انبیاء کرام علیہ السلام کے پیشے
آج کل ہم بعض پیشوں کی بنیاد پر
لوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں اور انکو وہ عزت اور مقام نہیں دیتے جو دوسرے
لوگوں کو دیتے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جن پیشوں کی وجہ سے ہم
لوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں ان پیشوں کو کرنے والوں لوگوں میں کون کون شامل
ہے
حضرت آدم عليہ السلام نے کھيتى کى ہے اور آٹا پيسا ہے اور روٹى پکائى ہے۔ حضرت ادريس عليہ السلام نے لکھنے کا اور درزى کا کام کياہے۔ حضرت نوح عليہ السلام نے لکڑى تراش کر کشتى بنائى ہے جو کہ بڑھئى کا کام ہے۔ حضرت ہود عليہ السلام تجارت کرتے تھے۔ حضرت صالح عليہ السلام بھى تجارت کرتے تھے۔ حضرت ذوالقرآنين جو بہت بڑے بادشاہ تھے اور بعضوں نے ان کو پيغمبر بھى کہا ہے وہ زنبيل بنتے تھے جيسے يہاں ڈليا يا ٹوکرى ہوتى ہے۔ حضرت ابراہيم عليہ السلام نے کھيتى کى ہے اور تعمير کا کام کيا ہے خانہ کعبہ بنايا تھا۔ حضرت لوط عليہ السلام کھيتى کرتے تھے۔ حضرت اسمعيل عليہ السلام نے کھيتى کى ہے اور تعمير کا کام کيا ہے خانہ کعبہ بنايا تھا۔ ۔ حضرت اسحق عليہ السلام حضرت يعقوب عليہ السلام اور ان کے سب فرزند بکرياں چراتے تھے اور ان کے بال بچوں کو فروخت کرتے تھے۔ حضرت يوسف عليہ السلام نے غلہ کى تجارت کى ہے جب قحط پڑا تھا۔ حضرت ايوب عليہ السلام کے يہاں اونٹ اور بکريوں کے بچے بڑھتے تھے اور کھيتى ہوتى تھى۔ حضرت شعيب عليہ السلام کے يہاں بکرياں چرائى جاتى تھيں۔ حضرت موسى عليہ السلام نے کئى سال بکرياں چرائى ہيں اور ان کے نکاح کا يہى مہر تھا۔ حضرت ہارون عليہ السلام نے تجارت کى ہے۔ حضرت اليسع عليہ السلام کھيتى کرتے تھے۔ حضرت داود عليہ السلام زرہ بناتے تھے جو کہ لوہار کا کام ہے۔ حضرت لقمان عليہ السلام بڑے حکمت والے عالم ہوئے ہيں اور بعضوں نے ان کو پيغمبر بھى کہا ہے انہوں نے بکرياں چرائى ہيں۔ حضرت سليمان على السلام زنبيل بناتے تھے اور حضرت زکريا عليہ السلام بڑھئى کا کام کرتے تھے۔ حضرت عيسى عليہ السلام نے ايک دوکاندار کے يہاں کپڑے رنگے تھے۔ ہمارے پيغمبر عليہ الصلوة والسلام کا بلکہ سب پيغمبروں کا بکرياں چرانا ابھى بيان ہو چکا ہے۔ اگرچہ ان پيغمبروں کا گذر ان چيزوں پر نہ تھا مگر يہ کام کيے تو ہيں ان سے عار تو نہيں کى اور بڑے بڑے ولى اور بڑے بڑے عالم جن کى کتابوں کا مسئلہ سند ہے ان ميں سے کسى نے کپڑا بننا ہے۔ کسى نے چمڑے کا کام کيا ہے کسى نے جوتى سينے کا کام کيا ہے کسى نے مٹھائى بنائى ہے پھر ايسا کون ہے جو ان سب سے زيادہ (توبہ توبہ) عزت دار ہے۔
حضرت آدم عليہ السلام نے کھيتى کى ہے اور آٹا پيسا ہے اور روٹى پکائى ہے۔ حضرت ادريس عليہ السلام نے لکھنے کا اور درزى کا کام کياہے۔ حضرت نوح عليہ السلام نے لکڑى تراش کر کشتى بنائى ہے جو کہ بڑھئى کا کام ہے۔ حضرت ہود عليہ السلام تجارت کرتے تھے۔ حضرت صالح عليہ السلام بھى تجارت کرتے تھے۔ حضرت ذوالقرآنين جو بہت بڑے بادشاہ تھے اور بعضوں نے ان کو پيغمبر بھى کہا ہے وہ زنبيل بنتے تھے جيسے يہاں ڈليا يا ٹوکرى ہوتى ہے۔ حضرت ابراہيم عليہ السلام نے کھيتى کى ہے اور تعمير کا کام کيا ہے خانہ کعبہ بنايا تھا۔ حضرت لوط عليہ السلام کھيتى کرتے تھے۔ حضرت اسمعيل عليہ السلام نے کھيتى کى ہے اور تعمير کا کام کيا ہے خانہ کعبہ بنايا تھا۔ ۔ حضرت اسحق عليہ السلام حضرت يعقوب عليہ السلام اور ان کے سب فرزند بکرياں چراتے تھے اور ان کے بال بچوں کو فروخت کرتے تھے۔ حضرت يوسف عليہ السلام نے غلہ کى تجارت کى ہے جب قحط پڑا تھا۔ حضرت ايوب عليہ السلام کے يہاں اونٹ اور بکريوں کے بچے بڑھتے تھے اور کھيتى ہوتى تھى۔ حضرت شعيب عليہ السلام کے يہاں بکرياں چرائى جاتى تھيں۔ حضرت موسى عليہ السلام نے کئى سال بکرياں چرائى ہيں اور ان کے نکاح کا يہى مہر تھا۔ حضرت ہارون عليہ السلام نے تجارت کى ہے۔ حضرت اليسع عليہ السلام کھيتى کرتے تھے۔ حضرت داود عليہ السلام زرہ بناتے تھے جو کہ لوہار کا کام ہے۔ حضرت لقمان عليہ السلام بڑے حکمت والے عالم ہوئے ہيں اور بعضوں نے ان کو پيغمبر بھى کہا ہے انہوں نے بکرياں چرائى ہيں۔ حضرت سليمان على السلام زنبيل بناتے تھے اور حضرت زکريا عليہ السلام بڑھئى کا کام کرتے تھے۔ حضرت عيسى عليہ السلام نے ايک دوکاندار کے يہاں کپڑے رنگے تھے۔ ہمارے پيغمبر عليہ الصلوة والسلام کا بلکہ سب پيغمبروں کا بکرياں چرانا ابھى بيان ہو چکا ہے۔ اگرچہ ان پيغمبروں کا گذر ان چيزوں پر نہ تھا مگر يہ کام کيے تو ہيں ان سے عار تو نہيں کى اور بڑے بڑے ولى اور بڑے بڑے عالم جن کى کتابوں کا مسئلہ سند ہے ان ميں سے کسى نے کپڑا بننا ہے۔ کسى نے چمڑے کا کام کيا ہے کسى نے جوتى سينے کا کام کيا ہے کسى نے مٹھائى بنائى ہے پھر ايسا کون ہے جو ان سب سے زيادہ (توبہ توبہ) عزت دار ہے۔
0 comments:
Post a Comment