ایک
روز رحمتے اور اس کی ماں ساتھ والے گاوں میں شادی پر گیئں ۔۔۔۔ موچی اللہ
بخش کی بیوی اور بیٹی تانگے پر سوار ہوگئیں۔ تانگہ ابھی گاوں کی کچی
سڑک پر دھول اڑا رہا تھا ۔۔۔ کہ رحمتے اپنے پیچھے آتے ہوئے کو دیکھ کر اس کے دل کی دھڑکن اتنی تیز ہو گی کہ وہ اپنا سکھ چین جاتا رہا ۔۔۔۔ سایکل
چلاتے ہوئے ماسٹر کی نظریں اسکی نظروں سے ٹکرائیں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماسٹر
بھی بھول گیا کہ گاوں میں اسکی کتنی عزت اور
کیسا وقار ہے ۔۔۔لوگ اس کی شرافت کی مشالیں دیتے ہیں ۔۔۔وہ تو یکدم اپنے
ہاتھ سے نکل گیا ۔۔۔۔ رحمتے کو کیا دیکھا ۔۔۔۔ جسے اس کی نیندیں حرام ہو
گئی ساری رات جاگتا رہا ۔۔۔۔ کیا میں اسی کی تلاش میں تھا ۔۔۔۔
یہاں کہانی روک جاتی ہے دادی کو چپ لگ جاتی تھی ۔ یوں کئی بار ہوا تھا ۔ اور آج بھی میں مایوس ہو کر اٹھنے والی تھی ۔
مجھے نہیں سنی کہانی ماسٹر اور رحمتے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے انتہائی کڑوے لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔۔ اور دادی کی پائتی سے اٹھ کر ناراض قدموں سے نکلنے لگی تھی ۔ جب دادی کی مدہم آواز نے میرے قدم روک لے
وہ رات ماسٹر نے جاگ کر گزاری ۔ آنکھیں بند کرتا ۔ تو سامنے رحمتے کا چہرہ آ جاتا میں سرشاری کی کیفیت میں دادی کی پیروں میں بستر پر ہی بیٹھ گئی ۔ دادی نے کروٹ نہیں بدلی ۔ منہ دیوار کی طرف کیے بولتی رہی
اگلے روز نکاح کے رجسٹر پر گواہوں کے خانے میں دسخط کرتے ہوئے ماسٹر نے دروازے میں کھڑی رحمتے کو دیکھا ۔۔۔۔ اس کا پراندہ اس کی کمر سے لپٹ رہا تھا ۔۔۔ ماسٹر کا دسخط کرتا ہاتھ روک گیا ۔۔۔۔ اور شاہد دل کی دھڑکن بھی ۔ وہ ٹکٹکی باندھے رحمتے کو دیکھے جا رہا تھا ۔۔۔۔اور وہ رحمتے بھی پلکیں جھپکنا بھول گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے خواب میں جیسے دیکھا تھا ۔ وہ آج اس کے سامنے اپنے خوبصورت وجود کے ساتھ موجود ۔۔۔۔۔۔۔دونوں اس آگ کی تپش کو باخوبی محسوس کر رہے تھے۔۔۔ جو ان دونوں کو اندر سے جلا رہی تھی۔
؛؛رحمتے بہت خوب صورت تھی ۔ میں نے ہولے سے پوچھا،
دادی نے میری بات کا جواب نہیں دیا ۔۔۔۔۔کچھ دیر سکوت رہا پھر کہانی ایک نئے موڑ پرآا گئی
ماسٹر اور رحمتے کنویں کی مندر پر پہلی بار ملے ۔۔۔۔۔ اور جیون بھر ساتھ نبھانے کی قسمیں کھا بیٹھے ۔۔۔۔
؛؛رحمتے تم نہیں جانتی ۔ کہ تم نے مجھ پر کیسا جادو کر دیا ہے کسی کل چین نہیں ۔۔۔ اب تو دل کرتا ہے کہ تم سامنے بیھٹی رہو ۔۔۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔۔۔اور میں تو موت بھی تمھاری باہہوں میں چاہوں گا ،،
؛؛اللہ نا کرئے کیسی باتیں کر رہو ہو ۔۔۔۔۔۔۔ میری عمر بھی آپ کو لگ جائے۔،،
؛؛رحمتے کو ماسٹر کی بیوی اور بچوں پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا ،،۔۔ماسٹر شادی شدہ تھا ۔۔۔۔ بیوی بچوں والا ؟ میں نے حیرت کے ساتھ پوچھا ۔
میری حیرت کا بھی کوئی جواب نہیں دادی اسی رو میں بولتی چلی گئی
؛؛ماسٹر رحمتے کے عشق میں سب کچھ بھول گیا۔۔۔ ؛؛یاد تھی تو بس رحمتے،، ۔۔۔ اس کے علاوہ کسی اور سے نا غرض تھا اور ناہی واسطہ
اس نے وعدہ کیا کہ وہ بہت جلد رحمتے کا رشتہ مانگنے اس کے گھر آئے گا ۔۔ رحمتے اور اس کی ماں اگلی شام اپنے گاوں کو واپس چلے گئے ۔ تو انکے پیچھے پیچھے ایک سایکل سوار سایکل کے پیڈل مارتا ہوا گاوں کے آخری کھیت تک آیا ۔۔۔۔ جدائی کا درد اس کے چہرے سے صاف دیکھائی دے رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن رحمتے بھی کم اداس نہیں تھی ۔ لیکن دوبارہ ملنے کی خوشی ایک ہونے کی امید دونوں کو حوصلہ دے رہی تھی۔
؛؛ماسٹر مجھ سے رہا نا گیا ،،
ہاں ماسٹر،، ۔۔۔ دادی نے کہا مگر رحمتے کو شام اپنے ٓگھر موچی اللہ بخش کے وہیڑے آنا نصیب نہیں ہوا ۔۔۔ گاوں سے کچھ دور ہی گھات لگائے بیھٹے نے ماسٹر اور رحمتے کو ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا ۔ کوچوان اور رحمتے کی ماں کو صبح سویرے لوگوں نے کھیتوں سے اٹھایا ۔۔۔۔جو ساری رات وہاں بےہوش پڑے تھے ۔۔۔دونوں کو سر پر چھوٹیں آئی ہوئی تھی ۔ لیکن رحمتے کی کوئی خبر نہیں تھی ۔ اسے زمین کھا گئی یا آسمان
،،وہ کہاں گئی دادی ۔۔،،۔۔ اسے کون لے گیا ۔۔۔۔ مجھے عجیب سے بے چینی ہو رہی تھی ۔ میں بے حد مضطرب تھی۔
؛؛پتا نہیں ،،، کوئی نہیں جانتا ۔۔۔ اس کے باپ بھائیوں نے بہت تلاش کیا ۔۔۔ مگر وہ نہیں ملی ۔۔۔ کوئی کہتا ، جن عاشق ہو گیا ہو گا ۔۔۔۔ وہ اٹھا کر لے گیا ۔۔۔۔ کوئی کہتا کوئی چیڑیل نے مار دیا ہو گا ۔۔۔۔ کیونکہ جب کوئی چیڑیل کسی انسان کو قتل کرتی ہے ۔۔۔ تو اس کا نام و نشان نہیں ملتا ۔ جتنا منہ اتنی باتیں ،
اور ماسٹر ،، مجھے بہت ترس آ رہا تھا ۔۔۔ ماسٹر پر
وہ تو ہوش کھو بیٹھا ۔۔۔ اپنے حواس میں نا رہا ۔۔۔۔ دادی نے ایک لمبا سانس لیا ۔۔ جیسے اسے بھی بہت دکھ پہنچا ہو۔۔۔۔۔
پاگل ہو گیا ۔۔۔۔ دادی
،،پاگل تو وہ رحمتے کو پہلی بار دیکھ کر ہی ہو گیا تھا،، ۔۔۔۔ جب وہ چلی گئی تو ماسٹر بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ۔ لوگ کہتے آسیب ہے ۔ کوئی کہتا ۔ مرگی کے دورے پڑتے ہین ۔ ماسٹر کی بیوی تھوڑی بہت پڑھی لکھی تھی ۔۔۔۔ اس نے ماسٹر کا خوب علاج کروایا ۔۔۔۔ وہ سنمبھل تو گیا ۔۔۔۔ مگر اسکے اندر ایک تلاطم تھا ۔ جو اس کو سکون نہیں لینے دیتا تھا ۔۔۔ اور سکون ملتا بھی کیسے ۔۔۔۔ اس کی جان اس کی عزیز ترین ہستی گم ہو گئی تھی’۔۔۔ رات دن بے چین روح کی طرح پھرتا رہتا ۔۔۔۔ پھر ایک رات سنا کہ رحمتے ماسٹر کے خواب میں آئی ہے
؛؛خواب میں ۔۔۔ اچھا پھر کیا ہوا ،، میرے اندر ایک عجیب سی ہلچل مچی ہوئی تھی
،،ہاں ۔۔ اس نے ماسٹر سے کہا میری قبر کی مٹی بھی خشک ہو گئی ہے ۔۔۔مگر تم نہیں آئے،، ۔۔۔بھول گے اپنے وعدے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں میں تمھارے انتطار میں ہوں ۔ میری قبر پر پھول نہیں ڈالو گے ۔
،، یہ دو مہینے بعد کی بات ہے ۔۔۔۔ اگلے دن ماسٹر پھول لے کر قبرستان گیا ،،پھول لے کر قبرستان
،،ماسٹر کو کیا پتا تھا کہ رحمتے کی قبر کون سی ہے ،، میں بہت اضطراب میں تھی
اسے نہیں پتا تھا ۔ لیکن ایک یقین تھا ، بہت سی قبروں کے درمیاں ایک قبر پر بہت سے پھول پڑے تھے ۔۔۔۔ جو بالکل تازہ تھے ۔۔خوشبو دور تک پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔ قبروں کی مٹی برابر کرتے ہوئے ایک لڑکے نے بتایا ۔۔۔ہم نہیں جانتے یہ کس کی قبر ہے ، مگر یہاں کوئی بزرگ ۔ اللہ والا ۔ دفن ہے ۔جس کی قبر سے ہر وقت خوشبو آتی ہے ۔اور قبر پر تازہ پھول پڑے رہتے ہیں ۔لوگ دور دور سے اپنی مرادیں مانگنے آتے ہیں ۔اور خالی نہیں جاتے ۔
آ گے ہو ؟ کیا مراد ہے تمھاری ؟ ماسٹر کے کانوں میں رحمتے کی سرگوشی گونجی ۔۔۔ اور اس نے وہ پھول اس قبر پر رکھ دیے ۔۔اس کی مراد پوری ہو گئی تھی ۔ وہ جس سے ملنے آیا تھا ۔ اس سے ملاقات ہو گی
،،دادی آپ ماسٹر کو جانتی ہیں ۔۔۔ اس سے ملی ہیں کبھی ۔ میں نے لرزتا ہوا ہاتھ دادی کے بازو پر رکھ دیا ،،
،،آخری بار اس سے تب ملی تھی جب وہ رحمتے سے ملا تھا ۔۔۔۔ دادی کی آواز میں کوئی انجانا دکھ شامل ہو گیا تھا۔
اور پہلی بار ؟،،
اپنے باپ کو مت بتانا ۔۔۔ رحمتے کی قبر پر ڈالنے والے پھول میں نے ہی ماسٹر صاحب کو دے کر بھیجے تھے
میں لرزتا کانپتا بدن لے کر دادی کی پاینتی سے اٹھ آئی ۔۔۔۔ میرے آنسو میرے ضبط سے باہر تھے ۔ اور میں جانتی تھی دیوار کی طرف کروٹ لیتی دادی کا چہرہ بھی پانی میں تر تھا ۔۔۔ پانی ، جو اس کی آنکھوں سے چشمیے کی طرح بہہ نکالا تھا ۔۔۔۔ مجھے پتا تھا ۔ کہ پہلی بار وہ ماسٹر صاحب سے کب ملی تھی ۔ گاوں کی عورت سہاگ رات ہی اپنے مرد کو پہلی بار دیکھتی ہے
یہاں کہانی روک جاتی ہے دادی کو چپ لگ جاتی تھی ۔ یوں کئی بار ہوا تھا ۔ اور آج بھی میں مایوس ہو کر اٹھنے والی تھی ۔
مجھے نہیں سنی کہانی ماسٹر اور رحمتے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے انتہائی کڑوے لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔۔ اور دادی کی پائتی سے اٹھ کر ناراض قدموں سے نکلنے لگی تھی ۔ جب دادی کی مدہم آواز نے میرے قدم روک لے
وہ رات ماسٹر نے جاگ کر گزاری ۔ آنکھیں بند کرتا ۔ تو سامنے رحمتے کا چہرہ آ جاتا میں سرشاری کی کیفیت میں دادی کی پیروں میں بستر پر ہی بیٹھ گئی ۔ دادی نے کروٹ نہیں بدلی ۔ منہ دیوار کی طرف کیے بولتی رہی
اگلے روز نکاح کے رجسٹر پر گواہوں کے خانے میں دسخط کرتے ہوئے ماسٹر نے دروازے میں کھڑی رحمتے کو دیکھا ۔۔۔۔ اس کا پراندہ اس کی کمر سے لپٹ رہا تھا ۔۔۔ ماسٹر کا دسخط کرتا ہاتھ روک گیا ۔۔۔۔ اور شاہد دل کی دھڑکن بھی ۔ وہ ٹکٹکی باندھے رحمتے کو دیکھے جا رہا تھا ۔۔۔۔اور وہ رحمتے بھی پلکیں جھپکنا بھول گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے خواب میں جیسے دیکھا تھا ۔ وہ آج اس کے سامنے اپنے خوبصورت وجود کے ساتھ موجود ۔۔۔۔۔۔۔دونوں اس آگ کی تپش کو باخوبی محسوس کر رہے تھے۔۔۔ جو ان دونوں کو اندر سے جلا رہی تھی۔
؛؛رحمتے بہت خوب صورت تھی ۔ میں نے ہولے سے پوچھا،
دادی نے میری بات کا جواب نہیں دیا ۔۔۔۔۔کچھ دیر سکوت رہا پھر کہانی ایک نئے موڑ پرآا گئی
ماسٹر اور رحمتے کنویں کی مندر پر پہلی بار ملے ۔۔۔۔۔ اور جیون بھر ساتھ نبھانے کی قسمیں کھا بیٹھے ۔۔۔۔
؛؛رحمتے تم نہیں جانتی ۔ کہ تم نے مجھ پر کیسا جادو کر دیا ہے کسی کل چین نہیں ۔۔۔ اب تو دل کرتا ہے کہ تم سامنے بیھٹی رہو ۔۔۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔۔۔اور میں تو موت بھی تمھاری باہہوں میں چاہوں گا ،،
؛؛اللہ نا کرئے کیسی باتیں کر رہو ہو ۔۔۔۔۔۔۔ میری عمر بھی آپ کو لگ جائے۔،،
؛؛رحمتے کو ماسٹر کی بیوی اور بچوں پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا ،،۔۔ماسٹر شادی شدہ تھا ۔۔۔۔ بیوی بچوں والا ؟ میں نے حیرت کے ساتھ پوچھا ۔
میری حیرت کا بھی کوئی جواب نہیں دادی اسی رو میں بولتی چلی گئی
؛؛ماسٹر رحمتے کے عشق میں سب کچھ بھول گیا۔۔۔ ؛؛یاد تھی تو بس رحمتے،، ۔۔۔ اس کے علاوہ کسی اور سے نا غرض تھا اور ناہی واسطہ
اس نے وعدہ کیا کہ وہ بہت جلد رحمتے کا رشتہ مانگنے اس کے گھر آئے گا ۔۔ رحمتے اور اس کی ماں اگلی شام اپنے گاوں کو واپس چلے گئے ۔ تو انکے پیچھے پیچھے ایک سایکل سوار سایکل کے پیڈل مارتا ہوا گاوں کے آخری کھیت تک آیا ۔۔۔۔ جدائی کا درد اس کے چہرے سے صاف دیکھائی دے رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن رحمتے بھی کم اداس نہیں تھی ۔ لیکن دوبارہ ملنے کی خوشی ایک ہونے کی امید دونوں کو حوصلہ دے رہی تھی۔
؛؛ماسٹر مجھ سے رہا نا گیا ،،
ہاں ماسٹر،، ۔۔۔ دادی نے کہا مگر رحمتے کو شام اپنے ٓگھر موچی اللہ بخش کے وہیڑے آنا نصیب نہیں ہوا ۔۔۔ گاوں سے کچھ دور ہی گھات لگائے بیھٹے نے ماسٹر اور رحمتے کو ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا ۔ کوچوان اور رحمتے کی ماں کو صبح سویرے لوگوں نے کھیتوں سے اٹھایا ۔۔۔۔جو ساری رات وہاں بےہوش پڑے تھے ۔۔۔دونوں کو سر پر چھوٹیں آئی ہوئی تھی ۔ لیکن رحمتے کی کوئی خبر نہیں تھی ۔ اسے زمین کھا گئی یا آسمان
،،وہ کہاں گئی دادی ۔۔،،۔۔ اسے کون لے گیا ۔۔۔۔ مجھے عجیب سے بے چینی ہو رہی تھی ۔ میں بے حد مضطرب تھی۔
؛؛پتا نہیں ،،، کوئی نہیں جانتا ۔۔۔ اس کے باپ بھائیوں نے بہت تلاش کیا ۔۔۔ مگر وہ نہیں ملی ۔۔۔ کوئی کہتا ، جن عاشق ہو گیا ہو گا ۔۔۔۔ وہ اٹھا کر لے گیا ۔۔۔۔ کوئی کہتا کوئی چیڑیل نے مار دیا ہو گا ۔۔۔۔ کیونکہ جب کوئی چیڑیل کسی انسان کو قتل کرتی ہے ۔۔۔ تو اس کا نام و نشان نہیں ملتا ۔ جتنا منہ اتنی باتیں ،
اور ماسٹر ،، مجھے بہت ترس آ رہا تھا ۔۔۔ ماسٹر پر
وہ تو ہوش کھو بیٹھا ۔۔۔ اپنے حواس میں نا رہا ۔۔۔۔ دادی نے ایک لمبا سانس لیا ۔۔ جیسے اسے بھی بہت دکھ پہنچا ہو۔۔۔۔۔
پاگل ہو گیا ۔۔۔۔ دادی
،،پاگل تو وہ رحمتے کو پہلی بار دیکھ کر ہی ہو گیا تھا،، ۔۔۔۔ جب وہ چلی گئی تو ماسٹر بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ۔ لوگ کہتے آسیب ہے ۔ کوئی کہتا ۔ مرگی کے دورے پڑتے ہین ۔ ماسٹر کی بیوی تھوڑی بہت پڑھی لکھی تھی ۔۔۔۔ اس نے ماسٹر کا خوب علاج کروایا ۔۔۔۔ وہ سنمبھل تو گیا ۔۔۔۔ مگر اسکے اندر ایک تلاطم تھا ۔ جو اس کو سکون نہیں لینے دیتا تھا ۔۔۔ اور سکون ملتا بھی کیسے ۔۔۔۔ اس کی جان اس کی عزیز ترین ہستی گم ہو گئی تھی’۔۔۔ رات دن بے چین روح کی طرح پھرتا رہتا ۔۔۔۔ پھر ایک رات سنا کہ رحمتے ماسٹر کے خواب میں آئی ہے
؛؛خواب میں ۔۔۔ اچھا پھر کیا ہوا ،، میرے اندر ایک عجیب سی ہلچل مچی ہوئی تھی
،،ہاں ۔۔ اس نے ماسٹر سے کہا میری قبر کی مٹی بھی خشک ہو گئی ہے ۔۔۔مگر تم نہیں آئے،، ۔۔۔بھول گے اپنے وعدے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں میں تمھارے انتطار میں ہوں ۔ میری قبر پر پھول نہیں ڈالو گے ۔
،، یہ دو مہینے بعد کی بات ہے ۔۔۔۔ اگلے دن ماسٹر پھول لے کر قبرستان گیا ،،پھول لے کر قبرستان
،،ماسٹر کو کیا پتا تھا کہ رحمتے کی قبر کون سی ہے ،، میں بہت اضطراب میں تھی
اسے نہیں پتا تھا ۔ لیکن ایک یقین تھا ، بہت سی قبروں کے درمیاں ایک قبر پر بہت سے پھول پڑے تھے ۔۔۔۔ جو بالکل تازہ تھے ۔۔خوشبو دور تک پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔ قبروں کی مٹی برابر کرتے ہوئے ایک لڑکے نے بتایا ۔۔۔ہم نہیں جانتے یہ کس کی قبر ہے ، مگر یہاں کوئی بزرگ ۔ اللہ والا ۔ دفن ہے ۔جس کی قبر سے ہر وقت خوشبو آتی ہے ۔اور قبر پر تازہ پھول پڑے رہتے ہیں ۔لوگ دور دور سے اپنی مرادیں مانگنے آتے ہیں ۔اور خالی نہیں جاتے ۔
آ گے ہو ؟ کیا مراد ہے تمھاری ؟ ماسٹر کے کانوں میں رحمتے کی سرگوشی گونجی ۔۔۔ اور اس نے وہ پھول اس قبر پر رکھ دیے ۔۔اس کی مراد پوری ہو گئی تھی ۔ وہ جس سے ملنے آیا تھا ۔ اس سے ملاقات ہو گی
،،دادی آپ ماسٹر کو جانتی ہیں ۔۔۔ اس سے ملی ہیں کبھی ۔ میں نے لرزتا ہوا ہاتھ دادی کے بازو پر رکھ دیا ،،
،،آخری بار اس سے تب ملی تھی جب وہ رحمتے سے ملا تھا ۔۔۔۔ دادی کی آواز میں کوئی انجانا دکھ شامل ہو گیا تھا۔
اور پہلی بار ؟،،
اپنے باپ کو مت بتانا ۔۔۔ رحمتے کی قبر پر ڈالنے والے پھول میں نے ہی ماسٹر صاحب کو دے کر بھیجے تھے
میں لرزتا کانپتا بدن لے کر دادی کی پاینتی سے اٹھ آئی ۔۔۔۔ میرے آنسو میرے ضبط سے باہر تھے ۔ اور میں جانتی تھی دیوار کی طرف کروٹ لیتی دادی کا چہرہ بھی پانی میں تر تھا ۔۔۔ پانی ، جو اس کی آنکھوں سے چشمیے کی طرح بہہ نکالا تھا ۔۔۔۔ مجھے پتا تھا ۔ کہ پہلی بار وہ ماسٹر صاحب سے کب ملی تھی ۔ گاوں کی عورت سہاگ رات ہی اپنے مرد کو پہلی بار دیکھتی ہے
0 comments:
Post a Comment