Showing posts with label Ummahat Al Mu'mineen. Show all posts
Showing posts with label Ummahat Al Mu'mineen. Show all posts

Tuesday, 23 April 2013

آنحضور کی چہیتی زوجہ مطہرہ حضرت عائشۃ صدیقہ رضی اللہ عنہا

طبعی میلان :۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مرد صحابہ میں سے سب سے زیادہ محبت اور تعلق خاطر حضرت ابو بکر صدیق
رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ امہات المو منین میں سے سب سے زیادہ قلبی محبت اور طبعی میلان حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے برتاؤ کے لحاظ سے اپنی ازواج کے درمیان مکمل عدل و مساوات قائم رکھتے تھے۔ جہاں تک طبعی میلان کا تعلق ہے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کیا کرتے تھے کہ اس پر آپ کا اختیار نہیں اس لیے اس پر مواخذہ نہ کیا جائے۔ یہ حقیقت ہے کہ طبعی میلان پر انسان کا زور و اختیار نہیں ہوتا۔ ظاہری معاملات میں بھی وہی شخص انصاف کا مظاہرہ کر سکتا ہے جو اللہ کے خوف سے مالا مال ہو۔

ذہانت کا نمونہ :۔
حضرت عائشہ صدیقہ
رضی اللہ عنہا بہت خوب صورت بھی تھیں اور نہایت زیرک و سمجھ دار بھی۔ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں تحقیق شدہ روایات کے مطابق12 یا15 سال کی عمر میں آئیں۔ ان کی ذہانت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب وہ بالکل چھوٹی بچی تھیں اور اپنی ہم عمر بچیوں کے ساتھ کھلونوں سے کھیل رہی تھیں تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ان بچیوں کے پاس سے گزر ہوا۔ بچیوں کے کھلونوں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک گھوڑا تھا جس کے پر تھے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا عائشہ رضی اللہ عنہا یہ کیا ہے تو انھوں نے جواب میں کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ گھوڑا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” گھوڑا کیسے ہے ؟ گھوڑوں کے تو پر نہیں ہوتے “۔ اس پر بنت ِ صدیق نے نہایت معصومانہ انداز میں ایک پتے کی بات کہی۔ عرض کیا ”اے اللہ کے نبی حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھوڑوں کے تو پر تھے۔ “ اس ذہانت بھرے جواب پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور چہرہ انور متبسم ہو گیا۔

رخصتی :۔
روایات میں آتاہے کہ مہاجرین مکہ کو مدینہ آ کر آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے آغاز میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ حضرت ابو بکر صدیق اور ان کی بیٹی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنمھا بھی شدید بیمار پڑ گئے ۔ جب حضرت عائشہ صحت یاب ہو ئیں تو حضرت ابو بکر نے آنحضور سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب آپ اپنی اہلیہ کو اپنے گھر کیوں نہیں لے جاتے ۔ نکاح اس سے پہلے ہو چکا تھا ، رخصتی ابھی عمل میں نہیں آئی تھی ۔ نکاح کے وقت حق مہر طے ہو گیا تھا جو پانچ سو درہم تھا مگر ابھی تک اس کی ادائیگی نہیں ہوئی تھی ۔ آنحضور
صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چاہتے تھے کہ مہر کی ادائیگی کے بغیر زوجہ مطہرہ کی رخصتی عمل میں آئے ۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی اس بات کا علم تھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فقر و فاقہ کا شکار ہیں چنانچہ انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خود رضا کارانہ طور پر پانچ سو درہم قرض حسنہ کے طور پر پیش کیے۔ آپ نے اپنے یار غار کی پیش کش قبول کی اور قرض کی یہ رقم لے کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو ادا کر دی ۔ نکاح اور رخصتی کے درمیان تقریباً دو سال کا عرصہ گزرا ۔ حضرت عائشہ ؓ کی عمر اس وقت سولہ یا سترہ سال تھی۔

درد ناک واقعہ :۔

  بیت نبوی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ماہ و سال میں کئی نشیب و فراز نظر آتے ہیں ۔ سب سے بڑا واقعہ جس نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پریشانی میں مبتلا کیے رکھا واقعہ افک ہے ۔ یہ غزوہ بنی المصطلق کے سفر میں پیش آیا ۔ حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق منہ اندھیرے قافلہ چل پڑا ۔اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رفع حاجت کے لیے جنگل کی طرف نکلی ہوئی تھیں۔ کجاوہ اٹھا کر اونٹ پر رکھنے والے صحابہ یہ سمجھے کہ شاید زوجہ مطہرہ اس میں تشریف فرما ہیں لیکن وہ اس میں موجود نہ تھیں۔ اس بے خبری میں فوج کوچ کر گئی ۔ آپ رضی اللہ عنہا واپس آئیں تو اس خیال سے وہیں مقیم ہو گئیں کہ جب قافلے کو معلوم ہوگا کہ میں ہودج میں نہیں ہوں تو واپس پلٹیں گے۔ اس وقت رات ابھی باقی تھی اس لیے بیٹھے بیٹھے انہیں نیند آ گئی ۔ وہیں زمین پر لیٹیں اور سو گئیں۔
حضرت صفوان رضی اللہ عنہ جن کی دربار ِ رسالت کی طرف سے یہ ذمہ داری ہوا کرتی تھی کہ رات کو کوچ کی صورت میں وہ قیام گاہ پر رک جایا کریں اور صبح روشنی ہونے پر ساری قیام گاہ کا جائزہ لے لیا کریں کہ کسی کی کوئی چیز تو پیچھے نہیں رہ گئی ۔ اس صبح جب وہ اٹھے تو ام المومنین کو وہاں موجود پایا ۔ انہوں نے اپنااونٹ قریب لا کر بٹھا دیا اور دوسری طرف منہ کر کے بلند آواز سے انا للہ پڑا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آنکھ کھل گئی۔ حضرت صفوان بن معطل ایک بہت نیک سیرت انسان تھے۔ حضرت عائشہ بلا خوف و خطر اونٹ پر سوار ہو گئیں۔ صحابی رسول نے اونٹ کی نکیل پکڑی اور ام المومنین
رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کر فوج کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے۔

منافقین کی خباثت :۔

اس واقعہ کو بنیاد بنا کر منافقین نے ایک طوفان اٹھایا۔ عبداللہ بن ابی ّ اس سارے فتنے کا سرغنہ تھا۔ پاکدامن صدیقہ پر یہ تہمت اتنی بڑی جسارت تھی کہ اس کا تصور بھی ناممکن ہے لیکن بہر حال یہ واقعہ افک رونما ہوا اور جھوٹے پراپیگنڈے سے تین مخلص صحابہ بھی متاثر ہوگئے یعنی حضرت حسان بن ثابت ، حضرت مسطح بن اثاثہ اور حضرت حمنہ بنت ِ جحش رضی اللہ تعالی عنھم۔ منافقین کئی دنوں تک اس اذیت ناک صورتحال کو ہوا دیتے رہے۔ اللہ کے رسول
صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر یہ لمحات کس قدرگراں تھے اس کا تصور کر کے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اس سارے طوفان کا پتہ کئی دن بعد چلا جب ان کی رشتے کی خالہ اور مسطح کی والدہ نے اپنے بیٹے کو بد دعا دی ۔ انہیں تعجب ہوا کہ اتنے اچھے بیٹے کو بد دعا کیوں دی جا رہی ہے ۔ اس موقع پر ان کی خالہ کی زبانی ان کے سامنے حقیقت حال کھلی۔

اذیت کے شب و روز :۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ قضائے حاجت کے لیےگھر سے باہر جارہی تھیں ۔ اس بات کا سننا تھاکہ عائشہ صدیقہ
رضی اللہ عنہا پر سکتہ طاری ہو گیا ۔ وہ ہر چیز کو بھول گئیں اور پریشانی کے عالم میں وہیں سے واپس اپنے والد کے گھر لوٹ گئیں۔ فتنے کے یہ سارے ایام ان کے لیے سوہان روح تھے۔ وہ بستر سے لگ گئیں ۔ کسی سے بولتی چالتی بھی نہیں تھیں ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ ان کی زوجہ بالکل بے گناہ ہیں اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی یقین تھا کہ ان کی بیٹی میں کوئی عیب نہیں ۔ عام صحابہ بھی اس بات پہ مطمئن تھے کہ صدیقہ پر لگنے والا الزام جھوٹ ہے لیکن ابھی تک ہر جانب خاموشی تھی تاآنکہ خود رب کائنات نے اس خاموشی کو توڑا۔ سورہ نور میں وہ آیات نازل ہوئیں جنھوں نے منافقین کے منہ میں خاک ڈال دی ۔ بہک جانے والے مسلمانوں کو کذب کی سزا بھگتنا پڑی اور پورے معاشرے کو سرزنش کی گئی کہ کیوں نہ مسلمان مرد اور عورتیں اس افترا کو سنتے ہی پکار اٹھے کہ یہ افک مبین ہے ۔ یوں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بے داغ کردار قرآن کے صفحات کی زینت بن گیا۔

مناقب عائشہ
رضی اللہ عنہا
حضرت عائشہ
رضی اللہ عنہا کی برات کا حکم آیا تو ان کے والدین نے کہا کہ چلو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ادا کرو ۔ انہوں نے بے ساختہ کہا کہ میں تو اللہ کے سامنے سجدہ شکر ادا کرتی ہوں جس نے میری برات کا اعلان کیا ہے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑی محبت کیا کرتے تھے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشہور قول ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خواتین پر ویسی ہی فضیلت حاصل ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کو ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مقیم تھے ۔ان دنوں چونکہ آپ کا دوسری امہات المومنین کے حجروں میں منتقل ہونا تکلیف کا باعث ہو سکتا تھا لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے اجازت لے لی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ہی آپ مقیم رہیں ۔ ان ایام میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دن رات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اور تیمار داری کرتی رہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بھی اعزاز ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت انہی کے حجرے میں ہوئی اور پھر یہیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آخرم آرام گاہ بنی ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا جب آپ کی روح رفیق اعلیٰ کی جانب محو پرواز ہو گئی۔

بڑے دل والے :۔
حضرت عائشہ
رضی اللہ عنہا بہت عالم و فاضل خاتون تھیں۔ وہ مفسرہ قرآن اور محدثہ بھی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجے کی فقاہت بھی انہیں حاصل تھی ۔ ان کی عظمت کے کیا کہنے کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ جنہوں نے واقعہ افک میں غلط فہمی کی بنیاد پر غلطی کر لی تھی انہیں نہ صرف معاف کر دیا بلکہ اگر کوئی انہیں اس واقعہ کے حوالے سے برا بھلا کہتا تو اسے سختی سے منع فرما دیا کرتیں۔ ان کے مناقب بیان کرتے ہوئے کہتیں کہ یہ وہ عظیم شخص ہے جس نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی طرف سے اپنے لازوال اشعار میں کفار کے زہریلے اشعار کا مسکت جواب دیا تھا ۔ اسی طرح انہوں نے حضرت حمنہ اور حضرت مسطح کو بھی معاف کر دیا تھا۔
حضرت ابو بکر مسطح کی غربت کی وجہ سے ان کے پورے گھرانے کی کفالت کیا کرتے تھے ۔ اس واقعہ کے بعد انہوں نے قسم کھا لی کہ اس شخص کی مدد نہیں کریں گے لیکن جب صدیقہ کی برات و پاکدامنی کی گواہی وحی میں آئی اور ساتھ ہی سورہ نور کی آیت نمبر22 میں یہ حکم آیا ” تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتے دار ، مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے ۔ انہیں معاف کر دینا چاہیے اور در گزر کرنا چاہیے ۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفورا ور رحیم ہے۔“ تو انہوں نے فوراً رجوع کر لیا ۔ قسم کا کفارہ ادا کیا اور حضرت مسطح کی حسب سابق امداد بحال کر دی۔ یہ بڑے دل والے لوگ تھے۔ عظمت کی ہر چوٹی انہوں نے سر کر لی ۔


جنگ جمل کا افسوسناک واقعہ :۔

حضرت عائشہ صدیقہ
رضی اللہ عنہا اگرچہ جنگ جمل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے پر نکل کھڑی ہوئی تھیں لیکن بعد میں انہیں اس غلطی کا افسوس ہوا ۔اس جنگ کو یاد کر کے بے ساختہ رونے لگتیں اور کہا کرتیں اے کاش میں اپنے گھر سے نہ نکلی ہوتی ۔ اے کاش میں بیس سال پہلے فوت ہو گئی ہوتی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ہمیشہ ان کا ذکر خیر کیا اور ا ن کی اسلامی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ۔

علم و عرفان کا سورج :۔

حضرت عائشہ
رضی اللہ عنہا نے مدینہ منورہ میں وفات پائی تو ان کی عمر تقریباً73 سال تھی ۔ ان کی وفات پر پورے عالم اسلام میں غم کی لہر دوڑ گئی ۔ روایات میں آتاہے کہ رات کے وقت ان کا جنازہ اٹھا تو مدینے کی گلیوں میں ہجوم تھا اور جنت البقیع میں ہر جانب انسان ہی انسان تھے محدث صحابی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور وہ جنت البقیع میں آسودہ خاک ہوئیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کوئی اولاد نہیں تھی ۔ وہ ام عبداللہ کی کنیت سے معروف تھیں لیکن یہ عبداللہ ان کے بیٹے نہیں بھانجے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ کنیت بھی انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے اختیار کی تھی ۔ ان کے اٹھ جانے سے علم و عرفان کا سورج غروب ہو گیا اور فقہ و اجتہاد کا بڑا دریا خشک ہو گیا ۔ انہوں نے صحابہ و تابعین کی صورت میں ہزاروں مرد و خواتین شاگرد اپنے پیچھے چھوڑے ۔ رضی اللہ عنھا و رضیت عنہ
حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا

نام ونسب

زینب نام تھا سلسلہ نسب اس طرح ہے
زینب بنت خزیمہ بن عبداللہ بن عمر بن عبدمناف بن ہلال بن عامربن صعصعہ
چونکہ فقراء ومساکین کونہایت فیاضی کے ساتھ کھانا کھلایاکرتی تھیں اس لیے اسلام سے پہلے ہی ام المساکین کی کنیت سے مشہور ہوگئیں تھیں

نکاح
آپ کا پہلا نکاح حضرت عبداللہ بن جحش سے ہواتھا۔جب وہ جنگ احد میں شہید ہوگئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کرلیا اور ان سے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کے بعد نکاح کیا تھا
نکاح کے بعد صرف دویاتین مہینے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہنے پائیں تھیں کہ آپ کا انتقال ہوگیا

وفات
سیرت اور تاریخ لکھنے والوں میں سب ہی کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے بعد صرف یہی ایک بی بی تھیں جنھوں نے وفات پائی اور جب وفات پائی تو عمر مبارک 30 سال تھی،آپ رضی اللہ عنہا کو جنۃ البقیع میں دفن کیا گیا
(کتب تواریخ وغیرہ میں ان کے اتنے ہی حالات معلوم ہوسکے ہیں)
(اصابہ ج ۸ ص،۹۴ استیعاب)
ام المؤمنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہا
 دوسرے نمبر پر حرم نبی صلی اللہ علیہ وسلم بننے والی عظیم المرتبۃ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا

نام ونسب
سودہ نام ۔قبیلہ عامر بن لوی سے تھیں جو قریش کا ایک نامورقبیلہ تھاسسلہ نسب یہ ہے
سودہ بنت زمعہ بن قیس بن شمس بن عبدودبن نصربن مالک بن حسل بن عامر بن لوی
والدہ کا نام شموس تھا۔یہ مدینہ کے خاندان بنو نجارسے تھیں ان کا پوار نام ونسب یوں ہے
شموس بنت قیس بن زید بن عمرو بن لبید بن فراش بن عامر بن غنم بن عدی بن النجار۔

نکاح اول
سکران ؓبن عمرو سے جو ان کے والد کے چچا کے بیٹے تھے سے شادی ہوئی

قبول اسلام
ابتدائے نبوت میں مشرف بہ اسلام ہوئیں۔ ان کے ساتھ ان کے شوہر بھی مسلمان ہوئے۔ اس بنا پر ان کو قدیم الاسلام ہونے کا شرف حاصل ہے
حبشہ کی پہلی ہجرت کے وقت تک حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر مکہ میں مقیم رہے لیکن جب مشرکین کے ظلم وستم کی کوئی انتہا نہ رہی اور مہاجرین کی ایک بڑی جماعت ہجرت کے لیے آماد
ہ ہوئی تو اس میں حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہرؓ بھی شامل ہوگئےکئی برس حبشہ میں رہ کرمکہ واپس آئیں اور حضرت سکرانؓ نے کچھ دن کے بعدوفات پائی
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں حضرت سکرانؓ کی وفات کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ عنہا حرم نبوت بنتی ہیں۔ ازواج مطہرات میں یہ فضیلت صرف حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کوحاصل ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکے انتقال کے بعدسب سے پہلے وہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں آئیں
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال سے آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم نہایت پریشان ومغموم تھے یہ حالت دیکھ کر حضرت خولہؓ بنت حکیم نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مونس رفیق کی ضرورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر بار بال بچوں کا انتظام سب خدیجہؓ کے متعلق تھا۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایماء سےحضرت سودہؓ کے والد کے
پاس گئیں ۔اور نکاح کا پیغام سنایا،انھوں نے کہا محمد
صلی اللہ علیہ وسلم شریف کفو ہیں۔ لیکن سودہ سے بھی تودریافت کرو۔وہ تو سن کر بہت خوش ہوئیں اور تمام انتظامات ومراسم طے پاگئے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لے گئے اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے والد نے نکاح پڑھایا اور چار سو درہم مہر قرار پایا
(بحوالہ۔زرقانی ج ۳ ص ۲۶۱)
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا نکاح رمضان 10 نبوی میں ہوا اور چونکہ ان کے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا زمانہ قریب قریب تھا اس لیے مؤرخین میں اختلاف ہے کہ کس کو تقدم حاصل ہے چنانچہ ابن اسحاق کی روایت ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو تقدم ہے اور عبداللہ بن محمدبن عقیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کو مقدم مانتے ہیں
(بحوالہ۔طبقات ابن سعدج ۸ص۳۶۔۳۷۔۳۸)

فضل وکمال
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے پانچ حدیثیں مروی ہیں جن میں سے بخاری میں صرف ایک ہے۔ باقی حدیثیں دیگر کتب احادیث میں موجود ہیں
صحابہؓ میں حضرت ابن عباسؓ ۔ابن زبیرؓ،اور حضرت یحی بن عبدالرحمن نے ان سے روایت کی ہے

اخلاق،مناقب،اور فضائل

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی عورت کو دیکھ کر مجھے یہ خیال نہیں ہوا کہ اس کے قالب میں میری روح ہوتی
اطاعت وفرمانبرداری میں وہ تمام ازواج مطہرات سے ممتاز تھیں۔آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعے پر ازواج مطہرات کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ میرے بعد گھرمیں بیٹھنا(بحوالہ۔زرقانی ج۳ص291)
چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اس حکم پراس شدت سے عمل کیا کہ پھر کبھی حج کے لیے نہ نکلیں۔ فرماتی تھیں کہ میں حج اور عمرہ دونوں کرچکی ہوں اوراب خداکے حکم کے مطابق گھر میں بیٹھوں گی
(بحوالہ۔طبقات ج ۸ص۳۸)
سخاوت اور فیاضی میں بھی ان کا نمایاں کردار تھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوا اس وصف میں سب سے ممتاز تھیں۔ ایک دفعہ حضرت عمرفاروقؓ نے ان کی خدمت میں ایک تھیلی بھیجی لانے والے سے پوچھا اس میں کیاہے؟ اس نے کہا در ہم اس پر بولیں کھجور کی طرح تھیلی میں درہم بھیجے جاتے ہیں یہ کہہ کر اسی وقت سب کو تقسیم کردیا(بحوالہ۔اصابہ ج ۸ص ۱۱۸)

اولاد
آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ البۃ پہلے شوہر یعنی حضرت سکرانؓ سے ایک بیٹا یادگار چھوڑا جس کا نام حضرت عبدالرحمنؓ تھا ایک اچھے صحابی تھے انھوں نے جنگ جلولاء فارس میں جام شہادت نوش کی(بحوالہ۔زرقانی ج۲ص ۲۶۰)

وفات

ایک دفعہ ازواج مطہر ت آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھیں انھوں نے دریافت کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سب سے پہلے کون مریگا؟
فرمایا کہ جس کا ہاتھ سب سے بڑاہے۔ انھوں نے اس کا ظاہری معنی سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے ہاتھ ناپنے شروع کردیے۔ چنانچہ بڑا ہاتھ بھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا تھا۔۔لیکن حضور
صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ سخاوت کی طرف تھا یعنی جو آپ میں سے سب سے زیادہ سخی ہیں اس کا انتقال سب سے پہلے ہوگا
(بحوالہ۔طبقات ج۸ص۳۷)
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی وفات ۲۲سن ھ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے اخیر دور خلافت میں ہوئی۔ البۃ بعض روایت سن ھ ۲۳ کے بارے میں بھی ہیں۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ومشہورہےتاریخ خمیس میں بھی یہی روایت ہےاور اسی کو امام بخاری،ذہبی،جزری ابن عبدالبر اور خزرجی نے بھی اختیار کیاہے
(بحوالہ۔اسدالغابۃ واستیعاب وخلاصہ تہذیب حالات سودہؓ،زرقانی ج ۵ص ۲۶۳)
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام ونسب
خدیجہ نام ام ہند کنیت طاہرہ لقب سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے
خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی ،قصی پر پہنچ کر آپ کا خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سےمل جاتاہے۔
والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھااورلوی بن بن غالب کے دوسرےبیٹے عامر کی اولاد تھیں۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد اپنے قبیلے میں نہایت معززشخص تھے مکہ آکر اقامت کی عبدالدارابن قصی کے جو ان کے چچا کے بیٹے تھےحلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی جن کے بطن سے عام الفیل سے ۱۵ سال قبل حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پیداہوئی(بحوالہ طبقات ابن سعدج۸ ص ۸،۱۰)
سن شعور کو پہنچیں تو اپنے پاکیزہ اخلاق کی بنا پرطاہرہ کے لقب سے مشہور ہوئیں(بحوالہ۔اصابہ ج ۸ ص ۶۰)

نکاح اول

باپ نے ان صفات کا لحاظ رکھ کر شادی کے لیے ورقہ بن نوفل کو جو برادرزاد ہاور تورات وانجیل کےبہت بڑے عالم تھے منتخب کیا۔ لیکن پھر کسی وجہ سے یہ نسبت نہیں ہوسکی اور ابو ہالہ بن بناش تمیمی سے نکاح ہوگیا
(بحوالہ۔استیعاب ج ۲ ص ۳۷۵)
ابو ہالہ کے بعدعتیق بن عابدمخزومی کے عقد نکاح میں آئیں۔
اسی زمانہ میں حرب الفجار(جنگ)چھڑی جس میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد لڑائی کے لیے نکلےاور مارے گئے
(بحوالہ۔طبقات ج۸ ص ۹)یہ عام الفیل سے 20 سال بعد کا واقعہ ہے۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی دولت وثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام قریش کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا اور ہر شخص ان سے نکاح کا خواہاں تھا لیکن کارکنان قضاوقدر کی نگاہ انتخاب کسی اور پر پڑ چکی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مال تجارت لیکر ملک شام سے واپس آئے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نےشادی کا پیغام بھیجا۔ نفیسہ بنت مینہ (یعلی بن امیہ کی ہمشیرہ) اس خدمت پر مامور ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور فرمایا(بحوالہ۔طبقات ج ۱۔ص ۸۴)
اور شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد محترم اگرچہ وفات پا چکے تھے تاہم ان کے چچا عمروبن اسد زندہ تھے عرب میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ شادی بیاہ کے متعلق خود گفتگو کر سکتی تھیں۔ اسی بنا پر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے چچا کے ہوتے ہوئے براہ راست تمام مراتب ومراسم طے کیے۔
معین تاریخ پر حضرت خواجہ ابوطالب اور تمام رؤسائے خاندان جن میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مکان پر تشریف لیکر آئے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے بھی اپنے خاندان کے چند بزرگوں کو جمع کیا تھا حضرت خواجہ ابو طالب نے خطبہ نکاح پڑھا عمروبن اسد کے مشورے سے۵۰۰ سو طلائی درہم مہر قرار پایا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا حرم نبوت ہو کر ام المؤمنین کے شرف سے ممتاز ہوئیں۔
اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۲۵ سال کے تھےاورحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر۴۰ سال تھی یہ بعثت سے ۱۵ سال پہلے کا واقعہ ہے
(بحوالہ۔صحیح بخاری ج ۱ص ۲،۳)۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اسلام قبول کرنا

۱۵ برس کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر ہوئے اور فرائض نبوت کو ادا کرنا چاہا توسب سے پہلے حضرت
خدیجہ رضی اللہ عنہا کو یہ پیغام سنایا وہ سننے سے پہلے مؤمن تھیں،،سبحان اللہ۔۔ کیونکہ ان سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدق دعوی کا کوئی شخص فیصلہ نہیں کر سکتا تھا۔(بحوالہ۔صحیح بخاری ج۱ باب بدء الوحی)

اولاد

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہت سی اولاد ہوئی ابوہالہ سے جوان کے پہلے شوہر تھے دوبچے پیدا ہوئے جن کے نام ہالہ اور ہند تھے۔ دوسرے شوہر یعنی عتیق سے ایک لڑکی پیدا ہوئی آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ اولادیں ہوئیں دو صاحبزادے جو بچپن میں انتقال کر گئے اور چار صاحبزادیاں سب کے نام درج ذیل ہیں
(۱)حضرت قاسم
رضی اللہ عنہ۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے بیٹے تھے ان ہی کے نام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ابو القاسم ہے
وہ صغر سنی میں ہی انتقال کرگئے جب بمشکل چلنا شروع ہوئے تھے
(۲)حضرت زینب رضی اللہ عنہا یہ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں
(۳)حضرت عبداللہ
رضی اللہ عنہ انھوں نے نہایت کم عمر پائی۔ یہ چونکہ زمانہ نبوت میں پیداہوئے تھےاس لیے طیب اورطاہرکے لقب سے مشہورہوئے
(۴)حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
(۵)حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
(۶)حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا
(بحوالہ۔طبقات ابن سعد ج۸ص۱۱)

وفات
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نکاح کے بعد۲۵ برس تک زندہ رہیں
اور۱۱ رمضان ۱۰ نبوی اور ہجرت سے تین سال قبل۶۴ سال ۶ ماہ کی عمر میں اس فانی دنیا سے رخصت ہو کر عقبی کی طرف رخت سفر باندھ کر مالک حقیقی سے جاملیں
(بحوالہ۔بخاری ج۱ص۵۵۱)
چونکہ نماز جنازہ اس وقت تک مشروع نہیں ہوئی تھی اس لیےان کی لاش اسی طرح دفن کردی گئی۔
آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کی قبر میں اترے اور اپنی سب سے بڑی غمگسار کو داعی اجل کے سپرد کردیا
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی قبرجحون میں ہے اور مرجع خلائق ہے
(بحوالہ۔طبقات ابن سعد ج ۸ ص ۱۱
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا
 نام ونسب
حفصہ نام حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ سلسلہ نسب اس طرح ہے حفصہ بنت عمرابن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن ربا ع بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن لوی بن فہر بن مالک
والدہ کا نام زینب بنت مظعون تھا جو مشہور صحابی حضرت عثمان بن مظعون کی ہم شیرہ تھیں اور خود بھی صحابیہؓ تھیں حضرت حفصہ اور حضرت عبداللہ بن عمر حقیقی بھن بھائی تھے حضرت حفصہ ؓبعثت نبوت سے پانچ سال قبل پیداہوئیں اس وقت قریش خابہ کعبہ کی تعمیر میں مصروف تھے۔

نکاح
پہلانکاح خنیس بن خذافہ سے ہواجو خاندان بنوسہم سے تھے

اولاد

آپ
رضی اللہ عنہا نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی

اسلام
ماں باپ اور شوہر کے ساتھ مسلمان ہوئیں

ہجرت اور نکاح ثانی
شوہر کے ساتھ مدینہ کو ہجرت کی ،غزوہ بدرمیں حضرت خنیسؓ نے زخم کھائے اور واپس آ کران ہی زخموں کی وجہ سےشہادت پائی عدت کے بعد حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو حضرت حفصہ
رضی اللہ عنہا کے نکاح کی فکر لاحق ہوگئی اسی زمانہ میں حضرت رقیہؓ کا انتقال ہو چکا تھا اس بنا پر حضرت عمرفاروقؓ سب سے پہلے حضرت عثمانؓ سے ملے اور ان سے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کی خواہش ظاہرکی انھوں کہا میں اس پر غور کروں گا، چند دنوں کے بعد ملاقات ہوئی تو صاف انکار کردیا حضرت عمرفاروقؓ نے مایوس ہو کر حضرت ابوبکرصدیقؓ سے ذکر کیا انھوں نے خاموشی اختیار کی حضرت عمرؓ کوان کی بے التفاتی سے رنج وغم ہوا۔(اور یہ سب کچھ اس لیے ہی ہورہا تھا کہ ایک عظیم المرتبت ہستی سے نکاح ہونا تھا)
اس کے بعد خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کی خواہش کی،چنانچہ نکاح ہوگیا
بعدازاں حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ سے ملےاور کہا کہ جب تم نے مجھ سے حفصہ
رضی اللہ عنہا کے نکاح کی خواہش کی اور میں خاموش ہو رہا تو تم کو ناگوار گذرا۔ لیکن میں نے اسی بنا پرکچھ جواب نہیں دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا تھا۔ اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنا نہیں چاہتا تھا اگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سےنکاح کا قصد نہ ہوتا تو میں ان کے لیے آمادہ تھا(صحیح بخاری ج۲ص۵۷۱اور اصابہ ج۸ص۵۱)

فضل وکمال

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کئی صفات کی جامع تھیں، آپ کا فضل وکمال اس سے ہی ظاہر ہے کہ آپ سے 60 احادیث مروی ہیں جو انھوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے سنی تھیں(زرقانی ج۳ ص۲۷۱)
اس کے علاوہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، حضرت حمزہ، صفیہ بنت ابوعبید، حارثہ بن وہب، مطلب بن ابی وادعہ، ام مبشر انصاریہ، عبداللہ بن صفوان بن امیہ اورحضرت عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم آپ کے شاگردوں میں سے ہیں(زرقانی ج۳ ص ۲۷۱)۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اخلاق اور زہدوتقوی میں بھی در یکتا تھیں ابن سعد میں ہے کہ وہ دن کو روزہ رکھنے والی اور رات کو قیام (نفل وتہجد میں) کرنے والی تھیں اور حسن اتفاق کہ جس وقت ان کی وفات ہوئی تھی تو وہ حالت روزہ میں تھیں

وفات
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نےماہ شعبان ۴۵ سن ہجری میں مدینہ میں انتقال کیا۔ یہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کا زمانہ تھا، مروان نے جو اس وقت مدینے کا گورنرتھا نماز جنازہ پڑھائی اور کچھ دور تک جنازہ کو کاندھا دیا،اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جنازہ کو قبر تک لے گئے،ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ اور ان کے چاروں بیٹوں عاصم، سالم، عبداللہ اور حمزہ رضی اللہ عنہم نے قبر میں اتارا
یاد رکھیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سن وفات میں اختلاف ہے
ایک روایت ہے کہ جمادی الاولی سن ھ ۴۱ میں وفات پائی اس وقت ان کی عمر۵۹ سال تھی
اور ایک دوسری روایت کے مطابق آپ
رضی اللہ عنہا کی وفات سنہ ھ۴۸ میں ہوئی اس اعتبار سے پھر عمر 63 سال ٹھہرتی ہے

ایک یہ روایت بھی ہے کہ انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت سنہ ھ ۲۷ میں وفات فرمائی۔ یہ روایت اس بنا پر پیدا ہو گئی کہ وہب نے ابن مالک سے روایت کی ہے کہ جس سال افریقہ فتح ہوا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے اسی سال انتقال کیا اور افریقہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سنہ ھ ۲۷ میں فتح ہواتھا لیکن یہ سخت غلطی ہے،اس لیے کہ افریقہ دو مرتبہ فتح ہوا تھا دوسری مرتبہ فتح حضرت معاویہ بن خدیج کے ہاتھوں ہوئی تھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں چنانچہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی وفات بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں ہی ہوئی تھی

Monday, 22 April 2013

حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا

نام ونسب
زینب نام ام الحکیم کنیت قبیلہ قریش کے خاندان اسد بن خزیمہ سے ہے
سلسلہ نسب یہ ہے ۔ زینب دنت جحش بن رباب بن یعمر بن صبرہ مرہ بن کثیربن غنم بن دودان سعد بن خزیمہ
والدہ کا نام امیمہ تھا جو عبدالمطلب جد رسول صلی اللہ علیہ وسلم
کی دختر تھیں اس بنا پر حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی پھوپھی زاد بھن تھیں

اسلام
نبوت کے ابتدائی دور میں اسلام لائیں اسدالغابہ ج ۵ ص 463 میں ہے کانت قدیمۃ الاسلام کہ وہ قدیم الاسلام تھیں

نکاح
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو آپ کے آزاد کردہ غلام اور متبنی تھے ان کا نکاح کردیا۔ اسلام نے دنیا میں مساوات کی جو تعلیم رائج کی ہے اور پست وبلند کو جس طرح ایک جگہ پر لا کر کھڑا کر دیا ہے،اگرچہ تاریخ میں اس کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں لیکن یہ واقعہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ان سب پر فوقیت رکھتا ہے کیونکہ اسی عملی تعلیم کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ قریش اور خصوصا خاندان ہاشم کو تولیت کعبہ کی وجہ سے عرب میں جو درجہ حاصل تھا اس کے لحاظ سے شاہان یمن بھی ان کے ہمسری کا دعوی نہیں کرسکتے تھے لیکن اسلام نے محض تقوی کو بزرگی کا معیار قرار دیا اور فخروادعاء کو جاہلیت کا شعار ٹھہرایا ہے،اس بنا پر اگرچہ حضرت زید رضی اللہ عنہ بظاہرغلام تھے تاہم چونکہ وہ مسلمان اور مرد صالح تھےاس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ساتھ حضرت رضی اللہ عنہا کا عقد کردینے میں کوئی تکلف نہیں ہوئی
تقریبا ایک سال تک دونوں کا ساتھ رہا لیکن پھر تعلقات قائم نہ رہ سکے اور نوبت طلاق تک جا پہنچی چنانچہ حضرت زید
رضی اللہ عنہ نے طلاق دیدی

حرم نبوت میں آنا 
عرب میں ایک جاہلیت کی رسم تھی کہ جسے متبنی(منہ بولی بیٹا) بنایا جاتا تھا اسے حقیقی بیٹا ہی تصور کیا جاتا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متبنی کی مطلقہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کرکے اس جاہلانہ رسم کا قلعہ قمع کیا اور حضرت زینب رضی اللہ عنیہا کی اس میں حوصلہ افزائی بھی فرمائی

حلیہ
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کوتاہ قامت لیکن خوبصورت اور موزوں اندام تھیں
(زرقانی ج ۳ص۲۸۳)

فضل وکمال
روایتیں کم کرتی تھیں کتب حدیث میں ان سے صرف گیارہ روایتیں منقول ہیں راویوں میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا، زینب بنت ابی سلمہ
رضی اللہ عنہا، محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ (برادرزادہ) کلثوم بنت طلق داخل ہیں

اخلاق
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضرت زینب نیک خو،روزہ دار،ونماز گذارتھیں(زرقانی بحوالہ ابن اسد)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کوئی عورتزینب رضی اللہ عنہا سےزیادہ دیندار،پرہیزگار،زیادہ راست گفتاع،زیادہ فیاض،مخیر اور خداکیرضاجوئی میں زیادہ سرگرم نہیں دیکھی
فقط مزاج میں زراتیزی تھی جس پر ان کو بہت جلد ندامت بھی ہوتی تھی
(مسلم ج۲ ص ۳۳۵)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا زہد وتقوی اور تورع میں یہ حال تھا کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی گائی اور اس تہمت میں خود حضرت زینب
رضی اللہ عنہا کی بھن حمنہ شریک تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اخلاقی حالت دریافت کی تو انھوں نے صاف لفظوں میں کہہ دیا
ماعلمت الاخیرا مجھ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھلائی کے سوا کسی چیز کا علم نہیں
حضرت عائشہ
رضی اللہ عنہا کو ان کے اس صدق وقرار حق کا اعتراف کرنا پڑا
عبادت میں نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ مصروف رہتی تھیں ایک مرتبہ مہاجرین پر کچھ مال تقسیم کررہے تھے حضرت زینب رضی اللہ عنہا اس معاملے میں کچھ بول اٹھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ڈانٹا۔ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سے درگذرکرو یہ اواہ ہیں ( یعنی خشوع خضوع اورتواضع واتقوی والی ہیں)
(اصابہ ج ۸ص ۹۳)


وفات
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن سے فرمایا تھا
تم میں مجھ سے جلد وہ ملے گی جس کا ہاتھ لمبا ہو گا
یہ استعارۃ فیاضی کی طرف اشارہ تھا لیکن ازواج مطہرات اس کو حقیقت سمجھیں۔ چنانچہ باہم اپنے ہاتھوں کو ناپا کرتی تھیں حضرت زینب رضی اللہ عنہا فیاضی وسخاوت کی بنا پر اس پیشن گوئی کا مصداق ثابت ہوئیں
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت جو نو بیویاں چھوڑیں تھیں ان میں سب سے پہلے ان ہی کی وفات ہوئی
اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے سن ھ ۲۰ میں وفات پائی اور۵۳ سال کی عمرعزیزپائی
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
 تیسرے نمبر(یادوسرے) پر جلیل المرتبۃ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا شرف حاصل کرنے والی

نام ونسب
عائشہ نام،صدیقہ اور حمیرا لقب ام عبداللہ کنیت ،افضل الناس بعد الانبیاء ،خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
آپ کے والد گرامی ہیں،والدہ کا نام زینب تھا ان کی کنیت ام رومان تھی اور قبیلہ غنم بن مالک سے تھیں

ولادت
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بعثت کے چاربرس بعد شوال کے مہینے میں پیدا ہوئیں
صدیق اکبر ؓ کا کاشانہ وہ برج سعادت تھا جہاں خورشید اسلام کی شعاعیں سب سے پہلے پرتوفگن ہوئیں اس بنا پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب سے میں نےاپنے والد کو پہچانا مسلمان پایا(بخاری۔ج ۱ص۲۵۲)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں امہات المؤمنین میں سے ہر ایک کو منفرد شرف حاصل رہاہے چنانچہ
تمام ازواج مطہرات میں یہ شرف صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کوحاصل ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کنواری بیوی تھیں۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نےحضرت خولہؓ بنت حکیم کے ذریعے سے اپنی لاڈلی بیٹی کاعقد نکاح حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے طے کرایا
۵۰۰ سودرہم مہرقرارپایا۔ یہ نبوت کے 10 ویں سال کا واقعہ ہے۔اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمرچھ سال تھی
یہ نکا ح اسلام کی سادگی کی حقیقی تصویرتھا۔ حضرت عطیہؓ اس کا واقعہ اس طرح بیان کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی ہم عمر لڑکیوں سے کھیل رہی تھیں ان کی انا آئی اوران کو لے گئی۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے آ کرنکاح پڑھایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خود کہتی ہیں کہ جب میرانکاح ہوا تومجھ کو خبر تک نہ ہوئی جب میری والدہ نے باہر نکلنے میں روک ٹوک شروع کی تب میں سمجھی کہ میرانکاح ہوگیا،اس کے بعد میری والدہ نے مجھے سمجھا بھی دیا
(طبقات ابن سعدج ۸ ص۴۰)


جہاد میں شرکت
غزوات میں غزوہ احد اور غزوہ مصطلق میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شرکت کاپتہ چلتا ہےصحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ مشک بھر بھر کر لاتی تھیں اورزخمیوں کو پانی پلاتی تھیں
(بخاری ج۲ص۵۸۱)

حلیہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خوش رو اور صاحب جمال تھیں رنگ سرخ وسفید تھا


علم اور فضل وکمال

علمی حیثیت سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہ صرف عورتوں پرنہ صرف دوسری امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھن پرنہ صرف خاص خاص صحابیوں پربلکہ باستثنائے تمام صحابہ پر فوقیت حاصل تھی وہ علم کا دریا تھیں۔ اس کا اندازہ آپ اس سے بھی لگا سکتے ہیں کہ
جامع ترمذی میں حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم کو کبھی کوئی ایسی مشکل بات پیش نہیں آئی جس کو ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا ہواور ان کے پاس اس کے متعلق معلومات نہ ملی ہو
امام زہری جو مایہ ناز اور سرخیل تابعی ہیں فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عالم تھیں بڑے بڑے اکابر صحابہؓ ان سے پوچھا کرتے تھے۔ (طبقات ابن سعد ج۲قسم۲ص۲۶)
حضرت عروہ بن زبیرؓ کا قول ہے
میں نے قرآن فرائض، حلال وحرام فقہ، اسلامی شاعری،طب،عرب کی تاریخ اور نسب کا عالم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا
اس کے علاوہ اور بہت سارے فضائل ہیں لیکن مضمون کی طوالت کے پیش نظر صرف نظر کیا جا رہا ہے

اخلاق وعادات
اخلاقی حیثیت سے بھی ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بلند مرتبہ کی مالکہ تھیں،وہ نہایت قانعہ تھیں غیبت سے کڑی نفرت کرتی تھیں،احسان کم قبول کرتیں تھیں،تکبر سے اعلان بیزاری کیا کرتی تھیں اور سب کو صفت کبر سے دور رہنے کی تلقین کرتی تھیں نہایت خوددار، باہمت، شجاعت، دلیری اورسخاوت کا عملی نمونہ تھیں
وصف سخاوت میں اپناثانی نہیں رکھتی تھیں،حضرت عبداللہ بن زبیرؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں ان سے زیادہ سخی کسی کو نہیں دیکھا،ایک مرتبہ کاتب وحی حضرت امیرمعاویہ ؓ نے ان کی خدمت میں لاکھ درہم بھیجے تو شام ہوتے ہوتے سب خیرات کردیے اور اپنے لیے کچھ نہ رکھا اتفاق سے اس دن روزہ رکھا تھا لونڈی نے عرض کیا کہ افطارکے لیے کچھ نہیں ہےفرمایا پہلے سے کیوں یاد نہ دلایا
(مستدرک حاکم،ج ۴ص۱۳)

وفات وتدفین
حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کا اخیر زمانہ خلافت تھا کہ رمضان ۵۵ یا۵۶ یا ۵۷ یا۵۸ھ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس دنیا سے رحلت فرمائی اس وقت ان کی عمر۶۴سال یا ۶۵ یا ۶۷ یا ۶۶ یا۶۸ سال میں ہوئی مہینے میں بھی اختلاف ہے کہ رمضان ہے یا شوال لیکن محقق قول ۵۸ ھ ماہ رمضان المبارک ہے
ان کی نماز جنازہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی جو کہ اس وقت مروان بن حکم کی طرف سے مدینے کے گورنرتھے
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وصیت فرمائی تھی کہ میراجناز ہ رات کے وقت میں اٹھایا جائے اورمجھے جنت البقیع میں دفن کیا جائے ۔ چنانچہ ایساہی کیاگیا
اور ان کو قبر میں اتارنے والےحضرت قاسم بن محمدؓ،عبداللہ بن عبدالرحمنؓ،عبداللہ بن ابی عتیقؓ،عروہ بن زبیرؓاورحضرت عبداللہ بن زبیرؓ تھے
امّ المؤمنین حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنھا

یہود دنیا کی وہ بدترین قوم ہیں جن کا مجموعی کردار انتہائی گھناﺅنا ، اخلاق عالیہ سے فروتر اور شرارت و خباثت سے مملو ہے ۔ اللہ کے نبیوں کو ان کے ہاتھوں ناقابل بیان اذیتیں پہنچتی رہیں ۔ انبیائے کرام کے قتل اور اہل حق کی مخالفت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی پھٹکار نازل فرمائی ۔ قرآن مجید میں ان کا کردار بہت واضح انداز میں بیان کیا گیاہے لیکن ان میں ان ساری برائیوں کے باوجود کچھ لوگ بھلے بھی تھے ۔ اگرچہ ان کی تعداد بہت کم تھی ۔ ان راستبازوں کا ذکر بھی قرآن میں کئی مقامات پرآتا ہے ۔
سورہ آل عمران کی آیت311 تا511میں اچھے عناصر کی یہ استثنائی مثال پیش کی گئی ہے ۔ قرآن کے مطابق یہ لوگ راہ راست پر قائم اور اللہ کی آیات پر کاربند تھے ۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فرض بھی ادا کرتے تھے اور اللہ کے آگے سجدہ ریز بھی ہوتے تھے ۔ ایسے ہی اہل خیر میں سے ایک تعداد حضور پر ایمان لائی اور زمرہ صحابہ میں شامل ہو گئی ۔ ان خوش نصیبوں میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی ۔ وہ خاتون کتنی خوش بخت تھی جو یہود کے اعلیٰ نسب خاندن میں پیدا ہوئی ، وہیں پروان چڑھی ، اسلام دشمنی اور پیغمبر آزاری کا ماحول اپنے گھر میں پایا مگر داور محشر نے اس کی قسمت میں سعادت دارین لکھ دی ۔ وہ پستی سے بلندی کی جانب گامزن ہوئیں اور اعلیٰ مقام پر سرفراز ہوگئیں ۔
یہ عظیم خاتون صفیہ بنت حیی کے نام سے معروف ہیں جنہیں ام المومنین ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ۔ حیی بن اخطب بنو نظیر کا سردار تھا ۔حضرت صفیہ کی والدہ بنو قریظہ کے شرفا میں سے تھی ۔ غزوہ خیبر میں جب لشکر اسلام کو فتح ملی اور مال غنیمت کے علاوہ جنگی قیدی بھی ہاتھ آئے تو صفیہ آنحضور کے صحابی حضرت دحیہ کلبی کے حصے میں آئیں ۔ چونکہ وہ لوگوں کے درمیان اپنی خاندانی وجاہت کی وجہ سے معروف تھیں اس لیے کبار صحابہ نے آنحضور کو تجویز پیش کی کہ صفیہ کو کسی اور کو بطور کنیز نہ دیا جائے بلکہ آنحضور خود اسے اپنی کنیزوں میں شامل فرما لیں ۔
آنحضور انسانوں کی قدر جانتے تھے اور عزت والوں کی عزت کو ملحوظ بھی رکھاکرتے تھے ۔ آپ نے صحابہ کی تجویز کو پسند فرمایا ۔ صفیہ کو اپنی تحویل میں لیا اور پھر لوگوں کے سامنے اعلان فرمایا کہ آپ نے اسے آزاد کر دیاہے ۔ حضرت صفیہ نے خلوص دل کے ساتھ دین حق کو قبول کر لیا ۔پھر آپ نے صفیہ سے نکاح کر کے انہیں اپنی ازواج مطہرات میں شامل فرما لیا ۔ حضرت صفیہ نے اسلام میں داخل ہونے کے بعد علم و عمل، دونوں میدانوں میں خوب محنت کی اور بڑا درجہ پایا ۔ آنحضور کی زوجیت میں آنے سے قبل دو مرتبہ یہودیوں کے درمیان ان کا نکاح ہوا تھا۔ان کے پہلے خاوند سلام بن مشکم نے انہیں طلاق دے دی تھی جبکہ دوسری شادی کنانہ بن ربیع سے ہوئی جو غزوہ خیبر میں مسلمانوں کے مقابلے پر مارا گیا تھا ۔
امام بیہقی حضرت صفیہ کی زبانی ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد حیی اور چچا ابو یاسر یہود کے بڑے سردار اور علما تھے ۔ آنحضور کی ہجرت کے بعد دونوں بھائی آپ کو دیکھنے کے لیے قبا گئے ۔ واپسی پر وہ دونوں تھکے ماندے اور پریشان حال تھے ۔ دونوں بھائیوں کے اس انہماک اور تفکرکو ذہین و فطین صفیہ نے غور سے دیکھا اور سنا۔ آپس میں آنحضور کے بارے میں ہی گفتگو کر رہے تھے ۔ لب لباب یہ تھاکہ یہ وہی سچا نبی ہے جس کی بشارت کتب سماویہ میں دی گئی تھی ۔
اس گواہی کے بعد ابو یاسر نے اپنے بھائی سے پوچھا تو پھر اب ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ اس نے جواب دیا ” بخدا میں زندگی بھر اس کی مخالفت کرتا رہوں گا ۔“ حضرت صفیہ نے یہ ساری گفتگو سنی والد اور چچا کے رعب کی وجہ سے وہ خاموش رہیں مگر ان کے دل میں ایک کشمکش برپا ہو گئی ۔ وہ سوچنے لگیں کہ اگر تورات کے ورثا حقیقت کو پا لینے کے بعد بھی محض ضد اور عناد کی وجہ سے رسول برحق کا انکار کر رہے ہیں تو پھر اللہ کے برگزیدہ بندے اور منتخب قوم ہونے کا یہود کا دعویٰ کیا وزن رکھتا ہے ۔یہ پہلی چوٹ تھی جو دل پر لگی ۔ صاف دل اور راست رو صفیہ اس کے بعد اس معاملے پر مسلسل سوچ بچار کرتی رہی۔
کئی سالوں بعد جب آنحضور نے یہودیوں کی مسلسل خباثتوں اور بدعہدیوں کی وجہ سے خیبر کے قلعوں کا محاصرہ کیا تو یہود بڑی رعونت سے لشکر اسلام کے مقابلے پر ڈٹ گئے قلعے کے اندرلوگ بیم و رجا کی کیفیت میں تھے اور نوجوان صفیہ کے دل میں ایک ہلچل مچی ہوئی تھی ۔ خاندان کی محبت ایک جانب اور حقیقت و صداقت کا اعتراف دوسری جانب ۔ اسے یقین سا ہوچلا تھا کہ حق غالب آئے گا اور اس کا باپ اور قبیلہ شکست کھا جائے گا، آخر ایسا ہی ہوا ۔ یہود بہت بری شکست سے دوچار ہوئے ۔ آنحضور کو عظیم الشان فتح ملی ۔ یہودی جنگجو مارے گئے ، جو بچے غلام بنا لیے گئے ۔
آنحضور حضرت صفیہ کے قبول اسلام کے بعد ان سے بڑی محبت کرتے تھے ۔ سیدہ صفیہ کے بارے میں مورخین بیان کرتے ہیں کہ وہ انتہائی ذہین اور عقلمند ، حسین و جمیل اور دیندار ، متحمل مزاج اور باوقار ، شریف النفس اور عالی نسب خاتون تھیں ۔ان کے بارے میں ایک واقعہ تاریخ میں ملتاہے ۔ آنحضور نے ان کی آنکھ کے اوپر زخم کانشان دیکھا تو اس کے بارے میں پوچھا ۔ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ میں نے ایک خواب دیکھاتھا جو میں نے اپنے خاوند کے سامنے بیان کر دیا تھا ۔ خواب یہ تھاکہ چاند آسمان سے اترا اور میری گود میں آ گرا ۔ اس خواب کا سننا تھاکہ میرے خاوند نے میرے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کیا ۔ پھر گالی دے کر کہاکہ اس کی تعبیر یہی ہے کہ تم یثرب کے بادشاہ پر فریفتہ ہو ۔ اس کا اشارہ آنحضور کی طرف تھا ۔
اس خواب اور حضرت صفیہ کی اپنے والد اور چچا کی آنحضور کے بارے میں گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام بہت پہلے ان کے دل میں گھر کر گیا تھا مگر قبول اسلام کی منزل فتح خیبر کے بعد آئی ۔ آنحضور کے لیے ان کے دل میں بہت پہلے سے نرم گوشہ موجود تھا ۔آخر ان کی خوش قسمتی سے انہیں ماہ کامل کی رفاقت میسر آگئی ۔ازواج مطہرات میں شمولیت اور مومنین کی ماں ہونے کا مقام کوئی معمولی بات نہیں۔
آنحضور ان سے بہت زیادہ حسن سلوک کیا کرتے تھے کیونکہ ان کا خاندان قتل ہو چکا تھا۔ شادی کے بعد حضرت صفیہ کو پہلے دن حضرت اُمِّ سُلَیم کے گھر میں بطور دلہن لایا گیا ۔ بعد میں کچھ ایام ان کو حضرت حارثہ بن نعمان انصاری کے گھر میں ٹھہرایا گیا ۔ صحابیات انھیں دیکھنے کے لیے جمع ہو گئیں ۔ وہ اتنی خوبصورت تھیں کہ تمام خواتین نے ان کے حسن و جمال کی تعریف کی ۔ ایک مرتبہ ام المومنین حضرت حفصہ نے انہیں بنت الیہودی کہہ کر خطاب کیا تو حضرت صفیہ نے آنحضور سے شکایت کی ۔آپ نے حضرت صفیہ کو تسلی دی اور فرمایا ” تمہیں کہہ دینا چاہیے تھاکہ بی بی سنو ، میرا خاوند محمد ہے ۔ میرے باپ ہارون علیہ السلام اور میرے چچا موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ ہیں ۔“ آنحضور کی یہ بات سن کر حضرت صفیہ کا سینہ ٹھنڈا ہو گیا ۔
ایک مرتبہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ نے ام المومنین حضرت صفیہ کو ان کے پست قد ہونے کا طعنہ دیا تو آنحضور نے فرمایا ” عائشہ آج تم نے ایسی بات کہہ دی کہ اگر یہ سمندر میں ملا دی جائے تو سارا سمندر اس کے اثر سے کڑوا ہو جائے ۔“ چونکہ حضرت صفیہ اپنے خاندان اور ماحول سے کٹ چکی تھیں اس لیے آنحضور ان کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے ۔ خود حضرت صفیہ کی راویت ہے کہ میں نے آنحضور سے بڑھ کر کسی کو حسن اخلاق کا نمونہ نہیں پایا ۔