غزل
عشق میں کم کوئی شدت نہیں کی جا سکتی
ورنہ مُجھ سے تو محبت نہیں کی جا سکتی
تھرتھرانا تو ہے شُعلے کی روایت پیارے
ترک مُجھ سے یہ روایت نہیں کی جا سکتی
کیا کسی اور کو دیکھا بھی نہیں جا سکتا
کیا کسی اور پہ حیرت نہیں کی جا سکتی
چاہیئے اب کسی حجرے کا بیابان مُجھے
ورنہ کھُل کر کوئی وحشت نہیں کی جا سکتی
دیکھ سکتا نہیں ہر وقت میں تیری جانب
مُجھ سے ہر وقت عبادت نہیں کی جا سکتی
شور اندر کا لپٹ جاتا ہے شنوائی سے
مُجھ سے باہر کی سماعت نہیں کی جا سکتی
اب تو ہر سال پتہ اُس کا بدل جاتا ہے
وُہ جو کہتا تھا کہ ہجرت نہیں کی جا سکتی
آئینہ اپنی خراشوں پہ تو بُجھ سکتا ہے
سنگ ریزوں سے شکایت نہیں کی جا سکتی
کرنا پڑ جائے اگر دل کے اندھیرے میں قیام
صاحبِ نُور سے حُجّت نہیں کی جا سکتی
میری مٹی کو تُو مٹی سے بدل سکتا ہے
اس سے کم تو میری قیمت نہیں کی جا سکتی
شاعر: رفیع رضا
عشق میں کم کوئی شدت نہیں کی جا سکتی
ورنہ مُجھ سے تو محبت نہیں کی جا سکتی
تھرتھرانا تو ہے شُعلے کی روایت پیارے
ترک مُجھ سے یہ روایت نہیں کی جا سکتی
کیا کسی اور کو دیکھا بھی نہیں جا سکتا
کیا کسی اور پہ حیرت نہیں کی جا سکتی
چاہیئے اب کسی حجرے کا بیابان مُجھے
ورنہ کھُل کر کوئی وحشت نہیں کی جا سکتی
دیکھ سکتا نہیں ہر وقت میں تیری جانب
مُجھ سے ہر وقت عبادت نہیں کی جا سکتی
شور اندر کا لپٹ جاتا ہے شنوائی سے
مُجھ سے باہر کی سماعت نہیں کی جا سکتی
اب تو ہر سال پتہ اُس کا بدل جاتا ہے
وُہ جو کہتا تھا کہ ہجرت نہیں کی جا سکتی
آئینہ اپنی خراشوں پہ تو بُجھ سکتا ہے
سنگ ریزوں سے شکایت نہیں کی جا سکتی
کرنا پڑ جائے اگر دل کے اندھیرے میں قیام
صاحبِ نُور سے حُجّت نہیں کی جا سکتی
میری مٹی کو تُو مٹی سے بدل سکتا ہے
اس سے کم تو میری قیمت نہیں کی جا سکتی
شاعر: رفیع رضا

0 comments:
Post a Comment