Showing posts with label Asthma. Show all posts
Showing posts with label Asthma. Show all posts

Monday, 1 July 2013

Treatment of Asthma

Posted by Unknown on 04:08 with No comments

دمہ کا علاج

وہ دودھ جو بچہ جننے کے بعد گائے پہلی بار دے اسے تازہ حالت میں کہ اس کی حرارت بھی ابھی ختم نہ ہوئی ہو اچھی طرح پیٹ بھر پی لینے سے دمہ ختم ہوجاتا ہے

اگر بلغمی دمہ ہوتو مٹی کے برتن میں ایک پاؤ گندم جلاکر کوئلہ بنالیں ۔ پھر اس میں آدھ پاؤ ہلدی ملالیں جو باریک پسی ہوئی ہو ۔ گندم کو اس کے ہمراہ باریک پیس لیں ۔ دس پندرہ روز چھ گرام روز کھلاتے رہیں شفا حاصل ہوگی ۔

Friday, 24 May 2013


لندن… برطانوی تحقیق کے مطابق دمے کے مرض سے بچنے کے لیے وٹامن ڈی سے بھرپوراشیاکااستعمال فائدہ مند ہوتا ہے۔ کنگز کالج لندن کے سائنسدانوں کے مطابق وٹامن ڈی کا استعمال دمے کے مریضوں کیلئے مفیدہوتاہے جس کے ذریعے انھیں سانس لینے میں آسانی ہوتی ہے۔ صرف یہی نہیں وٹامن ڈی دمے کی علامات میں کمی کا باعث بھی بنتاہے۔ سائنسدانوں کاکہناہے کہ جلد ہی دمے کے مریض ادویات کے ساتھ سپلیمنٹس بھی استعمال کرسکیں گے۔ وٹامن ڈ ی کی وافر مقدار مچھلی ، انڈوں ، دودھ اور سبزیوں میں پائی جاتی ہے۔

Monday, 20 May 2013

سائنس دانوں نے کہا ہے کہ سورج کی روشنی میں زیادہ وقت گزارنے سے دمے کے مریضوں کی بیماری پر مثبت فرق پڑ سکتا ہے۔
لندن کے کنگز کالج کے تحقیق کاروں نے کہا کہ سورج کی روشنی میں بننے والے وٹامن ڈی کی جسم میں کم مقدار سے دمے کی علامات بدتر ہو جاتی ہیں۔
تازہ ترین تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وٹامن سے مدافعتی نظام کے ضرورت سے زیادہ فعال حصے کو قابو میں لے آتا ہے۔
تاہم ابھی دمے کے مریضوں پر وٹامن ڈی کے تجربات نہیں کیے گئے۔
دمے کے مریضوں کی سانس کی نالیاں سوج کر پتلی ہو جاتی ہیں جن سے انھیں سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔
دمے کے اکثر مریضوں کا علاج سٹیروئڈ ادویات سے کیا جاتا ہے تاہم وہ سب مریضوں کے لیے کارگر نہیں ہوتیں۔
تحقیق کار پروفیسر کیتھرین ہارائلووچ کہتی ہیں، ’ہمیں معلوم ہے کہ جن لوگوں کے بدن میں وٹامن ڈی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ان کا دمہ زیادہ قابو میں رہتا ہے۔ یہ تعلق بہت قابلِ ذکر ہے۔‘
پروفیسر کیتھرین اور ان کے ہم کاروں نے اپنی تحقیق کے دوران یہ دیکھا کہ بدن میں پائے جانے والے کیمیائی مادے انٹرلیوکین 17 پر وٹامن ڈی کا کیا اثر ہوتا ہے۔ یہ مادہ مدافعتی نظام کا انفیکشن کا مقابلہ کرنے میں ہاتھ بٹاتا ہے۔ تاہم اگر اس کی مقدار ضرورت سے زیاددہ ہو جائے تو یہ دمے کا موجب بن سکتا ہے۔
سائنسی جریدے جرنل آف الرجی اینڈ کلینکل امیونالوجی میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب 18 مریضوں کے خون کے نمونوں میں وٹامن ڈی ملایا گیا تو ان میں انٹرلیوکین 17 کی مقدار کم ہو گئی۔
یہ سائنسی ٹیم اب اس بات پر تحقیق کر رہی ہے کہ دمے کے مریضوں کو وٹامن ڈی کھلانے سے ان کی بیماری کی علامات پر کیا فرق پڑے گا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ایسے مریضوں کا انتخاب کیا ہے جن کے اندر سٹیروئڈ ادویات بے اثر ہوتی ہیں اور ان کے اندر انٹرلیوکین 17 کی مقدار دوسرے مریضوں کے مقابلے پر سات گنا زیادہ ہوتی ہے۔
پروفیسر کیتھرین نے بی بی سی کو بتایا، ’ہمارا خیال ہے کہ ایسے مریض جن پر سٹیروئڈز کا اثر نہیں ہوتا، ان کو وٹامن ڈی دینے سے سٹیروئڈ کام کرنا شروع کر دیں گی، جب کہ دوسرے مریضوں کو کم مقدار میں سٹیروئڈ استعمال کرنا پڑیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ سورج سے بچنے اور جسم پر سن بلاک کریمیں لگانے سے ممکنہ طور پر دمے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’ضرورت سے زیادہ دھوپ آپ کے لیے مضر ہے۔‘
فلاحی ادارے ایسما یو کے کی ملائکہ رحمٰن کہتی ہیں: ’دمے کے مریضوں کے اکثریت کے لیے موجودہ ادویات موثر طریقے سے کام کرتی ہیں، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن پر یہ ادویات بے کار ہیں، اس لیے نئے طریقۂ علاج پر تحقیق ضروری ہے۔‘
انھوں نے کہا، ’ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ دمے کے بہت سے مریضوں کو دواؤں کے مضر اثرات کی تشویش ہوتی ہے، اس لیے اگر وٹامن ڈی سے دوا کی مقدار کم ہو جائے تو اس سے لوگوں کی صحت پر بہت اچھا اثر پڑے گا۔‘

Tuesday, 7 May 2013



پشاور… دنیا بھر میں آج سانس کی بیماری سے آگاہی کا دن منایا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کا شکارخیبر پختونخوا میں دمہ کی بیماری بہت عام ہے۔ طبی ماہرین نے فضائی آلودگی اورسگریٹ نوشی کو دمہ کی بڑی وجوہات میں شمار کیا ہے۔ دمہ ایک شخص سے دوسرے کو لگنے والی کوئی متعدی بیماری نہیں۔ عمومی طور پر اسے موروثی بیماری قرار دیا جاتاہے۔ بعض اوقات آلودگی اور درد یا خون کا دباوٴ کم کرنے والی دواوٴں کااستعمال بھی دمہ کا باعث بنتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق دمہ کے مریضوں کو سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔دمہ کی علامات میں سانس سے سیٹی کی آوازیں نکلنا ،کھانسی اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ اس بیماری میں سانس کی نالیوں کے گرد پٹھے سخت ہو جاتے ہیں،سانس کی نالی تنگ ہوجاتی ہے،محکمہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق خیبر پختو نخوا میں ہر سال دمہ کے مریضوں کی تعداد میں 15 سے 20فیصد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ طبی ما ہر ین کے مطابق بروقت تشخیص سے دمہ کی بیماری کاعلاج ممکن ہے تاہم آلودگی سے بچاؤ اور باقاعدگی سے انہیلر کے استعمال سے اس مرض کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

Sunday, 5 May 2013



برلن … جرمنی میں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیماریوں سے بچاوٴ کیلئے جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانا ہے تو وٹامن ڈی کا استعمال ضروری ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر خون میں وٹامن ڈی کی مقدار کم ہو جائے تو بچوں اور بڑوں میں دیگر امراض کے ساتھ ذیابیطس، ڈپریشن،دمہ اور سرطان جیسے موذی مرض لاحق ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی بیماریوں بچاوٴ کیلئے جسم کا مدافعتی نظام مضبوط بناتا ہے، اس لئے جہاں تک ممکن ہوسکے وٹامن ڈی والی غذائیں استعمال کی جائیں اور دن میں خاص طور پر صبح کے وقت سورج کی روشنی میں تھوڑا وقت گزارا جائے کیونکہ سورج کی شعاعیں وٹامن ڈی کے حصول کا بڑا ذریعہ ہیں۔