Wednesday, 14 August 2013

ہجرت کا تیسرا سال

ایک انصاری عورت کا صبر

ایک انصاری عورت جس کا شوہر، باپ، بھائی سبھی اس جنگ میں شہید ہو چکے تھے تینوں کی شہادت کی خبر باری باری سے لوگوں نے اُسے دی مگر وہ ہر بار یہی پوچھتی رہی یہ بتاؤ کہ رسول ﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کیسے ہیں؟ جب لوگوں نے اس کو بتایا کہ الحمد ﷲ وہ زندہ اور سلامت ہیں تو بے اختیار اس کی زبان سے اس شعر کا مضمون نکل پڑا کہ

تسلی ہے پناہ بے کساں زندہ سلامت ہے

کوئی پروا نہیں سارا جہاں زندہ سلامت ہے


اللہ اکبر! اس شیردل عورت کے صبرو ایثار کا کیا کہنا؟ شوہر، باپ، بھائی، تینوں کے قتل سے دل پر صدمات کے تین تین پہاڑ گر پڑے ہیں مگر پھر بھی زبان حال سے اس کا یہی نعرہ ہے کہ ؎

میں بھی اور باپ بھی، شوہر بھی، برادر بھی فدا

اے شہ دیں! ترے ہوتے ہوئے کیا چیز ہیں ہم


(طبری ص۱۴۲۵)

0 comments:

Post a Comment