بزرگ
سیانے کہتے ہیں قرآن حکیم کا ہر
لفظ‘ مفہوم کے حوالے سے گلاب کے پھول کی مانند ہوتا ہے‘ ایک پنکھڑی اٹھاؤ
تو نیچے ایک اور پنکھڑی ہوتی ہے۔ اسے اٹھاؤ تو نیچے ایک اور پنکھڑی ہوتی
ہے‘ پنکھڑی در پنکھڑی" مفہوم در مفہوم۔ یہی حال بزرگوں کا ہے وہ بیک وقت
کئی ایک سطحوں پر جیتے ہیں۔
(اقتباس: ممتاز مفتی کی کتاب "الکھ نگری" کے "دیباچہ" سے)
(اقتباس: ممتاز مفتی کی کتاب "الکھ نگری" کے "دیباچہ" سے)

0 comments:
Post a Comment