Showing posts with label Naafil Prayers (Nafli Namazen). Show all posts
Showing posts with label Naafil Prayers (Nafli Namazen). Show all posts

Thursday, 21 February 2013

نمازِ اوّابین کا وقت اور اس کی رکعات
نمازِ اوّابین مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھنی چاہیے۔ یہ نماز کم از کم دو (2) طویل رکعات یا چھ (6) مختصر رکعات اور زیادہ سے زیادہ بیس (20) رکعات پر مشتمل ہے۔
 ترمذی اور ابنِ ماجہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔
۔’’جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعات نفل اس طرح (مسلسل) پڑھے کہ ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کرے تو اس کے لیے یہ نوافل بارہ سال کی عبادت کے برابر شمار ہوں گے‘‘۔
ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب الصلوة، باب ما جاء فی فضل التطوع و ست رکعات بعد المغرب، 1 : 456، رقم : 435

Namaze Chasht...نمازِ چاشت

Posted by Unknown on 07:52 with No comments
نمازِ چاشت کا وقت اور اس کی رکعات
نماز چاشت کا وقت آفتاب کے خوب طلوع ہو جانے پر شروع ہوتا ہے۔ جب طلوعِ آفتاب اور آغازِ ظہرکے درمیان کل وقت کا آدھا حصہ گزر جائے تو یہ چاشت کے لیے افضل وقت ہے۔ نماز چاشت کی کم از کم چار (4) اور زیادہ سے زیادہ بارہ (12) رکعات ہیں۔
اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی چار رکعت پڑھتے تھے اور ﷲ تعالیٰ جس قدر زیادہ چاہتا اتنی پڑھ لیتے تھے۔
مسلم، الصحيح، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب استحباب صلاة الضحی، 1 : 497، رقم : 719
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :۔
۔’’جو شخص چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھے گا۔ ﷲ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں سونے کا محل بنائے گا۔‘‘۔
ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب الوتر، باب ما جاء فی صلاة الضحی، 1 : 485، رقم : 473

Namaze Ishraq...نماز اشراق

Posted by Unknown on 07:44 with No comments
نمازِ اشراق کا وقت اور اس کی رکعات
نمازِ اشراق کا وقت طلوعِ آفتاب سے 20 منٹ بعد شروع ہوتا ہے۔ اسے نمازِ فجر اور صبح کے وظائف پڑھ کر اٹھنے سے پہلے اسی مقام پر ادا کرنا چاہیے۔ نماز اشراقِ کی رکعات کم ازکم دو (2) اور زیادہ سے زیادہ چھ (6) ہیں۔
حدیث مبارکہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :۔
  جو شخص صبح کی نماز باجماعت پڑھ کر طلوع آفتاب تک بیٹھا اللہ کا ذکر کرتا رہا۔ پھر دو رکعت نماز (اشراق) ادا کی اس کے لئے کامل (و مقبول) حج و عمرہ کا ثواب ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لفظ تامۃ ’’کامل‘‘ تین مرتبہ فرمایا۔
ترمذی، السنن، کتاب الجمع عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ، باب ذکر من يستحب من الجلوس فی المسجد بعد صلاة الصبح حتی تطلع الشمس، 2 : 421، رقم : 586

Namaze Tahajjud...نمازِ تہجد

Posted by Unknown on 07:19 with No comments
نمازِ تہجد کی رکعات اور اس کے ادا کرنے کا وقت

نمازِ تہجد کی کم از کم دو رکعات ہیں اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعات ہیں۔ بعد نمازِ عشاء بسترِ خواب پر لیٹ جائیں اور سو کر رات کے کسی بھی وقت اٹھ کر نمازِ تہجد پڑھ لیں، بہتر وقت نصف شب اور آخر شب ہے۔
 تہجد کے لیے اٹھنے کا یقین ہو تو آپ عشاء کے وتر چھوڑ سکتے ہیں۔ اس صورت میں وتر کو نماز تہجد کے ساتھ آخر میں پڑھیں۔ یوں بشمول آٹھ نوافلِ تہجد کل گیارہ رکعات بن جائیں گی۔ رات کا اٹھنا یقینی نہ ہو تو وتر نماز عشاء کے ساتھ پڑھ لینا بہتر ہے۔
اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ رات کو گیارہ رکعات پڑھتے تھے :۔
’’ایک رکعت کے ساتھ تمام رکعات کو طاق بنا لیتے، نماز سے فارغ ہونے کے بعد دائیں کروٹ لیٹ جاتے حتی کہ آپ کے پاس مؤذن آتا پھر آپ دو رکعت (سنت فجر) مختصرًا پڑھتے‘‘۔
مسلم، الصحيح، کتاب صلوة المسافرين، باب صلوة الليل و عدد رکعات النبی صلی الله عليه وآله وسلم فی الليل، 1 : 508، رقم : 736
تنہائی میں پڑھی جانے والی یہ نماز اللہ تعالیٰ سے مناجات اور ملاقات کا دروازہ ہے۔
 احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے۔ ’’حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :۔
  اللہ تعالیٰ کو تمام نفل نمازوں میں سب سے زیادہ محبوب نماز، صلاۃِ داؤد علیہ السلام ہے۔ وہ آدھی رات سوتے (پھر اٹھ کر) تہائی رات عبادت کرتے اور پھر چھٹے حصے میں سو جاتے‘‘۔
مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب النهی عن الصوم الدهر لمن تضرر به او فوت به حقاً لم يفطر العيدين، 2 : 816، رقم : 1159

نماز تسبیح کی فضیلت
یہ نماز کم از کم زندگی میں ایک مرتبہ ضرور پڑھنی چاہئے عباس کو نبی نے فرمایا۔۔۔
(إن استطعت أن تصلیھا فی کل یوم مرۃ فافعل فإن لم تفعل ففي کل جمعۃ مرۃ فإن لم تفعل ففي کل شھر مرۃ فإن لم تفعل ففي کل سنۃ مرۃ فإن لم تفعل ففي عمرک مرۃ)۔
’’اگر تو روزانہ ایک دفعہ پڑھنے کی طاقت رکھتا ہے تو ایسا کر، اگر ایسا نہیں کرسکتا تو جمعہ میں ایک مرتبہ پڑھ لے۔ اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو مہینہ میں ایک دفعہ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سال میں ایک مرتبہ اور اگر اس کی ہمت بھی نہ ہو تو زندگی میں ایک مرتبہ ضرور پڑھ۔‘‘۔ (صحیح ابوداود:۱۱۵۲)۔

پہلا طریقہ نماز
۔
عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ آپ نے عباس سے فرمایا۔
(یا عباس یا عماہ ألا أعطیک ألا أمنحک ألا أحبوک ألا أفعل بک عشر خصال إذا أنت فعلت ذلک غفراﷲ لک ذنبک أولہ وآخرہ قدیمہ وحدیثہ خطأہ وعمدہ صغیرہ وکبیرہ سرہ وعلانیتہ عشر خصال أن تصلی أربع رکعات تقرأ فی کل رکعۃ فاتحۃ الکتاب وسورۃ فإذا فرغت من القراء ۃ فی أول رکعۃ وأنت قائم قلت: سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُ ﷲِ وَلَاإِلـٰہَ إلَّا اﷲُ وَاﷲُ أکْبَرُ خمس عشرۃ مرۃ ثم ترکع فتقولھا وأنت راکع عشرا ثم ترفع رأسک من الرکوع فتقولھا عشرا ثم تھوی ساجدا فتقولھا وأنت ساجد عشرا ثم ترفع رأسک من السجود فتقولھا عشرا ثم تسجد فتقولھا عشرا ثم ترفع رأسک فتقولھا عشرا فذلک خمس وسبعون فی کل رکعۃ تفعل ذلک فی أربع رکعات۔ (صحیح ابو داود:۱۱۵۲)۔ 
اے (میرے چچا)عباس !میں آپ کو کچھ عطا نہ کروں؟
 کیا میں آپ کو کچھ ہدیہ نہ کروں؟ میں آپ کو دس خصلتوں والا نہ کردوں کہ جب آپ یہ عمل کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے پرانے اور نئے غلطی سے یا عمداً ، چھوٹے یا بڑے پوشیدہ اور ظاہر گناہ معاف فرما دے۔ 
آپ چار رکعات اس طرح پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی سورۃ تلاوت کریں اور جب آپ قراءت سے فارغ ہوں تو قیام کی حالت میں ہی یہ کلمات پندرہ مرتبہ ادا کریں۔

 سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُ ﷲِ وَلَاإِلہَ إلَّا اﷲُ وَاﷲُ أکْبَرُ

پھر آپ رکوع میں چلے جائیں اور رکوع کی حالت میں دس مرتبہ یہی کلمات کہیں۔
 پھر اپنا سر رکوع سے اٹھائیں اور دس مرتبہ یہی کلمات دہرائیں۔
 پھر سجدہ میں جائیں اور اس میں یہی کلمات دس مرتبہ ادا کریں۔
 پھر سجدہ سے سراٹھائیں اور (جلسہ میں) دس مرتبہ یہ کلمات دہرائیں۔
 پھرسجدہ میں جائیں اور دس مرتبہ یہ کلمات دہرائیں۔
 پھر سر اٹھائیں اور دس مرتبہ پھر یہ کلمات دہرائیں۔
 ہر رکعت میں، ان تسبیحات کی تعداد ۷۵ ہوگی۔
 ہر رکعت میں آپ اسی طرح کریں۔
اس طرح یہ چار رکعات ہیں۔

دوسراطریقہ نماز۔
اس میں فرق صرف اتنا ہے کہ ثنا یعنی سبحانک اللھم کے بعد پندرہ بار یہ تسبیح پڑھیں۔
پھر تعوذ، تسمیہ، سورہ فاتحہ اور کوئ اور سورت پڑھنے کے بعد دس بار یہ تسبیح پڑھیں۔

پھر آپ رکوع میں چلے جائیں اور رکوع کی حالت میں دس مرتبہ یہی کلمات کہیں۔
 پھر اپنا سر رکوع سے اٹھائیں اور دس مرتبہ یہی کلمات دہرائیں۔
 پھر سجدہ میں جائیں اور اس میں یہی کلمات دس مرتبہ ادا کریں۔
 پھر سجدہ سے سراٹھائیں اور (جلسہ میں) دس مرتبہ یہ کلمات دہرائیں۔
 پھرسجدہ میں جائیں اور دس مرتبہ یہ کلمات دہرائیں۔
یہاں تک 75 تعداد پوری ہو جائے گی اور دوبارہ سجدے سے اٹھ کر تسبیح نہیں پڑھنی۔

فوائد:۔
 احادیث میں نمازِتسبیح کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ اس کو اپنی استطاعت کے مطابق پڑھتا رہے۔ کیونکہ اس سے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
سبحان اللہ دین میں کیسی کیسی آسانیاں ہیں۔ ہمارا پروردگار تو بس یہی چاہتا ہے کہ وہ کسی بھی طریقے سے ہم گناہگاروں کو معاف کر دے۔ اور سوچنے والی بات یہ ہے کہ دیکھنے میں یہ ایک چھوٹا سا عمل لگتا ہے لیکن اس کی فضیلت بہت ہی زیادہ ہے۔
 ہم اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہم گناہگاروں پر اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر بنا کر بھیجا، ہم جہنم کے کنارے کھڑے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو جہنم سے بچا کر جنت کا راستہ دکھایا۔
 ہم اللہ کا شکر تو کبھی بھی ادا نہیں کر سکتے۔ چاہے ہم ساری زندگی اسکی عبادت کرتے رہیں۔

آپ سب سے گزارش
 لیکن آپ سب سے گزارش ہے کہ میرے پیارے نبی، سیدالانبیاء، امام المرسلین، ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر زیادہ سے زیادہ درود پڑھا کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین سمجھنے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
 آمین ثمہ آمین