Tuesday, 16 April 2013

Opened Contradiction

Posted by Unknown on 07:23 with No comments
کُھلا تضاد

دو عورتیں آپس میں گفتگو کر رہیں تھی، ایک نے دوسری سے پوچھا
”سناؤ بہن ،تمہارے بچوں کا کیا حال ہے ؟“
دوسری نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا
”کیا سناؤں ،میرے بیٹے کی شادی تو سمجھو جیسے کسی چڑیل سے ہو گئی ہے ۔وہ نامراد صبح 11بجے سے پہلے بستر سے نہیں نکلتی ،پھر سارا دن نہ جانے کہاں کہاں گھوم کر میرے بیٹے کے پیسے برباد کرتی ہے اور رات کو جب میرا بچہ تھکا ہارا گھر آتا ہے تو اس کام چور نے کھانا تک نہیں بنایا ہو...تا ،اسی بہانے وہ اسے لے کر کسی مہنگے سے ریستوران میں ڈنر کے لئے چلی جاتی ہے اور پھر دونوں رات گئے واپس آتے ہیں ۔
“یہ سن کر دوسری عورت نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا ”اچھا…خیر…اپنی بیٹی کی سناؤ…؟
“پہلی عورت بولی
”ہائے ہائے …اس کا کیا پوچھتی ہو…اس کی شادی تو سمجھو جیسے کسی فرشتے سے ہو گئی ہے ۔اس کا خاوند صبح اپنے ہاتھ سے اسے ناشتہ بنا کر دیتا ہے اور تب تک وہ بیڈ پر ہی پڑی سوتی رہتی ہے ۔اسے شاپنگ کے لئے اچھے خاصے پیسے بھی دیتا ہے اور پھر روز شام کو وہ دونوں کسی اچھے سے ریستوران میں ڈنر کرتے ہیں …اللہ نظر بد سے بچائے۔“
ہمارے معاشرے میں یہ تضاد کیوں ہے؟

0 comments:

Post a Comment