Showing posts with label Kidney. Show all posts
Showing posts with label Kidney. Show all posts

Thursday, 20 June 2013


اسلام آباد… لوما لنڈا یونیورسٹی کیلیفورنیا میں کی گئی حالیہ تحقیق کے مطابق سبزی خور افراد گوشت کھانے والوں کی نسبت لمبی عمر پاتے ہیں ۔ دوران تحقیق73ہزار308 افرد کا ڈیٹا مرتب کیا گیا جس کے مطابق سبزی خور افراد گوشت کھانے والوں کی نسبت12فیصد طویل عمر پاتے ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ سبزی کھانے والوں کو دل کی بیماریوں ، شوگر اور گردوں کے فیل ہونے کے امراض کے خدشات بھی نمایاں حد تک کم ہوتے ہیں جبکہ ایسے افراد میں موٹاپے کی شرح بھی کم ہوتی ہے۔

Monday, 3 June 2013

ایک ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ گردوں میں پتھری سے بچاؤ کے لیے کم از کم روزانہ 3 لیٹر پانی پینا ازحد ضروری ہے۔

Thursday, 30 May 2013

Health Benefits Of Pomegranate

Posted by Unknown on 19:54 with No comments
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "انار کو اس کے اندرونی چھلکے سمیت کھاؤ، کیونکہ یہ معدہ کو صاف کرتا ہے"۔
[مسند احمد:22726، عن علی رضی اللہ عنہ]
فائدہ: علامہ ابن قیم رح فرماتے ہیں کہ انار جہاں معدہ کو صاف کرتا ہے، وہیں پرانی کھانسی کے لیے بھی بڑا کار آمد پھل ہے۔


انار کی تین اقسام ہوتی ہیں
کھٹا انار، میٹھا انار اورکھٹا میٹھا انار

میٹھا انار اور انار کھٹا میٹھا انارکے خواص تقریبا 1 جیسے ہیں جب کہ کھٹے انار کے خواص تھوڑے مختلف ہیں۔

انار کا رنگ سرخ و سبز ہوٹا ہے جب کی اس کے دانوں کا رنگ سفید اور سرخ ہوتا ہے اس کا مزاج سرد تر بدرجہ اول ہے

بعض اطباء اسے معتدل بھی کہتے ہیں اور کچھ کے نزدیک اس کا مزاج سرد خشک ہے لیکن سرد تر مزاج صحیح ہے اس کی خوراک حسب طبیعت ہے مگر دوا کے طور پر اسکا پانی دو تولہ تک ہے

اس کے فوائد مندرجہ ذیل ہیں :

انار دل کو طاقت دیتا ہے
جگر کی اصلاح کرتا ہے
خون صالح پیدا کرتا ہے
انار گرم مزاجوں کے لیے عمدہ غذا ہے
اس کا زیادہ استعمال پیٹ میں ہوا پیدا کرتا ہے
انار پیاس کو تسکین دیتا ہے
انار قابض ہے اس لیے اس کا زیادہ استعمال غذا کو فاسد کرتا ہے
انار تپ دق کے مریضون کے لیے بہتریں غذا ہے
انار قلیل الغذا ہے اور بچوں کو دانت نکالتے وقت دست آنے کی صورت میں بے حد مفید ہے
انار پیٹ کو نرم کرتا ہے
انار کھٹا میٹھا صفرا اور جوش خون بلڈ پریشر میں تسکین دیتا ہے
انار یرقان میں بھی مفید ہے
اس کے استعمال سے ذہنی بےچینی دور ہوتی ہے
قے اور متلی کو روکتا ہے
پیشاب کی جلن کو دور کرتا ہے سوزاک دور کرنے میں بہترین دوا ہے .

انار کا جوس :
انار کا جوس تھکاوٹ کو دور کرنے کیلئے بہترین ہے،
انار کا جوس جہاں دل کیلئے مفید ہے
وہاں
دفتری مصروفیات یا عام تھکاوٹ کو دور کرنے کیلئے ایک بہترین مشروب ثابت ہوا ہے۔
انار کا جوس پینے سے اپنے کام کاج کی طرف دھیان کی
شرح دو گنا ہو سکتی ہے۔
ماہرین طب نے اچھی صحت اور ذہنی دباو کو کم کرنے کیلئے انار کے جوس کو ایک بہترین ٹانک قرار دیا ہے۔
انار کا جوس نزلے زکام سے محفوظ رکھتا ہے۔
انار کے جوس کے استعمال سے جسم کی اضافی چربی ختم ہوجاتی ہے
انار کے جوس میں پائے جانے والے قدرتی اجزا موٹاپے کا باعث بننے والے خلیات کا خاتمہ کر کے چربی پگھلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ انار کا استعمال گردے کے امراض میں مبتلا افراد کے لئے بھی انتہائی مفید ہے۔
گرمی اور تربوز ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں گرمی ہو اور تربوز کا ذکر ہو یہ ناممکن ہے۔ تربوز کی مدد سے گرمی کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

Friday, 17 May 2013

نیویارک: ایک کولڈ ڈرنک یا میٹھے مشروب کا روزانہ استعمال گردوں میں پتھری کا ندیشہ ایک چوتھائی حد تک بڑھا دیتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

تحقیق کے مطابق چینی سے تیارکردہ یہ مشروبات سے گردوں میں تکلیف دہ پتھروں کے بننے کا خطرہ کافی بڑھ جاتا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں کافی،چائے یا اورنج جوس سے یہ خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

بوسٹن کے برمگھم اینڈ ویمنز ہاسپٹل کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کولڈ ڈرنک اور گردوں میں پتھری کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے جسکا انحصار مشروب کی نوعیت پر ہوتا ہے۔

محقق ڈاکٹر گیری چرہان کے مطابق بہت زیادہ مقدار میں کولڈ ڈرنکس کا استعمال گردوں میں پتھری کا خطرہ بہت بڑھا دیتے ہیں۔

8 سال تک جاری رہنے والی تحقیق کے دوران لگ بھگ 2 لاکھ مریضوں کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ روزانہ ایک یا دو کولڈ ڈرنک کا استعمال گردوں کی پتھری کا خطرہ 23 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ 

Thursday, 16 May 2013


اسلام آباد…آج کے دور میں ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ بڑھتاجا رہا ہے۔ ۔جدید تیزرفتارزندگی میں ذہنی دباوٴ،غصہ اورمناسب خوراک کے بجائے فاسٹ فوڈکااستعمال ہائی بلڈ پریشر، یعنی بلند فشار خون کا بڑاسبب بن رہے ہیں۔ اصل میں اس بیماری میں لوگوں کو تکلیف ہوتی نہیں ہے،کسی کو معمولی چکر آجاتا ہے تو لوگ اس کو نظرانداز کردیتے ہیں اس لیے اس کو سائیلنٹ کلر کہتے ہیں ستر فیصد لوگوں کو اس میں تکلیف نہیں ہوتی ۔جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ جب انسان گھر سے باہر نکلتا ہے، باہر کیسے کیسے پرابلم ہوتے ہیں،انسان کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ وہ واپس گھر لوٹے گا بھی کہ نہیں اسی طرح بچے اسکول جاتے ہیں، بھائی،والد دفتر جاتے ہیں حالات کی وجہ سے ویسے ٹینشن ہی بہت ہے۔ماہرین کے مطابق ہائی بلڈپریشر کئی خطرناک بیماریوں کوجنم دیتاہے جس میں برین ہیمبرج ،دل اور گردوں کے امراض سے لے کر بینائی تک کے مسائل پیدا ہورہے ہیں ، ان بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے ماہرین لائف اسٹائل پرتوجہ دینے کی ضرورت پرزوردیتے ہیں۔یعنی وزن کو کنٹرول کرکے، نمک کا استعمال کم کرکے، چربی کا استعمال کم کرنا اور لائف اسٹائل کو امپروو کرنا اور فزیکل activityاس میں تھوڑی زیادہ ہو۔جان ہے تو جہان ہے کی مسلمہ حقیقت تسلیم کرتے ہوئے انسان کو زندگی میں آج بلکہ ابھی سے اپنے طرز زندگی اور طرز خوراک میں سادگی کے ساتھ ساتھ ورزش کی طرف خاطر خواہ دھیان دینا ہوگا۔

Sunday, 5 May 2013


واشنگٹن…امریکا میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق روزانہ ورزش کرنے سے گردوں کی پتھری کے خطرات کم ہوجاتے ہیں یونیورسٹی آف واشنگٹن میں کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 50 سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں گردوں کی پتھری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایسی خواتین اگر روزانہ چند گھنٹوں تک چہل قدمی ،ایک دو گھنٹے جاگنگ یا کوئی اور ہلکی پھلکی ورزش کریں تو پتھری کے خطرات 33 فیصد کم ہوجاتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق گوشت کا استعمال کم کرنے سے اور پانی زیادہ پینے سے بھی گردوں میں پتھری کے امکانات کو گھٹایا جاسکتا ہے۔

Tuesday, 16 April 2013

امریکہ میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لیبارٹری میں تیار کیےگئے ایک مصنوعی گردے کی جانور میں پیوند کاری کی گئی ہے اور یہ گردہ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے یعنی اس سے پیشاب کا اخراج ہو رہا ہے۔
لیبارٹری میں مختلف انسانی اعضاء مصنوعی طور پر پہلے سے ہی تیار کیے جاتے رہے ہیں اور مریضوں میں لگائے بھی جاتے رہے ہیں لیکن اس ضمن میں گردے کی تیاری اب تک کا سب سے پیچیدہ عمل رہا ہے۔
امریکی ریاست میساچوسٹس کے جنرل ہسپتال کے سائنس دانوں نے اس طرح کا مصنوعی گردہ تیار کرنے کی سمت کامیاب پیش رفت کی ہے۔
انہوں نے اس کے لیے ایک چوہے کا گردہ لیا اور اس کے پرانے خلیوں کو صابن سے صاف کیا اور گردے کا جو ہڈی نما حصہ بچا اسے دوسرے خلیوں کی مدد سے از سر نو گردہ میں تبدیل کرکے دوسرے چوہے میں لگایا گيا۔
انسانوں پر اس طرح کے تجربہ کرنے کے لیے ابھی کافی تحقیق کی ضرورت ہے لیکن ماہرین کے نزدیک اگر یہ تکنیک کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ بڑی کامیابی ہوگي۔
یونیورسٹی کالج آف لندن کے ڈاکٹر مارٹن برشل پیوند کاری کے ماہر ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت ہی دلچسپ اور انتہائی متاثر کن ہے‘۔
نیچر میڈیسنی نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق لیبارٹری میں تیار کی گئی کڈنی قدرتی گردے کے مقابلے کم مؤثر ہوتی ہے۔
لیکن اس پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ جسم میں گردہ فضلات سے خون کو چھاننے اور فاضل پانی کو باہر نکالنے کا کام کرتا ہے۔

محقیقین کا خیال

محقیقین کا خیال ہے کہ پرانے ناکام گردے کے تمام خلیوں کو پوری طرح سے صاف کر کے اگر اسے مریض کے خلیوں سے دوبارہ تیار کیا جائے تو وہ گردہ زیادہ کار آمد ثابت ہوسکتا ہے۔
اس وقت گردہ خراب ہونے کے معاملے عام ہیں اور اس کی پیوند کاری کی بھاری مانگ رہتی ہے اور بیشتر مریض گردے کے منتظر رہتے ہیں۔
محقیقین کا خیال ہے کہ پرانے ناکام گردے کے تمام خلیوں کو پوری طرح سے صاف کر کے اگر اسے مریض کے خلیوں سے دوبارہ تیار کیا جائے تو وہ گردہ زیادہ کار آمد ثابت ہوسکتا ہے۔
اس سے گردہ مریض کے خلیوں سے پوری طرح میچ کرایا جائیگا اور اس سے مریض کے گردے کے کام کرتے رہنے کے لیے زندگی بھر دوا نہیں کھانی پڑیگی۔
اگر یہ تجربہ کامیاب رہا توگردے کا حصول بھی آ‎سانی ممکن ہوسکے گا کیونکہ ابھی تک گردے کی تبدیلی کے لیے کسی دوسرے شخص سے گردہ لینا پڑتا ہے اور مناسب گردہ نہ ملنے کی صورت میں انتظار کرنا پڑتا ہے۔