Showing posts with label Pakistan Poetry. Show all posts
Showing posts with label Pakistan Poetry. Show all posts

Wednesday, 15 May 2013

Watan Se Ulfat Hai Jurm Apna

Posted by Unknown on 18:44 with No comments
وطن سے الفت ہے جرم اپنا یہ جرم تا زندگی کریں گے
ہے کس کی گردن پہ خونِ ناحق یہ فیصلہ لوگ ہی کریں گے

وطن پرستوں کو کہہ رہے ہو وطن کا دشمن ڈرو خدا سے
جو آج ہم سے خطا ہوئی ہے ، یہی خطا کل سبھی کریں گے

وظیفہ خواروں سے کیا شکایت ہزار دیں شاہ کو دعائیں
مدار جن کا ہے نوکری پر وہ لوگ تو نوکری کریں گے

لئے جو پھرتے ہیں تمغہء فن ، رہے ہیں جو ہم خیالِ رہزن
... ہماری آزادیوں کے دشمن ہماری کیا رہبری کریں گے

نہ خوفِ زنداں نہ دار کا غم یہ بات دہرارہے ہیں پھر ہم
کہ آخری فیصلہ وہ ہوگا جو بیس کروڑ آدمی کریں گے

ستم گروں کے ستم کے آگے نہ سر جھکا ہے نہ جھک سکے گا
شعارِ صادق پہ ہم ہیں نازاں جو کہہ رہے ہیں وہی کریں گے

یہ لوگ کچھ کم نگاہ جن کو سمجھ رہے ہیں کہ ناسمجھ ہیں
یہی زمانے میں عام جالب شعور کی روشنی کریں گے
___ حبیب جالب ____

Wednesday, 24 April 2013

Ummede Subhe Jamal Rakhna...

Posted by Unknown on 06:22 with No comments



اُمّیدِ صُبحِ جمال رکھنا،خیال رکھنا 
خیال رکھنا
نئے دِنوں کی مُسافتوں کو اُجالنا ہے
وفا سے آسُودہ ساعتوں کو سنبھالنا ہے
سنبھالنا ہے
اُمّیدِ صُبحِ جمال رکھنا،خیال رکھنا
خیال رکھنا

یہ دُھوپ اِس کی ،یہ چھاؤں اِس کی ہماری دولت
ہماری دولت،،،
یہ خاکِ پاک اِس کی اپنی عِزّت ہے اپنی عظمت
ہے اپنی عظمت
نئے دِنوں کی مُسافتوں کو اُجالنا ہے،،،
وفا سے آسُودہ ساعتوں کو سنبھالنا ہے
سنبھالنا ہے،،،

اُمّیدِ صُبحِ جمال رکھنا،خیال رکھنا
خیال رکھنا

Wednesday, 27 March 2013

Mere Watan Ke Udaas Logo!

Posted by Unknown on 07:07 with No comments

میرے وطن کے اُداس لوگو، نہ خود کو اتنا حقیر سمجھو
کہ کوئی تم سے حساب مانگے، خواہشوں کی کتاب مانگے

نہ خود کو اتنا قلیل سمجھو، کہ کوئی اُٹھ کے کہے یہ تم سے
وفائیں اپنی ہمیں لوٹا دو، وطن کو اپنے ہمیں تھما دو

اُٹھو اور اُٹھ کر بتا دو اُن کو، کہ ہم ہیں اہل ایماں سے
نہ ہم میں کوئی صنم کدہ ہے، ہمارے دل میں تو اک ِخدا ہے

جھکے سروں کو اُٹھا کے دیکھو، قدم تو آگےبڑھا کے دیکھو
ہے ایک طاقت تمہارے سر پر، کرے گی سایہ جو اُن سروں پر

قدم قدم پر جو ساتھ دے گی، اگر گرو تو سنبھال دے گی
میرے وطن کے اُداس لوگو، اُٹھوں چلو اور وطن سنبھالو

Saturday, 23 March 2013

Afsoso Iss Qaum Par

Posted by Unknown on 21:39 with No comments
یہ خلیل جبران کی ایک نظم کا اقتباس ہے

میرے دوستو اور ہم سفرو
افسوس اس قوم پر جو یقین سے بھری لیکن مذہب سے خالی ہو
افسوس اس قوم پر جو ایسا کپڑا پہنے جسے اس نے خود بنا نہ ہو
جو ایسی روٹی کھائے جسے اس نے اگایا نہ ہو
افسوس اس قوم پر جو دادا گیر کو ہیرو سمجھے
اور جو چمکیلے فاتح کو سخی گردانے
افسوس اس قوم پر جو خواب میں کسی جذبے سے نفرت کرے
لیکن جاگتے میں اسی کی پرستش کرے

افسوس اس قوم پر جو اپنی آواز بلند کرے
صرف اس وقت جب وہ جنازے کے ہم قدم ہو
ڈینگ صرف اپنے کھنڈروں میں مارے
اور اس وقت تک بغاوت نہ کرے
جب تک اس کی گردن مقتل کے تختے پر نہ ہو

افسوس اس قوم پر جس کی رہبر لومڑی ہو
جس کا فلسفی مداری ہو
جس کا فن پیوندکاری اور نقالی ہو

افسوس اس قوم پر جو ہر نئے حکمران کا استقبال ڈھول تاشے سے کرے
اور رخصت گالم گلوچ سے
اور وہی ڈھول تاشے ایک نئے حاکم کے لیے بجانا شروع کر دے

افسوس اس قوم پر جس کے مدبر برسوں کے بوجھ تک دب گئے ہوں
اور جس کے سورما ابھی تک پنگھوڑے میں ہوں

افسوس اس قوم پر جو ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہو
اور ہر ٹکڑا اپنے آپ کو قوم کہتا ہو

Iqbal Teri Qaum Ka Kiya Haal Sunaon?

Posted by Unknown on 21:34 with No comments

نظم۔
اقبال تیری قوم کا کیا حال سناؤں۔
جو دل پہ گزرتی ھے بھلا کس کو بتاؤں۔
سورج ھوا شرمندہ طلوع ھو کے دہر میں۔
اور چاند پرشاں ھے لیۓ چاندنی اپنی۔
تارے ھزاروں بکھر گۓ ٹوٹ پھوٹ کے۔
ھر چیز ھی حیران ھے انساں کی روش پہ۔
ہیں اتنے مسلمان کے بس میں نہیں شمار۔
ھر شخص ھی اِن میں مگر دنیا کا طلبگار۔۔
جس قوم کو درس ِ خودی دیتا رھا اقبال۔
وہ قوم تو کفار کے قرضوں میں دبی ھے۔
وہ قوم جس سے شرق و غرب تھے کبھی لرزان۔
رفعت کی جو امیں تھی اب ذلت میں گھری ھے۔
جس قوم کو تو نے دیا تھا درسِ شجاعت ؟؟؟؟؟۔
وہ قوم تو ڈر کے شہر میں سہمی پڑی ھے۔


جس قوم کو تو نے دیا درسِ خود آگاھی۔
وہ قوم تو تقلید میں مغرب کی لگی ھے۔
جس قوم کے معمار کو شاھیں کہا تو نے۔
شاھین تو کرگس کے جہانوں کا مکیں ھے۔
وہ قوم جس نے صدیوں کو تاریخ تھی بخشی،
وہ قوم جو مفتوح تھی محکوم بنی ھے ۔
غیرت خودی شرم و حیا سب کچھ ہؤا رخصت۔
آ دیکھ مسلمان حکمراں کی مصلحت۔
اخلاق بھی افکار بھی کردار بھی مفقود ۔
تہذیب کی اقدار کی تعلیم ھے ممنوع۔
عشق و حسن کے راستے دولت کی محبت۔
ھے ارتقاء کا نعرہ اور یہ زاد سفر ھے۔
۔
میرے نبی کی سنتیں پامال ہوئی ہیں۔
آ دیکھ کتنی مسجدیں مسمار ہوئی ہیں۔
بنتِ حوا کی عصمتیں بھی تار ہوئی ہیں۔
اقدار اقتدار کا بیو پار ہوی ہیں۔ ؟۔
غداریاں شاھین کا بیو ہار ہوئی ہیں۔
سب قہرالہیٰ کے اب حقدار ہوۓ ہیں۔
انجامِ عاد زکرِ ثمود قومِ نوح و لوط۔
فراموش کر کے مردِ مسلماں برا کیا۔
اعلان ھے رب کا میرے قران کے اندر۔
گزری ہوی اقوام سے عبرت نہ جو پکڑیں۔
عبرت کا نشاں ان کو بنا دیتے ہیں پھر ھم۔
اس قوم کے انجام کی اب فکر لگی ھے ۔۔
۔
جانے کہاں کب بستیاں الٹا دی جایں گی۔
کب پھتروں کی بارشیں برسای جایں گی۔
کب ذلزلوں سے منہدم ھو جاۓ گا سب کچھ۔
کب بن کے موت آب بہے گا زمین پر۔
کب یہ ہواییں آندھیوں کا روپ دھار لیں۔
اِس قوم کے انجام کی اب فکر لگی ھے۔

Khuda Karay K Meri Arz -e- Pak Par Utray

Posted by Unknown on 04:56 with No comments

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے، وہ کھلا رہے صدیوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اگے، وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز ، کہ جس کی کوٴی مثال نہ ہو
گھنی گھٹاٴیں یہاں ایسی بارشیں برسا ٴیں
کہ پتھروں سے بھی روٴید گی محال نہ ہو

خدا کرے کہ نہ خم ہو سر وقار وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
ہرایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوج کمال
کوٴی ملول نہ ہو، کوٴی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کےلیے
حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو

Khuda Karay K Meri Arz -e- Pak Par Utray,
Wo Fasl -e- Gul, Jisey Andesha -e- Zawal Na Ho.
Yahan Jo Phool Khilay, Woh Khila Rahey Sadiyon,
Yahan Khizaan Ko Guzarnay Ki Bhi Majaal Na Ho.

Yahan Jo Sabza Ugay, Woh Hamesha Sabz Rahay,
Aur Aisa Sabz K Jis Ki Koi Misaal Na Ho.
Ghani Ghataen Yahan Aisi Barishain Barsa'ain
Keh Pathroon Se Bhee Roaidgee Mahal Na Ho

Khuda Karay K Na Khum Ho Sar -e- Waqar -e- Watan,
Aur Is Kay Husn Ko Tashweesh -e- Mah -o- Saal Na Ho.
Har Aik Fard Ho, Tahzeeb -o- Fun Ka Oaj -e- Kamal,
Koi Malool Na Ho, Koi Khasta Haal Na Ho.

Khuda Karay K Meray Aik Bhi Hum Watan K Liye,
Hayaat Jurm Na Ho, Zindagi Wabaal Na Ho.
Khuda Karay K Meri Arz -e- Pak Par Utray,
Wo Fasl -e- Gul Jisey Andesha -e- Zawal Na Ho.