Monday, 25 February 2013

What Happens with Dead In Burzikh?

Posted by Unknown on 08:03 with No comments
برزخ میں میت پر کیا کیا باتیں گزرتی ہیں؟ 
۱۔ ضغطئہ قبر یعنی جب مردہ کو قبر میں دفن کرتے ہیں اس وقت قبر اس کو دباتی ہے۔ اگر وہ مسلمان ہے تو اس کا دبانا ایسا ہوتا ہے جیسے ماں پیار میں اپنے بچے کو زور سے چپٹا لیتی ہے اور اگر کافر ہے تو اس کو اس زور سے دباتی ہے کہ ادھر کی پسلیاں ادھر اور ادھر کی ادھر ہو جاتی ہیں۔
۲۔ جب دفن کرنے والے دفن کرکے وہاں سے چلتے ہیں، وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے ۔ اس وقت اس کے پاس ہیبت ناک صورت والے منکر و نکیر نامی دو فرشتے اپنے دانتوں سے زمین چیرتے ہوئے آتے ہیں اور نہایت سختی کے ساتھ کرخت آواز میں اس سے سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اور ان کے (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے )بارے میں تو کیا کہتا تھا؟
۳۔ مرد ہ مسلمان ہے تو جواب دے گا میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
۴۔ مردہ اگر منافق ہے تو سب سوالوں کے جواب میں کہے گا ، افسوس ! مجھے تو کچھ معلوم نہیں، میں جو لوگوں کو کہتے سنتا تھا، خود بھی کہتا تھا۔
۵۔ مسلمان میت کی قبر کشادہ کر دی جائے گی اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جائے گا جس سے جنت کی خوشبو آتی رہے۔
۶۔ نافرمان مسلمانوں میں ان کی معصیت کے مطابق بعض پر عذاب بھی ہوگا پھر ان کے پیر ن عظام یا اولیائے کرام کی شفاعت یا محض رحمت سے جب اللہ چاہے گا نجات پائیں گے۔ بعض
کے نزدیک مسلمان پر سے قبر کا عذاب جمعہ کی رات آتے ہی اٹھا دیا جاتا ہے۔
۷۔ کافر و منافق میت کے لیے آگ کا بچھونا بچھا کر اور آگ کا لباس پہنا کر جہنم کی طرف ایک درواز ہ کھول دیا جائے گا اور اس پر فرشتگان عذاب مقرر کر دئیے جائیں گے،نیز سانپ بچھو اسے عذاب پہنچاتے رہیں گے۔
۸۔ مسلمان کے اعمال حسنہ مقبول و محبوب صورت میں آکر انھیں انس دیں گے اور کافر و منافق کے برے اعمال کتا یا بھڑیا یا اور شکل کے ہو کر اس کو ایذا پہنچائیں گے۔
۹۔ مسلمان کی ارواح خواہ قبر پر ہوں یا چاہ زمزم شریف میں یا آسمان وزمین کے درمیان یا آسمانوں پر یا آسمانوں سے بلند یا زیرِ عرش قندیلوں میں اعلیٰ علّےین میں خواہ کہیں ہوں، ان کی راہ کشادہ کر دی جاتی ہے۔ جہاں چاہتی ہیں آتی جاتی ہیں، آپس میں ملتی ہیں اور اپنے اقارب کا حال ایک دوسرے سے دریافت کرتی ہیں اور جو کوئی قبر پر آئے اسے دیکھتی پہچانتی اور اس کی بات سنتی ہیں۔
۱۰۔ کافروں کی خبیث روحیں مرگھٹ وغیرہ میں قید رہتی ہیں۔ کہیں آنے جانے کا انھیں اختیار نہیں مگر وہ بھی کہیں ہوں قبر یا مرگھٹ پر گزرنے والوں کو دیکھتی پہچانتی اور ان کی باتیں سنتی ہیں۔
۱۱۔ مردہ جواب سلام دیتا ہے اور کلام بھی کرتا ہے اور اس کے کلام کو عوام جن اور انسان کے سوا اور تمام حیوانات وغیرہ سنتے بھی ہیں۔

0 comments:

Post a Comment