Wednesday 6 March 2013


سانحہ عباس ٹاﺅن : آئی جی سندھ‘ ڈی آئی جی کراچی ایسٹ فارغ
کراچی (کرائم رپورٹر) سندھ پولیس کے سربراہ آئی جی پولیس سندھ فیاض لغاری اور ڈی آئی جی کراچی ایسٹ عبدالعلیم جعفری کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے اور انہوں نے عہدوں کا چارج چھوڑ دیا ہے۔ ایس ایس پی ایسٹ راﺅ انوار کو معطل کرکے سینٹر ل پولیس آفس میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق آئی جی پولیس سندھ فیاض لغاری اور ڈی آئی جی ایسٹ کراچی عبدالعلیم جعفری کی خدمات وفاق کے سپرد کی گئی ہیں۔ رفیق حسن بٹ نئے آئی جی سندھ ہونگے۔ باخبر ذرائع کے مطابق دونوں پولیس افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کی وجہ سانحہ عباس ٹاﺅن ہے جس پر چیف جسٹس آفس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے ازخود نوٹس لیا۔ ایس ایس پی ایسٹ راﺅ انوار کی معطلی کی وجہ عباس ٹاﺅن بم دھماکہ ہے۔ ایس پی گڈاپ جاوید اقبال بھٹی، ڈی ایس پی سہراب گوٹھ قمر احمد سچل تھانے کے انچارج اظہر اقبال کو بھی فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔کراچی (وقائع نگار + نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے سانحہ عباس ٹا¶ن ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے 8 مارچ کو وفاقی حکومت، وفاقی سیکرٹری داخلہ اور تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نمائندوں کو طلب کر لیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی سے رپورٹیں طلب کی ہیں۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جاری سماعت کے دوران سابق اٹارنی جنرل اور سینئر وکیل انور منصور خان نے عدالت کو بتایا کہ دوران وقفہ وزیر اعلیٰ سندھ سے بات ہوئی ہے، آئی جی اور ڈی آئی جی کی خدمات وفاقی حکومت کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان اختر سے کہا کہ رینجرز حکام امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ڈی جی رینجرز نے تسلیم کیا کہ عباس ٹا¶ن سے متعلق ان کے پاس عمومی معلومات تھی۔ عدالت نے ڈی جی رینجرز کو حکم دیا کہ 8 مارچ کو تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ عدالت نے چیف سیکرٹری کو حکم دیا کہ عباس ٹا¶ن علاقے کے ایس ایچ او سے سپرنٹنڈنٹ تک تمام افسروں کو معطل کر کے نوٹیفکیشن جاری کریں اور متاثرین کی فوری مدد کی جائے۔ آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی غلام شبیر شیخ اور ڈی آئی جی ایسٹ کے کردار سے متعلق تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں۔ ان افسروں سے متعلق فیصلہ سپریم کورٹ 8 مارچ کو کرے گی۔ اس سے قبل چیف جسٹس افتخار چودھری نے ایس ایس پی ملیر را¶ انوار کو معطل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت ناکام ہو چکی ہے، آئی جی سندھ کی خراب کارکردگی کے باوجود صوبائی حکومت نے انہیں کیوں گلے لگا رکھا ہے، انہیں خود عہدے سے ہٹ جانا چاہئے تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو احساس ہوتا تو کارروائی کرتے یا آئی جی کو شرم ہوتی تو وہ خود عہدے سے ہٹ جاتے۔ انہوں نے عدالت سے بحث کرنے پر ایس ایس پی ملیر را¶ انوار کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جو ایس ایس پی بکتربند گاڑی میں گھومتا ہو وہ عوام کو کیسے تحفظ دے سکتا ہے۔ عدالت نے سابق اٹارنی جنرل اور سینئر وکیل انور منصور خان سے کہا کہ اگر اکتوبر کے فیصلے میں حکومت سندھ تحلیل کر دیتے تو سب ٹھیک ہو جاتا۔ این این آئی کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سانحہ عباس ٹا¶ن کی ذمہ داری پولیس اور رینجرز دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ غفلت اور لاپروائی برتنے والے ایک بھی افسر کو ابھی تک شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ حکومت کی مجرمانہ غفلت سے تمام پولیس افسر آج بھی موجود ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ رینجرز حکام امن و امان کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ڈی جی رینجرز نے تسلیم کیا ہے کہ عباس ٹاﺅن سے متعلق ان کے پاس عمومی معلومات ہیں، ڈی جی رینجرز نے کہا کہ لوگوں میں اشتعال تھا اس لئے رینجرز موقع پر نہ پہنچ سکی۔ عدالت نے کہا کہ 1995ءسے رینجرز کراچی میں ہے، 2011ءسے اس کے پاس پولیس کے اختیارات ہیں۔ رینجرز کی 11 ہزار نفری کے باوجود بظاہر لگتا ہے کہ رینجرز ناکام ہوئی۔ رینجرز 8 مارچ کو تفصیلی رپورٹ کرے۔ سانحہ عباس ٹاﺅن کے متاثرین کی فوری مدد کی جائے۔ عباس ٹاﺅن کے ایس ایچ او سے سپرنٹنڈنٹ تک تمام افسروں کو معطل کیا جائے۔ چیف سیکرٹری تمام افسروں کو معطل کر کے نوٹیفکیشن جاری کریں۔ آئی جی ایڈیشنل آئی جی غلام شبیر ڈی آئی جی ایسٹ کے کردار سے متعلق تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں۔ ان افسرو ں سے متعلق فیصلہ سپریم کورٹ 8 مارچ کو کرے گی۔ غفلت کرنے پر کسی رینجرز اہلکار یا افسر کے خلاف کارروائی نہیںکی گئی۔ ڈی جی رینجرز کہتے ہیں انہوں نے کسی افسر کے خلاف کارروائی کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ کراچی بد امنی کےس کے فیصلے کے باوجود صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے، ان حالات کے باوجود صوبائی حکومت کے سوا کوئی ذمہ دار نہیں۔ شہر کے داخلی راستوں پر اگر رینجرز کا کنٹرول ہو تو اسلحہ اور دہشت گرد داخل نہیں ہو سکتے۔ 11 ہزار رینجرز اہلکار ذمہ داری ادا کرتے تو شہر میں ایک گولی بھی داخل نہ ہوتی۔ چیف جسٹس نے ڈی جی رینجرز سے کہا کہ آپ کراچی کے بارڈر سیل کیوں نہیں کرتے؟ ڈی جی رینجرز نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اتنی استعداد نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں آپریشن کلین اپ کرکے اسلحہ سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر عزم ہو تو سہراب گوٹھ سے لیکر پورے شہر کو صاف کر چکے ہوتے۔ حکومتی وکیل انور منصور سے مکالمہ میں چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے فیصلہ دیا تھا کہ آپ خود عمل کریں لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ اگر ہم اکتوبر کے فیصلے میں حکومت تحلیل کر دیتے تو سب ٹھیک ہو جاتا۔ اگر حکومت امن و امان میں سنجیدہ ہوتی تو آئی جی اور دیگر افسروں کو معطل کر دیتی۔ سرفراز شاہ کیس میں بھی آئی جی سندھ کے خلاف احکامات جاری کئے گئے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نجی ٹی وی کے اینکر پرسن نے ہماری آنکھیں کھول دیں اگر ان کے ذریعے معلومات نہ ملتیں تو آج ہم یہاں نہ بیٹھے ہوئے، کراچی میں حالات بہت خراب ہیں روز 10 سے 15 نعشیں گرتی ہیں۔ انور منصور خان نے کہا کہ جمہوری عمل کا تسلسل ضروری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جمہوریت کا یہ مطلب ہے کہ عوام کو تحفظ اور حقوق دئیے جائیں ہم آج واضح احکامات دے کر جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا احترام کرتے ہیں وہ بیچارے کچھ جانتے ہی نہیں رینجرز کے پاس تفتیش کے علاوہ تمام اختیارات ہیں۔ جھوٹ بولنے کا زمانہ چلا گیا، عدالت کے سامنے سچ بولا کریں آخر کیا وجہ ہے کہ آئی جی سندھ کو آپ کی حکومت گلے لگا کر بیٹھی ہے۔ یہ معاملہ سچ ہے یا جھوٹ وقت بتائے گا جو ملزم پکڑے گئے لگتا ہے کہ وہ پہلے سے پکڑ رکھے تھے، لگتا ہے آئی جی سندھ اور دیگر پولیس افسروں کیخلاف کیس درج کرانا پڑے گا۔ اتنا بڑا سانحہ ہوا حکومت سندھ میں اتنا دم بھی نہیں کہ آئی جی سندھ کو فارغ کرے۔ قاتلوں کو سزا دیتے ہوئے ہمارے ہاتھ نہیں کانپتے آپ بھی ذمہ داری ادا کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کوشش کی جارہی ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات برپا کئے جائیں۔ فسادات کرانے کیلئے شیعہ اور سنی دونوں کو مارا گیا۔ ڈی جی رینجرز مےجر جنرل رضوان عدالت میں پیش ہوئے۔ ایس ایس پی راﺅ انوار نے کہا کہ ہم نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کیں مجھ پر خودکش حملہ ہوا ہمارے نام دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سب کے نام ہٹ لسٹ پر ہیں لسٹیں نہ بتائیں۔ آپ اتنے قابل افسر ہیں تو آپ کو وانا بھیج دیتے۔ آپ بکتربند گاڑی کے بغیر چل نہیں سکتے لوگوں کو خاک تحفظ دیں گے جو افسر خود عوام میں نہیں جا سکتا آخر اسے عہدے پر کیوں رکھا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے کہا کہ عدالتی فیصلے کے باوجود سارے افسر موجود ہیں۔ حکومت کی مجرمانہ غفلت واضح ہے آپ کہتے ہیں ایک موقع اور دیں کیا خدانخواستہ 50 لوگ اور مار دئیے جائیں۔ ہمیں بتائیں پولیس کو غیر سیاسی کرنے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے۔ کراچی میں دہشت گردی کی جنگ کا مسئلہ نہیں، بڑے مسائل ہیں۔ سارے واقعات کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مت ڈالا کریں، ہمیں بتائیں پولیس کو غیر سیاسی کرنے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے؟ غلام قادر جتوئی ایڈووکیٹ نے کہا کہ اللہ کے بعد سپریم کورٹ سے ہی قوم کو امیدیں ہیں۔ اتنی بے حسی ہے کہ واقعہ کے وقت سارے وزرا اور اعلیٰ حکام شرمیلا فاروقی کی منگنی میں شریک تھے ہم تو گھر سے کفن پہن کر نکلتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی کا معاملہ ملک کے دیگر علاقوں سے مختلف ہے یہ ہمیں بھی کچھ کرنے نہیں دیتے عدالتی فیصلہ دے چکے پھر بھی ڈھٹائی سے بیٹھے رہے۔ اے جی سندھ نے بتایا کہ سانحہ عباس ٹاﺅن میں اقرا سٹی میں 32 فلیٹ اور 16 دکانیں تباہ ہوئیں۔ رابعہ فلاور سٹی میں 36 فلیٹ اور 15 دکانیں تباہ ہوئیں، دھماکے میں 50 افراد جاںبحق اور 139 زخمی ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا نے جو رپورٹس دیں وہ آئی جی سندھ کی رپورٹس سے زیادہ جامع ہیں۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ عوام کے ٹیکسوں کی قیمت پر عہدوں پر قائم رہیں مگر ان کے تحفظ کے لئے کچھ نہ کریں۔ دھماکے میں مارے جانے و الے اور دہشت گردوں کا نشانہ بننے والے کوئی غیر ملکی نہیں وہ ہمارا اپنا خون ہیں، وہ ہماری تنخواہوں کے لئے ٹیکس ادا کرتے ہیں، ایک عام شہری کی زندگی ان افسروں سے زیادہ اہم ہے، انہوں نے کہا کہ وہ آرٹیکل 9 کے تحت عام آدمی کا تحفظ یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ ڈی جی رینجرز نے بتایا کہ رات کو آپریشن کر کے دھماکے کے شبہ میں 59 افراد گرفتار کئے تھے۔

0 comments:

Post a Comment