ادھورا سپنا
عاکف آزاد
نیند کی دہلیز پرکنڈی مار کے بیٹھا ہوا سپنا برسوں پرانا تھا۔ سپنے تو اس نے بہت دیکھے تھے۔ کسی کو چاہنے کا سپنا، کسی کو اپنانے کا سپنا، کسی سے روٹھ جانے کا سپنا، کسی سے مل کر بچھڑ جانے کا سپنا، سپنے ہی سپنے اور ہر سپنے میں کسی اجنبی کا ساتھ۔ ایک ایسا نوجوان دیکھا تھا جو شناسا سا لگتا تھا، اپنا سا محسوس ہوتا تھا۔ اس نے سارے سپنے اپنی نیند میں محفوظ کر رکھے تھے اور خاص طور سے اجنبی کو تو اس نے بہت اچھی طرح سے چھپا کر رکھا تھا کہ کسی کو بھنک نہ پڑ جائے۔
اسے خوابوں کی لت پڑ گئی تھی، سپنے پہلے تو خود اس کی نیند میں گھس آتے۔ چپکے سے آتے اور کہانی سنا کر چپکے سے پلٹ جاتے۔ پھر اسے چاٹ پڑ گئی اور وہ سپنوں کو پالنے لگی۔ اسے سپنوں کا نشہ چڑھنے لگا۔ شام کا سایہ گہرے ہوتے ہی اسے نیند کے دروازے پہ سپنوںکی دستک سنائی دینے لگتی۔ وہ بے بسی سے کہتی ’’تم سرِ شام نہ آیا کرو۔ تمھیں پتا بھی ہے میری ماں سپنوں کی دشمن ہے!‘‘
پل بھر کے لیے دستک خاموش ہو جاتی، پھر اچانک کسی البیلی کہانی کی خوشبو اسے گھیر لیتی اور اسے اپنی پلکوں پہ نیند کا بوجھ محسوس ہوتا اور وہ بے خود سی ہو کر سو جاتی۔ کرن کی ماں سپنوں کی دشمن تھی۔
وہ کرن کو اسی طرح سینت سینت کر رکھنا چاہتی تھی جس طرح کرن اپنے سپنوں کو سینت کر رکھا کرتی تھی۔ کئی مرتبہ ماں کی تیز نظروں نے اسے کہا ’’تو کیوں اپنے آپ کو روگی کرتی ہے؟ سپنوں کا کیا بھروسہ یہ تو کانچ کی صورت ہیں۔ ٹوٹ بکھریں تو جڑا نہیں کرتے تو کیوں بے وجہ اپنے آپ کو روگی کرتی ہے؟‘‘
وہ کسمسا جاتی اور سوچتی ’’بھلا سپنوں پر بھی پابندی لگائی جا سکتی ہے ؟ بھلا سوچوں پر بھی پہرے لگتے ہیں؟ یہ تو بے مہار اونٹ کی طرح ہیں، جس خیال کا جب جی چاہے منہ اٹھائے چلا آتا ہے۔ اب کسی کا کیا بس جو ان خیالوں کو روکے۔ میرا بس چلے تو اپنی سوچوں کے گرد باڑ ھ لگا لوں۔‘‘
ایک مرتبہ تو اس نے سچ مُچ ماں کی بات مان کر سپنوں کا بوجھ سر سے اتار پھینکا تھا۔ مگر جب وہ اچھی طرح نہا دھو کر، کنگھی کر کے، سرمہ ڈال رہی تھی تو اس نے غور سے شیشے میں دیکھا تو اسے اپنا روپ بہت بھلا لگا۔ وہ دوسری آنکھ کی پتلی اٹھا کر سلائی پھیر رہی تھی کہ اسے خیال آیا کہ وہ اس روپ میں بہت اچھی لگے گی۔
’’میں اچھی لگوں گی ، لیکن کس کو؟ کیوں؟‘‘ سلائی آنکھ میں پھیر کر باہر نکالی تو اسے محسوس ہوا کہ جیسے سلائی کی جگہ کوئی نیا خواب بھی آنکھوں میں پھر گیا ہے اور پھر اچانک کئی خواب اس کی آنکھوں میں سجنے لگے۔
’’اونہہ! بھلا خوابوں پر بھی پابندی لگتی ہے، بھلا سوچوں پر بھی پہرے لگتے ہیں؟‘‘ اس نے ٹشو کے ساتھ سلائی کی نمی کو خشک کیا ،گویا اس کی ماں یہ نمی دیکھ کر اس کا سپنا پہچان لے گی۔
سپنے سوتے میں روزانہ آیا کرتے تھے۔ وہ ہر رات کوئی نیا سپنا دیکھ لیتی۔ پھر سپنے طویل ہو کر نیند کے پیالے سے چھلکنے لگے۔
ایک خواب کئی راتوں تک چلتا جیسے کوئی ڈراما سیریل قسط وار ٹی وی پر چلتی ہے۔ جاگتے میں، نیند کے پیالے میں سر اٹھا کر جھانکتے ہوئے سپنے کو دیکھ کر وہ بے چین ہو جاتی۔ اس کی سانسیں پھولنے لگتیں اور آنکھیں بوجھل ہو جاتیں۔ پھر ایک دن ماں کی تیکھی نظروں نے اس کا منہ سپنوں سے زبردستی موڑا تو پہلی مرتبہ کسی سپنے نے باہر قدم نکالا۔
نیند کے پیالے سے نکلنے والا پہلا سپنا بڑی خاموشی کے ساتھ آیا تھا جس طرح وہ کبھی سوتے میں آیا کرتا تھا۔ اسے محسوس بھی نہیں ہوا کہ وہ جاگتے میں سپنے دیکھنے لگی ہے اور پھر تو جیسے سپنے نڈر ہو کر،چھن چھن کرتے آنے لگے تھے۔ وہ انھیں سمجھاتی تھک جاتی۔
کہتی! ’’تم دن کے اجالے میں نہ آیا کرو۔ ماں کو بھنک پڑ جائے گی تو میری شامت آ جائے گی۔‘‘
مگر اب سپنے تنک کر اسے جواب دیتے ’’اونہہ! بھلا سپنوں پر بھی پابندی لگتی ہے؟ بھلا سوچوں پر بھی پہرے لگتے ہیں؟‘‘ مگر پھر بھی وہ ان سب کو سینت سینت کر رکھتی کہ یہ سارے سپنے اس نے خود بُنے تھے۔ وہ انھیں کھونا بھی نہیں چاہتی تھی اور نہ ہی انھیں ٹوٹ کر بکھرتے ہوئے دیکھنا چاہتی تھی۔ بس نیند کی دہلیز پہ بیٹھا وہ تنہا سپنا تھا جو اسے اپنا نہیں لگتا تھا۔
اس نے دیکھا: ’’طویل و عریض چار دیواری میں بہت سے باغیچے ہرے بھرے درختوں میں گھرے ہیں۔ اندر رنگ برنگے پھول جابجا پھیلے ہیں، سرخ، سفید، موتیا، گلابی، ہلکے اور تیزرنگ پھولوں کے گچھے بے ترتیبی کے ساتھ الجھے ہوئے ہیں۔چار دیواری کی اوٹ سے سورج ابھی نہیں نکلا، مگر روشنی کافی پھیل چکی تھی۔
سفید گلاب کے پودے پر ایک خوش رنگ تتلی سو کر اٹھی تھی۔ اس نے آنکھیں مسل کر انگڑائی لی اور آہستہ سے اڑان بھری۔ اڑتے اڑتے وہ تیسرے باغیچے میں ایک ننھے سے پھول کے پاس آئی جو ابھی نیند کے عالم میں تھا۔ تتلی نے اپنے پر پھڑ پھڑا کر اسے جگایا اور پھر دونوں باتیں کرنے لگے۔
پھول نے کہا ’’میری پیاری دوست مجھے زرد رنگ بہت پسند ہے۔‘‘
’’ہاں میں جانتی ہوں۔ مجھے بھی بہت بھلا لگتا ہے۔‘‘ تتلی نے جواب دیا۔
’’میری پیار ی دوست میں یہ رنگ حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ کیا تم میری مدد کرو گی؟‘‘
’’مگر ان دنوں یہ رنگ تو باغ میں ختم ہو چکا ہے؟‘‘ تتلی نے فکر مندی سے کہا۔
’’میری دوست مجھے یہ رنگ بہت پسند ہے۔‘‘ یہ کہہ کر گلاب کے ننھے سے پھول کی آنکھوں سے دو آنسو ٹپک پڑے۔
’’کہیں سے لا دو میری دوست، میں تمھارا احسان نہیں بھولوں گا۔‘‘ گلاب کے آنسو دیکھ کر تتلی کا دل پسیج گیا۔ وہ بولی ’’فکر نہ کرو میرے دوست! میں باغ سے باہر جا کر تلاش کرتی ہوں، شاید کہیں سے مل جائے۔ مگر مجھے یہ اونچی فصیل سر کرنی ہو گی۔ یہ میرے بس میں تو نہیں مگر میں پوری کوشش کروں گی۔ اپنے آنسو پونچھ لو میرے دوست۔‘‘
یہ کہہ کر تتلی اڑی اور فصیل پار کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ اس کی پرواز فصیل سے بہت پست تھی مگر وہ بار بار کوشش کرتی رہی۔ کئی مرتبہ وہ گری بھی مگر پھر کامیاب ہو گئی۔ قریب ہی ایک کھیت میں اسے زرد رنگ مل گیا۔ اس نے اسے اپنے پروں میں چھپا لیا اور واپسی کی راہ لی۔
’’مجھے ہمت سے کام لینا ہو گا اور جلد باغ میں پہنچنا ہو گا۔‘‘ تتلی نے اپنے آپ سے کہا اور ایک لمبی اڑان بھر کے بہت دور نکل گئی۔
’’اگر ذرا بھی دیر ہو گئی تو پتنگے مجھے دیکھ لیں گے۔ وہ تو ہیں میرے پیارے پروں کے دشمن… ہائے اللہ میرے پر… اُف، جیسے جان نکل رہی ہو…‘‘
تتلی فصیل کے برابر بلند ہونے کے لیے پورا زور لگا رہی تھی۔ تھکن کی وجہ سے اسے اپنے پروں اور جسم میں سوئیاں سی چبھتی محسوس ہو رہی تھیں۔ جیسے ہی وہ فصیل کے برابر ہوئی اس نے دیکھا پتنگوں کی پوری فوج اس کے چمکتے ہوئے خوبصورت پر نوچنے چلی آ رہی ہے۔
اس کے حواس گم ہو گئے، وہ اور قوت سے اڑی تاکہ جلدی سے باغ کے اندر پہنچ جائے۔ مگر جونہی وہ باغ کے احاطے میں پہنچی ایک پتنگے نے اس کے دائیں پر پہ وار کر دیا۔ اس کا پر ٹوٹ گیا اور وہ نیچے گرتی چلی گئی۔ ’’کرن! او کرن! اٹھ بھی جا۔ اتنی دیر ہو گئی۔‘‘ اس کی ماں نے اسے زبردستی جگا دیا اور خواب کا دھاگہ ٹوٹ گیا۔
اس نے سوتے جاگتے بہت مرتبہ کوشش کی کہ اس کے ادھورے سپنے میں گرہ لگ جائے مگر نہ لگی۔ زبردستی گرہ لگائی بھی تو بس اتنی کہ تتلی رنگ لے کر لوٹی تو ایک پتنگے نے حملہ کر کے اس کا پر توڑ دیا۔ وہ نیچے گر گئی… اس کی سانسیں پھول رہی تھیں۔ وہ ہانپ رہی تھی۔ پتنگے اس کے نزدیک آتے جا رہے تھے۔ بہت نزدیک، خوف سے اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔
‘‘ اور بس۔ آگے بس نہ چلا۔ اس نے اپنے سارے سپنے یونہی گرہیں لگا لگا کر مکمل کرلئے تھے۔ بس یہی ایک ادھورا سپنا تھا۔ کبھی وہ سوچتی کہ اسے مکمل کرنا اتنا ضروری نہ تھا کہ یہ تو پرایا سپنا تھا، کسی اور کا۔ اپنے تو وہ تھے جس میں اجنبی بھی تھا اور ہم عمر بھی، پہلی ملاقات میں ہی اس نے ایسا سحر اس کے کان میں پھونکا کہ وہ اپنا سب کچھ اسے سونپ کر خود ایک طرف ہو گئی تھی۔
سپنوں میں اجبنی کے خاکے میں بھی ندیم کے نقوش ابھرنے لگے تھے۔ سپنوں کی فصل ہری بھری ہو کر پکنے کے قریب تھی کہ ندیم کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ پتا چلا کہ اس کے سوا اور بھی دو تین اس جیسی تھیں جن کے سپنوں میں ندیم بسا ہوا تھا۔ اس کے خواب مرجھا گئے اور ماں بھی سپنوں کی بیری ہو گئی۔
جب اس کے سارے سپنے دھندلا چکے تو پرایا سپنا ہرا بھرا ہو گیا۔ سارے میٹھے سپنے تو ندیم نے توڑ دیے تھے۔ اب تو بس پرایا سپنا ہی ایک اپنا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ جیسے وہ رنگ برنگی تتلی ہے۔ بہت سے پتنگے اسے خوبصورتی سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ ندیم بھی ایک پتنگا ہے جس نے حملہ کر کے اس کا ایک خوبصورت پر توڑ دیا ہے۔
اس کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ہے اور وہ اب کبھی منزل تک نہیں پہنچ پائے گی۔ اسے محسوس ہوتا کہ وہ بے بس ہو کر نیچے گرتی جا رہی ہے پھر اسے اپنی سانسیں پھولتی محسوس ہوتیں۔ وہ ہانپنے لگتی۔ بہت سے پتنگے کالے، پیلے، بھورے قریب آتے محسوس ہوتے۔ دہشت سے اس کی آنکھیں پھیل جاتیں اور وہ ادھورے سپنے کے ٹوٹے دھاگے کی سولی پہ چڑھ جاتی۔
نیند کی دہلیز پہ بیٹھا یہ خواب برسوں پرانا تھا۔ اسے نیند کی دہلیز پر ہمیشہ یہی خواب کنڈلی مار کے بیٹھا نظر آتا۔ اسے لگتا کہ یہ سپنا تمام میٹھے سپنوں کو کھا جائے گا۔ وہ سوتی تو کوئی خواب نیند کی دہلیز کے قریب بھی نہ آتا۔ نیند کی بستی میں خوابوں کے تمام گھر ویران پڑے تھے۔ صبح اس کی رخصتی تھی۔ اس کا دل اندیشوں کے بو جھ سے بیٹھ رہا تھا۔
وہ اپنے آپ کو پر کٹی تتلی محسوس کر رہی تھی۔ اس نے سوچا کہ چند لمحوں کی خطا نے اسے فطری خوبصورتی سے محروم کر دیا ہے اور شاید اب وہ کبھی اپنی منزل سے ہمکنار نہ ہو۔ اندھیرا بہت گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو گرم لحاف میں اچھی طرح سمیٹا اور لاچاری سے بولی ’’آ بھی جاؤ میرے سپنو!… آج میں اکیلی ہوں… اندھیرے میں ہی چلے آؤ… کوئی سپنا تو میرا جی بہلائے!‘‘ اس نے بے بسی سے کہا ’’پھر اپنے دہکتے رخسار اور نم آنکھیں تکیے میں گاڑ دیں۔
اچانک اسے کسی میٹھے سپنے کی آہٹ محسوس ہوئی مگر دوسرے ہی پل ادھورے سپنے نے اسے نگل لیا۔ پھر دوسرا… تیسرا… چوتھا… سارے سپنے ایک ایک کر کے ادھورے سپنے کے پیٹ میں اترتے چلے گئے۔
اس کے بعد ادھورا سپنا اپنا پھن پھیلائے اس کی نیند میں اتر آیا۔ اس نے دیکھا ’’ایک تتلی اپنے ننھے سے دوست گلاب کے لیے زرد رنگ لینے جاتی ہے۔ وہ فصیل پار کر کے بڑی مشقت سے رنگ ڈھونڈ کر لاتی ہے۔ واپسی پر پتنگے اس کے پروں کی خوبصورتی چھیننے کے لیے اس پر جھپٹ پڑتے ہیں۔ پر ٹوٹ جاتا ہے اور وہ نیچے گر کر پھڑ پھڑانے لگتی ہے…‘‘
تیز و تند جھکڑ چلے، غبار دور دور تک پھیل گیا۔ اس کے انگ انگ میں خوف اتر آیا، اس نے سوچا ابھی ماں کی آواز آئے گی ’’کرن!… او کرن! اٹھ بھی جا۔‘‘ اور پھر اسے ادھورے سپنے کی سولی پہ چڑھنا پڑے گا۔ مگر یہ آواز نہیں آئی۔ پل دو پل اس نے انتظار کیا پھر وہی ادھورا سپنا آگے چل پڑا۔ اس نے دیکھا ’’تتلی فصیل سے گر کر پھڑپھڑانے لگی ہے۔
پتنگے اس کے پاس پہنچنے والے ہیں اور اس کی آنکھیں دہشت سے پھیلنے لگی ہیں۔ اچانک ایک ٹھنڈی ہوا چلی، گلاب کے پودے خوشی سے جھومنے لگے۔ ٹہنیوں پر لگے خواب رنگ شگوفوں اور کلیوں نے ایک دم مہک سی پھیلائی۔ پھر پھولوں کے بیچ سے سپنوں کا شہزادہ نکلا۔ اس نے بڑے پیار سے تتلی کو اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر کر سینے سے لگایا اور ہر طرف میٹھے سپنوں کی روشنی پھیل گئی۔
نیند کی دہلیز پرکنڈی مار کے بیٹھا ہوا سپنا برسوں پرانا تھا۔ سپنے تو اس نے بہت دیکھے تھے۔ کسی کو چاہنے کا سپنا، کسی کو اپنانے کا سپنا، کسی سے روٹھ جانے کا سپنا، کسی سے مل کر بچھڑ جانے کا سپنا، سپنے ہی سپنے اور ہر سپنے میں کسی اجنبی کا ساتھ۔ ایک ایسا نوجوان دیکھا تھا جو شناسا سا لگتا تھا، اپنا سا محسوس ہوتا تھا۔ اس نے سارے سپنے اپنی نیند میں محفوظ کر رکھے تھے اور خاص طور سے اجنبی کو تو اس نے بہت اچھی طرح سے چھپا کر رکھا تھا کہ کسی کو بھنک نہ پڑ جائے۔
اسے خوابوں کی لت پڑ گئی تھی، سپنے پہلے تو خود اس کی نیند میں گھس آتے۔ چپکے سے آتے اور کہانی سنا کر چپکے سے پلٹ جاتے۔ پھر اسے چاٹ پڑ گئی اور وہ سپنوں کو پالنے لگی۔ اسے سپنوں کا نشہ چڑھنے لگا۔ شام کا سایہ گہرے ہوتے ہی اسے نیند کے دروازے پہ سپنوںکی دستک سنائی دینے لگتی۔ وہ بے بسی سے کہتی ’’تم سرِ شام نہ آیا کرو۔ تمھیں پتا بھی ہے میری ماں سپنوں کی دشمن ہے!‘‘
پل بھر کے لیے دستک خاموش ہو جاتی، پھر اچانک کسی البیلی کہانی کی خوشبو اسے گھیر لیتی اور اسے اپنی پلکوں پہ نیند کا بوجھ محسوس ہوتا اور وہ بے خود سی ہو کر سو جاتی۔ کرن کی ماں سپنوں کی دشمن تھی۔
وہ کرن کو اسی طرح سینت سینت کر رکھنا چاہتی تھی جس طرح کرن اپنے سپنوں کو سینت کر رکھا کرتی تھی۔ کئی مرتبہ ماں کی تیز نظروں نے اسے کہا ’’تو کیوں اپنے آپ کو روگی کرتی ہے؟ سپنوں کا کیا بھروسہ یہ تو کانچ کی صورت ہیں۔ ٹوٹ بکھریں تو جڑا نہیں کرتے تو کیوں بے وجہ اپنے آپ کو روگی کرتی ہے؟‘‘
وہ کسمسا جاتی اور سوچتی ’’بھلا سپنوں پر بھی پابندی لگائی جا سکتی ہے ؟ بھلا سوچوں پر بھی پہرے لگتے ہیں؟ یہ تو بے مہار اونٹ کی طرح ہیں، جس خیال کا جب جی چاہے منہ اٹھائے چلا آتا ہے۔ اب کسی کا کیا بس جو ان خیالوں کو روکے۔ میرا بس چلے تو اپنی سوچوں کے گرد باڑ ھ لگا لوں۔‘‘
ایک مرتبہ تو اس نے سچ مُچ ماں کی بات مان کر سپنوں کا بوجھ سر سے اتار پھینکا تھا۔ مگر جب وہ اچھی طرح نہا دھو کر، کنگھی کر کے، سرمہ ڈال رہی تھی تو اس نے غور سے شیشے میں دیکھا تو اسے اپنا روپ بہت بھلا لگا۔ وہ دوسری آنکھ کی پتلی اٹھا کر سلائی پھیر رہی تھی کہ اسے خیال آیا کہ وہ اس روپ میں بہت اچھی لگے گی۔
’’میں اچھی لگوں گی ، لیکن کس کو؟ کیوں؟‘‘ سلائی آنکھ میں پھیر کر باہر نکالی تو اسے محسوس ہوا کہ جیسے سلائی کی جگہ کوئی نیا خواب بھی آنکھوں میں پھر گیا ہے اور پھر اچانک کئی خواب اس کی آنکھوں میں سجنے لگے۔
’’اونہہ! بھلا خوابوں پر بھی پابندی لگتی ہے، بھلا سوچوں پر بھی پہرے لگتے ہیں؟‘‘ اس نے ٹشو کے ساتھ سلائی کی نمی کو خشک کیا ،گویا اس کی ماں یہ نمی دیکھ کر اس کا سپنا پہچان لے گی۔
سپنے سوتے میں روزانہ آیا کرتے تھے۔ وہ ہر رات کوئی نیا سپنا دیکھ لیتی۔ پھر سپنے طویل ہو کر نیند کے پیالے سے چھلکنے لگے۔
ایک خواب کئی راتوں تک چلتا جیسے کوئی ڈراما سیریل قسط وار ٹی وی پر چلتی ہے۔ جاگتے میں، نیند کے پیالے میں سر اٹھا کر جھانکتے ہوئے سپنے کو دیکھ کر وہ بے چین ہو جاتی۔ اس کی سانسیں پھولنے لگتیں اور آنکھیں بوجھل ہو جاتیں۔ پھر ایک دن ماں کی تیکھی نظروں نے اس کا منہ سپنوں سے زبردستی موڑا تو پہلی مرتبہ کسی سپنے نے باہر قدم نکالا۔
نیند کے پیالے سے نکلنے والا پہلا سپنا بڑی خاموشی کے ساتھ آیا تھا جس طرح وہ کبھی سوتے میں آیا کرتا تھا۔ اسے محسوس بھی نہیں ہوا کہ وہ جاگتے میں سپنے دیکھنے لگی ہے اور پھر تو جیسے سپنے نڈر ہو کر،چھن چھن کرتے آنے لگے تھے۔ وہ انھیں سمجھاتی تھک جاتی۔
کہتی! ’’تم دن کے اجالے میں نہ آیا کرو۔ ماں کو بھنک پڑ جائے گی تو میری شامت آ جائے گی۔‘‘
مگر اب سپنے تنک کر اسے جواب دیتے ’’اونہہ! بھلا سپنوں پر بھی پابندی لگتی ہے؟ بھلا سوچوں پر بھی پہرے لگتے ہیں؟‘‘ مگر پھر بھی وہ ان سب کو سینت سینت کر رکھتی کہ یہ سارے سپنے اس نے خود بُنے تھے۔ وہ انھیں کھونا بھی نہیں چاہتی تھی اور نہ ہی انھیں ٹوٹ کر بکھرتے ہوئے دیکھنا چاہتی تھی۔ بس نیند کی دہلیز پہ بیٹھا وہ تنہا سپنا تھا جو اسے اپنا نہیں لگتا تھا۔
اس نے دیکھا: ’’طویل و عریض چار دیواری میں بہت سے باغیچے ہرے بھرے درختوں میں گھرے ہیں۔ اندر رنگ برنگے پھول جابجا پھیلے ہیں، سرخ، سفید، موتیا، گلابی، ہلکے اور تیزرنگ پھولوں کے گچھے بے ترتیبی کے ساتھ الجھے ہوئے ہیں۔چار دیواری کی اوٹ سے سورج ابھی نہیں نکلا، مگر روشنی کافی پھیل چکی تھی۔
سفید گلاب کے پودے پر ایک خوش رنگ تتلی سو کر اٹھی تھی۔ اس نے آنکھیں مسل کر انگڑائی لی اور آہستہ سے اڑان بھری۔ اڑتے اڑتے وہ تیسرے باغیچے میں ایک ننھے سے پھول کے پاس آئی جو ابھی نیند کے عالم میں تھا۔ تتلی نے اپنے پر پھڑ پھڑا کر اسے جگایا اور پھر دونوں باتیں کرنے لگے۔
پھول نے کہا ’’میری پیاری دوست مجھے زرد رنگ بہت پسند ہے۔‘‘
’’ہاں میں جانتی ہوں۔ مجھے بھی بہت بھلا لگتا ہے۔‘‘ تتلی نے جواب دیا۔
’’میری پیار ی دوست میں یہ رنگ حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ کیا تم میری مدد کرو گی؟‘‘
’’مگر ان دنوں یہ رنگ تو باغ میں ختم ہو چکا ہے؟‘‘ تتلی نے فکر مندی سے کہا۔
’’میری دوست مجھے یہ رنگ بہت پسند ہے۔‘‘ یہ کہہ کر گلاب کے ننھے سے پھول کی آنکھوں سے دو آنسو ٹپک پڑے۔
’’کہیں سے لا دو میری دوست، میں تمھارا احسان نہیں بھولوں گا۔‘‘ گلاب کے آنسو دیکھ کر تتلی کا دل پسیج گیا۔ وہ بولی ’’فکر نہ کرو میرے دوست! میں باغ سے باہر جا کر تلاش کرتی ہوں، شاید کہیں سے مل جائے۔ مگر مجھے یہ اونچی فصیل سر کرنی ہو گی۔ یہ میرے بس میں تو نہیں مگر میں پوری کوشش کروں گی۔ اپنے آنسو پونچھ لو میرے دوست۔‘‘
یہ کہہ کر تتلی اڑی اور فصیل پار کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ اس کی پرواز فصیل سے بہت پست تھی مگر وہ بار بار کوشش کرتی رہی۔ کئی مرتبہ وہ گری بھی مگر پھر کامیاب ہو گئی۔ قریب ہی ایک کھیت میں اسے زرد رنگ مل گیا۔ اس نے اسے اپنے پروں میں چھپا لیا اور واپسی کی راہ لی۔
’’مجھے ہمت سے کام لینا ہو گا اور جلد باغ میں پہنچنا ہو گا۔‘‘ تتلی نے اپنے آپ سے کہا اور ایک لمبی اڑان بھر کے بہت دور نکل گئی۔
’’اگر ذرا بھی دیر ہو گئی تو پتنگے مجھے دیکھ لیں گے۔ وہ تو ہیں میرے پیارے پروں کے دشمن… ہائے اللہ میرے پر… اُف، جیسے جان نکل رہی ہو…‘‘
تتلی فصیل کے برابر بلند ہونے کے لیے پورا زور لگا رہی تھی۔ تھکن کی وجہ سے اسے اپنے پروں اور جسم میں سوئیاں سی چبھتی محسوس ہو رہی تھیں۔ جیسے ہی وہ فصیل کے برابر ہوئی اس نے دیکھا پتنگوں کی پوری فوج اس کے چمکتے ہوئے خوبصورت پر نوچنے چلی آ رہی ہے۔
اس کے حواس گم ہو گئے، وہ اور قوت سے اڑی تاکہ جلدی سے باغ کے اندر پہنچ جائے۔ مگر جونہی وہ باغ کے احاطے میں پہنچی ایک پتنگے نے اس کے دائیں پر پہ وار کر دیا۔ اس کا پر ٹوٹ گیا اور وہ نیچے گرتی چلی گئی۔ ’’کرن! او کرن! اٹھ بھی جا۔ اتنی دیر ہو گئی۔‘‘ اس کی ماں نے اسے زبردستی جگا دیا اور خواب کا دھاگہ ٹوٹ گیا۔
اس نے سوتے جاگتے بہت مرتبہ کوشش کی کہ اس کے ادھورے سپنے میں گرہ لگ جائے مگر نہ لگی۔ زبردستی گرہ لگائی بھی تو بس اتنی کہ تتلی رنگ لے کر لوٹی تو ایک پتنگے نے حملہ کر کے اس کا پر توڑ دیا۔ وہ نیچے گر گئی… اس کی سانسیں پھول رہی تھیں۔ وہ ہانپ رہی تھی۔ پتنگے اس کے نزدیک آتے جا رہے تھے۔ بہت نزدیک، خوف سے اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔
‘‘ اور بس۔ آگے بس نہ چلا۔ اس نے اپنے سارے سپنے یونہی گرہیں لگا لگا کر مکمل کرلئے تھے۔ بس یہی ایک ادھورا سپنا تھا۔ کبھی وہ سوچتی کہ اسے مکمل کرنا اتنا ضروری نہ تھا کہ یہ تو پرایا سپنا تھا، کسی اور کا۔ اپنے تو وہ تھے جس میں اجنبی بھی تھا اور ہم عمر بھی، پہلی ملاقات میں ہی اس نے ایسا سحر اس کے کان میں پھونکا کہ وہ اپنا سب کچھ اسے سونپ کر خود ایک طرف ہو گئی تھی۔
سپنوں میں اجبنی کے خاکے میں بھی ندیم کے نقوش ابھرنے لگے تھے۔ سپنوں کی فصل ہری بھری ہو کر پکنے کے قریب تھی کہ ندیم کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ پتا چلا کہ اس کے سوا اور بھی دو تین اس جیسی تھیں جن کے سپنوں میں ندیم بسا ہوا تھا۔ اس کے خواب مرجھا گئے اور ماں بھی سپنوں کی بیری ہو گئی۔
جب اس کے سارے سپنے دھندلا چکے تو پرایا سپنا ہرا بھرا ہو گیا۔ سارے میٹھے سپنے تو ندیم نے توڑ دیے تھے۔ اب تو بس پرایا سپنا ہی ایک اپنا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ جیسے وہ رنگ برنگی تتلی ہے۔ بہت سے پتنگے اسے خوبصورتی سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ ندیم بھی ایک پتنگا ہے جس نے حملہ کر کے اس کا ایک خوبصورت پر توڑ دیا ہے۔
اس کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ہے اور وہ اب کبھی منزل تک نہیں پہنچ پائے گی۔ اسے محسوس ہوتا کہ وہ بے بس ہو کر نیچے گرتی جا رہی ہے پھر اسے اپنی سانسیں پھولتی محسوس ہوتیں۔ وہ ہانپنے لگتی۔ بہت سے پتنگے کالے، پیلے، بھورے قریب آتے محسوس ہوتے۔ دہشت سے اس کی آنکھیں پھیل جاتیں اور وہ ادھورے سپنے کے ٹوٹے دھاگے کی سولی پہ چڑھ جاتی۔
نیند کی دہلیز پہ بیٹھا یہ خواب برسوں پرانا تھا۔ اسے نیند کی دہلیز پر ہمیشہ یہی خواب کنڈلی مار کے بیٹھا نظر آتا۔ اسے لگتا کہ یہ سپنا تمام میٹھے سپنوں کو کھا جائے گا۔ وہ سوتی تو کوئی خواب نیند کی دہلیز کے قریب بھی نہ آتا۔ نیند کی بستی میں خوابوں کے تمام گھر ویران پڑے تھے۔ صبح اس کی رخصتی تھی۔ اس کا دل اندیشوں کے بو جھ سے بیٹھ رہا تھا۔
وہ اپنے آپ کو پر کٹی تتلی محسوس کر رہی تھی۔ اس نے سوچا کہ چند لمحوں کی خطا نے اسے فطری خوبصورتی سے محروم کر دیا ہے اور شاید اب وہ کبھی اپنی منزل سے ہمکنار نہ ہو۔ اندھیرا بہت گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو گرم لحاف میں اچھی طرح سمیٹا اور لاچاری سے بولی ’’آ بھی جاؤ میرے سپنو!… آج میں اکیلی ہوں… اندھیرے میں ہی چلے آؤ… کوئی سپنا تو میرا جی بہلائے!‘‘ اس نے بے بسی سے کہا ’’پھر اپنے دہکتے رخسار اور نم آنکھیں تکیے میں گاڑ دیں۔
اچانک اسے کسی میٹھے سپنے کی آہٹ محسوس ہوئی مگر دوسرے ہی پل ادھورے سپنے نے اسے نگل لیا۔ پھر دوسرا… تیسرا… چوتھا… سارے سپنے ایک ایک کر کے ادھورے سپنے کے پیٹ میں اترتے چلے گئے۔
اس کے بعد ادھورا سپنا اپنا پھن پھیلائے اس کی نیند میں اتر آیا۔ اس نے دیکھا ’’ایک تتلی اپنے ننھے سے دوست گلاب کے لیے زرد رنگ لینے جاتی ہے۔ وہ فصیل پار کر کے بڑی مشقت سے رنگ ڈھونڈ کر لاتی ہے۔ واپسی پر پتنگے اس کے پروں کی خوبصورتی چھیننے کے لیے اس پر جھپٹ پڑتے ہیں۔ پر ٹوٹ جاتا ہے اور وہ نیچے گر کر پھڑ پھڑانے لگتی ہے…‘‘
تیز و تند جھکڑ چلے، غبار دور دور تک پھیل گیا۔ اس کے انگ انگ میں خوف اتر آیا، اس نے سوچا ابھی ماں کی آواز آئے گی ’’کرن!… او کرن! اٹھ بھی جا۔‘‘ اور پھر اسے ادھورے سپنے کی سولی پہ چڑھنا پڑے گا۔ مگر یہ آواز نہیں آئی۔ پل دو پل اس نے انتظار کیا پھر وہی ادھورا سپنا آگے چل پڑا۔ اس نے دیکھا ’’تتلی فصیل سے گر کر پھڑپھڑانے لگی ہے۔
پتنگے اس کے پاس پہنچنے والے ہیں اور اس کی آنکھیں دہشت سے پھیلنے لگی ہیں۔ اچانک ایک ٹھنڈی ہوا چلی، گلاب کے پودے خوشی سے جھومنے لگے۔ ٹہنیوں پر لگے خواب رنگ شگوفوں اور کلیوں نے ایک دم مہک سی پھیلائی۔ پھر پھولوں کے بیچ سے سپنوں کا شہزادہ نکلا۔ اس نے بڑے پیار سے تتلی کو اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر کر سینے سے لگایا اور ہر طرف میٹھے سپنوں کی روشنی پھیل گئی۔

0 comments:
Post a Comment