Showing posts with label Interesting Facts. Show all posts
Showing posts with label Interesting Facts. Show all posts

Sunday, 7 July 2013

Interesting Facts

Posted by Unknown on 21:37 with No comments
1۔ الو ایک واحد پرندہ ہے جو نیلا رنگ دیکھ سکتا ہے۔

1) Owls are one of the only birds
who can see the
color blue!

2۔ گالف واہد کھیل ہے جو چاند پر 6 فروری 1971 کو کھیلا گیا اور ایل شیپرڈ نے گالف بال کو ہٹ لگائی۔
2) Golf the only sport played on
the moon – on 6
February 1971 Alan Shepard hit a
golf ball."

3۔ بچھو پر تھوڑی سی الکحل ڈالنے سے بچھو پاگل ہو جاتا ہے اور خود کو ڈنگ مار کر ختم کر لیتا ہے۔

3) Even a small amount of
alcohol placed on a
scorpion will make it go crazy
andsting itself to
death.

4۔ شہد نگلنے کے 20 منٹ بعد خون کے بہاؤ میں شامل ہو جاتا ہے۔

4) When Honey is swallowed, it
enters the blood
stream within a period of 20
minutes.

5۔ ارل ڈین نے کوکا کولا کا ڈیزائن تیار کیا۔

5) Earl Dean developed the bottle
design for Coca-
Cola.

6۔ کاجو نٹ کے شیل میں ایسا تیل ہوتا ہے جس سے انسانی جلد کو سوزش ہو جاتی ہے۔

6) Cashew nut shells contain oil
that is extremely
irritating to human skin.

Saturday, 6 July 2013

History Of Coffee

Posted by Unknown on 01:45 with No comments
 کافی کی تاریخ

کافی کی دریافت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ خالد نام کا ایک عرب ایتھوپیا کے علاقہ کافہ میں ایک روز بکریاں چرا رہا تھا۔اس نے محسوس کیا کہ اس کے جانور ایک خاص قسم کی بوٹی کھانے کے بعد چاق و چوبند ہوگئے ہیں۔چنانچہ اس نے اس درخت کی بیریوں کو پانی میں ابال کر دنیا کی پہلی کافی تیار کی۔ ایتھوپیا سے یہ کافی کی بیریاں یمن پہنچیں، صوفی ازم سے وابستہ لوگ اس کو بہت پینے لگے ۔ یمن سے کافی مکہ معظمہ پہنچی،وہاں سے ترکی اور ترکی سے یہ سلطنت عثمانیہ کے دور میں 1645ء میں وینس(اٹلی) پہنچی۔1650ء میں کافی انگلینڈ لائی گئ۔
کافی لفظ عربی لفظ قہوہ سے نکلا ہے۔ عربی کا لفظ قہوہ ترکی میں قہوے بن گیا جو اطالین میں کافے اور انگلش میں کافی بن گیا۔۔

Saturday, 22 June 2013

Unique Interesting Facts

Posted by Unknown on 05:19 with No comments
آج کے جدید دور میں بھی انسان بعض اوقات چند بنیادی حقائق سے لاعلم ہوتا ہے۔ آئیے چند دلچسپ حقائق آپ کے ساتھ شیئر کریں امید ہے آپکی معلومات میں اضافہ ہو گا۔
ایک بلیو وہیل کی زبان کا واز ہاتھی کے وزن سے زیادہ ہوتا ہے۔ بلو وہیل کی زبان کا وزن کم سے کم 2.7 میٹرک ٹن ہوتا ہے۔

انسانی ہڈیاں سٹیل سے 5 گنا زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انہیں توڑا جا سکتا ہے۔

الیگزینڈر گراہم بیل نے ٹیلی فون ایجاد کیا مگر وہ اپنی والدہ اور بیوی سے فون پر بات نہیں کر سکتا تھا کیونکہ دونوں ہی سماعت سے محروم تھیں۔

کشش ثقل کے اثرات کی وجہ سے آپکا وزن اس وقت تھوڑا کم ہو جاتا ہے جب چاند آپکے سر کے اوپر آ جاتا ہے۔

لال بیگ کا شمار اس کی 6 ٹانگوں کی وجہ سے تیز ترین جانوروں میں کیا جاتا ہے۔ یہ ایک میٹر کا فاصلہ صرف ایک سیکنڈ میں طے کر لیتا ہے۔

صرف دو جانور ایسے ہیں جو سر کو موڑے بغیر پیچھے کی طرف دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ ہیں خرگوش اور طوطا۔

اٹلی کا شہر وینس 118 چھوٹے سمندری جزیروں پر تعمیر کیا گیا ہے جنہیں 400 پلوں کی مدد سے ایک دوسرے سے منسلک کیا گیا۔ اور یہ آہستہ آہستہ ڈوبتا جا رہا ہے۔

زرافہ ایک ایسا جانور ہے جو تیر نہیں سکتا۔

کیوی واحد پرندہ ہے جو بو سونگھ کر شکار کرتا ہے۔

ایک بلیو وہیل 3 ٹن غذا کھا سکتا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ کچھ کھائے بغیر 6 ماہ تک زندہ رہ سکتی ہے۔

اگر کمپیوٹر کی سکرین سے گھنٹوں بعد نظر ہٹا کر آپ کسی سفید کاغذ کو دیکھیں گے تو وہ آپکو گلابی دکھائے دے گا۔

Wednesday, 19 June 2013

World's Largest Flower,Rafflesia Arnoldii

Posted by Unknown on 03:50 with No comments
 دنیا کا سب سے بڑا پھول ریفلیسیا آرنلڈی ہے،یہ طفیلی پلانٹ 3 فٹ اونچائی سے زیادہ تک کھِل سکتا ہے۔ اسکی دلفریب شکل و صورت کے باوجود،یہ پلانٹ ایک تیکھی بو خارج کرتا ہے۔ اور اس پلانٹ کے کوئی پتے،تنے اور جڑیں نہیں ہوتیں۔ اس کے بڑے مرکز میں 6 سے 7 کوارٹز پانی سما سکتا ہے۔
 

The largest flower in the world, this parasitic plant can bloom over three feet tall. Despite its alluring appearance, the plant exudes a pungent smell and has no leaves, stems or roots. The large center can hold six to seven quarts of water. 

Tuesday, 4 June 2013

Interesting Information

Posted by Unknown on 06:50 with No comments
بادام گلاب کے پھول کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور آڑو بھی بادام کے خاندان کا ایک رکن ہے۔
 مشتری زمین کے نظام شمسی میں سب سے بڑا سیارہ ہے۔
50 فیصد گلہریاں اپنے نٹس رکھ کر یہ بھول جاتی ہیں کہ انہوں نے وہ کہاں رکھے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ بلٹ پروف جیکٹ اور ونڈشیلڈ وائپر بلیڈ دونوں ایک عورت نے ایجاد کی تھیں۔
سرد موسم میں ناخن تیزی سے بڑھتے ہیں۔
جذبات کی وجہ سے صرف انسان ہی روتے ہیں۔

Saturday, 1 June 2013

Bermuda Triangle

Posted by Unknown on 23:06 with No comments
برمودا ٹرائی اینگل

بحراوقیانوس کے ایک مثلث کی طرح سمندری علاقے کو برموداٹرائی اینگل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس علاقے کا ایک کونہ برمودا میں، دوسرا پروٹوریکو میں اور تیسرا کونا فلوریڈا کے قریب ایک مقام میں واقع ہے۔ برمودا ٹرائی اینگل انہی تین کونوں کے درمیانی علاقے کو کہا جاتا ہے۔ برمودا مثلث کی شہرت کا باعث وہ حیرت انگیز واقعات ہیں جو اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان واقعات کے مطابق کئی بحری اورہوائی جہاز اس بحری اور ہوائی جہاز اس بحری علاقے سے گزرتے ہوئے لاپتہ ہوگئے اور ان کا
کوئی نشان بھی نہیں ملا۔
اس مقام سے وابستہ چند داستانیں ایسی ہیں کہ جن کے باعث اسکو شیطانی یا آسیبی مثلث Devil's Triangle بھی کہا گیا ہے۔ ان داستانوں میں انسانوں کا غائب ہوجانا اور بحری اور فضائی جہازوں کا کھو جانا جیسے غیر معمولی اور مافوق الفطرت واقعات شامل ہیں۔ ان ماوراء طبیعی داستانوں (یا واقعات) کی تفسیر کیلیۓ جو کوششیں کی گئی ہیں ان میں بھی اکثر غیر معمولی اور مسلمہ سائنسی اصولوں سے ہٹ کر ایسی ہیں کہ جن کیلیۓ کم از کم موجودہ سائنس میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔ ان تفاسیر میں طبیعیات کے قوانین کا معلق و غیر موثر ہوجانا اور ان واقعات میں بیرون ارضی حیات کا ملوث ہونا جیسے خیالات اور تفکرات بھی پائے جاتے ہیں۔ ان گمشدکی کے واقعات میں سے خاصے یا تقریباً تمام ہی ایسے ہیں کہ جن کے ساتھ ایک معمہ کی خصوصیت وابستہ ہو چکی ہے اور ان کو انسانی عمل دخل سے بالا پیش آنے والے حوادث کی حیثیت دی جاتی ہے۔ بہت سی دستاویزات ایسی ہیں کہ جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ برمودا ٹرائی اینگل کو تاریخی اعتبار سے ملاحوں کیلیۓ لیۓ ایک اسطورہ یا افسانوی مقام کی سی حیثیت حاصل رہی ہے۔ بعد میں آہستہ آہستہ مختلف مصنفین اور ناول نگاروں نے بھی اس مقام کے بیان کو الفاظ کے بامہارت انتخاب اور انداز و بیان کی آرائش و زیبائش سے مزید پراسرار بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔
برمودا تکون کے بارے میں مختلف تھیوریاں:۔
برمودا تکون کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جگہ ایک دروازے کی حیثیت رکھتی ہے جہاں دوسری دنیا سے آنے والی مخلوق اس دنیا میں داخل ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اسے وقت کا خلاء کہتے ہیں جہاں آنے والی ہر چیز وقت کے خلاء میں گم ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ اسے سمندر کی تہہ میں ڈوبے ہوئے اٹلانٹس کے سگنلز کی کارستانی قرار دیتے ہیں۔ لیکن سائنس اور ماہرین اس سب کو حقیقت کے منافی اور من گھڑت افسانوں سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔
اس کے علاوہ اس کا ایک سبب پانی کی تیز لہروں کو قرار دیا جاتا ہے جو ہر ہونے والے حادثے کے نشان کو اس طرح صاف کر دیتی ہیں کہ ان کا نشان تک نہیں ملتا۔اس کے
علاوہ ایک وجہ علاقائی موسم بھی بتایا جاتا ہے جو اچانک بادو باراں اور طوفان کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے جہاز غائب ہوتے ہیں اور اموات واقع ہوتی ہیں۔
کچھ دانشور ایک وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہاں تین سمندروں گلف آف میکسیکو، اٹلانٹک اور کیریبئن کے پانیوں کا میلاپ ہوتا ہے۔ اور ان کے پانیوں کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے اس میں ایسی مقناطیسی لہریں پیدا ہوتی ہیں جو اپنے اوپر سے گزرنے والی ہر چیز کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہیں۔ اور بعد میں تیز لہریں وقت کے ساتھ ساتھ اس کا نشان مٹا دیتی ہیں۔
برمودہ تکون کے متعلق ایک خیال یہ بھی پایا جاتا ھے کہ اس علاقے میں زیرسمندر زمین سے میتھین کا اخراج ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے پانی کی کثافت بہت کم ہو جاتی ہے۔ اور کوئی جہاز پانی میں تیر نہیں سکتا۔ یہی گیس جب فضا میں شامل ہو جاتی ہے تو پھر فضا میں‌کسی بھی جہاز کے انجن میں‌تیزی سے آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ اور وہ گر جاتا ہے ۔
بعض مفکرین کے نزدیک ایک سبب یہاں اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برطانوی اور امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی ہے جن سے لوگوں کو دور رکھنے کے لئے یہ من گھڑت قصے گھڑے گئے۔ (اب چونکہ اڈوں والا مسئلہ اتنا اہم نہیں رہا اس لیے عرصے سے سمندر کے اس حصے میں ہونے والے پراسرار واقعات بھی نہیں ہوئے)۔
کچھ مفکرین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہاں امریکہ نے ایسی لیبارٹریاں بنا رکھی ہیں جہاں انسانوں کے خاتمے کے لئے مہلک ترین ہتھاروں کی تیاری اور تجربات کا کام کیا جاتا ہے۔ اور لوگوں کو اس کے بارے میں پتہ نہ چلے اس لئے یہ ڈرامہ رچایا گیا۔
بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ شدید سمندری طوفانوں میں جہازبرقی روکا شکار ہوئے ہونگے جبکہ بعض ماہرین قیاس کرتے ہیں کہ اس علاقے کو سمندر میں موجود کوئی بہر ہی طاقتور مقناطیسی قوت بحری اورہوائی جہازوں میں نصب ریڈیائی آلات پر اثرانداز ہوجاتی ہے جس سے سارا نظام ہی معطل ہو کر رو جاتا ہے۔
کچھ مذہبی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ برمودہ تکون اصل میں دجال کا مسکن ہے۔
بہر حال۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ افواہیں' کہانیاں حقیقت اور اندازے جتنے بھی ہوں حقیقت یہ ہے کہ آج کی 21ویں صدی کی حیرت انگیز سائنسی ترقی کے باوجود برموداٹرائی اینگل سائنسدانوں کے لئے ایک چیلنج ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

Wednesday, 29 May 2013

آرام پسندی آپکو بہت جلد موت کی تاریکیوں میں لے جا سکتی ہے کیونکہ اس سے امراض قلب اور ذیابیطس جیسے مہلک امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔


Monday, 27 May 2013

Interesting Information

Posted by Unknown on 06:55 with No comments
بارہ لوگ چاند پر پیدل چلے ھیں۔
زمین کے علاوہ،چاند ایک ایسا قدرتی آسٹرولوجیکل آبجیکٹ ہے جس پر چلنا ممکن ھے۔
ٹوتھ پیسٹس میں سب سے زیادہ فعال جزو کو سوڈیم فلورائڈ کہا جاتا ہے. سوڈیم فلورائڈ مہلک ہو سکتا ہے، اس جزو کے ساتھ باقاعدگی سے ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتے ہوئے چھوٹے بچوں کی نگرانی کی جانی چاہیے۔ کیونکہ اس کی تھوڑی سی مقدار نگلنے سے معدہ اور پیٹ کے مسائل ہو سکتے ھیں۔
نیوزی لینڈ میں زمینی سانپ بالکل نہیں ہوتے۔ سانپ کو دور رکھنا نیوزی لینڈ کی بائیو سلامتی کا ایک حصہ ھے اور اگر کسی کو سانپ کے بارے میں کوئی خبر ہو تو قانونی لحاظ سے اسکی اطلاع کرنا لازمی ھے۔
 نیوزی لینڈ میں کسی کو ریبیز کی بیماری نہیں ہوتی۔


بٹر ملک میں مکھن نہیں ہوتا۔

کیا آپ جانتے ہیں ڈزنی لینڈ میں چیونگ گم فروخت نہیں کیے جاتے؟ والٹ ڈزنی پارک میں خریدی گئی گم پر پاؤں چپکنے کی وجہ سے اپنے مہمانوں کو تکلیف نہیں دینا چاہتے۔

ہر سال ڈزنی لینڈ پارک کی صاف ظاہری شکل کو برقرار رکھنے کے لیے پینٹ کے 5،000  سے زائد گیلن استعمال کرتا ہے۔

ایک اونٹ زرافے کے مقابلے میں پانی کے بغیر زیادہ عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے۔

ایک تتلی کو اڑنے کے لیے 86 ڈگری فارن ہائیٹ یا 30 ڈگری سیلسیس جسم کا درجہ حرارات ہونا ضروری ہے۔
 

حجم کے لحاظ سے پوری دنیا میں سب سے زیادہ دودھ پیدا کرنے والا ملک بھارت ھے۔

Friday, 24 May 2013

کون کہتا ہے جانور حس مزاح سے محروم ہوتے ہیں؟ اس کا ثبوت تو یہ تصویر ہے۔

Saturday, 18 May 2013

واشنگٹن: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دماغ کے حساب کتاب اور جمع تفریق کرنے والے حصوں کو برقی پیغامات بھیج کر ذہنی کارکردگی بہتر بنانا ممکن ہو گیا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے تحقیق دانوں کی تحقیق کے مطابق اب انسانی ذہن کی کارکردگی بڑھانا ممکن نہیں رہا۔

تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج حیران کن تھے۔ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں منتخب 51 طالب علم جن کے دماغ کے خاص حصوں کو برقی پیغامات بھیجے گئے،کارکردگی بہتری میں نوٹ کی گئی۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ تحقیق اور اس کے نتائج ابھی ابتدائی حصے میں ہیں اور ابھی اس ضمن میں بہت کچھ ہونا باقی ہے تاہم سائنسدان پرامید ہیں کہ یہ نتائج مستقبل میں طالبعلموں کی ذہنی استعداد بڑھانے اور انہیں یادداشت سے متعلق بیماریوں کے اثرات سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
نیویارک: فیس بک دنیا کی مقبول ترین سماجی رابطے کی ویب سائٹ ہے جس کے متحرک اراکین کی تعداد ایک ارب سے بھی زائد ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے 10 فیصد تو انسان ہی نہیں۔

جی ہاں،کتے،بلیاں، گھوڑے،کچھوے،اور بھی بہت سے جانور فیس بک کے صارفین میں شامل ہیں۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق فیس بک کے کم ازکم 100 ملین صارفین درحقیقت جانور،برانڈز اور کمپنیاں ہیں،یہاں تک کہ اس کے بانی مارک زیوگر برگ کے کتے بیسٹ کا بھی اپنا پیج ہے۔

انٹرنیٹ مارکیٹ ریسرچ کمپنی ای مارکیٹر کی تحقیق کے مطابق ایک ارب میں سے تقریباً 899.3 صارفین ہی اصل انسان ہیں۔

تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ فیس بک کا دعوٰی ہے کہ اس وقت اس کے صارفین کی تعداد ایک ارب 11 کروڑ ہے مگر انسانی تعداد کے اعتبار سے اس سطح تک پہنچنے کے لیے ویب سائٹ کو 2014 تک انتظار کرنا ہو گا۔ 

Friday, 17 May 2013

نیویارک: کسی سے تعلق توڑنا تو بہت مشکل کام ہوتا ہے مگر غمگین گانے سن کر یہ کام آسان ہو جاتا ہے۔

یہ دلچسپ دعوٰی امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی اس دلچسپ تحقیق میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر آپ آرام سے بیٹھ کر دُکھ بھرے گانے سنیں تو پھر محبوب سے راستہ الگ کرنے میں کوئی زیادہ ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔

تحقیق میں بقول کسی تعلق میں خرابی کے بعد لوگ پہلے اداس اور پھر منفی جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔

اسی طرح دلچسپ انکشاف یہ بھی کیا گیا ہے کہ کئی بار یہ غمگین گیت،اشک بہانے پر مجبور کرنے والے ڈرامے بھی خوشی کا سبب بن جاتے ہیں۔ 

Monday, 13 May 2013

نیویارک: بالوں کی سجاوٹ کے مقابلے تو دنیا بھر میں ہوتے ہوں گے مگر کولمبیا جیسا رنگا رنگ سجا میلہ آپ نے نہیں دیکھا ہو گا۔

کولمبین شہر کالی میں ہونے والی ایفری ہیئر ڈریسز کے مقابلے میں ہر عمر کی لڑکیوں اور خواتین نے اپنے بال کپڑوں اور دونوں سے اس طرح سجائے کہ سب دنگ رہ گئے۔
تمام خواتین نے اپنے بالوں کو اس انداز سے سجایا جس طرح غلامی کے عہد میں ان کو بال بنانے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

کولمبیا میں سولہویں صدی میں ہسپانوی حکمرانوں نے افریقی غلام درآمد کر کے انہیں جبری مشقت پر مجبور کیا تھا۔ اب ان غلام افراد کے بچے اپنے بزرگوں کی یاد میں بال سجا کر یہ میلہ مناتے ہیں۔
لندن: سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک تہائی افراد اچھا نظر آنے یا دوستوں کے دباؤ پر جھوٹ بولنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہ دعوٰی ایک آن لائن سروے میں سامنے آیا ہے۔

بارکلے یارڈ کے مطابق سوشل میڈیا کا ہر دس میں سے ایک صارف نے مکمل جھوٹ بولنے کا اعتراف کیا ہے، مردوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ ایسا اچھا نظر آنے کے لیے کرتے ہیں جبکہ خواتین ساتھیوں کے دباؤ پر ایسا کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔

سروے میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں 60 لاکھ افراد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر سفید جھوٹ بولتے ہیں،جبکہ 1 کروڑ افراد موقع ملنے پر اس سے چوکتے نہیں۔

سروے کے مطابق جھوٹ بولنے والوں میں سے 39 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ وہ اچھا وقت یا اپنی اپ-ڈیٹس کو بہتر بنانے کے لیے ایسا کرتے ہیں،جبکہ ہر تین میں سے ایک فرد نے یہ اعتراف کیا ہے کہ  اگر وہ جھوٹ نہ بولے تو انہیں اپنی زندگی بیزار لگنے لگتی ہے۔

سروے کے مطابق فیس بک کی نسبت ٹویٹر پر مرد حضرات زیادہ جھوٹ بولتے ہیں جبکہ خواتین انسٹاگرام اور فیس بک پر اس کام میں آگے ہیں۔ 

Sunday, 12 May 2013

نیویارک: امریکہ کے طالب علموں کو دنیا کے بدترین طالب علم قرار دیا گیا ہے۔

یہ دلچسپ دعوٰی ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غذائیت اور آمدنی کے حوالے سے تو امریکی طالب علم سب سے آگے ہیں مگر کلاس روم میں سونے کے اعتبار سے وہ دنیا کے سب سے بدترین انتخاب ہیں۔

بوسٹن کالج کی تحقیق کے دوران 50 ممالک کے 9 لاکھ طالب علموں کا ڈیٹا دیکھا گیا جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ کلاس میں سونے کے معاملے میں امریکی طالب علم سب سے بدنام ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ امریکی طالب علم سائنس اور ریاضی میں تو کارکردگی دکھاتے ہیں لیکن 9 سے 14 سال کی 80 فیصد تعداد کلاس رومز کو خوابگاہ بنانا زیادہ پسند کرتی ہے۔

اس حوالے سے نیوزی لینڈ دوسرے،سعودی عرب تیسرے،کویت چوتھے،اور آسٹریلیا پانچویں نمبر پر ہے۔

Thursday, 9 May 2013

لندن: کچھ لوگ آواز دبا کر ہنستے ہیں تو کچھ لوگوں کی بتیسی ہنسنے کے دوران نظر آتی ہے۔ کچھ بہت تیز ہنستے ہیں تو کچھ قہقہوں کو سن کر یوں محسوس کرتے ہیں گویا بم پھٹا ہو۔ ایک برطانوی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپکے ہنسنے کا انداز آپ کی شخصیت کے بہت سے پہلوؤں کا پردہ چاک کر دیتا ہے۔
تحقیق میں یہ دعوٰی کیا گیا ہے کہ صرف ہنسی کی آواز سن کر ہی کسی کے خیالات بتائے جا سکتے ہیں۔
بےکیف ہنسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شخص حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی طور پر خوشی کا اظہار کر رہا ہے۔ جبکہ بچوں کے رونے جیسی ہنسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شخص اپنی غلطی چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔
خرخراہٹ جیسی ہنسی اچھے مزاح پر بےاختیار نکل جاتی ہے۔ جبکہ خواہ مخواہ ہنسنے والا شخص بیزارکن شخصیت کا مالک ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اگر کوئی دل سے ہنس رہا ہو تو اس کی آنکھیں نیم وا ہو جاتی ہیں اور اس کا منہ بھی کھل جاتا ہے اور اس کی آواز بھی سننے میں بہت بھلی لگتی ہے۔