unknown on 02:42 with No comments

لاہور کا جغرافیہ


لاہور کا وجود ثابت کرنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ بہرحال آپ کو نقشے پر مل جائیگا۔لاہور لاہور ہے۔

اگر اس پتے سے آپ لاہور کو تلاش نہیں کرسکتے تو یہ آپ کی تعلیم اور ذہانت کا قصور ہے۔

یہ پنجاب میں واقع ہے۔جہاں اب صرف ساڑھے چار دریا بہتے ہیں۔ نصف دریا (بڈھاراوی) اب بہنے کی بجائے محض لیٹا رہتا ہے۔لاہور کے چاروں اطراف لاہور ہی واقع ہے اور روز بہ روز پھیلتا ہی جارہا ہے۔ایسے توسیع کا عارضہ ہوگیا ہے۔ ہوا کی قلت کے باعث میونسپل کمیٹی نے لوگوں کو ہوا اور دھوئیں کا مرکب مفت فراہم کردیا ہے۔پانی کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بارش کا پانی شہر سے نکلنے نہ پائے۔ ہر محلے کا اپنا دریا ہو اور مچھلیاں ہوں۔ پانی کی اسکیم تو نظام سقہ کے زمانے کی ہے۔ جس کے لئے نل ضروری ہیں۔کمیٹی نے نل لگوا کر ان میں ہائیڈروجن اور آکسیجن بھردی ہے، کبھی نہ کبھی تو یہ پانی بن جائیں گی۔


پطرس احمد شاہ بخاری کے مضمون سے اقتباسات

The World Is Round

Posted by Unknown on 02:34 with No comments
دنیا گول ہے ۔۔۔۔


دنیا گول ہے ۔۔۔۔! گول ہنے کا فائدہ یہ ہے کہ ۔۔۔۔ لوگ مشرق کی طرف سے جاتے ہیں۔۔۔ مغرب کی طرف جا نکلتے ہیں۔۔۔ کوئی ان کو پکڑ نہیں سکتا۔۔۔ اسمگلروں اور مجرموں کے لیے ۔۔۔ بڑی آسانی ہوگئی ہے۔۔ ہٹلر نے زمین کو چپٹا کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔ لیکن کامیاب نہیں ہوا پھر گلیلیو نامی ایک شخص آیا ۔۔۔ اور اس نے زمین کو سورج کے گرد گھمانا شروع کردیا۔۔۔۔ پادری بہت ناراض ہوئے کہ ۔۔۔۔۔ ہم کو کس چکر میں ڈال دیا۔۔۔۔۔ گلیلیو کوتو انہوں نے قرار واقعی سزا دے کر۔۔۔۔ آئیندہ اس قسم کی حرکت سے روک دیا۔۔۔ زمین کو البتہ نہ روک سکے۔۔۔۔ برابر حرکت کیے جارہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔

ابن انشا کی کتاب ۔۔۔۔ “ اردو کی آخری کتاب“ سے اقتباس

Date of Birth

Posted by Unknown on 02:18 with No comments

تاریخ پیدائش

عمر کی اس منزل پر آ پہنچا ہوں کہ اگر کوئی سن ولادت پوچھ بیٹھے تو اسے فون نمبر بتا کر باتوں میں لگا لیتا ہوں۔

اور یہ منزل بھی عجیب ہے ۔ بقول صاحب “ کسکول “ ایک وقت تھا کہ ہمارا تعارف بہو بیٹی قسم کی خواتین سے اس طرح کرایا جاتا تھا کہ  فلاں کے بیٹے ہیں ۔ فلاں کے بھانجے ہیں اور اب یہ زمانہ آگیا ہے کہ فلاں کے باپ ہیں اور فلاں کے ماموں ۔ اور ابھی کیا گیا ہے ۔ عمر رسیدہ پیش رو زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اس کے آگے مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں ،

 

مشتاق احمد یوسفی کی کتاب “چراغ تلے اندھیرا“ سے اقتباس

Sunday, 21 July 2013

The Patient

Posted by Unknown on 05:04 with No comments
صبر کرنے والے
صبر کرنے والے اس مقام سے آشنا کرادئیے جاتے ہیں کہ تکلیف دینے والا ہی صبر کی تعفیق دے رہا ہے اور اس مقام پر “صبر“ ہی “شکر“ کا درجہ اختیار کرلیتا ہے ۔ یہ وجہ ہے کہ اس کے مقرب اذیت سے تو گزرتے ہیں، لیکن بیزاری سے کبھی نہیں گزرتے۔ وہ شکر کرتے ہوئے وادئ اذیت سے گذرجاتے ہیں۔
دنیا دار جس مقام پر بیزار ہوتا ہے، مومن اس مقام پر صبر کرتا ہے اور مومن جس مقام پر صبر کرتا ہے، مقرب اس مقام پر شکر کرتا ہے،کیونکہ یہی مقام و وصال حق کا مقام ہے۔ تمام و اصلین حق صبر کی وادیوں سے بہ تسلیم و رضا گزرکر سجدہ شکر تک پہنچے۔یہی انسان کی رفعت ہے۔یہی شانَ عبودیت ہے کہ انسان کا وجود تیروں سے چھلنی ہو،دل یا دو سے زخمی ہو اور درنیاز سجدہ میں ہو کہ“اے خالق! تیرا شکر ہے، لاکھ بار شکر ہے کہ تو ہے کہ تو نے مجھے چن لیا، اپنا بندہ بنایا، اپنا اور صرف اپنا تیری طرف سے آنے والے ہر حال پر ہم راضی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم اور ہماری زندگی بے مصرف اور بے مقصد نہ رہنے دینے والا تو ہے۔ جس نے ہمیں تاج تسلیم و رضا پہنا کر اہلِ دنیا کے لیے ہمارے صبر کا ذکر ہی باعث تسکین روح و دل بنایا۔“
 
واصف علی واصف کی کتاب “دل،دریا، سمندر سے اقتباس۔

Faith

Posted by Unknown on 04:57 with No comments
ایمان
ایمان ہمارے خیال کی اصلاح کرتا ہے۔ شکوک و شبہات کی نفی کرتا ہے۔ وسوسوں کو دل سے نکالتا ہے۔ایمان ہمیں غم اور خوشی دونوں میں اللہ کے قریب رکھتا ہے۔ ہم ہر آزمائش میں پوتے اترتے ہیں۔ اور ہم جانتے ہیں کہ خوشیاں دینے والا ہمیں غم کی دولت سے بھی نواز سکتا ہے ۔ اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو دولت یقین سے محروم نہیں ہونے دیتا۔

واصف علی واصف کی کتاب کرن کرن سورج سے اقتباس

Hor Sunao Ki Haaal Chaal Aey

Posted by Unknown on 04:44 with No comments
ہور سناؤ کی حال چال اے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
میرے ایک دوست۔۔۔۔ مشتاق بٹ۔۔۔ ایک طویل عرصہ سے امریکہ میں مقیم ہیں ۔۔۔ اور بال بچوں کے ہمراہ مقیم ہیں۔۔۔ ہر دو سال بعد وطن کا چکر ضرور لگاتے ہیں۔۔۔۔اور ائیرپورٹ پر اُترتے ہی ۔۔۔ پہلا سوال یہ کرتے ہیں کہ ۔۔۔ ہور سناؤ کی حال چال اے۔۔۔۔؟ چونکہ بہت عزیز دوست ہیں ۔۔۔ اس لئے سب لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ۔۔۔ انہیں گھمایا پھرایا جائے ۔۔۔ ان کی خاطر تواضع کی جائے ۔۔۔ مگر بٹ صاحب سفر کی تھکن اُتارنے کے بعد۔۔۔ سب سے پہلی فرمائش یہ کرتے ہیں کہ ۔۔۔ بھائیوں مجھ سے باتیں کروِ۔۔۔۔۔ میں ترس گیا ہواں ۔۔۔۔ باتیں کرنے کے لئے ۔۔۔۔ صرف باتیں ۔۔۔؟ ہم شروع شروع میں بے حد حیران ہوئے کہ ۔۔۔ مشتاق کو کیا ہوگیا ہے۔۔ شاید اپنی امریکی معلومات عامہ کا رُعب جمانے کے لئے ۔۔ ہم سے باتیں کرنا چاہتا ہے۔۔۔ لیکن معلوم ہوا کہ ۔۔۔ نہیں مشتاق صرف ایسی باتیں کرنا چاہتا ہے ۔۔۔ جن کاکوئی مطلب نہ ہو۔۔۔۔ کوئی سر پئیر نہ ہو۔۔۔ یعنی باتیں برائے باتیں ۔۔۔ ہمشہ کہتا ہے کہ ۔۔ یاروں امریکہ میں کسی کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ۔۔۔ کہ وہ تم سے باتیں کر سکے ۔۔۔ اپنے بیٹے کے ساتھ گپ شپ لگانے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔۔ تو وہ کہتا ہے ۔۔۔ ڈیڈی آپ میرا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔۔۔ بیٹی کہتی ہے ۔۔۔ ڈیڈی آپ ذرا اپنا میڈیکل چیک اپ کروایئے ۔۔۔۔ مینٹل چیک اپ۔۔۔۔ اس لئے نہیں کہتی کہ ۔۔۔۔ ابھی پوری طرح امریکہ نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔اور یاروں میں ان تیس برسوں کا کیا کروں جو میں نے ۔۔۔ اپنے وطن میں گپیں لگاتے گزارے ہیں ۔۔۔ یں باتیں نہیں کر سکتا ۔۔۔ تو میرا پیٹ اَپھر جاتا ہے ۔۔۔ اور اسی اپھرا کو درست کرنے کے لئے ۔۔ میں ہر دوسرے برس پاکستان آجاتا ہوں ۔۔۔۔ چنانچہ مجھ سے باتیں کرو۔۔۔۔ اور جب باتیں ختم ہوجاتی تھیں ۔۔۔ تو مشتاق بٹ ۔۔۔ کے پاس ایک اور ٹرمپ کارڈ ہوتا تھا۔۔۔ اور وہ مسکراتا ہوا کہتا تھا۔۔۔ ہور سناؤ کی حال چال اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ جب اس کے ساتھ باتیں کرتے کرتے تمام دوستوں کے حلق سوکھ جاتے تو وہ میری دکان پر آجاتا۔۔۔ اور وہاں سڑک پر کھڑے خوانچہ فروشوں  اور ریڑھیوں ۔۔۔ والوں کے ساتھ گفتگو کا آغاز کر دیتا ۔۔۔ واپسی پر ہمیشہ بے حد خوش و خرم ہوتا۔۔۔ اور اپنے وسیع پیٹ پر ہاتھ پھیرکر کہتا ۔۔۔ بس پاکستان آنے کا مقصد پورا ہوگیا ہے۔۔۔ اب میں آئیندہ دو سال کے لئے بالکل تندرست رہوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
مستنصر حسین تارڑ کی کتاب ۔۔۔۔“ گزارا نہیں ہوتا“ سے اقتباس

Tahkkum

Posted by Unknown on 04:39 with No comments
تحکم
انسان کو غالباً سب سے زیادہ تحکم کا شوق ہے۔۔۔ وہ دوسروں پر کبھی خوشامد۔۔۔کبھی سزادے کر۔۔۔ اپنی انا کو پہچانتا رہتا ہے۔۔۔ تحکم زیادہ ہوتا چلا جائے ۔۔۔۔ تو خوداعتمادی میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔۔ دوسروں کی مرضی پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے مواقع کم ہوں۔۔۔ تواحساسِ کمتری بھڑنےلگتا ہے۔۔۔ مذہب۔۔۔قانون ۔۔۔ ماں۔۔۔۔ باپ ۔۔۔ استاد ۔۔۔۔ رسم۔۔۔۔ و۔۔۔۔رواج۔۔۔۔ کسی قسم کی بھی اطاعت ہو۔۔۔۔تو انسان تابع کی حیثیت میں فیصلےکرتا ہے۔۔۔ اسے فیصلوں کے لیے اپنے اند کے بجائے۔۔۔ باہر کی آواز حق پر اعتماد کرنا پڑتاہے۔۔۔ ماننے والے پر سے ۔۔۔۔ فیصلے کی ذمہ داری اٹھ جاتی ہے۔۔۔ اس بوجھ کے اٹھرے ہی۔۔۔۔ وہ صاحبِ اختیار بھی نہیں رہتا ۔۔۔۔ اور اسی لیے اپنے پر بھروسہ کرنا ۔۔۔ اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ترقی کے لیے اپنے فیصلے پر اعتماد کرنا انتہائی اہم ہے۔۔۔ اسی خد اعتمادی کے سہارے مغربی معاشرے میں ترقی کا پہیہ جام نہیں ہوتا۔۔۔۔
بانو قدسیہ کی کتاب”حاصل گھاٹ” سے اقتباس

Sorrow

Posted by Unknown on 04:35 with No comments
دُکھ
“ اللہ تعالیٰ“ جس کو اپنا آپ یاد دلانا چاہتا ہے۔۔۔۔۔ اسے دُکھ کا الیکٹرک شاک دے کر۔۔۔ اپنی جانب  متوجہ کر لیتا ہے۔۔۔۔ دُکھ کی بھٹی سے نکل کر انسان دوسروں کے لیے نرم پڑ جاتا ہے۔۔۔ پھر اس سے نیک اعمال خود بخود  ۔۔۔ اور بخوشی سرزد ہونے لگتے ہیں ۔۔۔ دُکھ تو روحانیت کی سیڑھی ہے۔۔۔ اس پر صابر و شاکر ہی چڑھ سکتے ہیں۔۔۔۔“
بانو قدسیہ کی کتاب  “ دست بستہ“ سے اقتباس

Jail

Posted by Unknown on 04:27 with No comments
قید
قید اس وقت شروع نہیں ہوتی جب سپاہی اپنے ہتھیار اتار کر دشمن سے سمجوتہ کر لیتا ہے بلکہ بے یقینی کا وہ مرحلہ اسے قیدی بناتا ہے جب پہلی بار اسے اپنے زور بازو پے یقین نہیں رہتا اور دشمن کی قوت کا اندازہ لگا کر اس سے بدکتا ہے۔
 
بانو قدسیہ۔۔۔۔   امر بیل ۔۔۔۔ سمجھوتہ سے اقتباس

Waiters

Posted by Unknown on 03:50 with No comments
انتظار کرنے والے
میں نے انتظار کرنے والوں کو دیکھا۔۔۔۔ انتظار کرتے کرتے سو جانے والوں کو بھی ۔۔۔۔ اور مر جانے والوں کو بھی ۔۔۔۔۔ میں نے مضطرب نگاہوں اور۔۔۔۔ بے چین بدنوں کو دیکھا ہے ۔۔۔۔۔ آہٹ پر لگے ہوئے کانوں کے زخموں کو دیکھا ہے ۔۔۔۔ انتظار میں کانپتے ہوئے ہاتھوں کو دیکھا ہے ۔۔۔۔ منتظر آدمی کے دو وجود ہوتے ہیں۔۔۔۔ ایک وہ ۔۔۔۔ جو مقررہ جگہ پہ انتظار کرتا ہے ۔۔۔ دوسرا وہ ۔۔۔ جو جسدِ خاکی سے جرا ہو کر پزیرائی کے لئے ۔۔۔ بہت دور نکل جاتا ہے ۔۔۔ جب انتظار کی گھڑیاں دنوں ۔۔۔۔ مہینوں ۔۔۔۔ اور سالوں پر پھیل جاتی ہیں۔۔۔ تو کبھی کبھی دوسرا وجود واپس نہیں آتا ۔۔۔ اور انتظار کرنے والے کا وجود ۔۔۔ اُس خالی ڈبے کی طرح رہ جاتا ہے ۔۔۔۔ جسے لوگ خوبصورت سمجھ کر سینت کے رکھ لیتے ہیں ۔۔۔۔ اور کبھی اپنے آپ سے جدا نہیں کرتے ۔۔۔۔ یہ خالی ڈبہ کئی بار بھرتا ہے ۔۔۔۔ قسم قسم کی چیزیں اپنے اندر سمیٹتا ہے ۔۔۔۔ لیکن اس میں “وہ“ لوٹ کر نہیں آتا جو پزیرائی کے لئے آگے نکل گیا تھا ۔۔۔۔ ایسے لوگ بڑے مطمئن اور۔۔۔ پورے طور پہ شانت ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔ ان مطمئن ۔۔۔۔ پُر سکون اور۔۔۔ شانت لوگوں کی پرسینلٹی میں بڑا چام ہوتا ہے ۔۔۔۔ اور انہیں اپنی باقی ماندہ زندگی اسی چارم کے سہارے گزارنی پڑتی ہے ۔۔۔۔ یہی چارم آپ کو سوفیا کی شخصیتوں میں نظر آئے گا۔۔۔۔۔ یہی چارم عمر قید یوں کے چہرے پر دکھائی دے گا۔۔۔ اور اسی چارم کی جھلک آپ کو عمر رسیدہ پروفیسروں کی آنکھوں میں نظر آئے گی ۔
( اشفاق احمد کی “ سفر در سفر“ سے انتخاب)

There Are Two Ways To Climb On The Roof

Posted by Unknown on 03:49 with No comments
چھت پر چڑھنے کے دو طریقے ہیں۔۔۔۔

ایک تو سیڑھی لگا کے زینہ بہ زینہ۔۔۔۔ اور دوسرا پھٹا لگا کے ڈھلوان پر آگے بڑھ چڑھ کے ، اوپر اٹھ اٹھ کے۔۔۔۔۔
سیڑھی والا تو یہ دیکھے گا کہ میں اتنے ڈنڈے چڑھ گیا اور اتنے باقی ہیں ۔۔۔۔
اور پھٹے والا دیکھے گا ابھی چھت دور ہے۔۔۔۔ اور ابھی بہت سا کام باقی ہے ۔۔۔۔۔
یہی حال دین کا ہے۔۔۔۔ کچھ لوگ تو سمجھتے ہیں اللہ کی طرف بڑھنے میں اتنے ڈنڈے چڑھ گئے ۔۔۔۔اس کا شکر ہے ۔۔۔۔
اور ہمیں بھی شاباش ہے کہ۔۔۔ ہم نے اتنی کوشش کر لی ۔۔۔۔
اب دو تین ڈنڈے اور باقی ہیں۔۔۔ وہ بھی طے کر لیں گے ۔۔۔
لیکن پھٹے لگا کر چڑھنے والا کہتا ہے۔۔۔۔ ابھی تک پتا نہیں کتنی منزل دور رہ گئی ہے ۔۔۔۔۔
جب تک اوپر نہیں پہنچا جاتا یہی سمجھے گا کہ۔۔۔۔ سفر جاری ہے ۔۔۔۔

از اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ٤٠١

Dua

Posted by Unknown on 03:47 with No comments
دعا۔۔۔۔۔۔۔“
خدا سے محبت اور۔۔۔ اس پر یقین کا یہ بھی ایک انداز ہے کہ ۔۔۔ ہم ناگہانی صورتحال میں اسے ہی یاد کرتے ہیں چاہے ۔۔۔۔ خوشی ۔۔۔ یا ۔۔۔ خوشحالی میں نہ یاد کریں۔۔۔۔
فرض کریں کہ ۔۔۔ ہم نے شیشہ پکڑا ہوا ہو۔۔۔ اور وہ ہمارے ہاتھ سے اچانک گرنے لگے تو۔۔۔ جوبھی پاس کھڑا ہوا ہوگا۔۔۔ وہ ضرور کہے گا۔۔۔۔۔“اللہ خیر۔۔۔۔“
اس کے بعد ڈانٹ ڈپٹ کرے گا۔۔۔۔ کہ اندھا ہے ۔۔۔ سنبھال کر ۔۔۔ اور مضبوطی سے کیوں نہیں پکڑا۔۔۔ ہماری بڑی بوڑھیوں میں یہ بات بڑی تھی کہ ۔۔۔ ہر وقت خدا سے خیر طلب کرتی رہتی تھیں۔۔۔ یہ بھی دعا کا ایک اپنا رنگ اور نرالا انداز ہے ۔۔۔۔۔۔
اشفاق احمد کی کتاب “ زاویہ “ سے اقتباس

Quaid Also Has A Sage

Posted by Unknown on 03:45 with No comments
قائدِ اعظم وہ بھی ایک بابا ہیں۔۔۔۔۔
قائداعظم وہ بھی ایک بابا ہیں۔۔۔ یہ گزر جانے والا فقیر جو داد و دہش کرتا ہے۔۔۔۔ یہ بھی اپنی طرز کا بابا ہے۔۔۔۔ تو اس میں ایک آخری بات جو بہت عجیب و غریب ہے۔۔۔ وہ یہ میرے بچے۔۔۔۔ میرے پوتے اور میری پوتیاں۔۔۔ اور بہت ذہین آپ جیسے لڑکے لڑکیاں۔۔۔۔ تھوڑے دن ہوئے۔۔۔۔ وہ بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔ اور یہ ذکر کر رہے تھے۔۔۔۔ آپس میں کہ اگر اوپر کے لوگ ٹھیک ہو جائیں۔۔۔ تو پھر نیچے کے لوگ خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔۔ یہ عام خیال ہے۔۔۔
 
میں نے کہا۔۔۔  مجھے اجازت دو گے۔۔۔۔ کہنے لگے نہیں بابا۔۔۔۔ آپ بالکل الٹی بات کیا کرتے ہیں۔۔۔۔ میں نے کہا۔۔۔۔ نہیں اتنی سی اجازت دو کہنے کی کہ اگر اوپر کے لوگ ٹھیک ہو جائیں۔۔۔ اور خدانخواستہ نیچے کے نہ ہوئے تو پھر۔۔۔ ہم کیا کریں گے۔۔۔۔ کہنے لگے نہیں۔۔۔ دیکھیے یہ مفروضہ نہیں۔۔۔ اوپر سے دیکھ کر ہی لوگ متاثر ہوتے ہیں۔۔۔۔ اور وہی کرتے ہیں۔۔۔۔ میں نے کہا۔۔۔ پیارے بچو یاد رکھو۔۔۔ اور لکھ لو اسے اپنے دل کی ڈائری میں کہ۔۔۔۔۔ ایک ملک بنام پاکستان۔۔۔ اور اس کے رہنے والے پاکستانی۔۔۔ دنیا کی اس خوش قسمت ترین قوم میں سے ہیں۔۔۔ جن کو نہایت نیک، نہایت ایماندار، نہایت Honest، نہایت شفاف، نہایت ذہین، نہایت بڑا سائنسدان، نہایت دوسری زبان جاننے والا، نہایت اعلی درجے کا وکیل عطا کیا ہے۔۔۔۔۔ اور جس نے اس قوم سے تانبے کا ایک پیسہ بھی محنت کے طور پر نہیں لیا۔۔۔ اور کمال کی اس نے لیڈرشپ فراہم کی۔۔۔۔۔ جو آپ آج مانگ رہے ہیں۔۔۔۔۔ لیکن قوم نے اس کے جواب میں کیا کیا کہ۔۔۔۔ ائیر پورٹ کے آدھے راستے کے اوپر اس کی موٹر کار کا پیٹرول ختم ہو گیا۔۔۔۔۔ اور اس نے اپنی جان آدھے راستے میں جانِ آفریں کے حوالے کر دی۔۔۔۔۔ یہ ہوتا ہے زندگی میں۔۔۔۔ اس بات کی تلاش نہ کرو کہ ۔۔۔۔وہاں سے ٹھیک ہوں گے تو نیچے آئیں گے۔۔۔۔۔ ہم سب کو اپنے اپنے مقام پر ٹھیک ہونا ہے۔۔۔۔۔ خدا کے واسطے۔۔۔۔ یہ مت کہا کرو۔۔۔۔ اے پیارے مزدور۔۔۔ کسانوں۔۔۔ ان پڑھ لوگو ۔۔۔! کہ اگر بڑے لوگ نماز پڑھیں گے تو ہم پڑھیں گے۔۔۔۔۔ ورنہ تب تک ہم بیٹھے ہیں۔۔۔۔ نماز تو تمہاری اپنی ہے بابا۔۔۔۔ اچھے ہونا تو تمہارے اپنے بس میں ہے۔۔۔۔ ذمہ داری تو ہماری اپنی ہے۔۔۔۔ یہ کیا بہانہ لے کر بیٹھ گئے۔۔۔ یہ بات جو میں نے اپنے بچوں سے کہی۔۔۔۔ یہ میں آپ سے بھی کہنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔ اور کہہ رہا ہوں۔۔۔ اور بڑی در مندی کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔۔۔۔ اور اس دین کو۔۔۔۔ اس ذمہ داری کو۔۔۔ جو ہمارے کندھوں کے اوپر ہے۔۔۔۔ اور جس کا ہم مداوا نہیں کر سکتے کہ ۔۔۔۔ہم نے کیا سلوک کیا۔۔۔ وہ شرمندگی ہمارے ساتھ ہے۔۔۔۔ اور ہمارے ساتھ چلتی رہے گی۔۔۔ اور ہم سارے کے سارے اس کے دیندار ہیں۔۔۔۔ کسی ایک بندے کو۔۔۔ یا کسی ایک حکومت کو۔۔۔۔ یا کسی ایک سسٹم کو۔۔۔ اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جیسا کہ میں نے پچھلے پروگرام میں عرض کیا تھا کہ یہ ملک۔۔۔۔ یہ پاکستان۔۔۔ یہ حضرت صالح کی اونٹنی ہے۔۔۔۔ اس کا احترام اور اس کا ادب ہم پر واجب ہے۔۔۔۔ حکومت کا بالکل خیال نہ کریں۔۔۔۔ حکومت والوں کا نہ ادب کریں۔۔۔ ان کو نہ مانیں۔۔۔ جو کہنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ ان کے خلاف کہیں۔۔۔ مجھے اعتراض نہیں۔۔۔۔ لیکن اس ملک کے اس سر زمین کے۔۔۔۔ اس دھرتی کے خلاف اگر آپ نے کوئی بات کی تو پکڑے جائیں گے۔۔۔۔ اور بڑے عذاب کی صورت سے گزریں گے۔۔۔ الحمدللہ ابھی تک کسی نے ملک کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔۔۔ باریکیاں سی نکال کے کچھ سیاست میں سے الٹی پلٹی باتیں بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔۔۔ اور اگر آپ کو کوئی دریدہ دہن ۔۔۔۔۔ یا ایسا گندا ذہن آدمی ملے۔۔۔۔۔ جو قائداعظم کی ذات میں کوئی کیڑے نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔۔ تو اس کو ضرور قریب سے جا کر دیکھیں۔۔۔۔ وہ دینے والوں میں سے نہیں ہو گا۔۔۔۔لینے والوں میں سے ہو گا۔۔۔۔
اشفاق احمد

Man Stands In The Way Of Her Wishes

Posted by Unknown on 03:42 with No comments
انسان اپنی خواہش پوری ہونے کی راہ میں خود حائل ہو جاتا ہے
میری اور میری آپا کی۔۔۔ ایک بڑی بے چینی ہوتی تھی کہ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے اپنی چتری مرغی کے نیچے انڈے رکھے تھے کہ ۔ ۔ ۔ اس میں سے چوزے نکلیں گے ۔ ۔ ۔ اور ہم دونوں اس بات کے بہت شوقین تھے۔ ۔ ۔ ۔ اب اس کے تئیس دن بعد چوزوں کو نکلنا تھا۔ ۔ ۔ ۔  ہم میں یہ خرابی تھی کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر تیسرے چوتھے دن بعد ایک دو انڈے نکال کر انہیں سورج میں کر کے دیکھتے تھے۔ ۔ ۔۔  آیا ان کے اندر ایمبریو بنا ہے کہ نہیں۔ ۔ ۔ تو خاک اس میں سے چوزہ نکلنا تھا۔ ۔ ۔ ۔ بار بار اٹھا کے دیکھتے تھے۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر جا کر رکھ دیتے تھے۔ ۔ ۔  آخر میں ہماری والدہ نے کہنا۔ ۔ ۔ ۔ خدا کے واسطے یہ نہ کیا کرو۔ ۔ ۔ ۔ اس لیے جب آپ نے پورے ایک فریم ورک کے اندر ارادہ باندھ کے چھوڑ دیا۔ ۔ ۔ ۔ پھر اس کو راستہ دو۔۔ ۔ ۔ ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ خدا کے لیے اپنی آرزو کو راستہ دو۔ ۔ ۔ ۔ اچھی بری جیسی کیسی ہے ۔ ۔ ۔ اس کو راستہ دو ۔ ۔ ۔ اس کے راستے میں کھڑے نہ ہوں ۔ ۔۔ ۔  آپ اگر غور کریں گے تو۔ ۔ ۔ آپ کو محسوس ہو گا کہ ۔ ۔ ۔ ۔بہت سے مقامات پر آپ خود اس کے راستے پر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور اپنی ساری خوبیوں کو خود ہی خرابیوں میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر الزام دوسروں کو دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اتنی تو آپ میں صلاحیت ہونی چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔ یہ الزام مجھے اپنی ذات پر دینا چاہیے ۔ ۔ ۔  دیکھیے آپ نے جب ایک چٹھی لیٹر بکس میں ڈال دی۔ ۔ ۔ ۔ تو پھر اس کے پاس جا کر کھڑے نہ ہوں کہ ۔ ۔ ۔۔  کب نکلتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکیا اسے کہاں لے جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اگر آپ اس خط کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ ۔ ۔ ۔ تو پھر وہ ساہیوال کبھی بھی نہیں پہنچ سکے گی۔ ۔ ۔ ۔ آپ بار بار پوچھیں ۔ ۔ ۔  بھئی یہ کدھر لے جا رہا ہے ۔ ۔۔  کس گاڑی میں چڑھا دیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ میں تو یہ چاہتا تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ تیز والی پر جائے۔ ۔ ۔ ۔ جب آپ کی خواہشیں ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ اس میں رخنے اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ آپ کر چکنے کے بعد بھی اس میں رائے اپنی دیتے رہتے ہیں۔۔۔ میں اکثر دیکھتا ہوں اور تکلیف بھی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مثلاً بچیوں کی شادیاں ایک بڑا مسئلہ ہے  ۔ ۔ ۔اور بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ۔ ۔۔  اس میں والدین کو بڑی تکلیف ہوتی ہے ۔ ۔۔  اور وہ چاہتے ہیں کہ جلدی ہو ۔ ۔ ۔ اور یہ ہے بھی ٹھیک بات ۔ ۔ ۔  لیکن ایک مرتبہ آرزو کر چکنے کے بعد وہ پھر اتنا زور لگانا شروع کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور اس کو اللہ پر چھوڑنے کی بجائے ۔ ۔ ۔ یا اس آرزو پر چھوڑنے کے بجائے ۔ ۔ ۔ ۔ جو آپ نے اپنے اللہ کے ساتھ باندھ دی ہے ۔ ۔ ۔ پھر اس میں اپنی ذات داخل کرتے رہنا ۔ ۔ ۔ اور وہ آپ کی ذات اس میں داخل ہو کر کبھی بھی آپ کی مدد نہیں کر سکتی ۔ ۔ ۔ ۔
“زاویہ” اشفاق احمد

Opinion and Soul

Posted by Unknown on 03:40 with No comments
قول اور نفس

    ایک بادشاہ تھے۔۔۔۔ ان کے ایک پیر تھے ۔۔۔۔ اور ان کے بہت بہت ۔۔۔۔پیروکار اور مرید تھے ۔۔۔ بادشاہ نے بہت خوش ہو کر ۔۔۔۔اپنے مرشد سے کہا کہ۔۔۔۔ آپ بہت خوش نصیب آدمی ہیں۔۔۔۔ آپ کے معتقدین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ۔۔۔۔ انھیں گنا بھی نہیں جا سکتا ۔۔۔۔مرشد نے کہا۔۔۔۔ ان میں سے صرف ڈیڑھ شخص ایسا ہے ۔۔۔۔جو میری عقیدت والا ہے ۔۔۔۔اور مجھ پر جاں نثاری کر سکتا ہے ۔۔۔۔اور مجھ کو مانتا ہے۔۔۔۔ اور باقی کے ایسے ہی ہیں ۔۔۔۔ بادشاہ بہت حیران ہوا کہ یہ پچاس ہزار میں سے صرف۔۔۔۔ ڈیڑھ کیسے کہ رہا ہے ۔۔۔۔ مرشد نے کہا کہ ۔۔۔۔ان کے نفس کا ٹیسٹ کرتے ہیں۔۔۔۔ تب آپ کو پتا چلے گا ۔۔۔۔تو انھوں نے کہا کہ۔۔۔۔ اس میدان کے اوپر ایک ٹیلہ ہے ۔۔۔۔اور اس ٹیلہ کے اوپر آپ مجھے ایک جھونپڑی بنوادیں ۔۔۔۔فوراً رات کی رات میں بنوا دیں۔۔ بادشاہ نے جھونپڑی بنوا دی ۔۔۔۔ اس جھونپڑی میں اس بزرگ نے دو بکرے باندھ دیے ۔۔۔۔ اور کسی کو پتا نہیں کہ۔۔۔۔ اس میں دو بکرے باندھے گئے ہیں ۔۔۔۔ اور پھر وہ جھونپڑی سے باہر نکلا اور اونچی آواز میں کہا ۔۔۔ ہے کوئی میرے سارے مریدین میں سے ۔۔۔۔جو مجھ پر جان چھڑکتا ہو۔۔۔۔ ؟  میری بات دل کی گہرائیوں سے مانتا ہو۔۔۔۔ ؟ بری اچھی میں ساتھ دینے والا ہو۔۔۔۔اور جو قربانی میں اس سے مانگوں وہ دے ۔۔۔۔ اگر کوئی ایسا ہے۔۔۔۔ تو میرے پاس آئے ۔۔۔۔
اب اس پچاس ہزار کے جم غفیر میں سے صرف ایک آدمی اٹھا ۔۔۔۔  وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا ۔۔۔۔ڈھیلے پاؤں رکھتا ہوا۔۔۔۔ اس کے پاس گیا۔۔۔۔
مرشد نے کہا۔۔۔۔ تجھ میں یہ دم خم ہے۔۔۔۔ ؟
اس نے کہا۔۔۔۔ ہاں ہے ۔۔۔۔
کہا ۔۔۔۔ آ میرے ساتھ ۔۔۔۔
اس نے اس کی کلائی پکڑی ۔۔۔۔ اس کو جھگی کے اندر لے گیا ا۔۔۔۔ور وہاں کھڑا کر دیا ۔۔۔۔ اور کہا خاموشی کے ساتھ کھڑا رہ ۔۔۔۔
پھر اس نے ایک بکرے کو لٹایا ۔۔۔۔ چھری نکالی اور اسے ذبح کر دیا ۔۔۔۔ جھونپڑی کی نالی کے پاس ۔۔۔۔اور جب وہ خون نکلا تو ۔۔۔۔ پچاس ہزار کے گروہ نے دیکھا ۔۔۔۔ اور وہ خون آلود چھری لے کر باہر نکلا ۔۔۔۔اور کہا قربانی دینے والے شخص نے قربانی دے دی ۔۔۔۔  میں اس سے پوری طرح مطمئن ہوں۔۔۔۔ اس نے بہت اچھا فعل کیا۔۔۔۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا تو۔۔۔۔ حیران اور پریشان ہو گئے ۔۔۔۔ اب ان میں سے لوگ آہستہ آہستہ کھسکنے لگے ۔۔۔۔ کچھ جوتیاں پہن کر۔۔۔۔ کچھ جوتیا چھوڑ کر ۔۔۔۔ تو انھوں نے کہا اے لوگو ۔۔۔۔! قول کے آدمی نہ بننا ۔۔۔۔صرف مضبوطی۔۔۔۔ اور استقامت۔۔۔۔ کے ساتھ کھڑے رہنے کی کوشش کرنا ۔۔۔۔ اب میں پھر ایک اور صاحب سے کہتا ہوں۔۔۔۔ وہ بھی اپنے آپ کو قربانی دینے کے لئے پیش کرے ۔۔۔۔  اور میرے پاس آئے کیونکہ۔۔۔۔ یہ اس کے نفس کا ٹیسٹ ہے ۔۔۔۔
تو سناٹا چھایا ہوا تھا ۔۔۔۔ کوئی آگے نہ بڑھا ۔۔۔۔ اس دوران ایک عورت کھڑی ہوئی۔۔۔۔ تو اس نے کہا۔۔۔۔! 
" اے آقا ۔۔۔۔ میں تیار ہوں ۔۔۔۔"
اس نے کہا ۔۔۔۔  بیبی آ ۔۔۔۔
چنانچہ وہ بیبی۔۔۔۔ چلتے چلتے جھگی میں گئی ۔۔۔۔ اس بیچاری کے ساتھ بھی وہی ہوا۔۔۔۔ جو پہلے کے ساتھ ہوا ۔۔۔۔ 
اندر اسے کھڑا کیا ۔۔۔۔اور دوسرا بکرا ذبح کر دیا ۔۔۔۔ اور اس کے پرنالے سے خون کے فوارے چھوٹے۔۔۔۔
جب یہ واقعہ ہو چکا ۔۔۔۔تو بادشاہ نے کہا ۔۔۔۔آپ صحیح کہتے تھے ۔۔۔۔  کیونکہ وہ میدان سارا خالی ہوگیا تھا ۔۔۔۔ 
پچاس ہزار آدمی ان میں سے۔۔۔۔ ایک بھی نہیں ہے ۔۔۔۔
انھوں نے کہا۔۔۔۔ میں نے کہا تھا ۔۔۔۔میرے ماننے والوں میں سے صرف ڈیڑھ شخص ہے ۔۔۔۔ جو مانتا ہے۔۔۔۔ بادشاہ نے کہا۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ میں بھی مان گیا ۔۔۔۔ اور سمجھ بھی گیا ۔۔۔۔ اور وہ شخص تھا۔۔۔۔ وہ مرد تھا وہ پورا تھا ۔۔۔۔ جب کہ وہ عورت جو تھی۔۔۔۔ وہ آدھی تھی ۔۔۔۔
اس نے کہا نہیں۔۔۔۔ بادشاہ سلامت یہ مرد آدھا تھا۔۔۔۔ اور عورت پوری تھی ۔۔۔۔ 
پہلا جو آیا تھا۔۔۔۔ اس نے کوئی خون نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔ 
اس بیبی نے دیکھا ۔۔۔۔ جو واقعہ گزرا پھر بھی اٹھ کر آنے کے لئے تیار ہوئی تھی ۔۔۔۔اس لیے وہ خاتون سالم Entity پر ہے ۔۔۔۔ اور آدھا وہ مرد ہے ۔۔۔۔
میرے ماننے والوں میں ڈیڑھ لوگ ہیں۔۔۔۔ باقی سارے نفس کے بندے ہیں ۔۔۔۔
    اشفاق احمدکی کتاب  زاویہ سے اقتباس

Arrogant

Posted by Unknown on 03:36 with No comments
تکبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اکثر لوگوں میں تکبر ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ مگر ان کا نفس ان کو پتا نہیں چلنے دیتا ۔۔۔۔چنانچہ اگر کوئی شخص۔۔۔۔ ان کی مرضی کے مطابق نہ کرے۔۔۔۔ اور اس پر انھیں غصہ آئے ۔۔۔۔۔تو وہ اس کی تاویل یہ پیش کرتے ہیں کہ۔۔۔۔ چونکہ میرا اس شخص پر حق ہے ۔۔۔۔۔اور اس نے حق ادا نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے مجھے غصہ آگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کوئی ان سے یہ پوچھے کہ۔۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں کا آپ پر حق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آپ ان کے حقوق ادا نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔تو پھر آپ کیساتھ کیا سلوک کیا جائے ۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جن کا آپ کی ایک ایک سانس پر حق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے حقوق ادا کرتے وقت آپ کیا کرتے ہیں۔۔۔ ؟
"اشفاق احمد" کی کتاب "زاویہ" سے اقتباس

Our Behavior

Posted by Unknown on 03:33 with No comments
ہمارے روئیے
ہمارے رویے بھی عحیب ہیں ۔۔۔۔۔ رجوع اللہ کی طرف نہیں ہے ۔۔۔ اپنے معاملات اور خواہشات کی طرف زیادہ ہے ۔۔۔ حالانکہ اللہ نے ہمیں جو پرچہ زندگی حل کرنے کے لیے دیا ہے۔۔۔ اس کو حل کرنے کی ترکیب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔کے ذریعے ہمیں دے دی گئی ہے ۔۔۔ لیکن اسی مقام سے میری کوتاہی شروع ہو جاتی ہے کہ۔۔۔ ہم اس ترکیب پر عمل نہیں کرتے۔۔۔ میں آپ سے بھی رائے لوں گا کہ ۔۔۔ میں اس کوتاہی سے باہر نکلنے کے لیے کیا کروں ۔۔۔؟ میں ڈاکٹر کی دی ہوئی دوائی استعمال کرتے وقت پرچہ ترکیب ضرور دیکھتا ہوں ۔۔۔۔۔ پرچہ زندگی حل کرتے وقت خدا کے دیئے گئے احکامات یا ۔۔۔۔ دی گئی ترکیب کو نظر انداز کر دیتا ہوں " ۔
“از اشفاق احمد”۔۔۔۔۔ زاویہ"

Pakistan Is The Camel Of Hazrat Salih A.S

Posted by Unknown on 03:32 with No comments
پاکستان, حضرت صالحٕ علیہ اسلام کی اونٹنی

ایک دفعہ مجھے ایک دوست کے پوتے کی شادی میں اسلام آباد جانا ہوا ۔۔۔تو اسلام آباد پہنچ کر مجھے ایک پیغام ملا کہ ایک بابا ہیں جو آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔۔میں بابوں کا بڑا دیوانہ ہوں۔۔۔۔لیکن بابوں کے زائچے۔۔۔،بابوں کی شکل و صورت اور ان کے ڈھانچے۔۔۔،ان کے مزاج بدلتے رہتے ہیں۔۔۔۔ہر بابا میٹھا بابا نہیں ہوتا۔۔۔۔چنانچہ میں ان سے ملنے ان کے پاس گیا۔۔۔۔جب میں ان کے پاس گیا تو کہنے لگے۔۔۔۔تم بڑی مٹھار مٹھر کے باتیں بناتے ہو۔۔۔۔میں تم کو وارن کرتا ہوں۔۔۔۔وارن کرنے کے لیے بلایا ہے یہاں پر۔۔۔۔تم لوگ بہت بے خیال ہو گیے ہو۔۔۔ اور تم لوگوں نے توجہ دینا چھوڑ دی ہے۔۔۔ اور تم ایک بہت خوفناک منزل کی طرف رجوٕع کر رہے ہو۔۔۔۔
دیکھو کہنے لگے۔۔۔،میں تم کو بتاتا ہوں یہ پاکستاں ملک ایک معجزہ ہے۔۔۔،یہ جغرافیائی حقیقت نہیں ہے۔۔۔۔تم بار بار کہا کرتے ہو۔۔۔۔ہم نے یہ کیا۔۔۔،پھر یہ کیا۔۔۔،پھر سیاست کے میدان میں یہ کیا۔۔۔،پھر اپنے قائد کے پیچھے چلے۔۔۔،ہم نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔۔۔۔ایسے مت کہو۔۔۔۔
پاکستان کا وجود میں آنا ایک معجزہ تھا۔۔۔۔،یہ اتنا بڑا معجزہ ہے جتنا قوم ثمود کے لیے اونٹنی کے پیدا ہونے کا تھا۔۔۔۔اگر تم اس پاکستان کو حضرت صالحٕ علیہ اسلام کی اونٹنی سمجھنا چھوڑ دو گے۔۔۔،نہ تم رہو گے ۔۔۔نہ تمہاری یادیں رہیں گی۔۔۔ 
 از اشفاق احمد۔۔۔۔زاویہ

Saturday, 20 July 2013

Attendance in Haram

Posted by Unknown on 04:37 with No comments
حرم میں حاضری ۔۔۔۔۔
اللہ والوں کے لیےحرم میں حاضری۔۔۔۔ ایک امتحان ہوتا ہے ۔۔۔ جس طرح عام لوگ جوتا اتار کرحرم میں اندر داخل ہوتے ہیں ۔۔۔ اسی طرح اللہ والے اپنا مرتبہ اور۔۔۔ مقام کا عمامہ حرم شریف کی ڈیوڑھی سے باہر اتار کر عام آدمی کی حثیت سے اندر داخل ہوتے ہیں ۔۔۔ اور کوئی فرد یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ جب وہ باہر نکلے گا تو۔۔۔ اس کا عمامہ ۔۔۔۔ مقام۔۔۔ یا مرتبہ ۔۔۔ اسے واپس مل جائےگا۔۔۔“

ممتاز مفتی کی کتاب “ لبیک “ سے اقتباس