Showing posts with label Attributes of ALLAH. Show all posts
Showing posts with label Attributes of ALLAH. Show all posts

Sunday, 26 May 2013

Love Of ALLAH...اللہ سے محبت

Posted by Unknown on 09:02 with No comments


اللہ سے محبت

حب الله
اللہ سے محبت

ويااله من حـــب
كتنا اچهى يہ محبت

لنرى معاً جزءً يسير جداً من دلالات حــب الله لنا
الله سے محبت كے كچهـہ ثبوت ديكهيئے۔۔۔

كل انسان

يعاملك ليأخذ منك ويستفيد
انسان بدلے كى اميد ميں انسان كى مدد كرتا هے۔۔۔

أما الله تعالى يعاملك لتكون انت الرابح والمستفيد
الله آپكى مدد آپكے فائدئے اور منافعے كيلئے كرتا هے

فالحسنة بعشرة امثالها إلى سبعمائة ضعف إلى اضعاف كثيرة
ايــك نيــكی كــے بدلے دس اوراضافہ سات سو (ڈبل)۔

لأنه يحبك
كيونكہ وه هم سے محبت كرتا هے

سيئتك بواحــدة و سيئتك بواحــدة وهي أقرب للمحو فدمعة واحـدة منك قد تمحو
آلاف الخطايا لأنه يحبك
گناہوں کی ہزاروں کی تعداد کے باوجود ہم سے محبت کرتا ہے۔

 °حديث قدسي
° قدسی كى حديث
إذا هم عبدي بحسنة ولم يعملها كتبتها له حسنة فإن هو عملها كتبتها له عشر حسنات إلى سبعمائة ضعف وإذا هم بسئية ولم يعملها لم أكتبها عليه فإن عملها كتبتها سيئة واحد
اگر کسی نے نیکی والا عمل نہیں کیا صرف نیکی کی تو اللہ تعالٰی اس نیت کے بدلے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے ۔۔۔ اور اگر کسی نے برائی کرنے کا ارادہ کیا اور برائی نہیں کی تو کچھ گناہ نہیں۔ لیکن اگر برائی کی تو صرف ایک گناہ لکھا جائے گا۔

ينزل سبحانه إلى السماء الدنيا نزولاً يليق بجلالته فينادي بلطيف قوله :(هل من سائل فأعطيه سؤاله هل من مستغفر فأغفر له )لأنه يحبك
اللہ تعالٰی آسمان سے اتر کر سوال کرتا ہے۔ کوئی معافی کا طلب گار ؟ میں اسے معاف کروں۔ کیونکہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے۔

أرشدك إلى الطريق الصحيح ودلك عليه ووعدك بثوبة عظمى مابعدها مثوبة۔۔۔ لأنه يحبك
كان من الممكن أن تكون حطباً لجهنم عافاكم الله ولكنه جعلك مسلماً۔۔۔ لأنه يحبك

وہ ہمیشہ صیح راستہ بتاتا ہے۔ اس نے وعدہ کیا ہم سے کہ ہمیشہ اچھی چیز انعام میں دے گا۔ کیوں کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے۔
ہم جہنم کا ایندھن بھی بن سکتے تھے لیکن اس نے ہمیں معاف کیا۔ کیوں کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے۔

كم عـافاك
اس نے ہمیں معاف کیا۔

كم سترك
اس نے ہمیں ڈھانپ لیا

كم أعطاك
اس نے ہمیں سب کچھ دیا۔

كم حماك
اور ہماری حمایت کی۔

كم رحمك
اور ہم پر رحمت کی۔

كم امنك
ہمیں امن دیا

كم رزقك
ہمیں رزق دیا

كم وهبك
اور اچھا بدلہ دیا

لماذا . . . . ؟
کیوں ؟

لأنه يحبك
کیونکہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے۔

اخواني أخواتي
بھائیو اور بہنو!۔

إن حــب الله سبحانه هو أسمى أنواع الحـب وأعلاها
ومتى أحـب العبد ربه سار على درب الصلاح..!۔

ہم اللہ ہر پیارے نام سے اسے پکار سکتے ہیں ۔
جب بند ہ اللہ سے محبت کرتا ہے تو وہ نیکی کی طرف راغب ہوتا ہے۔

وقد روى مسلم عن أبي هريرة (رضي الله عنه) قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الله إذا أحب عبداً دعا جبريل، فقال: إني أحب فلاناً فأحبه، قال : فيحبه جبريل ثم ينادي في السماء فيقول: إن الله يحب فلاناً فأحبوه فيحبه أهل السماء، ثم "يوضع له القبول في الأرض
حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ اللہ تعالٰی جس بندے سے محبت کرتے ہیں تو جبرائیل کو بلاتے ہیں اور فرماتے ہیں جاو اور سب سے کہہ دو کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے۔،جبرا ئیل جاتے سب آسمان والوں کو جمع کرتے ہیں اور فرماتے ہیں اللہ تعالٰی اس بندے سے محبت کرتا ہے سو تم بھی اس سے محبت کرو۔ اس کے بعد زمیں میں وہ پسندہدہ بندوں میں شمار ہو گا۔

بعد هذا۔۔۔ألا تطمع وتطمح أن تكون ممن يحبهم الله
أخيراً وليس آخراً

اس کے بعد۔۔ آپ چاہتے ہٰن کہ آپ کا شمار بھی ان لوگوں سے ہو جن سے اللہ محبت کرتا ہے۔ 
یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

ماذا لو سُئلت يوماً ماهو الحب الأول في حياتك . . ؟
هل سيكون جوابك . . . حب الله . . ؟

اگر آپ سے پوچھا جائے کہ آپ کی پہلی محبت کیا تھی۔
آپ یہ جواب دیں۔
“اللہ کی محبت“

Sunday, 3 March 2013

کیا اللہ تعالیٰ کو اپنے افعال میں کسی غرض یا سبب کی احتیاج ہوتی ہے؟
اللہ تعالیٰ کے ہر فعل میں کثیر حکمتیں اور مصلحتیں ہیں جن کی تفصیل وہی خوب جانتا ہے ، خواہ ہم کو معلوم ہوں یا نہ ہوں اور اس کے فعل کے لیے کوئی غرض نہیں کہ غرض اس فائدے کو کہتے ہیں جو فاعل کی طرف رجوع کرے ، اور نہ اس کے افعال علت و سبب کے محتاج ہیں، اس نے اپنی حکمت بالغہ کے مطابق ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے سبب بنا دیا ہے۔ آنکھ دیکھتی ہے کان سنتا ہے، آگ جلاتی ہے، پانی پیاس بجھاتا ہے ، وہ چاہے تو آنکھ سنے، کان دیکھے، پانی جلائے، آگ پیاس بجھائے، نہ چاہے تو لاکھ آنکھیں ہوں، دن کو پہاڑنہ سوجھے، کروڑ آگیں ہوں اور ایک تنکے پر داغ نہ آئے۔
کس قہر کی آگ تھی جس میں ابراہیم علیہ السلام کافروں نے ڈالا، کوئی پاس بھی نہ جاسکتا تھا، اسے ارشاد ہوا، اے آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا ! ابراہیم پر اور وہ آگ گلزار بن گئی۔

To See Almighty ALLAH...

Posted by Unknown on 06:33 with No comments
خدائے تعالیٰ کا دیدار 
دنیا کی زندگی میں اللہ عزوجل کا دیدار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے اور آخرت میں ہر سنی مسلمان کے لیے ممکن بلکہ واقع ہے جس سے اہل جنت کی آنکھیں روشن ہوں گی اور وہ دیدارالٰہی سے بڑھ کر انھیں کوئی نعت و دولت پیاری نہ ہوگی۔ رہا قلبی دیدار یا خواب میں توبہ دیگر انبیاء علیہم السلام بلکہ اولیاء کے لیے بھی حاصل ہے۔ ہمارے امام اعظم رضی اللہ عنہ کو خواب میں سو بار زیارت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ یہ دولت ہمیں بھی میسر فرمائے ۔ آمین

Salbia Attributes...صفات سلبیہ

Posted by Unknown on 06:31 with No comments
صفات سلبیہ
 صفات سلبیہ وہ ہیں جس سے اللہ تعالیٰ کی ذات مبرا اور پاک ہے۔ مثلاً وہ جاہل نہیں، بے اختیار وبے کس نہیں، کسی بات سے معذور و عاجز نہیں، اندھا نہیں، بہرا نہیں، گونگا نہیں، ظالم نہیں، مجسم یعنی جسم والا نہیں، زمانی و مکانی، جہت و مکان و زمان و حرکت و سکون و شکل و صورت اور تمام حوادث سے پاک ہے۔ کھانے پینے اور تمام حوائج بشری (انسانی حاجتوں) اور ہر قسم کے تغیر وتبدل ، حدوث واحتیاج سے پاک ہے،نہ وہ کسی چیز میں حلول کئے ہوئے ہے کہ کسی چیز میں سما جائے ،نہ اس میں کوئی چیز حلول کئے ہوئے کہ اس میں پیوست ہو جائے ، یونہی وہ ذات کسی کے ساتھ متحد بھی نہیں جیسے کہ برف پانی میں گھل کر ایک ہو جاتی ہے نہ وہ کسی کا باپ ہے ،نہ کسی کا بیٹا ، نہ اس کے لیے بی بی ہے ، نہ اس کا کوئی ہمسر و برابر۔

Sustainer Attribute...

Posted by Unknown on 06:29 with No comments
صفت رزاقیت سے مراد
اللہ تعالیٰ رزاق ہے وہی تمام ذی روح کو رزق دینے والا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی مخلوق کو وہی روزی دیتا ہے، وہی ہر چیز کی پرورش کرتا ہے۔ وہی ساری کائنات کی تربیت فرماتا اور ہر چیز کو آہستہ آہستہ بتدریج اس کے کمال مقدار تک پہنچاتا ہے۔ وہ رب العالمین ہے۔ یعنی تمام عالم کا پرورش کرنے والا، حقیقۃ روزی پہنچانے والا وہی ہے۔ ملائکہ وغیرہ ہم وسیلے اور واسطے ہیں۔

Creation Meanings...

Posted by Unknown on 06:26 with No comments
یہ سات صفات کیا کہلاتی ہیں
حیات، قدرت، سمع، بصر، علم ، ارادہ اور کلام ، اللہ تعالیٰ کی صفات ذاتیہ کہلاتی ہیں۔

تکوین و تخلیق سے مراد
تکوین و تخلیق سارے جہان کو پیدا کرنے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ سارے جہان کا خالق ہے یعنی تمام عالم اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور آئندہ بھی ہر چیزوہی پیدا کرے گا ۔ چھوٹے سے چھوٹا ذرہ اور عالم کا مادہ ( آگ ، پانی، ہوا، خاک جنھیں اربع عناصر کہتے ہیں ) سب اسی کی مخلوق ہے۔ چیزوں کے پیدا کرنے میں وہ کسی آلہ کا محتاج نہیں، نہ اس کو کسی مدد کی ضرورت ہے۔ جس چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس کوکن (ہوجا) کہہ کر پیدا کر دیتا ہے۔ انسانوں کے کام اور عمل بھی سب اس کے مخلوق ہیں، ذوات ہوں خواہ افعال سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔
مارنا ،جلانا، صحت دینا، بیمار ڈالنا، غنی کرنا، فقیر کرنا وغیرہ صفات جن کا تعلق مخلوق سے ہیں اور جنھیں صفات اضافیہ اور صفاتِ فعیلہ بھی کہتے ہیں۔ ان سب کو صفاتِ تکوین کی تفصیل سمجھنا چاہیے۔

Meaning of Speaking Attribute...

Posted by Unknown on 06:19 with No comments
صفت کلام سے مراد
 اللہ تعالیٰ متکلم ہے یعنی اس کو کلام کرنے کی صفت حاصل ہے، جس چیز کو چاہتا ہے خبر دیتا ہے۔ انبیاء سے جب چاہتا ہے کلام کرتا ہے اور جس طرح وہ بے کان کے سنتا ہے اور بے آنکھ کے دیکھتا ہے اسی طرح وہ بغیر زبان کے بولتا ہے کہ یہ سب اجسام ہیں اور اجسام سے وہ پاک۔ اس کا کلام آواز سے پاک ہے اور مثل دیگر صفات کے اس کا کلام بھی قدیم ہے۔ تمام آسمانی کتابیں اور یہ قرآن عظیم جس کو ہم اپنی زبان سے تلاوت کرتے اور مصاحف میں لکھتے ہیں، اسی کا کلام قدیم بلاصورت ہے اور یہ ہمارا پڑھنا، لکھنا، سننا اور حفظ کرنا حادث ہے، اور جو ہم نے پڑھا، لکھا اور سنا اور جو ہم نے حفظ کیا وہ قدیم ہے۔
صفت سمع وبصر سے مراد
 اللہ تعالیٰ سمیع وبصیر ہے یعنی اس میں صفتِ سماعت و صفت بصارت ہے۔ ہر پست سے پست آواز تک کو سنتا ہے اور ہر باریک سے باریک کو کہ خوردبین سے محسوس نہ ہو، وہ دیکھتا ہے بلکہ اس کا دیکھنا اور سننا انھیں چیزوں پر منحصر نہیں وہ ہر موجود کو دیکھتا ہے اور ہر موجود کو سنتا ہے ۔ سمع کے معنی سننا اور بصر کے معنی دیکھنا ہے۔

Meaning of Knowledge Attribute...

Posted by Unknown on 06:14 with No comments
صفت علم کے معنی
اللہ تعالیٰ علیم ہے یعنی اس کو صفت علم حاصل ہے اس کا علم ہر شے کو محیط ہے، ہر چیز کی اس کی خبر ہے، جو کچھ ہو رہا ہے یا ہو چکا آئندہ ہونے والا ہے، پوری تفصیل کے ساتھ ان سب کو ازل میں جانتا تھا، اب جانتا ہے اور ابدتک جانے گا۔ اشیاء بدلتی ہیں اس کا علم نہیں بدلتا، ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، اس کے علم کی کوئی انتہا نہیں، وہ غیب و شہادت سب کو یکساں جانتا ہے۔ علم ذاتی اس کا خاصہ ہے۔

Intention Meaning...

Posted by Unknown on 06:12 with No comments
اردہ مشیت کے معنی
 اللہ تعالیٰ مرید ہے یعنی اس میں ارادہ کی صفت پائی جاتی ہے، اس کی مشیت و ارادہ کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ تمام چیزوں کو اپنے ارادے سے پیدا فرماتا ہے اور ان میں اپنے ارادے ہی سے تصرف فرماتا ہے، یہ نہیںکہ بے ارادہ اس سے فعل صادر ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ازلی ارادہ کے ماتحت ہی ہر چیز کا ظہور ہوتا ہے۔ اس پر کوئی چیز واجب و ضروری نہیں کہ جس کے کرنے پر مجبور ہو، مالک علی الااطلاق ہے جو چاہے کرے جو چاہے حکم دے۔

Has Allaah Power over to Lie?

Posted by Unknown on 06:05 with No comments
کیا اللہ تعالیٰ جھوٹ بولنے پر بھی قادر ہے؟ 
اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جس میں عیب و نقصان ہے، پاک ہے ،یعنی عیب و نقصان کا اس میں پایا جانا محال ہے، مثلاً جھوٹ ، دغا، خیانت، ظلم، جہل، بے حیائی وغیرہ عیوب اس پر محال ہیں اور یہ کہنا کہ جھوٹ پر قدرت ہے بایں معنی کہ وہ خود جھوٹ بول سکتا ہے محال کو ممکن ٹھہرانا اور خدا کو عیبی بتانا بلکہ خدا سے انکار کرنا ہے اور کذب (جھوٹ) تو ایسا گندا، ناپاک عیب ہے جس سے تھوڑی ظاہری عزت والا بھی بچنا چاہتا ہے بلکہ بھنگی ، چمار بھی اپنی طرف اس کی نسبت سے شرماتا ہے۔ اگر وہ اللہ جل جلالہ کے ممکن ہو تو وہ بھی عیبی ، ناقص، گندی نجاست سے آلودہ ہوسکے گا، تو کیا کوئی مسلمان اپنے رب پر ایسا گمان کر سکتا ہے؟ مسلمان تو مسلمان معمولی سمجھ والا یہودی اور نصرانی بھی ایسی بات اپنے رب کی نسبت گورانہ کرے گا اور جو خدا کی طرف اس کی نسبت کرے وہ یہودیوں اور نصرانیوں سے بدتر ہے۔

The meaning of Life (Hayat)...

Posted by Unknown on 06:03 with No comments
حیات کے معنی
وہ حی ہے یعنی خود زندہ ہے اور تمام چیزوں کو زندگی والا، پھر جب چاہتا ہے ان کو فنا کر دیتا ہے۔

 صفتِ قدرت کے معنی
اللہ تعالیٰ قدیر ہے اسے ہر چیز پر قدرت حاصل ہے، کوئی ممکن اس کی قدرت سے باہر نہیں، جو چاہے وہ کرے، معدوم کو موجود اور موجود کو معدوم ، فقیر کو بادشاہ اور بادشاہ کو فقیر کر دے جس چیز میں جو خاصیت یا اثر چاہے پیدا کر دے اور جب چاہے و ہ اثر نکال لے اور دوسرا خاصہ اور تاثیر پیدا کر دے۔

Meaning of ALLAH...

Posted by Unknown on 05:59 with No comments
اللہ کے معنی 
اللہ خدا کے لیے اسم ذات ہے جو واجب الوجود ہے اور ہر کمال و خوبی کا جامع اور ہر اس چیز سے جس میں عیب و نقص ہے،پاک ہے۔ تمام صفاتِ کمالیہ اس میں موجود ہیں۔

 صفات کمالیہ کے معنی
خدائے تعالیٰ واجب الوجود ہے اس کی ذات تمام کمالات اور خوبیوں سے آراستہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے تو اس کمال ذاتی کے لیے جن جن صفات سے اس کی ذات کا متصف ہونا ضروری ہے۔ ان صفات کو صفات کمالیہ کہتے ہیں۔

 صفات کمالیہ کتنی ہیں؟ 
اللہ تعالیٰ کی ذات میں بہت سی صفتیں ہیں جن میں اہم صفتیں نو ہیں ۔ باقی صفات انہی نو صفتوں میں سے کسی نہ کسی کے تحت آجاتی ہیں اور وہ نو صفتیں یہ ہیں:
حیات، قدرت، ارادہ و مشیت، علم، سمع، بصر، کلام، تکوین وتخلیق ، رزاقیت۔

The Creator of the World...

Posted by Unknown on 05:56 with No comments
سارے عالم کا خالق ومربی اور مدبر و مالک
 وہ ایک اللہ ہے ، وہی ہر شے کا خالق ہے، ذوات ہوں خواہ افعال سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ ساری کائنات کا نظام تربیت اسی کے ہاتھ میں ہے وہی ساری مخلوق کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف نشوونما دیتا اور اسے مرتبہ کمال تک پہنچاتا ہے، مربی کے یہی معنی ہیں، وہی مدبر ہے کہ دنیا کے قیامت تک ہونے والے کاموں کو اپنے حکم و امر او ر اپنے قضا ء قدر سے تدبیر فرماتا ہے۔ زمین و آسمان اللہ ہی کی ملک ہیں ہم سب عبد محض ہیں اور تمام تر اسی کی ملک ، ہم خود بھی اور ہماری ہر چیز بھی اس کی مملوک ہیں۔ زمین و آسمان کے یہ سارے کارخانے جو دنیا کے ہر طلسم سے بڑھ کر حیرت انگیز اور انسانی سائنس کے ہر شعبہ سے عجیب تر ہیں، بجائے خود اس کی دلیل ہیں کہ نہ یہ اپنے آپ وجود میں آسکتے ہیں نہ باقی رہ سکتے ہیں جب تک کوئی قادر مطلق ہستی ان کی صانع وخالق اور مربی ومدتر نہ ہو اور وہ نہیں مگر ایک اللہ تعالیٰ واحد قہار جل جلالہ و عز شانہ، ۔