Sunday, 14 July 2013

Firecracker

Posted by Unknown on 04:30 with No comments
پٹاخہ
 
شبِ برات کا دن تھا ۔ ملنے والے جمع تھے ۔ ان میں سے ایک قدسی جائسی نامی تھے۔ داڑھی مونچھ صاف۔ لڑکی سے معلوم ہوتے تھے۔ بہت شوخیاں کر رہے تھے، اور بے تکلف و گستاخ ہوئے جاتے تھے
بار بار اکبر الہ آبادی سے کہتے:۔"آج شبِ برات ہے ، شب براتی دلوائیے"
اصرار زیادہ بڑھا تو اکبر نے تنگ آکر ایک شعر داغ دیا
 
تحفہ شبِ برات میں کیا دوں
میری جان تم تو خود پٹاخہ ہو

0 comments:

Post a Comment