زندوں کی خیر خیرات سے مردوں کو فائدہ پہنچتا ہے یا نہیں؟
نماز، روزہ، زکوٰۃ، صدقہ، حج، تلاوت قرآن ، ذکر ، زیارت قبور ، خیر
خیرات۔ غرض ہر قسم کی عبادت اور ہر عمل نیک، فرض و نفل کا ثواب مردوں کو
پہنچایا جاسکتا ہے۔ ان سب کو پہنچے گا اور اس کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی۔
بلکہ اس کی رحمت سے امید ہے کہ سب کو پورا ملے گا، یہ نہیں کہ اسی ثواب کی
تقسیم ہو کہ ٹکڑا ٹکڑا ملے، بلکہ یہ امید کہ اس پہچانے والے کو ان سب کے
مجموعہ کے برابر ملے مثلاً کوئی نیک کام کیا جس کا ثواب کم از کم دس ملے گا
۔ اس نے دس مردوں کو پہنچایا تو ہر ایک کو دس دس ملیں گے اور اس کو ایک سو
دس۔ وعلیٰ ہذالقیاس۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ ’’جو شخص گیارہ با ر قل ہو
اللہ شریف پڑھ کر اس کا ثواب مردوں کو پہنچائے گا تو مردوں کی گنتی کے
برابر اسے ثواب ملے گا‘‘۔ اور نابالغ نے کچھ پڑھ کر یا کوئی نیک عمل کرکے
اس کا ثواب مردے کو پہنچایا تو انشاء اللہ تعالیٰ پہنچے گا۔
یہاں یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ فرض کا ثواب پہنچا دیا تو اپنے پاس کیا رہ گیا؟ اس لیے کہ ثواب پہنچانے سے فرض اس کے ذمہ سے ساقط ہو چکا پھر وہ عود نہ کرے گا ورنہ ثواب کس شے کا پہنچاتا ہے لہٰذا فاتحۂ مروجہ جو کہ ایصال ثواب کی ایک صور ت ہے یہ جائز بلکہ محمود اور شرعاً مطلوب ہے۔
یہاں یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ فرض کا ثواب پہنچا دیا تو اپنے پاس کیا رہ گیا؟ اس لیے کہ ثواب پہنچانے سے فرض اس کے ذمہ سے ساقط ہو چکا پھر وہ عود نہ کرے گا ورنہ ثواب کس شے کا پہنچاتا ہے لہٰذا فاتحۂ مروجہ جو کہ ایصال ثواب کی ایک صور ت ہے یہ جائز بلکہ محمود اور شرعاً مطلوب ہے۔
0 comments:
Post a Comment