Showing posts with label Sahaabah Views. Show all posts
Showing posts with label Sahaabah Views. Show all posts

Thursday, 18 July 2013

Importance

Posted by Unknown on 02:31 with No comments
اہمیت
اگر کوئی محبت کرنے والا انسان ۔۔۔
تم پہ غصہ کرنا چھوڑ دے ۔۔۔
تو سمجھ جاؤ کہ۔۔۔
تم اُس کی نظر میں اپنی اہمیت کھو چکے ہو۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٰ

Monday, 27 May 2013


حضرت عمر فاروق رضی ﷲ عنہ کا دورِ خلافت
امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی ﷲ عنہ کی خلافت کے دور میں مدینے شریف میں ایک شدید زلزلہ آیا اور زمین ہلنے لگی۔
امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی ﷲ عنہ کچھ دیر خدا تعالیٰ جل جلا لہ‘ کی حمد و ثناء کرتے رہے مگر زلزلہ ختم نہ ہوا۔

ﷲ اکبر! غلامِ مصطفی ہو تو ایسا ہو زمین پر حکمرانی ہو تو ایسی ہو آپ رضی اﷲ عنہ جلال میں آگئے اور آپ نے اپنا دُرّہ زمین پر مار کر فرمایا
کہ ”اقدّی الم اعدل علیک قلتقرت من وقتھا“ اے زمین ساکن ہو جا کیا میں نے تیرے اُوپر انصاف نہیں کیا ہے ؟

فوراً زلزلہ ختم ہوگیا اور زمین ٹھہر گئی۔
(بحوالہ کتاب:ازالۃ الخفاء،صفحہ نمبر 172،جلد دوئم)

علماءفرماتے ہیں کہ اس وقت کے بعد سے پھر کبھی مدینہ شریف کی زمین پر زلزلہ نہیں آیا۔

Thursday, 14 March 2013

Hazrat Umar Farooq Azam Razi ALLAH Anhu

Posted by Unknown on 22:34 with No comments

ایک مرتبہ آپ نے ایک وفد بیت المقدّس بھیجا
وہ وَفد کوئی عام آدمیوں کا نہیں بلکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کا وَفد تھا
یہ وَفد بیت المقدّس پہنچا یہ اُس دور کی بات ہے جب بیت المقدّس پر پادریوں کا قبضہ تھا حضرت عمر بیت المقدّس کو پادریوں کے چُنگل سے آزاد کرانا چاہتے تھے۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان نے پادریوں سے کہا کہ ہم امیر المومنین حضرت عمر فاروق کی جانب سے یہ پیغام لائے ہیں کہ تم لوگ جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ۔
یہ سُن کر پادریوں نے کہا ہم لوگ صرف تمہارے امیر المومنین کو دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ جو نشانیاں ہم نے فاتح بیت المقدّس کی اپنی کتابوں میں پڑھی ہیں وہ نشانیاں ہم تمہارے امیر میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ نشانیاں تمہارے امیر میں موجود ہوئیں تو ہم بغیر جنگ و جدل کے بیت المقدّس تمہارے حوالے کردیں گے
یہ سُن کر مسلمانوں کا یہ وَفد حضرت عمر فاروق کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا آپ کو سُنایا۔

امیر المومنین حضرت عمر فاروق نے اپنا ستر پیوند سے لبریز جُبّہَ پہنا، عمامہ شریف پہنا اور جانے کے لئے تیار ہوگئے سارے صحابہ کرام علیہم الرضوان ، حضرت عمر سے عرض کرنے لگے
حضور! وہاں بڑے بڑے لوگ ہوں گے، بڑے بڑے پادری ہوں گے آپ رضی اللہ تعالی عنہ اچھا اور نیا لباس پہن لیں۔ ہمارے بیت المال میں کوئی کمی نہیں۔

انسانی فطرت کا بھی یہی تقاضہ ہے کہ جب بندہ کوئی بڑی جگہ جاتا ہے تو وہ اچھا لباس پہنتا ہے تاکہ اُس کا وقار بلند ہو۔ مگر ﷲ اکبر! صحابہ کرام علیہم الرضوان کی یہ بات سُن کر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو جلال آگیا
اور فرمانے لگے کہ کیا تم لوگ یہ سمجھے کہ عمر کو عزت حکومت کی وجہ سے ملی ہے یا اچھے لباس کی وجہ سے ملی ہے؟
نہیں عمر کو عزت حضور کی غلامی کی وجہ سے ملی ہے آپ فوراً سواری تیار کر کے روانہ ہوگئے
جیسے ہی آپ رضی اللہ تعالی عنہ بیت المقدّس پہنچے تو حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا حُلیہ مبارک دیکھ کر ، سرکار اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کو دیکھ کر پادریوں کی چیخیں نکل گئیں
اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے قدموں میں گِر پڑے اور ساری بیت المقدّس کی چابیاں حضرت عمر کے حوالے کردیں اور کہنے لگے کہ ہمیں آپ سے جنگ نہیں کرنی کیونکہ ہم نے جو حُلیہ فاتح بیت المقدس کا کتاب میں پڑھا ہے یہ وہی حُلیہ ہے اس طرح بغیر جنگ کے بیت المقدّس آزاد ہوگیا۔

Saturday, 9 March 2013

Sahaabah Karam Zindabad

Posted by Unknown on 21:44 with No comments
حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ دورِفاروقی میں مدائن کی فتح کے بعد حضرت عمررضی ﷲ عنہ نے مسجد نبوی میں مال غنیمت جمع کر کے تقسیم کرنا شروع کیا۔ حضرت حسن رضی ﷲ عنہ تشریف لائے تو انہیں ایک ہزار درہم نذر کیے۔ پھر حضرت حسین رضی ﷲ عنہ تشریف لائے تو انہیں بھی ایک ہزار درہم پیش کیے۔ پھر آپ کے صاحبزادے عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ آئے تو انہیں پانچ سودرہم دیے۔ انہوں نے عرض کی‘ اے امیرالمٔومنین ! جب میں عہد رسالت میں جہاد کیا کرتا تھا اس وقت حسن و حسین بچے تھے۔ جبکہ آپ نے انہیں ہزار ہزار اور مجھے پانچ سو درہم دیے ہیں۔
حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا‘ تم عمر کے بیٹے ہو جبکہ ان
کے والد علی المرتضٰی‘ والدہ فاطمۃ الزہرا‘ نانا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم‘ نانی خدیجہ الکبریٰ‘ چچا جعفر طیار‘ پھوپھی اْم ہانی‘ ماموں ابراہیم بن رسول ﷲ‘ خالہ رقیہ و ام کلثوم و زینب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں ہیں رضی ﷲ عنہم اجمعین۔ اگر تمہیں ایسی فضیلت ملتی تو تم ہزار درہم کا مطالبہ کرتے۔ یہ سن کر حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ خاموش ہو گئے۔
جب اس واقعہ کی خبر حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا‘ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ’’عمر اہل جنت کے چراغ ہیں۔‘‘
حضرت علی رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد حضرت عمر رضی ﷲ عنہ تک پہنچا تو آپ بعض صحابہ کے ہمراہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے گھر تشریف لائے اور دریافت کیا‘ اے علی! کیا تم نے سنا ہے کہ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اہل جنت کا چراغ فرمایا ہے۔
حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا‘ ہاں! میں نے خود سنا ہے۔
حضرت عمررضی ﷲ عنہ نے فرمایا‘ اے علی! میری خواہش ہے کہ آپ یہ حدیث میرے لیے تحریر کردیں۔ سیدنا علی رضی ﷲ عنہ نے یہ حدیث لکھی‘
’’ یہ وہ بات ہے جس کے ضامن علی بن ابی طالب ہیں عمر بن خطاب رضی ﷲ عنہ کے لئے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ اْن سے جبرائیل علیہ السلام نے‘ اْن سے ﷲ تعالٰی نے کہ:
ان عمر بن الخطاب سراج اھل الجنۃ۔
عمر بن خطاب اہل جنت کے چراغ ہیں‘‘
سیدنا علی رضی ﷲ عنہ کی یہ تحریر حضرت عمررضی اﷲ عنہ نے لے لی اور وصیت فرمائی کہ جب میرا وصال ہو تو یہ تحریر میرے کفن میں رکھ دینا۔ چنانچہ آپ کی شہادت کے بعد وہ تحریر آپ کے کفن میں رکھ دی گئی۔
یہ تھی صحابہ کرام کی آپس کی محبت اور انکی شان

(ازالتہ الخفاء، الریاض النضرۃ ج ا:۲۸۲)

Monday, 25 February 2013

Do not expect anyone except Allah

Posted by Unknown on 07:32 with No comments
           اﷲ کے سوا کسی سے امید نہ رکھو

اﷲ کے سوا کسی سے امید نہ رکھو اور گناہوں کے سوا کسی چیز کا خوف مت کرو
(حضرت علی رضی ﷲ عنہ)

Understandin World a Prison

Posted by Unknown on 07:30 with No comments
                  دنیا کو قیدخانہ سمجھنا

جو لوگ دنیا کو قید خانہ سمجھتے ہیں ان کے لئے قبر گوشہ راحت ثابت ہوتی ہے--
(حضرت عثمان غنی رضی ﷲ عنہ)

Dead Heart

Posted by Unknown on 07:28 with No comments
                       مردہ دل

زیادہ ہنسنے والوں کا رعب اٹھ جاتا ہے زیادہ مذاق و مزاح کرنے والوں کو لوگ ہلکا سمجھتے ہیں جو شخص زیادہ بولتا ہے زیادہ غلطیاں کرتا ہے اور غلطیوںکی کثرت حیاء کو کم کردیتی ہے‘ حیاء کی کمی سے تقویٰ کم ہوجاتا ہے اور جب تقویٰ کم ہوجاتا ہے تو قلب مر جاتا ہے
(حضرت سیدنا عمر فاروق رضی ﷲ عنہ)

Muslim Demeans

Posted by Unknown on 07:26 with No comments
                  مسلمان کی تحقیر

کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کی تحقیر نہ کرے کیونکہ بہت سے بظاہر کم درجہ والے ﷲ تعالیٰ کے نزدیک بڑا درجہ رکھتے ہیں--
(حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ)

Friday, 22 February 2013

silence

Posted by Unknown on 19:49 with No comments

                               خاموشی

" تمہاری وہ خاموشی جس کے بعد تم سے بات کرنے کی خواہش پیدا ہو تمھارے اس کلام سے بہتر ہے جس کے بعد تمہیں خاموش کر دیا جائے"

حضرت علی رضی اللہ عنہ

Thursday, 21 February 2013

Self-worth

Posted by Unknown on 05:04 with No comments
                          نفس کی قیمت

تمھارے نفس کی قیمت جنّت ہے، اسے جنّت سے کم قیمت پر مت بیچنا.
حضرت علی رضی اللہ عنہ

Sunday, 17 February 2013

Judge Someone Fron His Suggestion

Posted by Unknown on 23:28 with No comments
             مشورے سے کسی کو پرکھنا

جب تم کسی انسان کی طبیعت پرکھنا چاہو تو اس سے مشورہ لو یقیناً تم اس کے مشورے سے اس کا انصاف، ظلم نیکی بدی سب جان جاؤ گے۔

حضرت علی - رضی الله تعالیٰ عنہ

Saturday, 16 February 2013

عمل اس وقت تک صاف ستھرا نہیں ہو سکتا جب تک علم درست نہ ہو.
حضرت علی - رضی الله تعالیٰ عنہ
The action can not be clean till the knowledge is valid/correct
(Hazrat Ali (Razi Allah Ta'ala Anhu

Thursday, 7 February 2013

Be Prepared To Welcome Your Death...

Posted by Unknown on 18:52 with No comments
            خود کو موت کے استقبال کے لئے تیار رکھ .

کسی سے اپنے استقبال کا خواہاں نہ ہو، بلکہ خود کو موت کے استقبال کے لئے تیار رکھ .

_ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ _

Tuesday, 1 January 2013

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شیطان سے جنگ
 
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جنات اور انسانوں سے جنگ کی ہے۔
پوچھا گیا:(جن سے) کس طرح جنگ کی؟
فر مایا! ایک جنگ میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے،چنانچہ ہم ایک منزل پر اترے اور میں نے اپنا مشکیزہ اور ڈول پانی کیلئے اٹھایا تو۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا
‘‘تمہارے سامنے پانی کے پاس کوئی (شخص) آئے گا وہ تمہیں پانی لینے سے منع کرے گا تم اس سے خبردار رہنا۔
چنانچہ جب میں کنویں کے منڈیر پر پہنچا تو ایک کالا سیاہ، انتہائی بدصورت شخص نظر آیا ۔اس نے کہا اللہ کی قسم تم آج کنویں سے پانی کا ایک ڈول بھی نہیں لے سکتے۔اس طرح سے ہماری جھڑپ ہو گئی اور میں نےاس کو چت کر دیا پھر ایک پتھر اٹھایا اور اسکی ناک اور منہ توڑ دیا پھر اپنا مشکیزہ بھرا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا‘‘کیا تمہیں روکنے تمہارے پاس کوئی آیا تھا ؟‘‘
میں نے عرض کیا،‘‘جی ہاں‘‘۔۔۔اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ عرض کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ‘‘جانتے ہو وہ کون تھا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ‘‘نہیں ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا ‘‘ وہ شیطان تھا ‘‘
ایک روایت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ فر ماتے ہیں۔ ہم عمار سے ملے اور ان کو کہا۔‘‘ابو الیقظان تم تو شیطان پر غالب آگئے۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کے متعلق) ایسے ارشاد فر مایا ہے۔۔۔
‘‘ شیطان،عمار کے اور پانی کے درمیان کالے حبشی کی شکل میں رکاوٹ ڈال رہا تھا اور عمار کو اللہ تعالیٰ نے غالب کر دیا۔‘‘
حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فر مایا
‘‘اگر مجھے معلوم ہوجاتا کہ وہ شیطان ہے تو میں اس کو قتل کر دیتا،اگر اس سے سخت بدبو نہ آرہی ہوتی تو میں اس کی ناک ضرور کاٹ دیتا۔

"Consultation"

Posted by Unknown on 07:06 with No comments
"مشورہ"
جب تم کسی انسان کا مزاج پرکھنا چاہو
تو
اُس سے مشورہ لو۔
تم اُس کے مشورے سے
اُس کا انصاف، ظلم، نيکی
اور بدی سب جان جاؤ گے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ
----------------------------------