جسم شعلہ ہے جبھی جامۂ سادہ پہنامیرے سُورج نے بھی بادل کا لبادہ پہناسلوٹیں ہیں مرے چہرے پہ تو حیرت کیوں ہےزندگی نے مجھے کچھ تم سے زیادہ پہناخواہشیں یوں ہی برہنہ ہوں تو جل بجھتی ہیںاپنی چاہت کو کبھی کوئی ارادہ پہنایار خوش ہیں کہ انہیں جامۂ احرام ملالوگ ہنستے ہیں کہ قامت سے زیادہ پہنایارِ پیماں شکن آئے اگر اب کے تو اُسےکوئی زنجیرِ وفا اے شبِ وعدہ پہناغیرتِ عشق تو مانع تھی مگر میں نے فرازدوست کا طوق سرِ محفلِ اعدا پہنا(جاناں جاناں سے انتخاب)
Tuesday, 15 January 2013
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment