Sunday, 14 July 2013

Sarhanay Mir K Aahista Bolo

Posted by Unknown on 04:46 with No comments
استانی نے کلاس میں سروائیور سے پوچھا : بتاؤ یہ شعر کس کا ہے؟
سرہانے" میر " کے آہستہ بولو
ابھی ٹُک روتے روتے سو گیا ہے
سروائیور جی:یہ شعر میر تقی میر کی والدہ کا ہے
کیا؟۔ استانی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا
جی میڈم یہ اُس وقت کی بات ہے جب میر تقی میر سکول میں پڑھتے تھے ایک دن ہوم ورک نہ کرنے کی وجہ سے استاد نے ان کی بہت پٹائی کی جس پر وہ روتے روتے گھر آئے اور سو گئے تھوڑی دیر بعد میر صاحب کے باقی بہن بھ
ائی کمرے میں کھیلتے ہوئے شور کرنے لگے جس پر ان کی والدہ نے یہ شعر کہا
سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹُک روتے روتے سو گیا ہے

0 comments:

Post a Comment