گھر والوں اور اولاد کے لیے ایک لیے بہت پیاری دعا
رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ أَزۡوَٲجِنَا وَذُرِّيَّـٰتِنَا قُرَّةَ أَعۡيُنٍ۬ وَٱجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِينَ إِمَامًا
اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا۔
سورۃ الفرقان۔ آیت ٧٤
یعنی ان کو ایمان اور عمل صالح کی توفیق دے اور پاکیزہ اخلاق سے آراستہ کر کیونکہ ایک مؤمن کو بیوی بچوں کے حسن وجمال اور عیش و آرام سے نہیں بلکہ ان کی نیک خصالی سے ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے۔اس کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز تکلیف دہ نہیں ہو سکتی کہ جو دنیا میں اسے سب سے زیادہ پیارے ہیں انہیں دوزخ کا ایندھن بننے کے لیے تیار ہوتے دیکھے۔ ایسی صورت میں تو بیوی کا حسن اور بچوں کی جوانی اسکے لیے اور بھی زیادہ سوہانِ روح ہو گی کیونکہ وہ ہر وقت اس رنچ میں مبتلا رہے گا کہ یہ سب اپنی ان سب خوبیوںکے باوجود اللہ کے عذاب میںگرفتار ہونے والے ہیں۔
وَٱجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِينَ إِمَامًا " کی تشریح
یعنی ہم تقوی اور طاعت میں سب سے بڑھ جائیں، بھلائی اور نیکی میں سب سے آگے نکل جائیں، محض نیک ہی نہ ہوں بلکہ نیکوںکے پیشوا بھی ہوں، اور ہماری بدولت دنیا بھر میں نیکی پھیلے۔ اس چیز کا ذکر بھی یہاں دراصل یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مال و دولت اور شوکت و حشمت میں نہیں بلکہ نیکی و پرہیزگاری میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''میں نے اپنے بعد مردوں کے بارے میں عورتوں سے زیادہ نقصان دہ فتنہ کوئی اور نہیں چھوڑا۔'' (متفق علیہ)
توثیق الحدیث: أخرجہ البخاری (1379۔فتح)، و مسلم (2740)
اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا۔
سورۃ الفرقان۔ آیت ٧٤
یعنی ان کو ایمان اور عمل صالح کی توفیق دے اور پاکیزہ اخلاق سے آراستہ کر کیونکہ ایک مؤمن کو بیوی بچوں کے حسن وجمال اور عیش و آرام سے نہیں بلکہ ان کی نیک خصالی سے ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے۔اس کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز تکلیف دہ نہیں ہو سکتی کہ جو دنیا میں اسے سب سے زیادہ پیارے ہیں انہیں دوزخ کا ایندھن بننے کے لیے تیار ہوتے دیکھے۔ ایسی صورت میں تو بیوی کا حسن اور بچوں کی جوانی اسکے لیے اور بھی زیادہ سوہانِ روح ہو گی کیونکہ وہ ہر وقت اس رنچ میں مبتلا رہے گا کہ یہ سب اپنی ان سب خوبیوںکے باوجود اللہ کے عذاب میںگرفتار ہونے والے ہیں۔
وَٱجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِينَ إِمَامًا " کی تشریح
یعنی ہم تقوی اور طاعت میں سب سے بڑھ جائیں، بھلائی اور نیکی میں سب سے آگے نکل جائیں، محض نیک ہی نہ ہوں بلکہ نیکوںکے پیشوا بھی ہوں، اور ہماری بدولت دنیا بھر میں نیکی پھیلے۔ اس چیز کا ذکر بھی یہاں دراصل یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مال و دولت اور شوکت و حشمت میں نہیں بلکہ نیکی و پرہیزگاری میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''میں نے اپنے بعد مردوں کے بارے میں عورتوں سے زیادہ نقصان دہ فتنہ کوئی اور نہیں چھوڑا۔'' (متفق علیہ)
توثیق الحدیث: أخرجہ البخاری (1379۔فتح)، و مسلم (2740)
0 comments:
Post a Comment