اللہ کی قسم! ہمشیرہ کا دانت نہیں ٹوٹے گا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں دو عورتوں میں جھگڑا ہوگیا- ان میں سے ایک
حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا تھیں جنہوں نے دوسری عورت کا
دانت توڑ دیا تھا-
جب مقدمہ بارگاہ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
"القصاص القصاص"
"کتاب اللہ کے فیصلہ کے مطابق دانت کے بدلہ دانت ہی توڑا جائے گا"
حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی تھے جو جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے
تھے اور بعد میں انھوں نے حیمیت اسلامی سے سرشار ہو کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض
کیا تھا
" اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالی نے مجھے مشرکین سے جنگ کا موقع دیا تو اللہ تعالی خود دیکھے گا کہ میں کیسے کارنامہ انجام دیتا ہوں-"
چنانچہ غزوہ احد میں بڑی جواں مردی سے کافروں کا مقابلہ کیا اور شہید
ہوگئے- شہادت کے بعد دیکھا گیا تو اس کے جسم پر تلواروں، نیزوں اور تیروں کے 80
سے زائد زحم لگے ہوئے تھے اور کافروں نے ان کا اس قدر برے طریقہ سے مثلہ
کیا تھا کہ ان کی بہن ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا انہیں پہچان نہ سکیں، بلکہ ان کی
انگلیوں کے پوروں کی مدد سے انہیں پہچانا-
غرض یہ صحابی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعرض کیا
" اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں کہ میری بہن ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا کا دانت توڑ دیا جائے؟"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
{ نعم، کتاب اللہ}
" ہاں کتاب اللہ کا یہی فیصلہ ہے"
حصرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میری ہمشیرہ کا دانت نہیں ٹوٹے گا
آخر یہ قسم کیسی تھی؟ کیا حضرت انس نے شرعی حکم پر اعتراض کیا تھا؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ قبول نہ تھا؟
ہرگز نہیں، بلکہ انہوں نے یہ قسم اس لیے کھائی کہ انہیں اللہ کی ذات سے
امید تھی کہ اللہ تعالی ان کی قسم کو رائیگاں نہیں جانے دے گا بلکہ ضرور
دوسری صورت پیدا فرمائے گا- وہ اپنے رب العالمین سے دعا کررہے تھے-
چنانچہ جب انس بن نضر رض نےقسم کھالی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
" اس (زخمی) عورت کے گھروالوں کے پاس جاؤ- اگر وہ لوگ تاوان پر راضی ہو جائيں تو پھر کوئی حرج نہیں-"
لوگ اس زخمی عورت کے گھر والوں کے پاس گئے- ان لوگوں نے تاوان پر
رضامندی ظاہر کردی، حالانکہ اس سے پہلے وہ راضی نہیں ہو رہے تھے بلکہ ربیع
بنت نضر رضی اللہ عنہا کا دانت توڑنے پر مصر تھے-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر
مسکراہٹ چھا گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انس بن نضر رضی اللہ عنہا کے پھٹے ہوئے کپڑے اور ان کے دبلے
پتلے جسم کی طرف دیکھنےلگے، پھر فرمایا
{ ان من عباداللہ من لو اقسمعلی اللہ لآبرّہ}
" اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالی (کے بھروسہ) پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالی ان کی قسم پوری کر دیتے ہیں-"
(بخاری 2703، مسند احمد: 3/128)
اقتباس: سنہری کرنیں
از: عبدالمالک مجاھد
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں دو عورتوں میں جھگڑا ہوگیا- ان میں سے ایک حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا تھیں جنہوں نے دوسری عورت کا دانت توڑ دیا تھا-
جب مقدمہ بارگاہ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
"القصاص القصاص"
"کتاب اللہ کے فیصلہ کے مطابق دانت کے بدلہ دانت ہی توڑا جائے گا"
حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی تھے جو جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے اور بعد میں انھوں نے حیمیت اسلامی سے سرشار ہو کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا
" اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالی نے مجھے مشرکین سے جنگ کا موقع دیا تو اللہ تعالی خود دیکھے گا کہ میں کیسے کارنامہ انجام دیتا ہوں-"
چنانچہ غزوہ احد میں بڑی جواں مردی سے کافروں کا مقابلہ کیا اور شہید ہوگئے- شہادت کے بعد دیکھا گیا تو اس کے جسم پر تلواروں، نیزوں اور تیروں کے 80 سے زائد زحم لگے ہوئے تھے اور کافروں نے ان کا اس قدر برے طریقہ سے مثلہ کیا تھا کہ ان کی بہن ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا انہیں پہچان نہ سکیں، بلکہ ان کی انگلیوں کے پوروں کی مدد سے انہیں پہچانا-
غرض یہ صحابی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعرض کیا
" اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں کہ میری بہن ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا کا دانت توڑ دیا جائے؟"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
{ نعم، کتاب اللہ}
" ہاں کتاب اللہ کا یہی فیصلہ ہے"
حصرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میری ہمشیرہ کا دانت نہیں ٹوٹے گا
آخر یہ قسم کیسی تھی؟ کیا حضرت انس نے شرعی حکم پر اعتراض کیا تھا؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ قبول نہ تھا؟
ہرگز نہیں، بلکہ انہوں نے یہ قسم اس لیے کھائی کہ انہیں اللہ کی ذات سے امید تھی کہ اللہ تعالی ان کی قسم کو رائیگاں نہیں جانے دے گا بلکہ ضرور دوسری صورت پیدا فرمائے گا- وہ اپنے رب العالمین سے دعا کررہے تھے-
چنانچہ جب انس بن نضر رض نےقسم کھالی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
" اس (زخمی) عورت کے گھروالوں کے پاس جاؤ- اگر وہ لوگ تاوان پر راضی ہو جائيں تو پھر کوئی حرج نہیں-"
لوگ اس زخمی عورت کے گھر والوں کے پاس گئے- ان لوگوں نے تاوان پر رضامندی ظاہر کردی، حالانکہ اس سے پہلے وہ راضی نہیں ہو رہے تھے بلکہ ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا کا دانت توڑنے پر مصر تھے-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر مسکراہٹ چھا گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انس بن نضر رضی اللہ عنہا کے پھٹے ہوئے کپڑے اور ان کے دبلے پتلے جسم کی طرف دیکھنےلگے، پھر فرمایا
{ ان من عباداللہ من لو اقسمعلی اللہ لآبرّہ}
" اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالی (کے بھروسہ) پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالی ان کی قسم پوری کر دیتے ہیں-"
(بخاری 2703، مسند احمد: 3/128)
"القصاص القصاص"
"کتاب اللہ کے فیصلہ کے مطابق دانت کے بدلہ دانت ہی توڑا جائے گا"
حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی تھے جو جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے اور بعد میں انھوں نے حیمیت اسلامی سے سرشار ہو کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا
" اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالی نے مجھے مشرکین سے جنگ کا موقع دیا تو اللہ تعالی خود دیکھے گا کہ میں کیسے کارنامہ انجام دیتا ہوں-"
چنانچہ غزوہ احد میں بڑی جواں مردی سے کافروں کا مقابلہ کیا اور شہید ہوگئے- شہادت کے بعد دیکھا گیا تو اس کے جسم پر تلواروں، نیزوں اور تیروں کے 80 سے زائد زحم لگے ہوئے تھے اور کافروں نے ان کا اس قدر برے طریقہ سے مثلہ کیا تھا کہ ان کی بہن ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا انہیں پہچان نہ سکیں، بلکہ ان کی انگلیوں کے پوروں کی مدد سے انہیں پہچانا-
غرض یہ صحابی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعرض کیا
" اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں کہ میری بہن ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا کا دانت توڑ دیا جائے؟"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
{ نعم، کتاب اللہ}
" ہاں کتاب اللہ کا یہی فیصلہ ہے"
حصرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میری ہمشیرہ کا دانت نہیں ٹوٹے گا
آخر یہ قسم کیسی تھی؟ کیا حضرت انس نے شرعی حکم پر اعتراض کیا تھا؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ قبول نہ تھا؟
ہرگز نہیں، بلکہ انہوں نے یہ قسم اس لیے کھائی کہ انہیں اللہ کی ذات سے امید تھی کہ اللہ تعالی ان کی قسم کو رائیگاں نہیں جانے دے گا بلکہ ضرور دوسری صورت پیدا فرمائے گا- وہ اپنے رب العالمین سے دعا کررہے تھے-
چنانچہ جب انس بن نضر رض نےقسم کھالی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
" اس (زخمی) عورت کے گھروالوں کے پاس جاؤ- اگر وہ لوگ تاوان پر راضی ہو جائيں تو پھر کوئی حرج نہیں-"
لوگ اس زخمی عورت کے گھر والوں کے پاس گئے- ان لوگوں نے تاوان پر رضامندی ظاہر کردی، حالانکہ اس سے پہلے وہ راضی نہیں ہو رہے تھے بلکہ ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا کا دانت توڑنے پر مصر تھے-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر مسکراہٹ چھا گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انس بن نضر رضی اللہ عنہا کے پھٹے ہوئے کپڑے اور ان کے دبلے پتلے جسم کی طرف دیکھنےلگے، پھر فرمایا
{ ان من عباداللہ من لو اقسمعلی اللہ لآبرّہ}
" اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالی (کے بھروسہ) پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالی ان کی قسم پوری کر دیتے ہیں-"
(بخاری 2703، مسند احمد: 3/128)
0 comments:
Post a Comment