Wednesday, 14 August 2013

ہجرت کا تیسرا سال

ابو سفیان کا نعرہ اور اس کا جواب

ابو سفیان جنگ کے میدان سے واپس جانے لگا تو ایک پہاڑی پر چڑھ گیا اور زور زور سے پکارا کہ کیا یہاں محمد (صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہیں؟

حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اس کا جواب نہ دو، پھر اس نے پکارا کہ کیا تم میں ابوبکر ہیں؟ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی کچھ جواب نہ دے، پھر اس نے پکارا کہ کیا تم میں عمر ہیں؟ جب اس کا بھی کوئی جواب نہیں ملا تو ابو سفیان گھمنڈ سے کہنے لگا کہ یہ سب مارے گئے کیونکہ اگر زندہ ہوتے تو ضرور میرا جواب دیتے۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے ضبط نہ ہو سکا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چلا کر کہا کہ اے دشمن خدا! تو جھوٹا ہے۔ ہم سب زندہ ہیں۔

ابو سفیان نے اپنی فتح کے گھمنڈ میں یہ نعرہ مارا کہ

”اُعْلُ هُبَلْ ” ”اُعْلُ هُبَلْ“

یعنی اے ہبل! تو سر بلند ہو جا۔ اے ہبل! تو سر بلند ہو جا۔

حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ تم لوگ بھی اس کے جواب میں نعرہ لگاؤ۔ لوگوں نے پوچھا کہ ہم کیا کہیں؟ ارشاد فرمایا کہ تم لوگ یہ نعرہ مارو کہ

اَللّٰهُ اَعْلٰي وَ اَجَلّیعنی

ﷲ سب سے بڑھ کر بلند مرتبہ اور بڑا ہے۔

ابو سفیان نے کہا کہ

لَنَا الْعُزّيٰ وَ لَا عُزّيٰ لَکُمْ

یعنی ہمارے لئے عزیٰ (بت) ہے اور تمہارے لئے کوئی ”عزیٰ” نہیں ہے۔

حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اس کے جواب میں یہ کہو کہ

اَللّٰهُ مَوْلَانَا وَ لَا مَوْلٰي لَکُمْ

یعنی ﷲ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں۔

ابو سفیان نے بہ آواز بلند بڑے فخر کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ اور جواب ہے لڑائی میں کبھی فتح کبھی شکست ہوتی ہے۔ اے مسلمانوں! ہماری فوج نے تمہارے مقتولوں کے کان ناک کاٹ کر ان کی صورتیں بگاڑ دی ہیں مگر میں نے نہ تو اس کا حکم دیا تھا، نہ مجھے اس پر کوئی رنج و افسوس ہوا ہے یہ کہہ کر ابو سفیان میدان سے ہٹ گیا اور چل دیا۔
(زرقانی ج۲ ص۴۸ و بخاری غزوه احد ج۲ ص۵۷۹)

0 comments:

Post a Comment