Showing posts with label Pakistan Army. Show all posts
Showing posts with label Pakistan Army. Show all posts

Friday, 6 September 2013


ڈیرہ بگٹی…آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ پاک فوج بلوچستان کی معاشی ترقی کے لیے معاونت فراہم کررہی ہے۔ سوئی میں کیڈٹ کالج کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ طلبہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کرداراداکریں، افواج پاکستان نے اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے صوبے کی ترقی کے لیے کوشش کی، چمالانگ ایجوکیشن پروگرام، کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور آرمی انسٹی ٹیوٹ آف منرالوجی سمیت مختلف ادارے قائم کیے، چمالانگ پروگرام سے مستفید نوجوانوں کی تعداد تقریباً4 ہزار ہے، آرمی چیف نے کہا کہ مضبوط بلوچستان مضبوط پاکستان کا ضامن ہے، 20 ہزار سے زائد بلوچ فوج میں شامل ہیں،چاہتے ہیں بلوچ صرف مزدور نہ بنیں، اداروں میں اہم عہدوں پربھی کام کریں، پاک فوج بلوچستان کی معاشی ترقی کے لیے معاونت فراہم کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط اور خوشحال بلوچستان ہی پاکستان کی ترقی کا ضامن ہے، پاک فوج تعلیم کے علاوہ بلوچستان کی معاشی ترقی کے لیے بھی کام کر رہی ہے، فوج بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے اقدامات کررہی ہے، بلوچستان میں پاک فوج کا ایک بھی سپاہی آپریشن نہیں کررہا، پاک فوج بلوچستان میں اپنی چھاوٴنیوں میں ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی، کوہلو، سبی سے رکھنی تک ترقیاتی منصوبے پاک فوج کے تعاون کا ثبوت ہیں، گوادر، رتو ڈیرو سڑک کے منصوبے کی تکمیل کے لیے تعاون کریں گے، بلوچستان پولیس کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے تعاون کررہے ہیں، بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، بلوچستان میں3سال کے دوران 12ہزار جوانوں کو پاک فوج میں بھرتی کیاگیا۔

Wednesday, 1 May 2013

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ کی شدت بہت زیادہ ہے اور فی الحال قابو سے باہر ہے، فائر بریگیڈ اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کی 16 گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔گودام میں مختلف قسم کے کیمیکل اورپلاسٹک کاسامان موجودہے۔فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ تیسرے درجے کی ہے اور فی الحال آگ قابو سے باہر ہے۔ آگ کو بجھانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ کم سے کم نقصان ہو۔ فائر بریگیڈ اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کی 16 گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔

Tuesday, 30 April 2013

A True Friend...سچا دوست

Posted by Unknown on 07:59 with No comments

سچا دوست

سپاہی نے اپنے کمانڈر سے کہا
جناب میرا دوست میدان جنگ سے نہیں لوٹا، میں اسکو ڈھونڈھنے جانا چاہتا ہوں اجازت دیجیئے۔
کمانڈر نے کہا ؛ میں تمہیں وہاں جانے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتا۔
کمانڈر نے اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ میں تمہیں اپنی زندگی کو کسی ایسے شخص کی وجہ سے خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے سکتا جس کے بارے میں قوی احتمال ہے کہ وہ مارا جا چکا ہے۔
کمانڈر کی بات اپنی جگہ درست تھی مگر سپاہی اس سے نا تو قائل ہو سکا اور نا ہی اس نے کوئی اہمیت دی کہ اسکا میدان جنگ میں جانا اس کی اپنی زندگی کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے ، وہاں سے بھاگ کر سیدھا میدان جنگ میں پہنچ گیا جہاں گھمسان کا رن پڑا ہوا تھا۔
گھنٹے بھر کے بعد زخموں سے چور لڑکھڑاتا ہوا، کاندھے پر دوست کی لاش اُٹھائے واپس آتا دکھائی دیا تو کمانڈر نے بھاگ کر اس کے کندھوں سے لاش اتاری، اسے سہارا دے کر زمین پر بٹھایا اور تاسف کرتے ہوئے کہا، میں نے تمہیں کہا تو تھا کہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر محض ایک لاش کو تلاش کرنے جانا اس وقت ہرگز دانائی نہیں ہو گی مگر تم نے میری بات نہیں مانی اور دیکھ لو اپنا یہ حشر کرا کر لوٹے ہو۔
سپاہی نے کراہتے ہوئے مختصرا کہا، نہیں جناب، جب میں اپنے دوست کے پاس پہنچا تو وہ ابھی بقید حیات تھا۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی کہا تھا؛ مجھے پورا یقین تھا کہ تم مجھے یوں تنہا مرنے کیلئے نہیں چھوڑو گے۔
سپاہی نے لڑکھڑاتی زبان سے اپنی بات پوری کرتے ہوئے کہا؛ میں نے اپنے دوست کی آنکھوں میں اپنی مردانگی پر ناز اور دوستی سے وفا کرنا پڑھا تھا جو میرے لئے کافی ہے۔
٭٭٭٭٭
جی ہاں، دوست وہی ہے جب سارے ساتھ چھوڑ جائیں مگر وہ تمہارے ساتھ آ کر کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوجائے۔

Friday, 26 April 2013



نہ دولت کی نہ دنیا کی نہ چاہت بادشاہت کی

نہ دولت کی نہ دنیا کی نہ چاہت بادشاہت کی

شہادت کی تمنا ہے فقط اک آرزو میری


میں کٹ جاؤں، بکھر جاؤں یا سولی پہ لٹک جاؤں

ملے مجھ کو رضا رب کی، یہی ہے جستجو میری


تلواروں کی یلغاروں میں بکھرے خون کی مہندی

سجا کر لاش رکھ دینا خدا کے روبرو میری


خدا کے دین کی خاطر جو چھلنی ہو جگر میرا

میری آنکھیں تجھے دیکھیں ہو منزل تو ہی تو میری


خدا کے نام پر کٹنے کی لذّت کیا بتاؤں میں؟

سب جنت میں دیکھیں گے جوانی خوبرو میری


میرا تن بھی، میرا من بھی، فدا ہو تیری عظمت پر

قرباں ہو میرا سب کچھ، ہو قرباں آبرو میری


میں اپنے جان و دل سے موت چاہتا ہوں شہادت کی

یہی مقصد، یہی منزل، یہی ہے جستجو میری!!

Monday, 1 April 2013


افواج پاکستان ملکی بقاء کی ضامن

پاکستان کی افواج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ھوتا ھے۔
قدرتی آفات ھوں یا ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع یا پھر وطن عزیز میں امن و امان کا مسئلہ ھماری افواج نے قوم کو کبھی مایوس نہیں کیا لیکن افواج پاکستان کی شاندار روایات اور کارکردگی کے باوجود عوامی سطح پر ان کے بارے میں کچھ منفی آرا بھی مشاھدے میں آتی ھیں۔ ان کا تجزیہ درج ذیل ھے۔
اول: ملک میں بار بار مارشل لاء کے نفاذ سے یہ تاثر عام ھے کہ ھمارے بیان فوجی مداخلت کی وجہ سے جمہوریت پنپنے نہیں پاتی۔
اس سلسلے میں دو آراء نہیں ھو سکتی کہ مسلح افواج کا بنیادی کام ملکی سرحدوں کی حفاظت ھے۔ ان کو ملکی معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرنا لازمی ھے مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ ھے کہ فوجی مداخلت کا جواز ھمارے سیاستدانوں کی نااھلی بھی ھے۔
امید رکھنی چاھئے کہ آئندہ ملک میں ایسے حالات پیدا ھوں گے کہ جمہوری نظام میں خلل نہیں پڑے گا اور ھماری مسلح افواج صرف سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ احسن طریقے سے ادا کرے گی۔
دوم: ایک عام تاثر پایا جاتا ھے کہ ملکی بجٹ کا ایک بڑا حصہ فوج پر صرف ھوتا ھے سراسر غلط فہمی پر مشتمل ھے۔
اصل صورتحال یہ ھے کہ بجٹ کا سب سے زیادہ حصہ اندرون ملک حاصل کردوں قرضوں کی servicing یعنی سود کی ادائیگی میں خرچ ھوتا ھے نیز بجٹ کا دوسرا بڑا حصہ ملک کے Public Secore مثلاً پی آئی اے، پیپکو، ریلوے، سٹیل مل کے خسارے کو پورا کرنے کے لئے خرچ کیا جا رھا ھے۔
مزید براں بجٹ کا تیسرا بڑا حصہ Public Sector Development Programme یعنی عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ ھوتا ھے۔
پچھلے بجٹ کا چوتھا حصہ یعنی 545 ارب روپے دفاع کے لئے مختص کیا گیا ھے بالفاظدیگر حکومت کے کل اخراجات کا صرف 17 فیصد افواج پاکستان پر خرچ ھوتا ھے اور باقی 83 فیصد غیر دفاعی مد میں استعمال ھوتاھے۔
سوم: عام خیال یہ ھے کہ ھماری افواج کولیشن سپورٹ فنڈ سے اربوں ڈالر ملے ھیں یہ خیال خام خیالی پر مبنی ھے کیونکہ دس ملین ڈالر جو کہ امریکی حکومت نے پاکستان کو دئیے ھیں ان میں سے صرف 1.8 بلین ڈالر فوج کو ملے ھیں اور اس سلسلے میں اھم بات یہ ھے کہ رقم ان اخراجات کو اس زمرے میں دی گئی ھے جو کہ War Of Terror پر پہلے ھی خرچ کی جا چکی ھے
مزید برآں اس سلسلے میں خرچ کی جانے والی رقم اس سے کہیں زیادہ ھے۔
چہارم: ایک اور غلط تاثر یہ ھے کہ فوج کی طرف سے چلنے والے کاروباری ادارے ملکی معیشت پر بوجھ ھیں
اس سلسلے میں پہلی بات یہ ھے کہ ان اداروں میں کام کرنے والے افراد کا فوج سے قطعی کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ فوج سے ریٹائرڈ ھونےوالے افراد کی فلاح و بہبود کے لئے کام کر رھے ھیں نیز فوجی فرٹیلائزر ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ھے اور اس نے اس دفعہ ٹیکس کی مد میں 91 بلین روپے ادا کئے ھیں۔
محترم دوستو علاوہ ازیں چند اھم تفصیلات درج ذیل ھیں
1
پاکستانی افواج تعداد کے لحاظ سے دنیا میں چھٹے نمبر پر ھے لیکن اس کا فی کس خرچ دنیا میں سب سے کم ھے۔
2
پاکستانی افواج نے ملک میں امن و امان کے حوالے سے آپریشن راہ حق (سوات) شیردل (باجوڑ) زلزلہ، راہ نجات (جنوبی وزیرستان) بغیر کسی اضافی خرچ کے کامیابیسے سرانجام دئیے۔ اور آخری قابل فخر بات یہ ھے کہ پاکستانی افواج نے UN Peace میں سب سے زیادہ معرکوں میں حصہ لیا اور ھماری مسلح افواج کو باقی ممالک کے مقابلے سے زیادہ UN Medals دئیے گئے۔
محترم دوستو ھم اپنی مسلح افواج پر جتنا فخر کریں کم ھے کیونکہ جب بھی ملک و قوم کو کسی بھی مرحلے پر ان کی مدد کی ضرورت محسوس ھوئی یہ ھر آزمائش پر پوری اتری
اس کی وجوھات میں ان کی اعلیٰ تربیت جذبہ ایمانی اور بہترین نظم و ضبط سرفہرست ھیں۔
مزید برآں فوج میں احتساب کا نظام قائم ھے جس کی وجہ سے قانون کی پاسداری اور بالادستی یقینی امر ھے۔
علاوہ ازیں مسلح افواج میں بھرتی اور ترقی صرف اور صرف اہلیت کی بنیاد پر ھوتی ھے۔
اس سے ھر سطح پر قابل اور اھل لوگ ھی پہنچ پاتے ھیں نیز میدان جنگ ھو یا پھر سیلاب زلزلہ فوجی افسران جوانوں کے شانہ بشانہ اپنے فرائض ادا کرتے ھیں اور ھمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت پر عمل پیرا ھوتے ھیں جیسا کہ جنگ خندق کے دوران ھمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عام شخص کی طرح خندق کی کھدائی کا کام بھوک اور پیاس برداشت کرکے سرانجام دیا۔
راقم کو مکمل یقین ھے جب تک ہمارے فوجی اپنی شاندار روایات کی پاسداری کرتے رھیں گے اس وقت تک ان کو دنیا کی کوئی طاقت زیر نہیں کر سکتی۔ (انشاءاللّه)

Monday, 11 March 2013

Her Dherrkan Watan Ke Liay

Posted by Unknown on 22:22 with No comments


‎"ہر دھڑکن وطن کے لئے ...
یہ زندگی وطن کے لئے ...
اس زمین سے جو پایا ہے ...
.. سب قربان وطن کے لئے ...
زبان یا ہو مذہب الگ پر ...
ایک ہو دل وطن کے لئے ...
یہ تن من وطن کے لئے ...

Aur Phir Ye Howa...

Posted by Unknown on 04:11 with No comments

اور پھر یہ ہوا
قیدِ دنیا سے جب میں نکلنے لگا
بندگی کا سفر جب میں طے کر چکا
میں نے دھیرے سے یہ ساتھیوں سے کہا
’’میں شہید اب ہوا ‘‘
پھر گواہی کا کلمہ زباں پر مری
لمحۂ واپسیں خود رواں ہو گیا
اک ستارہ تھا میں
کہکشاں ہو گیا
حب یزداں کا اک استعارہ تھا میں - - - - داستاں ہو گیا
اک ستارہ تھا میں - - - - - - - - - - - - - - - - کہکشاں ہو گیا

Friday, 8 March 2013


سکیورٹی صورتحال: آرمی چیف نے صدر کو اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا

آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے صدر زرداری سے ملاقات میں سکیورٹی کے حوالے سے اپنے خدشات ان کے سامنے رکھ دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات میں جنرل کیانی نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے غیرموثر استعمال، سیاسی جماعتوں میں مسلح ونگز کی موجودگی اور چند سیاسی جماعتوں کے دہشت گروپوں سے رابطے پر بات کی۔ ملک میں جاری دہشت گردی پر عوام پریشان، قانون نافذ کرنے والے ادارے ناکام، خاص طور پر کراچی اور کوئٹہ میں صورتحال پر قابو سے باہر نظر آ رہی ہے۔ کوئٹہ میں سانحہ علمدار روڈ، سانحہ کیرانی اور پھر کراچی میں سانحہ عباس ٹاﺅن، ایک ہی کمیونٹی کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی کارروائی کی گئیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری نے بھی عوام کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر رکھا ہے۔ کراچی اور کوئٹہ کو فوج کے حوالے کئے جانے کے عوامی مطالبے سر اٹھا رہے ہیں۔ آرمی چیف کے خدشات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جنرل کیانی نے دہشت گردی کے خلاف قانون نافذ کرنے والے وفاقی اور صوبائی اداروں کے نامناسب اور غیرموثر استعمال پر بات کی۔ جنرل کیانی اس سے پہلے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس موقع پر جنرل کیانی نے کہا کہ اگر حکومت طلب کرے گی تو فوج قانون نافذ کرنے والے سویلین اداروں کی بھرپور سپورٹ کے لئے دستیاب ہو گی۔

Tuesday, 5 March 2013

Muhabbat Goliyon Se Boo Rahe Hain.

Posted by Unknown on 03:10 with No comments

محبت گولیوں سے بو رہے ہیں
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہیں
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہیں

Monday, 4 March 2013

Aey Pak Watan Main Apni Her Aik Sans...

Posted by Unknown on 23:36 with No comments

اے پاک وطن میں اپنی ہر ایک سانس
 اور دن رات تجھ کو دے دوں
دے کر اپنی شہادت سر رکھ کر
 تیرے سینے پر میں ایک دن سو جاؤں

پاک فوج زندہ باد ، پاکستان پائندہ باد

Alfaz o Mahni Mein Tafawat Nahin Lekin

Posted by Unknown on 23:28 with No comments

الفاظ و معنی میں تفاوت نہیں لیکن
ملا کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور

Main Aansoo Aansoo Roya Hon...

Posted by Unknown on 23:18 with No comments

میں آنسو آنسو رویا ہوں
کچھ راتوں سے نہ سویا ہوں،

جو سرحدوں پر بچھڑ گئے
ان کی یادوں میں کھو گیا ہوں

جو شادی کی رات 
نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کر چلے گئے

جو اکلو
تے ہو کر بھی
سرحد پر لڑنے چلے گئے

جو ہنستے ہنستے جانیں
قربان کرنے چلے گئے

ان شہیدوں کی کہانی
میں لکھتے لکھتے رویا ہوں

جو سرحدوں پر بچھڑ گئے
ان کی یادوں میں کھو گیا ہوں.

ھے جرم اگر وطن کی مٹی سے محبت,
یہ جرم سدا میرے حسابوں میں رھے گا

پاک فوج کو سلام

Posted by Unknown on 22:47 with No comments

کیا یہ عجیب نہیں ہے کہ ہم روزانہ اٹھتے ہیں، معمول کے مطابق کام کرتے اور پھر آرام کے لئے بستر پر چلے جاتے ہیں۔ ۔ ۔
 لیکن ان فوجیوں کو روزانہ کی بنیاد پر مختلف مشکل مشقیں کرنی پڑتی ہیں۔
مشکل کام پر جاتے ہیں اور یہاں تک کہ ہمارے برعکس ہر وقت ان کی زندگی خطرے میں گھری رہتی ہے۔
ہمیں اچانک موت، اچانک حادثات اور اچانک آفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔
لیکن یہ بہادر فوجی اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر اور اپنے سر پر کفن باندھ کر سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں، صرف ہمیں رات کو گہری نیند سلانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔
ان میں سے کچھ ہائی گریڈز والے طلبہ تھے، ہمیشہ کلاس میں پہلی پوزیشن لیتے رہے، لیکن انہوں نے اپنے ملک اور اس کے عوام کے لئے سب کچھ چھوڑ دیا۔۔۔
لیکن بعض لوگوں کے ذہنوں میں پاک فوج کے لیے اب بھی الجھن موجود ہے اور وہ فوج پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔
اللہ ان پر رحم کرے۔۔۔
پاک فوج کو سلام

Salute to Pak Army.

Posted by Unknown on 22:27 with No comments


Isn't it strange that we daily get up, do routine work and then go to bed for relaxation ...
But these soldiers do different hard exercises on daily basis ... Go to Difficult tasks and even put their lives at risk unlike us ...
we face sudden deaths, sudden accidents , sudden calamities ... But These Brave Soldiers Put their Own Lives at Their Palm and Kafan On Their Heads Just To Give Us Sound Sleep at Night ...

Some Of them were High Grades Students, Always Stood First In Class, But They Leave EveryThing For Their Own Country And Its People ...

But some people's mind are still confused and lay finger on the Army ... Pity On Them

Mere Karwan Mein Shamil...

Posted by Unknown on 22:14 with No comments
 
میرے کارواں میں شامل کوئی کم ظرف نہیں ہے
جو نہ مٹ سکے وطن پر وہ میرا ہمسفر نہیں ہے

Watan ne Phir Pukara Hai.

Posted by Unknown on 22:04 with No comments

وطن نے پھر پکارا ہے
حاضر لہو ہمارا ہے۔۔۔۔۔۔

پاکستانی فوج زندہ باد

Remember that we don't wear these for money,its just passion to serve.....!!!
Pakistan Army Zindabad...

یاد رکھیں کہ ہم پیسے کے لئے یہ وردیاں نہیں پہنتے، یہ صرف جذبہ خدمت ہے۔
پاکستانی فوج زندہ باد

ALLAH Bhi un kay Azaiem ki Daad Deta hai.

Posted by Unknown on 21:53 with No comments

اللہ بھی ان کے عزائم کی داد دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
انتخاب کرتے ہیں جو وردیاں کفن کے لیے۔

پاکستان آرمی زندہ باد

Kaise Hoti Hai Hifazat Mulk Ki...

Posted by Unknown on 21:47 with No comments

کیسے ہوتی ہے حفاظت ملک کی
کبھی سرحد پر چل کے دیکھ لینا

کوئی پیارا نہیں ہے وطن جیسا یارو
میری طرح ملک سے کبھی عشق کر کے دیکھ لینا