Saturday, 13 April 2013

Halwa... حلوہ

Posted by Unknown on 07:45 with No comments
حضرت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ نے آذر بائیجان کی مہم ختم کر نے کے بعد فاتحانہ انداز میں انتظام سنبھالا وہاں کا ایک قسم کا حلوہ بہت مشہو ر تھا اور تحفتًا ہدیہ میں بہت دور دور تک جایا کر تا تھا ۔حضرت عتبہ نے بھی اس حلو ے کو تیار کروا کے اپنے ملازم خاص سحیم کے ذریعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں روانہ کیا ۔جب یہ تحفہ دربار، خلافت میں پہنچا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خبر ملی تو سحیم سے دریافت کیا کہ ان میں کیا لائے ہو سونا یا چاندی؟ اور پھر ان کو کھولنے کا حکم دیا اور پھر حلوہ چکھ کر فرمایا ہاں یہ بہت عمدہ غذا ہے آذر بائیجان میں جو مسلمان اپنے بال بچے اور گھر بار چھوڑ کر گئے ہیں وہ کھانا کھانے کے بعد اس حلوہ کو کھائیں گے تو خوب شکم سیر ہو جائیں گے ان تاثرات کو معلوم کر کے سحیم نے عرض کیا یہ بات نہیں بلکہ یہ حلوہ خاص طور سے آپ کیلئے بھیجا گیا ہے یہ سننا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل پر ایک خاص قسم کا اثرہوا اور فوراً عتبہ بن فرقد کے نام ایک خط روانہ کیا ۔
عن عبد اللہ عمر امیر المؤمنین الیٰ عتبہ بن فرقد اما بعد۔ فلیس من قدک،ولا کدامک لا کد ابیک ۔لا تا کل الا ما یشبع منہ المسلمون فی رحالھم (فتوح البلدان)
اللہ کے بندے اور مسلمانوں کے امیر کی طرف سے عتبہ بن فرقد کے نام اما بعد! جو حلوہ تم نے بھیجا ہے وہ نہ تمھاری کمائی کا ہے اور نہ تمھارے پاپ کی کمائی کا ہے ہم صرف وہی کھانا کھاتے ہیں جس سے وہاں کے مسلمان اپنے خیموں میں شکم سیر ہو تے ہیں

0 comments:

Post a Comment