ڈاکٹر:۔ ”اب آپ کی طبیعت کیسی ہے؟“۔
مریض:۔ ”ڈاکٹر صاحب! پہلے سے زیادہ خراب ہو گئی ہے“۔
ڈاکٹر:۔ ”دوائی کھا لی [خالی] تھی کیا؟“۔
مریض:۔ ”نہیں ڈاکٹر صاحب دوائی کی شیشی تو بھری ہوئی تھی“۔
ڈاکٹر:۔ ”ارے صاحب، میرا مطلب ہے کہ دوا لے لی تھی کیا؟“۔
مریض:۔ ”جی آپ نے خود ہی دوائی دی تھی اور میں نے اُسی وقت لے لی تھی“۔
ڈاکٹر:۔ ”ابے دوائی پی لی تھِی کیا؟“۔
مریض:۔ ”اوہ ہو، نہیں ڈاکٹر صاحب! دوائی تو لال تھی“۔
ڈاکٹر:۔ ”ابے گدھے! دوائی کو پی لیا تھا کیا؟“۔
مریض:۔ ”نہیں ڈاکٹر، پیلیا تو مجھے تھا“۔
ڈاکٹر:۔ ”ارے بیوقوف انسان! داوئی کو منہ لگا کر پیٹ میں ڈالا تھا کہ نہیں؟“۔
مریض:۔ ”نہیں ڈاکٹر صاحب! کیونکہ دوائی کی شیشی کا ڈھکن بند تھا“۔
ڈاکٹر:۔ ”ارے نکمے، نالائق شخص! تم نے کھولا کیوں نہیں؟“۔
مریض:۔ ”آپ ہی نے تو کہا تھا کہ شیشی کا ڈھکن بند رکھنا“۔
ڈاکٹر:۔ ”تیرا علاج میں نہیں کر سکتا“۔
مریض (روہانسا بن کے):۔ ”میں ٹھیک تو ہو جاؤں گا نا ڈاکٹر صاحب؟“۔
مریض:۔ ”ڈاکٹر صاحب! پہلے سے زیادہ خراب ہو گئی ہے“۔
ڈاکٹر:۔ ”دوائی کھا لی [خالی] تھی کیا؟“۔
مریض:۔ ”نہیں ڈاکٹر صاحب دوائی کی شیشی تو بھری ہوئی تھی“۔
ڈاکٹر:۔ ”ارے صاحب، میرا مطلب ہے کہ دوا لے لی تھی کیا؟“۔
مریض:۔ ”جی آپ نے خود ہی دوائی دی تھی اور میں نے اُسی وقت لے لی تھی“۔
ڈاکٹر:۔ ”ابے دوائی پی لی تھِی کیا؟“۔
مریض:۔ ”اوہ ہو، نہیں ڈاکٹر صاحب! دوائی تو لال تھی“۔
ڈاکٹر:۔ ”ابے گدھے! دوائی کو پی لیا تھا کیا؟“۔
مریض:۔ ”نہیں ڈاکٹر، پیلیا تو مجھے تھا“۔
ڈاکٹر:۔ ”ارے بیوقوف انسان! داوئی کو منہ لگا کر پیٹ میں ڈالا تھا کہ نہیں؟“۔
مریض:۔ ”نہیں ڈاکٹر صاحب! کیونکہ دوائی کی شیشی کا ڈھکن بند تھا“۔
ڈاکٹر:۔ ”ارے نکمے، نالائق شخص! تم نے کھولا کیوں نہیں؟“۔
مریض:۔ ”آپ ہی نے تو کہا تھا کہ شیشی کا ڈھکن بند رکھنا“۔
ڈاکٹر:۔ ”تیرا علاج میں نہیں کر سکتا“۔
مریض (روہانسا بن کے):۔ ”میں ٹھیک تو ہو جاؤں گا نا ڈاکٹر صاحب؟“۔

0 comments:
Post a Comment