چھوٹے چھوٹے کام کرنا، انبیاء کی صفت
اٹلی میں مسٹر کلاؤ بڑا سخت قسم
کا یہودی تھا ۔ اس کی کوئی تیرہ چودہ منزلہ عمارت تھی ۔ صبح جب میں
یونیورسٹی جاتا تو وہ رات کی بارش کا پانی وائپر سے نکال رہا ہوتا اور فرش
پر " ٹاکی " لگا رہا ہوتا تھا ۔ یا سڑک کے کنارے جو پٹڑی ہوتی ہے اسے صاف
کر رہا ہوتا ۔ میں اس سے پوچھتا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں اتنے بڑے آدمی ہو
کر ۔ اس نے کہا یہ میرا کام ہے ۔ کام بڑا یا چھوٹا نہیں ہوتا ۔ میں نے کہا
کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس نے کہا کی یہ انبیاء کی صفت ہے جو انبیاء کے دائرے میں داخل ہونا چاہتا ہے وہ چھوٹے کام ضرور کرے ۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بکریاں چرائیں تھیں اور ہم یہودیوں میں بکریاں چرانا اور اس سے متعلقہ نیچے لیول کا کام موجود ہے ۔ اس نے کہا کہ آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جوتا خود گانٹھتے تھے ۔ قمیض کا پیوند یا ٹانکا خود لگاتے تھے کپڑے دھو لیتے تھے ، راستے سے " جھاڑ جھنکار " صاف کر دیتے تھے ، تم کرتے ہو ؟ میں کہنے لگا مجھے تو ٹانکا لگانا نہیں آتا مجھے سکھایا نہیں گیا ۔
اشفاق احمد زاویہ 2 سے اقتباس
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بکریاں چرائیں تھیں اور ہم یہودیوں میں بکریاں چرانا اور اس سے متعلقہ نیچے لیول کا کام موجود ہے ۔ اس نے کہا کہ آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جوتا خود گانٹھتے تھے ۔ قمیض کا پیوند یا ٹانکا خود لگاتے تھے کپڑے دھو لیتے تھے ، راستے سے " جھاڑ جھنکار " صاف کر دیتے تھے ، تم کرتے ہو ؟ میں کہنے لگا مجھے تو ٹانکا لگانا نہیں آتا مجھے سکھایا نہیں گیا ۔
اشفاق احمد زاویہ 2 سے اقتباس
0 comments:
Post a Comment