Sunday, 14 July 2013

Righteous Man

Posted by Unknown on 00:49 with No comments
پرہیزگار شخص

دنیا اچھے برے لو گوں سے بھری پڑی ہے۔ دنیا میں دونوں قسم کے لوگ ہر جگہ مو جود ہیں ۔ اللہ اپنے کرم سے کسی ایسے شخص کو ایمان کی روشنی بخش دے جو شیطانیت کی راہ پر چل نکلا ہو تو یہ نہ صرف اس شخص کی خوش قسمتی ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے جودو سخا اور بے نیا زی کا پتا بھی اس با ت سے چلتا ہے اور خدا کی ذات پر یقین ِ کا مل اور زیا دہ ہو جا تاہے ۔ زیر سطورقصہ بھی ایک ایسے شخص کا ہے جس نے اپنے شیطانی کاموں سے سب کو زچ کر رکھا تھا ۔ مگر جب خدا کی رحمت اس پر برسی تو لوگوں کو یہ معجزہ ہی لگا ۔ آج سے تقریباً پچیس برس پہلے وہ شخص اٹھارہ برس کا جوان تھا ۔ جوا کھیلنا، خصوصاً شراب پینا ، چوری چکاری اور لوگوں سے ہیرا پھیری کرکے پیسے بٹورنا اس کا شیوہ تھا۔ انتہائی شریف گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود اس کو یہ بری عادتیں دوستوں سے ایسی لگیں کہ وہ مڈل سے آگے نہ پڑھ سکا ۔ با پ نے بہت کو شش کی کہ چل کر دکان پر بیٹھے مگر مرضی سے جانے کے بعد وہاں بھی چوری کرکے بھاگ جاتا ۔ چند دنوں بعد پیسے ختم ہو جاتے تو پھر گھر واپس آجاتا ۔ ماں کی وجہ سے اس کا باپ مجبور تھا کہ وہ رونے لگتی تھی۔ اس بات سے اسے اور شہہ مل جاتی۔ تنگ آکر اس کے والد نے اپنی بھانجی سے اس کی شا دی کر دی ۔ بہن بیچاری بیوہ غریب تھی، بھائی کی ناانصافی پر احتجاج نہ کر سکی اور یوں اس جوارئیے پرویز عرف پیجی کو اپنی بیٹی دے دی ۔ پانچ بیٹیوں کی ماں تھیں، کیا کرتی ۔ پیجی صاحب کو تو مفت کی ملازمہ ہاتھ لگ گئی۔ پہلے تو جب گھر آتا تو ٹھنڈا کھا نا کھانا پڑتا تھا مگر اب اسکے کھانے اور کپڑوں کا خیال کرنے والی خادمہ گھر میں موجود تھی ۔ وقت گزر تا گیا اور پھر ایک دن وہ بیٹی کا باپ بن گیا وہ اس دن تقریبا ً پندرہ دن بعد گھر آیا تھا ۔ صحن میں بیٹھ کر سو چتا رہا کہ ابھی کھانا کیوں نہیں لیکر آئی ۔ والدہ نے کہا کہ تمہارے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے اب توکچھ شرم کرلے۔با پ بیچارہ بہن اور بھانجی کے سامنے شرمندہ ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ شاید شادی کے بعد تو سلجھ جائے گا ۔ ماں سے یہ الفاظ سن کر آپے سے با ہر ہو کر بولا میں ایسا نہیں چاہتا تھا ۔ اگر آپ نہیں پال سکتے تو یتیم خانے دے آئیں ۔ اندر بیوی سن رہی تھی ۔ تھوڑی دیر بعد غصے سے اندر گیا تو دیکھا کہ اس کی بیوی بچی کو ساتھ لگائے رورہی ہے ۔ پو چھا کیو ں رو رہی ہو کیا میں مرگیا ہوں، بیوہ ہوگئی ہو ۔ بیوی نے پہلی بار شکائتی نظروں سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا اور بولی نہیں میں تو اس لیے رورہی ہوں کہ میں نے خدا سے کتنی دعائیں کی تھیں کہ اللہ مجھے بیٹی نہ دینا ۔ اگر تمہا رے جیسا مر د پلے پڑا تو کیا ہو گا ۔ اتنا کہہ کر وہ پھر رونے لگی ۔ پیجی نے حیرت سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا کہ یہ بات اس نے کہی ہے جس نے دو سال چپ چاپ گزار دئیے، کبھی شکایت نہ کی تھی ۔ اپنے تئیں تو پیجی نے اس سے نکاح کرکے احسانِ عظیم کیا تھا کہ اس دور میں کون کسی یتیم غریب لڑکی سے بیاہ کرتا ہے ۔ جس کے سر پر باپ اور بھائی کا سایہ بھی نہ ہو ۔ وہ خاموش ہو کر کھانا کھائے بغیر چھت پر چلا گیا اور صبح فجر تک ٹہلتا رہا ۔ صبح مؤذن کی آواز پر گھر سے نکل آیا ۔ مسجد میں گیا تو مولوی صاحب سمجھے شاید چوری کرنے آیا ہے کیونکہ پہلے بھی دو دفعہ مسجد سے چوری کرتا پکڑا گیا تھا۔ انہو ں نے کہا کہ پیجی تو گھر جا کر سوتا کیوں نہیں یہاں تیرا کیا کام ۔ اگر چوری نہیں کرنی تو پھر کیا نماز پڑھنے آیا ہے ؟پیجی کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور بولا ہاں مولوی صاحب آج ہی جاگا ہوں مگر نماز تو کیا پڑھوں گا مجھے تو وضو کرنا بھی نہیں آتا ۔ مو لوی صاحب نیک انسان تھے۔ اسے وضو کروایا اور پھر اس نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھی، گھر واپس آیا تو دیکھا بیوی سورہی تھی بچی کو اٹھا کر سینے کے ساتھ لگا لیا ۔ بیوی کی آنکھ کھلی تو وہ یہ سمجھی شاید یتیم خانے دینے کے لیے لے جارہا ہے ۔ وہ رونے لگی اور کہا کہ میں نے کبھی تم سے کچھ نہیں مانگا، اپنی بچی کے لیے بھی کچھ نہیں مانگوں گی، یہ ظلم مت کر و ۔ پیجی کا دل بہت برا ہوا ۔ بیوی کو پیار سے سمجھایا کہ وہ اپنی بچی کو پیار کر نے کا حق بھی نہیں رکھتا؟
اسی دن سے با پ کے ساتھ دکان پر جا نے لگا ۔ پہلے پہل تو اس کے والد صاحب اس پر اعتبار نہیں کرتے تھے مگر پھر اس نے دکھا دیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال ہو تو انسان کا دل بدلنے پر دیر نہیں لگتی ۔ آج اس پیجی کو لوگ حاجی پرویز صاحب کے نام سے پکارتے ہیں ۔ اس نے دکان ایسی چلائی کہ کسی کو یقین نہیں ہوتا کہ یہ وہی پیجی ہے جو دو سو روپے چوری کرکے دکان کھلی چھوڑ کر بھاگ گیا تھا ۔ والدین کو، بیوی کو حج کروایا۔ آج ان کے چا ر بچے ہیں مگر اپنی بیٹی ( جس کا نام پیجی نے ” نو ر ایمان “ رکھا تھا اورنام رکھتے وقت اس نے کسی کی نہ سنی تھی ) اس کو بہت پیا ری ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ میری بیٹی نے میرے دل میں ایمان کی جوت جلائی ہے ۔ اس کا معصوم چہرہ دیکھ کر اور اپنی بیوی کی اس وقت کہی ہوئی بات نے مجھے اندر سے ہلا دیا تھا ۔ پرویز صاحب کو دیکھ لیں تو نورانی چہرہ اور ماتھے پہ محراب، گھنی ڈاڑھی ان کے پانچ وقت نمازی اور پرہیزگاری کا پتہ دیتی ہے ۔ مارکیٹ میں ان کی اتنی عزت ہے کہ لوگ ان کی شرافت کی مثالیں دیتے ہیں۔ صرف ان کے ماضی کو جاننے والے لوگ ہی اس بات سے واقف ہیں کہ وہ کیا تھا؟ میں سمجھتی ہوں کہ ان کی کوئی نہ کوئی نیکی ان کے کام آئی ہے جو خدا نے اتنی ذلتوں اور پستیوں سے نکال کر انہیں اس مقام تک پہنچایا ہے ۔ وہ شخص جس سے کسی کی مال وآبرو محفوظ نہ تھی آج محلے کی بہو بیٹیوں کو اپنی نورایمان جیسا سمجھتا ہے اور اس کی نگاہیں عورتوں کو دیکھ کر جھک جاتی ہیں ۔ دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو شیطانیت کی راہ پر اتنی دور تک چلنے کے بعد فلاح کی طرف آتے ہوں۔ یہ خدا کا بہت بڑا انعا م ہے کہ ایک چھوٹی سی بات سے بندے کا دل پھر جائے ۔
قارئین کرام آپ کوکبھی ایسے لوگ ملیں تو کبھی انہیں دل سے برا نہ جانئیے۔کیا معلوم آنے والا وقت کس کی جھولی میں کیا ڈالنے والا ہے؟ یہ خدائے بر تر کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔ میری استدعا ہے کہ اگر کسی ایسے شخص سے سامنا ہو تو اس کی اپنے طور اصلاح کی کو شش کیجئے ،یہ صدقہ جاریہ ہے ۔ تو فیق تو اسے خدا کی طرف سے ملتی ہے ۔ مگر کسی کی کہی ہوئی اچھی بات بھی انسان کا دل بدلنے کے لیے معاون ہو سکتی ہے ۔ آپ کی وجہ سے کسی ایک شخص نے بھی ہدایت کی روشنی پائی اور سیدھے راستے پر چل نکلا تو یقین جانئیے گا کہ زندگی کا مقصد پورا ہوگیا اور زندگی رائیگاں ہو نے سے بچ جائے گی ۔ نفسانفسی کے اس دور میں بہت کم ایسے لو گ ہیں جو دوسروں کے لیے سوچیں اور ان کی بہتری کے لیے کوئی قدم اٹھائیں۔ آئیے بارش کے پہلے قطرے کی طر ح ہمت کر کے پہل تو کریں کہ قطرہ قطرہ مل کر دریا ہو تا ہے ۔
اب آدمی آدمی نظر نہیں آتا چراغِ فکر جلا ﺅ کہ تیرگی ہے بہت

0 comments:

Post a Comment