سیلولر سروسز کی معطلی،عملی طور پر پاکستان میں ایجاد کیا گیا ہے اور پاکستان میں ہی اس کی مشق بھی کی گئی ہے،کا یہ سلسلہ آج امریکہ میں دیکھا گیا جب میراتھن دوڑ کے دوران بم گرایا گیا۔
اس سے قبل کی رپورٹوں کی تجویز ہے کہ مقامی پولیس نے سیلولر سروسز بند کرنے کا حکم دیا تھا اس خوف سے کہ سیلولر سروسز کا استعمال کرتے ہوئے مزید بم متہرک کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، سیلولر کمپنیوں نے بعد میں بتایا ایمرجنسی کے دوران نیٹ ورک کا ضرورت سے زیادہ ٹریفک کی وجہ سے دم گھٹ گیا تھا اور ان تک نیٹ ورک کو بند کرنے کے کوئی احکامات نہیں پہنچے۔
بہر حال بات جو بھی ہو،میڈیا رپورٹس نے تصدیق کی ہے کہ آج سیلولر سروسز بوسٹن میں مختصر طور پر دستیاب نہیں ہیں،جس کی وجہ سے علاقے میں سنگین مواصلاتی خلل کا سامنا ہے۔
اور بھی بہت سی مثالیں دستیاب ہیں جب سیلولر نیٹ ورک کو امریکہ میں بند کیا گیا ہے۔
امریکہ میں سیلولر ٹیلی کمیونیکیشن کی معطلی کا اختیار پروٹوکول سٹینڈرڈ آپریٹنگ 303 ضابطے کے تحت نیشنل کوآرڈینیٹنگ سینٹر فار ٹیلی کمیونیکیشن کے پاس ہے جو حالات بیان کرتا ہے کہ کب سیلولر سروسز بند کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
ایف سی سی نے آج کے واقعے کے بعد کہا کہ ،سیلولر نیٹ ورک کے ذریعے بموں کو متحرک کیا جا سکتا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ سروسز بموں کے خطرات کے پیش نظر بند رہیں گی یا نہیں۔
امریکی میڈیا، المناک بوسٹن بمباری پر رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ، سیلولر معطلی کی قانونی حیثیت پر بحث کر رہا ہے۔ وہ اسی مواصلاتی چینلز کے ذریعے بم انفجار کے خدشات کے ساتھ ساتھ ہنگامی صورت حال میں سیلولر سروسز کے فوائد بیان کر رہے ہیں۔
بوسٹن بمباری نے دنیا میں بحث مچا دی ہے جہاں حکام ہنگامی حالات کے دوران بہتر سیلولر نیٹ ورک کی معطلی کے طریقہ کار وضع کرنے کے لئے زور دے رہے ہیں۔
0 comments:
Post a Comment