Showing posts with label Jinn. Show all posts
Showing posts with label Jinn. Show all posts

Monday, 27 May 2013

جن سانپ کی شکل میں آیا

خطیب حضرت جابر بن عبدﷲ رضی ﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول ﷲ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔
آپ ایک کھجور کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے کہ بالکل ہی اچانک ایک بہت بڑے کالے سانپ نے آپ کی طرف رُخ کیا، لوگوں نے اس کو مار ڈالنے کا ارادہ کیا لیکن آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو میرے پاس آنے دو۔
جب یہ آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو اپنا سر آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے کانوں کے پاس کر دیا۔ پھر آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس سانپ کے منہ کے قریب اپنا منہ کرکے چپکے چپکے کچھ ارشاد فرمایا۔
اس کے بعد اسی جگہ یکبارگی وہ سانپ اس طرح غائب ہو گیا کہ گویا زمین اس کو نگل گئی۔
حضرت جابر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! (صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے سانپ کو اپنے کانوں تک پہنچنے دیا۔ یہ منظر دیکھ کر ہم لوگ ڈر گئے کہ کہیں یہ سانپ آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو کاٹ نہ لے۔
آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سانپ نہیں تھا بلکہ جنوں کی جماعت کا بھیجا ہوا ایک جن تھا۔ فلاں سورہ میں سے کچھ آیتیں یہ بھول گیا۔ ان آیتوں کو دریافت کرنے کے لئے جنوں نے اس کو میرے پاس بھیجا تھا۔ میں نے اس کو وہ آیتیں بتا دیں اور وہ ان کو یاد کرتا ہوا چلا گیا۔
(الکلام المبين ص۹۴)
جنوں کا سلام و پیغام

ابن سعد نے جعد بن قیس مرادی سے روایت کی ہے کہ ہم چار آدمی حج کا ارادہ کرکے اپنے وطن سے روانہ ہوئے یمن کے ایک جنگل میں ہم لوگ چل رہے تھے کہ ناگہاں اشعار پڑھنے کی آواز آئی ہم نے ان اشعار کو غور سے سنا تو ان کا مضمون یہ تھا کہ اے سوارو! جب تم لوگ زمزم اور حطیم پر پہنچو تو حضرت محمد صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں ہمارا سلام عرض کر دینا جن کو ﷲ تعالیٰ نے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور ہمارا یہ پیغام بھی پہنچا دینا کہ ہم آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دین کے فرماں بردار ہیں کیونکہ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام نے ہم لوگوں کو اس بات کی وصیت فرمائی تھی۔ (یقینا یہ یمن کے جنگل میں رہنے والے جنوں کی آواز تھی)۔
(الکلام المبين ص۹۳ بحواله ابن سعد)

Sunday, 26 May 2013

جنات اور شیاطین
میں نے جن اور انس کو اس لیں پیدا کیا کے وہ میری

عبادت کریں۔ (سورہ الزاریات51/52)

انسانوں کی نظر سے پوشیدہ مخلوق کو جن کہتے ہیں۔

قرآن میں ۲۲ مرتبہ لفظ جن آیا ہے، 68 بار شیطان،

17 بار شیاطین 7 بارالجان آیا ہے۔

فرشتوں کو اللہ نے نور سے

جنات کو آگ کی لو سے

آدم کو بدبودار مٹی سے پیدا کیا ہے۔

( صحیح مسلم البخاری) 

جنوں کی قسمیں

۱۔ سانپ اور کتے کی شکل میں ہوتے ہیں۔

۲۔ ہوا میں اڑتے ہیں۔

۳۔ زمیں پے چلتے ہیں۔

۴۔ جنات اور شیاطین کے اندر انسانوں اور حیوانوں کی

شکل اختیار کرنے کی قدرت پائی جاتی ہے۔ (سورہ الانفال)

۵۔ بیشک شیطان انسان کے جسم میں خون کی ماند گردش

کرتا ہے۔

(صحیح مسلم 2174- 2175-2020)

۶۔ ان میں مسلمان اور کافر اچھے اور برے جنات ہو تے

ہیں۔

۷۔ گوبر اور اونٹ کی میگنی جنوں کے جانوروں کا چارہ

ہے۔

۸۔ ہڈی اور کوئلہ سے استنجاء نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے

جن بھائیوں کا کھانا ہے۔

(صحیح مسلم 832جامع الترمزی-18)

۹۔ جن ہڈیوں پر اللہ کا نام لیا گیا ہو گا وہ ان کے ہاتھوں

میں آتے پہلے سے زیادہ گوشت بھر جائے گا۔

(صحیح مسلم 450)

۱۰۔ جنوں کے جانور بھی ہوتے ہیں۔

(بنی اسرائیل 64-10-11)

اونٹ کو شیطانوں میں سے پیدا کیا گیا ہے ہر اونٹ کے

پیچھے ایک کافر جن ہو تا ہے۔

۱۱۔ حضرت سلیمان نے جنات سے بیت المقدس کی تعمیر

 کروائی۔ (سورہ سبا14)

۱۲۔ جنت اللہ نے انسانوں اور جنوں کے لیے بنائی ہے۔

۱۳۔ شیاطین نافرماں جنات کو کہتے ہیں اور یہ ابلیس کی

اولاد میں سے ہیں۔

۱۴۔ آپ نے فرمایا چیڑیل جادوگر جن ہوتے ہیں۔

۱۵۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ

کتے جنات میں سے ہوتے ہیں اگر کھانا کھاتے وقت کوئی

کتا آ جائے تو اس کو ٹکڑا ڈال دو ان کا بھی جی ہوتا ہے۔

۱۶۔سوراخ میں پیشاب مت کرو کہ اس میں جنات رہتے ہیں۔

۱۷۔ بیت الخلا ء میں کافر جنات رہتے ہیں دعا پڑھنے والا

 آدمی جنات کو نظر نہیں آئے گا۔

۱۸۔ دعا کے پڑھنے سے انسانوں اور کافر جناتوں کے

درمیان ایک آڑ ہو جاتی ہے۔
 
۱۹۔ یہ انسان کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے۔

۲۰۔ حضورکا جن (شیطان)مسلمان ہو گیا تھا۔
جن نے اسلام کی ترغیب دلائی:۔

حضرت سواد بن قارب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ایک جن میرا تابع ہو گیا تھا۔ وہ آئندہ کی خبریں مجھے دیا کرتا تھا اور میں لوگوں کو وہ خبریں بتا کر نذرانے وصول کیا کرتا تھا۔
ایک بار اس جن نے مجھے آ کر جگایا اور کہا کہ اٹھ اور ہوش میں آ، اگر تجھ میں کچھ شعور ہے تو چل اور بنی ہاشم کے سردار کے دربار میں حاضر ہو کر ان کا دیدار کر جو لوی بن غالب کی اولاد میں پیغمبر ہو کر تشریف لائے ہیں۔
حضرت سواد بن قارب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ مسلسل تین راتیں ایسی گزریں کہ میرا یہ جن مجھے نیند سے جگا جگا کر برابر یہی کہتا رہا یہاں تک کہ میرے دل میں اسلام کی اُلفت و محبت پیدا ہو گئی اور میں اپنے گھر سے روانہ ہو کر مکہ مکرمہ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو گیا۔
آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر ” خوش آمدید ” کہا اور فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ کس سبب سے تم یہاں آئے ہو۔
میں نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! ( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں نے آپ کی مدح میں ایک قصیدہ کہا ہے پہلے آپ اس کو سن لیجئے۔
آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پڑھو۔ چنانچہ میں نے اپنا قصیدۂ بائیہ جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مدح میں نظم کیا تھا پڑھ کر رحمتِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو سنایا اس قصیدہ کا آخری شعر یہ ہے کہ

وَ کُنْ لِّيْ شَفِيْعًا يَوْمَ لَا ذُوْشَفَاعَةٍ
سِوَاكَ بِمُغْنٍ عَنْ سَوَادِ بْنِ قَارِبٍ

یعنی آپ اس دن میرے شفیع بن جائیے جس دن آپ کے سواسواد بن قارب کی نہ کوئی شفاعت کرنے والا ہو گا نہ کوئی نفع پہنچانے والا ہو گا۔
اس حدیث کو امام بیہقی نے روایت فرمایا ہے۔
(الکلام المبين ص۸۷ بحواله بيهقی)

Friday, 24 May 2013

جنات کے شر سے بچنے کے طریقے
(۱)
اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا
(۲)
تلاوت قرآن کریم
(۳)
ذکر اللہ عزوجل کی کثرت
(۴)
اذان دینا
(۵)
لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئٍ قدیر
(سومرتبہ روزانہ)
(۶)
جنات اور جادو وغیرہ کے وظائف
(۷)
چکنائی والی چیزیں جلد دھو ڈالنا
(۸)
گھر میں لیموں رکھنا
(۹)
سفید مرغ رکھنا
(۱۰)
تعویزات استعمال کرنا
اس پورے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ جنات کا وجود موجود ہے اس سے انکار کرنے والا کافر ہے۔
انسانوں کی طرح جنات بھی شادی کرتے ہیں ان کے اولاد ہوتی ہے۔
ان کی عمریں طویل ہوتی ہے۔
وہ ایسے کام بھی کر گزرتے ہیں جو عقلِ انسانی سے باہر ہوتے ہیں۔
انسان کو جسم میں یا اس سے باہر نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن یہ مستقبل کی خبریں نہیں بتا سکتے۔۔۔
جنات کا انسانوں سے ڈر
حیران کن بات یہ ہے کہ جہاں انسان جنات سے ڈرتا ہے وہاں جنات بھی انسانوں سے ڈرتے ہیں۔
حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جتنا تم (انسانوں) میں سے کوئی شیطان سے گھبراتا ہے اس سے بھی زیادہ وہ تم سے گھبراتا ہے لہذا جب وہ تمہارے سامنے آئے تو اس سے نہ گھبرایا کرو ورنہ تم پر سوار ہوجائے گا البتہ تم اس کے مقابلے کے لیے تیار ہوجایا کرو تو وہ بھاگ جائے گا۔
(لقط المرجان فی احکام الجان ، ص 138)
کیا جنات انسان کو تکلیف دے سکتے ہیں؟
جنات انسان کو دو طرح سے تکلیف دے سکتے ہیں
(۱) 
اس کے جسم سے باہر رہتے ہوئے
(۲) 
اس کے جسم میں داخل ہو کر۔
پہلی قسم کی مثال میں دو احادیث مبارکہ پیش خدمت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ شہنشاہِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ”ابن آدم کو جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کی پیدائش کے وقت شیطان اس کو مس کرتا ہے (یعنی چھوتا ہے ) اور شیطان کے مس کرنے سے وہ بچہ چیخ مار کر روتا ہے ماسواء حضرت مریم رضی اللہ عنہا اور ا ن کے بیٹے کے۔
۔(صحیح بخاری ، حدیث 3431، ج ۲، ص 453)۔
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ میری امت طعن اور طاعون سے ہلاک ہوگی۔
عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طعن کے بارے میں تو ہم نے جان لیا مگر یہ طاعون کیا ہے؟
ارشادر فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنات کے نیزوں کی چھبن ہے اس کا مارا ہوا شہید ہے۔
(المسند امام احمد، حدیث 19545، ج ۷،ص 131)
دوسری قسم میں جنات کا انسان کے بدن میں داخل ہونا بھی قرآن و احادیث سے ثابت ہے چنانچہ قرآن مجید میں ارشادہے۔
ترجمہ: قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنا دیا۔
(پارہ ۳، البقرہ275)

علامہ محمد بن انصاری قرطبی اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں یہ آیت اس شخص کے انکار کے فساد پر دلیل ہے جو یہ کہتا ہے کہ انسان کو پڑنے والا دورہ جن کی طرف سے نہیں اور گمان کرتا ہے کہ یہ طبیعتوں کا فعل ہے اور شیطان انسان کے نہ تو اندر چلتا ہے اور نہ چھوتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بیٹے کو لائی اور عرض گزار ہوئی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے بیٹے کو جنون ِ عارض ہوتا ہے اور یہ ہم کو تنگ کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی ۔ اس نے قے کی اور اس کے پیٹ سے سیاہ کتے کے پلے کی طرح کوئی چیز نکلی۔
(مسند الدارمی ، حدیث 19، ج ۱، ص 24)
امام اہل سنت کا فتویٰ


اعلیٰ حضرت ، امام اہل سنت مولانا احمد رضا خاں رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حاضرات شریر جنات مختلف روپ میں آ کر مسلمانوں کو ستاتے ہیں۔ بلکہ بسا اوقات تو انسانی جسم میں ظاہر ہو کر کسی بزرگ کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور پھر لوگوں کے سوالات کے الٹے سیدھے جوابات دیتے ہیں ، بیماریوں کا علاج بتاتے ہیں وغیرہ۔
اسی کو فی زمانہ حاضری کا نام دیا جاتا ہے
موکلاں جن سے پوچھتے ہیں فلاں مقدمہ میں کیا ہوگا؟ فلاں کام کا انجام کیا ہوگا؟ یہ حرام ہے۔
(تو اب جن غیب سے نرے جاہل ہیں ان سے آئندہ کی بات پوچھنی عقلاً حماقت اور شرعاً حرام اور ان (جنات) کی غیب دانی کا اعتقاد ہوتو کفر۔
(فتاویٰ افریقہ ، ص 177)

Wednesday, 22 May 2013


جنات کا انسان کو قابو کر لینا
بہت سے دوست احباب کے نزدیک جنات انسان پر قابض نہیں ہو سکتے ہیں۔
علامہ محمود آلوسی لکھتے ہیں کہ بعض اجسام میں ایک بدبو داخل ہوتی ہے اور اس کے مناسب ایک خبیث روح اس پر قابو پالیتی ہے اور انسان پر مکمل جنون طاری ہو جاتا ہے۔
بسا اوقات یہ بخارات انسان کے حواس پر غالب ہو کر حواس معطل کر دیتے ہیں اور وہ خبیث روح انسان روح کے جسم پر تصرف کرتی ہے او اس کے اعضاء سے کلام کرتی ہے۔ چیزوں کو پکڑتی ہے اور دوڑتی ہے حالانکہ اس شخص کو بالکل پتہ نہیں چلتا اور یہ بات عام مشاہدات سے ہے جس کا انکار کوئی ضدی شخص ہی کر سکتا ہے۔
(روح المعانی ، ج ۳، ص 2)
خبر رسانی کا کام

امیرالمومینین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دشمنان اسلام کی سرکوبی کے لیے ایک لشکر اسلام روانہ فرمایا پھر (چند دنوں) بعد ایک شخص مدینہ منورہ آیا اور اس نے اطلاع ی کہ مسلمان دشمنوں پر فتح یاب ہوگئے ۔ یہ خبر مدینہ منورہ میں عام ہوگئی۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں علم ہوا تو ارشاد فرمایا کہ یہ ”ابوالہیشم “ جنوں کے خبر رساں ہیں عنقریب انسانوں کا خبر رساں بھی پہنچنے والا ہے ۔ چنانچہ چند دنوں میں وہ بھی پہنچ گیا۔
(لقط المرجان فی احکام الجان، ص 192)
علامہ محمود آلوسی لکھتے ہیں کہ جنات اجسامِ ہوائیہ ہیں جن میں بعض یا سب مختلف شکلیں اختیار کرسکتے ہیں ان کی خاصیت یہ ہے کہ وہ مخفی رہتے ہیں اور بسااوقات اپنی اصل شکل کے علاوہ کسی اور شکل میں نظر آتے ہیں لیکن ان کو اصلی صورت میں دیکھنا انبیاءعلیہم السلام اور بعض اولیاءکرام رحم اللہ کے ساتھ مخصوص ہے۔
(روح المعانی ، ج 29، ص 130)
بیت المقدس کی تعمیر اور جنات

حضرت داﺅد علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی تو اس کی تکمیل سے قبل ہی آپ کی وفات کا وقت آپہنچا آپ نے اس کام کی وصیت اپنے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کو فرمائی۔ چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کی ایک جماعت کو اس کام پرلگا دیا اور عمارت کی تعمیر ہوتی رہی۔
(عجائب القرآن ، ص 124)
اسی دوران آپ کی وفات کا وقت آگیا اوار آپ محراب میں کھڑے ہوگئے لیکن جنات کو پتہ نہ چلے۔
ترجمہ : پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم بھیجا جنوں کو اس کی موت نہ بتائی مگر زمین کی دیمک نے کہ اس کا عصا کھاتی تھی پھر جب سلیمان زمین پر آیا جنوں کی حقیقت کھل گئی اگر غیب جانتے ہوتے تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے
پ ۲۲، سبا 41

Tuesday, 21 May 2013

Takht Bilqees...تخت بقلیس

Posted by Unknown on 10:51 with No comments
تخت بقلیس

ملکہ سبا” بلقیس“ کا تخت شاہی 80گز لمبا اور 40ہاتھ چوڑا تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کے قاصد اور تحائف ٹھکرا کر اسے مسلمان ہونے کا حکم بھیجا اور دربار میں حاضری کا کہا۔ آپ علیہ السلام کی خواہش تھی کہ اس سے پہلے اس کا تخت آجائے ۔ آپ نے اپنے درباریوں سے فرمایا۔
ترجمہ سلیمان نے فرمایا اے درباریو! تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہو کر حاضر ہوں ایک بڑا خبیث جن بولا میں وہ تخت حضور میں حاضر کر دوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بے شک اس پر قوت والا امانت دارہوں
پ ۹۱، النمل ۸۳/۹۳۔
 (عجائب القرآن ، ص 198)

Ages of Jinn...جنات کی عمریں

Posted by Unknown on 10:20 with No comments

جنات کی عمریں
جنات کی عمریں بہت طویل ہوتی ہیں صحابی جن حضرت عثمان بن صالح کا 219ہجری میں انتقال ہوا۔
(الاصابة فی تمیز الصحابیة ، حدیث 5806، ج4، ص 504)
یہ تو جنات کا ایک مختصر تعارف تھا تاکہ پتہ چلے کہ جنات ہے کیا اب آتے ہیں اصل موضوع کی جانب آج کل کچھ لوگ غلط بات کو پھیلاے اور کمزور اعتقاد کے مالک حضرات ان پر بہت جلد اعتماد کر لیتے ہیں۔ 
کچھ لوگ اس عقیدہ کے مالک ہیں کہ اللہ عزوجل نے جنات کو کوئی تصرف ، کوئی طاقت نہیں دی اور کچھ کا کہنا ہے کہ جنات کو بہت طاقت ملی ہے ۔ اللہ عزوجل نے جنات کو کتنی قوت عطا فرمائی قرآن وحدیث اور کچھ روایات سے اس دماغی خلش کو بھی اپنے دماغوں سے دور کرنے کی کوشش کرے۔
جنات کے مذاہب
اللہ عزوجل قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے کہ
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنۡسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾
پارہ 27، الذاریات 54
ترجمہ : اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لیے پیدا کیے کہ میری بندگی کریں۔
علامہ فخرالدین رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ بلاشبہ جنات بھی انسانوں کی طرح شریعت کے مکلف ہیں۔
(تفسیر الکبیر، ج10، ص 625)
اسی طرح علمائے کرم تحریر کرتے ہیں کہ جنات ہر چیز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مکلف ہیں۔ اخبار وآثار میں وارد ہے کہ مومنین جنات نماز پڑھتے ہیں ، روزے رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں، تلاوت قرآن کرتے ہیں ، علوم دینیہ اور روایات حدیث انسانوں سے حاصل کرتے ہیں اگرچہ انسانوں کو اس کا پتہ نہ چلے۔
(الفتاوٰی الحدیثیة ، ص ۹۹)
لیکن یہ تمام باتیں مسلم جنات میں پائی جاتی ہیں جس طرح انسانوں میں کفار موجود ہی اسی طرح جنات میں بھی کفار ہیں۔ 
اسی طرح اچھے اور برے جنات بھی ہوتے ہیں ۔ جن میں تلاوت کرنے والے جنات ، خوفِ خدا عزوجل کی وجہ سے جاں سے گزرنے والے جنات، تہجد گزارجنات، عمرہ ادائیگی ، کعبہ مشرفہ کا طواف وغیرہ کرنے والے نیک جنات ہوتے ہیں۔ 

The Shape of Jinn...جنات کی شکل

Posted by Unknown on 10:11 with No comments
جنات کی شکل
جنات کو اللہ عزوجل نے یہ ادراک دیا ہے کہ وہ انسانوں کو دیکھ سکے لیکن انسانوں کو یہ کمال نہیں ملا کہ وہ جنات کو دیکھ پائے ہاں جنات اگر کسی اور شکل میں ظاہر ہو تو پھر اسے دیکھا جاسکتا ہے ۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جو عادل شخص یہ گمان کرے کہ اس نے جن کی دیکھا ہے (اصل شکل میں ) تو میںاس کی گواہی کو باطل قرار دیتا ہوں۔ 
علامہ بدرالدین شبلی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ بلاشبہ جنات انسانوں اور جانوروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں چنانچہ وہ سانپوں ، بچھووں ، اونٹوں ، بیلوں ، گھوڑوں ، بکریوں ، خچروں ، گدھوں اور پرندوں کی شکلوں میں بدلتے رہتے ہیں۔
(اکام المرجان فی احکام الجان،ص 21)
جنات کی خوراک
جنات کی خوراک میں ہڈی اور لید کے علاوہ جس کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھی جائے، لوبیا (نامی سبزی) جنات کی غذائیں ہیں۔
(عامہ کتب/قوم جنات ،ص22)

جنات کہاں رہتے ہیں؟
امام جلال الدین السیوطی لکھتے ہیں کہ جنات (شیطان جن) اکثر و بیشتر نجاست کی جگہوں پر ہوتے ہیں مثلاً کھجوروں کا جھنڈ ، بیت الخلاء، کچرے کے ڈھیر اور غسل خانوں میں رہتے ہیں۔
(لقط المرجان فی احکام الجان ، مساکن الجن، ص 68)۔
اس کے علاوہ جنات ٹیلوں ، وادیوں ، بلوں(سوراخوں ) ویرانوں میں ، اور انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں ۔ چکنائی والے کپڑے اور جھاڑیوں میں جنات رہتے ہیں۔
(عامہ کتب/ قوم جنات ص 24)

Types of Jinn...جنات کی اقسام

Posted by Unknown on 07:47 with No comments
جنات کی اقسام

علامہ بدرالدین محمد دین احمد عینی بخاری شریف کی شہرہ آفاق شرح عمدة القاری میں جنات کی چند اقسام تحریر کرتے ہیں۔
(۱)
 غول: یہ سب سے خطرناک اور خبیث جن ہے جو
 کسی سے مانوس نہیں ہوتا ۔ جنگلات میں رہتا ہے مختلف شکلیں بدلتا رہتا ہے اور رات کے وقت دکھائی دیتا ہے اور تنہا سفر کرنے والے مسافر کو عموماً دکھائی دیتا ہے جو اسے اپنے جیسا انسان سمجھ بیٹھتا ہے، یہ اس مسافر کو راستے سے بھٹکاتا ہے۔
(۲)
سعلاة: یہ بھی جنگلوں میں رہتا ہے جب کسی انسان کو
 دیکھتا ہے تو اس کے سامنے ناچنا شروع کردیتا ہے اور اس چوہے بلی کا کھیل کھیلتا ہے۔
(۳)
غدار: یہ مصر کے اطراف اور یمن میں بھی پایا جاتا ہے اسے دیکھتے ہی انسان بے ہوش ہو کر گر جاتاہے۔
(۴)
ولھان: یہ ویران سمندری جزیروں میں رہتا ہے اس کی شکل ایسی ہے جیسے انسان شتر مرغ پر سوار ہوتا ہے جو انسان جزیروں میں جا پڑتے ہیں انہیں کھا لیتا ہے۔
(۵)
مشق: یہ انسان کے آدھے قد کے برابر ہوتا ہے ، دیکھنے 
والے اسے بن مانس سمجھتے ہیں ۔ سفر میں ظاہر ہوتا ہے۔ 
(۶)
بعض جنات انسانوں سے مانوس ہوتے ہیں اور انہیں تکلیف نہیں پہنچاتے ہیں۔
(۷)
بعض جنات کنواری لڑکیوں کو اٹھالے جاتے ہیں۔
(۸)
بعض کتے کی شکل کے ہوتے ہیں۔
(۹)
بعض چھپکلی کی شکل میں ہوتے ہیں۔ 


(عمدة القاری ، ج 10، ص 644
جنات کی حکایات ص 10)

Monday, 20 May 2013


زمین پر جنات

علامہ جلال الدین السیوطی تفسیر ِ درمنثور میں حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے زمین پر جنات رہتے تھے۔ انہوں نے زمیں پر فساد برپا کیا اور خونریزی کی ۔ جب انہوں نے زمین پر فرشتوں کے لشکر بھیجے جنہوں نے انہیں مارا اور سمندری جزیروں کی طرف بھگا دیا ۔
(الدرمنثور ، ج۲، ص 111)


جنات کا باپ

حضرت سیدنا حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس طرح آدم علیہ السلام تمام انسانوں کے باپ ہیں ،اسی طرح ابلیس تمام جنات کا باپ ہے۔
(کتاب العظمتہ ، ح114، ص 429)
قرآن مجید ابلیس کے جنات میں سے ہونی کی گواہی اس آیت مبارکہ میں دیتا ہے
فَسَجَدُوۡۤا اِلَّآ اِبْلِیۡسَ ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیۡنًا ﴿ۚ۶۱)پ 15، السرا 61(
ترجمہ : تو سب نے سجدہ کیا سوا ابلیس کے قوم جن سے تھا۔ 


جنات کی پیدائش اور تعداد

حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چوتھی زمین کے اوپر اور تیسری زمین کے نیچے اتنے جنات ہیں کہ اگر وہ تمہارے سامنے آجائیں تو تمہیں سورج کی روشنی دکھائی نہ دے۔
(کتاب العظمة ، حدیث 1098، ص418)
حضرت سیدنا عمرو بکالی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب انسان کا ایک بچہ پیداہوتا ہے تو جنات کے یہاں نو (۹) بچے پیدا ہوتے ہیں ۔
۔(جامع البیان حدیث ۳۰248، ج۹، ص 85)۔
 ان روایات سے ایک بات تو یہ پتہ چلی کہ جنات کی اولاد ہوتی ہے اور انسانوں کے مقابلے میں نو (۹) گنا ہوتی ہے اور دوسرا یہ سب ابلیس کی اوالاد سے ہیں اور ابلیس جنات میں سے ہے۔ 

Who Are Jinn?...جنات کو ن ہیں؟

Posted by Unknown on 08:34 with No comments

جنات کو ن ہیں؟

جن اللہ عزوجل کی ایک مخلوق ہے جو اپنا وجود رکھتی ہے ۔ جنات کو ایک خاص علم حاصل ہوتا ہے ۔ یہ ایسے عجیب و غریب اور مشکل ترین کام کرنے کی طاقت 
رکھتے ہیں جنہیں کرنا عام انسان کے بس کی بات نہیں۔
(العدیقة الندیة ، ج ۱، ص ۲۸)


جنات کا وجود

مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ جنات کے وجود سے انکار یا بدی کی قوت کا نام جن یا شیطان رکھنا کفر ہے۔
(بہار شریعت ، ج۱، ص ۸۹)


جن کہنے کی وجہ تسمیہ

لغت میں جن کا معنی ہے ” ستر اورخفا“ اور جن کو اسی لیے جن کہتے ہیں کہ وہ عام لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوتا ہے ۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ فرشتوں کو بھی جن کہا کرتے تھے کیونکہ وہ ان کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوتے تھے۔
(عمدة القاری ، ج10، ص644)


جنات کو کس سے پیدا کیا گیا

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
وَالْجَاۤنَّ خَلَقْنٰہُ مِنۡ قَبْلُ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴿۲۷۔
پ14، الحجر۷۲
ترجمہ: اور جن کو اس سے پہلے بنایا بے دھوئیں کی آگ سے ۔
ایک اور جگہ ارشار فرمایا
وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ﴿ۚ۱۵﴾۔
پ27، الرحمن 15
ترجمہ
اور جن کو پیدا فرمایا آگ کے لو کے (یعنی لپٹ) سے۔ 
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور پاک، صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتوں کو نور سے، جنات کو آگ کے شعلہ سے اور سیدنا آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔
(صحیح مسلم ، حدیث 2996، ص 1597)
آیات ِ قرآنی اور حدیثِ مبارکہ سے پتہ چلا کہ جنات کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے۔ 

جنات کی حقیقت


موجودہ دور پر نظر ڈالی جائے تو فتنوں کی بھر مار لگی

 ہوئی ہے آئے دن ایک نیا فتنہ سامنے آتا ہے اگر تو اللہ


 عزوجل کی مدد شامل حال ہو تو امان مل جاتی ہے ورنہ


 ان فتنوں کا شکار ہوکر اپنے ایمان کو بھی کمزور کرتے


 ہیں دوسروں کو بھی غلط راستہ بتاتے ہیں۔


اللہ عزوجل نے اپنی کامل قدرت سے بے شمار مخلوقات پیدا

 کی لیکن صرف دو کو عبادت اختیاری دی گئی



ایک انسان اور دوسرا جنات ۔


چونکہ جنات ہمیں نظر نہیں آتے اس بنا پر بہت سے غلط

 عقائد سامنے آتے ہیں۔ کچھ سائنسی ذہن کے حضرات تو ان


 کے وجود کا ہی انکار کر دیتے ہیں ، کچھ ان کو دیئے


 گئے تصرفات سے مونھ موڑ لیتے ہیں اور کچھ اس حد


 تک جاتے ہیں کہ ان ہی کو سب کچھ مانتے ہیں ۔



قرآن و حدیث اور علمائے حق اس بارے میں کیا کہتے ہیں

 اس کو پڑھیے اور اپنے ایمان کو تازگی دیجیئے۔

اللہ عزوجل قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنۡسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوۡنِ

پارہ 27

الذاریات 54

ترجمہ : اور میں نے جن اور آدمی اپنے ہی لیے پیدا کیے

 کہ میری بندگی کرے۔ 


حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی آیتِ مبارکہ کی تفسیر

میں لکھتے ہیں عبادت اختیاری جس پر سزا و


جزاءمرتب ہو صرف جن کے لیے ہے۔ جنات کی سزا دوزخ

 ہے اور جزاء دوزخ سے نجات۔


۔(تفسیر نورالعرفان)۔