Showing posts with label Bashir Badar. Show all posts
Showing posts with label Bashir Badar. Show all posts

Wednesday, 15 May 2013

Mere Sath Tum Bhi Dua Kero...

Posted by Unknown on 10:00 with No comments

میرے ساتھ تم بھی دعا کرو ، یوں کسی کے حق میں برا نہ ہو
کہیں اور ہو نہ یہ حادثہ ، کوئی راستے میں جدا نہ ہو


میرے گھر سے راستے کی سیج تک ، وہ اک آنسو کی لکیر ہے
ذرا بڑھ کے چاند سے پوچھنا ، وہ اسی طرف سے گیا نہ ہو


سر شام ٹھری ہوئی زمیں ، آسماں ہے جھکا ہوا
اسی موڑ پر مرے واسطے ، وہ چراغ لے کر کھڑا نہ ہو


وہ فرشتے آپ ہی ڈھونڈیئے ، کہانیوں کی کتاب میں
جو برا کہیں نہ برا سنیں ، کوئی شخص ان سے خفا نہ ہو


وہ وصال ہو کہ فراق ہو ، تری آگ مہکے گی ایک دن
وہ گلاب بن کے کھلے گا کیا، جو چراغ بن کے جلا نہ ہو


مجھے یوں لگا کے خاموش خوشبو کے ہونٹ تتلی نے چھو لیے
انہی زرد پتوں کی اوٹ میں کوئی پھول سویا ہوا نہ ہو


اسی احتیاط میں میں رہا اسی احتیاط میں وہ رہا
وہ کہاں کہاں میرے ساتھ ہے ، کسی اور کو یہ پتہ نہ ہو


بشیر بدر

Khuda Hum ko Aisi Khudai Na De...

Posted by Unknown on 09:41 with No comments

خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے

 خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے


خطا وار سمجھے گی دنیا تجھے
اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے


ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں
صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے


مجھے ایسی جنت نہیں‌ چاہیے
جہاں سے مدینہ دکھائی نہ دے


خدا ایسے احساس کا نام ہے
رہے سامنے اور دکھائی نہ دے


بشیر بدر

Friday, 15 February 2013

Kahin Chand Rahon Mein Kho Giya...

Posted by Unknown on 23:41 with No comments


کہیں چاند راہوں میں کھو گیا کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی

میں چراغ وہ بھی بجھا ہوا میری رات کیسے چمک گئی

مری داستاں کا عروج تھا تری نرم پلکوں کی چھاؤں میں
میرے ساتھ تھا تجھے جاگنا تری آنکھ کیسے جھپک گئی

بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے
نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے نہ کبھی تمہاری جھجک گئی

ترے ہاتھ سے مرے ہونٹ تک وہی انتظار کی پیاس ہے
مرے نام کی جو شراب تھی کہیں راستے میں چھلک گئی

تجھے بھول جانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہ ہوسکیں
تری یاد شاخ گلاب ہے جو ہوا چلی تو لچک گئی


اداس آنکھوں سے آنسو نہیں نکلتے ہیں
یہ موتیوں کی طرح سیپیوں میں پلتے ہیں

گھنے دھوئیں میں فرشتے بھی آنکھ ملتے ہیں
تمام رات کھجوروں کے پیڑ جلتے ہیں

میں شاہ راہ نہیں راستے کا پتھر ہوں
یہاں سوار بھی پیدل اتر کے چلتے ہیں

انہیں کبھی نہ بتانا میں ان کی آنکھوں میں
وہ لوگ پھول سمجھ کر مجھے مسلتے ہیں

کئی ستاروں کو میں جانتا ہوں بچپن سے
کہیں بھی جاؤں مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں

یہ اک پیڑ ہے آ اس سے مل کے رو لیں ہم
یہاں سے ترے مرے راستے بدلتے ہیں

 یہ چراغ بے نظر ہے یہ ستارہ بے زباں ہے

یہ چراغ بے نظر ہے یہ ستارہ بے زباں ہے 
ابھی تجھ سے ملتا جلتا کوئی دوسرا کہاں ہے

وہی شخص جس پہ اپنے دل و جاں نثار کردوں
وہ اگر خفا نہیں ہے ، تو ضرور بدگماں ہے

کبھی پاکے تجھ کو کھونا کبھی کھوکے تجھ کو پانا
یہ جنم جنم کا رشتہ تیرے میرے درمیاں ہے

میرے ساتھ چلنے والے تجھے کیا ملا سفر میں
وہی دکھ بھری زمیں ہے وہی دکھ بھرا آسماں ہے

میں اسی گماں میں برسوں بڑا مطمئن رہا ہوں
تیرا جسم بے تغیر ، میرا پیار جاوداں ہے

انہیں راستوں نے جن پر کبھی تم تھے ساتھ میرے
مجھے روک روک پوچھا تیرا ہمسفر کہاں ہے..!!