مچھلیاں
ایک آدمی اپنی چھوٹی سی بیٹی کے ساتھ دریا پر مچھلیاں پکڑ رہا تھا ، وہ مچھلی پکڑ کر اپنی بیٹی کو دیتا کہ یہ ٹوکری میں ڈال دو اورخود شکار میں مصروف ہو جاتا ، بچی مچھلی کو بجائے ٹوکری میں ڈالنے کے دوبارہ دریا میں ہی ڈال دیتی لیکن باپ کو پتہ نہ چلتا
کافی دیر بعد اس آدمی نے سوچا کہ اب تو کافی مچھلیاں ہوگئی ہیں لیکن جب ٹوکری کی طرف دیکھا تو ایک بھی مچھلی نظر نہ آئی اس نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ مچھلیاں کہاں ہیں تو بیٹی نے بتایا کہ وہ تو میں نے دریا میں ہی ڈال دی
باپ کو بہت غصہ آیا اس نے کہا کہ میں نے کتنی مشکل سے مچھلیاں پکڑی اور تو نے ساری کی ساری دریا میں واپس ڈال دی ، آخر کس وجہ سے ڈالی
بیٹی نے کہا ابا جان میں نے ایک دفعہ آپ سے سنا تھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مچھلی اللہ کے ذکر سے غافل ہو جائے وہی شکاری کے جال میں پھنستی ہے تو اس کا مطلب یہی ہوا نا کہ آپ نے جتنی بھی مچھلیاں پکڑی یہ وہی ہیں جو اللہ کے ذکر سے غافل ہو گئی تھی
میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ ایسی چیز کو لقمہ بناؤں جسے اللہ کا ذکر چھوڑنے پر سزا ملی ہو اور کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اس کو کھا کر خود بھی اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاؤں ۔ بچی کے اس جواب پر اس کا والد رو پڑا اور جال پھینک دیا۔
ایک آدمی اپنی چھوٹی سی بیٹی کے ساتھ دریا پر مچھلیاں پکڑ رہا تھا ، وہ مچھلی پکڑ کر اپنی بیٹی کو دیتا کہ یہ ٹوکری میں ڈال دو اورخود شکار میں مصروف ہو جاتا ، بچی مچھلی کو بجائے ٹوکری میں ڈالنے کے دوبارہ دریا میں ہی ڈال دیتی لیکن باپ کو پتہ نہ چلتا
کافی دیر بعد اس آدمی نے سوچا کہ اب تو کافی مچھلیاں ہوگئی ہیں لیکن جب ٹوکری کی طرف دیکھا تو ایک بھی مچھلی نظر نہ آئی اس نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ مچھلیاں کہاں ہیں تو بیٹی نے بتایا کہ وہ تو میں نے دریا میں ہی ڈال دی
باپ کو بہت غصہ آیا اس نے کہا کہ میں نے کتنی مشکل سے مچھلیاں پکڑی اور تو نے ساری کی ساری دریا میں واپس ڈال دی ، آخر کس وجہ سے ڈالی
بیٹی نے کہا ابا جان میں نے ایک دفعہ آپ سے سنا تھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مچھلی اللہ کے ذکر سے غافل ہو جائے وہی شکاری کے جال میں پھنستی ہے تو اس کا مطلب یہی ہوا نا کہ آپ نے جتنی بھی مچھلیاں پکڑی یہ وہی ہیں جو اللہ کے ذکر سے غافل ہو گئی تھی
میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ ایسی چیز کو لقمہ بناؤں جسے اللہ کا ذکر چھوڑنے پر سزا ملی ہو اور کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اس کو کھا کر خود بھی اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاؤں ۔ بچی کے اس جواب پر اس کا والد رو پڑا اور جال پھینک دیا۔

0 comments:
Post a Comment