Showing posts with label Islamic Articles. Show all posts
Showing posts with label Islamic Articles. Show all posts

Thursday, 5 September 2013

Trial...آزمائش

Posted by Unknown on 23:55 with No comments
آزمائش

جب اللہ تعالیٰ تمہارے پاس سے کوئی کچھ لے لیتا ہے

تو

یہ مت سوچو کہ وہ تمہیں سزا دے رہا ہے ۔ ۔ ۔

بلکہ

یہ سوچو کہ وہ تمہیں اس سے بہتر دینے کے لیے آزما رہا ہے ۔ ۔ ۔

بے شک
انگلیوں کے نام

قیامت کے دن ایک سوال یہ بھی پوچھا جائے گا کہ اپنی انگلیوں کے نام بتاؤ۔

تو اس کا جواب یہ ہے ۔ ۔ ۔

اپنے ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کریں:۔

آمین

امانت

جنت

شہادت

فرض
 
یہ وہ بات ہے جو بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔

اس لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دینِ اسلام کی باتیں بتائیں۔ یہ آپ کا فرض ہے۔

Monday, 15 July 2013

Three Strange Questions And Answers

Posted by Unknown on 00:52 with No comments
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تین عجیب و غریب سوالات و جوابات

ابن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمررضی الله عنہ نے حضرت علی رضی الله عنہ سے کہا کہ اکثر اوقات آپ رحمتہ اللعالمیں صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں مگر ہم نہیں ہوتے - اور کبھی ہم ہوتے ہیں آپ نہیں ہوتے - میں آپ سے تین سوال کرتا ہوں اگر آپ کو جوابات معلوم ہوں تو بتائیے -

حضرت علی رضی الله عنہ نے فرمایا " پوچھیں "

حضرت عمررضی الله عنہ کے سوالات

١. کسی کو کسی سے محبّت ہوتی ہے جب کہ وہ اس کا کوئی سلوک نہیں دیکھتا ، کسی کو کسی سے دشمنی ہوتی ہے جب کہ اس کی کوئی برائی نہیں دیکھی ؟

٢. آدمی بات کرتا کرتا کوئی بات بھول جاتا ہے پھر اچانک اسے بات یاد آجاتی ہے اوس کی وجہ ؟

٣. انسان خواب دیکھتا ہے پھر کوئی خواب تو سچا ہوتا ہے کوئی جھوٹھا اس کی وجہ ؟

حضرت علی رضی الله عنہ کے جوابات

١. ہاں میں نے رحمتہ اللعالمیں صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ ارواح جمع شدہ لشکر ہیں - اور فضا میں ملتی جلتی ہیں پھر جن ارواح میں تعارف ہو جاتا ہے ان میں محبت ہو جاتی ہے - جن میں وہاں اجنبیت رہتی ہے ان میں دنیا میں بھی اجنبیت رہتی ہے -

٢. ہاں میں نے رحمتہ اللعالمیں صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ ہر دل کے لئے چاند کے بادل کی طرح بادل ہوتا ہے - پھر جس طرح چاند پر بادل چھا کر اس کی روشنی ختم کر دیتا ہے ، اور جب ہٹ جاتا ہے پھر چاند روشن ہو جاتا ہے - انسان کے ذھن پر گفتگو کے دوران بادل چھا جاتا ہے اور وہ بات بھول جاتا ہے اور جب بادل ہٹ جاتا ہے تو بات یاد آجاتی ہے -

٣. ہاں میں نے رحمتہ اللعالمیں صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ جب انسان گہری نیند سو جاتا ہے تو اس کی روح عرش تک چڑھتی ہے پھر جو عرش کے ورے بیدار نہیں ہوتا ( اور کچھ خواب میں دیکھتا ہے ) تو اس کا وہ خواب سچا ہوتا ہے ورنہ جھوٹا -

حضرت عمررضی الله عنہ نے فرمایا الحمد الله ! میں نے موت سے پہلے تینوں کا جواب پا لیا -

حضرت عمررضی الله عنہ نے فرمایا حیرانی کی بات یہ ہے کہ کبھی انسان خواب میں ایسی بات دیکھتا ہے جس کا اس کے دل میں ڈر بھی نہیں گزرا تھا اور اس کا وہ خواب سچا ہو جاتا ہے - اور کوئی خواب کچھ بھی نہیں ہوتا -

اس پر حضرت علی رضی الله عنہ نے فرمایا کہ الله تعالیٰ کا فرمان ہے کہ " الله یتوفی النفس " الخ - الله موت کے وقت بھی روحیں قبض کر لیتا ہے اور جو فوت نہیں ہوئے ان کی ارواح نیند کے وقت بھی قبض کر لیتا ہے پھر وہ ارواح روک لیتا ہے جن پر موت کا فیصلہ صادر ہو چکا ہوتا ہے -
اور دوسری ارواح ایکی مقررہ مدت کے لئے چھوڑ دیتا ہے جن روحوں کو نیند میں چڑھایا جاتا ہے اور جو کچھ وہ آسمان میں دیکھ آتی ہیں وہ باتیں درست ہوتی ہیں -
پھر جب وہ اپنے جسموں کی طرف واپس آجاتیں ہیں تو فضا میں انھیں شیطان مل جاتے ہیں اور ان کو جھوٹی باتیں بتا دیتے ہیں ایسے خواب جھوٹے ہوتے ہیں -

از امام ابن القیم رحمتہ الله علیہ کتاب الروح ترجمہ مولانا عبد المجید

Sunday, 14 July 2013

Righteous Man

Posted by Unknown on 00:49 with No comments
پرہیزگار شخص

دنیا اچھے برے لو گوں سے بھری پڑی ہے۔ دنیا میں دونوں قسم کے لوگ ہر جگہ مو جود ہیں ۔ اللہ اپنے کرم سے کسی ایسے شخص کو ایمان کی روشنی بخش دے جو شیطانیت کی راہ پر چل نکلا ہو تو یہ نہ صرف اس شخص کی خوش قسمتی ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے جودو سخا اور بے نیا زی کا پتا بھی اس با ت سے چلتا ہے اور خدا کی ذات پر یقین ِ کا مل اور زیا دہ ہو جا تاہے ۔ زیر سطورقصہ بھی ایک ایسے شخص کا ہے جس نے اپنے شیطانی کاموں سے سب کو زچ کر رکھا تھا ۔ مگر جب خدا کی رحمت اس پر برسی تو لوگوں کو یہ معجزہ ہی لگا ۔ آج سے تقریباً پچیس برس پہلے وہ شخص اٹھارہ برس کا جوان تھا ۔ جوا کھیلنا، خصوصاً شراب پینا ، چوری چکاری اور لوگوں سے ہیرا پھیری کرکے پیسے بٹورنا اس کا شیوہ تھا۔ انتہائی شریف گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود اس کو یہ بری عادتیں دوستوں سے ایسی لگیں کہ وہ مڈل سے آگے نہ پڑھ سکا ۔ با پ نے بہت کو شش کی کہ چل کر دکان پر بیٹھے مگر مرضی سے جانے کے بعد وہاں بھی چوری کرکے بھاگ جاتا ۔ چند دنوں بعد پیسے ختم ہو جاتے تو پھر گھر واپس آجاتا ۔ ماں کی وجہ سے اس کا باپ مجبور تھا کہ وہ رونے لگتی تھی۔ اس بات سے اسے اور شہہ مل جاتی۔ تنگ آکر اس کے والد نے اپنی بھانجی سے اس کی شا دی کر دی ۔ بہن بیچاری بیوہ غریب تھی، بھائی کی ناانصافی پر احتجاج نہ کر سکی اور یوں اس جوارئیے پرویز عرف پیجی کو اپنی بیٹی دے دی ۔ پانچ بیٹیوں کی ماں تھیں، کیا کرتی ۔ پیجی صاحب کو تو مفت کی ملازمہ ہاتھ لگ گئی۔ پہلے تو جب گھر آتا تو ٹھنڈا کھا نا کھانا پڑتا تھا مگر اب اسکے کھانے اور کپڑوں کا خیال کرنے والی خادمہ گھر میں موجود تھی ۔ وقت گزر تا گیا اور پھر ایک دن وہ بیٹی کا باپ بن گیا وہ اس دن تقریبا ً پندرہ دن بعد گھر آیا تھا ۔ صحن میں بیٹھ کر سو چتا رہا کہ ابھی کھانا کیوں نہیں لیکر آئی ۔ والدہ نے کہا کہ تمہارے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے اب توکچھ شرم کرلے۔با پ بیچارہ بہن اور بھانجی کے سامنے شرمندہ ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ شاید شادی کے بعد تو سلجھ جائے گا ۔ ماں سے یہ الفاظ سن کر آپے سے با ہر ہو کر بولا میں ایسا نہیں چاہتا تھا ۔ اگر آپ نہیں پال سکتے تو یتیم خانے دے آئیں ۔ اندر بیوی سن رہی تھی ۔ تھوڑی دیر بعد غصے سے اندر گیا تو دیکھا کہ اس کی بیوی بچی کو ساتھ لگائے رورہی ہے ۔ پو چھا کیو ں رو رہی ہو کیا میں مرگیا ہوں، بیوہ ہوگئی ہو ۔ بیوی نے پہلی بار شکائتی نظروں سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا اور بولی نہیں میں تو اس لیے رورہی ہوں کہ میں نے خدا سے کتنی دعائیں کی تھیں کہ اللہ مجھے بیٹی نہ دینا ۔ اگر تمہا رے جیسا مر د پلے پڑا تو کیا ہو گا ۔ اتنا کہہ کر وہ پھر رونے لگی ۔ پیجی نے حیرت سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا کہ یہ بات اس نے کہی ہے جس نے دو سال چپ چاپ گزار دئیے، کبھی شکایت نہ کی تھی ۔ اپنے تئیں تو پیجی نے اس سے نکاح کرکے احسانِ عظیم کیا تھا کہ اس دور میں کون کسی یتیم غریب لڑکی سے بیاہ کرتا ہے ۔ جس کے سر پر باپ اور بھائی کا سایہ بھی نہ ہو ۔ وہ خاموش ہو کر کھانا کھائے بغیر چھت پر چلا گیا اور صبح فجر تک ٹہلتا رہا ۔ صبح مؤذن کی آواز پر گھر سے نکل آیا ۔ مسجد میں گیا تو مولوی صاحب سمجھے شاید چوری کرنے آیا ہے کیونکہ پہلے بھی دو دفعہ مسجد سے چوری کرتا پکڑا گیا تھا۔ انہو ں نے کہا کہ پیجی تو گھر جا کر سوتا کیوں نہیں یہاں تیرا کیا کام ۔ اگر چوری نہیں کرنی تو پھر کیا نماز پڑھنے آیا ہے ؟پیجی کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور بولا ہاں مولوی صاحب آج ہی جاگا ہوں مگر نماز تو کیا پڑھوں گا مجھے تو وضو کرنا بھی نہیں آتا ۔ مو لوی صاحب نیک انسان تھے۔ اسے وضو کروایا اور پھر اس نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھی، گھر واپس آیا تو دیکھا بیوی سورہی تھی بچی کو اٹھا کر سینے کے ساتھ لگا لیا ۔ بیوی کی آنکھ کھلی تو وہ یہ سمجھی شاید یتیم خانے دینے کے لیے لے جارہا ہے ۔ وہ رونے لگی اور کہا کہ میں نے کبھی تم سے کچھ نہیں مانگا، اپنی بچی کے لیے بھی کچھ نہیں مانگوں گی، یہ ظلم مت کر و ۔ پیجی کا دل بہت برا ہوا ۔ بیوی کو پیار سے سمجھایا کہ وہ اپنی بچی کو پیار کر نے کا حق بھی نہیں رکھتا؟
اسی دن سے با پ کے ساتھ دکان پر جا نے لگا ۔ پہلے پہل تو اس کے والد صاحب اس پر اعتبار نہیں کرتے تھے مگر پھر اس نے دکھا دیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال ہو تو انسان کا دل بدلنے پر دیر نہیں لگتی ۔ آج اس پیجی کو لوگ حاجی پرویز صاحب کے نام سے پکارتے ہیں ۔ اس نے دکان ایسی چلائی کہ کسی کو یقین نہیں ہوتا کہ یہ وہی پیجی ہے جو دو سو روپے چوری کرکے دکان کھلی چھوڑ کر بھاگ گیا تھا ۔ والدین کو، بیوی کو حج کروایا۔ آج ان کے چا ر بچے ہیں مگر اپنی بیٹی ( جس کا نام پیجی نے ” نو ر ایمان “ رکھا تھا اورنام رکھتے وقت اس نے کسی کی نہ سنی تھی ) اس کو بہت پیا ری ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ میری بیٹی نے میرے دل میں ایمان کی جوت جلائی ہے ۔ اس کا معصوم چہرہ دیکھ کر اور اپنی بیوی کی اس وقت کہی ہوئی بات نے مجھے اندر سے ہلا دیا تھا ۔ پرویز صاحب کو دیکھ لیں تو نورانی چہرہ اور ماتھے پہ محراب، گھنی ڈاڑھی ان کے پانچ وقت نمازی اور پرہیزگاری کا پتہ دیتی ہے ۔ مارکیٹ میں ان کی اتنی عزت ہے کہ لوگ ان کی شرافت کی مثالیں دیتے ہیں۔ صرف ان کے ماضی کو جاننے والے لوگ ہی اس بات سے واقف ہیں کہ وہ کیا تھا؟ میں سمجھتی ہوں کہ ان کی کوئی نہ کوئی نیکی ان کے کام آئی ہے جو خدا نے اتنی ذلتوں اور پستیوں سے نکال کر انہیں اس مقام تک پہنچایا ہے ۔ وہ شخص جس سے کسی کی مال وآبرو محفوظ نہ تھی آج محلے کی بہو بیٹیوں کو اپنی نورایمان جیسا سمجھتا ہے اور اس کی نگاہیں عورتوں کو دیکھ کر جھک جاتی ہیں ۔ دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو شیطانیت کی راہ پر اتنی دور تک چلنے کے بعد فلاح کی طرف آتے ہوں۔ یہ خدا کا بہت بڑا انعا م ہے کہ ایک چھوٹی سی بات سے بندے کا دل پھر جائے ۔
قارئین کرام آپ کوکبھی ایسے لوگ ملیں تو کبھی انہیں دل سے برا نہ جانئیے۔کیا معلوم آنے والا وقت کس کی جھولی میں کیا ڈالنے والا ہے؟ یہ خدائے بر تر کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔ میری استدعا ہے کہ اگر کسی ایسے شخص سے سامنا ہو تو اس کی اپنے طور اصلاح کی کو شش کیجئے ،یہ صدقہ جاریہ ہے ۔ تو فیق تو اسے خدا کی طرف سے ملتی ہے ۔ مگر کسی کی کہی ہوئی اچھی بات بھی انسان کا دل بدلنے کے لیے معاون ہو سکتی ہے ۔ آپ کی وجہ سے کسی ایک شخص نے بھی ہدایت کی روشنی پائی اور سیدھے راستے پر چل نکلا تو یقین جانئیے گا کہ زندگی کا مقصد پورا ہوگیا اور زندگی رائیگاں ہو نے سے بچ جائے گی ۔ نفسانفسی کے اس دور میں بہت کم ایسے لو گ ہیں جو دوسروں کے لیے سوچیں اور ان کی بہتری کے لیے کوئی قدم اٹھائیں۔ آئیے بارش کے پہلے قطرے کی طر ح ہمت کر کے پہل تو کریں کہ قطرہ قطرہ مل کر دریا ہو تا ہے ۔
اب آدمی آدمی نظر نہیں آتا چراغِ فکر جلا ﺅ کہ تیرگی ہے بہت

Saturday, 13 July 2013

Positive Work

Posted by Unknown on 04:27 with No comments

۱۹۳۰ کے عشرے میں (یہ کمیونزم کے زمانے کا ذکر ہے) ایک طالبعلم نے جب مصر کی ایگریکلچر یونیورسٹی میں داخلہ لیا، وقت ہونے پر اُس نے نماز پڑھنے کی جگہ  تلاش کرنا چاہی تو اُسے بتایا گیا کہ یونیورسٹی میں نماز پڑھنے کی جگہ تو نہیں ہے۔ ہاں مگر تہہ خانے میں بنے ہوئے ایک کمرے میں اگر کوئی چاہے تو وہاں جا کر نماز پڑھ سکتا ہے۔
 
طالبعلم یہ بات سوچتے ہوئے کہ دوسرے طالبعلم اور اساتذہ نماز پڑھتے بھی ہیں یا نہیں، تہہ خانے کی طرف اُس کمرے کی تلاش میں چل پڑا۔
 
وہاں پہنچ کر اُس نے دیکھا کہ نماز کیلئے کمرے کے وسط میں ایک پھٹی پرانی چٹائی تو بچھی ہوئی ہے مگر کمرہ صفائی سے محروم اور کاٹھ کباڑ اور گرد و غبار سے اٹا ہوا ہے۔ جبکہ یونیورسٹی کا ایک ادنیٰ ملازم وہاں پہلے سے نماز پڑھنے کیلئے موجود ہے۔ طالبعلم نے اُس ملازم سے پوچھا کیا تم یہاں نماز پڑھو گے؟
 
ملازم نے جواب دیا، ہاں، اوپر موجود لوگوں میں سے کوئی بھی ادھر نماز پڑھنے کیلئے نہیں آتا اور نماز کیلئے اس کے علاوہ کوئی جگہ بھی نہیں ہے۔
 
طالبعلم نے ملازم کی بات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا؛ مگر میں یہاں ہرگز نماز نہیں پڑھوں گا اور اوپر کی طرف سب لوگوں کو واضح دکھائی دینے والی مناسب سی جگہ کی تلاش میں چل پڑا۔ اور پھر اُس نے ایک جگہ کا انتخاب کر کے نہایت ہی عجیب حرکت کر ڈالی۔
 
اُس نے بلند آواز سے اذان کہی! پہلے تو سب لوگ اس عجیب حرکت پر حیرت زدہ ہوئے پھر انہوں نے ہنسنا اور قہقہے لگانا شروع کر دیئے۔ اُنگلیاں اُٹھا کر اس طالبعلم کو پاگل اور اُجڈ شمار کرنے لگے۔ مگر یہ طالبعلم تھا کہ کسی چیز کی پرواہ کیئے بغیر اذان پوری کہہ کر تھوڑی دیر کیلئے اُدھر ہی بیٹھ گیا۔ اُس کے بعد دوبارہ اُٹھ کر اقامت کہی اور اکیلے ہی نماز پڑھنا شروع کردی۔ اُسکی نماز میں محویت سے تو ایسا دکھائی تھا کہ گویا وہ اس دنیا میں تنہا ہی ہے اور اُسکے آس پاس کوئی بھی موجود نہیں۔
 
دوسرے دن پھر اُسی وقت پر آ کر اُس نے وہاں پھر بلند آواز سے اذان دی، خود ہی اقامت کہی اور خود ہی نماز پڑھ کر اپنی راہ لی۔ اور اس کے بعد تو یہ معمول ہی چل نکلا۔ ایک دن، دو دن، تین دن۔۔۔وہی صورتحال۔۔۔ پھر قہقہے لگانے والے لوگوں کیلئے اُس طالبعلم کا یہ دیوانہ پن کوئی نئی چیز نہ رہی اور آہستہ آہستہ قہقہوں کی آواز بھی کم سے کم ہوتی گئی۔ اسکے بعد پہلی تبدیلی کی ابتداء ہوئی۔ نیچے تہہ خانے میں نماز پڑھنے والے ملازم نے ہمت کر کے باہر اس جگہ پر اس طالبعلم کی اقتداء میں نماز پڑھ ڈالی۔ ایک ہفتے کے بعد یہاں نماز پڑھنے والے چار لوگ ہو چکے تھے۔ اگلے ہفتے ایک اُستاذ بھی آ کر اِن لوگوں میں شامل ہوگیا۔
 
یہ بات پھیلتے پھیلتے یونیورسٹی کے چاروں کونوں میں پہنچ گئی۔ پھر ایک دن چانسلر نے اس طالبعلم کو اپنے دفتر میں بلا لیا اور کہا: تمہاری یہ حرکت یونیورسٹی کے معیار سے میل نہیں کھاتی اور نہ ہی یہ کوئی مہذب منظر دکھائی دیتا ہے کہ تم یونیورسٹی ہال کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر اذانیں دو یا جماعت کراؤ۔ ہاں میں یہ کر سکتا ہوں کہ یہاں اس یونیورسٹی میں ایک کمرے کی چھوٹی سی صاف سُتھری مسجد بنوا دیتا ہوں، جس کا دل چاہے نماز کے وقت وہاں جا کر نماز پڑھ لیا کرے۔
 
اور اس طرح مصر کی ایگریکلچر یونیورسٹی میں پہلی مسجد کی بنیاد پڑی۔ اور یہ سلسلہ یہاں پر رُکا نہیں، باقی کی یونیورسٹیوں کے طلباء کی بھی غیرت ایمانی جاگ اُٹھی اور ایگریکلچر یونیورسٹی کی مسجد کو بُنیاد بنا کر سب نے اپنے اپنے ہاں مسجدوں کی تعمیر کا مطالبہ کر ڈالا اور پھر ہر یونیورسٹی میں ایک مسجد بن گئی۔
 
اِس طالبعلم نے ایک مثبت مقصد کے حصول کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا اور پھر اِس مثبت مقصد کے نتائج بھی بہت عظیم الشان نکلے۔ اور آج دن تک، خواہ یہ طالبعلم زندہ ہے یا فوت ہو چکا ہے، مصر کی یونیورسٹیوں میں بنی ہوئی سب مسجدوں میں اللہ کی بندگی ادا کیئے جانے کے عوض اجر و ثواب پا رہا ہےاور رہتی دُنیا تک اسی طرح اجر پاتا رہے گا۔ اس طالب علم نے اپنی زندگی میں کار خیر کر کے نیک اعمالوں میں اضافہ کیا۔
 
میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ
 
ہم نے اپنی زندگیوں میں ایسا کونسا اضافہ کیا ہے؟ تاکہ ہمارا اثر و رسوخ ہمارے گردو نواح کے ماحول پر نظر آئے، ہمیں چاہیئے کہ اپنے اطراف میں نظر آنے والی غلطیوں کی اصلاح کرتے رہا کریں۔ حق و صدق کہنے اور کرنے میں کیسی مروت اور کیسا شرمانا؟ بس مقاصد میں کامیابی کیلئے اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد و نصرت کی دعا مانگتے رہیں۔
 
اور اسکا فائدہ کیا ہوگا؟
 
اپنے لیئے اور دوسرے کیلئے سچائی اور حق کا علم بُلند کر کے اللہ کے ہاں مأجور ہوں کیونکہ جس نے کسی نیکی کی ابتداء کی اُس کیلئے اجر، اور جس نے رہتی دُنیا تک اُس نیکی پر عمل کیا اُس کیلئے اور نیکی شروع کرنے والے کو بھی ویسا ہی اجر ملتا رہے گا۔
 
لوگوں میں نیکی کرنے کی لگن کی کمی نہیں ہے بس اُن کے اندر احساس جگانے کی ضرورت ہے۔ قائد بنیئے اور لوگوں کے احساسات کو مُثبت رُخ دیجیئے۔
 
اگر کبھی اچھے مقصد کے حصول کے دوران لوگوں کے طنز و تضحیک سے واسطہ پڑے تو یہ سوچ کر دل کو مضبوط رکھیئے کہ انبیاء علیھم السلام کو تو تضحیک سے بھی ہٹ کر ایذاء کا بھی نشانہ بننا پڑتا تھا۔

Khalifa Mansoor

Posted by Unknown on 04:16 with No comments
خلیفہ منصور

عباسی خلیفہ منصور ایک رات طواف کررہا تھا کہ اچانک اس کے کانوں سے ایک آواز ٹکرائی
اے اللہ! میں تیری بارگاہ اقدس میں ظلم وزیادتی کے تجاوز ‘ حق اور اہل حق کے درمیان حرص و طمع کے داخل ہوجانے کی شکایت کرتا ہوں۔
یہ سن کر ”خلیفہ منصور“ وہاں سے نکلا اور مسجد کے ایک کونے میں جاکر بیٹھ گیا اور خادم کو حکم دیا کہ اس شخص کو میرے پاس بلا لاؤ‘ اس شخص کے پاس خلیفہ کا پیغام پہنچا تو اس نے پہلے دورکعت نماز پڑھی‘ حجر اسود کا استلام کیا اور سلام کہہ کرخلیفہ کی خدمت میں حاضر ہوگیا‘تو خلیفہ نے اس سے مخاطب ہوکر کہا:
”یہ ہم نے تمہیں کیا کہتے سنا؟ کہ: زمین میں زیادتی‘ ظلم وفساد کا بازار گرم ہے‘ حق اور اہل حق کے درمیان حرص ولالچ داخل ہوگئی ہے‘ خدا کی قسم! مجھے تمہاری باتوں کی وجہ سے بہت تکلیف پہنچی ہے‘ گویا آپ کی باتوں نے مجھے ایک طرح کا بیمار کردیا ہے۔ اس شخص نے کہا:
”اے امیر المؤمنین ! اگر آپ مجھے میری جان کی امان دیں تو میں حقیقتِ حال واضح کردوں ورنہ․․․“۔ خلیفہ نے کہا: ہم نے تم کو امان دی‘ اس پر وہ شخص بولا۔ ”اے میر المؤمنین! خود آپ ہی کی ذات حرص اور دنیوی لالچ کی وبا کا شکار ہوگئی ہے‘ حرص ولالچ کے اس مکروہ وناپاک جذبے نے آپ کو ظلم وزیادتی اور فتنے وفساد کے سد باب سے روک رکھا ہے“ خلیفہ کہنے لگا: تیرا ستیا ناس ہو! میرے اندرحرص و لالچ کیوں کر داخل ہوسکتی ہے؟ میں تو سیاہ وسفید کا مالک ہوں سونا‘ چاندی میری مٹھی میں ہے اور میٹھا کھٹا سب میرے پاس ہے‘ اس شخص نے کہا : ”جس طرح دنیاوی اغراض ومفادات کے شکنجے میں آپ جکڑے ہوئے ہیں‘ اس طرح کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے کندھوں پر سب مسلمانوں کی جان ومال کی حفاظت کا بار رکھا ہے‘ مگر آپ اس میں غفلت برت رہے ہیں اور مال ودولت جمع کرنے میں مگن ہیں۔آپ نے چونے اور پکی اینٹوں کی دیواریں کھڑی کرکے اور مضبوط آہنی دروازے لگاکراور ان پر مسلح پہرے دار کھڑے کرکے ملازموں پر اپنی دربار تک رسائی کی تمام راہیں مسدود کردیں ہیں‘ لوگوں سے مختلف ٹیکسوں کی شکل میں مال ودولت سمیٹنے کے لئے اپنے عمال کو کیل کانٹے سے لیس کرکے روانہ کررکھا ہے‘ آپ کی رعایا میں صرف مخصوص طبقے کو ہی دربارِشاہی میں شرفِ حضوری حاصل ہے‘ کمزوروں ‘ غریبوں ‘ ستم زدہ اور مظلوم لوگوں کے لئے آپ کے دروازے بند ہیں‘ جب اس طبقہٴ اشرافیہ نے‘ جسے آپ کا تقرب اور دربار میں بلاروک ٹوک رسائی حاصل ہے‘ آپ کو مال ودولت تقسیم کرنے کی بجائے دونوں ہاتھوں سے لوٹتے دیکھتا ہے تو اس نے اس کو وجہ جواز بناکر خود اس بندر بانٹ پر کمرکس لی ہے اور اس بات کا اہتمام کرلیاہے کہ اس کی مرضی کے بغیر لوگوں کے احوال کی صحیح خبر آپ تک نہ پہنچنے پائے‘ اگر اقتدار میں موجود کوئی نیک بندہ اس طبقے کی غلط روش کی مخالفت کرے تو اس پر الزام تراشیاں کرکے ذلیل ورسوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی اور جب وہ نیک بندہ راہ سے ہٹ جاتاہے تو لوگ اس ظلم وتشدد پسند طبقے کی ہیبت اور اثر ورسوخ سے مزید مرعوب ہوجاتے ہیں اور اس سے نباہ رکھنے کے لئے مال ودولت اور ہدایا کا سہارا لیتے ہیں‘ اس طرح اس طبقہ کے لوگ عام رعایا پر ظلم کرنے میں پہلے سے زیادہ مستعد ہوجاتے ہیں‘ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو اثر ورسوخ اور جاہ ومرتبہ کے مالک ہیں‘ اسی کا نتیجہ ہے کہ شہر ظلم وزیادتی کی آماجگاہ بن چکے ہیں‘ طبقہٴ اشرافیہ کے افراد عملاً آپ کی سلطنت میں شریک ہوگئے ہیں‘ جب کہ آپ ساری صورتحال سے بے پرواہ ہیں‘ جب کوئی مظلوم ظلم کی شکایت لے کر آپ کے دربار میں آنا چاہتاہے تو اس کی راہ روکی جاتی ہے اور اگر آپ کے باہر آنے پرکوئی اپنا مسئلہ پیش کرنا چاہے تو آپ کا اتنا کہہ دینا کافی ہوتا ہے کہ ” یہ فریاد سننے کاوقت نہیں“ اسی طرح اگر آپ ظالموں کے احتساب کے لئے کسی کو محتسب مقرر کریں اور مقربین ومعزز ین کو خبر ہوجائے تو وہ اسے مجبور کرتے ہیں کہ ان کی شکایت آپ تک نہ پہنچائے‘ وہ بے چارہ ان کے خوف سے اپنی زبان بند کرلیتاہے اور یوں مظلوم ‘ شکوہٴ ظلم لئے‘ اس کے یہاں چکر پر چکر لگاتاہے‘ مگر کچھ شنوائی نہیں ہوتی‘ آخر کار جب ہرطرف سے تنگ آکر وہ آپ کے نکلنے پر بے اختیار تڑپ تڑپ کر فریاد کرتا ہے تو اسے اذیت ناک سزا دے کر دوسروں کے لئے نمونہ عبرت بنا دیا جاتاہے‘ یہ سب کچھ آپ کی نگاہوں کے سامنے ہوتا ہے مگر آپ کی پیشانی پر بل تک نہیں آتا‘ کیا یہی اصلاح ہے؟اے مسلمانوں کے امیر! میرا چین آنا جانا رہتا تھا‘ ایک مرتبہ جب میں وہاں گیا تو معلوم ہوا کہ بادشاہ کی قوتِ سماعت جواب دے گئی ہے اور وہ کانوں سے بہرہ ہوچکا ہے‘ اس دن بادشاہ نے بھری مجلس میں دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردیا‘ اہلِ مجلس اسے صبر کی تلقین کرنے لگے‘ تواس نے سر اٹھایا اور کہا:
”میرا رونا اس لئے نہیں کہ مجھ پر مصیبت آن پڑی ہے‘ بلکہ میں تو اس مظلوم کے لئے رورہا ہوں جو ظلم کی فریاد لے کر داد رسی کے لئے میرا دروازہ کھٹکھٹائے گا اور میں اس کی بات نہ سن سکوں گا“ پھر کچھ دیر سکوت کے بعدکہنے لگا: اگر سماعت ختم ہو گئی ہے تو کیا ہوا‘بصارت کی نعمت تو ہے۔ جاؤ! اور رعایا میں اعلان کر دو کہ آج کے بعد ملک میں مظلوم فریاد رس کے علاوہ کوئی بھی سرخ کپڑے (لباس) نہیں پہنے گا‘ تاکہ مظلوم کا یہ امتیازی لباس دیکھ کر میں اس کی مدد کرسکوں‘ پھر وہ ہاتھی پر سوار ہوکر نکل کھڑا ہوتا اور مظلوم کی مدد کرتا“ ۔
امیر المؤمنین! اس بادشاہ نے مشرک ہونے کے باوجود اپنی قوم کے ساتھ کس قدر ہمدردی کی اور ایک آپ ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے اور اہل بیت کے ایک فرد ہونے کے باوجود اپنی خواہش نفس کو مسلمان رعایا کی خیر خواہی پر قربان نہیں کرسکتے: اگر آپ ‘ اولاد کے لئے مال وجائیداد جمع کررہے ہیں تو سنیئے! دنیا میں جو بچہ بھی آتا ہے اس کا کوئی مال نہیں ہوتا‘ مگر اللہ تعالیٰ کا سایہ عاطفت مسلسل اس پر دراز ہوتا چلا جاتاہے‘ یہاں تک کہ لوگ اس کی عظمت کے گن گاتے ہیں‘ آپ کسی کو کچھ نہیں دے سکتے‘ اللہ تعالیٰ جسے چاہیں عطا فرماتے ہیں اور اگر مال ودولت جمع کرنے سے آپ کا مقصد سلطنت کی مضبوطی اور استحکام ہے تو بنوامیہ کی مثال اور تاریخ آپ کے سامنے ہے‘ ان کا جمع شدہ لاؤ لشکر اور مال ودولت ان کے کسی کام نہ آیا‘ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ جیسا معاملہ کرنا چاہے گا اسے کوئی نہیں روک سکتا اور نہ ہی مال ودولت کے انبار لگا کر آپ اپنے موجودہ رتبے میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
اے امیر المؤمنین! کیا آپ اپنی نافرمانی کرنے والے کو قتل سے بڑھ کر کوئی سزا دے سکتے ہیں؟ خلیفہ نے کہا: نہیں۔ اس شخص نے کہا: تو پھر آپ کا اس بادشاہ کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے آپ کو دنیا کی بادشاہت عطا فرمائی‘ وہ تو اپنے نافرمان کو قتل ہی نہیں‘ بلکہ دائمی دردناک عذاب کی سزا دیتا ہے‘ وہ اس سے بخوبی واقف ہے کہ کس چیز کی محبت میں آپ کا دل جکڑا ہوا ہے؟ اور ا س کے حصول کے لئے آپ کے ہاتھ بڑھتے اور قدم اٹھتے ہیں‘ دنیا کی جس بادشاہت پر آپ فریفتہ ہیں‘ کیا وہ اس وقت آپ کے کام آسکے گی‘ جب قادر ِ مطلق آپ سے چھین لے گا اور آپ کو حساب کے لئے لاکھڑا کرے گا؟۔
اس شخص کی باتیں سن کر آخرت کے خوف سے خلیفہ منصور کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی‘ بے اختیار اس کی زبان سے نکلا: ”کاش میں پیدا ہی نہ ہوا ہوتا“ پھر اس شخص سے کہنے لگا: اچھا اب تم ہی کوئی تدبیر بتاؤ‘ میں کیا کروں؟ وہ شخص کہنے لگا: اے امیر المؤمنین! دنیا میں کچھ ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی طرف لوگ اپنے دینی معاملات میں رجوع کرتے ہیں اور ان کی رہنمائی سے مستفید ہوتے ہیں‘ آپ بھی ایسے ہی لوگوں کو اپنا مقرب بنائیں وہ آپ کی درست رہنمائی کریں گے‘ اپنے معاملات میں ان سے مشورہ کیجئے! وہ آپ کو لغزش سے بچائیں گے۔ خلیفہ نے کہا: میں نے اس کی کوشش کی تھی لیکن وہ مجھ سے دور بھاگتے ہیں۔ اس شخص نے کہا: انہیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں آپ انہیں اپنی راہ پر چلنے کے لئے مجبور نہ کریں‘ آپ اپنے دروازے کھول دیں‘رکاوٹیں ہٹادیں‘ مظلوم کے ساتھ انصاف اور ظلم کا خاتمہ کریں‘ غنیمت اور صدقات کا مال وصول کرکے ضرورت مند اور مستحقین میں عدل وانصاف کے ساتھ تقسیم کریں تو میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ ہستیاں آپ کی خدمت میں خود حاضر ہوں گی اور امت کی فلاح وبہبود میں آپ کا ہاتھ بٹائیں گی۔
گفتگو جاری تھی کہ اسی اثنا میں مؤذن نے آکر سلام عرض کیا اور اذان دی‘ خلیفہ منصور نماز پڑھ کر اپنی مجلس میں لوٹ آیا اور اس شخص کو بلانے کے لئے آدمی بھیجا‘ مگر تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا.
 

Friday, 12 July 2013

Malak-ul-Maut.... Hazrat Izraeel A.S

Posted by Unknown on 04:27 with No comments
اللہ تعالیٰ نے ملک الموت سے پوچھا ۔ تجھکو کس بندے کی روح قبض کرتے وقت کبھی رحم بھی آیا یا نہیں ؟ملک الموت نے عرض کیا۔ اللہ رب الغزت ! مجھکو دو ذی روحوں کی جان نکالنے میں کمال رقت ہوئی تھی ، اگر تیرا حکم نہ ہوتا تو میں ہرگز ہرگز ان کی جان نہ نکالتا۔ ارشاد ہوا: بتاؤ‘ وہ دو لوگ کون تھے؟
عرض کیا :ایک تو وہ بچہ تھا جو نیا پیدا تھا اور اپنی ماں کے ساتھ جہاز کے ٹوٹے ہوئے تختے پر بے سروسامانی کی حالت میں بحر بیکراں میں تیراتا جا رہا تھا۔ اس وقت اس بچے کا واحد سہارا تمام کائنات میں اس کی ماں تھی تو مجھے حکم ہوا کہ اسکی ماں کی روح قبض کرلے۔ اس وقت مجھے اس بچے پر بے حد بے حد رحم آیا تھا کیونکہ اس بچے کا اس کا ماں کے سوا کوئی دوسرا خبر گیر نہ تھا اور بھوکا پیاسا بچہ اپنی ماں کے دودھ کے لئے ترس رہاتھا۔
اور باری تعالیٰ ! دوسرا یک بادشاہ تھا جس نے ایک شہر کمال آرزو سے ایسا بنوایا تھاکہ ویسا شہر دنیا میں کہیں نہیںتھا، جب وہ شہر تیار ہو گیا اور بادشاہ اپنے شہر کو دیکھنے پہنچا تو جس وقت ایک قدم اس کا شہر کے دروازے میں تھا تو مجھے حکم ہوا اور اس کی جان قبض کر لے اس وقت بھی مجھے بہت رونا آیا تھا کہ وہ بادشاہ کیاکچھ حسرتیں اپنے دل میں لے گیا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:عزرائیل ! تمہیں ایک ہی شخص پر دوبار رحم آیا ہے! کیونکہ یہ بادشاہ وہی بچہ شداد  تھا جس کو ہم نے بغیر ماں باپ کے بنا کسی سہارے کے سمندر کی تیز وتند لہروں اور طوفانوں میں بھی محفوظ رکھا اور اس کو حشمت وثروت کی بلندیوں پر پہنچایا اور جب یہ اس مرتبے کو پہنچا تو ہماری تابعداری سے منہ موڑا اور تکبر کرنے لگا اور آخرکار اپنی سزا کو پہنچا۔

A Unique Incident Of Sight

Posted by Unknown on 04:12 with No comments
ڈاکٹر عبدالغنی فاروق
  (کھوئی ہوئی بینائی دوبارہ پانے کا ایک بے مثال واقعہ)

میری گزارش ہے کہ ایک بار اسے وقت نکال کر ضرور پڑھیں یقین جانیں آپ کی آنکھیں نم ہو جائیں گی

یہ حیرت انگیز اور ایمان افروز واقعہ مجھے سردار غلام جیلا نی صاحب نے سنایا ۔ سردار صاحب وحدت روڑ لا ہور پر بجلی کے سامان کے تاجر ہیں اور میرے گھر کے قریب ہی رہتے ہیں ۔ ان کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے ۔ بڑے پروقار ، سنجیدہ ، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باعمل مسلمان ہیں۔ انھو ں نے بتایا کہ وہ موضع گورا، تحصیل پلندری ، ضلع سدھونتی کے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ گورا گاﺅں راولپنڈی سے 96 کلو میٹر جانب مشرق واقع ہے۔ پولیس کالج ، سہالہ سے آزاد پتن جانے والی سڑک ادھر کو جاتی ہے ۔ سردار صاحب نے واقعہ کچھ یو ں سنایا : ”میرے گاﺅں میں ریٹائرڈ کےپٹن محمد صدیق خان بڑے ہی نیک انسان ہیں ۔ وہ انسانی ہمدردی کے پیکر مجسم، فوج سے ریٹائرڈ منٹ کے بعد گا ﺅ ں ہی میں زمیندارہ کر تے اور رفاہی کامو ں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ رشتے میں میرے پھو پھا ہیں ۔ ان کی والدہ محترمہ مسماة مہر جان  زوجہ حسین خان مر حوم 85 سال کی بزرگ خاتون ہیں ۔ وہ اگرچہ ان پڑھ ہیں لیکن قرآن پڑھنا اور پڑھانا ان کا عمر بھر محبوب ترین مشغلہ رہا ہے ۔ قرآن سے ان کے شغف کا یہ عالم ہے کہ 1985ءمیں انھو ں نے تقریباً ستر سال کی عمر میں اصرار کر کے اپنی پوتیوں سے اردو پڑھنا سیکھی ۔ پو تیا ں کالج میں پڑھتی تھیں اور مذاق کرتی تھیں ” دادی اماں اب آپ اردو پڑھ کر کیا کریں گی؟“ وہ جواب دیتیں کہ قرآن کو ترجمے کے ساتھ سمجھنا چاہتی ہوں ۔ چنا نچہ انھوں نے واقعی اردو پڑھنا سیکھ لیا اور دوسال میں پورا قرآن پاک ترجمے کے ساتھ ختم کر لیا ۔ خدا کا کرنا 1987ءمیں مہر جان کی بائیں آنکھ میں درد شروع ہو گیا جو بڑھتا چلا گیا ۔ 1988 ءمیں موصوفہ اپنے دوسرے بیٹے محمد نذیر ( سرکا ری ملازم، کالے پل، کرا چی ) کے پا س چلی گئیں۔ وہا ں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ آنکھ میں کالا مو تیا اتر آیا ہے اس لیے آپریشن نہیں ہو سکتا ۔ جلد ہی دوسری آنکھ بھی اسی کیفیت سے دوچار ہو گئی تو 1991 ءمیں الشفاءاسپتال راولپنڈی میں دائیں آنکھ کا آپریشن ہوا لیکن بینائی میں چنداں فرق نہ پڑا اور ایک سال بعد دونوں آنکھوں کا نور کافور ہو گیا ۔ مہرجان کی دنیا اندھیر ہو گئی لیکن انھیں سب سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ وہ قرآن کی تلاوت اور زیارت سے محروم ہوگئی ہیں ۔ اس تصور نے انہیں ہلکان کردیا وہ ماہی بے آب کی طر ح تڑپتی رہتیں کیونکہ کلام پاک کی نعمت ان سے چھن گئی تھی ۔ انھوں نے رو رو کر اپنے بیٹے کےپٹن محمد صدیق سے التجا کی کہ وہ انھیں کسی لائق ڈاکٹر کے پاس لے جا ئے اور علا ج کرائے تا کہ بینائی کی بحالی کی کوئی صورت نکل سکے ۔ ایک روز کےپٹن صدیق انھیں راولپنڈی کے الشفاءآئی سنٹر میں لے آئے اور وہاں اسپیشلسٹ ڈاکٹروں سے ان کی آنکھوں کا معائنہ کروایا ۔ سب کا بالاتفاق فیصلہ تھا کہ آنکھوں کی بینائی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور اب اس کی بحالی کا ہر گز امکان نہیں ۔ سب ڈاکٹروں نے مہر جان بی بی کو صبر کی تلقین کی اور اللہ سے دعا کرنے کا مشورہ دیا ۔ لیکن مہر جان کا اصرار تھا کہ ہر قیمت پر ان کا علا ج کر ایا جا ئے ، وہ بضد رہتیں کہ انہیں کسی دوسرے ڈاکڑ کے پاس لے جایا جائے ۔ چنا نچہ ماں کی آہوزاری اور اصرار سے متاثر ہو کر کےپٹن محمد صدیق انہیں فوجی فاﺅنڈیشن اسپتال مورگاہ ( پنڈی ) لے گئے ۔ یہا ں بھی سب ڈاکٹروں نے مکمل معائنے کے بعد یہی ما یو س کن رپورٹ دی کہ دماغ میں بینا ئی کا سر چشمہ خشک ہو گیا ہے اور اب اس کی بحالی کسی صورت بھی ممکن نہیں ۔ 1998 ءمیں مو ضع گورامیں آئی کیمپ لگا۔ ملک کے مختلف اسپتالو ں سے معروف ماہرین امراض چشم یہاں جمع ہوئے ۔ ان میں ڈاکٹر محمد منظور ملک (ملتان آئی کلینک ) ڈاکڑ محمد ایاز ( واپڈا اسپتال راولپنڈی ) ڈاکٹر محمد اجمل اور ڈاکٹر حمید (شیخ زید اسپتال ، لاہور) شامل تھے ۔ اما ں مہر جان کو کیمپ میں لایا گیا ۔ وہ سب ڈاکٹروں سے فرداً فرداً ملیں اور اضطراب اور اصرار کے ساتھ درخواست کی کہ ان کی آنکھو ں کا علا ج کیا جائے ۔ وہ تکرار کے ساتھ کہتی تھیں ”اللہ مجھے بینائی کی نعمت دوبارہ ضرور فرمائے گا۔ میری زندگی کی سب سے بڑی تمنا یہی ہے کہ میں قرآن پڑھتی رہوں اور جب دنیا سے کوچ کروں تو میرے لب قرآن کی تلا وت کر رہے ہوں ۔ “ لیکن کسی بھی ڈاکٹر نے ان کو امید کی بشارت نہ دی۔ سب نے تاسف اور دکھ کے ساتھ انھیں بتایا کہ ان کی بینائی کے سوتے خشک ہو چکے ہیں ۔ جن کی بحالی کے دور دور تک امکانات نہیں ۔ ڈاکٹر منظور ملک نے بتایا کہ جب وہ اماں مہر جان کی آنکھو ں کا معائنہ کررہے تھے تو وہ درود پا ک کا ورد کر رہی تھی اور یقین و اعتما د سے کہہ رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں روشن کر دے گا 
1999ءکا رمضان آیا تو مہر جان کی بے قراری غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ۔ ان کا زندگی بھر کامعمو ل تھا کہ وہ خصوصاً رمضان المبارک میں تلا وت کا غیر معمولی اہتمام کرتیں اور کئی بار قرآن پاک ختم کر لیتیں تھیں ، لیکن بینائی کے خاتمے نے انھیں زندگی کے سب سے بڑے لطف اور راحت سے دور کر دیا تھا۔ تب انھو ں نے اپنی محرومی کا مداوا عجیب و غریب طریقے سے کیا ۔ عشق نے محبوب سے ملا قات کا نیا ڈھنگ ایجا د کر لیا ، اماں مہر جا ن نے ایسا قرآن منگوایا جس کے ہر صفحے پر ابھری ہوئی تیرہ سطر یں تھیں ۔ وہ یہ قرآن پا ک گود میں رکھتیں ، اسے کھولتیں ، بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر ایک سطر پر انگلی پھیر دیتیں ، اور تیر ہ بار بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر صفحہ مکمل کر لیتیں....یو ں اس طریقے کے ذریعے 1999 ئ کے رمضان میں انھو ں نے دوبار قرآن پاک ختم کر لیا ۔ اس رمضان میں اماں مہر جان کو کئی بار خواب آیا کہ ان کی بینائی لوٹ آئی ہے ، لیکن جب وہ نیند سے بیدار ہوتیں تو ماحول بدستور تاریک پاتیں ۔ تب رو رو کر آہ و زاری کر تیں، اللہ سے دعائیں کرتیں کہ الہٰی میری بینائی بحال کر دیجئے تاکہ میں قرآن کے الفاظ دیکھ اور پڑھ سکو ں ۔ اس طر ح رمضان بھی گزر گیا ، عیدا لفطر آگئی ، گھر میںقریب و جوار کے سارے رشتے دار اکٹھے ہو ئے لیکن اما ں مہر جان کے لیے کسی کو دیکھنا ممکن نہ تھا ، تاہم وہ آوازوں سے سب کو پہچانتی اور سب کا حال احوال پو چھتی تھیں ۔ 1999 ءکی عیدا لاضحٰی کے موقع پر سردار غلام جیلا نی اپنے گا ﺅ ں گئے تو اما ں مہر جان نے انہیں بتایا ”پچھلے رمضان کے بعد شوال گزر ا، ذیقعد آیا ۔ ایک رات میں سوئی ہوئی تھی کہ خواب میں آواز آئی ، تمہاری بینائی بحال کر دی گئی ہے ۔ میں خوشی سے نہال ہو گئی ۔ بیدار ہو ئی تو اندازہ ہوا کہ فجر کا وقت ہو رہا ہے ۔ وضو کیا، نماز پڑھنے لگی تو آنکھوں کے سامنے روشنی محسوس ہوئی مجھے جائے نماز نظر آرہی تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر میں کمرے سے باہر صحن میں آئی تو ارد گرد کے مکا نا ت دکھائی دینے لگے ۔ ” میں بے پایا ں خوشی سے سر شار ہوگئی لیکن میں نے ضبط کیا اور خاموش رہی ۔ طلو ع آفتا ب کے آثار واضح ہوئے تو مجھے ہر چیز نمایا ں طور پر نظر آنے لگی۔ گر دو نواح کے پہاڑ ، درخت ، آنے جانے والے لو گ سب دکھائی دینے لگے ....میں نے سو چا ” یہ کوئی خوا ب تو نہیں؟ “ لیکن خیال آیا کہ یہ خواب نہیں“ حقیقت ہے ۔ میرے مالک نے میری التجائیں سن لی ہیں اور قرآن پاک کی برکت سے مجھے کھوئی ہوئی بینائی کی بے مثال نعمت دوبارہ مل گئی ہے ۔ تب میں دوبارہ اپنے کمرے میں آئی ۔ قرآن پاک مجھے دور سے نظر آگیا ۔ میں نے دوڑ کر اسے اٹھا لیا ، سینے سے لگایا ، خوب چوما اور پھر کھول کر دیکھا تو اس کے مبارک حروف میرے سامنے جگمگا رہے تھے .... اب میں خو شی سے رونے لگی اور قرآن کو والہانہ انداز سے چومنے لگی .... ” میرے رونے کی آواز سن کر میری چھوٹی بہو کر یم جان بھا گ کر آئی اور پو چھا ’ کیا بات ہے ‘ خیر تو ہے ؟ ‘ میں نے مسرت انگیز سسکیا ں لیتے ہوئے اسے بتایا کہ دیکھو میری آنکھیں ٹھیک ہو گئی ہیں ‘ میری بینائی لو ٹ آئی ہے اور اب میں باقاعدہ دیکھ کر قرآن پڑھ رہی ہوں ۔ کریم جان بھی خوشی اور تعجب سے نہال ہوگئی۔ اس نے زور زور سے آوازیں دے کر گھر کے سب افرا د کو بلا یا اور انہیں اس معجزے کی اطلاع دی ۔ سب حیران اور مبہو ت تھے اور اللہ کی حمد و ثنا کرنے لگے ۔ جلدہی یہ اطلا ع سارے گاﺅں میں پھیل گئی اور سب لوگ آکر مجھے مبارک باد دینے لگے ۔ سب قرآن پاک کے اس معجزے پر حیران بھی تھے اور مر عوب بھی .... بینائی کی بحالی پر میں نے خو ب کسر نکالی اور چند دنوں میں قرآن پاک ختم کر لیا ۔ “ 
مہر جان کی مجمو عی صحت بالکل ٹھیک ہے البتہ عمر کی نسبت سے ضعف بڑھ گیا ہے ۔ اب وہ پہلے کی طر ح بچو ں کو قرآن نہیں پڑھاتیں لیکن دن کا بیشتر حصہ اس عظیم اور زندہ کتا ب کی تلاوت میں گزارتی ہیں ۔

Fajar's Prayer

Posted by Unknown on 03:46 with No comments
فجر کی نماز
وہ ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوا لیکن وہ خود خدا کو بھی نہیں مانتا تھا ۔بچپن سے پڑھائی میں لائق ، عام امریکی نوجوانوں کے برعکس سنجیدہ علمی انسان ۔ محض 27 برس کی عمر میں پی ایچ ڈی کرکے یونیورسٹی میں پڑھانے لگا۔ اس کا نام جیفری لینگ تھا

پھر کیا ہوا کہ چالیس برس کی عمر کے بعد ایک بار بار آنے والے خواب سے متعلق عجیب وغریب واقعات کے بعد ، اور بہت جستجو، تحقیق اور برسوں مطالعے کے بعد اسلام لے آئے ۔

اسلام لا چکے تو نمازوں کی فکر ہوئی ۔سب نمازیں وقت پہ ہوتیں مگر فجر کا معاملہ ٹیڑھا تھا ۔46 برس سے سات بجے اٹھنے کی عادت تھی ۔پانچ بجے کیسے جاگتے ؟
اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ  "میں نے الارم والی گھڑیاں لیں ۔ ایک گھڑی سب سے پہلے وقت پر الارم لگا کر سرہانے کے میز پر رکھی ہوتی ۔
دوسری پانچ منٹ بعد کے الارم پر سیٹ کر کے چند قدم دور ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھی ہوتی تیسری واش روم کے دروازے کی دہلیز پر ۔
پہلا الارم سوئے سوئے ہاتھ مارنے سے بند ہو جاتا ، دوسرے کو بستر سے نکل کر بند کر کے واپس آکر لیٹ جاتے ، تیسرے الارم پہ واش روم کے دروازے تک چل کر جانے سے نیند اڑ جاتی ۔ اور اکثر وقت پہ وضو بھی ہو جاتا اور نماز بھی ۔

میں نے یہ کتاب بار بار پڑھی ، ہر بار مجھے خود پر اپنی نادانی پر رونا آیا ۔
اسلام کی جس نعمت کو ڈاکٹر جیفری لینگ نے اتنے سالوں کی جدو جہد کے بعد حاصل کیا ، وہ ہماری جھولی میں اللہ تعالی نے پہلی سانس سے پہلے ہی ڈال دی تھی کہ ہمارے والدین الحمد للہ مسلمان ہیں ۔
فجر کی نماز کی جس نعمت کو پانے کے لیے ڈاکٹر جیفری کو اتنی محنت کرنا پڑی ہمارے لیے وہ نعمت روز بانہیں پھیلائے دہلیز پہ آتی ہے ۔
ڈاکٹر جیفری کو جگانے والا کوئی نہ تھا
ہمارے والدین، باری باری محبت سے ہمیں جگانے آتے ہیں ڈاکٹر جیفری کے علاقے میں کوئی مسجد نہ تھی کہ اذان کی آواز سے آنکھ کھلتی
ہمارے گھر کے پاس بہت ساری مسجدیں ہیں جن کے موذن باری باری پکارتے ہیں

الصلوہ خیر من النوم،الصلوہ خیر من النوم
نماز نیند سے بہتر ہے،نماز نیند سے بہتر ہے


مگر
عجیب بات ہے کہ
ہمارے لیے فجر کی نماز بہت مشکل ہے
ماں کی نافرمانی کا انجام

منظر اتنا بھیا نک اور خو فنا ک تھا کہ اسے دیکھ کر میری ٹانگیں کا نپنے لگیں۔ میں اگر قبر ستان کے گر د بنی ہوئی لو ہے کی جا لیاں نہ تھام لیتا، تو زمین پر میرا گرا جانا یقینی تھا۔ ایک تو ملگجی روشنی جس میں اندھیرے کا عنصر غالب تھا، دوسرے رات بھر کی چھا ئی ہو ئی دھند کی تہ جس نے زمین کے اوپر چادر سی تان رکھی تھی۔ سب سے بڑھ کر قبر ستان کی ویرانی!ان سب نے ما حول پر اسرا ربنا دیا تھا۔ نجانے ہم لو گ قبروں اورقبر ستانوں سے کیوں ڈرتے ہیں حالانکہ ایک نہ ایک روز ہمیں یہیں آنا ہے۔ خیر اس دھند اور نیم روشنی میں جب میری نظراس لا ش نما چیز پر پڑی، تو میری ٹانگیں کا نپ گئیں۔ دو جسیم کتے اسے بھنبھوڑنے کے لے آپس میں لڑ رہے تھے۔ یہ منظر میں نے والدین اور دیگر مدفون اعزا کے لیے فا تحہ پڑھنے کے بعد دیکھا۔
میں عام دنوں میں فجر کی نماز پڑھ کر ہاتھ میں تسبیح لیے ورد کرتا ہوا باغ کی طرف جایا کرتا تاکہ سیر کے بعد دن بھر تر و تا زہ رہوں اور اپنے فرائض صحیح ادا کر سکوں مگر ہر جمعہ کی صبح فاتحہ خوانی کے لیے قبرستان آنا میرا معمول تھا۔ اسی معمول کے مطابق اس روز جب میں دعا کے بعد اپنے ہاتھ منہ پر پھیر کر پلٹنے لگا، تو انگلیوں کی جھری میں سے مجھے وہ خوفناک منظر نظر آیا۔ جتنی دیر میں میرا بری طر ح دھڑکتا دل معمول پر آیا اتنے میں اندھیرا چھٹ گیا اور روشنی اتنی ہو گئی کہ دھند نما غبار کی تہ کے با وجود بیس پچیس میٹر تک کا منظر صاف نظر آنے لگا۔ میں ابھی سو چ ہی رہا تھا کہ کیا کر وں کہ اتنے میں ایک اور صاحب میرے قریب سے گزرے۔ میں نے انہیں پہچان لیا، یہ بٹ صاحب تھے جو عموماً صبح کی سیر کے دوران باغ میں مل جا یا کرتے۔ میں نے انہیں آوا ز دی : ” بٹ صاحب ! ذرا با ت سنئیے۔ “وہ میرے قریب آئے اور حیرت سے بولے ” ارے ندیم صاحب ! آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟آپ کا رنگ زرد ہو رہا ہے۔ “ میں نے پیشانی سے پسینہ پو نچھ کر ان کا بازو مضبوطی سے تھاما اور اس کفن پو ش لاش کی طر ف اشارہ کیا۔ بٹ صاحب بھی یہ منظر دیکھ کر بری طر ح گھبرائے مگر ایک دوسرے کے سہارے ہماری ہمت بندھی۔ ہم دونوں قدم بہ قدم لا ش کی طر ف بڑھے۔ ہمیں اپنی طر ف آتا دیکھ کر کتے غرائے مگر بٹ صاحب نے جب ہاتھ کی چھڑی ان کی طر ف گھمائی، تو وہ چند قدم پیچھے ہٹ گئے۔ ادھر میں نے ٹوٹی ہوئی اینٹ اٹھا کر کتوں کی طر ف پھینکی، تو وہ بھا گ گئے۔
ہم ددنوں مزید قریب جانے سے گھبرا رہے تھے کیو نکہ کتوں نے پا ﺅں کیطرف سے کفن کے چیتھڑے اڑا دیے تھے اور میت کے پاﺅں ننگے ہو چکے تھے۔ ابھی ہم اسی سوچ میں مبتلا تھے کہ گورکن ہاتھ میں پھاوڑا لیے ہما رے پا س آ کھڑا ہو ا۔ ” یہ کس کی لا ش ہے بھائی ؟“بٹ صاحب نے گور کن سے پوچھا۔ پیشتر اس کے وہ جوا ب دیتا، نا گہاں میری نظر ایک قبر پر پڑی۔ اس کی ساری مٹی باہر نکلی ہوئی تھی یہاں تک کہ سیمنٹ کی وہ سلیں جو لحد کو بند کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، خاصی وزنی ہونے کے با وجود کھدی ہوئی قبر کے باہرپڑی تھیں۔ ” بٹ صاحب ! یہ قبر تو ابھی پرسوں ہی آباد ہوئی تھی۔ “ میں نے حیر ت سے کہا۔ ” کیا مطلب ؟ “ ” ہاں یہی قبر ہے جس میں میرے پڑو سی، بچپن اور جوانی کے دوست عدنان کو بروز بدھ دفن کیا گیا تھا۔ “
گو رکن کے آجانے سے ہمارے حوصلے بڑھے اور ہم تینوں آگے چلے۔ گورکن نے غیر یقینی انداز میں پہلے ادھڑی ہوئی قبر اور میت کو دیکھا پھر ہمت کر کے میت کاچہرہ دیکھا۔ اگر بٹ صاحب نہ ہو تے تو، میں یقینا بے ہو ش ہو جاتا۔ میت کی آنکھیں ابل کر حلقوں سے باہر آچکی تھیں، منہ سور کی تھوتھنی کی طر ح آگے کو نکلا ہو ا تھا۔ رنگ کو ئلے کی طرح سیاہ ہو چکا تھا، دانت باہر کی طر ف نکلے ہوئے تھے۔ اگر میں اس کی پیشانی کا آتش زدہ نشان نہ دیکھتا، تو کبھی یقین نہ کر تا کہ یہ عدنا ن ہی کی لا ش ہے۔
بٹ صاحب اونچی آوا ز میں استغفار پڑھنے لگے اور ساتھ ساتھ مجھے حوصلہ دینے کے لیے تھپکیاں دیتے رہے۔ گورگن نے جلدی سے میت کا منہ ڈھا نپ کر باندھا، پا ﺅں کی طرف کا کفن صحیح کیا او ر پو چھا ” باﺅ جی ! میرے لیے کیا حکم ہے ؟“ بٹ صاحب میرا اور میں نے اُن کا منہ تکنے لگا۔ آخر بٹ صاحب بولے ” مہر بانی کرو اور اسے دو بارہ لحد میں اتار دو۔“ ” اچھا جی !“ گور کن نے جوا ب دیا اور ساتھ ہی قبرستان کے ایک کونے میں بنی اپنی کوٹھڑی کی طر ف رخ کر کے کسی کو آوا ز دی۔ چا ر پا نچ منٹ بعد دو نوجوان نمو دار ہوئے جو شا ید گورکن کے بیٹے تھے۔ ان تینوں نے مل کر میت اٹھائی، اسی ادھڑی ہوئی قبر میں لٹا کر سلیں جمائیں اور مٹی ڈال دی۔ اس سار ے عمل میں آدھ گھنٹہ صرف ہو گیا۔ میں نے جیب میں ہا تھ ڈالا۔ سو سو کے دو نو ٹ نکالے گورکن کو دیے اور کہا ” فی الحال میرے پا س یہی ہیں۔ میں دوپہر تک مزید دو سو روپے تمہیں دے جا ﺅں گا۔ “ اب ہم دونوں محلے دار ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہوئے تھکے تھکے قدموں سے واپس مڑے۔ اس روز میں صدمے کے باعث دفتر بھی نہیں جا سکا اور فون پر اپنے نہ آنے کی اطلا ع کر دی۔ میری امی اور بیگم نے میری حالت غیر دیکھی، تو پریشان ہو گئیں۔ تھوڑی دیر بعد جب میں مکمل ہو ش و حواس میں آیا، تو میں نے بدھ کے روز عدنان کی تدفین میں پیش آنے والے خوفنا ک واقعہ تفصیل سے بتایا، تو امی حیرت زدہ رہ گئیں اور بولیں ” تم نے پہلے مجھے بتایا ہی نہیں؟“ اللہ تعالیٰ عدنان کے گناہ معاف فرمائے۔ دیکھ بیٹا !اس مرحوم نے زندگی بھر ماں کی نا فرمانی کی اور اس کی نا فرمانی ہی کی وجہ سے اسے قبر نے قبول کر نے سے انکا ر کر دیا۔ “امی کا شکو ہ بجا تھا لیکن میں نے پوری بات یوں نہ کی کہ مبادا ضعیفی کی وجہ سے ان کی طبیعت خرا ب ہو جائے۔ امی نے دبے لہجے میں مجھے مرحوم کی مغفرت کے سلسلے میں ایک مشورہ دیا۔ میں اس پر عمل کرنے کے لیے مسجد کے امام صاحب سے ملنے چلا گیا۔

ممتاز احمد تسنیم

Importance of Hijab in Islam

Posted by Unknown on 00:55 with No comments
اسلام میں حجاب کی اہمیت

ایک باپردہ عورت نے فرانس کی ایک سپرمارکیٹ سے خریداری کی اور اس کے بعد وہ عورت پیسوں کی ادائیگی کیلئے لائن میں کھڑی ہو گئی۔ اپنی باری آنے پر وہ چیک آؤٹ کاؤنٹرآئی، جہاں اسے رقم ادا کرنا تھی، وہاں اس نے اپنا سامان ایک ایک کر کے کاؤنٹر پر رکھ دیا۔ چیک آؤٹ پر کھڑی ایک بے پردہ مسلم لڑکی نے اس خاتون کی چیزیں ایک ایک کر کے اٹھائیں، اور ان کی قیمتوں کا جائزہ لینے لگی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے نقاب والی خاتون گاہک کی طرف ناراضی سے دیکھا اور کہنے لگی! ہمیں اس ملک میں کئی مسائل کا سامنا ہے، ان مسائل میں ایک مسئلہ تمہارا نقاب ہے۔ ہم یہاں تجارت کرنے کے لئے آئے ہیں نہ کہ اپنا دین اور تاریخ دکھانے کے لئے۔ وہ مسلم عرب عورت جو نام نہاد روشن خیال تھی اپنی بے ہودہ تقریر جھاڑے جا رہی تھی کہ اگر تم اپنے دین پر عمل کرنا چاہتی ہو اور نقاب پہننا ضروری سمجھتی ہو تو اپنے ملک واپس چلی جاؤ، جہاں جو تمہارا دل چاہے کر سکتی ہو۔ وہاں نقاب پہنو، برقع پہنو، ٹوپی والا برقع پہنو، جو چاہے کرو مگر یہاں رہ کر ہم لوگوں کے لئے مسائل مت پیدا کرو....
نقاب پہننے والی خاتون ایک مسلم عورت کے منہ سے نکلنے والے الفاظ پر دم بخود ہو کر رہ گئی۔ اپنے سامان کو بیگ میں رکھتے ہوئے اس کے ہاتھ رک گئے اور اچانک اس نے اپنے چہرے سے نقاب الٹ دیا، کاؤنٹر پر کھڑی لڑکی اس کا چہرہ دیکھ کر حیران رہ گئی کیونکہ نقاب والی لڑکی کے بال سنہری اور آنکھیں نیلی تھیں، اس نے کاؤنٹر والی سے کہا ”میں فرانسیسی لڑکی ہو نہ کہ عرب مہاجر، یہ میرا ملک ہے، میں مسلمان ہوں.... اسلام میرا دین ہے، یہ نسلی دین نہیں ہے کہ تم اس کی مالک ہو، یہ میرا دین ہے اور میرا اسلام مجھے یہی سبق دیتا ہے جو میں کر رہی ہو۔ تم نسلی مسلمان ہو کر ہمارے یہاں کے غیر مسلموں سے مرعوب ہو، دنیا کی خاطر خوف میں مبتلا ہو، مجھے کسی کا خوف نہیں ہے۔ اس فرانسیسی نو مسلم عورت کے یہ لفظ تو بے پردہ مسلم عورتوں کے منہ پر طمانچہ تھے کہ تم پیدائشی مسلمانوں نے اپنا دین بیچ دیا ہے اور ہم نے تم سے خرید لیا ہے۔
ایک نجی اخبار میں جب میں نے اس نومسلم فرانسیسی لڑکی کے بارے میں پڑھا تو روشن خیال اور اسلام کو بیک ورڈ یعنی پرانا اور فرسودہ نظام کہنے والیوں پر افسوس ہوا جن کی جھولیوں میں جدی پشتی اسلام جیسی نعمت آ گری، انہوں نے اس کی قدر نہ جانی اور حجاب کو فرسودہ روایت کہہ کر اتار پھینکا وہ حجاب جو اس کے لئے ایک حفاظتی قلعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ مجھے ایک اور مغربی اداکارہ کا واقعہ یاد آیا وہ ساحل سمندر پر نہانے کے لئے گئی اب اسے اپنا لباس اتارنا تھا اور اس لباس میں جو کہ برائے نام ہے نیم برہنہ ہو کر ساحل پر اسے نہانا تھا۔ یکدم اس کے اندر کی عورت جاگی، حیا جو کہ عورت کی فطرت ہے، بیدار ہو گیا، اس کے ہاتھ رک گئے، ایک مسلمان باپردہ عورت کا سراپا اس کی نظروں میں گھوم گیا۔ اس نے اسلام کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا، کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئی۔ حجاب اوڑھنا شروع کر دیا۔ اب اس نو مسلم کا کہنا ہے کہ برقعہ یا چادر عورت کا حفاظتی قلعہ ہے جو اسے شیطان اور برے انسانوں کی پرہوس اور بری نظروں سے محفوظ رکھتا ہے۔
میں ان نومسلم عورتوں کے احساسات اور جذبات کو داد دے رہی تھی کہ یا اللہ تیری یہ فرمانبردار بندیاں، یورپین معاشرے کی پیداوار ہیں، انہوں نے دین اسلام کو سینے سے لگایا تو اس کے ایک ایک حکم کا حق ادا کر دیا۔ پابندی حجاب کے باوجود استقامت اختیار کی، (اللہ ان کی مدد فرمائے، آمین) اور ادھر میری مسلم بہنوں اور بچیوں کا حال دیکھو، ابھی کچھ دن پہلے میں سودا سلف خریدنے کے لئے ایک سپر اسٹور پر گئی، ابھی سامان ٹرالی میں رکھ رہی تھی کہ تنگ پینٹ اور مختصر شرٹ پہنے ہوئی لڑکی میرے سامنے آئی، میک اپ سے چہرہ لتھڑا ہوا، کہنے لگی کہ کون سا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتی ہیں، ابھی میں کچھ بولی نہیں اس نے ہاتھ میں پکڑی ٹوتھ پیسٹ کی تعریفیں شروع کر دیں، میں نے کہا کہ یہ تو میں بعد میں لوں گی پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ کیا تم مسلمان ہو؟ بڑے فخر سے گویا ہوئی: ”جی آنٹی۔“ میں نے کہا :”تم نے جو لباس پہن رکھا ہے کیا وہ ایک مسلم عورت ہونے کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے،“ کہتی ہے: ”نہیں آنٹی یہ تو کمپنی والوں کا لباس ہے، جو مجبوراً پہننا پڑتا ہے۔“ بی اے پاس لڑکی غربت کے ہاتھوں ماری ہوئی ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہے اور یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی چیزوں کو متعارف کروانے کے لئے جوان خوبصورت لڑکیوں کو تھوڑی تھوڑی تنخواہوں پر بڑے بڑے اسٹوروں اور پوش علاقوں میں ڈور ٹو ڈور بھیجتے ہیں اور پھر خدا کی مار لباس بھی کافروں کا چنا ہوا۔ بہرحال! میرے سمجھانے پر مذکورہ لڑکی کی حمیت جاگی اور اس نے وعدہ کیا وہ جلد ہی اس بے ہودہ لباس سے جان چھڑائے گی اور اپنے لئے کوئی معزز راستہ تلاش کرے گی....
حقیقت یہ ہے کہ میں مسلم بیٹی کو کفار کی چالوں کا نشانہ بنتے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہوں اور کڑھ رہی ہوں کہ دینی تربیت کا فقدان ہے اور میری نوجوان نسل کفار کے بنے ہوئے جال میں پھنستی جا رہی ہے اور نیم برہنہ حالت میں اسٹوروں، چوکوں اور مشہوری کے لئے لگائے گئے پوسٹروں کی زینت بنتی جا رہی ہیں۔ یہی نیم برہنہ پھرنے والیاں جب اللہ کے گھر سے بلاوا آ جائے، حج و عمرہ کی ادائیگی کیلئے جائیں تو اپنے آپ کو سیاہ عبایا میں چھپا لیتی ہیں۔ یہ حکومت سعودیہ کا حکم ہے، کاش! وہ قرآن کا مطالعہ کریں کہ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا بھی حکم ہے۔ سورئہ الاحزاب میں اللہ فرماتے ہیں: ”اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں، یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں (کہ شریف زادیاں ہیں) تو انہیں تکلیف نہ پہنچائی جائے اور اللہ بے حد بخشنے والا مہربان ہے“
یاد رہے! اللہ تبارک وتعالیٰ عورت کو سیپ میں بند موتی کی طرح چھپا کر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ موتی کی خوبصورتی برقرار رہے۔ بری نظروں کے تیروں سے داغدار نہ ہو، لیکن عورت اپنی کم علمی کی وجہ سے دین سے دور ہونے کی بنا پر بے پردگی کرتی ہے اور رب کے حکم کی نافرمانی کرتی ہے۔
میں نے اپنی بہت ساری بہنوں اور بیٹیوں کو دیکھا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کا مذاق اڑاتی ہیں، حج و عمرہ کی ادائیگی کیلئے گئیں، عبایا اور چادر اوڑھ لی، ادائیگی کر کے واپس آئیں تو عبایا اور چادر کو الماری کی زینت بنا دیا، کہ دوبارہ جب اللہ کے گھر جائیں گی تب پہن لیں گی۔ یا پھر جہاں عورتوں کا دینی درس ہوتا ہے، وہاں باجی بے پردہ جانے کی وجہ سے شرمندہ کرتی ہیں تو اس لئے پہن لیا۔ خدارا ایسا کرنے والی میری بہنیں ذرا اس بات پر غور کریں کہ کیا وہ سعودی حکومت سے ڈرتی ہیں یا درس والی باجی سے؟ اگر اللہ کا حکم مان کر کرتی ہیں تو اللہ کا حکم تو ہر جگہ ہے اور وقت ہے۔ اپنے رب کو راضی کرنا مقصود ہے جوکمیاں کوتاہیاں اور نافرمانیاں ہو گئیں ان کی معافیاں مانگ لیں، جس طرح اپنے آپ کو ڈھانپ کر حرمین جاتی ہیں اسی طرح عام جگہوں پر اپنے آپ کو چھپا کر جائیں اپنا ظاہر و باطن ایک جیسا کر لیں۔ صحابیات کو رول ماڈل بنائیں اور ان یورپ کی نو مسلم عورتوں کے کردار دیکھیں جنہوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور مسلمان عورت بن کر دکھایا۔ اللہ صحیح معنوں میں مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین
 

The King and His Ministers

Posted by Unknown on 00:17 with No comments
بادشاہ اور اس کے وزیر

ایک دن بادشاہ اپنے تین وزراء کو دربار میں بلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں داخل ہوں
اور وہاں سے بادشاہ کے لیے مختلف اچھےاچھے پھل جمع کرییں
وزراء بادشاہ کے اس عجیب حکم پر حیران رہ گئے لیکن پھر تینوں ایک ایک تھیلا پکڑ کر الگ الگ باغ میں داخل ہوگئے
پہلے وزیر نے کوشش کی کہ بادشاہ کے لیے اسکی پسند کے مزیدار اور تازہ پھل جمع کرے اور اس نے کافی محنت کے بعد بہترین اور تازہ پھلوں سے تھیلا بھر لیا
دوسرے وزیر نے خیال کیا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا خود تو جائزہ نہیں لے گا کہ کیسا ہے اور نہ ہی پھلوں میں فرق دیکھے گا
اس لیے اس نے بغیر فرق دیکھے جلدی جلدی ہر قسم کے تازہ اور کچے اور گلے سڑے پھلوں سے اپنا تھیلا بھر لیا
اور تیسرے وزیر نے سوچا کہ بادشاہ کی توجہ صرف تھیلے کے بھرنے پر ہوگی اس کے اندر کیا ہے اسے بادشاہ نہیں دیکھے گا
یہی سوچ کر وزیر تھیلے میں گھاس بھوس اور پتے بھر لیے اور محنت سے بچ گیا اور وقت بچایا
دوسرے دن بادشاہ تینوں وزراء کو اپنے تھیلوں سمیت دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا
جب تینوں دربار میں حاضر ہوئے تو بادشاہ نے تھیلے کھول کر بھی نہ دیکھے اور حکم دیا کہ تینوں کو ان کے تھیلوں سمیت تین ماہ کے لیے دوردراز جیل میں قید کر دو
اب اس دوردراز جیل میں تینوں کے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں تھا سوا اس تھیلے کہ جو انھوں نے جمع کیا تھا

اب پہلا وزیر جس نے اچھے اچھے پھل چن کر جمع کیے تھے وہ مزے سے اپنے انہیں پھلوں پر گزارہ کرتا رہا یہاں تک کے تیں ماہ باآسانی گزر گئے 

اور دوسرا وزیر جس نے بغیر دیکھے تازہ خراب تمام پھل جمع کیے تھے اس کے لیے پڑی مشکل پیش آئی کچھ دن تو تازہ پھل کھا لیے لیکن پھر کچے اور گلے سڑے پھل کھانے پڑے جس سے وہ بہت زیادہ بیمار ہوگیا اور اسے بہت تکلیف اٹھانی پڑی 

اور تیسرا وزیر جس نے اپنے تھیلے میں صرف گھاس بھوس ہی جمع کیا تھا
وہ کچھ دن بعد ہی بھوک سے مر گیا کیونکہ اس کے پاس کھانے کو کچھ نا تھا


اب آپ اپنے آپ سے پوچھیے آپ کیا جمع کر رہے ہیں ؟

آپ اس وقت اس باغ میں ہیں
جہاں سے آپ چاہیں تو نیک اعمال اپنے لیے جمع کریں اور چاہیں تو خراب اعمال
مگر یاد رہے جب بادشاہ کا حکم صادر ہوگا
تو آپ کو اپکی جیل
قبر میں دال دیا جایے گا
اس جیل میں آپ اکیلے ہونگے جہاں آپ کے ساتھ صرف آپ کے اعمال کی تھیلی ہوگئی تو جو آپ نے جمع کیا ہوگا وہی آپ کو وہاں کام دے گا تو آج تھوڑی سی محنت کرکے اچھی اچھی چیزیں یعنی نیک اعمال جمع کرلیں اور وہاں آسانی اور آرام والی زندگی گزاریں

Thursday, 11 July 2013

کڑوا پھل، میٹھی بات
حضرت لقمان کسی رئیس کے غلام تھے ، اور اسکی بہت خدمت کیا کرتے تھے ، یہ رئیس ان کی خدمت گزاری ، دانائی اور ایمانداری سے بہت متاثر تھا انکو بہت عزت دیتا اور بہت محبت کرتا تھا ، تاجر کا معمول تھا کہ جب بھی دستر خوان پر بیٹھتا تو حضرت لقمان کو بھی اپنے ساتھ بٹھاتا اور اپنے ہاتھ سے کھانا پیش کرتا ، ایک دن رئیس نے کہیں سے خربوزہ منگوایا اور اپنے ہاتھ سے ایک قاش کاٹ کر حضرت کو پیش کی ، حضرت نے وہ قاش کھائی تو رئیس نے پوچھا کہ کیسا ہے ، حضرت نے جواب دیا کہ الحمدللہ بہت اچھا ہے ۔ آپکی دی ہوئی چیز پھیکی کیسے ہو سکتی ، رئیس بہت خوش ہوا اور ایک قاش اور کاٹ کر آپ کی خدمت میں پیش کی، آپ نے وہ بھی نوش فرما لی ، اسی طرح رئیس قاشیں کاٹتا رہا اور آپ کو پیش کرتا رہا اور آپ کھاتے رہے اور تعریف کرتے رہے ، جب آخری قاش بچی تو رئیس کے دل میں آیا کہ اتنا میٹھا خربوزہ مجھے بھی چکھنا چاہیے جیسے ہی اس نے قاش منہ میں رکھی فورا تھوک دی ، خربوزہ تو انتہائی کڑوا تھا ،
رئیس بڑا حیران ہو ا اور اس نے حضرت لقمان سے پوچھا کہ حیرت ہے آپ اتنا کڑوا خربوزہ میٹھا کہہ کر کھاتے رہے ، کیا وجہ تھی کہ تم نے مجھے بتایا نہیں ، حضرت لقمان نے سر جھکا لیا اور آہستہ آواز میں بولے آقا میں نے آپ کے ہاتھوں سے دنیا کی شاندار نعمتیں کھائی ہیں یہ پہلی نعمت تھی جو ذرا سی کڑوی تھی ، میری غیرت نے گوارہ نہیں کیا کہ ایک ایسے شخص سے شکایت کروں جس نے ہمیشہ مجھے پہلے کھلایا اور بہت اچھا کھلایا ۔ آقا میں آپ کے مہربان ہاتھوں سے زہر تک کھا سکتا ہوں تو یہ کڑوا خربوزہ کیا چیز ہے ، یہ سن کر رئیس کی آنکھوں میں آنسو آگئے
مجھے بھی یہ واقعہ سوچ کر رونا آ جاتا ہے کہ ہم ذرا سی تکلیف پر اللہ سے شکوہ کر دیتے ہیں کہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے ، کبھی یہ نہیں سوچا کہ اس مالک کی ہزار ہا نعمتیں استعمال کر رہے ہیں ، ہوا ، پانی ، روشنی ، پھل ، غذا اور ان کے علاوہ کتنی نعمتیں ہیں جو مسلسل استعمال کرتے ہیں لیکن جب کبھی ذرا سی تکلیف آجائے ، مشقت آ جائے ، بیماری آجائے ، کوئی محرومی آجائے تو فورا شکوہ کر دیتے ہیں کہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے ، غیرت کا تقاضہ تو یہی ہے نا کہ جس مالک کی اتنی نعمتیں استعمال کرتے ہیں اس کی طرف سے آنے والی تھوڑی سی مصیبت میں بھی ناشکری مت کریں اور ہر حال میں اس کا شکر ادا کریں

Wednesday, 10 July 2013

For Allah...

Posted by Unknown on 08:48 with No comments
اللہ کےلیے

ایک فقیر ایک پھل والے کے پاس گیا اور کہا کہ اللہ کے نام پر کچھ د ے دو۔ پھل والے نے فقیر کو گھور کے دیکھا اور پھر ایک گلا سڑا آم اٹھا کر فقیر کی جھولی میں ڈال دیا۔
فقیر کچھ دیر وہیں کھڑا کچھ سوچتا رہا اور پھر پھل والے کو بیس روپے نکال کر دیے اور کہا کہ بیس روپے کے آم دے دو،دکاندار نے دو بہترین آم اٹھائے اور لفافے میں ڈال کر فقیر کو دے دیے۔
فقیر نے ایک ہاتھ میں گلا سڑا آم لیا اور دوسرے ہاتھ میں بہت...رین آموں والا لفافہ لیا اور آسمان کی طرف نگاہ کر کے کہنے لگا :

"دیکھ اللہ تجھے کیا دیا اور مجھے کیا دیا"

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنی پسندیدہ چیز اللہ کے رستے میں قربان نہ کرے

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم لوگ اللہ کے نام پر اپنی بہترین چیز دیتے ہیں
آخرت سے غفلت، بڑی حماقت


شاہ بہلول کے مجذوبانہ حال کی وجہ سے بادشاہ ہارون رشید ان سے دلی عقیدت مندی کے باوجود دل لگی کرلیتا تھا مگر بادشاہ کے دل میں شاہ بہلول کا بڑا احترام تھا۔ انہوں نے اپنے درباریوں کو حکم جاری کیا تھا کہ شاہ بہلول کسی بھی وقت آئیں ان کوروکا نہ جائے بلکہ میرے پاس بلالیا جائے‘ ایک روز ہارون رشید دربار میں بیٹھا تھا کہ شاہ بہلول آگئے۔ بادشاہ کو حسب معمول مزاح کی سوجی۔ اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت چھڑی تھی اس نے وہ شاہ بہلول کو دی اور کہا کہ اگر آپ کو اپنے سے زیادہ کوئی بے وقوف آدمی مل جائے تو یہ چھڑی آپ اس کو دے دیں۔ شاہ بہلول نے وہ چھڑی بڑے شوق سے قبول کی اور چل دئیے۔ تین سال کے بعد ہارون رشید بیمار ہوا اور بستر مرگ پر پہنچ گیا۔ شاہ بہلول عیادت کے لیے تشریف لائے مزاج پرسی کی ہارون رشید کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وقت قریب ہے اس نے کہا کہ "مزاج کیا پوچھتے ہو سفر کی تیاری ہے"۔
شاہ بہلول نے سوال کیا: کہاں کا سفر درپیش ہے؟ ہارون رشید نے جواب دیا کہ آخرت کا۔ شاہ بہلول نے پھر سوال کیا کہ کتنے روز کا سفر ہے؟ ہارون رشید نے جواب دیا آپ بھی دیوانے ہی رہے‘ بھلا آخرت کے سفر سے بھی کوئی جاکر واپس آتا ہے‘ شاہ بہلول نے پھر سوال کیا؟ کتنا لشکر‘ سامان اور خدمت گزار آگے روانہ کیے؟ بادشاہ نے جواب دیا آپ کیسی احمقانہ بات کرتے ہیں وہاں کے سفر میں کون لائو لشکر‘ سامان اور خدمت گزار بھیج سکتا ہے؟ شاہ بہلول نے اپنی عباءکے اندر سے وہ چھڑی نکالی جو تین سال قبل ہارون رشید نے انہیں دی تھی اور یہ کہہ کر بادشاہ کو واپس کی کہ آپ کے حکم کی تعمیل میں تین سال سے میں کسی ایسے شخص کی تلاش کررہا تھا جو مجھ سے زیادہ احمق اور بے وقوف ہو‘ مجھے اپنے سے زیادہ آپ کے علاوہ احمق اور بے وقوف آج تک نہیں ملا۔ اس لیے کہ آپ چند دن کے سفر پر جاتے ہیں تو جانے سے پہلے کتنا سامان سفر‘ لشکر اور کتنے خدمت گزار آگے روانہ کرتے ہیں اور آخرت کا اتنا اہم اور طویل بلکہ ہمیشہ کا سفر درپیش تھا آپ نے وہاں کیلئے کچھ بھی انتظام نہیں کیا‘ لہٰذا مجھ سے زیادہ احمق اور بے وقوف آپ آج مجھ سے ملے ہیں۔ میں نے یہ چھڑی آج تک محفوظ رکھی تھی اور آپ کے حکم کی تعمیل میں یہ میں آپ کو دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر چھڑی بادشاہ کے حوالہ کی اور چل دئیے۔ ہارون رشید بہلول مجذوب کی حکیمانہ نصیحت سن کر بلک بلک کر رونے لگا اور کہا ”بہلول واقعی ہم ساری زندگی آپ کو دیوانہ سمجھتے رہے مگر واقعی ہارون رشید سے زیادہ کون احمق ہوگا جو اتنے اہم سفر کی تیاری سے غافل رہا۔“
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اس سے زیادہ بے وقوفی اور حماقت کیا ہوگی کہ اتنے اہم اور حقیقی سفر کی تیاری سے غافل رہے جبکہ ایک لمحہ اور ایک سانس کیلئے اس کا اطمینان نہیں کہ یہ سفر نہ جانے کس لمحے درپیش ہوجائے‘ کون بڑے سے بڑا شہنشاہ اور حکیم اس بات کی ضمانت لے سکتا ہے کہ انسان کا جو سانس اندر آگیا اس کے باہر نکلنے تک موت اس کو مہلت دے گی اور جو سانس باہر نکل گیا اس کے اندر آنے تک اس کی زندگی اس سے وفا کریگی۔ پھر اس دھوکے کی زندگی پر بھروسہ کرکے آخرت کے حقیقی گھر کو بھول جانا کیسا دیوانہ پن ہے۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسی سچی اور پیاری بات فرمائی ہے۔ ”عقل مند انسان وہ ہے جو نفس کو قابو میں رکھے اور مرنے کے بعد کی تیاری کرے۔“ (ترمذی)
اپنے ہاتھوں نہ جانے کتنے انسانوں کو ہم دفن کرتے ہیں اپنی ان ہی آنکھوں کے سامنے کتنے عزیزوں‘ رشتہ داروں‘ دوستوں و رفقاءکو اس دنیا سے خالی ہاتھ جاتا دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اس حقیقی گھر آخرت کی تیاری سے غافل رہ کر اس دنیا کے رنگ و بو میں قیامت تک اس دنیا میں رہنے کی امیدوں کے ساتھ مست رہتے ہیں اور اپنی عقل مندی اور دانائی پر فخر کرتے ہیں۔ امام حسن بصری رحمة اللہ علیہ نے کیسی پیاری بات کہی کہ اگر کوئی آدمی یہ نذر مان لے کہ وہ دنیا کے عقل مند ترین لوگوں کی دعوت کریگا تو اسے زاہد فی الدنیا لوگوں کی دعوت کرکے یہ نذر پوری کرنی پڑیگی اس لیے کہ زاہدین ہی دنیا کے عقلمند ترین لوگ ہیں جو آخرت کی فکر میں دنیا کو نظرانداز کرتے ہیں۔

Hazrat Ali (RA) met a Bedouin

Posted by Unknown on 07:51 with No comments
ایک اعرابی کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات

روایات میں آتا ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے تقریباً دس یوم کے بعد ایک اعرابی بیابان سے چل کر مسجد نبوی کے دروازے پر آیااس نے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا۔صحابہ کرام جو وہاں موجود تھے ان کو سلا م کیااور حضور پاک کے وصال مبارک پر غم کا اظہار کرنے کے بعد پوچھا کہ تم میں سے رسول پاک کے وصی کون ہیں ؟ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف اشارہ کیا چنانچہ وہ حضرت علی کی طرف متوجہ ہوا اور حضرت علی کو سلام کیا ،
حضرت علی نے جواب میں فرمایا وعلیکم السلام یا مضر۔یہ جواب سن کر سب حیران ہوئے
اعرابی نے کہا ، آپ کو میرا نام کیسے معلوم ہوا؟
حضرت علی نے فرمایا مجھے رسول اللہ نے خبر دی ہے اور تمہارے حال کی کیفیت مجھے دکھائی ہے اگر تم چاہتے ہو کہ میں حضور ۖ سے جو کچھ تمہارے بارے میں سنا ہے تم سے بیان کر وں ۔
اعرابی نے کہا آپ کا نام کیا ہے ؟
آپنے فرمایا علی بن ابی طالب اور میں رسول پاک ۖکا چچا زاد بھائی ہوں ۔
اعرابی نے کہا الحمد للہ۔
اسکے بعد حضرت علی نے فرمایا تم عرب کے ایک مرد ہو تمہارا نام مضر ہے تم نے اپنی قوم کو رسول کریم ۖ کی بعثت کی خبر دی تھی اور حضور کے اوصاف جمیلہ میں تم نے قوم کو یہ کہا کہ تہامہ میں ایک آدمی کھڑا ہو گاجس کے رخسار چاند سے زیادہ منور، گفتگو شہد سے زیادہ میٹھی ہو گی ۔جو شخص اس کی پیروی کرے گا نجات حاصل کرے گا،مساکین اور یتامیٰ کا والی ہوگا ، خچر پر سوار ہوگا ، اپنے جوتے خود پیوند لگائے گا، شراب نوشی اور زنا کو حرام قرار دے گا، ناحق قتل اورسود سے منع کرے گا ، خاتم الانبیا ہو گا ۔نماز پنجگانہ کی ادئیگی کریں گے اور رمضان المبارک کے روزے رکھیں گے ، حج بیت اللہ کریں گے ۔ اے گروہ ! اس پر ایمان لے آؤ اور اسکی تصدیق کرو ۔ جب تم نے اس امر کی طرف انہیں راہنمائی کی تو انہوں نے تیرے ساتھ ظلم و ستم کا سلوک کیا اور تجھے قید میں ڈال دیا ، پھر جب حضور نبی کریم ۖ کا وصال ہوگیا اور تیری قوم کو سیلاب سے ہلاک کر دیا گیا اور تجھے قید خانہ سے خلاصی حاصل ہوئی اس کے بعد تیرے کانوں میں غیب سے یہ آواز پہنچائی گئی کہ اے مضر ! بلاشبہ محمد ۖ کا وصال ہو گیا اور تو ان کے صحابہ کرام میں سے ہے ، مدینہ منورہ کی طرف جا اور ان کے روضہ انور کی زیارت کراور اس طرح تو منازل طے کر کے اب یہاں پر آن پہنچا ہے ۔

اعرابی نے جب یہ ساری باتیں سنیں تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور کہا کہ اے علی آپ و اس واقعہ کی خبر کیسے ہوئی ؟
حضرت علی نے فرمایا ، مجھے حضور پاک ۖ نے خبر دی ہے اور فرمایا کہ میرے وصال کے بعد مضر میری قبر پر آئے گا تم جب اس سے ملو تو میرا سلام اسے پہنچا دینا۔
مضر نے جب حضور ۖ کے سلام کی خوشخبری سنی تو خوشی سے آگے بڑھ کر حضرت علی کے سر مبارک کو بوسہ دیا اس کے بعد اس نے حضرت علی سے کہا کہ میں نے آپ سے کچھ سوال کرنے ہیں آپ مجھے ان سوالات کے جوابات دیں ۔
حضرت علی نے فرمایا کہ تم سوالات کرو ۔
چنانچہ مضر نے حضرت علی سے مندرجہ ذیل سوالات پوچھے :

٭۔ وہ کون سانر ہے جسکا باپ اور ماں نہیں ؟
٭۔وہ کون سی مادہ ہے جو بغیر ماں باپ کے موجود ہوئی ہو ؟
٭۔ ایسا رسول جو نہ جن ہو نہ انسان اور نہ ہی فرشتوں میں سے ہو چوپایوں اور درندوں میں سے بھی نہ ہو؟
٭۔ ایسی قبر جس نے قبر والے کو بھی سیر کرائی ہو؟
٭۔ ایسا حیوان جس نے اپنے ساتھیوں کو ڈرایا ہو ؟
٭۔ ایسا جسم جس نے ایک بار کھایا پھر کبھی نہیں ؟ ۔
٭زمین کا ایسا حصہ جہاں ایک مرتبہ سورج چمکا اور پھر آج تک نہیں چمکا اور قیامت تک نہیں چمکے گا؟
٭ایسا پتھر جس سے زندہ کی پیدائش ہوئی ؟
٭وہ عورت جس سے تین ساعت میں لڑکے کی ولادت ہوئی ؟
٭د و ساکن جو حرکت نہیں کرتے ؟
٭دو متحرک جو ساکن نہیں ہوتے ؟
٭دو دوست جو دشمن نہیں ہوتے ؟
٭دو دشمن جو دوست نہیں ہوتے ؟
٭شے کیا ہے لا شے کیا ہے ؟
٭رحم میں سب سے پہلے کس اعضا ء کی شکل بنتی ہے ؟
٭قبر میں سب سے آخر میں کون سی چیز فنا ہوتی ہے ؟

حضرت علی نے ان سوالات کے نہایت تفصیل سے جوابات دئیے اور فرمایا:
٭جس نر کے بارے میں تم نے سوال کیا ہے کہ جس کا ماں باپ نہیں وہ حضرت آدم ہیں
٭اور وہ مادہ جو بغیر ماں کے پیدا ہوئی وہ حضرت حوا ہیں
٭اور وہ نر جن کی ولادت بغیر باپ کے ہوئی وہ حضرت عیسیٰ ہیں
٭اور وہ رسول جو جنات ، انسانوں اور فرشتوں میں سے نہیں تھا کوا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قابیل کی تعلیم کے لئے بھیجا تھا
٭اور وہ قبر جس نے صاحب قبر کو اپنے ساتھ سیر کرائی وہ مچھلی تھی جس نے حضرت یونس کو اپنے پیٹ میں تین دن تک رکھا اور سمندر کے اطراف و جوانب میں پھرتی رہی
٭اور وہ حیوان جس نے اپنے ساتھیوں کو ڈرایا تھا چیونٹی تھی جو خوراک کی تلاش کے لئے باہر نکلی تھی کہ دوسری چیونٹیاں ایک ستون پر چڑھی تھیں حضرت سلیمان علیہ السلام کر سر کے اوپر تھا اس چیونٹی نے اپنی قوم سے کہا کہ خبردار! تمہارے گزرنے سے مٹی نہ گرے اللہ تعالیٰ کا پیغمبر تم سے تکلیف اٹھائیگا
٭اور وہ جسم جس نے ایک مرتبہ کھایا ، پیا نہیں اور قیامت تک نہیں کھائے گا وہ حضرت موسیٰ کا عصا مبارک ہے جس نے جادوگر وں کے جادو کو ایک لقمہ میں ختم کر ڈالا۔
٭اور وہ زمین کا ٹکڑا جہاں ایک مرتبہ سے زیادہ سورج نہیں چمکا وہ دریائے نیل تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کیلئے پھاڑا اور اسکی گہرائی کی زمین دکھائی دینے لگی سورج اس پر چمکا چنانچہ اسکے نیچے سے غبار اٹھا حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کے جانے کے بعد وہ پھر مل گیا اور اپنی شابقہ حالت پر آگیا
٭اور وہ پتھر جس نے حیوان کی ولادت ہوئی وہ پتھر وہ تھا جس سے حضرت صالح کی اونٹنی پیدا ہوئی
٭اور وہ دو ساکن غیر متحرک زمین اور آسمان ہیں (اور تحریک سے یہاں مراد ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا ہے۔)
٭اور وہ دو متحرک جو کبھی بھی ساکن نہیں ہوتے چاند اور سورج ہیں
٭اور وہ عورت جس نے تین ساعت میں بچہ جنا حضرت مریم تھیں کہ تین ساعت میں ان سے حضرت عیسیٰ کی ولادت ہوئی
٭اور وہ دوست جو کبھی ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہوتے جسم اور جان ہیں
٭اور وہ دو دشمن جو کبھی دوست نہیں ہوتے موت اور زندگی ہیں۔
شے مومن ہے اور لا شے کافر ہے۔
٭احسن اشیاء صورت بنی آدم ہے ۔
٭رحم میں سب سے پہلے جس چیز کی شکل بنتی ہے وہ شہادت کی انگلی ہے
٭اور قبر میں سب سے آخر میں جو چیز فنا ہوتی ہے بندہ کے سر کی ہڈی ہے ۔

مضر نے جب حضرت علی سے اپنے سوالوں کے نہایت تفصیلی جوابات سنے تو آپ کے سر مبارک پر بوسہ دیا۔
(معارج النبوة)

Some Questions And Their Answers

Posted by Unknown on 06:48 with No comments
چند سوال و جواب

بغداد پر تاتاری فتح کے بعد، ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟

جواب آیا: ایک عالم کے پاس کھڑے ہیں۔ دخترِ ہلاکو نے عالم کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ عالم کو تاتاری شہزادی کے سامنے لا حاضر کیا گیا۔

شہزادی مسلمان عالم سے سوال کرنے لگی: کیا تم لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے؟

عالم: یقیناً ہم ایمان رکھتے ہیں

شہزادی: کیا تمہارا ایمان نہیں کہ اللہ جسے چاہے غالب کرتا ہے؟
عالم: یقیناً ہمارا اس پر ایمان ہے۔

شہزادی: تو کیا اللہ نے آچ ہمیں تم لوگوں پر غالب نہیں کردیا ہے؟
عالم: یقیناً کردیا ہے-

شہزادی: تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ خدا ہمیں تم سے زیادہ چاہتا ہے؟

عالم: نہیں

شہزادی: کیسے؟

عالم: تم نے کبھی چرواہے کو دیکھا ہے؟

شہزادی: ہاں دیکھا ہے

عالم: کیا اس کے ریوڑ کے پیچھے چرواہے نے اپنے کچھ کتے بھی رکھ چھوڑے ہوتے ہیں؟

شہزادی: ہاں رکھے ہوتے ہیں۔

عالم: اچھا تو اگر کچھ بھیڑیں چرواہے کو چھوڑ کو کسی طرف کو نکل کھڑی ہوں، اور چرواہے کی سن کر دینے کو تیار ہی نہ ہوں، تو چرواہا کیا کرتا ہے؟

شہزادی: وہ ان کے پیچھے اپنے کتے دوڑاتا ہے تاکہ وہ ان کو واپس اس کی کمان میں لے آئیں۔

عالم: وہ کتے کب تک ان بھیڑوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں؟

شہزادی: جب تک وہ فرار رہیں اور چرواہے کے اقتدار میں واپس نہ آجائیں۔

عالم: تو آپ تاتاری لوگ زمین میں ہم مسلمانوں کے حق میں خدا کے چھوڑے ہوئے کتے ہیں؛ جب تک ہم خدا کے در سے بھاگے رہیں گے اور اس کی اطاعت اور اس کے منہج پر نہیں آجائیں گے، تب تک خدا تمہیں ہمارے پیچھے دوڑائے رکھے گا، تب تک ہمارا امن چین تم ہم پر حرام کیے رکھوگے؛ ہاں جب ہم خدا کے در پر واپس آجائیں گے اُس دن تمہارا کام ختم ہوجائے گا۔

مسلمان عالم کے اس جواب میں آج ہمارے غوروفکر کےلیے بہت کچھ پوشیدہ ہے!
۔
خدایا ہمارے اس بھٹکے ہوئے گلے کو اپنے در پر واپس آنے کی توفیق دے؛

Lord Of The Worlds

Posted by Unknown on 02:53 with No comments
رب العالمین


وہ گھاس کا رب ہے، گھاس پر منہ مارتی گائے کا رب ہے، گائے پہ نظریں گاڑے شیر کا رب ہے، شیر کی کھال ڈرائنگ روم میں سجائے انسان کا رب ہے اور قبر میں انسانی جسم کو بڑے سلیقے سے ڈی کمپوز کرتے مائیکروبز کا رب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایک جان، ایک گروہ، ایک شہر، ایک دنیا کا رب نہیں ، رب العالمین ہے۔
میرے رب کی کائنات کی مثال ایک سمندر کی سی ہے جس کی حدیں کہکشاﺅں سے پرے جاتی ہیں اور جس کے پانی ک
ا ہر قطرہ ایک پوری کائنات ہے۔ کائنات جس میں لاکھوں نہ نظر آنے والے وجود رہتے ہیں۔ ہر ایک وجود اتنا زندہ ہے کہ خواب دیکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہزاروں ، لاکھوں ، کروڑوں خواب۔ اور ہر خواب ایسا معتبر ہے کہ جس پر خود حقیقتیں ساون کی بارش کی طرح برستی ہیں۔
مخلوقات کے ان خوابوں کا ایک لامتناہی دریا ہے جو ربِ باری تعالی کے دروازے کی طرف جاتا ہے اور ہر خواب پورا ہوتا ہے۔ ازل سے یہ دریا بہتا چلا آ رہا ہے۔ نہ یہ مخلوق مانگنے سے تھکی ہے اور نہ میرا رب عطا کرنے سے رکا ہے۔ اور اس دریا کے بیچ ان دیکھی حدیں ہیں۔ کسی خواب کو سزاوار نہیں کہ وہ اپنی حد سے باہرنکل کر کسی دوسرے خواب کی گزرگاہ کا حصہ بن سکے اور نہ کسی مخلوق کو اجازت ہے کہ وہ دوسری مخلوقات کے خوابوں کی طلب ہی کر پائے۔

Monday, 8 July 2013

Prayer An Act Of Worship

Posted by Unknown on 01:55 with No comments
نماز - ایک عبادت

ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮈﯾﮍﮪ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮﻣﯿﮟ ﺭﮐﻮﻉ ﻭ ﺳﺠﻮﺩ، ﺍﺫﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﮨﻮﮔﺎﺗﻮ ﺑﭽﮧ ﻻﺷﻌﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺟﺰﻭ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﮔﺎ۔
ﻧﻤﺎﺯ ﺟﺘﻨﯽ ﺍﮨﻢ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮨﮯ، ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﯽ ﮔﺮﺍﮞ ﮔﺰﺭﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻭﮦﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﻣﺸﮑﻞ ﺗﺮﯾﻦ ﮐﺎﻡ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺏ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯﻧﻔﺲ ﭘﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﮔﺮﺍﮞ ﮔﺰﺭﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﯽﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔ "ﺑﮯ ﺷﮏ ﻧﻤﺎﺯ ﺑﮯ ﺣﯿﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﺘﯽ ﮨﮯ۔" ﻣﺮﺩﺣﻀﺮﺍﺕ ﺧﻮﺩ ﺑﺎﺟﻤﺎﻋﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮐﺮﯾﮟ، ﻟﮍﮐﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﻧﻨﮭﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ، ﺍﻧﺲ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻠﻖ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺑﭽﮧ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺷﻮﻕ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺴﺠﺪ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﮯﺣﺼﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﭘﺎﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺁﺭﺯﻭ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﻭﺍﻟﯿﺪﻥ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼﮨﮯ۔ ﺟﻮ ﺑﭽﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺁﺳﻮﺩﮔﯽ ﮐﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﭘﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺳﯽ ﮐﮯﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﯿﮟ۔ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧﺟﻮ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ، ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﻣﻠﯽ ﮨﯿﮟ، ﺍﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺰﯾﺪﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﺎﻧﮕﻨﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﮐﯽ ﻧﻨﮭﯽ ﻣﻨﯽ ﺁﺭﺯﻭﺋﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﻠﯿﻘﮧ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﮨﺮ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻣﺪﺩﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﮐﺎ، ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻗﺮﺑﺖ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺩﻻﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﻣﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽﺗﯿﻦ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﺎﺟﺎﺋﮯ۔ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﻌﻮﺭﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ، ﺭﭺ ﺑﺲ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﮐﻠﻤﺎﺕ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮯﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻠﻤﺎﺕ ﺗﺮﺟﻤﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﺎﺩ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﺍﻧﮩﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻭﺍﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﻟﮍﮐﮯ ﺗﻮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺭﮐﻮﻉ ﻭ ﺳﺠﻮﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯﻋﺎﺩﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﮐﺮﻭﺍﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺻﺮﻑ ﻓﺮﺽ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮈﺍﻟﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭﯾﮧ ﻓﺠﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮨﮯ۔ ﺑﭽﮧ ﭼﺎﮨﮯ ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﺳﻮ ﮐﺮ ﺍﭨﮭﮯ، ﺍﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯﮐﮧ ﺍﭨﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﮩﻼ ﮐﺎﻡ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺿﻮ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮭﺮ ﻧﺎﺷﺘﮧ۔۔۔۔ ﺻﺒﺢﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻻﺯﻣﯽ ﻣﻌﻤﻮﻻﺕ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﭘﮭﺮ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﻤﺎﺯ ﻓﺠﺮ ﮐﯽ ﻓﺮﺽ ﻭ ﺳﻨﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮐﺮﻭﺍﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮨﮯ۔ ﭼﻨﺪ ﻣﺎﮦ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮨﻮ۔ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺪﺭﯾﺞ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺭﮐﻌﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺑﮭﯽﭘﮩﻠﮯ ﺻﺮﻑ ﻓﺮﺍﺋﺾ، ﭘﮭﺮ ﺳﻨﺖ ﻣﻮﮐﺪﮦ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮐﺮﻭﺍﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﭼﺎﺭ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﺗﮏﻣﮑﻤﻞ ﺗﻮﺟﮧ، ﺷﻌﻮﺭ، ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ ﻭ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﯾﮧ ﻣﺤﻨﺖ ﺍﻧﺸﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧﮐﺒﮭﯽ ﺭﺍﺋﯿﮕﺎﮞ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ

Saturday, 6 July 2013

Heart دل

Posted by Unknown on 04:56 with No comments
دل

اس انسان سے بھی زیادہ عجیب وہ گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جو اس کی ایک رگ کے ساتھ آویزاں کردیاگیا ہے اور وہ دل ہے جس میں حکمت و دانائی کے ذخیرے ہیں اور اس کے برخلاف بھی صفتیں پائی جاتی ہیں اگر اسے امید کی جھلک نظر آتی ہے تو طمع اسے ذلت میں مبتلا کر تی ہے اور اگر طمع ابھرتی ہے تو اسے حرص تباہ وبرباد کردیتی ہے۔اگر ناامیدی اس پر چھا جاتی ہے تو حسرت و اندوہ اس کے لیے جان لیوا بن جاتے ہیں اور اگر غضب اس پر طاری ہوتا ہے تو غم و غصہ شدت اختیار کرلیتا ہے اور اگر خوش و خوشنود ہوتا ہے تو حفظ ماتقدم کو بھول جاتاہے اور اگر اچانک اس پر خوف طاری ہوتاہے تو فکر و اندیشہ دوسری قسم کے تصورات سے اسے روک دیتا ہے۔اگر امن امان کا دور دورہ ہوتا ہے تو غفلت اس پر قبضہ کرلیتی ہے اور اگر مال دولتمند ی اسے سرکش بنادیتی ہے اور اگر اس پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو بے تابی و بے قرار ی اسے رسوا کر دیتی ہے۔اور اگر فقر و فاقہ کی تکلیف میں مبتلا ہو۔تو مصیبت و ابتلاء اسے جکڑلیتی ہے اور اگر بھوک اس پر غلبہ کرتی ہے۔ ناتوانی اسے اٹھنے نہیں دیتی اور اگر شکم پری بڑھ جاتی ہے تو یہ شکم پری اس کے لیے کرب و اذیت کا باعث ہوتی ہے کوتاہی اس کے لیے نقصان رساں اور حد سے زیادتی اس کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔



حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام