ثواب و عذاب صرف جسم پر ہے یا روح و جسم دونوں پر؟ عذاب و ثواب روح اور جسم دونوں پر ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایک
لنجا کسی باغ میں پڑا تھا اور میوے دیکھ رہا تھا، مگر ان تک نہ جا سکتا تھا،
اتفاقاً ایک اندھے کا ادھر سے گزر ہوا جو کہ باغ میں جاسکتا تھا مگر میوے
اسے نظر نہ آتے تھے۔ لنجے نے اندھے سے کہا کہ تو مجھے باغ میں لے چل، وہاں
جا کر ہم اور تم دونوں میوے کھائیں ۔ اندھا اس کو اپنی گردن پر سوار کر کے
باغ میں لے گیا۔ لنجے نے میوے توڑے اور دونوں نے کھائے۔ اس صورت میں مجر م
کون ہو گا؟
جب جسم قبر میں گل جائے گا تو عذاب ثواب کس پر ہوگا؟ جس اگر چہ گل جائے، خاک ہو جائے مگر اس کے اجزائے اصلےّہ قیامت تک باقی
رہیں گے وہی مور دِ عذاب و ثواب ہوں گے اور انہی پر روزِ قیامت دوبارہ
ترکیب جسم فرمائی جائے گی جس کو عجب الذنب کہتے ہیں ، وہ ریڑھ کی ہڈی میں
کچھ ایسے اجزء ہیں کہ نہ کسی خوردبین سے نظر آسکتے ہیں نہ آگ انھیں جلا
سکتی ہے نہ زمین انھیں گلا سکتی ہے۔ وہی تخمِ جسم اور موردِ عذاب و ثواب
ہیں۔ عذاب قبر اور تنیعمِ قبر حق ہے۔ اس کا انکار وہی کرے گا جو گمراہ ہے۔
مردہ اگر دفن نہ کیا جاے تو اس سے سوالات کہاں ہوں گے؟
مردہ اگر قبر میں دفن نہ کیا جائے ، تو جہاں پڑا رہ گیا یا پھینک دیا گیا
اس سے وہیں سوالات ہوں گے اور وہیں ثواب یا عذاب اسے پہنچے گا۔ یہاں تک کہ
جسے شیر کھا گیا تو شیر کے پیٹ میں ہی سوال و جواب اور ثواب و عذاب جو کچھ
ہو، پہنچے گا۔
0 comments:
Post a Comment