پٹاخہ
شبِ
برات کا دن تھا ۔ ملنے والے جمع تھے ۔ ان میں سے ایک قدسی جائسی نامی تھے۔
داڑھی مونچھ صاف۔ لڑکی سے معلوم ہوتے تھے۔ بہت شوخیاں کر رہے تھے، اور بے
تکلف و گستاخ ہوئے جاتے تھے
بار بار اکبر الہ آبادی سے کہتے:۔"آج شبِ برات ہے ، شب براتی دلوائیے"
اصرار زیادہ بڑھا تو اکبر نے تنگ آکر ایک شعر داغ دیا
تحفہ شبِ برات میں کیا دوں
میری جان تم تو خود پٹاخہ ہو

0 comments:
Post a Comment