Showing posts with label Dried Fruit. Show all posts
Showing posts with label Dried Fruit. Show all posts

Thursday, 11 July 2013

Walnuts Useful for Mental Health

Posted by Unknown on 18:19 with No comments
اخروٹ دماغی قوت کیلئے مفید

خشک میوہ جات میں اخروٹ کو بھی اہم مقام حاصل ہے، اس میں روغن اور پروٹین کی کافی مقدار پائی جاتی ہے، اس کاذائقہ پھیکا مگر لذیذ ہوتا ہے۔

اخروٹ کا مزاج گرم ہے اس لئے سرد موسم میں اس کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔

اخروٹ دماغ کو قوت بخشتا ہے ،گردہ، مثانہ اورجگر کو طا قت دیتا ہے،اخروٹ انتڑیوں کو نرم وملائم کرکے قبض کو دور کرتا،جسم کے اندرونی ورم میں اس کا استعمال بے حد مفید ہے۔

اخروٹ بدہضمی کو دور کرتا ہے، باہ کو قوت بخشتا ہے اور جس میں موجود فاسد مادوں کوخارج کرتا ہے،یہ بواسیر میں بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔ اخروٹ کو بکثرت کھا نے سے پیٹ کے کیڑے مرجا تے ہیں۔

یہ فالج کے مریض کیلئے بھی بے حد مفید ہے، مغز اخروٹ تین تولہ اورانجیرسات دانہ دونوں کو رگڑ کر کھانا فائدہ مند ہے۔

آنکھوں کی کھجلی ، پانی بہنا اورجالا وغیرہ کی صورت میں اخروٹ کو بطور سرمہ پیس کرلگایا جاسکتا ہے ۔

اخروٹ اعضائے رئیسہ اور باطنی حواس کوقوت بخشتا ہے ،مغز اخروٹ ، سداب اور انجیر کے ساتھ کھا نا زہر کے اثر کو ختم کرتا ہے۔

سبز اخروٹ کے چھلکے کو اتار کر دانتو ں اورمسوڑھو ں پر ملنے سے دانتو ں کو کیڑا نہیں لگتااور مسوڑھے مضبو ط ہو تے ہیں۔

داد اور چوٹ کے نشان کومٹانے کیلئے پانی میں رگڑ کرتین ہفتے تک لگاتے رہنامفید ہوتاہے۔ اخروٹ کا تیل خارش کیلئےبھی بہت مفید ہوتا ہے۔

اخروٹ کے سبز چھلکے سے خضاب بھی بنایاجاتاہے جو با لو ں کو نہ صرف کالا کرتا ہے بلکہ چمکدار بھی بناتا ہے۔

اخروٹ جسم میں گرمی کو بڑھاتا ہے اور چربی پیدا کرتاہے اس لیے دل کے مریض اس کے کھا نے میں احتیا ط برتیں۔

Saturday, 6 July 2013

بادام خشک میوہ جات میں سرفہرست

بادام ایک بہت ہی مشہور پھل ہے، خشک میوہ جات میں پہلا نمبر اسی کا آتاہے، عموماً سردیوں کے آتے  ہی بادام کا استعمال شروع ہوجاتا ہے۔
بادام کی افادیت مسلمہ ہے اسی لئے یہ  مختلف کھانوں، سوئیٹ ڈش، بسکٹس اور آئسکریم وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔
بادام کا سب سے اہم فائدہ دماغ سے متعلق ہے، دماغی کمزوری اور حافظہ کی کمزوری میں بادام کھانا بہت فائدہ مند ہوتا ہے ۔
چکر آنے پر بادام کھایاجائے تواس مسئلے سے نجات مل سکتی ہے، بادام دماغ کی خشکی کو دور کرتاہے، آنکھوں کے سامنے اندھیرا آنے میں بھی بادام کا استعمال مفید ہے، یہ نظر کی کمزوری کو بھی دور کرتا ہے۔
بادام جگر کی کمزوری کیلئے بھی ایک بڑی نعمت ہے، یہ جگر کی کمزوری کو رفع کرتا ہے، آنتوں میں تری پیدا کرکےاسے نرم کرتا ہے، اس وجہ سے بواسیر بادی اور قبض ختم  ہوتی ہے۔
اگر قبض  زیادہ ہوتو بادام کو سونف یا منقٰی کے ساتھ استعمال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے، بادام کو انجیر کے ساتھ کھانے سے بھی قبض دورہوتاہے۔
بادام سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کیلئے بھی مفید ہوتا ہے، اگر بلغم سخت ہوکر پھیپھڑوں میں جم گیا ہے اور بار بار کھانسی آتی ہے لیکن بلغم کااخراج نہیں ہوتا ایسی صورت میں بادام کو مکھن کے ساتھ کھانے سے فائدہ ہوگا۔
پیشاب کی جلن اور پیشاب کا رک کر آنے کی صورت میں بھی بادام مفید ہوتا ہے۔

Friday, 5 July 2013

خشک انگور یعنی” کشمش” میں تمام غذاؤں کے مقابلے میں زیادہ اینٹی آکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں،اس میں وٹامن سی اور فائٹو کیمیکلز کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔
جدید تحقیق کے مطابق  کشمش میں تازہ انگور کی نسبت صحت بخش اینٹی آکسیڈنٹ کی مقدار تقریباً تین گناہ زیادہ ہوتی ہے۔
کشمش میں غذائیت بخش اجزاء کی مقدار زیادہ ہوناحیران کن بات نہیں کیونکہ خشک پھلوں میں مرکبات زیادہ مقدار میں یکجا ہوتے ہیں۔
سرخ اور سبز انگور کی خشک شکل میں ایسے کیمیائی مادے ہوتے ہیں جو عمل تکسید کے تباہ کن اثرات میں جسمانی خلیات کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
دن بھر میں اگر 30 گرام کشمش کھائی جائے تو یہ 170 گرام انگور کھانے کے برابر ہے۔
کشمش سے جسم کو پوٹاشئیم، فائبر اور بعض منرلز کی بھی قابل ذکرمقدار حاصل ہوتی ہے،خشک پھلوں میں شکر کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے جس کے نتیجےمیں حرارے بھی بڑھ جاتے ہیں۔
 کشمش ہلکے پھلکے ناشتے کے طور پر کھانے والی بہترین چیز ہے، طبی ماہرین بچوں کو سویٹس اور ٹافی کی جگہ کشمش اور اسی طرح کی دیگر خشک میوہ جات  خوبانی، آلو بخارا، منقہ، اور کھجور کھلانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
 کشمش قبض کشا بھی ہے، تیزا بیت اور گیس میں مفید ہے،  یہ  کمزور لوگوں کا وزن بڑھاتی ہے، جسم کے کولیسٹرول میں اضافہ نہیں کرتی،خون کی کمی دور کرتی ہے، وائرس اور جراثیم سے ہونے والے بخار کو کم کرتی اور ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے۔

Thursday, 30 May 2013

گرمی اور تربوز ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں گرمی ہو اور تربوز کا ذکر ہو یہ ناممکن ہے۔ تربوز کی مدد سے گرمی کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

Saturday, 27 April 2013

Medical Benefits Of Falsh

Posted by Unknown on 22:54 with No comments
فالسہ کے طبی فوائد

براعظم ایشیاء کا مقبول پھل فالسہ اپنے ذائقے اور فرحت بخش اثرات کے باعث بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا سائنسی نام (Grewia Asiatica) ہے۔ جبکہ اس کا تعلق (Tiliaceae) خاندان سے ہے۔ یہ پیاس کی شدت میں کمی اور خون و دل کے امراض کو ختم کرنے کی تاثیر رکھتا ہے۔ یہ 4 سے 8 میٹر تک اونچائی والا چھوٹا درخت ہے۔
اس کے پتے دیکھنے میں دل کی شکل کے ہوتے ہیں جن کی لمبائی 20 سینٹی میٹر اور چوڑائی 16.25 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ ان پر موسم بہار میں چھوٹے چھوٹے پیلے رنگ کے پھول نکلتے ہیں جن کی پتیوں کی لمبائی 2 ملی میٹر ہوتی ہے۔ پھل گول ہوتا ہے جس میں 5 ملی میٹر چوڑا بیج پایا جاتا ہے۔ فالسے کا پھل بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے۔ اس میں 81 فیصد پانی کے علاوہ پروٹین ، چکنائی ، ریشے اور نشاستہ پایا جاتا ہے
فالسہ ایک ایسا پھل ہے جس میں لذت کے علاوہ بیشمار طبی اور غذائی فوائد بھی پائے جاتے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں فالسہ بہت بڑی قدرتی نعمت ہے۔ تحقیق کے مطابق فالسے اور اس کا شربت جگر کے امراض میں فائدہ مند ہے اور خاص طورپر یرقان کے مریضوں کے لیے یہ نہایت مفید ہے، جب کہ تندرست افراد کے لیے بھی روزانہ فالسے کا ایک گلاس ٹھنڈا شربت انھیں یرقان سے محفوظ رکھتا ہے۔فالسے کا شربت صبح شام پینے سے نہ صر ف بلڈ پریشر کم ہوتا ہے بلکہ سر درد میں بھی فائدہ مند ہے۔شدید گرمی اور لو میں فالسے کا ایک گلاس شربت پی کر سن اسٹروک سے بھی محفوظ رہا جاسکتا ہے۔
فالسہ کے مزید طبی فوائد
(1)فالسہ مقوی دل ہوتا ہے
(2) فالسہ معدہ اور جگر کو طاقت دیتا ہے
(3) یہ پیاس بجھاتا ہے
(4) پیشاب کی سوزش کو ختم کرتا ہے
(5) یہ مُبَّرِد اور قابض ہوتا ہے
(6)گرمی کے بخا ر کو فائدہ دیتا ہے
(7) فالسہ کا پانی نکال کر اس سے شربت بنایا جاتا ہے
( اختلاج القلب اور خفقان کو بے حد مفید ہوتا ہے
(9) فالسے کا رُب بھی بنایا جاتا ہے جس کو معدہ کی قوت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے
(10) فالسے کی جڑکا چھلکا سوزاک اور ذیابیطس میں استعمال کرانا مفید ہوتا ہے۔
11
فالسے کے پانی سے غرارے کرنے سے خناق کو فائدہ ہوتا ہے
(12) یہ صفراوی اسہال ،ہچکی اور قے کو بند کرتا ہے
(13) تپ دق میں فالسے کا استعمال بے حد مفید ہوتا ہے
(14) معدے اور سینے کی گرمی اور جلن کو دور کرتا ہے
(15)دل کی دھڑکن اور خاص طور پر بے چینی کو دور کرتا ہے
(16) کھٹا اور نیم پختہ فالسہ استعمال نہیں کرنا چائیے
(1 ذیابیطس کیلئے فالسے کے درخت کا چھلکا پانچ تولے اور کوزہ مصری تین تولے لے کر چھلکے کو رات پانی میں بھگو دیں اور صبح مصری ملا کرمریض کو ایسی ہی خوراک پانچ روز تک پلانا بے حد مفید ہوتا ہے ۔ اس سے ذیابیطس (شوگر) پر کنٹرول ہو جاتا ہے۔
(19) جگر کی گرمی کو دور کرنے کیلئے فالسے کو جلا کر کھار بنائیں اور تین رتی صبح و شام استعمال کریں
(20)فالسہ مصفیٰ خون بھی ہے
(21)فالسے کا شربت بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے۔ آدھ سیر پختہ فالسہ، ایک سیر چینی ، پہلے فالسے کو پانی میں خوب رگڑ کر چھان لیں اور چینی ملا کر قوام تیار کریں، جب قوام گاڑھا ہو جائے تو شربت تیار ہے۔ ٹھنڈا کر کے بوتلوں میں بند کر لیں۔ ،یہ شربت مقوی معدہ و دل ہوتا ہے، جگر کی حرارت کو تسکین دیتا ہے، قے ، دستوں اور پیاس کو فائدہ دیتا ہے
(22) جن کا معدہ بوجھل رہتا ہو طبیعت متلاتی ہو اور کھانے کی نالی میں جلن محسوس ہوتی ہو ایک پاﺅ فالسہ کا پانی نکال کر تین پاﺅ چینی ملا کر گاڑھا شربت تیار کر یں یہی شربت تین بڑے چمچے ہر کھانے کے بعد چاٹنے سے بے حد فائدہ ہوتا ہے
(23) فالسے کے درخت کی چھال کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے ایک چھٹانک میں آدھ چھٹانک بنولہ کوٹ کر دونوں کو ایک سیر پانی میں بھگو دیں دو دفعہ مل چھان کر پھیکا یا نمک ملا کر پلانے سے ذیابیطس شکری کنٹرول ہو جاتی ہے
(24) پھوڑے پھنسیوں پر فالسے کے پتے رگڑ کر لگانے سے فوراً فائدہ ہوتا ہے
(25) فالسے کو دو روز سے زیادہ بغیر فرج کے نہیں رکھا جا سکتا ،خراب ہو جاتا ہے
(26) تیز بخاروں میں فالسہ کا جوس دینے سے مریض کی تسکین ہوتی ہے
(27) فالسے کے بیج قابض ہوتے ہیں اور سُدَّہ پیدا کرتے ہیں۔
(2 اس کی جڑ کی چھال کا جوشاندہ بنا کر پینا جوڑوں کے درد میں بے حد مفید ہوتا ہے
( 29) فالسے کا شربت فساد خون کو بے حد مفید ہوتا ہے
(30)فالسے کی جڑ کی چھال دو تولے رات کو بھگو کر صبح اس کا پانی پینے سے سینے کی جلن دور ہوتی ہے
(31) فالسے کا متواتر استعمال خون اور صفراءکی تیزی کو دفع کرتا ہے
(32) فالسے کے پتے، بیج اور رس، ان میں کسی ایک کو پانی میں رگڑ کر پینے سے گرمی دور ہوتی ہے
(33) فالسہ سرد مزاج والوں کو نقصان دہ ہوتا ہے
(34) سینے او ر پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے، اس لئے احتیاط سے اسے استعما ل کرنا چائیے اور ضرورت سے زیادہ نہیں کھانا چائیے۔ اگر زیادہ کھا لیا جائے تو پھر گلقند تھوڑی سی کھا لینے سے اس کے مضر اثرات نہیں ہوتے
(35)شربت فالسہ میںاگر عرق گلاب ڈال کر پیا جائے تو اس کے فوائد دگنے ہو جاتے ہیں
(36) فالسہ خشکی اور قبض پیدا کر تا ہے ۔ اگر گلقند یا معجون فلا سفہ کا ایک چمچہ چائے والا فالسے کے بعد لے لیا جائے تو پھر قابض اورخشک نہیں رہتا ۔ بہرحال فالسہ کا مقدار کے مطابق استعمال کرنا ہر صورت میں فائدہ مند رہتا ہے

Monday, 22 April 2013

Benefits Of Dried Grapes

Posted by Unknown on 09:29 with No comments

منقٰی کے فوائد

حضرت ابو ہند داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی خدمت میں منقٰی کا تحفہ ایک بند تھال میں پیش کيا گيا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے اسے کُھول کر ارشاد فرمایا: "بِسم اللہ" کہہ کر کھاؤ۔ منقٰی بہتریں کھانا ہے جو پٹھوں کو مظبوط کرتا ہے، پُرانے درد کو ختم کرتا ہے، غصّہ کو ٹھنڈا کرتا ہے اور منہ کی بدبو کو زائل کرتا ہے، بلغم کو نکالتا ہے اور رنگ کو نکھارتا ہے۔
[تاريخ دمشق لابن عساکر:21\60]

Tuesday, 2 April 2013

واشنگٹن …ایک حالیہ امریکی تحقیق میں اخروٹ کو انسا نی صحت کے لیے سب سے زیا دہ فا ئدہ مند خشک میو ہ قرار دیا گیا ہے ۔ تحقیق میں انکشا ف کیا گیا ہے کہ خواتین کے لیے اخروٹ کا استعما ل نہایت فا ئدہ مند ہے او ر وہ خواتین جو با قا عدگی سے اخروٹ کو غذ ا کا حصہ بنا تی ہیں ان میں ذیابیطس کا خطرہ تین چو تھا ئی کم ہو جا تا ہے ۔ ما ہرین کے مطا بق طبّی فو ائد کے لحا ظ سے اخروٹ دیگر خشک میو ہ جا ت کے مقا بلے میں پہلے نمبر پر ہے کیو نکہ اس میں صحت کے لیے فا ئدہ مند اجزاء کی مقدا ر سب سے زیا دہ ہو تی ہے ۔ ما ہرین کا کہنا ہے کہ اخر وٹ میں مو جو د اجزاء دل کی بیما ریوں ، ہا ئی کو لیسٹرول اور ہڈیوں کے امراض سمیت کئی بیماریوں سے محفو ظ رکھنے میں مد د دیتے ہیں لہذا اسے معمو ل کی غذا کا لازمی حصہ بنا نا چا ہیے ۔

Thursday, 28 March 2013

The benefits of Omum Seeds

Posted by Unknown on 01:41 with No comments

اردو اجوائن
عربی کمون ملوکی
فارسی تخم بنگ
انگریزی میں Omum Seeds

اجوائن ایک ایسی دوا ہے ۔ جس سے تقریباً ہر شخص وا قف ہے ۔ اجوائن کا رنگ سیا ہی مائل بھورا ہو تاہے ۔ اس کے بیج انیسوں کے مشابہ ہو تے ہیں ۔ اس کی بو تیز ہو تی ہے ۔ ا س کا مزاج تیسرے درجے میں گرم و خشک ہوتاہے ۔ عام طور پر اس کی مقدار خوراک تین ما شہ سے چھ ما شہ تک ہو تی ہے ۔

اجوائن کی دو مشہور اقسام ہیں ۔ اجوائن دیسی او راجوائن خراسانی بعض اطباءنے اس کی چاراقسام بتائی ہیں یعنی
(1) 
اجوائن دیسی
(2) 
دلجوائن
(3) 
اجوائن خراسانی
(4) 
اجمود
لیکن مذکو رہ بالا دونوں اقسام ہی زیا دہ مشہور ہیں ۔ جبکہ دلجوائن ، اجوائن خراسانی اور اجمو د کی مشابہت ضرور ہے مگر خوا ص کے اعتبار سے ان میں اجوائن دیسی کی نسبت خاصا فر ق ہے۔

اجوائن دیسی کے پتے کچھ کچھ دھنیا کے پتوں سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ ان میں سے تھوڑی سی تیزی اورتلخی ہوتی ہے۔اس کا پو دا سوئے کے پو دے کی طر ح ہو تاہے ۔ جبکہ اس کے چھو ٹے چھوٹے ، سفید چھتری کی طر ح ملے ہوئے پھول ہو تے ہیں ۔ پھولوں کے بعد چھوٹے چھوٹے بیج لگتے ہیں۔ اور یہی اجوائن دیسی کے دانے کہلاتے ہیں ۔

اجوائن دیسی کے فوائد
(1 ) 
اجوائن دیسی کھا نا ہضم کر تی ہے اور بھوک بڑھ جا تی ہے ۔
(2 ) 
کا سر ریا ح ہے ۔ فسا د بلغم اور اپھا رہ کو دور کر تی ہے ۔
(3 ) 
جگر کی اصلا ح کر تی ہے اور اس کی سختی میں بے حد مفید ہے ۔
(4 ) 
سدہ کو کھو لتی ہے۔
(5 ) 
پیشا ب اور حیض کوجا ری کر تی ہے ۔
(6 ) 
گردہ و مثانہ کی پتھری کوتوڑتی ہے ۔
(7 ) 
فالج اور اعصابی کمزوری والے مریضوں کے لیے مجر ب ہے ۔
(8 ) 
جسم کے زہریلے ما دوں کو تحلیل کرتی ہے ۔
(9 ) 
دل کو طا قت دیتی ہے اور اعصابی دردوں کے لیے بہت مفید ہے ۔
(10) 
اگر اسے لیموں کے پانی میں رگڑ کر خشک کر کے سفوف بنا یا جائے اور یہ سفوف ایک چمچہ چائے والا ہمراہ پانی دن میں ایک بار استعمال کرنے سے قوت باہ میں اضافہ ہو تاہے ۔
(11) 
اجوائن کو اگر شہد کے ہمراہ کھا یا جا ئے تو چہر ے اور ہا تھ پا ﺅں کی سو جن میں فائدہ دیتی ہے ۔
(12) 
کالی کھا نسی دور کر نے کے لیے اگر اجوائن کاپا نی یعنی اجوائن کو پانی میں بھگو کر اور نتھا ر کر پانچ روز تک صبح و شام تین تولے پینے سے انشاءاللہ شفا ہو گی ۔
(13) 
پیٹ کے درد اور بد ہضمی میں اجوائن اور نمک کی پھکی بناکر کھا نے سے شفا ہو تی ہے ۔ تجر بے میں آیا ہے کہ اس کی ایک خوراک ہی بہت فا ئدہ دیتی ہے ۔
(14 ) 
اس کا روزانہ استعما ل بمقدار چھ ما شہ ہمراہ پانی بد ن میں چستی لاتاہے ۔
(15) 
پرانے بخار میں اجوائن دیسی چھ ماشہ ، گلو تین ماشہ رات کو پانی میں بھگو کر صبح رگڑ چھان کر حسب ذائقہ نمک ملا کر استعمال کرنے سے تین سے پانچ دن کے اندر بخار دور ہو جا تاہے ۔ مجر ب ہے۔
(16) 
زکا م کی صورت میں اجوائن کو گرم کر کے با ریک کپڑے میں پوٹلی باندھ کر سونگھنے سے چھینکیں آتی ہیں جس سے پانی بہہ جا تاہے ۔ اور زکام کا زور کا فی حد تک کمزور ہو جا تاہے ۔
(17 ) 
ہچکی کو روکنے کے لیے اجوائن دیسی کو آگ پر ڈال کر اگر اس کا دھواں کسی نلکی کے ذریعے نا ک میں لیا جائے تو ہچکی فوراً بند ہو جا تی ہے۔
(18 ) 
اجوائن کے چند دانے چبا لینے سے قے فوراً رک جا تی ہے ۔ اگر منہ کا ذائقہ خرا ب ہو تو اجوائن کے دانے چبانے سے ٹھیک ہو جا تاہے ۔
(19) 
اس کے کھا نے سے کھٹی ڈکا ریں آنا بند ہو جا تی ہیں ۔
(20) 
مرض برص و بہق میں دیگر نسخہ جا ت میں اجوائن کو شامل کرنے سے اس کی تا ثیر بڑھ جا تی ہے ۔ اور مرض جلدی ٹھیک ہو جاتا ہے۔
(21)
بند چو ٹ والی جگہ پر اجوائن کو رگڑ کر شہد میں ملا کر لگا نے سے اس جگہ کا منجمد خو ن جاری ہو جا تا ہے اور درد ٹھیک ہو جا تی ہے۔
(22) 
بھڑیا بچھو کے کا ٹنے کی صور ت میں اگر فوری طور پر متاثرہ جگہ پر اجوائن کی لیپ کی جائے تو فوراً آرام ہو جا تا ہے۔
(23) 
پیچش کی صور ت میں اجوائن تین ما شہ اور کلونجی ایک ماشہ ملا کر ہمراہ دہی استعمال کرنے سے فائدہ ہو تاہے.
(24) 
داد، پیچش اور چنبل میں اجوائن کی اگر مرہم بنا کر لگائی جائے تو چند روز میں فائدہ ہو تاہے۔ اور پھر کبھی زندگی میں یہ تکلیف نہیں ہوتی۔ اس مر ہم کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اجوائن چار تولہ ، پھٹکری سفید ایک تولہ توتیا ئے سبز ایک تولہ ، ان تمام چیز وں کو لوہے کی کڑاہی میں آگ پر اتنی دیر رکھیں کہ وہ سیا ہ ہو جائے ۔ پھر مثل سرمہ کر کے ویزلین ملا کر مرہم تیا ر کر لیں ۔

Monday, 18 March 2013

Nut Pine...چلغوزہ

Posted by Unknown on 08:51 with No comments

اردو چلغوزہ
عربی حب صنوبر کبار
فار سی چلغوزہ
سندھی نیزا
انگریزی Filler Nut
اس کے چھلکے کا رنگ سرخ اور مغز سفید ہوتا ہے۔ ذائقے میں یہ قدرے شیریں اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ اس کا مزاج گرم اور تر درجہ اول ہے۔ مقدار خوراک، ایک تولہ سے ڈیڑھ تولہ ہے۔ اس کے حسب ذیل فوائد ہیں۔
چلغو زہ کے فوائد
(1 )
چلغوزہ مقوی اعصا ب ہے۔
(2 )
بھوک بڑھا تا ہے۔
(3)
لقوہ اور فالج میں اس کا مسلسل استعما ل مفیدہے۔
(4 )
پرانی کھانسی میں مغز چلغوزہ رگڑ کر شہد میں ملا کر چٹانا مفید ہو تا ہے۔
(5 )
مغز کھیرا اور مغز چلغوزہ ہم وزن استعمال کرنے سے بند پیشاب جا ری ہو تاہے۔
( 6 )
مغز چلغوزہ، جریا ن، یر قان اور درد گردہ میں بے حد مفید ہے۔
(7 )
اس کاکھا نا جسمانی گوشت کو مضبو ط کرتا ہے۔
(8 )
رعشہ اور جوڑوں کے درد میں مغز چلغوزہ صبح و شام ہمراہ پانی یا قہوہ یا چائے کے ساتھ استعمال کرنے سے فائدہ ہو تا ہے۔
(9 )
ریا ح کو دور کر تا ہے۔
(10 )
مادہ تولید کو پیدا کرتاہے۔
(11)
مقو ی باہ ہے۔
( 12 )
دل اور دماغ کو تقویت دیتا ہے۔


(13)
سردیوں میں اس کا استعمال زیا دہ ہو تاہے۔
(14)
دمہ میں بھی مغزچلغوزہ کو شہد کے ہمراہ رگڑ کر چٹانا مفید ہوتا ہے۔ لیکن مریض کو چاولوں سے پرہیز کروانا ضروری ہو تاہے۔
(15)
گردہ کو طا قت دیتاہے۔
(16 )
یہ جگر، مثانہ اور آلات تنا سل کے لیے بے حد مفید ہے۔
(17)
سدے کھولتا ہے۔
(18 )
چلغوزہ دیر ہضم ہوتاہے۔ اس لیے مقدار سے زیادہ کھا نے میں احتیاط ضروری ہے۔
(19 )
بلغمی مزاج والوں کے لیے سردیوں کا یہ ایک معتدل ٹانک ہے۔
(20 )
کھا نا کھانے کے بعد اس کا استعمال مفید ہوتا ہے۔
(21)
مغز چلغوزہ دودھ کے ہمراہ کھا نے سے جسم مو ٹا ہوتا ہے۔
(22)
گنٹھیا کے مرض میں اس کا استعمال مفید ہے۔
(23)
خون کے فساد کو دور کر تا ہے۔
(24)
فالج اور رعشہ میں مغز چلغوزہ ایک تولہ اور شہد چھ ماشہ ملا کر کھلا نا بے حد مفید ہے۔
(25)
چلغوزہ کے چھلکوں پر روغن سا لگا ہوتا ہے۔ جو چھیلتے وقت مغز کے ساتھ لگ جا تا ہے۔ اور ایسے مغز کھا نے سے معدے میں سوزش ہو جا تی ہے اور گلے کی خرا ش کا بھی احتمال ہوتا ہے۔

بادیان یا سونف

اطباءاسیبلغمی و سوداوی امراض، جگر و طحال اور گردوں کے سدوں کو کھولنے کیلئے پلاتے رہتے ہیں۔ درد شکم نفخ شکم اور ضعف معدہ میں اسکااستعمال بہت زیادہ ہے۔ دودھ بڑھانے کیلئے اس کا سفوف بناکر ہمراہ شیر گائے استعمال کیا جاتا ہے۔ سونف تقویت بصر کیلئے نہایت مفید ہے۔ دمہ، کھانسی اور نزول الماءکیلئے بھی ازحد مفید ہے۔

معدہ کے اخلاط فاسدہ و غلیظ مادہ کو خارج کرتی ہے۔ تبخیر معدہ کے اندر ازحدمفید ہے اور دست بند کرتی ہے۔
سونف کا طبی استعمال
ادرار حیض
سونف 2 تولہ، گڑ پرانا 4 تولہ، تین پاﺅ پانی میں جوش دیں۔ پاﺅ بھر رہنے پر چھان کر گرم گرم پلاکر لحاف اوڑھا کر مریضہ کو لٹائیں۔ انشاءاللہ 2 سے 3 بار استعمال کرانے پر حیض کھل کر آئے گا۔

مصفی شیر
سونف عمدہ باریک پیس کر ہموزن سرخ شکرملاکر ایک سے تین تولہ تک گرم دودھ کے ہمراہ کھلائیں۔ ڈیڑھ پاﺅ پانی میں بھگو کر تین گھنٹہ آگ پر جوش دیں اور نیم گرم پلائیں۔ نزلہ و زکام کیلئے انتہائی لاجواب چیز ہے۔

متلی و قے
سونف 3 گرام، پودینہ 3 گرام، دار چینی، الائچی سبز 1، 1 گرام ایک گلاس پانی میں جوش دیں جب ایک کپ رہ جائے چھان کر پلائیں۔ متلی و قے کیلئے اکسیر ہے۔

معدہ کی جلن
سونف، ملٹھی مقشر ہموزن سفوف تیار کریں۔ صبح، دوپہر اور شام کھانے سے قبل ہمراہ عرق سونف استعمال کریں۔

قبض سے نجات
سونف (صاف شدہ) پانچ تولہ، گل قند اصلی 20 تولہ میں ملادیں صبح و شام 5 تولہ خوب چبا چبا کر کھالیا کریں۔ تمام امراض معدہ خاص طور پر دائمی قبض کیلئے سریع الاثر نباتاتی دوا ہے۔

وحشت و خوف
سونف 5 گرام، گل گاﺅ زبان 5 گرام جوش دیکر چھان لیں1 چمچ شہد ملاکر صبح نہار منہ استعمال کریں وحشت وخوف ‘دل کی گھبراہٹ اور دھڑکنے کی شکایت میں نہایت عمدہ و مفید ہے۔

پیچش
سونف 1 تولہ، ہلیلہ سیاہ آدھ تولہ، الائچی خرد گیارہ دانے گل قند ایک چھٹانک، انار دانہ ایک تولہ، منقیٰ پانچ دانے، پودینہ آدھ تولہ، سب ادویہ کو ایک گلاس پانی میں بھگودیں۔ ایک دو گھنٹہ بعد اچھی طرح گھوٹ کر چھان لیں۔ صبح، دوپہر اور شام استعمال کریں۔ اسہال و پیچش میں نہایت مفید اور مجرب ہے۔

نفع خاص
سونف مقوی معدہ و بصر ہے۔

مصلح
سونف کے مصلح کشنیز و صندل سفید ہیں جبکہ اس کا بدل تخم کرفس اور مقدار پانچ سے سات ماشہ ہے۔

سونف کے فوائد
پیچش کی بیماری میں مریض کو دو تولہ سونف‘ پانچ تولہ گلقند پانی میں رگڑ کر گرمیوں کے موسم میں اور جوش دے کر سردیوں کے موسم میں تین یا چار بار دن میں پلانے سے آرام ہوجاتا ہے۔
بینائی کو قائم رکھنے کیلئے اس کے جوشاندہ یا بادیان سبز کے پانی میں سرمہ کوکھرل کرکے آنکھوں میں لگاتے ہیں۔ 
پیٹ کی درد‘ اپھارہ اور قولنج میں بے حد مفید ہے۔ 
سونف کی جڑ چھ ماشہ رگڑ کر پینے سے درد کمر کو آرام ملتا ہے۔ 
تلی اور مثانے کے رکاو کو درست کرتی ہے۔ 
پیشاب اور حیض کو جاری کرتی ہے۔ 
سینہ‘ جگر‘ طحال اور گردہ کے سدے نکالتی ہے۔ 
سونف کمزوری دماغ اور قوت ہاضمہ کیلئے بہترین دوا ہے۔